جھاد و دفاع سے متعلق مسائل کے بارے میں گفتگو سے پھلے خود ان دو لفظوں کی تشریح و تفسیر ضرور ی ھے ۔
دفاع سے مراد ھراس چیز کی حفاظت کی خاطر جارح کو پیچھے ڈھکیلنا ھے جس کی حفاظت ضروری ھو ، خواہ وہ چیز جان ھو یا مال ، عقیدہ ھو یا آزادی ، ناموس ھو یا شرف ۔
قانونی ( حقوقی ) نقطھٴ نظر سے دفاع ایک حق ھے جو انسان کو عطا کیا گیا ھے تاکہ قانون کو پس پشت ڈال کر تجاوز کرنے والے جارح کے شر سے اپنا دفاع کر سکے اور شر پسند افراد حکومت کی غیر حاضری سے نا جائز فائدہ اٹھاتے ھوئے قانون شکنی کر کے عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو سے نہ کھیل سکیں ۔

دفاع فطری حق ھے

اپنے جائز حق کا دفاع ایک ایسا فطری امر ھے جس سے صرف انسان ھی نھیں بلکہ ھر ذی روح بھرہ ور ھے کیونکہ ھر ذی روح اپنی بقا کی خاطر مجبور ھے کہ اپنی ضروریات زندگی کو دوسری مخلوقات میں پائے جانے والے امکانات سے پورا کرے اور ان تمام مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرے جن سے اس کی زندگی و بقا خطرے میں پڑ سکتی ھے ۔ دوسرے لفظوں میں زندگی کا دارو مدار ان افعال و انفعالات ( عمل و رد ّ عمل ) اور تاثیر و تاثر پر ھے جو نظام خلقت میں انجام پاتے ھیں ۔ ایسے میں اختلاف اور ٹکراؤ قدرتی بات ھے ۔ اگر کوئی ذی روح مخلوق دفاعی طاقت سے محروم ھو تو اس کی موت و تباھی یقینی ھے ۔ اسی لئے خدا وند عالم نے ھر مخلوق کو اس کی مناسبت سے دفاعی ھتھیار عطا کئے ھیں تاکہ اپنے جائز حق کا دفاع کر سکے ۔ ھر حق کے ھمراہ حق دفاع کا فطری ھونا اس کی عام مقبولیت کا باعث ھے ، ھر انسان اس فطری حق کو تسلیم کرتا ھے۔ھر فرد ، ھر معاشرہ ، ھرمکتب اور ھر قانون جارح سے مقابلہ جائز قرار دیتا ھے ۔ دنیا کا کوئی قانون مسلّمہ حقوق سے دفاع کو جرم نھیں سمجھتا ۔ اسلام نے بھی انسانوں کے اس حق کو تسلیم کیا ھے ، اس کے استعمال کو مذاھب توحیدی نیز انسانوں کی بقا کا ضامن قرار دیا ھے اور اس کے فطری ھونے کا اعلان کیا ھے :
” ولولا دفع الله الناس بعضهم ببعض لفسدت الارض “ (۱)
اوراگر اسی طرح خدا بعض کو بعض سے نہ روکتا تو ساری زمین میں فساد پھیل جاتا
یہ آیت انسانوں کو شر پسند وں کی سر کوبی کی ھدایت کرتی ھے اور روئے زمین پر انسانوں کے بر پا کیے ھوئے فتنہ و فساد کی روک تھام کا حکم دیتی ھے ۔ ایک دوسری آیت میں ھے :
” و لولا دفع الله الناس بعضهم ببعض لهدمت صوامع و بیع و صلوات و مساجد یذکر فیها اسم الله کثیرا “(۲)
اوراگرخدا بعض لوگوںکو بعض کے ذریعہ نہ روکتا ھوتاتوتمام گرجے اور یھودیوں کے عبادت خانے اور مجوسیوں کے عبادت خانے اور مسجدیں سب منھدم کردی جاتیں۔
قرآن مجید اس دفاع کو دینی مظاھر اور عبادتی مراکز کی بقا اور نتیجہ بقائے توحید کا باعث سمجھتا ھے ۔

معنی جھاد

لفظ جھاد کے لغوی معنی ھیں طاقت و اختیار کے ساتہ جد و جھد۔ قرآن مجید میں بھی لفظ جھاد اسی معنی میں متعدد بار استعمال ھوا ھے ۔
” و الذین جاهدوا فینا لنهد ینّهم سبلنا “ ( ۳)
اور جن لوگوں نے ھمارے حق میں جھاد کیا ھے ھم انھیں اپنے راستوں کی ھدایت کریں گے ۔
لیکن ثانوی طور پراس سے مراد اسلام دشمنوں سے جنگ اور راہ خدا میں مال و جان کو قربان کر دینا ھے ۔
”انّ الذین آمنوا و هاجروا و جاهدوا باموالهم و انفسهم فی سبیل الله “ (۴)
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ھجرت کی اور راہ خدا میں اپنے جان و مال سے جھاد کیا ۔
فقہ میں جھاد کبھی دفاع کے بجائے استعمال ھوتا ھے یعنی کفار سے وہ ابتدائی جنگ جس کا مقصد یہ ھے کہ وہ کفر کو چھوڑ کر خدائے واحد پر ایمان لائیں اور نظام الٰھی کے سامنے سر تسلیم خم کریں ۔ اور کبھی کفار سے مطلق جنگ کے لئے استعمال ھوتا ھے جس میں دفاع بھی شامل ھے ۔ قرآن میں دفاع سے یھی عمومی معنی مراد ھیں اگر چہ اس کا اھم ترین مصداق دفاع ھے یا اس کے تمام مصداق دفاع پر بھی دلالت کرتے ھیں ۔

اقسام جھاد

جھاد کی متعدد قسمیں ھیں جو غالبا دفاع ھی کی حیثیت رکھتی ھیں اور قرآن مجید میں قتال و جھاد کے عنوان سے بیان ھوئی ھیں ۔

۱۔ ان دشمنوں کے مقابلے میں اسلام کی عزت و وقار اور حیثیت و آبرو کا دفاع جو دین کی بنیادوں کو منھدم کر کے ، الحاد و مجوسیت و نصرانیت و یھودیت وغیرہ کی شکل میں کفر و لا دینی پھیلانا چاھتے ھیں ، جیسا کہ اسپین میں رونما ھوا ۔

۲۔ مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو یا اسلامی سر زمین پر اس حملہ آور دشمن کے مقابلے میں دفاع جس کا مقصد اسلام کی تباھی تو نھیں لیکن جس کا ھدف مسلمانوں کی عزت و آبرو اور جان و مال ھو ۔

۳۔ ان مسلمان بھائیوں کا دفاع جو کسی علاقے میں کافروں سے بر سر پیکار ھوں اور یہ خطرہ ھو کہ کفار ان پر غلبہ پالیں گے ۔ ایسے موقع پر اتحاد و اخوت اسلامی کا تقاضا ھے کہ مسلمانوں کے دفاع کی خاطر دشمنوں سے جنگ کی جائے ۔

۴۔ اسلامی علاقوں پر قابض یا مسلمانوں کے عقائد پر مسلّط غاصب دشمنوں کی پسپائی اور اخراج کے لئے جھاد کیونکہ غیروں کے اقتدار سے نجات اور مسلمانوں کی عزت و آزادی کی بحالی تمام مسلمانوں کا فریضہ ھے ۔

۵۔ کفار سے جھاد تاکہ باطل عقائد سے چھٹکارا دلا کر انھیں اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا جائے ۔ اسے اصطلاحاً جھاد ابتدائی بھی کھا جاتا ھے ۔ اس جھاد کے لئے کچہ خاص شرائط ھیں جن کے بارے میں بھت کچہ لکھا گیا ھے ۔

اھمیت جھاد

ایک مختصر تحقیق کے مطابق قرآن مجیدکے ۱۷/ سوروں میں جھاد کا ذکر آیا ھے اور یہ سورے غالبا مدنی ھیں ۔ ان کے نام یہ ھیں :
(۱) بقرہ (۲) آل عمران (۳) نساء( ۴) مائدہ (۵) انفال (۶) توبھ( ۷) نحل(۸)نمل (۹)حج(۱۰) احزاب (۱۱) شوریٰ( ۱۲) محمد( ۱۳) فتح (۱۴)حدید( ۱۵) حشر (۱۶) ممتحنھ( ۱۷) صف
تقریبا ۴۰۴ آیتیں جھاد سے مخصوص ھیں ( البتہ بعض دیگر موضوعات کی طرح آیات جھاد کا مکمل احصاء مشکل ھے ، کیونکہ یہ عام طریقہ ھے کہ جب قرآن مجید کسی موضوع کو چھیڑتا ھے تو کچہ باتیں بطور مقدمہ بیان کرتا ھے اور کبھی کسی مناسبت سے بیچ میں کچہ دوسری باتیں بھی بیان ھو جاتی ھیں اور پھر تتمھٴ کلام میں بھی موضوع کی مناسبت سے کچہ دوسرے مسائل کا ذکر آجاتا ھے جیسا کہ جھاد و انفاق و ولایت سے متعلق آیتوں میں ابتداء یا وسط یا آخر میں کچہ دوسرے مسائل کا بھی تذکرہ ھوا ھے ۔ لھذا ایسی صورت میں مسائل کے لحاظ سے آیات کی صحیح تدوین اور موضوعات کی مناسبت سے جدا گانہ عنوانوں کے تحت ان کی تقسیم و اصناف بندی مشکل ھے )
آیتوں کی یہ کثیر تعداد اور ان میں انتھائی سخت و لولہ انگیز اور حتمی گفتگو ، سزا و جزا کے وعدے اور دھمکیاں اور طرح طرح کی تاکیدیں جھاد کی عظمت و اھمیت کی نشاندھی کرتی ھیں ۔ بطور نمونہ حسب ذیل آیتوں کو ملاحظہ فرمایئے :
” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء و لکن لا تشعرون“ (۵)
اور جو لوگ راہ خدا میں قتل ھوجاتے ھیں انھیں مردہ نہ کھو بلکہ وہ زندہ ھیں لیکن تمھیں ان کی زندگی کا شعور نھیں ھے ۔
” ام حسبتم ان تدخلوا الجنة و لما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم مستهم الباساء و الضراء و زلزلوا حتیٰ یقول الرسول و الذین آمنوا معه متیٰ نصر الله “ (۶)
کیا تمھارا خیال ھے کہ آسانی سے جنت میں داخل ھوجاوٴ گے جب کہ ابھی تمھارے سامنے سابق امتوں کی مثال پیش نھیں آئی جنھیں فقر و فاقہ اور پریشانیوں نے گھیر لیا اور اتنے جھٹکے دئے گئے کہ خود رسول اور ان کے ساتھیوں نے کھنا شروع کردیا کہ آخر خدائی مدد کب آئے گی ۔
” ولا تهنوا و لا تحزنوا و انتم الاعلون ان کنتم مومنین ۔ ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثله“ (۷)
خبردار سستی نہ کرنا مصائب پر محزون نہ ھونا اگر تم صاحب ایمان ھو تو سربلندی تمھارے ھی لئے ھے ۔اگر تمھیں کوئی تکلیف چھولیتی ھے تو قوم کو بھی اس سے پھلے ایسی ھی تکلیف ھوچکی ھے ۔
ولاتهنوافی ابتغاء القوم ان تکونواتالمون فانهم یالمون کماتالمون ․․․․(۸)
اور خبردار دشمنوں کا پیچھا کرنے میں سستی سے کام نہ لیناکہ اگر تمھیں کوئی بھی رنج پھونچتا ھے تو تمھاری طرح کفار کو بھی تکلیف پھونچتی ھے ۔
” یا ایها الذین آمنوا من یرتد منکم عن دینه فسوف یاتی الله بقوم یحبهم و یحبونه اذلة علی المومنین اعزة علی الکافرین یجاهدون فی سبیل الله و لا یخافون لومة لائم “ (۹)
ایمان والوں تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پلٹ جائے گا ۔ تو عنقریب خدا ایک قوم کو لے آئے گا جو اس کی محبوب اور اس سے محبت کرنے والی مومنین کے سامنے خاکسار اور کفار کے سامنے صاحب عزت ، راہ خدا میں جھاد کرنے والی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے والی ھوگی ۔
” الا تنفروا یعذبکم عذابا الیما و یستبدل قوما غیرکم “(۱۰)
اگر تم راہ خدا میں نہ نکلو گے تو خدا تمھیں درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا اور تمھارے بدلے دوسری قوم کو لے آئے گا ۔

