بسم الله الرحمن الرحیم

کربلای یمن کی فریاد.

 

قُتِلَ أَصحَابُ الْأُخْدُودِ، النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ، إِذْ هُمْ عَلَیهَا قُعُودٌ، وَ هُمْ عَلیَ‏ مَا یَفْعَلُونَ بِالْمُۆْمِنِینَ شهُودٌ، وَ مَا نَقَمُواْ مِنهُمْ إِلَّا أَن یُۆْمِنُواْ بِاللَّهِ الْعَزِیزِ الحَمِیدِ.[1]

 ترجمه: اصحاب اخدود هلاک کر دیئے گیے۔آگ سے بهری هوئی خندکوں والے۔ جن میں آگ بهرے بیٹھے ھوئے تھے۔

اور وه مومنین کے ساتھ  جو سلوک کر رهے تھے  خود اس کے گواه بهی هیں۔ اور انهوں نے ان سے صرف اس بات کا بدله لیا هے که وه خدا عزیز و حمید پر ایمان لائے تهے۔ [2]

۲۵ مارچ ۲۰۱۵، یه وه سیاه  دن هے جس دن آل سعود اور اسکے چیلوں (مصر، سوڈان،جیبوٹی،متحده عرب امارات، قطر اور بحرین) نے عالمی استکبار یعنی امریکه اورصهیونی ریاست کی ایما اور اشارے پر، ایک کمزوراور فقیر ملک یعنی یمن پر اپنے وحشیانه حملوں کا آغاز کیا. سب نے یه تصور کیا که یه ایک محدود جنگ هوگی جوصرف چند روز یا چند هفتون تک محدود رهے گی.لیکن یه تصور درست ثابت نهیں هوا بلکه یه عدم مساوات والی جنگ اورتجاوز، روز به روز شدت اختیار کرگئی. اور تین سال سے زیاده عرصه گذر جانے کے باوجود ابهی تک یمنی مظلوم اور بے کس عوام پر یه بے رحمانه حملے جاری ہیں.

 رهبر معظم انقلاب اسلامی حضرت امام خامنه ای (دام ظله الشریف) نے اپنی ایک تقریر میں یمنی قوم کو دنیا کی مظلومترین قوم قرار دیا. اور جمهوری اسلامی ایران کے وزیر دفاع کے بقول یه جنگ اس 8 ساله جنگ سے بهی زیاده بی منطقی (Illogic) هے جو صدام نے ایران پر جاری رکهی تهی, یعنی اسے بهی زیاده احمقانه جنگ هے جو آل سعود نے اس مظلوم قوم پر مسلط کر رکهی هے.

  یمنی قوم اکیسویں صدی کا سب سے مظلوم قوم اسلئے هے که ان کی فریاد سنے والا کوئی نهیں هے۔ اگر چه ملت فلسطین بهی مظلوم هے لیکن آج دنیا کا کوئی ملک ایسا نهیں هے جهاں ملت فلسطین سے اعلان همدردی او حمایت نه هوتی هو؛ اسکے علاوه اکثر و بیشتر دنیا کی میڈیا بهی مسئله فلسطین کو کوریج کرتے رهتے هیں۔ لیکن ستم ظریفی کی یه حد هے که  یمن کے مظلوم اور معصوم بچے ہر لمحے آل سعود کے بے رحمانه طمانچوں سے محفوظ نهیں هے۔ اور هر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرهے هیں۔ نیز یه بچے اسکول یا مدرسے جانے سے بهی محروم هوچکے هیں. یهان تک که اقوام متحده، یونسکو(unesco) اور human right commission  وغیره بهی خاموش تماشائی بنے هوے هیں۔ ان کی طرف سے سعودی جارحیت کو روکنے کے سلسلے مین کوئی ٹهوس اور عملی اقدام نهیں اٹها یےجارہے هیں. حال هی میں اقوم متحده سے منسلک اداره

 (United Nations emergency Children's Fund) (UNICEF) نے خبر دار کیا که 2لاکه سے زاید یمنی بچوں کی جان صرف خوراک کی قلت کی وجه سے خطرے میں هے اور هر دس منٹ کے بعد یمن میں ایک معصوم بچه بیماری اور قحط کی وجه سے مرجاتا هے،لیکن بعض قلیل ذرائع ابلاغ کے سوا باقی پوری دنیا کی میڈیا اور سوشل نیٹ ورک وغیره وہاں کی صورت حال کو پوری طرح نظر انداز کررہے ہیں۔

