بسم الله الرّحمن الرّحیم

 

غصب فدک،سامراجیت اور ایک استکباری حرکت

(تحریر:خادم حسین آخوندی)

 

مقدمہ: 

      کوثر رسول(ص) ، ہمسر  قسیم النار و الجنۃ، سیدۃ  النسا‏ء اہل الجنۃ، حضرت فاطمہ زہرا(س) کے فضائل و مناقب  بیان کرنا  انسان کیلئے  ایک سادہ اور آسان کام نہیں ہے۔چونکہ حضرت زہرا مرضیہ(س)  کے وجود مقدس کی حقیقت کو درک کرنا ہر کسی کی بس کی بات نہیں ہے۔ اللہ  سبحانہ  و تعالی نے اپنے حبیب  سے مخاطب ہوکر فرمایا: " اگر زہرا(س) کو خلق نہ کیا ہوتا ،تو میں آپ (ص) اور علی(ع) دونوں کو  وجود میں نہ  لاتے، نیزجن کے  بارے میں رسول خدا(ص) نے فرمایا:" فاطمہ میرا ٹکڑ ا ہے،جس نے ان کو ازیت پہنچائی،  اس نے  مجھے  ازیت پہنچائی ہے"۔ ان  کے علاوہ ہمارے  تمام اماموں نے اس و جود مقدس کا احترام اور ان کو اپنے لئے حجت اور نمونہ قرار  دے دیا ہے۔ حضرت مہدی آل محمد(عج) جن کے حوالے سے  امام صادق(ع) فرماتے ہیں:" اگر میں نے امام زمانہ(ع) کے ظہور کو  کو درک کیا ،تو عمر  بھر ان کی خدمت کرتا رہونگا،  فرماتے ہیں: «اِنَّ لی فی ابنة رسولِ الله اُسوةٌ حَسَنَةٌ»[1] رسول خدا کی بیٹی میرے لئے  بہترین نمونہ ہے۔

     جی ہاں! جن کے بطن  پاک سے  گیارہ امام  معصوم وجود میں آگئے ہوں،اور  آخری حجت خدا ان کو  اپنے لئے  اسوہ قرار  دے رہا ہو،  رسول خدا(ص) نے  جن کو اپنی نبوت کا حصہ  قرار  دے دیا ہو،  اس عظیم ہستی کی حقیقت  کو کون  صحیح طریقے سے درک کرسکتا ہے؟!  خداوند متعال قرآن مجید  میں شب قدر کے بارے میں  اپنے حبیب سے   مخاطب ہوکر ارشاد  فر ما رہا ہے:

" وَ ما أَدْراکَ ما لَیْلَةُ الْقَدْرِ* لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْر"ٍ

  ( تو کیا جانتاہے   لیلۃ  القدر کیا ہے؟ لیلۃ القدر ہزار مہنوں سے افضل ہے)۔

   روایت میں آیا ہے کہ  شب قدر، جناب فاطمہ زہرا(س)  ہے۔چنانچہ  صادق آل محمد(ع) فرماتے ہیں:

"انّا انزلناه في ليلة القدر. ليلة‌: فاطمه والقدر: الله، فمن عرف فاطمة حق معرفتها فقد ادرك ليلة‌القدر، وانها سميت فاطمة لان‌ّ الخلق فطموا عن معرفتها"[2]

"لیل (رات)سے مراد حضرت زہرا(س)،  اور قدر سے مراد اللہ ہے، جس نے حضرت زہرا(س)  کی معرفت اس  انداز سے حاصل کی جیسے معرفت حاصل کرنے کا حق ہے، اس نے  شب قدر کو درک  کر لیا ہے، جناب زہرا کا اسم گرامی فاطمہ اس لئے  مقرر کیا گیا ہے، چونکہ مخلوقات ان کی معرفت سے (بچھڑے ہوئےہے)  جدا ہے"

     پیامبر گرامی اسلام)ص) کی    جانگدازوفات کے بعد   اس  عظیم ہستی کی  مختصر سی زندگی میں بہت سارے  ناگوار حوادث رونما ہوئے، امت نے  عصمت کبرا کی حرمت کی پائمالی کرتے ہوئے  ان کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا  اور ان کو  اپنے حقوق سے بھی محروم کیا ۔  ان پائمال شدہ حقوق میں، غصب خلافت اور  فدک تاریخ میں سر فہرست ہیں۔

    مقالہ ھذا میں "فدک" کے  موضوع کے حوالے سے  بحث کرنا مقصد نگارش ہے۔ در اصل فدک سے  مربوط چند اہم سوالوں کے جواب قارئین کرام  کے اذہان شریف  تک پہنچانے کی کوشش ہوگی۔ ان ممکنہ سوالات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ فدک کیا ہے اور یہ کہاں پر واقع ہے؟ 2۔کیا   فدک  رسول خدا(ص) نے جناب زہرا(س) کو   بخشش یا ہبہ کے  طور پر  تقدیم کیا تھا،  یا بطور ارث آپ(س) کو ملا تھا؟3۔  کیا  انبیاء (ع)  ارث نہیں چھوڑتے ہیں اور  ان کا ترکہ صدقہ ہے؟ 4۔کیوں حضرت زہرا(س) نے غصب فدک کے فورا  بعد مسجد میں حاضر ہوکر فدک کی باز یابی کے سلسلے میں خلیفہ وقت پر احتجاج کیا؟

5۔ غاصبین فدک  کن مقاصد کے پیش نظر    جناب زہرا(س) کے حق   پر  قابض ہوئے؟6۔ ائمہ معصومین(ع) نے  کیوں  ہمیشہ  موضوع فدک کو  زندہ رکھنے کی کوشش کر تے رہے؟ ۔۔۔

 

 

فتح خیبر اور فدک کے مکینوں کا رسول خدا(ص) کے ساتھ فدک کا مصالحہ

   ساتویں صدی  ہجری میں پیامبر اسلام(ص) نے لشکر اسلام کو  یہودیوں کے سب سے مضبوط گٹھ  یعنی خیبر کو فتح کرنے کا حکم صادر کیا اور  لشکر اسلام رسول خدا(ص) کی قیادت میں سرزمین خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔ جب یہودیوں کو  لشکر اسلام کے آمد کی خبر موصول ہوئی،  اپنے تمام تر دفاعی وسائل کو بروی کار لاکر   مجاہدین اسلام سے نبرد ازما ہو نے کیلئے تیار ہوگئے۔  اور اپنے مضبوط قلعوں کو مزید مستحکم بنا نے میں سرگرم ہوگئے،   تاکہ دشمن کے متوقّع حملوں کی آنچ سے  بچ سکے۔

 جنگ کا آغاز اور فتح خیبر

    جب  سپاہیان اسلام  خیبر پہنچ گئے  تو سب سے پہلے قلعوں کا محاصرہ کیا اور کئی روز تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بعد میں رسول خدا (ص) نے  قلعوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا اور  یہودی قلعے  یکی بعد دیگرے فتح ہوگئے، ان میں سے  سب سے   پہلا قلعہ ـ جو مسلمانوں نے فتح کیا ـ قلعۂ ناعم تھا۔ یہ قلعہ خود کئی ذیلی قلعوں اور حصاروں پر مشتمل تھا اور رسول اکرم(ص) نے ان پر حملہ کرنے کے لئے اپنے اصحاب کی صف آرائی کا اہتمام کیا۔ یہودیوں نے مسلمانوں کو تیروں کا نشانہ بنایا اور اصحاب نے اپنے جسموں کو رسول خدا(ص) کے لئے ڈھال قرار دیا۔ اس روز آپ(ص) نے اپنا سفید پرچم دو مہاجروں ( ابوبکر اور عمر) اور ان کے بعد ایک انصاری کے سپرد کیا؛ لیکن وہ کچھ زیادہ کام کئے بغیر میدان جنگ سے پلٹ آئے؛ بعد میں رسول خدا(ص) نے اعلان کیا  کہ کل   پرچم  ایسے شخص کے ہاتھ میں دونگا   چو کرار ہے فرار نہیں۔ اس ماجرا کو  فریقین نے نقل کیا ہے  جیسے اہل سنت کی  مشہور کتاب  صحیح بخاری  میں بھی   صحیح سند کے ساتھ یوں ذکر ہوا ہے:

"عن أبي حازم قال : اخبرني سهيل بن سعد رضي لله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم خيبر: لأعطين هذه الراية غدا رجلا يفتح الله على يديه ، يحب الله ورسوله ، ويحبه الله ورسوله۔[3]"

   ابن حازم سے روایت کی ہے کہ سہیل بن سعد نے مجھے خبر دی کہ بتحقیق رسول اللہ(ص) نے خیبر کے دن فرمایا:

