﴿بسم اللھ الرحمن الرحیم                      (مسئلہ غدیر اور آیہ بلّغ۔‘‘آقای محسن قرائتی’’)

چاپ:آفاق شمارہ: ۵۲ ،ص۲۴

غدیر کا مسئلہ آیۃ   بلٖغ کے پس منظر میں

يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكافِرِينَ (۱)

اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پرور دٖٖٖگار کی  طرف سے نازل  کیا گیا  ہے اور آپ نے  یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچا  یا اور   خدا آپ کو لوگوں کی شر سے محفوظ رکھے گا خدا کافروں کی ھدایت نہیں کرتا۔

     تمام علماء شیعہ اور 356 سنی علماء اس بات پر  متفق ہیں کہ آیہ مذکورہ   واقعہ غدیر خم کے بارے میں نازل  ہوئی  ہے  اور پیامبر اکرم ﷺ کی وفات سے صرف 70 روز پہلے نازل ہوئی ہے۔

    اس آیہ شریفہ کے پس منظر میں تین  اہم سوالات پوشیدہ ہیں  اور ان سوالوں کا  جواب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

 ۱۔ وہ کونسا مسئلہ تھا جو پیامبر اکرم ﷺ کی وفات سے 70 روز  پہلے تک  انجام نہیں پایا تھا؟

۲۔ وہ کونسا  عظیم مسئلہ تھا جو   بہ تعبیر آیہ مذکورہ، تمام زحمات پیامبرﷺ سے ہم پلہ ہے؟( وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ)

3۔ یہ کیسا مسئلہ تھا جس کے اظہار کر نے کے حوالے سے پیامبرﷺ خوف رکھتے تھے؟( وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ)

 لفظ (ما) یعنی   وہی چیز جو پیامبر(ص) پر نازل ہوئی تھی؛ یا اصول دین میں سے ہوگی یا فروع دین میں سے! یعنی توحید، نبووت، معاد۔ یا نماز، روزہ، جھاد، خمس، زکات، حج،امربہ معروف و نہی  از منکر۔۔۔

 ‘‘ما’’ سے مراد  ہرگز توحید نہیٖں ہو سکتا کیونکہ توحید کا مسئلہ رسالت  کی ابتدا ہی سے مطرح  ہوا تھا۔

 اسی  طرح نبوت اور معاد کا مسئلہ بھی، بعثت کے اوائل میں مکہ میں مطرح  ہو چکا تھا۔

اور فروع دین میں سے ۴ اہم امور یعنی جہاد، روزہ، خمس اور زکات بھی  ہجرت کے دوسرے سال میں مطرح ہو چکا تھا۔

  اسے مراد حج بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ لوٖگ حج  اد اکر کے  واپس لوٹ رہے تھے۔

‘‘ما’’ سے مراد  امر بہ معروف و نہی از منکر بھی   نہیں ہے کیونکہ ان  دو چیزوں کے حوالے سے کسی بھی خوف کا اندیشہ  نہیں ہے اسلئے کہ مدتون سے پیامبر اکرمﷺ کسی بھی خوف کے بغیر بت پرستوں سے مبارزہ کرتے آئے تھے۔

 امامت؛‘‘ تمام  عبادی امور میں اس   تسبیح کے دھاگے کی مانند ہے جو اس کے دانوں کے بنسبت  ہے’’۔

خدا وند فرماتا ہے‘‘وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ’’ اسے معلوم ہوتا  ہے کہ کُل دین حضرت علیؑ کی امامت سے منسلک ہے، اگر امام موجود ہو تو نماز حقیقی نماز ہوگی اور باقی  اعمال بھی با معنی اور مکمل ہو جا تا ہے۔

 آیت کے حوالے سے چند اہم  نکتے

۱۔ خدا وند متعال کا پیامبر (ص) سے ‘‘يا أَيُّهَا الرَّسُولُ’’ کہہ کر خطاب کرنا اس بات کی  طرف اشارہ  ہے کہ ‘‘امر’’ بین الاقوامی ہے نہ قومی یا گروھی چونکہ قومی یا گروھی مسائل کے بارے میں خدا ‘‘ یا ایھا النبی’’ کہہ کر خطاب کرتا ہے اور بین  الاقوامی امور کے بارے میں رسولاللہ سے ‘‘یا ایھا  الرسول’’ کے نام سے خطاب  کرتا ہے۔