  میڈیا کی خاموشی

  افسوس کی بات تو یه هے که دنیا کے تمام تر میڈیا یمن کی صورت حال پر کسی قسم کا تبصره تک نهیں کرتے هیں اور سب نے خاموشی اختیار کرلیا هے۔ گویا یمن میں کوئی جنگ هی نهیں هے. دراصل آل سعود نے پٹرول ڈالر کے ذریعے ان سب کو خرید لیا هے اس کا ثبوت یه هے که چند روز قبل سٹلایت کمپنی نیل سیٹ(Nile set) نے یمنی ٹی وی چنل المسیره کی براٹ کاسٹنگ روک دی جوکه یمن کا ایسا واحد ٹیوی چینل ہے جو اپنی قوم کی مظلویت کی ترجمانی کرتا هے.

 چند سال پهلے فرانس کے دارالخلافه پایرس کی ایک اسٹیڈیم میں بم بلاسٹ هوا تها جس کے نتیجے میں متعدد لوگ مارے گئے تهے، تو ویسٹرن میڈیا سمیت دنیا کے تما ذرایع ابلاغ نے اس حادثےکو کوریج کیا تھا اور هفتون تک اسی پر تبصره کرتے رهے؛ دنیا کا کوئی ملک ایسا نهیں رها جهاں فرانس ایمبیسی کے احاطے میں ان قربانیوں کی یاد میں چراغانی  نه هوئی هوں. لیکن دنیا کی مکّاری اور دوروئی کی حد دکهيے، اب تک یمن میں هزاروں کی تعداد میں صرف معصوم بچے شهید هوچکے هیں، لیکن چراغانی کرنا تو دور، الٹا ظالم کا ساتھ دیکر مظلوم کی زخمون پر نمک چهٹکا رهیں هیں!

مظلومیت کے دو نمونے

   کچھ دن پهلے انٹرنت پر دو ایسے ویڈیو ویرل هوگیے جس نے هر باشعور انسان کے قلب کو جهنجوڑ کر رکھ دیا. اور جن کو دیکھ کر هر باوجدان انسان کے دل متاثرهوگیے .ایک ویڈیو میں یه دکها یا گیا که ایک یمنی ماں جوکه نهایت هی بی بس او جسم کی نقاہت کی اعتبار سے ضعیف نظر آرهی تهی، فقر اور فلاکت نے ان کو بیچاره گی کی کھائی میں دهکیل دیا تها. اس خاتون نے جب اپنے سینے کا دودھ خشک هوگیا تو بچے کی جان بچانے کی خاطرپستان کے بدلے اپنی انگلی کو اس ننے معصوم کے منہ میں رکھ کر مأیوسانه اندازاورحسرت بهری نگاه سے بچے کی طرف نظر کر رهی تهی اور آهیں سسک رهی تهی.

  دوسرے ویڈو میں ایک یمنی شخص جو که ایک 5 ماه کے بچهے کا باپ هے اور ایک پسمانده گاؤں میں زندگی گزارتا هے۔ جب فقر اور ناداری کے سبب بچے کی ماں کا دودھ خشک هوتا هے تو بچه روز به روز کمزور اور ناتوان هوتاجارها تها. جب بچے کی حالت انهائی بگڑ گئی تو یه جوان باپ  اپنے لخت جگر کی جان بچانے کی کوشش میں بچے کو اپنے سینے سے لگاکر مسلسل دو گھنٹے دوڈتا ہوا آکرشهر پهنچتاهے اوربیحال معصوم بچے کو ایک میڈکل سنٹر میں تحویل دیتا هے، لیکن بد قسمتی سے ڈاکٹروں کی سخت کو ششوں کے باوجود یه معصوم بچه آخر کار تاب نہ لاکر دم توڈ بیٹهتا هے۔ ڈاکٹروں نے ایک سفید کپڑے میں بچے کو لپیٹ کر باپ کے حوالے کردیتا هے۔ اور یه بیچاره باپ پر نم انکهوں کے ساتھ بچے کے ننے جنازے کو لے کر واپس جاتاهوا نطر آتا ہے. یه ان هزاروں درد مند صورت حال میں سے ایک چھوٹا سا نمونه هے.