  بتحقیق کل میں یہ پرچم اس مرد کو دوں گا جس کے ہاتھوں خداوند عالم اس قلعے کو فتح فرمائے گا؛ وہ ایسا مرد ہے جو خدا اور اس کے رسول(ص)  سے محبت کرتا ہے اور خدا اور اس کا رسول(ص) بھی اس سے محبت کرتے ہیں؛ وہ کرار اور جم کر لڑنے والا اور غیر فرار ہوگا۔

اگلے روز رسول اللہ(ص ) نے علی بن ابی طالب(ع) کو بلایا جو آشوب چشم میں مبتلا تھے اور پیغمبر خدا(ص) کے معجزے سے آشوب چشم میں افاقہ ہوا تو پیغمبر اسلام(ص) نے پرچم آپ(ع) کے سپرد کیا۔

   مروی ہے کہ خیبر کے قلعوں میں سب سے بڑا، سخت اور مضبوط قلعہ "قموص" تھا اور رسول خدا(ص) نے اس کی فتح کا پرچم علی(ع) کو عطا کیا اور علی(ع) نے مرحب کو ـ جس کا نام اس قلعے کے لئے مختص تھا ـ ہلاک اور قلعے کو فتح کردیا۔[4]

   ابو رافع کی روایت کے مطابق، ایک یہودی نے قلعے کے دروازے کے پاس حضرت علی(ع) پر  وار کیا  اور آپ(ع) کی ڈھال گر گئی چنانچہ آپ(ع) نے قلعے کے ایک دروازے کو اکھاڑ کر اس کو اپنی ڈھال قرار دیا اور اسی دروازے کو ہاتھ میں لے کر آخر تک لڑتے رہے یہاں تک کہ قلعہ آپ(ع) کے ہاتھوں فتح ہوا اور اسی قلعے (یعنی قلعۂ مرحب) کی فتح کی خوشخبری رسول خدا(ص)  کے لئے بھجوا دی [5]۔ ایک روایت کے مطابق جس یہودی مرد نے آپ(ع) پر تلوار کا وار کیا تھا، وہ مرحب ہی تھا۔[6] مروی ہے کہ جنگ کے بعد 40 یا 70 افراد اس دروازے کو اٹھانے میں کامیاب ہوسکے تھے۔[7]  خیبر کی فیصلہ کن فتح امام علی علیہ السلام کے فضائل و مناقب میں شمار ہوتی ہے جس پر بہت سے مؤرخین اور محدثین کا اتفاق ہے۔

تسلیم فدک

    خیبر فتح ہوتے ہی یہودیوں نے ہتیار ڈال کر تسلیم ہوگئے۔ ابن ابی الحدید معتزلی ، سیرہ ابن اسحاق سے  یوں نقل کرتا ہے:

 جونہی مسلمانوں کے ہاتھوں خیبر کے  مضبوط قلعوں کے فتح کی خبر  اہالیان فدک نے سنی، خوف اور وحشت نے  ان کے وجود کو گھیر لیا اور خوف کے مارے  اپنے ایلچیوں کو فورا ْ رسول خدا(ص) کی خدمت میں بھیج دیے اور مصالحہ کی درخواست کی۔  اس مصالحے کے مقابلے میں فدک کا نصب حصہ رسول خدا (ص) کو عطاء کرنے کی پیشکش کی۔ آنحضرت(ص) نے ان کی درخواست کو قبول کیا، تب ہی سے فدک رسول خدا(ص) کی مخصوص  جا‏ئداد میں شامل ہوگئی۔[8]

   تمام  شیعہ اور سنی مفسریں نے  متفقہ طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ  فدک کے باغات، کسی  قسم کی خونریزی یا جنگ کے بغیر  حاصل ہوئے تھے ،( اس قسم کی زمینوں(مال غنیمت) کو اصطلاح فقہی میں"فئ" کہا  جاتا ہے  )جوکہ قرآن کی نص کے مطابق رسول خدا(ص) کی مخصوص ملکیت  ہوتی ہے:

"وَمَا أَفَاءَاللّه عَلَی رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَلاَ رِکَابٍ وَلَکِنَ اللّه یُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَی مَنْ یَشَاءُ وَاللّه عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ*مَا أَفَاءَاللّه عَلَی رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَی فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ کَیْ لاَیَکُونَ دُولَةً بَیْنَ الاْءَغْنِیَاءِ مِنْکُمْ"[9]  

اور  خدا نے  جو کچھ ان کی طرف سے مال غنیمت اپنے رسول کو دلوایا ہے جس کیلئے تم نے گھوڑے یا اونٹ کے ذریعے کوئی دوڈ دھوپ نہیں کی ہے۔۔۔ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو غلبہ عنایت کرتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔

 تو کچھ بھی اللہ نے اہل  قریہ  کی طرف سے  اپنے رسول کو دلوایا ہے(فیئ)  وہ سب  اللہ، رسول اور رسول کے قرابتدار، ایتام، مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے تاکہ سارا مال صرف مالداروں کے درمیان گھوم پھر کر نہ رہ جائے۔

  مذکورہ   دو آیتوں سے  یہ  ثابت ہوجاتا ہے کہ جو مال غنیمت، کسی قسم کی  جنگ اور جہاد کے بغیر حاصل ہوتا ہے،  یہ سب اللہ اور اس کے رسول(ص)  سے تعلق  رکھتا ہے۔ اور باقی مسلمانوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہوتا۔

       اور  جب  یہ اموال رسول خدا (ص) کے ہاتھ آجاتے ہیں، تو آنحضرت(ص)  ولی  امر المسلین  کی حیثیت سے   اسلام اور مسلمین کی مصلحتوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر، خرج کر دیتے ہیں۔نیز ان کو  سرمایہ دار افراد کے لئے ذخیرہ قرار نہیں دیتے۔ آیت جن موارد کو مصارف کے عنوان پر نشاندہی کر رہی ہے ، وہ  اس طرح سے  ہیں:راہ خدا،  رسالت نبوی کے بلند اہداف اور مقاصد،  ترویج و تقویت دین اسلام،  رسول خدا(ص) کے قرابتداروں،  یتیموں، مسکینوں اور غربت زہ  مسافروں کے لئے  ہیں۔

  رسول خدا(ص) کی وفات کے بعد ان تمام امورات کے بھاگ دوڑ،  ان کے جانشین برحق ، امام عادل کے  اختیار میں ہوتا ہے۔

 نخلستان فدک اور اس کی مالی ارزش

 فدک زمین کے اعتبار سے ایک زرخیز اور  کاشت کاری کے لئے نہایت ہی موزون  سرزمین تھی،اس کے رطب( کھجور کی ایک قسم) بہت مشہور تھے۔  اس  نخلستان کے کھجوروں  کی قیمت کا تخیمنہ  تاریخ میں مختلف ذکر ہوہاہے۔

       بعض مؤر‎‎خین کا  دعوا ہے کہ  فدک کے نخلستانون کا  اندازہ، چھٹی صدی  ہجری میں، کوفہ کے نخلستانوں کے برابر تھا[10]۔

   ابن ابی الحدید معتزلی لکھتا ہے: جب خلیفہ دوم نے فدک کے یہودیوں کو  وہاں سے  جلاوطن کرنے کا ارادہ   کیا   تو انپے بعض کارندوں کو  وہاں بھیج دئے ، تاکہ فدک کے اس نصف حصے کی قیمت کا حساب کیا جائے،  جو ان یہودیوں کے اختیار میں تھا، اس موقع پر عمر نے عراق سے  جو  بیت المال اس تک پہنچا تھا،  اس میں سے پچاس ہزار درہم ان کے اختیار میں دے کر وہاں سے ملک بدر کردیا۔[11]

    محدث قمی  کے نقل کرتے ہیں:سید ابن طاووس اپنی  " کشف المحجہ" نامی کتاب میں، شیخ عبداللہ بن حماد سے روایت نقل کرتے ہوئے،  فدک کے سالانہ  درآمد کا تخمینہ  ستر ہزار درہم ذکر کیا ہے۔[12]

فاطمه علیهاالسلام کو فدک کی واگذاری

   چنانچہ شیعہ اور اہلسنت دونوں کی روایات میں آیا ہے کہ رسولخدا(ص) نے اپنی رحلت سے تین سال قبل یعنی اپنی حیات میں  ہی ،فدک حضرت زہرا(س) کو واگذار کیا تھا۔

 صاحب مجمع  البیان، اس آیہ شریفہ«وَآتِ ذَاالْقُرْبَی حَقَّهُ وَالْمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ»[13]  کی تفسیر کے ذیل میں، حضرت امام محمد باقر(ع) اور امام صادق(ع)، نیز   ابو سعید خدری سے اس طرح سے روایت نقل کر تے ہیں:

"إنّه لَمّا نَزَلَتْ هذِهِ الآیَة عَلَی النَّبِی صلی الله علیه و آله أَعْطاها وَ سَلَّمَها فَدَکا وَ بَقِیت فِی یَدِها ثَلاث سَنَوات قَبْلَ وَفاتِ النَّبِیّ".[۱۰

  جونہی یہ آیہ کریمہ رسولخدا(ص) پر نازل ہوئی کہ ذوی القرباء کو اپنا حق دے دیجئے،آنحضرت(ص) نے  فدک کو حضرت زہرا(س) کو دے دیا؛  اور رسول خدا(ص) کی وفات سے تین سال قبل یہ جناب زہرا(س) کے اختیار میں تھا۔

   اسی مطلب کو اہل سنت کے مشہور مفّسر سیوطی نے اپنی  کتاب(تفسیر) "الد ر المنثور"  میں ابو سعید خدری سے یوں نقل کیا ہے:

"أخرج البزاز وابویعلی وابن حاتم و ابن مردویه عن أبی سعید الخدری، قال: لَمّا نَزَلَتْ هذِهِ الآیَة وَآتِ ذَاالْقُرْبَی حَقَّهُ... دعا رسول اللّه فاطمة فأعطاها فَدَکا"

  جب آیت نازل ہوئی،پیامبر صلی الله علیه و آله فاطمه علیهاالسلام کو طلب کیا اور فدک کو انہیں سپرد کردیا۔

 نیز اسی طریقے سے جناب ابن عباس سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:

 "لما نزلت وَ آتِ ذَاالْقُرْبی حَقَّه أقطع رسول اللّه فاطمة فدکا" جب آیہ شریفہ نازل ہوئی، رسول خدا صلی الله علیه و آله نے فدک کو ملک فاطمه علیهاالسلام قرار دےدیا۔ [14]

  علامہ مجلسی ؒبحار الانوار میں  یوں نقل کرتے ہیں: پيامبر صلى الله عليه و آله  نے ایک ورقه‏ طلب کیا اور اميرالمؤمنين عليه‏السلام کو بلوا کر فرمایا:" فدك کی سند کو پیامبر(ص) کی بخشش اور عطیے کے عنوان سے تحریر کرو۔اميرالمؤمنين عليه‏ السلام نے اسے لکھا، اور خود حضرت(ص)  اور ام ‏ايمن نے اس پر گواہی دی ۔ پيامبر صلى الله عليه و آله  نے اس موقع پر ارشاد فرمایا:'ام ‏ايمن اهل بهشت میں سے ہے". حضرت زهرا عليهاالسلام نے اس مکتوب کو اپنے تحويل میں لے لیا، اور جب فدک کو غصب کیا گیا، تو اس وقت اسی تحریر کو لیکر ابوبکر کے پاس حاضر ہوکر سند کے طور پر پیش کیا۔ [15]

   حضرت زهرا عليهاالسلام  نے سرزمين فدك پر اپنا نمايندہ  مقرر کیا اور کچھ تعداد میں عملے بھی اس کے اختیار میں دے دئے۔ یہ لوگ اپنے اخراجات کا محاسبہ کرنے کے بعد سالانہ خالص منافع یا سود  کو حضرت زہرا(س) کی خدمت میں لاکر حوالہ کر دیتے تھے۔فدک کا سالانہ درآمد، سترہزار طلا‏ئی سکے سے ایک لاکھ بیس ہزارسونے کے سکے ذکر ہوا ہے۔[16]

حضرت زہرا(س) ہرسال اپنے مختصر مخارج کو نکال کر باقی سب فقراء کے درمیان تقسیم کر دیتی تھیں۔ اور رسول خدا(ص) کی رحلت تک یہی شیوہ جاری تھا۔[17]

‍‍ ابوبکر اور فدک کا حرجانہ

     ماجرای  سقیفہ اور غصب خلافت کے  فوراْ  بعدفدک کو حضرت زہرا (س) کے قبضے سے خارج کرنا ،خلیفہ وقت کا  سب سے اہم اور  پہلا اقدام  تھا۔ ابوبکر  نے جب مسند خلافت پر تکیہ لگا کر مسلمانوں کے  امیر بن بیٹھے، تو ا پنے بعض  سیاسی مقاصد کے  تناظر میں سب سے پہلے خاندان رسالت کے مال و دولت پر طمع کیا ،اور  اسی سلسلے  میں "نخلستان فدک"  جوکہ  اھلبیت (ع) کی سب سے بڑی  دولت اور جا‏ئداد شمار ہوتی تھی، اسے ہڑپ کرکے  بیت المال میں ضم کر دیا۔  اور وہاں سے حضرت زہرا(س) کے نمایندے اور عملوں کوزبردستی اخراج کردیا ۔ اگر چہ اس کام کا کوئی شرعی جوازیت اسکے پاس نہیں تھی، بلکہ صرف اپنی حکومت کو  استحکام بخشانے کی غرص سے اس  ناجائز فعل کا مرتکب ہوا۔ انہوں  نے اپنے اس فعل کو شرعی رنگ لگانے کے لئے ایک حدیث بھی گڑی  جس کا راوی   بھی تنہا خود ہے اور ان کے علاوہ کوئی دوسرے صحابی  نے  نقل نہیں  کیاہے۔

  صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے نقل ہوا ہے کہ  ابو بکر نے جناب زہرا(س) کی طرف سے غصب فدک کے متعلق کیئے ہوئے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا:

"إنّ رسول اللّه قال: لانورث ما ترکناه صدقة"؛[18]رسول خدا (ص)نے فرمایا: ہم ارث نہیں چھوڑتے ہیں، جو کچھ ہمارے بعد  رہ جائے وہ سب صدقہ ہے۔

او بعض دوسرے منابع میں اس طرح سے نقل ہوئی ہے: "نحن معاشر الانبیاء لانورث"۔

 ہم انبیاء کی جماعت،ارث نہیں چھوڑتے ہیں۔[19]  

     نیز بخاری نے جناب  عائشہ سےمزید  نقل کیا ہے ،   ابو بکر نے اسی بناء(حدیث) پر فدک کو واپس لٹانے سے انکار کیا، اسی  وجہ سے جناب زہرا(س) ابوبکر پر غضب ناک ہوئیں اور   آخری عمر شریف تک  ابوبکر سے بات نہیں کی۔  پیامبر(ص) کی وفات کے بعد انہوں نے صرف چھے مہینے زندگی کی اور  جب رحلت کرگئی  تو علی(ع) نے ان کو شبانہ دفن کیا اور ابوبکر کو تدفین  اور نماز کی خاطرخبر نہیں کی، اور  امام(‏ع) نے خود نماز پڑھ لی۔[20]

    صحیح بخاری کی  اس حدیث سے  معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر نے  حضرت زہرا(س) کو  ازیت اور ان کے احساسات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ پس ابو بکر  نے اپنے غیر زمہ دارانہ عمل کے ذریعہ نہ صرف جناب زہرا کا دل دکھایا ہے   بلکہ  اللہ اور  اس کے رسول کو بھی غضبناک کیا ہے۔ چنانچہ روایت میں ہے :  

"إن الله يغضب لغضبك ويرضى لرضاك"[21] رسول خدا(ص) نے  جناب زہرا(س) سے مخاطب ہو کر فرمایا: یقینا خداوند آپ کی رضاء  پر راضی اور  آپ کی  نارضایتی پر ناراضی ہے۔

 "فاطمۃ بصضعۃ منی فمن اغضبھا اغضبنی"۔[22]

 فاطمہ(س) میرا  حصہ ہے، جس نے انکو غضبناک کیا،اس نے مجھ کو غضبناک کیا ہے۔

  حضرت زہرا(س) کا  عدم رضایت، صرف  خلیفہ اول  تک محدود نہیں ہے،  بلکہ خلیفہ دوم بھی اس میں شامل ہے، اب یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ  غصب خلافت اور فدک ، کے حوالے سے ان دونوں کا موقف یکسان تھا۔

 چنانچہ جناب "عبد المنعم حسن  سودانی" نے اپنی تحقیقی کتاب" اھتدیت بنور فاطمہ"( نور فاطمہ(س) کی برکت سے مجھے  ہدایت ہوئی) میں اس موضوع پر مفصل بحث کی ہے۔

