دس رمضان المبارک ام المومنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا یوم وفات ہے۔

اسی مناسبت سے اسلامی جمہوریہ ایران، عراق، شام، لبنان، بحرین، پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور مختلف دیگر ممالک میں مجالس عزا کا سلسلہ جاری ہے۔
ایران میں مقدس شہروں مشہد اور قم سمیت مختلف علاقوں میں مجالس عزا برپا کی جا رہی ہیں۔
ام المومنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے زمانے کو خاتون جنت حضرت فاطمہ (س) کی شکل میں رحمت خداوندی کا عظیم تحفہ عطا کیا اور اسلام و بانی اسلام کا تحفظ جان و مال لٹا کر کیا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت خدیجہ (س) سے بے حد اور والہانہ محبت تھی ان کی دولت نے اسلام کو مالی لحاظ سے قوت بخشی اور انہوں نے ہر غم اور تکلیف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھر پورساتھ دیا۔
سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں یہ تاریخی حقیقت بالکل سچ اور برحق ہے کہ آپ مالی حوالے سے عرب میں اس قدر مضبوط و مستحکم تھیں کہ زمانہ اسلام سے قبل ہی آپ کو اہل عرب ’’ملیکتہ العرب ‘‘ یعنی عرب کی ملکہ اور مالکہ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ عرب کی ملکہ نے کائنات کے سردار پر اپنی دولت وارفتگی سے لٹائی اور آپ سے فرمایا کرتی تھیں کہ کاش میرے پاس اور دولت ہوتی تو میں اسلام اور بانی اسلام پر لٹاتی رہتی تاکہ اسلام زیادہ سے زیادہ پھیلے۔
خاتم الانبیاء رحمت للعالمین سیدعالم نور مجسم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ترسٹھ سالہ حیات طیبہ میں اگرچہ اپنوں اور اغیار کی طرف سے کئی مصیبتیں، مشکلات، پریشانیاں، مصائب، رکاوٹیں اور سختیاں دیکھیں اور برداشت کیں لیکن ان میں غالب اکثریت پر حزن و ملال اور دکھ و اضطراب نہیں فرمایا بلکہ ہنسی خوشی اور اسلام کی ترویج و وسعت کا ہدف سامنے رکھتے ہوئے قبول فرماتے رہے۔
لیکن پیغمبر اسلام (ص) کی زندگی میں دو پریشانیاں ایسی آئیں جو آپ (ص) کو ناقابل تلافی صدمے سے دوچار کر گئیں اور ان مصیبتوں کے اثرات تادم آخر موجود رہے اور وہ مصیبتیں اپنے سرپرست و مربی چچا حضرت ابوطالب (ع) اور اپنی شریکہ حیات اور مشکل ترین اوقات کی ساتھی حضرت خدیجۃ الکبری (س) کی وفات ہے۔
حضرت خدیجۃ الکبری نے بعثت کے دسویں سال دس رمضان المبارک کو وفات پائی ۔اس وقت آپ کی عمر پینسٹھ سال تھی- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جسد خاکی کو اپنے ہاتھوں سے مکہ کے ابوطالب نامی قبرستان میں سپرد خاک کیا- حضرت خدیجہ کی وفات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بےحد غمزدہ کیا اور اس سال کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے " عام الحزن " یعنی غم کا سال قرار دیا۔