Description: C:\Users\muntazir mahdi\Downloads\زینب کبرا.jpg*بسم الله الرحمن الرحیم. *

(تحریر:خادم حسین آخوندی)

حضرت زینب(س)، مظہر علم  و کمالات

دو عالم بر علیؑ نازد، علیؑ بر همسرش نازد               علیؑ و همسرش زہرا(س)، به زینبؑ  دخترش نازد.

 مقدمہ:

    یه  ایک مسلَمه حقیقت هے، کہ انسان اپنی ‌زندگی کو بہتر اور سعادتمند بنانے کے لئے‎ ضروری ہے، کہ وہ کسی ایسے شخص کو اپنا آیڈیل قرار دے،  جو خود صاحب کمالات ہوں۔ تاکہ انسان،‏ اس انسان کامل کی پیروی کرتے ہوے، ان تمام کمالات کو اپنے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا، جو اس ہستی کے اندر پایے جاتے ہیں۔تاکہ وہ اپنی زات کو بھی اس مرحلہ کمال پر پہنچادے، جس کمال کی اونچی چوٹی پر وہ عظیم ھستی فائز ہے۔

     ہر انسان کو اپنے ہدف اور مقصد کو پانے کی خاطر،بعض ایسے مراحل  کو طے کرنا پڑھتا ہے، جن کو تنہا طے کرنا اس کیلئے  نہ صرف دشوار ہوتا ہے، بلکہ  غیر ممکن ہوتا ہے۔لہذا س منزل مقصود  تک پہنچنے کے سلسلے میں بعض ایسی شخصیتوں کا سہارا لیتا ہے، جو خود اس مطلوبہ ہدف میں کامیاب ہوچکی ہوں۔نیز  اس شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مربی یا استاد کی صحیح ڈنگ سے شاگردی ،اور ظریف و حساس نکات کو سیکھنے کی کوشش کرے،جو اس مقصد کو پانے کی راہ میں کارآمد ثابت ہوں۔

    بہرحال،  انسان کو اللہ تعالی نے اس دنیا  میں اشرف  المخلوقات کے عنوان سے مزین کر کے بھیجا ہے ،اوراس کے ساتھ ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی اس پر عائد کر رکھی ہے۔ ان ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوے، انسان کو  اس مقصد کی جانب آگے بڑھنا ہے، جس مقصد  والا کی خاطر اس کو خلق کیا گیا ہے۔

   اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنی لطف و کرم سے، اپنے بندوں کی ہدایت اور راہ نمائی کیلئے کچھ ہستیاں اس کائنات کے اندر بھیجی ہیں،جن کو انسان اپنے لئے نمونہ عمل قرار دے کر،  نیز  ان کی اطاعت کر کے اپنی زندگی کو اس راہ  پر گامزن کردیتا ہے، جو سعادت اور خوشبختی کے منزل تک لے جاتی ہے۔ ان عظیم ہستیوں سے مراد انبیا‏ءا ور اولیا‏ء الہی کے علاوہ اور بھی کچھ صاحب عظمت، اللہ کے مخلص بندے ہیں، اگر چہ یہ بندے صاحب عصمت  نہیں ہیں،  لیکن ان کے عظیم اور مثالی کارنامے، عالم بشریت کے لئے لمحہ فکریہ بنا ہوا ہے؛  اور یہ حضرات ہدایت کےسرچشمے ہیں۔اگر ہم دنیا اور آخرت کی سرخ رویی کے متمنی ہیں ،تو ان کی  ہی دہلیز پر حاضری دینا ، اور انکو اپنی زندگی میں نمونہ قرار دیکر جینا، ہمارے لئے ناگزیر بن جاتا ہے۔

ان عظیم ہستیوں میں سے ایک، جن کے تاریخی  بے مثال کارنامے کسی پر ڈھکی چھپی نہیں ہے، وہ نامدار ہستی ، عقیلہ بنی ہاشم ،عالمۃ غیرمعلمۃ ، صدیقہ صغراء، حضرت زینب  سلام اللہ علیہا ہیں۔

  حضرت زینب(س) کا اجمالی تعارف:

       آپ(س) نےچھٹی صدی ہجری میں خانہ بطول(س) میں آنکھیں کھولیں۔جس دن حضرت زینب(ع) کی ولادت ہوئی، اس دن رسول گرامی اسلام(ص) سفر پر تشریف لے گئے تھے۔حضرت زہرا(س) نے امیر المؤمنین علی(ع) سے درخواست کی کہ اس مولودہ مبارکہ کا نام معین کیا جائے، لیکن مولای کائنات(ع) نے فرمایا:میں آپ کے والد ماجد پر سبقت نہیں لے سکتا، لہذا بہتر ہے کہ رسول خدا(ص) کے واپس تشریف آوری تک صبر کیا جائے، تاکہ خود آنحضرت(ص) انکا نام انتخاب کریں۔

    جب رسول گرامی اسلام(ص) ،سفرسے واپس تشریف لےآئے،  تو حضرت علی (ع) نے آگے بڑھ کر بچی کی ولادت کی خبر  دےدی۔

   پیامبر گرامی اسلام(ص) نے ارشاد فرمایا: اولاد فاطمہ(س)، میری اولاد ہیں،لہذا  خدا وند متعال کی زات خود اس حوالے سے فیصلہ کرے گا ۔ چند لمحے کے بعد جبرئیل امین،  اللہ کی طرف سے پیام لے کر نازل ہوئے،  اور عرض سلام اور ادب کے بعد فرمایا: اللہ رب العزت نے بچی کا نام "زینب" انتخاب کیا  ہے، اور لوح محفوظ پر یہ نام ثبت ہوچکا ہے۔

    اسی دوران رسول اکرم(ص) نے نورچشم فاطمہ زہرا(س) کو گود میں لے کر بوسہ دیا ، اور فرمایا:میں وصیت کرتا ہوں کہ سب لوگ اس  بچی کا احترام کریں، چونکہ یہ بچی  جناب خدیجہ(س) کی مثل ہے۔

     واضح رہے کہ رسول خدا(ص) نے یہ مطلب اس لئے ارشاد فرمایا کہ جس طرح حضرت خدیجہ کی فداکاری اور  بے پناہ قربانیاں،رسول خدا(س) کے بلند اہداف اور اسلام کی پیشرفت کے سلسلے میں ثمر بخش تھیں،  بالکل اسی طرح  ثانی زہرا حضرت زینب(س) کے صبر اور استقامت، اسلام کی بقاء اور جاودانی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

  زینب کی معنی:

    زینب کی معنی باب کی زینت ہے، اور خداوند متعال نے یہ نام ایک ایسی خاتون کے لئے انتخاب کیا ہے ، جو ختم رسالت کےبعد، تاریخ بشریت کی خاطر زینت کا باعث ،نیز خاندان ولایت  کے لئےباعث افتخارہیں۔

     یہی وجہ ہے کہ جناب زینب ‎(س) کے نام گرامی، تاریخ نہضت عاشورا میں ہمیشہ محور توجہ اور درخشاں نظرآتا ہے۔

 حضرت زینب(س) نے اپنی بچپن کی زندگی، نانا اور مادرگرامی کے آغوش میں گزاری اور ان کے نورانی ماحول میں پرورش پائی۔

   آپ(س) نے سنہ 17 ہجری میں اپنے چچازاد ،عبد اللہ بن جعفر سے شادی کی۔ جب حضرت علی ابن ابی طالب(ع) ظاہری خلافت پر فائز ہوئے، تو امام(ع) مدینہ سے کوفہ کی جانب تشریف لےآئے ، اور شہر کوفہ کو اپنی حکومت کا دار الخلافہ مقرر کیا،اس موقع پر جناب زینب(س) بھی والد گرامی کے ہمراہ کوفہ تشریف لے آئیں۔

      حضرت زینب(س) صاحب معرفت، اور مظہر علم و کرامت تھیں،چنانچہ جس زمانے میں کوفہ میں زندگی گزاررہی تھیں، وہاں لوگوں کی علمی اور عملی خدامات انجام دینے کے سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزار نہیں کیا۔ حضرت زینب(س) کوفہ کے اندر  تفسیر قرآن، احکام اور مختلف علوم کے درس دیتی  تھیں۔  ان کی معرفت کے کمالات کا اندازہ اس طرح سے کیا جاسکتا ہے کہ، ایک دن حضرت علی(ع) نے ان سے یوں سوال کیا: اے میری بیٹی !کیا تم اپنے بابا سے  محبت کرتی ہیں؟ تو جناب زینب(س) نے  جواب مثبت  دےدیا۔ پھر امام(ع) نے جناب زینب(س) سے مخاطب ہو کر فرمایا:" والدین اپنی اولاد کو دل سے محبت کرتے ہیں!" اس پر حضرت زینب(س) نے فرمایا:" محبت اورعشق حقیقی، مخصوص خدا کی ملکیت ہے،اور اظہار  انس والفت ،اولاد کی خاطر ہے۔