      ابن قتیبہ نے اپنی  تایخی کتاب میں نقل کیا ہے:ابوبکر اور  عمر دونوں حضرت زہرا(س) کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور جب آپ(س) کے  پاس میں بیٹھ گئے، تو حضرت زہرا(س) نے  اپنا رخ پھیرکر دیوار کی طرف   رخ کیا۔۔۔ ، اس کے بعد ان دونوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: آگر میں رسول خدا(ص) سے ایک حدیث نقل کروں ،تو کیا  آپ لوگ اس کو پہچان لوگے؟ اور اس پر عمل کروگے؟ انہوں نے  جواب مثبت میں دیا  ۔  حضرت(س) نے  فرمایا: " تمہیں خدا اور اس کے رسول(ص) کی قسم دے کر کہتی ہوں، کیا رسول خدا(ص) سے نہیں سنا تھا کہ آپ(ص) نے  فرمایا:  فاطمہ(س) کی خوشنودی میری خوشنودی ہے اور  ان کے ‏غم اور ناخوشی میری ناخوشی ہے، پس جس نے میری بیٹی فاطمہ(س) سے دوستی رکھی،  اس نے مجھ سے دوستی رکھی ہے،  جس نے ان کے خوشحال کیا، اس نے مجھ کو خوشحال کیا ہے، اور جس نے ان کو غضبناک کیا، اس نے مجھ کو غضبناک کیا ہے" ان دونوں نے جواب دیا: ہاں؛  ہم نے یہ حدیث  رسول اللہ  (ص) سےسنی ہے! حضرت زہرا(س) نے فرمایا: پس میں  اللہ اور  فرشتہ گان کو گواہ رکھ کر اعلان کرتی ہوں کہ تم لوگوں نے  مجھ کو غضبناک کیا ہے،مجھ کو خوشحال نہیں کیا ہے، اگر میں رسول خدا(ص) سے روبرو ہوجاؤں، تو   آپ(ص) سے تمہاری شکایت کرونگی۔ اس کے بعد مزید فرمایا: خداکی قسم! ہر نماز میں تمہارے لئے نفرین کرونگی۔[23]

غصب فدک کے بعد حضرت فاطمه (س) کے  عملی اقدامات

الف:اسناد کی پیشکش

   حضرت امام محمد باقر(ع) سے روایت ہے ،  جب   ابو بکر نے  غاصبانہ طور پر فدک پر قبضہ جمایا، تو  حضرت زهرا عليهاالسلام نے ابوبکر سے فدک کی واپسی کا تقاضا کیا اور اس کے متعلق پیامبر اکرم(ص) کی تحریری سند کو بھی پیش کیا، نیز ابوبکر سے مخاطب ہوکر فرمایا: یہ رسول خدا(ص)کی وہ تحریری  سند ہے ،جس میں پیامبر(ص) نے فدک کو مجھے اور میرے فرزندان کو بخشایا ہے۔[24]

       اگر غائر نگاہ سے  ملاحظہ کیا جائے تو  معلوم ہواتاہے کہ حضرت(س)    اس عکس العمل  کے ذریعے  ابوبکر  کے اس بےتکانہ  ادعا کو  مسترد کر  دینا چاہتی ہیں، جس میں وہ پیامبر(ص) کی ارث کا بہانہ بناکر  فدک کو  چھینے  کی راہ  ہموار کرنا چاہتا تھا۔  یعنی حضرت زہرا(س) نے  اس بات کی یادآوری کی کہ  فدک ،رسول خدا(ص) نے اپنی حیات میں ہی  عطیہ اور بخشش کے طور پر عطاکیا تھا، ایسا  ہرگز  نہیں  ہے کہ  یہ ارث کے طور پر ملا ہو،   چونکہ ارث اس ترکہ کو کہا جاتا ہے جو انسان  کی  موت کے بعد اس کے وارثین  کومنتقل ہوتاہے،جبکہ فدک کا قضیہ اس کے برعکس ہے۔

     واضح رہے کہ جس روایت سے ابوبکر نے  غصب فدک کے سلسلے میں استناد کیا،  وہ  سند کے  اعتبار سے ضعیف ہے اور  بقول ابن ابی الحدید، متکلمین  اور فقہاء نے اس حدیث کی مخالفت کی ہے۔ اور علماء نے اس  پر عمل نہیں کیا ہے[25]۔

  ابو بکر کی اس حدیث کے حوالے سے چند نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔

 اس زمانے تک ابوبکر کے سوا کسی دوسرے صحابی نے اس حدیث کو  پیامبر(ص) سے نہیں سنا تھا ، اور  بہت سارے محدثین  نے اس بات  کا اعتراف کیا ہے۔  البتہ بعد میں مالک بن اوس، عمر، زبیر،طلحہ اور عائشہ نے اس قول کی تائید کی۔[26]

2۔ ایک طرف سے ابو بکر تنہا اس حدیث پیامبر(ص) کے ناقل ہے ، اور اس کے مقابل میں حضرت زہرا(س)، حضرت علی(ع) اور ام ایمن  تینوں   رسول خدا(ص)  کے کردار اور سخن کے  ناقلین ہیں،  جو  سب مل کر  گواہی دے رہے ہیں کہ فدک کو رسول خدا(ص) نے اپنی حیات میں جناب زہرا کو  بخشایا تھا،  اس کے علاوہ  یہ حضرات  معمولی  انسان  نہیں ہیں بلکہ  آیات قرآن اور احادیث نبوی، ان کی صداقت اور پاکیزہ گی پر مؤید ہیں، لہذا   ابوبکر کے قول کے مقابلے میں ان کے قول معتبر  اور قبول کرنا   ناگزیر بن جاتا  ہے۔

یہ حدیث، ان  متعدد آیات قرآنی سے منافات رکھتی ہے، جن میں  میراث انبیاء(ع) کا تذکرہ ہوا ہے۔ اور یہ بات عیاں ہے کہ صرف ایک ضعیف روایت کو لے کر متعدد آیات قرآنی کے مقابلے میں  مقاومت کرنا درست نہیں ہے۔

4۔ اگر فرض کریں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور پیامبر اکرم(ص) نے کسی قسم کی ارث نہیں چھوڑی ہے، تو ایسا کیونکر ممکن ہے کہ  خود اہل سنت کے نقل کے مطابق پیامبر (ص) کے  اموال میں سے بعض چیزیں جیسے آنحضرت(ص) کے شخصی  وسایل اور حجرے ارث کے طور پر جناب زہرا(س) کو ملے تھے؟!۔[27]

ب): حضرت زہرا(س) کا ابوبکر اور عمر کے سامنے دلائل کی پیشکش۔

   حضرت فاطمه (س) کو جب معلوم ہوا کہ  خلیفہ کے حکم پر اپنے مسلمہ حق کا تاراج ہواہے تو   فورا ْ  اس مجلس کی طرف روانہ ہوئی جہاں ابوبکر اور عمر بعض دوسرے افراد کے ہمراہ   حاضر تھے، اور ان پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی حقانیت  کے اثبات کے  سلسلے میں اور ان کے غاصب ہونے کے  حوالے سے ٹھوس دلیلوں کا  اقامہ کیا ۔

   ان  شواہد اور دلائل میں سے بعض جن کے ذریعے حضرت(س) نے اپنے ادّعا کی صداقت کے سلسلے میں دلیل کے طور پر پیش کیا ، وہ درجہ ذیل موارد پر مشتمل ہیں:

  اوّل یہ کہ، پيامبر صلى الله عليه و آله کی حیات  کے زمانے میں فدك زیر تصرف حضرت زہرا(س) تھا۔

2۔ یہ کہ، حضّار مجلس نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ رسول خدا(ص) نے جناب زہرا(س) کو خواتین جنت کے سررار قراردے دیا تھا، لہذا اس عظیم ہستی سے باطل ادّعا کا سرزد ہونا، تصوّر سے باہر ہے۔

3۔ یہ کہ، حضرت‎(س) کا شمار، اھلبیت پیامبر(ص) میں ہوتا ہے اور نص آیہ تطہیر کے مطابق خدا وند متعال نے انہیں ہر قسم کی پلیدی اور رجس سے پاک و منزہ قرار دیا ہے۔ لہذا کسی قسم کی دلیل کے بغیر ان کو جھٹلانا تو دور، ان کے بر علیہ شہادت کا قبول کرنا بھی ناجائز بن جاتا ہے۔

4۔ یہ کہ، اللہ نے فدک کے سلسلے میں آیت نازل کی، اور پیامبر(ص) کو حکم ہوا کہ اپنے قرابت داروں کو،اپنا حق ادا کرو۔

"فَآتِ ذَا الْقُرْبى حَقَّهُ"؛ اور قرابتداروں سے مراد حضرت(س) اور ان کے فرزندان ہیں۔

5۔ یہ کہ، فدک اس وقت حضرت زہرا(س) کے قبضے میں تھا، اور فقہی قاعدے کے مطابق اس شخص سے گواہ طلب نہیں کیا جاتا جس کے قبضے میں مال ہو، بلکہ مدّعی سے شہادت طلب کیا جاتا ہے، لہذا جناب زہرا(س) سے  فدک کی مالکیت کے سلسلے میں شہادت طلب کرنا، جبکہ فدک سالوں سال سے ان کے قبضے میں تھا، شرعی ضوابط کے خلاف ہے۔

