بسم اللہ الرحمن الرحیم

*مھدویت کا تصوّر*

 (تحریر: خادم  حسین آخوندی)                                       

       مہدویت یا منجی عالم بشریت یہ ایک ایسا عام تصّور ہے  جو دنیا کے تمام ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ ہر انسان  کسی نہ کسی  طریقے سے اس بات کا معتقد ہے کہ یہ دنیا ایک خاص مقصد اور ہدف کی طرف گامزن ہے، اور اپنے سفر کو تیزی کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے، ایک دن ضرور اپنی منزل تک پہنچ جائے گی؛ اور اپنی موجودہ حالت اور کیفیت میں تبدیلی لائے گی۔ یہ اتفاق ہس وقت محقق ہوگا جب ایک شخص اس دنیا میں ظاہر ہوگا جو اس زمین کا حقیقی وارث اور مالک ہوگا، یہ شخص دنیا  سے ظلم ، بدعنوانی ، غربت اور نا انصافی وغیرہ کو ختم کر کے عدل ، انصاف پر مبنی ایک عظیم حکومت وجود میں لا ئے گا۔ دین مبین اسلام جوکہ  سب سے کامل ترین دین ہونے کے اعتبار سے اس موضوع کی طرف بطور خاص اہمیت دیتاہے اور اس کے تمام فرق  و مذاہب کے اندر  منجی گری یا مہدویت کا تصور پایا جاتا ہے، ان میں سے مذہب تشیع ایک ایسا مذہب ہے جو باقی مذاہب  اسلامی کے بہ نسبت مہدویت کے  مسئلے کو اس کے تمام خصوصیات اور جزئیات کے ساتھ بحث  کرتا ہے، اور  تشیّع کے یہاں منجی عالم کے مصداق اور اس کی  مکمل بیوگرافی موجود ہے، شیعہ مذہب کے پیروکار اپنے بارویں امام جوکہ ایک ہزار برس سے زائد  عرصے سے پردہ غیبت میں ہیں،  ان کومنجی عالم مانتے ہیں،  اور آج بھی انہی کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں ۔

 امام زمانہ(عج) کی ولادت باسعادت 255 ہجری کو واقع ہوئی ہے اور آج ان کی عمر شریف 1185برس  ہوچکی ہے۔ اسی مسئلہ کو لے کر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان اتنے سال تک زندہ رہے؟!

  علماء اور دانشمندان  اس موضوع کے اوپر  تحقیق کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسان کی عمر کا طولانی ہونا زاتاًً  محال نہیں ہے اور ممتنع بھی نہیں ہے، بلکہ زیادہ سے زیادہ محال وقوعی ہوسکتا ہے، یعنی طبیعی قانون کے اعتبار سے ایسا ہونا ممکن نہیں لگتا، لیکن خدا وندمتعال کی قدرت محال وقوعی سے تعلق رکھتی ہے۔ اور اسی طرح انبیاء(ع)  کے معجزات بھی اسی موضوع سے مربوط ہیں۔ یعنی خدا وندمتعال نے اپنی حکمت کے ذریعے مقدّر بنایا ہے کہ قوانین طبیعی سے ہٹ کر امام عصر(ع) کی عمر شریف کو معجزاتی طرز پر ایک لمبے عرصے تیک بڑھائے۔

 قرآن مجید حضرت یونس(ع) کے سلسلے میں ارشاد فرمارہا ہے: " فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ . لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ"[1]

 اور اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، تو روزقیامت تک مچلی کے پیٹ میں رہ جاتے۔

 آیہ مبارکہ واضی طور پر بیان فرمارہی ہے کہ روز قیامت تک انسان کا زندہ رہنا ممکن ہے۔ اس کے علاوہ  دانشمندان کا دعوا ہے کہ اگر انسان اپنے روزہ مرہ کی زندگی میں طبیعی یا آرگینک اور تازہ خوراک اور صاف آب وہوا کا استعمال کرے، تو اس کی عمر طولانی ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے پیشرفتہ ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی عمر، غریب ملکوں کے باشندوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ میں بھی  بعض  ایسے  لوگ گزرے ہیں جن کی عمر  غیر عادی تھی ان میں سے ایک حضرت نوح (ع) ہیں جن کی عمر ایک ہزار سال کے قریب تھی۔ جیسے قرآن مجید اشارہ فومارہا ہے:

"وَ لَقَدْ أَرْسَلْنا نُوحاً إِلي قَوْمِهِ فَلَبِثَ فيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلاَّ خَمْسينَ عاماً"۔[2]

 اور ہم نے نوح کو اس کی قوم میں بھیجا پس  وہ ان کے درمیان پچاس کم ایک ہزار سال رہے۔

  اللہ سبحانہ و تعالی نے قرآن کریم میں اسی موضوع سے مرتبط  ایک واقعہ کو داستان کی شکل میں بیان فرما رہا ہے، البتہ یہ داستان حضرت عذیر کے متعلق ہے؛ جب وہ ایک ایسی بستی سے گزر رہا تھا جن کے  مکینوں پر  انکے گھروں کی چھتیں خراب ہو چکی تھیں، اور مکانات کھنڈروں میں تبدیل ہوچکے تھے۔ حضرت عزیر(ع) اس کیفیت کو دیکھ کر متحیر ہوگئے اور  اللہ تعالی سے سوال کیا پروردگار!  تو ان لوگوں کو جو اس حالت میں مرچکے ہیں ، کس طرح دوبارہ زندہ کروگے؟ یہی سوال پوچھنا تھا اسی لحظے میں اللہ نے اسے موت دےدی، اور  سو  برس تک اسی حالت میں رہے پھر اللہ نے  دوبارہ اسے زندہ کیا، اور پوچھا کہ کتنی دیر پڑے رہے تو  اس نے کہا کہ ایک دن یا کچھ کم۔  اللہ نے  فرمایا: نہیں! بلکہ سوسال  گزر چکے ہیں ۔ ذرا  اپنے کھانے اور پینے کو تو دیکھو کہ خراب تک نہیں ہوا ہے اور اپنے گدھے پر نگاہ کرو( کہ سڑ گل گیا ہے) اور ہم اسی  طرح تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں، پھر ان ہڑیوں کو دیکھو  کہ ہم کس طرح جوڑ کر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔پھر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی تو بیساختہ آواز دی کہ مجھے معلوم ہے کہ خدا ہر شے پر قادر ہے۔[3]

 ہیاں پر شاہد مثال ان کی غذا اور پانی ہے، جو جو سوسال بیت جانے کے باوجود وہ بھی مختلف آب و ہوا میں اور  کسی قسم کی حفاظت کے بغیر  ترو تازہ رہ گئے تھے۔ اگر عادی اور طبیعی طور پر ملاحظہ کیا جائے تو  یہ خوراک اور پانی حد اکثر ایک یا دودن سالم رہ سکتے ہیں، لیکن اللہ نے  اپنی قدرت اور حکمت سے ان کو اتنے عرصے تک سالم رکھا۔ بالکل اسی کے مانند  مہدی موعود (ع) بھی اگر چہ ہماری طرح ایک انسان ہے اور طبیعی طور پر اتنے سال تک زندہ نہیں رہ سکتا، لیکن خداوند متعال نے اپنی حکمت اور قدرت سے ان کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

  امام زمانہ(عج) کے حوالے سے دوسرا سوال یہ ہے کہ روایات کے مطابق جب امام(ع) ظہور فرمايں گے تو ان کی شکل و شمائل ایک چالیس برس کے کڑیل جوان کی طرح ہونگے!تو ایسا کیوںکر ممکن ہے؟!

 اس کے جواب ہم یوں عرض کرسکتے ہیں: پہلی بات تو یہ کہ اگر اللہ چاہے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے، در اصل ایسا ہونا خدا کی قدرت کا ایک کرشمہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایسا ہونا عقلی طور پر بھی ممکن ہے، اور نہ ہی یہ کوئی تعجب آور کام  ہے، چونکہ اس طرح کے بہت سارے نمونے ہمارے روزمرہ زندگی میں ہم ملاحظہ کرتے ہیں،بعض ایسی چیزیں ہیں جو  اپنے نظیر اشیاء کے بنسبت ایک جنس کے ہونے کے باوجود کبھی اس میں تغیر و تبدیلی نہیں آتی، جیسے انسان کی آبرو(جبین) کے بال ہمیشہ آخری عمر تک سیاہ رہ تاہے جبکہ سر، داڈھی وغیرہ کے بال عمر کے گزر جانے کے ساتھ ساتھ سفید ہوجاتے ہیں۔