جھاد کی تشریعی اور فطری حیثیت

جھاد کی مذکورہ بالا پانچ قسموں میں سے چار دفاعی حیثیت کی حامل ھیں اور قدرتی طور پر دفاع فطری حق ھے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نھیں۔ دنیا کی کوئی منطق مسلمانوں کو اس حق سے محروم نھیں کر سکتی ، قرآن کریم بھی اس کی پر زور حمایت کرتا ھے ، جھاد سے متعلق پھلی آیتیں جو نازل ھوئیں وہ سورہ حج کی آیتیں ھیں جو اس تعبیر سے شروع ھوتی ھیں :
” اذن للذین یقاتلون بانهم ظلموا و ان اللہ علیٰ نصرهم لقدیر۔ الذین اخرجوا من دیارهم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا الله و لو لا دفع الله الناس بعضهم ببعض لهدمت صوامع و بیع و صلوات و مساجد یذکر فیها اسم الله کثیرا “(۱۱)
جن لوگوں سے مسلسل جنگ کی جارھی ھے انھیں ان کی مظلومیت کی بناء پر جھاد کی اجازت دی گئ ھے اور یقینا اللہ ان کی مدد پر قدرت رکھنے والا ھے ۔ وہ لوگ جو اپنے گھروں سے بلا کسی حق کے نکال دئے گئے ھیں علاوہ اس کے کہ وہ یہ کھتے ھیں کہ ھمارا پروردگار اللہ ھے ۔۔۔
اس آیت میں مظلوم کو حملہ آور دشمن سے جنگ کی اجازت دی گئی ھے تاکہ وہ دشمن کو دفع کر کے توحید کے مظاھر اور آثار شریعت کی حفاظت کر سکے ۔ اسی طرح ایک دوسری آیت ھے ، جسے جھاد سے متعلق اولین آیتوں میں شمار کیا جاتا ھے بلکہ بعض مفسرین اسے جھاد کے سلسلے کی پھلی آیت قرار دیتے ھیں وہ یہ ھے:
” و قاتلوا فی سبیل الله الذین یقاتلونکم “ (۱۲)
جو تم سے جنگ کرتے ھیں تم بھی ان سے را ہ خدا میں جھاد کرو ۔
اس آیہ کریمہ میں جنگ کی آگ بھڑکانے والوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ھے ۔ جھاد سے متعلق تقریبا تمام آیتیں اسی دفاعی جنگ کے بارے میں ھیں ، صرف ایک ایسی آیت ھے جو مطلق ھے اور اس سے ابتدائی جھاد مراد لیا جا سکتا ھے ۔

مقاصد جھاد

قرآن مجید میں مختلف مقامات پر جھاد کے جو مقاصد بیا ن ھوئے ھیں وہ حسب ذیل ھیں :

۱۔ دفاع :

”وقاتلوا فی سبیل الله الذین یقاتلونکم“ (۱۳)
جو تم سے جنگ کرتے ھیں تم بھی ان سے را ہ خدا میں جھاد کرو ۔
دفع فتنہ ، یہ عام معنی میں مستعمل ھے ، اس میں دفاع بھی شامل ھے : ” و قاتلوهم حتیٰ لا تکون فتنة “ (۱۴)
اور ان سے اس وقت تک جنگ جاری رکھو جب تک سارا فتنہ ختم نہ ھوجائے ۔
حکومت الٰھی کا قیام و اثبات اور سر کشوں کی سر کوبی و اصلاح : ” و قاتلو هم حتیٰ لا تکون فتنة و یکون الدین کلّه للّه “ (۱۵)
اور تم لوگ ان کفار سے جھاد کرو یھاں تک کہ فتنہ کا وجود نہ رہ جائے اور سارا دین صرف اللہ کے لئے ھے ۔
” الذین عاهدت منهم ثم ینقضون عهدهم فی کل مرة و هم لا یتقون “(۱۶)
جن سے آ پ نے عھد لیا اور اس کے بعدوہ ھر مرتبہ اپنے عھد کو توڑ دیتے ھیں اور خدا کا خوف نھیں کرتے ۔
” فقاتلوا ائمة الکفر انهم لا ایمان لهم لعلهم ینتهون “ ( ۱۷)
کفر کے سربراھوں سے کھل کر جھاد کرو ان کے قسموں کا کوئی اعتبار نھیں ھے شاید یہ اسی طرح اپنی حرکتوں سے باز آجائیں ۔
الٰھی نظام کی برقراری اور ممکنہ و آئندہ دشمنوں کے حملے کی پیش بندی :” قاتلوا الذین لا یومنون بالله و لا بالیوم الاخر و لا یحرمون ما حرم الله و رسوله و لا یدینون دین الحق من الذین اوتوا لکتاب حتیٰ یعطوا الجزیة عن یدوهم صاغرون “ (۱۸)
ان لوگوں سے جھاد کرو جو خدا اور روز آخرت پر ایمان نھیں رکھتے اور جس چیز کو خداورسول نے حرام قرار دیا ھے اسے حرام نھیں سمجھتے اور اھل کتاب ھوتے ھوئے بھی دین حق کا التزام نھیں کرتے ۔ یھاں تک کہ اپنے ھاتھوں سے ذلت کے ساتہ تمھارے سامنے جز یہ پیش کرنے پر آمادہ ھوجائیں ۔
روئے زمین پر فتنہ و فساد کی روک تھام : ” ولو لاد فع الله الناس بعضهم ببعض لفسدت الارض “ ( ۱۹)
اوراگر اسی طرح خدا بعض کو بعض سے نہ روکتاھوتا تو ساری زمین میں فساد پھیل جاتا
مراکز عبادت اور دینی مظاھر کا تحفظ :” و لو لا دفع الله الناس بعضهم ببعض لهدمت صوامع و بیع و صلوات و مساجد “( ۲۰)
اوراگرخدا بعض لوگوں بعض کے ذریعہ نہ روکتا توتمام گرجے اور یھودیوں کے عبادت خانے اور مجوسیوں کے عبادت خانے اور مسجدیں سب منھدم کردی جاتیں۔

۲) احقاق حق و ابطال باطل :

” لیحق الحق و یبطل الباطل و لو کره المجرمون “ (۲۱)
تاکہ حق ثابت ھوجائے اور باطل فنا ھوجائے چاھے مجرمین اسے کسی قدر برا کیوں نہ سمجھیں ۔

۳) انسداد ظلم و حمایت مظلومین :