ج)؛ جناب زہرا(س) کی طرف سے گواہوں پیش کرنا

    ابو بکر اور عمر نے  دلائل کے باوجود ، حضرت زہرا(س)  سے اپنے ادّعا کو  ثابت  کر نے کے حوالے سے،گواہیں پیش کرنے  کی درخواست کی اور حضرت(س) نے گواہوں کے طور پر امیر المؤمنین( علی) ، حسنین(ع) اور جناب ام ایمن  کو  حاضر کیا۔ لیکن عمر نے  امام علی(ع) اور حسنین (ع) کی  شہادت کو رشتہ داری کا  بہانہ کرکے  قبول کرنے سے انکار کیا۔  اور   اسی طرح ام ایمن کی گواہی کو بھی  نوکرانی اور عجمی ہونے کا  بہانہ کرکے مسترد کردیا![28]

 د)؛ حضرت فاطمه سلام الله علیها کا مسجد میں خطبه

     جب حاکم وقت کی جانب  سے فدک  کا رسول خدا(ص)  کی حیات  پربرکت میں جناب فاطمہ(س) کو ھبہ یا بخشش کے  طور پر عطاء کرنے  کی تصدیق نہیں ہوئی! تو آپ(س) نے  ارث کے عنوان پر  اپنے حق  کو حاصل کرنے کی ٹھان لی،    لہذا  حضرت زہرا(س) اپنے استحقاق حق کے سلسلے میں مزید اقدام کرتے ہوئے اس بار، بنی ہاشم کی بعض خواتین کے ہمرا مسجد کی طرف تشریف لے گئیں۔ اور  ایک  فصیح و بلیغ  خطبے کے ذریعے لوگوں پر اتمام حجت، نیز  ابو بکر کی طرف سے  خلافت اور  فدک کے غصب کرنے  پر  سختی سے اعتراض کیا۔ اس  خطبے میں سے وہ مطالب جو  فدک کے متعلق ہیں، یہاں پر اشارہ کردیتے ہیں۔

 چنانچہ حضرت فاطمہ زہرا(س) نے  مسجدمیں حاضر لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:

اور تم لوگوں نے یہ گمان کیا کہ ہمارے لئے کوئی ارث نہیں ہے؟

"أَ فَحُكْمَ الْجاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَ مَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْماً لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ"۔[29]

   کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں جبکہ صاحبان یقین کے لئے اللہ کے فیصلہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

 کیا یہ نہیں جانتے ہیں؟ ہاں؛  تم لوگوں کو بخوبی علم ہے کہ میں کس کا  فرزند ہوں، اوریہ تمہارے نزدیک آفتاب کی مانند روشن ہے۔

   ای مسلمانو! کیا یہ شائستہ ہے کہ مجھ سے میرے باپ کی ارث چھین لیا جائے؟! ای ابو قہّافہ کا بیٹا( ابوبکر) کیا اللہ کی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ تم اپنے باپ کی ارث تو لے سکتے ہو،  اور میں اپنے باپ کی ارث  سے محروم رہ جا‎‎ؤں؟! تم نے نہایت ہی گٹھیا اور تازہ امر کو لایا ہے۔ کیا تم   دانستہ طور پر اللہ کی کتاب کو ترک کر رہے ہو؟  کیا قرآن اس بات کی طرف اشارہ نہیں کررہا ہے:

"وَ وَرِثَ سُلَیْمانُ داوُدَ"[30]

اور پھر سلیمان داوود کے وارث ہوئے۔

  نیڑ قرآن حضرت ذکریا(ع) کے حوالے سے  فرماتا ہے: "فَهَبْ لی مِنْ لَدُنْكَ وَلِیّاً یَرِثُنی وَ یَرِثُ مِنْ الِ‏یَعْقُوبَ"[31]

تو اب مجھے ایک ایسا ولی اور وارث عطا فرمادے جو میرا  اور آل یعقوب کا وارث ہو۔

 اور  مزید فرماتا ہے:"وَ اوُلُوا الْاَرْحامِ بَعْضُهُمْ اَوْلی بِبَعْضٍ فی كِتابِ اللَّهِ"[32]

 اور کتاب اللہ کی رو سے رشتے دار، آپس میں مؤمنین اور مہاجرین سے زیارہ حقدار ہیں۔

" یُوصیكُمُ اللَّهُ فی اَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ"[33]

 اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت فرماتا ہے، ایک لڑکے کا حصہ دوکڑکیوں کے برابر ہے۔

" ۔۔۔انتَرَكَ خَیْراً الْوَصِیَّةَ لِلْوالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبَیْنِ بِالْمَعْرُوفِ حَقّاً عَلَى الْمُتَّقینَ"[34]

 جب تم میں سے کسی کی موت سامنے آجائے تو اگر کوئی مال چھوڑا ہے تو اپنے ماں باپ اور قرابتدارون کیلئے وصیت کردے یہ صاحبان تقوا پرایک طرح کاحق ہے۔

 کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ مجھے اپنے والد کی طرف سے کوئی سھمیّہ یا حصہ نہیں نصیب ہوا ہے؟ کیا اللہ نے تم پر کوئی نئی آیت نازل کی ہے  جس کے مطابق میرے والد کو باقی لوگوں سے استثناء (مستثنی) قرار دیا گیا ہے ؟! یا یہ کہنا چاہتے ہو کہ  دو  الگ دین کے مانے والے  ایک دوسرے سے ارث نہیں لیتا؟، کیا میں اور ومیرے والد کے دین الگ ہے؟! یا یہ کہ تم قرآن مجید کے عام وخاص کے سلسلے میں میرے والدگرامی اور میرے چچازاد(علیؑ) سے زیادہ علم رکھتے ہو!؟

      اب یہ تم ہو اور یہ تمہارے لگام اور زین زدہ اونٹ،اس کو پکڑ اور لیجا!(یہ جملہ کنایتاْ  استعمال ہواہے اس سے مراد "اب تم جو کرنا چاہتے ہو کر لو" ہوسکتاہے)۔ اور میں قیامت کے دن تم سے ملاقات کرونگی۔ کس قدر،اللہ بہترن فیصلہ کرنے والا اور پیامبر(ص) عدالت کرنے والا ہے،اور روزقیامت کس قدر نیک وعدہ گاہ ہے، اس دن اہل باطل زیان اور گھاٹے میں ہوگا، اور اس دن پشیمانی تمہارے لئے سودمند ثابت نہ ہوگا، اور ہر ایک اخبارکے لئے ایک قرارگاہ معیّن ہے، پس عنقرب جان لوگے کہ ذلیل و خوار کرنے والے عذاب، کس پر نازل ہوتا ہے، اور جاودانہ عذاب کس کے شامل حال ہوتاہے۔[35]

 خاتون جنت  فاطمہ زہرا(س) سے فدک  غصب کرنے کے  سیاسی عوامل اور وجوہات

     خلیفہ وقت کے توسط سے حضرت زہرا(س) سے فدک کا غصب کرنے کا مقصد صرف ایک مالی اور اقتصادی مسائل تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کا اقتصادی پہلو صرف ظاہری پہلو شمار ہوتا ہے، جبکہ اس کا اصلی مقصد پیامبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد  رونما ہونے والے سیاسی صورتحال میں ہی مضمر ہے، لہذا موضوع فدک کو  اس زمانے کے دیگر حوادث  اور سیاسی جریانات سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔

اس تاریخی غاصبانہ اقدام کے  وجوہات ،در جہ ذیل عوامل ہو سکتے ہیں:

1۔ فدک کا   خاندان پیامبر(ص) کے ہاتھ میں رہنا، ایک  بہت بڑا معنوی امتیاز  محسوب ہوتا تھا، اور  ایسا ہونا اس بات کی ٹھوس دلیل تھی کہ اللہ  تعالی کے نزدیک اس خاندان  کا ایک خاص مقام اور منزلت  ہے، اور یہ حضرات،   پیامبر(ص) کے نزدیکترین  رشتہ دار ہیں۔ خاص کر ایسا ہونا اس بات سےاور واضح ہوجاتا ہے کہ، روایات شیعہ اور اہل سنت کی رو سے چنانچہ اس سے قبل بھی اشارہ ہوا،جب آیہ «و آت ذالقربی حقه» نازل ہوئی پیامبر(ص) نے فاطمه(س) کو  طلب کیا اور سرزمین فدک کو انہیں بخشایا۔