    جب حضرت علی(ع) کے سر مبارک پر ضربت لگی،   تو اس مشکل اور کٹھن موقع پر بھی جناب زینب(س) اپنے بابا کو دلاسہ اور تیمارداری کرتی رہیں۔اسکے علاوہ حضرت امام حسن مجتبی(ع) کے عصر میں بھی ہمیشہ اپنے بھائی کے یار و ناصر بن کر رہیں۔

    جس وقت حضرت امام حسین(ع) نے مدینہ سے عراق کی طرف سفر کرنے کا عزم کیا،تو جناب ابن عباس نے امام(ع) کو  مسافرت سے منصرف ہونے کا مشورہ دیا، اور  جب امام(ع) نے  سفر کے حوالے سے اپنے مصمم ارادے کا اظہار کیا ، تو جناب ابن عباس نے بچوں اور عورتوں کو مدینے میں چھوڑ کر  تشریف لے جانے کی سفارش کی، اس وقت حضرت زینب(س) نے یہ تاریخی جملہ فرمایا:میں ہرگز  اپنے ویر حسین(ع) سے جُدا نہیں ہوسکتی ہوں، یہ کہہ کر اپنے شوہر جناب عبد اللہ بن جعفر کی خدمت میں جاکر ان سے اجازت لے کر امام حسین(ع) کے ہمراہ  سفر کیا، نیز ہر منزل پر نہضت امام حسین(ع) کی نصرت کی۔

     جیسے کہ ہم نے  پہلے  بھی  اس بات کی طرف اشارہ کیا ، کہ حضرت زینب(س)علم و کمالات کے مالک تھیں،ایسا ہونا، ان صاحب عصمت او رطہارت ہستیوں کو ہی زیب دیتا ہے۔حضرت زینب(س) کی پرورش ایسے گھرانے میں ہوئی  ، جس کے مکینوں کو اللہ نے  ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ  قرار دےدیا ہے۔ اگر چہ جناب زینب(س) عصمت کے اس درجے پر فائز نہیں تھیں،جس پر رسول خدا(ص)،حضرت زہرا(س) اور ائمّہ معصومین(ع)،فائز تھے۔لیکن اس کے باوجود ان کے وجود مقدس میں بھی عصمت کا عنصر پایا جاتا ہے۔چنانچہ ان کے القاب میں  سے ایک"معصومہ صغرا"ذکر ہواہے۔ ان کے القاب جو تاریخی کتابوں میں نقل ہوے ہیں ، وہ اسطرح سے ہیں: محدثہ،عالمۃ غیر معلّمہ،عقیلۃ النساء، الکاملۃ الفقاہۃ، صدیقۃ صغرا،نائبۃ الزہراء،فاضلہ، فہیمہ،عابدہ۔۔۔

محدّثہ:

    حضرت زینب(س) کے جملہ القاب میں سے ایک معروف لقب،محدّثہ ہے۔ اس  کی علت یہ ہے کہ ان سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔جیساکہ تاریخ کے مشہورترین راوی اور مفسّر قرآن، جناب ابن عباس نے خطبہ حضرت زہرا(س) کے سلسلے میں یوں فرمایا ہے:"حدثنی عقیلتنا زینب(س)"۔

عبادت:

     حضرت زینب(س) انتہائی  پارسا اورعبادت گذار خاتون تھیں، ہمیشہ  اللہ کی عبادت میں مصروف رہتی تھیں۔ انہوں نے اپنی پر برکت زندگی میں، کھبی بھی نافلہ شب ترک نہیں کیا۔ چنانچہ امام سجاد(ع) فرماتے ہیں: میری پھوپھی امّا  سے ،کسی بھی حالت میں نمازشب فوت نہیں ہوئی، یہاں تک کہ شب عاشور جب حضرت امام حسین(ع) ان کی خدمت میں رخصتی کے لئے حاضر ہوئے،  تو آپ(ع) نے بہن زینب(ع) سے مخاطب ہوکر یوں فرمایا:" يَا اُختَاه‏، لَا تَنسِينِی‏ فِي نَافِلَة الَّليل"ای خواہر گرامی! نماز شب میں مجھے فراموش نہیں کرنا۔