 بی تحاشا بربریت کا نتیجہ

 آل سعود کے وحشیانه حملوں کے نتیجے میں اب تک هزاروں بے گناه لوگ، جن میں عورتوں اور بچوں کی تعداد زیاده هے، شهید هوچکے هیں. لاکهوں کی تعداد میں بے گناہ لوگ زخمی، نیز 2 ملین سے زیاده لوگ بے گهر هو چکے هیں. اس شجره ملعونه کے وحشیانه حملوں سے یمن کی کوئی بهی چیز محفوظ نهیں هے، بلکه هرخشک و تر کو جلاکر راکھ میں تبدیل کردیا هے.جیسے  ملک کے بیشترانفرااسٹکچرتباہ ہوچکےہیں،هزاروں مساجد مسمارهوچکی ہیں،لاکهوں رهایشی مکان تباه، سینکڑون هسپتالوں اور طبی مراکز، سینکڑوں کارخانه جات ، پولٹری فارم اور خوراکی گودام، هزارون پل اور مواصلاتی راه ، دینی مدرسے، بندر گاهیں، ایرپورٹ؛ اور یهاں تک که ان مراکزپربهی رحم نهیں کیا جن میں نوزاد بچوں کی خوراک اور باقی حیاتی سامان تیار هوتے هیں.

  اب اسے اندازه کر سکتے هیں که یه شجره خبیثه کس قدر بیرحم اور سفاک هے. یهی وجه هے که رهبرمعظم نے ملت یمن کو دنیا کی مظلوم ترین قوم میں شمار کیا چونکه یه قوم ایسے بی رحم دشمن سے روبرو هیں جن میں انسانیت که بو تک موجود نهیں هے. در اصل یه آل سعود اصحاب اخدود کا مصداق هے جس کو قران مجید میـں مرده باد کها هے.(بعض مفسرین کی نزدیک اصحاب اخدود وهی کافر قوم هے جو مومنین کو زندہ آگ کی گوال میں ڈال دیتے تھے) جس طرح سے اصحاب اخدود مومنین کو سلکتی ہوئی آگ میں ڈال دیتے تهے اور خود خوشیاں مناتے تهے. ان اهل ایمان کا قصور یه تها که وه الله عزیز وحمید پر ایمان رکهتے تهے.( وَ مَا نَقَمُواْ مِنهُمْ إِلَّا أَن یُۆْمِنُواْ بِاللَّهِ الْعَزِیزِ الحَمِیدِ.)

 اسی طرح آج آل سعود دور حاضر کے اصحاب اخدود بن کر یمنی مسلمان قوم پر هر قسم کے اسلحے، یهان تک که وه ممنوعه اسلحے جن کو سکیوریٹی کونسل   (United Nations Security Council نے ممنوع قرار دے دیا هےجیسے کلسٹر بم  وغیره ، بهی استعمال کرکے انسانیت کی دجهیاں اڑا رها هے. انکا قصور بهی یهی هے که یه لوگ مومن اور امیرالمونین علی(ع) کے پیروکارهیں، جو وهابی ناصبیوں کے نزدیک سب سے بڑا جرم هے. آل سعود اس حال میں طاقت کا بی تحاشا استعمال کررهاہے، جبکہ وه خود کو خطے کا سب سی طاقت ور ملک سمجهتا هے ان کا سالانه دفاعی بجٹ 65 بیلن ڈالرسے زیاده هے.اس کے مقابلے میے یمن خطے کا سب سے کمزور اور فقیر ملک شمار ہوتا ہے.اسی لیے اس  قسم کی جنگ کو نابرابری جنگ کهلاتے هیں.

 آل سعود ایک جدید جهالیت((Modern Barbarism

یه وہ اصطلاح هے جو رهبر انقلاب اسلامی، مغربی کلچر اور عالمی استکبار کے رفتار وغیره کو استعمال کرتے هیں. چونکه آل سعود خطے میں (میڈلیسٹ) میں امریکا کا اتحادی اور صهیونیسم کا نوکر هے، لہذا ان کی جاهلیت سب سے زیاده هے یهاں تک که صدراسلام کی جاهلیت اور مشرکین مکه سے بهی بدتر هے.اس لئے که لیلة المبیت کی رات جب امیرالمومنین علی(ع) بستر رسول(ص) پر سورہے تهے اور مشرکین مکه  برهنه تلواریں لے کر رسول الله(ص) کو قتل کرنے کی تیاری کررهے تهے.لیکن رات کے وقت پیامبر(ص) پر حمله نهیں کیا چونکه یه انکی مروت اور شرف کے خلاف تها که رات کے وقت جبکه افراد خانواده آرام کرهے هوتے هیں، اس وقت اهل خانه کو مزاحمت ایجاد کریں، لهذا صبح هونے تک صبر کیا. لیکن جاهلیت زمان کی پستی اور بی مروتی اتنی هے که رات کے وقت بهی یمنی گهرانوں پر بم برسا کر گهروں کو مسمار کردیتے هیں اور شادی بیاه وغیره کے مراسم کو مجلس عزاء میں تبدیل کردیتا هے.