     واضح ہے کہ فدک کا ان تمام فضائل اورایک خاص مستقل تاریخ کے ہوتےہوئے، یہ اہلیبت(ع) کے قبضے میں رہنا، اس بات کا باعث بن جاتا تھا کہ لوگ پیامبر (ص) کے باقی آثار، خاص کر مسئلہ خلافت اور آپ(ص) کے جانشینی کو بھی، اسی  نجیب خاندان میں جستجو کریں۔ اور ایسا ہونا دشمنان اھلبیت(ع) کے لئے ہرگز گوارا نہیں ہوسکتا تھا۔

یہ مسئلہ ،سیاسی ابعاد کے علاوہ اقتصادی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل تھا،چونکہ اگر امیر ا لمؤمنین علی(ع) اور ان کے  خاندان ایک شدید معیشتی مشکلات  سے روبرو ہوتے، تو  ان کی سیاسی قوت اور  اثر رسوخ بھی تقلیل یا کمزور پڑھ جاتے۔  دوسری عبارت میں سرزمین فدک کا ان بزرگواروں کے ہاتھ میں ہونا، مسئلہ ولایت کے سلسلے میں ایک  مضبوط  پشت پنا ہ ثابت ہوسکتا تھا،چنانچہ اس سے پہلے صدر اسلام میں حضرت خدیجہ(س) کے وافر  اموال،  اسلام کی پیشرفت  کے سلسلے میں انتہائی کارآمد ثابت ہوا تھا۔

      ہمیشہ سے مخالفین حق اور مستکبرین عالم کا، اپنے  مدمقابل کو تسلیم ہونے پر وادار کرنے  کے سلسلے میں، یہی غیر انسانی رفتار اور شیوہ رہا ہے۔ چنانچہ تاریخ اسلام میں، یہ واقعہ  ثبت ہوچکا ہے  کہ دشمنان اسلام نے جب یہ دیکھا کہ سول خدا(ص) اور ان کے  پیروکار، جنگ یا  طرح طرح کے مختلف حربوں سے مرعوب نہیں ہو تے، اور  اپنے اسلامی مشن کو آگے بڑھانے  پر مصر ہیں،  تو  ان کو شکست دینے کی غرض سے  ان پر شدید ترین اقتصادی پابندیاں لگائی۔  مسلمانوں کے ساتھ ہر قسم کی  اقتصادی اور  ثقافتی معاملہ کرنا ممنوع قرار دیا گیا، رسول گرامی اسلام (ص) اور مسلمانوں کو ایک تنگ درّے( شعب ابی طالب) کے اندر مسلسل  تین سال تک محاصرہ کر کے رکھے گئے،  اور مختلف قسم کی سختیاں جیلنے پر مجبور کیا۔

          استکبارجہانی کا  یہ  مزموم شیوہ آج بھی  اپنے تمام تر  قوت کے ساتھ باقی اور  بدستور جاری ہے۔ آج امیریکہ جوکہ شیطان اکبر کے نام سے مشہور ہے ، تمام دنیا کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے ،اور اگر کوئی ملک ان کے حکم سے  سرپیچی کرے تو  اس پر  سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کرکے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتا ہے، آج کیوبا، شمالی کوریا اور  جمہوری اسلامی ایران جیسے ممالک سالوں سے  ان غیر انسانی اور غیر اخلاقی رفتار  کے زد میں ہیں۔  اگرچہ دنیا کے متعدد ممالک ایسی مشکلات سے  دچار ہیں،  لیکن استکبار جہانی کا معادنانہ رفتار جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ باقی ممالک کے بہ نسبت پیچیدہ اور انوکھا ہے، اس کی  وجہ  مملکت  ایران کا  منفرد خصوصیت کا حامل ، "انقلاب اسلامی" ہے۔ جوکہ  کامیابی کے دور سے لیکر آج تک ان مستکبرین جہان کی آنکھوں کی دھول بنی ہوئی ہے، اور  ان کی مخاصمانہ سازشوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر مضوط چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ در اصل   اسلامی انقلاب نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ  امریکا اور صہیونی ریاست کے مقابلے میں استقامت اور مقاومت کر کے بھی،  ترقی اور پیشرفت کو  تیزی سے جاری رکھا جا سکتا ہے۔  یاد  رہے کہ آج  "جمہوری اسلامی ایران" ان تمام  مشکلات اور  رکاوٹوں کے باجود، مختلف فیلڈ میں، جیسے سائنس اور ٹکنالوجی، اور  دفاعی سکٹر میں، مشرق وسطی کے اندر  پہلا مقام اور پوری دنیا میں  ان ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے ،جن کی تعداد بہت کم ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے  میں  خطے کے  وہ  ممالک جو امریکا کو اپنا آقا ء سمجھتے ہیں، سب ایران سے بہت پیچھے ہیں۔  اس سال  دنیا کا معتبر ترین ادارہ گلوبل فائر پاور(Global fire power) کی  جانب سے ایران کو دنیا کا تیرواں سب سے  طاقتور ملک  قرار دے دیا ،جبکہ اسرائیل اور سعودی عربیہ جو کہ  اپنی اسلحوں اور فوجی طاقت پر فخرفروشی ،  اور جمہوری اسلامی ایران پر آئے دن حملہ کرنے کے ڈنڈورے پیٹتے  رہتےہیں، ان  کا رتبہ  ایران سے بہت پیچھے ہے ۔  درواقع ایران کے اس شائستہ شاہکار نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیاہے۔

3۔ اگر یہ لوگ   اس موقع پر فدک کو میراث ، بخشش  اور ہبہ کے عنوان پر، حضرت زہرا(س) کے اختیار میں قرار  دے دیتا،  تو   خود بخود مسئلہ  خلافت کے مطالبہ کے لئے بھی راہ ہموار ہوجاتا،  اس بات کا اشارہ ، ا ہل سنت  کے ایک دانشمند  ابن ابی الحدید نے

 "شرح نہج البلاغہ" کے اندر ایک ظریف انداز میں  یوں  کیا ہے:

 میں نے اپنے استاد(علی بن فاروقی) مدرس بغداد، سے سوال کیا: کیا حضرت فاطمہ زہرا(س) فدک کی مالکیت کے متعلق کئے  ہوئے  دعوے میں صادق(سچی) تھیں؟

 انہوں نے کہا:ہاں!

میں کہا: تو پھر خلیفہ اول نے ان کو فدک کیوں نہیں دیا ،جبکہ فاطمہ(س) ان کے نزدیک راستگو (سچّی) تھیں؟

 یہ سن کر ان نے تبسم کیا ؛ اور ایک خوبصورت  اور طنزیہ انداز میں کہا،  جبکہ انہیں  ہرگز شوخی اور  مزاق کرنے کی عادت نہیں تھی۔

"لو اعطاها الیوم فدکاً بمجرد دعواه لجائت الیه غداً و ادعت لزوجها الخلافة و زحزحته من مکانه، و لم یمکنه لاعتذار و المدافعة بشیئی لانه یکون قد اسجل علی نفسه بانها صادقة فیما تدعیه، کائنا ما کان، من غیر حاجة الی بینة"

      اگر اس وقت ابوبکر فدک کو صرف حضرت زہرا(س) کی مالکیت کا دعوا کرنے کی بناء پر انہیں واپس کردیتا،تو کل وہ  دوبارہ ابوبکر کے پاس آکر، اپنے شوہر کے لئے خلافت کا دعوا کر دیتی! اور ان کو منصب خلافت سے بر کنار کردیتی،اور اس دعوے کے مقابلے میں ابوبکر کے پاس عذر یا دفاع کے لئے کوئی راستہ باقی نہ رہ جاتا، چونکہ اس نے فدک کو تحویل دے کر گویا یہ قبول کر لیا تھا کہ جو کچھ  جناب زہرا(س) دعوا کرے، وہ سچ اور حقیقت ہے، اور اس سلسلے میں بیّنہ اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

  ابن ابی الحدید اس داستان کے بعد لکھتا ہے : اگرچہ میرے استاد نے اس کو مزاحیہ انداز میں بیان کیا، لیکن یہ ایک واقعیت ہے۔[36]

    اہل سنت کے ان دو معروف دانشمندوں کے اعتراف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ داستان فدک، کس حدتک سیاسی پہلو رکھتا ہے۔

4۔ در اصل فدک کی مالکیت کا دعوا، ایک بہت بڑے مسئلے کی حقیقت کے سلسلے میں ایک مقدمے کی مانند تھا، اور  وہ اساسی مسئلہ،  ولایت امیر المؤمنین (ع) اور  پیامبر (ص)کے جانشینی کا مسئلہ تھا، تاریخی شواہد اور قرائن کے علاوہ،  ائمّہ معصومین (ع) کی سیرت و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زہرا (س)  فدک کے موضوع کو صرف  مالی اور اقتصادی پہلو کو مدنظر رکھ کر، خلیفہ وقت کو نہیں للکارا تھا، بلکہ ان کا اصلی ہدف اور مقصد، رسول خدا(ص) کی  جانشین برحق کے مبینہ طور پر تاراج کیا ہوا مسلّمہ حق کی بازیابی اور ان کے حقوق سے دفاع کرنا تھا۔