” انما السبیل علی الذین یظلمون الناس و یبغون فی الارض بغیر الحق “ (۲۲)
الزام ان لوگوں پر ھے جو لوگوں پر ظلم کرتے ھیں اور زمین میں ناحق زیادتیا ںپھیلاتے ھیں ۔
” و ما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ و المستضعفین من الرجال و النساء و الولدان “ ( ۲۳)
اور آخر تمھیں کیا ھوگیا ھے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں ، عورتوں اور بچوں کیلئے جھاد نھیں کرتے ھو۔
ان عنوانات کے تحت جھاد کے اغراض و مقاصد قرآن مجید میں بیان ھوئے ھیں ۔ البتہ ان میں کچہ ایسے مقاصد بھی ھیں جو دوسرے مقاصد کے ضمن میں پورے ھو جاتے ھیں ۔ بلکہ یہ بھی کھا جا سکتا ھے کہ بحیثیت مجموعی جھاد کا مقصد انسان کے فطری اور مسلّمہ حقوق کا دفاع ھے یعنی مسلمانوں کی عزت و آبرو ، جان و مال اور اسلامی سر زمین کا تحفظ و دفاع ۔
اس طرح دفاع کے عنوان سے ابتدائی جھا د کی بھی توجھیہ کی جا سکتی ھے کیونکہ عظیم محقق و مفسر علامہ طباطبائی مرحوم کے بقول توحید اور توحیدی نظام فطری بنیادوں پر استوار ھے اور اصلاح بشریت کا واحد راستہ ھے” فاقم وجهک للدین حنیفا فطرة الله التی فطرالناس علیها،لا تبدیل ،لخلق الله ذالک دین القیم “( ۲۴)
آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رھیں کہ یہ دین وہ فطرت الھی ھے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا اور خلقت الھی میں کوئی تبدیلی نھیں ھوسکتی یقینا یھی سیدھا اور مستحکم دین ھے ۔
اس کے بعد کوئی چارہ باقی نھیں رھتا کہ احیاء اساس توحید اور نظام توحید کے لئے تمام انسان مل کر سعی کریں کیونکہ یہ مقصد سب سے بڑا فطری حق ھے ۔
”شرع لکم من الدین ما وصی به نوحا و الذی اوحینا الیک و ما وصینا به ابراهیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین و لا تتفرّقوا فیه “ ( ۲۵) اس نے تمھارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ھے جس کی نصیحت نوح کو کی ھے ، اور جس کی وحی پیغمبر تمھاری طرف بھی کی ھے اور جس کی نصیحت ابراھیم ، موسی ، اور عیسی کو بھی کی ھے کہ دین کو قائم کرو اور اسمیں تفرقہ پیدا نہ ھونے پائے ۔
عقلائے عالم کے نقطہ نظر سے عظیم ترین فطری حق حق حیات ھے یعنی معاشرے پر حاکم قوانین کے زیر سایہ زندگی گذارنا ، ایسے قوانین جو افراد کے مفادات کی حفاظت کرتے ھیں اور جیسا کہ بیان کیا جا چکا ھے کہ اس حق کا دفاع بھی فطری حق اور اس کے تحفظ و بقاء کا ضامن ھے ، اگر حق دفاع نہ ھو تو حق حیات بھی مستکبروں کے ھاتھوں پامال ھو جائے گا ۔
” ولولا دفع الله الناس بعضهم ببعض لهدمت صوامع و بیع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ (۲۶)
اوراگرخدا بعض لوگوںکو بعض کے ذریعہ نہ روکتاھوتا توتمام گرجے اور یھودیوں کے عبادت خانے اور مجوسیوں کے عبادت خانے اور مسجدیں سب منھدم کردی جاتیں۔
اگر خدائی نظاموں پر مستکبروں کی جارحانہ دست درازی کو روکنے کے لئے دفاعی طاقت موجود نہ ھو تو دین یعنی وھی فطری حق جس کے سماجی مظاھر ، مسجد و کلیسا جیسے عبادتی مراکز ھیں ، نیست و نابود ھو جائیں گے اور اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رھے گا ۔
سورہ انفال کی آیتیں واضح الفاظ میں بتاتی ھیں کہ اگر موحدوں کا دفاع نہ ھو تو حق پرستوں کی تاک میں کمین گاھوں میںبیٹھے ھوئے مجرم ،حق کی جگہ باطل کو رائج کر دیں گے ، یہ جھاد ھے جو حق کی حفاظت کا ذمہ دار ھے ۔
” لیحق الحق و یبطل الباطل و لو کره المجرمون “ ( ۲۷)
تاکہ حق ثابت ھوجائے اور باطل فنا ھوجائے چاھے مجرمین اسے کسی قدر برا کیوں نہ سمجھیں ۔
اسی طرح حاملان توحید کے عنوان سے مسلمانوں کی حیات جو در حقیقت حیات توحید ھے جھاد فی سبیل اللہ کی رھین منت ھے ۔
” استجیبوا للّه و للرسول اذا دعاکم لما یحییکم“ (۲۸)
اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کھو جب وہ تمھیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمھاری زندگی ھے ۔
جھاد ایک فطری حق ھے خواہ تحفظ مسلمین کی خاطر ھو یا دفاع اسلام کے عنوان سے ھو یا ابتدائی جھاد کی صورت میں کہ یہ ان ملکوں میں جھاں جابروں کے دباؤ کی وجہ سے فطرت الٰھی کا دم گھٹ رھا ھو ، اسے زندہ اور اس شرک کو نابود کرنا چاھتا ھے جو فطرت کی موت اور توحید کے حسین جلووں کے ماند پڑ جانے کا باعث ھے ( و یبطل الباطل )
اس مقدمے کی بنا پر یقین سے کھا جا سکتا ھے کہ اسلام نے اپنے پیروؤں کو حق دیا ھے کہ وہ دنیا کو شرک اور اس کی تمام نشانیوں سے چاھے وہ جس روپ میں ھوں پاک کریں اور فطرت توحید کو زندہ کریں ۔ قرآن مجید نے بھی مسلمانوں سے اس کا وعدہ کیا ھے ۔
”و لقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثها عبادی الصالحون “ (۲۹)
اور ھم نے ذکر کے بعد زبور میں لکہ دیا ھے کہ ھماری زمین کے وارث ھمار ے نیک بندے ھی ھوں گے ۔
” وعد الله الذین آمنوا منکم و عملوا الصالحات لیستخلفنهم فی الارض کما استخلف الذین من قبلهم و لیمکنن لهم دینهم الذی ارتضیٰ لهم و لیبدلنّهم من بعد خوفهم امنا یعبد وننی لا یشرکون بی شیئا “ ( ۳۰)
اللہ نے تم میں سے صاحبان ایما ن و عمل صالح سے وعدہ کیا ھے کہ انھیں روئے زمین میں اسی طرح خلیفہ اپنابنائے گا جس طرح پھلے والوں کو بنایا ھے اور ان کے لئے اس دین کو غالب بنائے گا جسے ان کے لئے پسندیدہ قرار دیا ھے اور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کردے گا کہ وہ سب صرف میری عبادت کریں گے اور کسی طرح کا شرک نہ کریں گے ۔
جملہ ” یعبدوننی لا یشرکون بی شیئا “ بھترین دلیل ھے کہ شرک اور اس کے تمام مظاھر کی تباھی ضروری ھے تاکہ توحید کا اخلاص دلوں میں جا گزین ھو ۔
”یا ایها الذین آمنوا من یرتد منکم عن دینه فسوف یاتی الله بقوم یحبهم و یحبونہ اذلة علی المومنین اعزة علی الکافرین یجاهدون فی سبیل الله و لا یخافون لومة لائم “ ( ۳۱)
ایمان والوں تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پلٹ جائے گا ۔ تو عنقریب خدا ایک قوم کو لے آئے گا جو اس کی محبوب اور اس سے محبت کرنے والی مومنین کے سامنے خاکسار اور کفار کے سامنے صاحب عزت ، راہ خدا میں جھاد کرنے والی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے والی ھوگی ۔
یہ آیت ان مجاھدوں کا تذکرہ کر رھی ھے جو ھر طرح کی سر زنش و ملامت سے بے پرواہ کامل خلوص کے ساتہ شرک سے روئے زمین کو پاک کرتے اور سارے عالم میں کلمھٴ حق کا پرچم بلند اور ایفائے وعدھٴ الٰھی کا فرض ادا کرتے ھیں ۔
ان مقدمات سے اس بات کی تصدیق ھو سکتی ھے کہ مشرکوں کو دعوت توحید دینے کے لئے جھاد ابتدائی ایک مشروع اور فطری حق ھے جب رسالت کی طرف سے پیغام رسانی اور دعوت تنبیہ اور بشارت ، اتمام حجت اور دعوت حسنہ ، روشن آیات حق کی پیش کش اور حق و باطل میں امتیاز وغیرہ کی تمام عقلی و منطقی کوششیں ناکام ھو جائیں تو ظالموں اور مستکبروں کی سر کشی و نافرمانی کو کچلنے کے لئے اسی حق کا مجبوراً استعمال کیا جاتا ھے ۔ یہ حق صرف دین سے مخصوص نھیں بلکہ یہ ایک ایسا فطری امر ھے جسے تمام قومیں تسلیم کرتی ھیں ، جب عوام کسی نظام کو مان لیتے ھیں اور معاشرے کی اصلاح و ترقی کے لئے کوئی نظام قبول کر لیا جاتا ھے تو ایسے سر کش و نافرمان افراد کے لئے جو ارشاد و ھدایت کے بعد بھی اپنی سر کشی و نافرمانی سے باز نھیں آتے ۔ اس حق کا استعمال جائز سمجھا جاتا ھے تاکہ وہ قانون کی برتری تسلیم کریں جب ھر نظام کو یہ حق حاصل ھے تو پھر توحید کی بنیادوں پر استوار الٰھی نظام کو اس فطری حق سے کیوں محروم کیا جائے ؟
جیسا کہ اشارہ ھو چکا ھے آیت ” قاتلوا الذین یلونکم من الکفار و لیجدوا فیکم غلظة “ (۳۲)
اپنے آس پاس والے کفار سے جھاد کر و اور وہ تم میں سختی و طاقت کا احساس کرے۔
جھاد دفاعی سے مختص نھیں ھے ، اسی طرح سورہ نمل میں ملکہ سبا کو حضرت سلیمان کی دھمکی : ” فلناتینهم بجنود لا قبل لهم بها و لنخرجنهم منها اذلة و هم صاغرون “ ( ۳۳)
اب میں ایک ایسا لشکر لے کر آؤں گا جس کا مقابلہ ممکن نہ ھوگا اور پھر سب کو ذلت و رسوائی کے ساتہ ملک سے باھر نکالوں گا ۔
حالانکہ اس سے پھلے ملکہ سبا کی طرف سے کوئی حملہ ھوا تھا نہ حملے کی دھمکی دی گئی تھی ۔ حضرت سلیمان کی دھمکی صرف اسی بنا پر تھی کہ ملکہ سبا نے حضرت سلیمان کی دعوت کو قبول نھیں کیا تھا ” الاتعلوا علی و اتونی مسلمین “ (۳۴)
دیکھومیرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور اطاعت گزار بن کر چلے آؤ ۔
یہ واقعہ جھاد ابتدائی کے شرعی جواز کی بھترین توضیح ھے ۔

جھاد ، تاریخ انبیاء میں

قرآن کی آیتیں گواہ ھیں کہ انبیاء کی سیرت یہ رھی ھے کہ وہ تنبیہ و بشارت ، روشن آیات حق اور گذشتہ و آئندہ انسانوں کے تذکرے سے انسانی عقل و فطرت کو نھایت نرمی اور دلسوزی کے ساتہ بیدار کرنے کی کوشش سے اپنی دعوت کا آغاز کرتے تھے ، قدرتی بات ھے کہ پا ک وصاف دل اور بیدار و خدا خواہ ضمیر نھایت خندہ پیشانی سے ان کی دعوت کو قبول کرتے تھے ،لیکن مردہ دل ، آلودہ روح اور سر کش نفس رکھنے والے ان کی دعوت کوٹھکرا دیتے اور نور خدا کو خاموش کرنے کے لئے انبیاء کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ھوتے تھے ۔ جھاں کھیں محاذ حق کمزور ھوتا اور اس میں مقابلے کی طاقت نہ ھوتی تو وہ اپنی اور اپنے اصحاب و انصار کی جان کی حفاظت اور محدود پیمانے پر چراغ توحید کی جلائے رکھنے پر اکتفاء کرتے ھوئے مشرکوں پر عذاب الٰھی کے نازل ھونے کا انتظار کرتے تھے ۔ جب پیمانہ صبر لبریز ھو جاتا اور اھل حق امتحان کی کٹھن منزلوں کے طے کرتے ھوئے موت و حیات کے دور اھے پر پھنچ جاتے ، اس وقت وعدھٴ الٰھی پورا ھوتا ، اور مومنوں کو ان سر کش طاغوتوں سے چھٹکارا مل جاتا تھا ، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام ،حضرت ھود علیہ السلام ، حضرت شعیب علیہ السلام ،حضرت صالح علیہ السلام ، حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصوں میں بیان کیا گیا ھے : ” فدعا ربہ انی مغلوب فانتصر ، ففتحنا ابواب السماء بماء منهم “ (۳۵)
تو اس نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں مغلوب ھوگیاھوں میری مدد فرما ۔ تو ھم نے ایک موسلا دھار بارش کے ساتہ آسمان کے دروازے کھول دئے ۔
” قال لو ان لی بکم قوة اوٰاوی الی رکن شدید فلما جاء امرناجعلنا عالیها سافلها۔۔۔۔۔،، (۳۶)
لوط نے کھا کاش میرے پاس قوت ھوتی یا میں کسی مضبوط قلعہ میں پناہ لے سکتا ۔پھر جب ھمار ا عذاب آگیا تو ھم نے زمین کو تھہ و بالا کردیا ۔
قالوا حرقوه و انصروا الهتکم ان کنتم فاعلین ، قلنا یا نار کونی بردا و سلاما علی ابراهیم ، واراد وا بہ کیدا فجلعنا هم الاخسرین “(۳۷)
ان لوگوں نے کھا کہ ابراھیم کو آگ میں جلا دو اور اگر کچہ کرنا چاھتے ھوتو اس طرح اپنے خداؤں کی مدد کرو ۔ تو ھم نے بھی حکم دیا کہ اے آگ ابراھیم کے لئے سرد ھوجا اور سلامتی کا سامان بن جا ۔ اور ان لوگوں نے ایک مکر کا ارادہ کیا تھا تو ھم نے بھی انھیں خسارہ والا اور ناکام قرار دیا ۔
” قال اصحاب موسیٰ انالمد رکون۔قال کلا ان معی ربی سیهدین ․․․ ثم اغرقنا الاخرین “ (۳۸)
اصحاب موسی نے کھا کہ اب تو ھم گرفت میں آجائیں گے ۔ موسی نے کھا ھرگز نھیں ھمارے ساتہ ھمار اپروردگار ھے و ہ ھماری رھنمائی کرے گا ۔۔۔پھر باقی لوگوں کو غرق کردیا ۔
ایک مقام پر بطور کلی ارشاد ھوتا ھے : ” فکلا اخذ نا بذنبہ فمنهم من ارسلنا علیه حاصبا و منهم من اخذته الصیحة و منهم من خسفنا به الارض و منهم من اغرقنا “(۳۹) پھر ھم نے ھر ایک کو اس کے گناہ میں گرفتار کرلیا کسی پر آسمان سے پتھروں کی بارش کردی کسی کو ایک آسمانی چیخ نے پکڑ لیا اور کسی کو زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو پانی میں غرق کردیا ۔
لیکن جب توحیدی طاقتیں خود کو طاقتور محسوس کرتیں اور دشمن پر غلبہ پانے کا امکان ھوتا تو وہ مقاصد رسالت کی تکمیل خدا خواھوں کے راستے کو ھموار اور ان کے سامنے سے رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ھتھیار اٹھانے میں پس و پیش نھیں کرتی تھیں۔ ایسے موقع پر شرک و ائمہ شرک کے وجود کو برداشت نھیں کیا جاتا تھا ، جیسا کہ طالوت و جالوت ، سلیمان و ملکہ ٴ سبا ،موسیٰ علیہ السلام و عما لقہ کے واقعات میں تفصیل سے موجود ھے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے مقابلے میں ھتھیار نھیں اٹھایا وہ عالم مجبوری میں مصر سے ھجرت کے ارادے سے اپنی قوم کو لے کر دریائے نیل کا رخ کرتے ھیں ۔لیکن جب عما لقہ شام کے مقابلے میں اپنے کو طاقتور محسوس کیا تو ان پر حملہ کرنے سے گریز نہ کیا ۔ مختصر یہ کہ ایک مسلم الثبوت حقیقت ھے کہ انبیاء علیہم السلام ما سلف کی زندگی میں جنگ و جھاد دونوں کی سنت موجودتھی ’‘وکاٴیّن من نبی قاتل معه ربیون کثیر۔۔۔۔۔۔۔ “ (۴۰) اور بھت سے ایسے نبی گزر چکے ھیں جن کے ساتہ بھت سے اللہ والوں نے اس شان سے جھاد کیا ھے کہ راہ خدا میں پڑنے والی مصیبتوںسے نہ کمزور ھوئے اور نہ بزدلی کا اظھا ر کیا اور نہ دشمن کے سامنے ذلت کا مظاھرہ کیا ۔