 یمنی قوم کی بی مثال صبر اور استقامت

  آل سعود اپنے خام خیالی میں یه سوچ رها تها که یمنی عوام دباؤ میں آکر جلدی تسلیم هوجایے گی، اسی وجه سے جنگ کے ابتدایی ایام سے لیکر آج تک یمن کو زمین، دریا اور فضاء ، هر طرف سے محاصره کیا هواهے. لیکن یمنی عوام اور خاص کر انصار الله تنظیم کی بی باک حسینی جوانون نے  هلکے هتیار، ننگے پاؤں، "ھیھات منا الذلۃ" کے شعار کے ساتھ اور عاشورا سے درس حاصل کرتے ہوے حسینی عزایم  کے ساتھ ابهی تک بی مثال مقاومت کرکے آل سعود کو شکست اور دنیا کو حیرت میں ڈال دیا هے.

  بعض تجزیه نگاروں کا کهنا هے که آج یمن کی صورت حال 61 هجری کی کربلا کی مانند هے اور حادثه کربلا کے بعد سے آج تک اس جیسے ظلم، بربریت، فاقه کشی، غربت، بی چاره گی و ... تاریخ میں اس دهرتی پر دیکهنے کو نهیں ملا هے.

 یمن کی موجوده صورت حال حقیقی معنی میں  نسل کشی اور اکیسویں صدی کا سب سے بڑا انسانی المیه او ٹریجڑی هے.

 جس طرح کربلا میں امام حسین (ع) نے استغاثه کیا تها، آج یمنی مظلوم قوم  بهی استغاثه کررهی هے، مدد کے لئے پکار رهی هے. خاص کر ان معصوم بچوں کے والدین جنهوں نے اپنے نیمه جان بچوں کو ہاتهوں میں اٹها  کر دنیا سے مدد کی اپیل کر رهے هیں۔ آج یمنی معصوم بچوں کی آہ و بکاء ہر طرف گونج رہی ہے، لیکن کوئی ان کا پرسان حال نظر نہیں آ رہا هے.

 آج ملت مظلوم یمن دنیا کے مسلمانوں اور بطور خاص شیعیان حیدر کرار سے یه توقع رکهتی هے که وه انکی حمایت کریں اور ان کو اس مصیبت سے نجات دیں.

مظلوم کی حمایت کرنا هماری اخلاقی اور دینی فریضه هے لهذا آج هر مسلمان کو چاهے که وہ  مسلمانان یمن کی امداد رسانی کے لئیے کوشش کر کے سچے مسلمان هونے کا ثبوت پیش کریں.

 آل سعود سلطان ارّه(The monarch of saw )

  یه وه لقب هے جو بعض سیاسی تجزیه نگار اور صلح طلب شخصیتوں نے آل سعود کو رکھا ہے. اس کی وجه یه هے که حال هی میں آل سعود خاندان ایک اور بڑے جرم کا مرتکب هوا، وه یه که سعودی عرب کا ایک معروف جرنلیسٹ جس کانام جمال قشقچی تها، اس شخص کو آل سعود کی شیطانی سیاست پر تنقید کرنے کی جرم میں ایک سوچی سمجهی سازش کے تحت ترکی کے شهر استنبول میں موجود سعودی قونسل خانے میں انتهائی وحشیانه اور بیدردی کے ساتھ  قتل کر دیا گیا اس کے جسم کو برقی ارّه کے ذریعے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے.اس المناک حادثے کی پوری دنیا نے مذمت کی۔ سوای امریکا کے۔ چونکه امریکه خود اس جرم میں ملوث هے.بقول رهبر معظم انقلاب اسلامی،دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی شر واقع نهیں هوتا مگر یه که امریکا اس ميں شریک هوتا هے.جیسے یمن پر آل سعود کی جارحانه تجاوز میں بهی امریکا شریک هے.

 

قرآن مجید اور مظلوم کی حمایت

  قران مجید کی متعدد آیات اور احادیث معصومین(ع) همیں مظلوم کی مدد اور حمایت کرنی کی دعوت دیتی هیں.