    اسی طرح جناب فاطمہ بنت  امام حسین(ع) سے مروی ہے : "اَمَّا عَمَّتِي زِينَب فَاِنَّها لَم تَزل قَائِمِة فِی تِلکَ الَّليلَة، (اَی العاَشِرَة مِنَ اَلمُحَرَّمِ) فِی مِحرَابِها" ہماری پھوپھی  زینب(س) نے اس رات(شب عاشور)(پوری رات)  جاگ  کرعبادت میں  گذاری۔[1]

    امام سجاد(ع) فرماتے ہیں: حضرت زینب(س) نے کربلا سے کوفہ،  اور کوفہ سے شام کے راستے میں بھی نمازشب ترک نہیں کیا اور چنانچہ بعض مقامات پر جسم کی کمزور ی اور نقاہت کی وجہ سے بیٹھ کر نمازادا کی۔[2]

 شجاعت حضرت سیّدہ  زینب(س):

      یہ ایک ناقابل انکار اور  مسلم بات ہے،  کہ حصرت زینب(س) شجاعت اور  بے باکی کے اعتبار سے، ایک بے نظیر خاتون تھیں، اس بات کا اعتراف دشمنان اھلبیت(ع) نے بھی کیا ہے۔ بھا‏ئی کی شہادت کے بعد، جس شجاعت اور جرئت کا  جناب زینب(س) نے مظاہرہ کیا، وہ تاریخ  بشریت میں ایک اہم نمونہ ہے۔

    عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی کا بھرا گھر اجڑ جاتا ہے،  اور اپنے آپ کو  دشمن کی اسارت میں پاتاہے، تو اس ستم دیدہ انسان کے وجود میں ہمیشہ خوف اور بےچینی کا عنصر پایا جاتا ہے۔    ایسی کیفیت کا پیدا ہونا،  ایک  عادی اور  معمولی امر ہے۔ لیکن جب ہم  داستان کربلا کی طرف نظر  ڈالتے ہیں، تو ہمیں قضیہ برعکس نظر آتا ہے۔ جناب سیدہ زینب(س)  نے کربلا کی ٹریجڈی کے  بعد ایک ایسی غیر معمولی کیفیت اپنے اندر پیدا کی، کہ اعداء آل محمد (ص)، بھی  دنگ ہو کر  رہ گئے۔ جناب زینب(س) نے نہ صرف اپنے آپ کو  اسیر کہلانا گوارا نہیں کیا، بلکہ پیامبر کربلا  بن کر دنیا والوں پر یہ ثابت کردیا کہ کون حق پر ہے، اور کون باطل پر۔

      اگر امام حسین(ع) نے اپنے پاک لہو  کے ذریعے،  اسلام کو  زندہ کیا ہے، تو  سیّدہ زینب(س) نے اس  خون پاک کی عملی تفسیر کر تے ہوئے، اپنے حیدری لہجے میں، گفتار کے ذریعے، اسلام کی ڈوپتی ہوئی کشتی کو نجات کا کنارہ   بخشا ہے۔

   شہادت امام حسین(ع) کے بعد حضرت زینب(س) پر  کچھ  نہایت سنگین زمہ داریاں تھیں؛جن میں یتیموں کی سرپرستی، حسینی مشن کی پاسداری، اہلبیت عصمت و طہارت(ع) کی حقانیت سے دفاع ،  آل ابوسفیان کے پلید   چہرے کا بے نقاب کرنا اور بنی امیہ کی منافقت کو  دنیا پر آشکار کرنا ،قابل ذکر ہیں۔

 جیسے کہ شاعر کہتا ہے:

سر نی در نینوا می ماند اگر زینب نبود* کربلا در کربلا می ماند اگر زینب نبود

چهره سرخ حقیقت بعد از آن توفان رنگ* پشت ابری از ریا می ماند اگر زینب نبود

" سر امام حسین(ع) نیزے کی انی پر کربلا میں ہی رہ جاتا، اگر زینب(س) نہ ہوتی*( نہضت) کربلا ، کربلا تک ہی محدود رہ جاتی، اگر زینب (س) نہ ہوتی۔"

" کربلا کے  سہمگین طوفان کے بعد، حقانیت کے سرخرو*( بنی امیہ کی) ریا کاری کی  کالی  گٹھا  کے پیچھے چھب کر رہ  جاتا، اگر زینب(س) نہ ہوتی۔"