جھاد زمان و مکان میں مقید نھیں ھے

اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ھوئے کہ جھاد بمعنی عام جس میں اسلام اور مسلمانوں کا دفاع شامل ھے قرآن مجید میں عظیم ترین فریضہ ھے ، اسے پورے الٰھی نظام ، اور توحید کی اساس کا محافظ قرار دیا گیا ھے ، عقل ، تاریخ تجزیہ اور خارجی واقعات بھی ضرورت جھاد کی قطعی تائید کرتے ھیں ۔ اس میں شک نھیں کہ یہ فریضہ صرف صدر اسلام اور عصر رسول سے مختص نھیں ھو سکتا ، جھاد کے لئے مسلمانوں کی طاقت و قوت کے سوا کوئی شرط نھیں ۔
جھاد ۔بمعنی عام ۔ کے کسی خاص زمانے یا عام شرائط ( جس میں طاقت و قدرت بھی شامل ھے ) کے سوا دوسری شرائط سے مختص ھونے کا تصور ، آرام پسندی حقائق قرآن سے نا واقفیت ، فقھی جمود و خمود مصالح اسلام و مسلمین سے لا پرواھی ، خوف ، اخلاقی کمزوری ، معاشرے اور اس کے مسائل سے صدیوں کی دوری و گوشہ نشینی اور صوفیا نہ افکار کے غلبے کے سوا کچہ نھیں ۔
اگر یہ کمزوریاںاور نارسائیاں نہ ھوتیں تو کس طرح ایک اسلام شناس یا محقق فقھیہ چار سو سے زائد تاکیدی اور سخت لھجہ آیتوں کی صرف چند برسوں سے مخصوص سمجھتا اور اس طرز فکر سے دشمنوں کے نرغے میں گھرے ھوئے اسلام کو جس کے لئے دفاع ایک اھم ضرورت ھے ھمیشہ ھمشیہ کے لئے نھتا بنا کر مسلمانوں کی جان و مال ، عزت و آبرو ، اسلامی اقدار اور اسلامی سر زمین پردشمنوں کے غلبے کا راستہ ھموار کرتا ؟ کیا آیہ ” واعدوالهم ما استطعتم من قوة․․․․․․․․“ جو مسلمانوں کی عزت و قوت کی ضمانت ھے کسی ایک زمانے سے محدود ھو سکتی ھے ؟ کیا دشمنوں نے ھم سے معاھدے کرنے کے بعد اس کی خلاف ورزی نھیں کی ؟ پھر ھم نے اس آیت ” و ان نکثوا ایمانهم من بعد عهدهم و طعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمة الکفر انهم لا ایمان لهم “ (۴۱)
کفر کے سربراھوں سے کھل کر جھاد کرو ان کے قسموں کا کوئی اعتبار نھیں ھے شاید یہ اسی طرح اپنی حرکتوں سے باز آجائیں ۔پر عمل کیوں نہ کیا ؟ خدا وند عالم کا یہ وعدہ ” لا تهنوا و لا تحزنوا و انتم الاعلون ان کنتم مومنین “(۴۲)
خبردار سستی نہ کرنا مصائب پر محزون نہ ھونا اگر تم صاحب ایمان ھو تو سربلندی تمھارے ھی لئے ھے ۔ کیا صرف چند برسوں کے لئے تھا ؟ اگر جھاد ابتدائی میں شک و شبہ ھو سکتا ھو تو کیا دفاع میں بھی شک کیا جاسکتا ھے ؟ تمام زمانوں میں مسلمانوں کو دفاع کی ضرورت رھی ھے اور آج دشمن ھر زمانے سے زیادہ اسلام و مسلمین کے مقابلے میں صف آرا ھے ، اسے کسی مکر و حیلے سے عار نھیں ،آج اپنی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے ھر زمانہ سے زیادہ امداد باھمی ، تعاون اسلحے کی فراھمی ، طاقت میں اضافہ اور جھاد کی ضرورت ھے۔
اگر نعوذ باللہ ھم مسلمان نہ ھوتے پھر بھی تقاضائے عقل و فطرت یہ تھا کہ ھم اپنے دفاع کے لئے اٹہ کھڑے ھوتے ، اور اتنی زیادہ ذلت و خواری برداشت نہ کرتے ، ایک ارب مسلمانوں کے لئے یھی ذلت کافی ھے کہ تیس لاکہ یھودیوں کے سامنے جن کے بارے میں قرآن کھتا ھے  ” ضربت علیهم الذلة و المسکنة “ (۴۳) اب ان پر ذلت اور محتاجی کی مار پڑ گئی ۔
سر ذلت جھکائے ھوئے ھیں ۔ روز بروز ان کے لئے میدان ھموار کرتے جا رھے ھیں اور دست بستہ ان کے احکام و فرامین کی بجا آوری کے لئے تیار ھیں ۔ کیا اس ذلت کو برداشت کرنے کے لئے محض یہ بھانہ کافی ھے کہ امریکہ اسرائیل کا حامی ھے ؟ کیا خدا ھمارا حامی و مدد گار نھیں ؟ پھر یہ ذلت کیوں ؟
خدا کی نصرت و حمایت کے وعدے بر حق ھیں ،لیکن ھمارا اس پر ایمان نھیں ، ھم شرط ایمان ( ان کنتم مومنین )سے کورے ھیں ۔ ھم اس آیت کے مصداق بن گئے ھیں کہ ” ارضیتم بالحیوٰة الد نیا من الاخرة ․․․․․الا تنفروا یعذبکم عذابا الیما ویستبدل قوما غیرکم ۔۔۔۔۔“ ( ۴۴)ایمان والوں تمھیں کیا ھوگیا ھے کہ جب تم سے کھا گیا کہ راہ خدا میں جھاد کیلئے نکلو تو تم زمین سے چپک کر رہ گئے کیا تم آخرت کے بدلے زندہ گانی دنیا سے راضی ھوگئے اگر تم راہ خدا میں نہ نکلو گے تو خدا تمھیں دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا اور تمھارے بدلے دوسری قوم کو لے آئے گا اور تم اسے کوئی نقصان نھیں پھونچا سکتے ھو کہ وہ ھر شئی پر قدرت رکھنے والا ھے
تمام مسلمانوں کا فریضہ ھے کہ ان مقاصد کی تکمیل کے لئے اس نظام سے تعاون کریں اور اپنے اسلامی فریضے کے پیش نظر قومیت ، نسل ، زبان اور جغرافیائی اختلافات سے صرف نظر کرتے ھوئے وحدت اسلامی کے جھنڈے تلے متحد و ھم آھنگ ھو کر اسلام و مسلمین کے ظاھر و جابر دشمنوں کا مقابلہ کرنے کو اٹہ کھڑے ھوں ، عزت کی موت کو ذلت کی زندگی سے بھتر سمجھیں ، تاکہ جھاد کے شیریں ثمرات سے لطف اندوز ھوں اور خدا وند عالم کے دست شفقت و محبت کے سایے میں اپنے دشمن پروار کریں اور خود اس لمس ربانی کی تصدیق کریں :” ید اللہ فوق اید یھم “ ۔

حوالے:

(۱) بقرہ / ۲۵۱
(۲) حج / ۴۰
(۳)عنکبوت / ۶۹
(۴) انفال/ ۷۲
(۵) بقرہ / ۱۵۴
(۶)بقرہ / ۲۱۴
(۷) آل عمران/ ۱۳۹۔ ۱۴۸
(۸) نساء/ ۱۴۰
(۹) مائدھ/ ۵۴
(۱۰) توبھ/ ۳
(۱۱)حج /۳۹۔۴۰
(۱۲) بقرھ/ ۱۹۰
(۱۳) بقرہ / ۱۹۰
(۱۴) بقرہ / ۱۹۳
(۱۵) انفال/ ۳۹
(۱۶) انفال/ ۵۶
(۱۷)توبھ/ ۱۲
(۱۸) توبھ/ ۲۹
(۱۹)بقرہ /۲۵۱
(۲۰)حج ۴۰
(۲۱)انفال ۸
(۲۲)شوریٰ ۴۳
(۲۳)نساء ۷۵
(۲۴)روم / ۳۰
(۲۵)شوریٰ / ۱۳
(۲۶) حج/ ۴۰
(۲۷)انفال/ ۸
(۲۸)انفال/ ۲۴
(۲۹) انبیاء / ۱۰۵
(۳۰)نور/ ۵۵
(۳۱)مائدھ/ ۵۴
(۳۲) توبھ/ ۱۲۳
(۳۳)نمل/ ۳۷
(۳۴) نمل/۳۱
(۳۵) قمر / ۱۱
(۳۶) ھود /۸۰۔ ۸۳
(۳۷) انبیاء/ ۶۹۔۷۰
(۳۸) شعراء/ ۶۱۔۶۲
(۳۹) عنکبوت / ۴۰
(۴۰)آل عمران / ۱۴۶
(۴۱)توبہ ۱۲
(۴۲)آل عمران /۱۳۹
(۴۳)بقرہ /۶۱
(۴۴)توبہ /