 جیسے خداوند فرماتاهے:

«... إِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِى الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ... [3]

  اگر( مهاجرین میں سے) ایک(مومن) گروه اپنے دین کی حفاظت کے سلسلے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر لازم هے که انکی مدد کریں.

  اس آیت مبارکه میں خداوند تاکید کے ساتھ فرماتا هے که هر مسلمان پر واجب هے که  وه اپنے اس برادر دینی کی مدد کریں جو مظلوم واقع هوچکے هیں. ملت یمن مظلوم هونے کی ساتھ ساتھ مسلمان بهی هیں لهذا ان کی مدد کرنا  آیت کے مطابق همارا دینی فریضه هے.

  ایک اور آیت میں خداوند متعال ان لوگون کی شدت سے مذمت کرتا هے جو مظلوم کی مدد کر نے کے حوالے سے کوتاهی کرتا هے۔ یا ذمه داری کا احساس نهیں کرتا۔ اور عدم حمایت کے سلسلے میں ملامت کے ساتھ ساتھ  سخت لہجے میں سوال کر رها هے. چنانچه ارشاد رب العزت هے:

«وَ ما لَكُمْ لا تُقاتِلُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساءِ وَ الْوِلْدانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْ هذِهِ الْقَرْيه الظَّالِمِ أَهْلُها وَ اجْعَلْ لَنا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَ اجْعَلْ لَنا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيراً.[4]

ترجمه: اور آخر تمهیں کیا هوگیا هے که تم الله کی راه میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کیلئے جهاد نهیں کرتے هو جنهیں کمزور بنا کر رکها گیا هے اور جو برابر دعا کرتے هیں که خدا یا همیں اس قریے سے نجات دے دے جس کے باشندے ظالم هیں اور همارے لیے کوئی سرپرست اور اپنی طرف سے مددگار قرار دے دے.

 آیت سے ثابت هوتا هے که جو مسلمان مظلوم هو اور خدا کے علاوه کوئی ان کا پرسان حال نهیں هو، اور الله کی بارگاه میں دعا کے لیے ہاتھ اٹها نے کے سوا کوئی اور چاره انکے پاس نہیں  ہو، تو هر مسلمان پر واجب هے که ان کی هر جهت سے حمایت کریں اور ظالم کے ظلم و ستم سے ان کو نجات دیں.

آج یمنی بے کس قوم اس کا حقیقی مصداق هے جن کا کوئی مددگار نہیں اور رات دن الله سے دعا کرتی رہتی هیں که اس بری مصیبت سے نجات حاصل ہوجایے.

 مظلوم کی حمایت روایات کی روشنی میں

 امام على (ع)  ‌فرماتے ہیں: «اَحسَنِ العَدلِ نصره المظلوم؛[5]

 بهترين عدالت مظلوم کی یاری کرنا هے.

 اسی طرح امام جعفر صادق(ع) سے منقول هے:

«مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُعِينُ مُؤْمِناً مَظْلُوماً إِلَّا كَانَ أَفْضَلَ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَ اعْتِكَافِهِ فِى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَنْصُرُ أَخَاهُ وَ هُوَ يَقْدِرُ عَلَى نُصْرَتِهِ إِلَّا نَصَرَهُ اللَّهُ فِى الدُّنْيَا وَ الْآخِرَه.[6]

  کویئ بهی مومن،کسی مظلوم که مدد نهیں کرتا ، مگر یه که اس کا عمل مسجد الحرام کے اندر مسلسل ایک ماہ اعتکاف کی حالت میں روزه رکهنے سے( اسکا ثواب)  افضل اور برتر هے.اور کوئی مومن ایسا نهیں هے جو اپنے برادر مومن کی مدد کرسکتا هو اور وه اس کی مدد کرے،مگر یه که خدا وند متعال دنیا اور آخرت میں اس کی مدت کرتا هے.

رسول اكرم(ص) فرماتے هیں: «مَنْ أَصْبَحَ لَا يَهْتَمُّ بِأُمُورِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ بِمُسْلِمٍ.[7]

 اگر کوئی مسلمان اس حالت میں صبح کرے که مسلمانوں کے امور کے حوالی سے بی خبر هو، تو وه مسلمان نهیں هے۔( جوشخص مسلمانوں کی مشکلات کو اهمیت نهیں دیتا هے، وه حقیقی مسلمان نهیں هے)

امام على(علیه السلام) اپنے دو فرزند بزرگوار امام حسن اور حسین(علیهما السلام) سے مخاطب هو کر فرماتے هیں: «کُونا لِظّالِمِ خَصْماً وَ لِلْمَظْلُومِ عَوْناً»[8] ظالم کے دشمن اورمظلوم  کے مددگار بن کر رهیں .