*  امام زمانہ(عج) کے ظہور  کے بعد کے زمانے کی خصوصیات

 ہماری بعض  احادیث کی کتابوں میں ظہور حضرت حجت(عج) کے  بعد والے حالات، ان کی حکوت کی خصوصیات اور  مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی وضعیت کے بارے میں تفصیل بیان ہوچکی ہے۔ جیسے کہ حضرت علامہ مجلسیؒ نے  "بحار الانوار" میں ایک روایت یوں نقل کیا ہے: " امام مہدی(ع) اپنے جدّبزرگوار رسول خدا(ص) کی سیرت کے مطابق رفتار کریں گے اور حضرت داود(ع) کی طرح، لوگوں کے درمیان قضاوت کرینگے، اس کے بغیر کہ کسی شاہد یا دلیل کی ضرورت ہو؛ حکومت اسلامی کو سراسر گیتی پر پھیلاینگے ؛ ان کے ظہور کے موقع پر زمین اور آسمان اپنے برکات کے دروازے لوگوں پر کھول دینگے؛ ہر سو امن و آمان کا ماحول ہوگا؛ ہر قسم کی بیماریاں اور آفات کا خاتمہ ہوگا؛ اس دوران مؤمنین کی عقلی اور معرفتی استعداد نکھارنے لگیں گے؛ انبیاء(ع) اور اوصیاء(ع) کے علوم لوگوں پر نمایاں ہو ں گے؛ ہرقسم کی بدعتوں سے مبارزہ کريں گے؛ اسلام کا حقیقی چہرہ آشکار کریں گے، زمین کو عدل و قسط سے پر نیز ظلم و ستم کا جڑہ سے خاتمہ کریں گے؛ کوئی ایسا کا فر نہیں رہے گا جس نے ایمان نہ لایا ہو؛ اور کوئی ایسا فاسق نہیں ہوگا جس نے اپنی اصلاح نہ کی ہو"۔[4]

 *انتظار کی فضیلت

  ہماری متعدد  روایات میں قائم آل محمد(ع) کی غیبت پر ایمان رکھنے کی فضیلت نیز غیبت کے زمانے میں انکے ظہور کے انتظار کرنے کی فضیلت پر بہت تاکید ہوئی ہے۔

 حضرت امام صادق(ع) فرماتے ہیں:" اگر تم میں سے کوئی امام زمانہ(ع) کے ظہور کے انتظار کی حالت میں مرجائے ،تو گویا یہ شخص اس انسان کی مانند ہے جو امام(ع) کے  خیمے میں ان کے ہمراہ رہ رہا ہو، اس کے بعد امام(ع) نے ایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد فرمایا: نہ؛ بلکہ اس شخص کی طرح ہے جو امام زمانہ(ع) کے ساتھ جہاد میں شریک ہو، اس کے بعد  مزید فرمایا: خدا کی قسم اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے  جس نے رسول خدا(ص) کی رکاب میں جہاد کرکے شہید ہوگیا ہوں۔[5]

* امام زمانہ(ع) کی غیبت کے عوامل

الف)؛ لوگوں کی آزمایش:

چانچہ یہ بات واضح ہے کہ اللہ سبحانہ تعالی کی جملہ سنّتوں میں سے ایک سنت امتحان ہے، جس کے ذریعہ مؤمن انسان اپنی کمال تک پہنچتا ہے اور اس کی اندرونی استعدار شگوفا ہونے کا باعث بنتا ہے۔ امام زمانہ(ع) کی غیبت نیز اس کی طولانی ہونا بھی ایک بڑی آزمایش ہے، جس کے ذریعہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے ایمان سست اور کمزور ہوتا ہے وہ اس حوالے سے شک و تردیر کا شکار ہوتے ہیں ، اور جن کا ایمان پختہ ، محکم اور استوار  ہو، وہ انتظار کی راہ میں ہمیشہ ثابت قدم رہ  کر ا پنے  معنوی درجات میں آاضافہ کر تے ہیں۔

حضرت امام کاظم(ع) فرماتے ہیں: جب میرے پانچویں فرزند  غیب میں چلے جایں گے، تو   تم اپنے  دین کی حفاظت کر لینا، کبھی ایسا نہ ہو کہ کوئی تم کو  دین سے خارج کر لے، ان کی غیبت ایک ناگزیر امر ہوگا، یہاں تک کہ و مؤمنین کا ایک گروہ اپنے عقیدے سے پلٹ جایں گے۔  اور خداوند اس غیبت کے ذریعے لوگوں کی آزمایش  کرتا ہے۔[6]