ر



اسلامی قوانین اور دستورات کے مختلف اور متعدد فلسفے اور اسباب ھیں جن کی وجہ سے انھیں وضع کیا گیا ھے ۔ ان فلسفے اور اسباب تک رسائی صرف وحی اور معدن وحی( رسول و آل رسول(ع) ) کے ذریعہ ھی ممکن ھے ۔
قرآن مجید اور معصومین علیھم السلام کی احادیث میں بعض قوانین اسلامی کے بعض فلسفہ اور اسباب کی طرف اشارہ کیا گیا ھے ۔
انھیں دستورات میں سے ایک نماز ھے جو ساری عبادتوں کا مرکز ، مشکلات اور سختیوں میں انسان کے تعادل و توازن کی محافظ ، مومن کی معراج ، انسان کو برائیوں اور منکرات سے روکنے والی اور دوسرے اعمال کی قبولیت کی ضامن ھے۔ خدا وند عالم اس سلسلہ میں فرماتا ھے :
” اقم الصلاة لذکری “ (۱) میری یاد کے لئے نماز قائم کرو ۔
اس آیت کی روشنی میں نماز کا سب سے اھم فلسفہ یاد خدا ھے اور یاد خدا ھی ھے جو مشکلات اور سخت حالات میں انسان کے دل کو آرام اور اطمینان عطا کرتی ھے ۔
” الا بذکر اللہ تطمئن القلوب “
آگاہ ھو جاؤ کھ یاد خدا سے دل کو آرام اور اطمنان حاصل ھوتا ھے ۔
رسول خدا نے بھی اسی بات کی طرف اشارھ فرمایا ھے :
نماز اور حج و طواف کو اس لئے واجب قرار دیا گیا ھے تاکھ ذکر خدا ( یاد خدا ) محقق ھوسکے ۔(۲)
شھید محراب ، امام متقین حضرت علی علیھ السلام فلسفھٴ نماز کو اس طرح بیان فرماتے ھیں :
” خدا وند عالم نے نمازکو اس لئے واجب قرار دیا ھے تاکھ انسان تکبر سے پاک و پاکیزھ ھو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نماز کے ذریعے خدا سے قریب ھو جاؤ ۔ نماز گناھوں کو انسان سے اس طرح گرا دیتی ھے جیسے درخت سے سوکھے پتے گرتے ھیں ،نماز انسان کو ( گناھوں سے ) اس طرح آزاد کر دیتی ھے جیسے جانوروں کی گردن سے رسی کھول کر انھیں آزاد کیا جاتا ھے “ ( ۳ )
حضرت فاطمھ زھرا سلام اللہ علیھا مسجدنبوی میں اپنے تاریخی خطبھ میں اسلامی دستورات کے فلسفہ کو بیان فرماتے ھوئے نماز کے بارے میں اشارہ فرماتی ھیں :
” خدا وند عالم نے نماز کو واجب قرار دیا تاکہ انسان کو کبر و تکبر اور خود بینی سے پاک و پاکیزہ کر دے “
ھشام بن حکم نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا : نماز کا کیا فلسفہ ھے کہ لوگوں کو کاروبار سے روک دیا جائے اور ان کے لئے زحمت کا سبب بنے ؟
امام علیہ السلام نے فرمایا :
نماز کے بھت سے فلسفے ھیں انھیں میں سے ایک یہ بھی ھے کھ پھلے لوگ آزاد تھے اور خدا و رسول کی یاد سے غافل تھے اور ان کے درمیان صرف قرآن تھا امت مسلمہ بھی گذشتہ امتوں کی طرح تھی کیونکہ انھوں نے صرف دین کو اختیار کر رکھا تھا اور کتاب اور انبیاء کو چھوڑ رکھا تھا اور ان کو قتل تک کر دیتے تھے ۔ نتیجہ میں ان کا دین کھنہ ( بے روح ) ھو گیا اور ان لوگوں کو جھاں جانا چاھئے تھا چلے گئے ۔ خدا وند عالم نے ارادہ کیا کہ یہ امت دین کو فراموش نہ کرے لھذا اس امت مسلمہ کے اوپر نماز کو واجب قرار دیا تاکہ ھر روز پانچ بار آنحضرت کو یاد کریں اور ان کا اسم گرامی زبان پر لائیں اور اس نماز کے ذریعہ خدا کو یاد کریں تاکہ اس سے غافل نہ ھو سکیں اور اس خداکو ترک نہ کر دیا جائے ۔ ( ۴)
امام رضا علیہ السلام فلسفہٴ نماز کے سلسلہ میں یوں فرماتے ھیں :
نماز کے واجب ھونے کا سبب ،خدا وند عالم کی خدائی اور اسکی ربوبیت کا اقرار،شرک کی نفی اور انسان کا خداوند عالم کی بارگاہ میں خضوع و خشوع کے ساتھ کھڑا ھونا ھے ۔
نماز گناھوں کا اعتراف اور گذشتہ گناھوں سے طلب عفو اور توبہ ھے ۔ سجدہ ،خدا وند عالم کی تعظیم و تکریم کے لئے خاک پر چھرہ رکھنا ھے ۔
نماز سبب بنتی ھے کہ انسان ھمیشہ خدا کی یاد میں رھے اور اسے بھولے نھیں ،نافرمانی اور سر کشی نہ کرے ۔
خضوع وخشوع اور رغبت و شوق کے ساتھ اپنے دنیاوی اور اخروی حصہ میں اضافہ کا طلب گار ھو ۔
اس کے علاوہ انسان نماز کے ذریعہ ھمیشہ اورھر وقت خدا کی بارگاہ میںحاضر رھے اور اسکی یاد سے سر شاررھے ۔
خدا وند عالم کی بارگاہ میں نماز گناھوں سے روکتی اور مختلف برائیوں سے منع کرتی ھے ․․․․․․
سجدہ کا فلسفہ غرور و تکبر ، خود خواھی اور سر کشی کو خود سے دور کرنا اور خدا ئے وحدہ لا شریک کی یاد میں رھنا اور گناھوں سے دور رھنا ھے ۔(۵)

نماز عقل و وجدان کے آئینہ میں اسلامی حق کے علاوہ کہ جو مسلمان اسلام کی وجہ سے ایک دوسرے کی گردن پر رکھتے ھیں ایک دوسرا حق بھی ھے جس کو انسانی حق کھا جاتا ھے جو انسانیت کی بنا پر ایک دوسرے کی گردن پر ھے ۔
انھیں انسانی حقوق میں سے ایک حق ، دوسروں کی محبت اور نیکیوں اور احسان کا شکر یہ اداکرنا ھے اگر چہ مسلمان نہ ھو ں ۔
دوسروں کے احسانات اور نیکیاں ھمارے اوپر شکریے کی ذمہ داری کو عائد کرتی ھیں اور یہ حق تمام زبانوں ، ذاتوں ، ملتوں اور ملکوں میں یکساں اور مساوی ھے ۔ لطف اور نیکی جتنی زیادہ اور نیکی کرنے والا جتنا عظیم و بزرگ ھوشکر بھی اتنا ھی زیادہ اور بھتر ھونا چاھئے ۔
کیا خدا سے زیادہ کوئی اور ھمارے اوپر حق رکھتا ھے ؟ نھیں ۔ اس لئے کہ اس کی نعمتیں ھمارے اوپربے شمار ھیں اور خود اس کا وجود بھی عظیم او ر فیاض ھے ۔
خدا وند عالم نے ھم کو ایک ذرے سے خلق کیا اور جو چیز بھی ھماری ضروریات زندگی میں سے تھی جیسے ، نور و روشنی ، حرارت ، مکان ،ھوا ، پانی اعضاء و جوارح ، غرائز و قوائے نفسانی ، وسیع وعریض کائنات ،پودے و نباتات ،حیوانات ، عقل و ھوش اور عاطفہ و محبت ،وغیرہ ،کو ھمارے لئے فراھم کیا۔
ھماری معنوی تربیت کے لئے انبیاء علیھم السلام کو بھیجا ، نیک بختی اور سعادت کے لئے آئین وضع کئے ،حلال و حرام کو قرار دیا ۔ھماری مادی زندگی اور روحانی حیات کو ھر طرح سے دنیاوی اور اخروی سعادت حاصل کرنے اور کمال کی منزل تک پھونچنے کے وسائل فراھم کئے ۔
خدا سے زیادہ کس نے ھمارے ، ساتھ نیکی اور احسان کیا ھے کہ اس سے زیادہ اس حق شکر کی ادائیگی کا لائق اور سزاوار ھو ۔
انسانی وظیفہ اور ھماری عقل و وجدان ھمارے اوپر لازم قرار دیتی ھیں کہ ھم اس کی ان نعمتوں کا شکر ادا کریں اور ان نیکیوں کے شکرانہ میں اسکی عبادت کریں ،نماز پڑھیں ۔
چونکہ اس نے ھم کو خلق کیا ھے ،لھذا ھم بھی صرف اسی کی عبادت کریں اور صرف اسی کے بندے رھیں اور مشرق و مغرب کے غلام نہ بنیں ۔
نماز خدا کی شکر گزاری ھے اور صاحب وجدان انسان نماز کے واجب ھونے کو درک کرتا ھے ۔
جب ایک کتے کو ایک ھڈی کے بدلے میں جو اسکو دی جاتی ھے حق شناسی کرتا ھے اور دم ھلاتا ھے اور اگر چور یا اجنبی آدمی گھر میں داخل ھوتا ھے تو اس پر حملہ کرتا ھے تواگر انسان پروردگار کی ان تمام نعمتوں سے لا پرواہ اور بے توجہ ہو اور شکر گزار ی کے جذبہ سے جو کہ نماز کی صورت میں جلوہ گر ھوتاھے بے بھرھ ھو تو کیا ایسا انسان قدردانی اور حق شناسی میں کتے سے پست اور کمتر نھیں ھے ؟!!

نماز کی فضیلت رسول اکرم کی زبانی حمزہ بن حبیب صحابی رسول اکرم کھتے ھیں : میں نے رسول خدا سے نماز کے بارے میں سوال کیا تو آنحضرت نے اس کے خواص ، فوائد اور اسرار کے بارے میں اس طرح فرمایا :
نماز دین کے قوانین میں سے ایک ھے ۔ پروردگار کی رضا و خوشنودی نما ز میں ھے ۔ نماز انبیاء علیھم السلام کا راستہ ھے ۔ نمازی، محبوب ملائکہ ھے ۔ نماز ھدایت ، ایمان اور نور ھے ۔ نماز روزی میں برکت ، بدن کی راحت ، شیطان کی ناپسندی اور کفار کے مقابلہ میں اسلحہ ھے ۔ نماز دعا کی اجابت اور اعمال کی قبولیت کا ذریعہ ھے ۔ نماز نمازی اور ملک الموت کے درمیان شفیع ھے ۔ نماز قبر میں انسان کی مونس ، اس کا بستر اور منکر و نکیر کا جواب ھے ۔ نماز قیامت کے دن نمازی کے سرکا تاج ، چھرے کا نور ، بدن کا لباس اور آتش جھنم کے مقابلہ میں سپر ھے ۔ نماز پل صراط کا پروانہ ، جنت کی کنجی ، حوروں کا مھر اور جنت کی قیمت ھے ۔ نماز کے ذریعہ بندہ بلند درجہ اوراعلیٰ مقام تک پھونچتاھے اس لئے کہ نماز تسبیح و تھلیل ، تمجید و تکبیر ، تمجیدو تقدیس اور قول و دعاھے ۔(۶)

نماز کی اھمیت ۱۔ دین کا ستون
ھر عبادت کا ایک ستون اور پایہ ھوتا ھے جس پر پوری عمارت کا دارو مدار ھوتا ھے ،اگرکبھی اس ستون پر کوئی آفت آجائے تو پوری عمارت زمیں بوس ھو جاتی ھے ۔ اسی طرح سے نماز ایک دیندار انسان کے دین و عقائد کےلئے ایک ستون کے مانند ھے ۔
حضرت علی علیہ السلام تمام مسلمانوں اور مومنین کو وصیت کرتے ھوئے فرماتے ھیں :
” اوصیکم بالصلوٰة ، و حفظھا فانھا خیر العمل و ھی عمود دینکم “(۷)
میں تم سب کو نماز کی اور اسکی پابندی کی وصیت کرتا ھوں اس لئے کہ نماز بھترین عمل اور تمھارے دین کا ستون ھے ۔
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں :
” بنی الاسلام علی خمسة: الصلوٰة و الزکاة و الحج و الصوم و الولایة “
اسلام کی عمارت پانچ چیزوں پر استوار ھے : نماز ، زکواة ، حج ، روزہ اور اھلبیت علیھم السلام کی ولایت ۔

۲۔مومن کی معراج
نماز انسان کو بلند ترین درجہ تک پھونچانے کا ذریعہ ھے جس کو معراج کھتے ھیں۔رسول خدا فرماتے ھیں :
” الصلوٰة معراج المومن “ ( ۸)
نماز مومن کی معراج ھے ۔
کیونکہ نمازی اللہ اکبر کھتے ھی مخلوقات سے جدا ھو کر ایک روحانی اور ربانی سفر کا آغاز کرتا ھے جس سفر کا مقصد خالق و مالک سے راز و نیاز اور اس سے گفتگو کرنا ھے اور اپنی بندگی کا اظھار کرنا ، اس سے ھدایت و راھنمائی اور سعادت و خوش بختی طلب کرنا ھے ۔
ایک دوسری حدیث میں مرسل اعظم نے اس طرح فرمایا :
” الصلوٰة تبلغ العبد الی الدرجة العلیا “ (۹)
نماز بندے کو بلند ترین درجہ تک پھونچاتی ھے ۔