         یقینا؛  اگر واقعہ  عاشورا کے بعدحضرت  زینب(س) نے وہ حماسی  کارنامے  انجام نہ  دیے ہوتے، تو آج نتیحہ کچھ اور ہوتا،  جس مقدس  مقصد کے تئیں امام حسین(ع) نے  قیام کیا تھا، وہ کسی  پر عیاں نہ ہوتا، اور  بنی امیہ اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب ہو جاتے۔

    لیکن شیر خدا کی بیٹی نے  مختلف زمان و مکان پر اپنے  فصیح و بلیغ خطبوں کے ذریعے،باطل قوتوں کو ذلیل ،اور حقانیت کوعزت بخشی۔ دنیا کے تمام انصاف پسند اور  حق شناس لوگوں  کے ‍ضمیر کو جھنجوڑ کر غفلت کی نید سے بیدار کیا۔

       لکھا ہے کہ جناب زینب(س) کا وہ تاریخی خطبہ، جو  دربار  یزید(لع) میں دیا، اس قدر تاثیر گذار خطبہ تھا ، کہ لوگ  سن کر داڈھے مار کر  رونے لگے، اور یزید(لع) کے دربار میں ہلچل مچ گیا۔ لوگ اس انداز سے ثانی زہرا(س) کا خطبہ سن رہے تھے کہ گویا،علی علیہ السلام کا خطبہ سن رہے ہوں۔

       بہرحال،  سیّدہ زینب(س) کے خطبے نے دربار   بنی امیہ میں بھی لوگوں کے ضمیر کو  جگایا،  اور یزیدیت کو ہمیشہ کیلئے ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا۔

 

 حجاب و عفت:

    جناب زینب(س) کی حیا ء اور عفت  کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ، نبی گرامی اسلام(ص) اور امام علی(ع) کے زمانے سے لیکر  عاشورا تک، کسی  نامحرم نے  حضرت زینب(س) کو نہیں دیکھا۔

  یحیی مازنی جن کا شمار مشہورترین علماء اور راویان میں ہوتا ہے،وہ  یوں نقل کرتے ہیں:

   " کافی مدت سے میں مدینہ میں زندگی گزار رہا تھا، اور میرا گھر امیر المؤمنین علی(ع) کے دولت خانے کے ہمسایے میں واقع تھا، اور زینب(س)  بنت علی(ع) اسی دولت خانے میں زندگی گذار رہی تھیں؛ میں نے اس دوران حتی ایک مرتبہ بھی نہ جناب زینب(س) کو دیکھا،   اور نہ ان کی آواز سنی۔ جب  اپنے نانا  رسول خدا(ص) کی قبر شریف کی زیارت کے مشتاق  ہو تی، تو رات کے  اندھرے میں،  اس شان وشوکت کے ساتھ جایا کرتی تھیں، کہ امام  علی(ع) اور حسنین(ع) ان کے ہمراہ ہوا کرتے تھے۔ اور جب رسول اللہ(ص) کی روضہ اقدس کے نزدیک ہو جاتے،تو امام علی(ع) آگے بڑھ کر قبر شریف  کے اطراف سے چراغ  بجھا یا کر تے تھے۔

 ایک دن امام حسن(ع) نے چراغ  خاموش کرنے کی علت پوچھی ،تو  امام علی(ع) نے  فرمایا:

 " «اَخشی اَن یَنظُر اَحَد اِلی شَخصِ اُختِکَ زَینَبَ" ۔ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کوئی اس روشنی میں،تمہاری خواہر گرامی کی طرف نگاہ کرے۔ [3]

       یہ تھی غیرت علوی اور حیاء زینبی  کی حد! آج  ہمارے   مَروں کو غیرت علوی،  اور ہماری ماں بہنوں کو ، حیاء  زینبی کی اشد ضرورت ہے۔ جس سوسائٹی کے اندر  انسانی اقدار، غیرت اور حیاء ختم ہوجائے، تو اس معاشرے  میں فساد، ظلم،بی عدالتی اور بے راہ روی کا عام ہونا، یقینی ہے۔  نیز اس سماج میں موجود افراد کی کوئی خیر نہیں ہوگی۔ جیسے روایت میں آیا ہے:" مَن لاحَیاءَ لَهُ لاخَیر فِیهِ" [4]جس انسان کے اندر حیا نہ ہو، اس کے اندر کوئی خیر نہیں ہوتی۔