  چنانچہ امیرالمؤمنین علی(علیه السلام) نهج البلاغه  نامہ 45 میں عثمان بن حنیف کو مخاطب کر کے  فدک کے مسئلہ کو اس انداذ میں بیان فرمارہے ہیں:

"۔۔۔بَلَى كَانَتْ فِي أَيْدِينَا فَدَكٌ مِنْ كُلِّ مَا أَظَلَّتْهُ السَّمَاءُ، فَشَحَّتْ عَلَيْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ وَ سَخَتْ عَنْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ آخَرِينَ، وَ نِعْمَ الْحَكَمُ اللَّهُ. وَ مَا أَصْنَعُ بِفَدَكٍ وَ غَيْرِ فَدَكٍ؟وَ النَّفْسُ مَظَانُّهَا فِي غَدٍ جَدَثٌ۔۔۔"[37]

جی ہاں؛ جن اشیاء پر آسمان کا سایہ ہے، ان میں سے صرف فدک ہمارے ہاتھ میں تھا،پس بعض لوگوں نے اس پر بھی بخل کیا اور بعض لوگوں نے سخاوتمندانہ انداز میں اس کے بہ نسبت چشم پوشی کی، بہترین حکم اللہ کی زات ہے،ہمیں فدک اور غیر فدک سے کیا کام جبکہ انسان کی منزل قبر ہے۔

 امیرالمؤمنین علی(ع) کی یہ نورانی کلام چند اہم مسئلوں مشتمل ہے۔

1۔"کانت فی أیدینا" یہ جملہ واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سرزمین فدک پر ان کا قبضہ تھا۔

"فَشَحَّت علیها نفوس قوم" یہ جملہ اس اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فدک کو ایک قوم نے غصب کیا تھا۔

" سَخَت عنها نفوس قوم آخرین " اس جملے سے مراد یہ ہے کہ بنی ہاشم کی قوم یا انصار نے اس موضوع پر سکوت اختیار کیا۔

"نعمَ الحَکمَ الله"یہ جملہ امام(ع) کی مظلومیّت کی غمازی کرتا ہے جو رحلت رسول(ص) کے بعد روا ہونے والے ظلم و زیادتی کی طرف اشارہ ہے۔ لہذا امام(ع) فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔

امام علی(علیه السلام) آگے جاکر  متاع دنیا کے بہ نسبت اپنی بے رغبتی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

" و ما أصنَعُ بفدک و غیر فدک، و النفسُ مظانّها فی غدٍ جَدَثٌ"۔

      امام (ع) نے یہ جملہ اس لئے فرمایا کہ آیندہ آنے والے لوگ جب تاریخ کے اندر جستجو کرینگے، تو معلوم ہوجائے گا ،  فدک کی بازیابی کے سلسلے میں تلاش کرنا، دنیا پرستی،مال دنیا کی طرف رغبت اور لالچ کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ "فدک" اپنے پائمال شدہ

 "حق "یعنی خلافت اور جانشینی پیامبر(ص) کا ایک شاخص تھا۔

    امیر المؤمنین علی(ع) کے بعد باقی ائمّہ معصومیں(ع) نے بھی مسئلہ "فدک"کو ہر گز فراموش نہ ہونے دیا چونکہ اگر یہ تاریخ میں محو ہوجاتا،  تو ولایت اور خلافت کا مسئلہ بھی تاریخی افسانوں میں تبدیل ہوجاتا،چنانچہ غاصبین خلافت کے طرفداروں کی یہی کوشش رہی ہے۔ لہذا ائمہ ھداء(ع) نے اس موضوع کو خلافت کی مضوع سے الگ نہ ہونے دیا۔ اور اس مسئلے کا زندہ ثبوت تاریخ میں امام کاظم علیه السلام اور ہارون رشید کی بیچ ہونے والی گفتکو ہے۔

     هارون الرشید نے امام کاظم(ع)  سے عرض کیا کہ فدک کو اپنے قبضے میں لے لو، امام علیه السلام نے قبول نہیں کیا۔ اورجب هارون نے   اپنےموقف پراصرار کیا تو وامام کاظم(علیه السلام)نے فرمایا:"میں فدک کو اس شرط پر قبول کرونگا  کہ اس کے تمام حدود کو معین کرکے ہمیں بخشایا جائے۔ ہارون ہے کہا:  اس کے حدود کیا ہے؟ امام(ع) نے فرمایا: اس کی پہلی حدعدن ہے، یہ سنتے ہی ہارون کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ دوسری حد سمرقند ہے، تیسری حد افریقا اور اس کی چوتھی حد بحر خذر اور ارمنستان ہے۔ ہارون رشید جوکہ بہت پریشان تھا، طیش میں آکر کہا:«فلم یبق لنا شیء»؛ «پس ہمارے لئے کچھ باقی نہیں رہ جاتا ہے۔[38]

  امام(علیه السلام) حدود فدک کو اس طرح ترسیم کیا کہ ہارون رشید کی حکومت کی تمام حدود کو شامل ہوتا تھا۔ در اصل امام(ع) نے ہارون کو یہ پیغام دینا چاہا کہ فدک صرف زمین کے ایک ٹکڑے تک محدود نہیں ہے،  بلکہ یہ مظلومیت اهلبیت(علیهم السلام) اور حاکمان ظلم وجور کے ہاتھوں غصب شدہ، خلافت اور جانشین رسول خدا(ص) کا ایک زندہ نمونہ اور شاخص ہے اور  یہ مسئلہ تا قیام قیامت لوگوں کے اذہان میں باقی رہے گا۔

مختلف ادوار تاریخی میں مالکیّت فدک کی کیفیت

     سرزمین فدک خلفاء  ثلاثہ  کے بعدمختلف ادوارتاریخ میں، بنی امیہ اور بنی عباس کے خلفاء کے قبضے میں رہا ہے۔ صرف بعض مختصرمقاطع تاریخ میں  اولاد فاطمہ(س) کے ہاتھ میں تھا۔
 بنی عباس کے خلفاء جن کے قبضے میں" فدک" رہا تھا،  ان کے اسامی بترتیب اسطرح سے ہیں:

۱. عمر بن عبدالعزیز،۲۔ ابوالعباس سفاح، ۳. مهدی پسر منصور عباسی، ۴. مأمون.

    مامون کے بعد، متوکل عباسی نے دستور دیا کہ فدک کی مالکیت کو دوبارہ اپنی سابقہ حال(یعنی مامون سے پہلے کی حالت) کی طرف پلٹایاجائے۔ اکثر تاریخی کتابوں نے متوکل عباسی کے دور کے بعد فدک کی وضعیت کے حوالے سے کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے۔
 لکھا ہے کہ مامون عباسی نے ارادہ کیا کہ فدک کو اولاد حضرت فاطمہ(س) کو واپس دلوایا جائے۔  لیکن بہت سارے افراد نے اس کی مخالفت کی، لہذا  مامون نے اس زمانے کے  دو سو سے زائد برجستہ علماء کو اپنے شاہی در بارمیں مدعو کرکے ان سے تقاضا کیا کہ، فدک کو اولاد فاطمہ(س) کی ملکیت میں دینے کے حوالے سے اپنی آراء  کو بیان کیا جائے۔ مجلس میں حاضر دانشمندان  نے کافی بحث و مباحثے کے بعد  ، یہ حضرات اس نتیجے پر پہنچے کہ فدک چونکہ حضرت زہرا(س) کی ملکیت تھی، لہذا آج اس کو انہی کے وارثین اور اولاد کے سپرد کرنا چاہئے۔ اس فیصلے کے بعد مخالفین نے پھر سے اس فیصلے  کے سلسلے مین تجدید نظر کرنے کی اپیل کی اور اپنےموقف پر سختی سے اصرار کیا۔

    فدک کو اولاد زہرا(س) کے تحویل میں دینے کے اس فیصلے کی مخالفت کر نے والوں کے اصرار اور دبا‎ؤ کو دیکھ کر، مامون نے دوبارہ علماء حضرات کو دعوت کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن اس دفعہ پہلے کے مقابلے ميں زیادہ وسیع تعداد میں علماء اور دانشوروں کو بلا کر ان اسے فدک کو واپس اولاد فاطمہ(س)  کو لوٹانے  کے حوالے سے رای اور مشورت چاہی۔ اس دفعہ بھی سابق کی طرح علماء نے مامون کے اس فیصلے کی تائید اور حمایت کی۔  اسی دوران مامون نے سنہ 210ہ ق کو مدینہ کے گورنر، قثم بن جعفر کو ایک خط کے ذریعے، فدک کو اولاد فاطمہ(س) کے سپرد کرنے کہ حکم دیا، اس طرح سے فدک ایک بار پھر اس کے مالکان حقیقی کو مل گیا۔