۳۔ ایمان کی نشانی
نماز عقیدہ کی تجلی ، ایمان کا مظھر اور انسان کے خدا سے رابطہ کی نشانی ھے ۔ نماز کو زیادہ اھمیت دینا ایمان اور عقیدہ سے برخورداری کی علامت ھے اور نماز کو اھمیت نہ دینا منافقین کی ایک صفت ھے ۔ خدا وند عالم نے قرآن میں اسکو منافقین کی ایک نشانی قرار دیتے ھوئے فرمایا ھے :
” ان المنافقین لیخادعون اللہ وھو خادعھم و اذا قاموا الی الصلواة قاموا کسالی یراء ون الناس و لا یذ کرون اللہ الا قلیلا “ ( ۱۰)
منافقین خدا کو فریب دینا چاھتے ھیں جبکہ خدا خود ان کے فریب کو ان کی طرف پلٹا دیتا ھے اور منافقین جب نماز کے لئے کھڑے ھوتے ھیں تو سستی اور کاھلی کی حالت میں نماز کے لئے کھڑے ھوتے ھیں اور لوگوں کو دکھاتے ھیں اور بھت کم اللہ کو یاد کرتے ھیں ۔

۴۔شیعوں کی علامت
نماز کی پابندی شیعوں کی ایک خاص علامت ھے۔ اسی لئے امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ھیں :
” امتحنوا شیعتنا عند مواقیت الصلوٰة کیف محافظتھم علیھا “ (۱۱ )
ھمارے شیعوں کو نما ز کے وقت آزماؤ اور دیکھو کہ وہ کس طرح نماز کی پابندی کرتے ھیں ۔

۵۔ شکر گزاری کا بھترین ذریعہ
منعم ( نعمت دینے والے ) کا شکر ادا کرنا ھر انسان بلکہ ھر حیوان کی طبیعت میں شامل ھے ۔ اس لئے کہ شکر گزاری نعمت دینے والے کی محبت اور نعمت و برکت میں اضافہ کا سبب ھے ۔ شکر کبھی زبانی ھوتا ھے اور کبھی عملی ۔
نماز ایک عبادت اور خدا کی نعمتوں پر اظھار شکر ھے جو کہ زبانی اور عملی شکر کا ایک حسین مجموعہ ھے ۔

۶۔میزان عمل
رسول خدا فرماتے ھیں :
” الصلواة میزان “نماز ترازو ھے ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ھیں :
” اول ما یحاسب بہ العبد الصلوٰة فاذا قبلت قبل سائر عملہ و اذا ردت ردّعلیہ سائر عملہ “ ( ۱۲)
قبول کر لئے جائیں گے اور اگر رد کر دی گئی تو دوسرے سارے اعمال رد کر دیئے جائیں گے ۔
اس حدیث کی روشنی میں نماز دوسری عبادتوں کی قبولیت کے لئے میزان و ترازو کے مانند ھے نماز کو اس درجہ اھمیت کیوں نہ حاصل ھو اسلئے کہ نماز دین کی علامت و نشانی ھے ۔

۷۔ھر عمل نما ز کا تابع
چونکہ نماز دین کی بنیاد اور اس کا ستون ھے ۔عمل کی منزل میںبھی ایسا ھی ھے کہ جو شخص نماز کو اھمیت دیتا ھے وہ دوسرے اسلامی دستورات کو بھی اھمیت دے گا اور جو نماز سے بے توجھی اور لا پرواھی کرے گا وہ دوسرے اسلامی قوانین سے بھی لا پرواھی برتے گا ۔ گویا نماز اور اسلام کے دوسرے احکام کے درمیان لازمہ اور ایک طرح کا رابطہ پایا جاتا ھے ۔
اسی لئے امام علی علیہ السلام نے محمد بن ابی بکر کو خطاب کرتے ھوئے فرمایا :
” و اعلم یا محمد ( بن ابی بکر ) ان کل شئی تبع لصلاتک و اعلم ان من ضیع الصلاة فھو لغیرھا اضیع “ (۱۳ )
اے محمد بن ابی بکر! جان لو کہ ھر عمل تمھاری نماز کا تابع اور پیرو ھے اور جان لو کہ جس نے نماز کو ضائع کیا اور اس سے لا پرواھی برتی وہ دوسرے اعمال کو زیادہ ضائع کرنے والا اور اس سے لا پرواھی برتنے والا ھے ۔

۸۔ روز قیامت پھلا سوال
قیامت اصول دین میں سے ایک اور وہ دن ھے کہ جب تمام انسانوں کو حساب و کتاب کے لئے میدان محشر میں حاضر کیا جائے گا ۔
روایات کی روشنی میں اس دن سب سے پھلا عمل جس کے بارے میں انسان سے سوال کیا جائے گا، نماز ھے ۔
رسول اکرم نے فرمایا :
” اول ما ینظر فی عمل العبد فی یوم القیامة فی صلاتہ “(۱۴)
روز قیامت بندوں کے اعمال میں سب سے پھلے جس چیز کو دیکھا جائے گا وہ نماز ھے ۔
اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :
” اول ما یحاسب بہ العبد الصلاة “ (۱۵)
سب سے پھلے بندہ سے جس چیز کا حساب کیا جائے گا وہ نماز ھے ۔
نمازی کے ساتھ ھر چیز خدا کی عبادت گزار :
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :
” ان الانسان اذا کان فی الصلاة فان جسدہ و ثیابہ و کل شئی حولہ یسبح “ (۱۶ )
جب انسان حالت نماز میں ھوتا ھے تو اس کا جسم ،کپڑے اور اس کے ارد گرد موجودساری اشیاء خدا کی تسبیح و تھلیل کرتی ھیں ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :
” ان کل شئی علیک تصلی فیہ یسبح معک “ ( ۱۷)
ھر وہ چیز جس کے ساتھ تم نماز پڑھ رھے ھو تمھارے ساتھ ساتھ اللہ کی تسبیح کرتی ھے ۔

۹ ۔ نمازی کا گھر یا آسمان والوں کے لئے نور
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرماتے ھیں :
” ان البیوت التی یصلی فیھا باللیل بتلاوة القرآن تضئی لاھل السماء کاتضئی نجوم السماء لاھل الارض “ ( ۱۸)
جس گھر میں رات میں تلاوت قرآن کے ساتھ نماز پڑھی جاتی ھے وہ گھر آسمان والوں کے لئے ویسے ھی نور دیتا ھے جیسے ستارے زمین والوں کے لئے روشنی دیتے ھیں ۔

نماز کے اثرات اور فوائد نماز کے بھت سے فائدے اور اثرات ھیں جو کہ نمازی کی دنیاوی اور اخروی زندگی میں نمایاں ھوتے ھیں ۔ ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جا رھا ھے ۔

۱۔ گناھوں سے دوری کا ذریعہ
انسان ھمیشہ ایک ایسی قوی اور طاقتور چیز کی تلاش میں رھتاھے جو اسکوقبیح اور برے کاموں سے روک سکے تاکہ ایسی زندگی گذار سکے جو گناھوں کی زنجیر سے آزاد ھو ۔
قرآن کی نگاہ میں وہ قوی اور طاقتور چیز نماز ھے ۔
” ان الصلاة تنھی عن الفحشاء و المنکر “
بے شک نماز گناھوں اور برائیوں سے روکتی ھے ۔
اس آیت کی روشنی میں نماز وہ طاقتور اور قوی شئی ھے جو انسان کے تعادل و توازن کو حفظ کرتی ھے اور اسکو برائیوں اور گناھوں سے روکتی ھے ۔

۲۔ گناھوں کی نابودی کا سبب
چونکہ انسان جائز الخطا ھے اور کبھی کبھی چاھتے ھوئے یا نہ چاھتے ھوئے گناہ کا مرتکب ھو جاتا ھے اور ھر گناہ انسان کے دل پر ایک تاریک اثر چھوڑ جاتا ھے جو کہ نیک کام کے انجام دینے کی رغبت اور شوق کو کم اور گناہ کرنے کی طرف رغبت اور میل کو زیادہ کر دیتا ھے ۔ ایسی حالت میں عبادت ھی ھے جو کہ گناھوں کے ذریعہ پیدا ھونے والی تیرگی اور تاریکی کو زائل کر کے دل کو جلا اور روشنی دیتی ھے ۔ انھیں عبادتوں میں سے ایک نماز ھے ۔ خدا وندعالم نے فرماتا ھے :
” اقم الصلوٰة --------ان الحسنات یذھبن السیئات “
نماز قائم کرو کہ بے شک نیکیاں گناھوں کو نیست و نابود کر دیتی ھیں بے شک نماز گذشتہ گناھوں سے ایک عملی توبہ ھے اور پروردگار اس آیت میں گنھگاروں کو یہ امید دلارھا ھے کہ نیک اعمال اور نماز کے ذریعہ تمھارے گناہ محو و نابود ھو سکتے ھیں ۔

۳۔ شیطان کو دفع کرنے کا وسیلہ
شیطان جو کہ انسان کا دیرینہ دشمن ھے اور جس نے بنی آدم کو ھر ممکنہ راستہ سے بھکانے اور گمراہ کرنے کی قسم کھا رکھی ھے ،مختلف راستوں ، حیلوں اور بھانوں سے انسان کو صراط مستقیم سے منحرف کرنے کی کوشش کرتا ھے ۔ مگر کچھ چیزیں ایسی ھیں جو اس کی تمام چالبازیوں پر پانی پھیر دیتی ھیں۔ انھیں میں سے ایک نماز ھے ۔
رسول اکرم نے فرماتے ھیں :
” لا یزال الشیطان یرعب من بنی آدم ما حافظ علی الصلوات الخمس فاذا ضیعھن تجرء علیہ و اوقعہ فی العظائم “ (۱۹)
جب تک اولاد آدم نمازوں کو پابندی اور توجہ کے ساتھ انجام دیتی رھتی ھے اس وقت تک شیطان اس سے خوف زدہ رھتا ھے لیکن جیسے ان کو ترک کرتی ھے شیطان اس پر غالب ھو جاتا ھے اور اسکو گناھوں کے گڑھے میں ڈھکیل دیتا ھے ۔

۴۔ بلاوٴں سے دوری
نمازی کو خدا ، انبیاء علیھم السلام اور ائمہ اطھار علیھم السلام کے نزدیک ایک خاص درجہ و مقام حاصل ھے جس کی وجہ سے خدا وند عالم دوسرے لوگوں پر برکتیں نازل کرتا ھے اور ان سے بلاؤں اور عذاب کو دور کرتا ھے ۔
جیسا کہ حدیث قدسی میں خدا وند عالم فرماتا ھے :
” لولا شیوخ رکع و شباب خشع و صبیان رضع وبھائم رتع لصبت علیکم العذاب صباً“ (۲۰)
” اے گنھگار و! اگر بوڑھے نمازی ، خاشع جوان ، شیرخوار بچے اور چرنے والے چوپائے نہ ھوتے تو میں تمھارے گناھوں کی وجہ سے تم پر سخت عذاب نازل کرتا ۔

حوالہ
۱۔طہٰ/ ۱۴
۲۔ راز نیایش ص ۳۵
۳۔نھج البلاغہ
۴۔علل الشرائع ج ۲
۵۔ من لا یحضرہ الفقیہ ج۱ ص ۳۲۲
۶۔ بحار الانوار ج ۵۶ ص ۲۳۱
۷۔ بحار ج ۷۹ ص ۲۰۹
۸۔کشف الاسرار ج ۲ ص ۶۷۶
۹۔ جامع احادیث الشیعہ ج۲ ص ۲۲
۱۰۔ نساء/ ۱۴۲
۱۱۔ وسائل الشیعہ ج ۳ ص ۸۳
۱۲۔من لا یحضرہ الفقیہ ج ۱ ص ۲۰۸
۱۳۔بحار ۷۹ / ۲۴
۱۴۔ وسائل ج۳ ص ۱۹
۱۵۔ وسائل الشیعہ ج۳ ص ۲۲
۱۶۔ علل الشرائع ج۲ ص ۳۱
۱۷۔علل الشرائع ج ۲ ص ۳۱
۱۸۔من لا یحضرہ الفقیہ ج۱ ص ۴۷۳
۱۹۔ بحار ج ۸۲ ص ۲۰۲
۲۰۔ عرفان اسلامی ج۵ ص


             دانش پژوه : 
                              احمد علی بلاغی تهوینه کرگل

 مقدمه:
حرکت ؛ مایه اصلی حیات است و زندگی با آن معنا می یابد .انسان گل سر سبد هستی است و همه چیز برای این است که او را بر حقیقت حیات که (عبودیت) است نایل شود . از این رو (حرکت) نیز جوهره زندگی اوست و بدون حرکت زندگی وی دچار روز مرگی می شود.
می گوییم (حرکت) بلا فاصله چند نکته به نظرمان می آید . مبدا حرکت و مقصد آن ،راه ، نقشه راه ، راهنمای راه ، همراهان راه ، دوستان و دشمنان، نشانه ها ، موانع و خطرات راه و..... این ها همه مستلزم حرکت است.