 

ب)؛ حجت خدا کی جان کی حفاظت

   خداوند متعال نے اسی غیبت  کے توسط سے امام مہدی(ع) کی جان کی  حفاظت فرمائی ہے،   اس اعتبار سے کہ اگر امام(ع) اپنی زندگی کے آوائل میں ظاہر ہوجاتے تو  دشمن کے ہاتھوں شہید ہوجاتے، ا ور  اگر  قت مقررہ سے قبل ظاہر ہوتے تو بھی ان کی جان کو خطرہ  لاحق ہوسکتا تھا، اس  طرح وہ اپنے بلند اہداف الہی اور ماموریت میں کامیاب نہ ہوتے۔ " زرارہ نامی شخص" جوکہ حضرت امام صادق(ع) کے صحابی تھے،  انہونے  نقل کیا ہے کہ امام صادق(ع) نے فرمایا: امام منتظر(ع) اپنے قیام سے پہلے ایک مدت تک لوگوں کی نگاہ سے غایب رہیں گے۔ میں نے عرض کیا: ایسا کیوں ہوگا؟ آپ(ع) نے  فرمایا:چونکہ اس کی جان خطرے میں ہوگی۔[7]

ج)؛ جابر  حکمرانوں کی بیعت سے پرہیز

 امام زمانہ(ع) کے اجدار بزرگواران یعنی ہمارے باقی امامان معصوم(ع) نے  مصلحت اور حکمت الٰہی کے  تقاضے نیز  اللہ کے دستور کے مطابق بعض مواقع پر مصلحت اسلام کی مراعات کرتے ہوئے ناچار کچھ  عرصے تک ظالم طاغوتی حکمرانوں کی حکومت کو تحمل فرماتے تھے، اور ان سے علنی طور پر مبارزہ کرنے سے پرہیز کرتے تھے۔ لیکن مشیّت الٰہی میں یہ طے پایا ہے کہ امام زمانہ (ع)جوکہ اللہ کی آخری حجت ہے، کسی بھی حالت میں جابر   اور طاغوتی حکومت کو تحمل نہیں کریں گے، یہاں تک کہ تقیّہ کی حالت میں بھی ان کے لئے ایسا ممکن نہیں ہے۔ لہذا  امام(ع) اس وقت ظاہر ہونگے جب ظاہری طور پر طاغوتی حکومت سے مبارزہ کرنے کے تمام وسایل اور اسباب مہیّا ہو چکے ہوں۔

 ایک شخص نے حضرت مام رضا(ع) سے سوال کیا کہ  امام زمان(ع)  ظاہر نہ ہونے کی علت کیا ہے؟

  حضرت امام رضا(ع) نے  فرمایا:" اسلئے کہ جب  وہ  قیام بالسیف کریں گے، اس وقت کسی کی بیعت ان کی گردن پر نہ ہو"۔[8]

 

 

 

 *ظہور امام(ع) کی نشانی:

 امام مہدی(ع) کے ظہور کا معین  وقت خداوند متعال کے سوا کسی کو علم نہیں ہے، اگر کوئی ادّعای علم  کرے تو  وہ جھوٹا ہے۔

چنانجہ خود امام زمانہ (ع) نے اپنے ایک توقیع میں فرمایا:" و اما   امر ظہور فرج اللہ کے اختیار میں ہے اور اگر کوئی قبل ازظہور وقت معین کرے گا، تو وہ کذّاب یعنی  چھوٹا ہے"۔[9]

 لیکن اس کے با وجود ہماری  بعض  روایات میں ایسے کچھ علائم اور نشانیوں  کا  بھی تذکرہ  ہوچکاہے جن کے ذریعے سے ہم  کسی بھی زمانے میں مہدی موعود(ع) کے دعوا کرنے والوں کو پہچان  سکتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

منابع:



[1]  سورہ صافات،آیت:143-143

[2] سورہ عنکبوت،آیت:14۔

[3]  سورہ بقرہ، آیت:259۔

[4]  بحار الانوار، ج52،ص 121۔

[5]  بحار الانوار،]52،ص 126

[6] غیبت نعمانی، ص 121ژ

[7]  اصول کافی، ج1 ص221۔

[8]  کمال الدین، شیخ صدوق، ص453۔

[9]  کمال الدین، ص485۔