 اس مسرّت بھری خبر کو سن کر  معروف شاعر اھلبیت(ع) جناب دعبل خزاعی نے اشعار کے ذریعہ اظہار رضایت کیا۔ ان اشعار کا پہلا مصرع یوں ہے:

"اَصْبَحَ وَجْهُ الزَّمانِ قَدْ ضَحِکاً بِرَدَّ مَأْموُنُ هاشِمُ فَدَکاً"
ترجمه:

" زمانے کے رخ پر خوشی کا تبسم آگیا، مامون نے جب فدک بنی ہاشم کو واپس لوٹا دیا۔"[39]

سرزمین فدک  کی موجودہ صورت حال

    سر زمین  فدک جوکہ آج "حرّہ ھتیم" کے نام سے جانا جاتا ہے،جوکہ حرہ خیبر کے مشرقی علاقے میں واقع ہے۔ کتاب"مدینہ شناسی" کے مؤلف  لکھتاہے کہ میں نے  سر زمین فدک کے  آثار کو جاننے کےحوالے سے بہت جستجو کی ،اور  ایسا لگتا ہے کہ اس کا موجودہ نام "حائط" ہے اور سنہ 1975ء میں اس علاقے میں 21 بستیاں موجود تھیں۔  ان بستیوں میں رہائش پذیر افراد کی تعداد اس وقت گیارہ ہزار تھی۔  لیکن یہ سرزمین اس موقع پر بھی سابق کی طرح، کھجور کے گنّے دختوں سے پوشیدہ  تھی، اس کے علاوہ کاشت کاری کے لئے بھی ذرخیز نظر آرہی تھی۔

      حائط کا علاقہ(فدک) جوکہ پہلے مدینہ  جانے والے راستے میں آتا تھا، آج کل اپنے سابقہ شکل و  شمائل سے مزیّن نہیں ہے بلکہ مخدوش شدہ چہرے کے ساتھ ایک متروکہ بیابان میں تبدیل ہوگیا ہے۔

 حالت کہ کیفیت سے ایسا لگتا ہے کہ اس علاقے کی زمینیں، عبوری طور پر وہاں  کے مکینوں کے تحت تصرف میں ہیں اور اس کا درآمد بھی انہی لوگوں کی معیشت پر صرف ہوتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ سرزمین سعودی شاہنشاہی سلطنت کے  ذیر نظر میں ہے اور مستقل طور پر کسی خاص جگہ کا گوئی مخصوص مالک نہیں ہے۔

 آل سعود اور وہاں کے وہابی لوگوں نے باقی اسلامی آثار کی نابودی کی طرح فدک کے اسلامی اور تاریخی آثار کو بھی مسمار کررہے ہیں جوکہ تاریخ اسلام اور خاص کر رسول گرامی اسلام (ص)اور ان کے اھلبیت(ع) کے ساتھ کھلی خیانت ہے۔[40]

 نتیجہ:

    یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے  کہ صدیقہ طاہر ہ (س)کی نورانی وجود مقدس کی حقیقت کا درک ہونا،ایک مشکل امرہے۔آیات قرآنی اور احادیث نبوی کی رو سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آپ(س) ایک بے نظیر فضیلت کے مالک خاتون تھیں۔ لیکن ان تمام فضائل اور مناقب کے ہونے کے باوجود امت نے ان باعظمت خاتون کے حق میں اس قدر ظلم و  جفاء کی انتہا کی،کہ اگر یہ مصیبت روشن دن پر پڑھ جاتی،تو تاریکی میں تبدیل ہوجاتا۔

   جناب زھرا(س) کے ساتھ ہوئے یہ ظالمانہ برتاؤ غیروں کی جانب سے نہیں ہوا، بلکہ پیامبر (ص)کے بعض نام نہاد صحابیوں کے ایماء اور اشارے اور انہی کی سوچی سمجھی سازش  کی تحت عمل میں آگیا ، جو کہ فریقین کی روایات سے ثابت ہوتا ہے ۔ حضرت زہرا(س) کے حق میں جتنے بھی مظالم روا  رکھے گئے،  ان میں سے سب سے اہم اور  المناک ظلم،غصب خلافت کا مسئلہ تھا۔      یادرہے کہ حضرت زہرا (س)کے توسط سے  فدک کی بازیابی کے سلسلے میں کئے ہوئے اقدامات،نیز  ائمہ معصومین(ع) کی طرف سے مسئلہ فدک کو ہمیشہ زندہ رکھنا، خلافت کے موضوع کو جاویدانی بخشنے  کے سلسلے میں  ایک اہم کردار تھا۔

    دشمنان اھلبیت(ع) نے فدک کو اس غرض سے مستبدّانہ انداز میں تاراج  کیا ، تاکہ ان نجیب خاندان کی معیشتی حالت کو ابتر بنا یا جائے،   تاکہ ان سے قدرت مقاومت کو سلب کیاجائے۔ واضح رہے کہ یہ رویہ ہمشیہ سے مستکبرین جہاں اور باطل قوتوں کا اپنے مخالفین پر دباؤ ڈالنےکی  غرض سے استعمال کیاجاتا ہے،جس کانام آج اقتصادی پابندی کے نام سے تعبیر کیا جاتاہے اور اسی طرح آل سعود کی جانب سے اسلامی آثار قدیمہ،جیسے قبرستان بقیع کی مسماری، پیامر(ص) اور ان کے اصحاب کرام کے دولت خانوں کو ختم کر کے دوسری چیزوں میں تبدیل کرنا اور سرزمین فدک کو متروکہ کھنڈرات میں تبدیل کرنا وغیرہ سب انہی مزموم سازشوں کا حصہ ہے ۔

28جمادی الاول1440ھ.

Email:This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

منابع و حوالہ جات



[1]الغیبه، للطوسی؛ ص 286 ۔

[2] بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۶۵، روايت ۵۸۔

[3] صحيح البخاري، ج5، ص134۔

[4]تاریخ الیعقوبی، ج2، ص56۔

[5] کتاب المغازی، واقدی ،ح2،ص655۔

[6] امتناع الاسماع بما لنبی۔۔، مقریزی،ج1،ص310۔

[7] الارشاد، ج2، ص128-129۔

[8] شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، ج 4، ص 108.

[9] سوره حشر، آیات 6 و 7.

[10] آیت الله شهید سید محمدباقر صدر، فدک در تاریخ، ص 27.

[11] شرح نهج البلاغه، ج 4، ص 108، چھاپ بیروت.

[12] محدث قمی، بیت الاحزان، ص 82.

[13]  سورہ اسرا، آیہ 26۔

[14]  مسندابی یعلی ، ج2،ص 534،حدیث436۔  تفسیر الدر المنثور،ج5، ص274۔

[15] بحار الانوار: ج 21 ص 23.

[16] اسرار فدک، محمد باقر انصاری، ص22، بحار الانوار: ج 29 ص 118.

[17] اسرار فدک، محمد باقر انصاری، ص22، بحار الانوار: ج 29 ص 123 ح 25۔

[18] صحیح بخاری، ج 8، ص 3 و 4 ،و ج 5 ص 82۔

[19] شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، ج 4، ص 117۔

[20]  صحیح بخاری،ج 3،ص 252۔ کتاب المغازی،باب 155 غزوہ حیبر،حدیث704۔

[21]  کنز العمال،ج13،ص 674، حدیث37725۔

[22]  صحیح بخاری،ج 5، ص96۔

[23] تاریخ الخلفاء،ص20۔

[24] بحار الانوار، ج1، ص23 و مكاتيب الرسول صلى الله عليه و آله و سلم، ج‏1، ص 291۔

[25]  شرح نہج البلاغہ، ج 16 ص221،227۔

[26] شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 221و227۔

[27] فدک فی التاریخ، ص 149 .

[28]   بحار الانوار، ج1، ص23 و مكاتيب الرسول صلى الله عليه و آله و سلم، ج‏1، ص 291۔

[29] سوره المائدہ، آیه 50۔

[30] سوره نمل، آیه 16۔

[31] سوره مریم، آیه ،5،6۔

[32] سوره احزاب، آیه 6۔

[33] سوره نساء، آیه 11۔

[34] سوره بقره، آیه 180۔

[35] بحار الأنوارج‏29، ص226 و 227۔

[36] شرح ابن ابی الحدید) بر (نهج البلاغه) جلد 4 ص .78۔

[37] نہج البلاغہ،نامہ،45۔

[38] سیره پیشوایان،ص461۔

 [39] Irna.ir

[40] ۔( yjc.ir مدینه شناسی، ج 2، ص 492.