 اس روایت میں صرف مسلمان مظلوم کا تذکره نهیں هو رها هے بلکه هر مظلوم کی حمایت کرنا ضروری هے چاهے وه غیر مسلمان کیوں نه هو.

 ایک اور روایت میں پیامبر گرامى اسلام(صلى الله علیه وآله) فرماتے هیں: «مَنْ سَمِعَ رَجُلاً یُنادى یا لَلْمُسْلِمینْ فَلَمْ یُجِبْهُ فَلَیْسَ بِمُسْلِم.[9]

اگر کوئی شخص ایک مظلوم که فریاد سن رها هو ،لیکن اسکی مدد کرنے کیلئے نه جایے تو وه مسلمان نهیں هے.

  ان روایات کے علاوه اور بهی کثیر تعداد میں روایات هماری معتبر کتابوں میں موجود هیں جو مظلوم که حمایت کرنے کی تأکید کرتی هیں،هم نے اختصار کی خاطر صرف ان میں سے چند پر اکتفا کیا هے.

 بہرحال قرآن اور احادیث معصومین (ع) سے یه ثابت هوتی هے که مظلوم کی حمایت اور ان سے دفاع کرنا هم سب پر واجب هے.لهذا الله اور اسکے رسول(ص) اور ائمه معصومین(ع) کی اتباع کرتے ہوے آج یمن میں ہورہے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور ان مظلوم قوم کی صدا کو دنیا کے گوشے گوشے تک پهنچا کر آل سعود اور عالمی استکبار کی مذموم سازشوں کو ناکام بنانے کے سلسلے میں اپنا رول اداکرنا ہمارا فریضہ ہے.

 همارے علمای کرام، مبلغین حضرات، سماج کے بااثر شخصیات اور خاص کر مذهبی ادارون سے بهرپوراستدعا کی جاتی ہے که وه اس سلسلے میں اپنا دینی اور اخلاقی فرایض کو انجام دیں. اور مادی اور معنوی اعتبار سے ان کلمه گو ستمدیده مسلمانوں کی مدد کریں.معنوی اعتبار سے یعنی توسل اور دعایه مجالس کا اهتمام کریں اور مادی طور عوام الناس سے حسب توفیق رقم جمع کرکے بالواسطه یا بلاواسطه  طور پر ان مفلوک الحال انسانوں تک پہنچا نے کی  ضرورکو شش کریں۔

مثال کے طور پر هم ایرانی هلال احمر کمیٹی (Iran Red Crescent society) کے ذریعے اپنے امدادی عطیے کو ارسال کروا سکتے هیں.

 اگر چه هماری مالی امداد وہاں کے اڑاهائی میلین بهوکے اور قحط زده لوگوں کی لئے ناکافی هے لیکن  ایک محدود انسانوں کو ضرور بچا سکتے هیں. همیں اس پرندے کی مثالی بننا چاهے جو اپنی چونچ میں پانی کے چند قطرے اٹها کر حضرت ابراهیم(ع) کو نمرود کی هولناک آگ سے نجات دینے کی خاطر آیا.اگرچه اس آگ کے مقابلے میں پانی کے چند قطرے کچھ بهی نهیں تها لیکن اسنے اپنی وسعت کی مقدار ضرور مدد کی او اپنے وظیفے پرعمل کیا. لهذا هم کو بهی  چاهیے  که اپنے وظیفے پر عمل کریں تاکه انشاءالله امام زمانه(ع) هم پر راضی هوں.  وما علینا الا البلاغ المبین.                                                                خادم آخوندی، قم المقدسہ.     9/12/2018                 

 

حوالہ جات



[1]سوره بروج؛ آیت 4،5،6،7،8

[2] ترجمه حضرت علامه ذیشان حیدر جوادی.

[3] انفال،آیت72.

[4] سوره نساء آیت75.

[5] غرر الحكم: ٢٩٧٧.

[6] ثواب الأعمال و عقاب الأعمال , ج 1 , ص 147

[7] کافی، ج 2، ص 163.

[8]  نهج البلاغه،نامه 47.

[9] کافى، ج 2، ص 164.