   لہذ ان  مشکلات سے نمٹنے کا واحد راستہ، سیرت اہلبیت(ع) پر گامزن رہنا ہے۔

        یہی وجہ ہے کہ  روایات معصومین(ع) میں ، بے حیائی کو، بے دینی  اور بی ایمانی سے تعبیر کیا ہے۔

امام صادق (ع) فرماتے ہیں: "لاایمانَ لِمَن لاحَیاءَ لَهُ"۔[5]  جس کے پاس حیا نہیں ہے،  اس کے پاس ایمان نہیں ہے۔

     امام باقر (ع) فرماتے ہیں: "اَلحَیاءُ وَ الاِیمان مَقرُونانِ فی قَرنٍ فَاِذا ذَهَبَ اَحَدَهُما تَبَعهُ صاحِبهُ" ؛ [6]حیا اور ایمان  ہمیشہ ایک دوسرے کے قرین اور  ہمراہ ہوتے ہیں، اور اگر ان میں سے ایک چلا جائے، تو دوسرا  بھی اس کی تبعیت میں چلاجاتا ہے۔

  امام حسین (ع) فرماتے ہیں: "لا حَیاءَ لِمَن لادِینَ لَهُ" [7]جس کے پاس  دین نہیں ہے،  اس کے پاس حیا ءنہیں ہے ۔

پیامبر اکرم(ص) فرماتے: "الحَیاءَ عَشرَةُ اَجزاءٍ فَتِسعَة فِی النِّساءِ وَ واحِدٌ فی الرِّجالِ"؛[8]

 حیاء کے دس جزء ہوتے ہیں،ان میں سے نو جزء عورتوں کے حصے میں ، اور ایک جزء مردوں  کے حصے میں ہے.

  حیا  صرف عورتوں سے مخصوص نہیں ہے،  بلکہ مردوں کو بھی اس کی رعایت کرنا ضروری ہے۔

    قرآن مجید،  غالبا ْکلی طور پر مسائل کو بیان کرتا ہے،لیکن بعض حیاتی اور اسٹراٹیجک مسئلے کو  بطور جزئی  اور تمام خصوصیات کے ہمراہ بیان کرتا ہے۔  ان اہمیت کے حامل  مسائل میں سے ایک، حضرت شعیب(ع) کی بیٹیوں کے داستان اور حضرت موسی(ع) کے   ان  کے ساتھ  مبینہ  سلوک اور رفتار ہے۔

        قرآن کریم اس  ماجرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: جب حضرت موسی(ع)چاہ   مدین (مدین  شہر کی نواح میں واقع کنواں) پر پہنچے، تو ایک جماعت کو دیکھا،  جو اپنے مویشیوں کو  سیراب کرنے میں مشغول تھی ؛ ان   سے زرا  دور ، ایک مقام پر دو خاتون نظر آرہی تھیں ،جو  اپنے مویشیوں کی رکھوالی ،  اور  لوگوں کے کنویں سے دور ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔

  حضرت  موسی(ع) آگے بڑھ کر   ان سے  سوال کیا:تمہارے کام کیا ہے؟حضرت شعیب(ع) کی بیٹیوں نے کہا : ہم اپنے مویشیوں کو  تب تک پانی نہیں پلاتے،  جب  تک  لوگ کنویں کے پاس ہیں۔ حضرت موسی(ع) نے ان کی مدد کرتے ہوئے، مویشیوں کو سیراب کیا۔ ۔۔

     قرآن اس داستان کو جاری رکھتے ہوئے، حضرت شعیب(ع) کی ایک بیٹی کے واپس آنے  کی صورت حال  کی منظر کشی کرتے ہوے مزید ارشاد فرما رہا ہے:" فَجاءَتهُ اِحدا هُما تَمشی عَلَی اِستِحیاء قالَت اِنَّ اَبی یَدعُوک لِیَجزِیَکَ اَجرَما سَقَیتَ لَنا"۔[9]

   یکایک  ان  دو لڑکیوں میں سے ایک، "شرم و حیا  "کے ساتھ حضرت موسی(ع) کی خدمت میں آ کر عرض کیا : ہمارے والد نے آپ کو طلب کیا ہے ،تاکہ  اس  کام  کی اجرت ادا کیا جائے، جو آپ نے  جانورں کو سیراب کرنے کے سلسلے میں انجام دیا تھا۔