دانش پژوه:
        احمدعلی بلاغی تهوینه کرگل
حوزه علمیه قم مقدس 2015
مقدمه:
انسان منتظر، کسی است که هدف و آرمان خود را می شناسد و یقین دارد که روزی این هدف در جهان محقق می شود، از این رو همواره برای رسیدن جامعه به چنین هدفی تلاش می کند تا جامعه، هر چند یک قدم ، به آن نزدیک تر شود.و از آنجا که به خدا و جهان آخرت ایمان دارد، می داند که پاداش این تلاش خود خواهد گرفت، اکنون که در زمان غیبت به سر می بریم ،چه وظایفی و مسؤلیتی به عهده منتظر قرار دارد ؛ در این نوشتار به طور مختصر مهم ترین این مسؤلیت ها را اشاره کنیم.
وظایف منتظران از دیدگاه روایات:
1

اکسٹرمزم سے لبرلزم تک

تحریر: ایس ایم شاہ


اسلام زندگی کے ہر شعبے میں میانہ روی کی تلقین کرتا ہے، خواہ اس کا تعلق انسان کی انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے، اعتقادات کا معاملہ ہو یا اخلاق و فقہ کے مسائل۔ ان تمام امور میں اسلامی دستور میانہ روی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ کی کتاب نے چلنے کا انداز  اور بولنے کا سلیقہ تک سکھلا دیا:“اور اپنی چال میں اعتدال رکھو اور اپنی آواز نیچی رکھ، یقینا آوازوں میں سب سے بری گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔”(لقمان/19) کھانے پینے کے مورد میں بھی اعتدال سے کام لینے کاحکم دیا:“اور یہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل کرتے ہیں بلکہ ان کے درمیان اعتدال رکھتے ہیں۔”(فرقان/67) میدان جنگ میں جہاد کے دوران بھی زیادہ روی سے منع کیا ہے:“اور تم راہ خدا میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ تجاوز کرنے والوں کو یقیناً دوست نہیں رکھتا۔"(بقرہ/190) اعتقاد میں میانہ روی کی تلقین:“لہٰذا آپ اپنا رخ محکم دین کی طرف مرکوز رکھیں، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کے اللہ کی طرف سے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں ہے، اس دن لوگ پھوٹ کا شکار ہوں گے۔”(روم/43) جہاد کے حکم کے ساتھ کفار کی جانب سے صلح کی پیشکش ہوئی تو اسے بھی قبول کرنے کا حکم ہے:“اور (اے رسول) اگر وہ صلح و آشتی کی طرف مائل ہو جائیں تو آپ بھی مائل ہو جائیے اور اللہ پر بھروسہ کیجیے۔ یقیناً وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔”(انفال/61) علاوہ ازیں مؤمن تو کیا کافروں کی نسبت ان کے بتوں کے حوالے سے بھی زیادہ روی کرنے سے مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ“گالی مت دو، ان کو جن کو یہ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں، مبادا وہ عداوت اور نادانی میں اللہ کو برا کہنے لگیں۔”(انعام/108) مؤمن و مسلمان تو بہت دور کی بات ایک عام انسان کے قتل کو اللہ کی کتاب نے پوری انسانیت کے قتل کے مترادف اور ایک عام انسان کی جان بچانے کو تمام انسانوں کی جان بچانے کے برابر قرار دیا ہے:“جس نے کسی ایک کو قتل کیا جبکہ ایک خون کے بدلے میں یا زمین فساد پھیلانے کے جرم میں نہ ہو تو گویا اس نے تمام مسلمانوں کو قتل کیا اور جس نے کسی ایک کی جان بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی۔”(مائدہ/32)

اسلام کی اسی جامع حکمت عملی کے باعث کفار بھی جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوتے گئے اور نصف صدی کے اندر اسلام دنیا کی بڑی بڑی سرحدوں کو پار کر گیا۔ اسلام کے خلاف سازشیں کوئی نئی بات نہیں بلکہ حضورؐ کی حیات پاک میں ہی یہ سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں آپ کو کافی جنگیں بھی لڑنی پڑیں۔ آپ کے ارتحال کے بعد یہ معاملہ شدت اختیار کیا۔ ناکثین و قاسطین و مارقین کی صورت میں مختلف فتنے کھڑے ہوئے۔ 61 ہجری تک پہنچتے پہنچتے دشمنوں کی سازشیں اتنی زیادہ ہوگئیں کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین ؑ کو اتنی بڑی قربانی دینی پڑی کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بعد ازاں حق و باطل کا چہرہ روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا۔ لیکن دشمن "بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی" کا مصداق بن کر مختلف اوقات میں سازشیں کرتے رہے۔ اب جب اسلام میں اکسٹرمزم کا کوئی حکم ہے ہی نہیں تو آخر مسلمانوں میں یہ مذہبی انتہا پسندی کہاں سے وجود میں آگئی اور اتنے مسلمان کیوں قتل ہوئے اور اب بھی ہو رہے ہیں؟ آخر ان تمام مسلمانوں کے خون بہانے کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ وہ سوال ہے کہ جس کے جواب کا آج ہر مسلمان منتظر ہے۔ ساتویں صدی میں احمد بن تیمیہ حرانی حنبلی نے سابقہ علماء کے برخلاف بعض اقدامات اٹھائے۔ مثلاً اولیائے الٰہی کو خدا تک رسیدگی کے لئے وسیلہ قرار دینا، کسی بھی زندہ یا مردے سے مدد طلب کرنا اور اولیائے الٰہی اور پیغمبران الٰہی کی قبروں سے تبرک کرنے کو حرام قرار دیا۔ جن کے باعث انہیں علماء کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے نتیجے میں ان کے نظریات کا پرچار کرنا بہت مشکل ہوا اور ان کے نظریات لوگوں میں سرایت نہ کر پائے۔ یہاں تک کہ (1115ہجری) محمد بن عبد الوہاب عیینہ نام شہر میں پیدا ہوا۔ ان کے والد عبدالوہاب عیینہ میں قاضی تھے اور شرعی مسائل بیان کرنے کے علاوہ تدریس بھی کرتے تھے۔ محمد نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ اس وقت ہی ان کے والد ان کے اندر انحرافات اور گمراہی کے آثار کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ لہذا وہ ہمیشہ اس کی سرزنش کرتے رہتے اور اپنے گھر والوں کو ان(کے فکری انحرافات) سے بچے رہنے کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ بعدازاں اس نے مدینے جا کر وہاں تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ اس دوران میں اس کی زبان سے بعض ایسی باتیں ظاہر ہوتی تھیں، جو ایک خاص عقائد کی حکایت کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ اس کے اساتذہ کو بھی یہ خوف لاحق ہونے لگا کہ اگر یہ خود مبلغ دین بن جائے تو لوگوں کو گمراہ کئے بغیر نہیں رہے گا۔ اس کے بعد وہ  بصرہ گیا اور وہاں لوگوں کے اعتقادات اور رسومات کا مذاق اڑانے لگا۔ اس نے اتنی سخت گیری سے کام لیا کہ آخر کار بصرے والوں نے اسے اپنے شہر سے نکال باہر کردیا۔(https://www.mashreghnews.ir/amp/264578)

محمد بن عبدالوہاب کی کارستانیوں پر ہم اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے علمائے دیوبند ہند کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مذمتی بیان جس میں مختلف علماء کے نظریات کو حوالے سمیت نقل نقل کیا گیا ہے، اس میں سے کچھ اقتباسات کو نقل کرنے پر اکتفا کرتے  ہیں: حضرات علمائے دیوبند نے اپنی کتب میں بار بار وہابی، سلفی اور سعودی نجدی عقائد کی زبردست تردید کی ہے،مثلاً: مولانا خلیل احمد اینٹھوی دیوبندی(۱۸۵۲ء۔۱۹۲۷ء) لکھتے ہیں:’’ ان کا (محمد بن عبدالوہاب نجدی اور اس کے تابعین) عقیدہ یہ ہے کہ بس وہ ہی مسلمان ہیں اور جو ان کے عقیدہ کے خلاف ہو، وہ مشرک ہے اور اس بناء پر انہوں نے اہل سنت کا قتل مباح سمجھ رکھا تھا۔‘‘(المسند علی المفند، مطبوعہ کراچی صفحہ،۲۲) مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری (۱۸۷۵ء۔۱۹۳۴ء) سابق شیخ الحدیث دیوبند لکھتے ہیں کہ’’اما محمد بن عبدالوہاب النجدی فانہ کان رجلا بلیدا قلیل العلم فکان یتسارع الی الحکم بالکفر۔‘‘(فیض الباری مطبوعہ قاہرہ ۱۹۳۸ء) ترجمہ:’’یعنی محمد بن عبدالوہاب نجدی ایک کم علم اور کم فہم انسان تھا۔ اس لئے کفر کا حکم لگانے میں اسے باک نہ تھا۔‘‘ مولانا حسین احمد مدنی (۱۸۷۹ء۔ ۱۹۵۷ء) شیخ الحدیث دیوبند رقم طراز ہیں:
(الف):’’محمد بن عبدالوہاب کا عقیدہ تھا کہ جملہ اہل عالم و تمام مسلمانان دیار مشرک و کافر ہیں اور ان سے قتل و قتال کرنا اور ان کے اموال کو ان سے چھین لینا حلال اور جائز بلکہ واجب ہے۔(الشہاب الثاقب علی المسترق الکاذب مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ، دیوبند،ص۲۳)
(ب)’’زیارت رسول مقبول ﷺ و حضوری آستانہ شریفہ و ملاحظہ روضہ مطہرہ کو یہ طائفہ بدعت، حرام وغیرہ لکھتا ہے۔(ایضاً صفحہ ۴۵)
(ج):’’شان نبوت و حضرت رسالت علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں وہابیہ نہایت گستاخی کے کلمات استعمال کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مماثل ذات سرور کائنات خیال کرتے ہیں... توسل دعا میں آپ کی ذات پاک سے بعد وفات ناجائز کہتے ہیں۔ ان کے بڑوں کا مقولہ ہے کہ معاذاللہ معاذاللہ۔ نقل کفر کفر نباشد۔ کہ ہمارے ہاتھ کی لاٹھی ذات سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہم کو زیادہ نفع دینے والی ہے، ہم اس سے کتےّ کو بھی دفع کرسکتے ہیں اور ذات فخر عالم ﷺ سے تو یہ بھی نہیں کرسکتے۔‘‘(ایضاً صفحہ ۴۷)
(د):’’وہابیہ کثرت صلوٰۃ و سلام و درود برخیرالانام علیہ السلام اور قرات دلائل الخیرات و قصیدہ بردہ و قصیدہ ہمزیہ وغیرہ۔۔۔ کو سخت قبیح و مکروہ جانتے ہیں۔‘‘(ایضاً صفحہ۶۶)’’الحاصل وہ (محمد بن عبدالوہاب نجدی) ایک ظالم و باغی خو نخوار فاسق شخص تھا‘‘۔(ایضاً صفحہ۴۲)

مولانا حسین احمد مدنی کتاب ’’الشہاب الثاقب علی المسترق الکاذب‘‘ کے مندرجہ ذیل اقتباسات وہابیہ نجدیہ کے متعلق سواد اعظم اہل سنت کے نقطہ نگاہ کو بالکل واضح، غیر مبہم اور صاف لفظوں میں پیش کرتے ہیں:’’وہابیہ کسی خاص امام کی تقلید کو شرک فی الرسالۃ جانتے ہیں اور ائمہ اربعہ اور ان کے مقلدین کی شان میں الفاظ واہیہ، خبیثہ استعمال کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے مسائل میں وہ گروہ اہل سنت والجماعت کے مخالف ہوگئے۔ چنانچہ غیر مقلدین ہند اسی طائفہ شنیعہ کے پیرو ہیں۔ وہابیہ نجد عرب اگرچہ بوقت اظہار دعویٰ حنبلی ہونے کا اقرار کرتے ہیں لیکن عمل درآمد کا ہرگز جملہ مسائل سے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر نہیں ہے، بلکہ وہ بھی اپنے فہم کے مطابق جس حدیث کو مخالف فقہ حنابلہ خیال کرتے ہیں، اس کی وجہ سے فقہ کو چھوڑ دیتے ہیں، ان کا بھی مثل غیر مقلدین کے اکابر امت کی شان میں الفاظ گستاخانہ بے ادبانہ استعمال کرنا معمول بہ ہے۔‘‘(الشہاب الثاقب علی المسترق الکاذب صفحہ۶۲،۶۳) ’’ان وہابیہ نجدیہ کا اعتقاد یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے واسطے حیات فی القبور ثابت نہیں بلکہ وہ بھی مثل دیگر مسلمین کے متصف بالحیوۃ البرزخیہ اسی مرتبہ سے ہیں۔ پس جو حال دیگر مومنین کا ہے، وہ ہی ان کا ہوگا۔ یہ جملہ عقائد ان کے ان لوگوں پر بخوبی ظاہر و باہر ہیں، جنہوں نے دیار نجد عرب کا سفر کیا ہو یا حرمین شریفین میں رہ کر ان لوگوں سے ملاقات کی ہو یا کسی طرح سے ان کے عقائد پر مطلع ہوا ہو۔ یہ لوگ جب مسجد شریف نبوی میں آتے ہیں تو نماز پڑھ کر نکل جاتے ہیں اور روضہ اقدس پر حاضر ہو کر صلوٰۃ و سلام و دعا وغیرہ پڑھنا مکروہ و بدعت شمار کرتے ہیں۔ انہی افعال خبیثہ و اقوال واہیہ کی وجہ سے اہل عرب کو ان سے نفرت بے شمار ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ ۶۵، ۶۶)

شہاب ثاقب میں مولانا حسین احمد مدنی نے عقائد نجدیہ وہابیہ کی نہ صرف شدت و غلظت کے ساتھ تردید کی بلکہ ان کے عقائد مردودہ کے جواب میں ذات رسالت مآب ﷺ، اولیائے کرام کی بابت اپنے عقائد، سواد اعظم اہل سنت والجماعت کے مطابق پیش کرتے ہیں:
1۔ حضور ﷺ کی حیات دنیا تک محدود نہیں بلکہ ہر حال میں زندہ و پائندہ ہیں۔(الشہاب الثاقب علی المسترق الکاذب صفحہ ۴۵)
2۔ دربار رسالت ؐ میں حاضری کی نیت سے سفر کرنا جائز ہے اور ہمارے اکابر نے اس کے لئے سفر کیا ہے۔(ایضاً صفحہ ۴۶)
3۔ ہم توسل بالنبی ﷺ کے قائل ہیں۔(ایضاً صفحہ۵۷)
4۔ ہم اشغال باطنیہ کے قائل و عامل ہیں۔(ایضاً صفحہ۶۰)
5۔ ذکر رسالت مآب ﷺ بلکہ اولیاء اللہ کے ذکر کو بھی ہم مستوجب برکت سمجھتے ہیں۔(ایضاً صفحہ۶۷)
6۔ ہم ہر قسم کے درود کو جائز سمجھتے ہیں۔(ایضاً صفحہ۶۶)
7۔ مسجد نبوی ؐ یا کسی اور مقام پر یارسول اللہ کہنا بھی ہمارے نزدیک جائز ہے۔(ایضاً صفحہ۶۵)
دیوبندی علماء کے علاوہ اہل حدیث اور بریلوی علماء نے بھی گمراہ گن وہابی اور نجدی نظریات کی مذمت کی۔ برصغیر کے بڑے اہلحدیث عالم نواب محمد صدیق حسن خان (۱۲۴۸ھ۔ ۱۳۰۷ھ) اور مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری (م۔ ۱۹۴۸ء) نے طائفہ نجدیہ وہابیہ سے نہ صرف بیزاری و لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ محمد بن عبدالوہاب نجدی کی شخصیت اور تعلیمات کو درخور اعتناء بھی نہیں سمجھا اور اسے مسترد کر دیا۔ چنانچہ انہوں نے سرکار انگلشیہ سے پورے شدومد کے ساتھ التجاء کی تھی کہ بجائے فرقہ وہابیہ کے ان کو اہل حدیث لکھا جائے۔ پس بموجب چٹھی گورنمنٹ انڈیا بنام پنجاب گورنمنٹ نمبر ۱۷۵۸ مورخہ ۳ دسمبر ۱۸۸۹ء سرکاری دفتروں میں انہیں وہابی فرقہ کی بجائے ’’اہل حدیث‘‘ لکھنے کا حکم جاری کیا گیا اور وہابی لکھنے کی قانوناً ممانعت کر دی گئی۔ چند مزید حوالے درج ذیل ہیں:
’’جو کتاب مَیں (صدیق حسن خان) نے ۱۲۹۲ہجری میں لکھی ہے اور اس کا نام ہدایۃ السائل ہے۔ اس میں وہابیہ کے حال میں لکھا ہے کہ ان کی کیفیت کچھ نہ پوچھو، سراسر نادانی اور حماقت میں گرفتار ہیں۔‘‘(محمد صدیق حسن خان، ترجمان وہابیہ مطبوعہ لاہور ۱۳۱۲ھ صفحہ ۲۱) نواب صاحب موصوف ’’ترجمان وہابیہ‘‘ میں وہابی مذہب کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’مسلمانان ہند میں کوئی مسلمان وہابی مذہب کا نہیں ہے، اس لئے کہ جو کارروائی ان لوگوں نے ملک عرب میں عموماً اور مکّہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں خصوصاً کی اور جو تکلیف ان کے ہاتھوں سے ساکنان حجاز و حرمین شریفین کو پہنچی، وہ معاملہ کسی مسلمان ہند وغیرہ کے ساتھ اہل مکہ و مدینہ کے نہیں کیا اور اس طرح کی جرأت کسی شخص سے نہیں ہوسکتی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ فتنہ وہابیوں کا ۱۸۱۸ء میں بالکل خاموش ہوگیا۔ اس کے بعد کسی شخص امیر وغریب نے اس ملک میں بھی پھر سر نہ اٹھایا۔‘‘(ایضاً صفحہ۴۰)

سعودی ریالوں اور امریکی ڈالروں کی چمک
وہابی نجدی ریاست کی بنیاد برطانیہ نے لارنس آف عریبیہ اور سعودی خاندان کی مدد سے رکھی تھی، جنہوں نے مسلمانوں کی آخری خلافت عثمانیہ سے غداری کی اور حجاز میں لاکھوں اہلسنت حنفی، مالکی اور شافعی کا خون بہایا۔ اسی ریاست کی پشت پناہی آج امریکہ اور اسرئیل کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں پیٹرو ڈالرز کی چمک نے بعض بدبختوں کی آنکھوں کو چکا چوند کر دیا ہے۔ انقلاب روزگار ملاحظہ فرمائیے کہ آج بعض نادان و لالچی دیوبندی اور اہل حدیث خود محمد بن عبدالوہاب کو اپنا ہیرو قرار دے رہے ہیں۔ کتاب التوحید وغیرہ کی اشاعت میں سرگرم ہیں۔ اس کا ترجمہ پشتو اور اردو زبان میں کروا کر پاکستان، بھارت اور افغانستان میں تقسیم کر رہے ہیں اور اس کے نام سے کئی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ اس باب میں بعض نادان یا ریال خور اہل حدیث، دیوبندی اور مودودی جماعت کے لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حکومت سعودیہ نجدیہ کی خوشنودی مزاج کے لئے مستعد ہیں۔ تاویلات گھڑی جا رہی ہیں کہ حسین احمد مدنی اور صدیق حسن خان کو غلط فہمی ہوئی تھی یا پھر ان اکابرین پر تہمت بازی کی جا رہی ہے اور یہ سب بکواس لکھنے والے سعودی وہابی حکومت کے تنخواہ دار یا وظیفہ خوار ہیں۔ گردش دوراں سے اب بعض ریال خور مولویوں کو ’’فیصل ایوارڈ ‘‘ ملتے ہیں اور حکومت سعودیہ نجدیہ کے زیر اہتمام مساجد کی عالمی تنظیم کے معتبر رکن بنے ہوئے ہیں۔ نجدیت پرستی میں یہاں تک غلو کیا ہے کہ اہل سنت کی دینی سرگرمیوں کے خلاف جاسوسی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور عام سنی مسلمان کو وہابی تعلیمات کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کی اقتدار نجدیت کے سامنے جبہ سائی اور مدح سرائی سے کوئی غرض نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا انہیں اس امر کا احساس نہیں کہ ذات رسالت ماب ؐ ، اہلبیت عظام، صحابہ کرامؓ اور اولیاء اللہ ؒ کے خلاف وہابیوں نے جو گل افشانیاں کی ہیں، جنت البقیع میں حضرات صحابہ کرام اور اہلبیت کے مزارات کو بلڈوز کی گیا، اس پر بھی ذرا توجہ فرمائیں۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے فیصلہ ہفت مسئلہ اور اپنے مجموعہ عقائد موسومہ المہند کی سفارشات کو بھی نافذالعمل کریں، نیز جہاں جماعت اسلامی کے بعض ریال خور بھی اپنے بانی مودودی صاحب کی نگارشات بسلسلہ نجدیت وہابیت سے رجوع کرکے آج سعودی وہابی کی نمائندگی اور گماشتگی کے فرائض ادا کر رہے ہیں، کیونکہ اہل سنت کے پاس قوت و شوکت کا وہ سامان نہیں، جو حکومت نجدیہ سعودیہ کے پاس موجود ہے۔ یاد رہے کہ مولانا مودودی نے حج کے ناقص انتظامات اور دیگر رسومات کی ادائیگی میں کوتاہی پر بھی سعودی وہابی حکومت پرشدید تنقید کی تھی۔ مذکورہ مطالب کو من و عن بغیر کسی تبدیلی کے نقل کیا گیا ہے۔ مفصل پڑھنے کے لئے اس لنک پر مراجعہ کیجیے(https://lubpak.com/archives/348725)تمام اسلامی مکاتب فکر کی جانب سے مکتب وہابیت سے اظہار بیزاری اور ان کے قبیح افعال سے اظہار برائت کے بعد بھی اگر کوئی آل سعود کی کارستانیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کرے تو یقیناً وہ کسی مسلمان فرقے کا نہیں بلکہ استعمار کا ایجنٹ ہی ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