  اس آیہ شریفہ سے ہم چند اہم، حیا   اور پاکدامنی  کے نمونے دریافت کر سکتے ہیں:

1۔جب تک(نامحرم)  مردوں کی جماعت،  کنویں کے ارد گرد موجود تھی،حضرت شعیب(ع) کی بیٹیاں کنویں کے قریب نہیں گئیں۔

2۔ اس وقت اپنے جانوروں کو سیراب کرنے کیلئے تیار ہوئیں،جب سب لوگ وہاں سے چلے گیئے تھے۔

3۔شرم اور حیا  کے  ساتھ،  حضرت موسی(ع) کے پاس آگئی۔

4۔یہ نہیں کہا کہ ہم تمہاری مزدوری کو آدا کرنا چاہتے ہیں، بلکہ کہا: ہمارے والد آپ کو بلا رہے ہیں ، تاکہ  آپ کی اجرت ادا کریں۔

5۔جب حضرت موسی(ع) حضرت  شعیب (ع) کے گھر روانہ ہوئے، تو انہون نے بھی نہایت عفت اور حیا  کا  مظاہرہ کرتے ہوئے اس لڑکی سے کہا ،کہ میرے پیچھے پیچھے حرکت کرنا،تاکہ ان کی نظر اس لڑکی کے بدن پر نہ پڑھ  پائے۔

  ایثار و فدا کاری:

     حضرت زینب(‎س)  کی جملہ خصوصیات میں سے ایک ، ایثار اور فداکاری ہے،در حقیقت   فضیلت اور  خوبی ، ان زوات مقدسات کے وجود میں،  اتم اور اکمل طریقے سے موجود ہو تےہیں۔حضرت ز ینب(س) نے   اس خانوادے میں تربیت اور پرورش پائی ،جن کے ایثار اور فداکاری کو دیکھ کر  ،  اللہ  تعالی نے  قرآن مجید کے اندر ایک مکمل سورہ، "سورۂ الانسان" کے نام پر نازل کیا ہے۔

     جناب زینب(س) وہ  منفرد خاتون ہے،  جن کے نانا،والد، والدہ، اور  دو بھائی   معصوم  ہیں، اور ایسا ہونا ان کیلئے  ایک امتیاز شمار ہوتا ہے۔

     ایک دن حضرت علی(ع) نے ایک غریب اور نادار شخص کو  اپنے گھر لے کر آئے، تا کہ اس کو کھانے کیلئے کچھ دیا جائے۔

 جب حضرت زہرا(س) سے کھانے کا تقاضا کیا،   تو جواب ملا کہ گھر میں کھانے کیلئے کوئی چیز موجود نہیں ہے،مگر یہ کہ ایک مختصر سا کھانا ہے،  جو بیٹی زینب(س) کی خاطر بچا کر رکھا ہے۔

  حب سیّدہ زینب(س) نے  یہ گفتگو سنی، تو  فوراْ  فرمایا: میرا کھانا غریب مہمان کو دے  دیجئے؛  جب کہ ان کی عمر شریف صرف چار سال تھی۔

    ان  تمام صفات کے علاوہ اور بھی بہت  ساری  نیک خصوصیات ان بزرگوار میں پائی جاتی ہیں، جیسے صبر، بردباری، فصاحت و بلاغت اور سادہ زیستی وغیرہ۔

  اللہ ،ہم سب کو  اہل بیت(ع) کی سیرت پاک پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرما ئے۔آمین۔

11جنوری2019

          

حوالہ جات:


[1] عوالم العلوم و المعارف والأحوال من الآيات و الأخبار و الأقوال (مستدرك سيدة النساء إلى الإمام الجواد)، بحرانى اصفهانى، عبد الله بن نور الله‏، ج11، ص955، ايران؛ قم‏.
[10]. همان، ص 954.

[2] مجله فرهنگ كوثر شهریور 1376، شماره 6

[3] . شیخ جعفر نقدی، کتاب زینب کبری، ص 22، و ریاحین، ج3،ص 60.

[4] عبدالواحد آمدی، غررالحکم، ترجمه علی انصاری، ص 646.

[5] میزان الحکمه ص 717، روایت 4570.

[6] بحارالانوار، ج 78، ص 309.

[7] میزان الحکمه، ج 2، ص 717،

[8] میزان الحکمه، ج،2، ص 730، روایت 4603.

[9] قصص،آیت25۔