۲۔چونکہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے لھذا اس کی اہمیت کو  مد نظر رکھتے ہوےفعل امر ‘‘ابلغ’’ کے  بجاے لفظ ‘‘بلغ’’ کا استعمال  کیا  ہے کہ شدت امر کی نشانی ہے۔

۳۔آیت میں لفظ ‘‘رب’’ کا استعمال کر کے خدا وندمتعال انسان کی تربیت کرنا چہتا ہے اور تربیت کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہدایت ایک لایق اور (توانمند) رہبر کے زریعہ ہو۔ یہ کہ   بشریت کے ہاتھ کسی غیر معصوم کے ہاتھ میں تھما دینا  بشریت پر ظلم ہے کیونکہ چاند ،سورج، ہوا،بادل اور زمین و آسمان سب انسان کی خاطر خلق ہوا ہے:‘‘خلق لکم’’  ‘‘سخر لکم’’ ‘‘متاعا لکم’’  اور   انسان کو خدا کی   عبادت کی خاطر خلق کیا ہے۔‘‘وما خلقت الاجن و الانس الا لیعبدون’’(۲)

۴۔سرزمین غدیر خم کا انتخاب اسلئے ہوا تھا کہ یہ جگہ ایک چوراہے پر واقع  تھا جہاں سے   ہر کسی کا راستہ جدا ہوتا تھا۔ ہر  قافلہ اپنے اپنے شہر یا سرزمین کی  طرف جانے کیلئے  اسی مقام سے ایک دوسرے سے جدا ہو تا تھا۔ اسکے علاوہ غدیر ایک تالاب کی مانند تھا جس میں لوگوں کے جانوروں کی خاطر پانی موجود تھا۔ اسکے علاوہ اگر کوئی کسی  نمائش کو انجام دینا چاہیں تو وہ نچلے سطح پر ہونا چاہیے اور تما شا گران اوپر والے سطح پر تاکہ اچھی طرح نمائش کا نظارہ کر سکیں  جیسے کہ کھیل کا میدان۔

 

 کوئی بھی ہو! اگر ولایت سے جدا  ہو  جایے تو اسکی رخصت ہوگی

خدا وند متعال پیامبر(ص) جوکہ اشرف المخلوقات ہے،سے  ارشاد فر ماتا ہے اگر  ولایت سے ہاتھ اٹھا لیا تو چھٹی ہو گی۔

‘‘وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ’’

 علیؑ توحید اور وحی کا ہم وزن !

 پیغمبرﷺ  وہ   عظیم  شخصیت ہے جس کو خدا وند متعال قرآن میں۲۴۰ مرتبہ اپنی زات سے نسبت دیتا  ہے:‘‘ربک’’۔در حالیکہ تمام ہستی کے بارے میں صرف ایک مرتبہ خدا اپنی زات کو   کائنات سے نسبت دیتا ہے:‘‘ رب المشارق و المغارب’’

پیامبر (ص) وہ    عظیم ھستی  ہے کہ قرآن اسکے  بدن کے تمام اعضاء کے بارے میں بات کرتا  ہے۔

«الم نشرح لک صد رک) ( الذی انقض ظهرک» «وجهک» «عینک»   «لسانک» (3)

« عنقک» «یدک» « نساءک» «بناتک» «قریتک» جبکہ خدا وند متعال نے کسی بھی پیامبر کِے بارے مین اس انداز میں بات نهیں کی هے۔

    خدا وند  متعال قرآن مجید میں تمام پیغمبروں کو انکے نام  سے یاد کیا  ہے  مانند: یا نوح ، یا ابراھیم ، یا موسی۔۔۔

لیکن کسی بھی جگہ  پیامبر(ص) کو یا محمد کہہ کر  خطاب نہیں کیا ہے  بلکہ  یا ایّھا  الرّسول کے نام سے یاد کیا ہے۔

   خدا وند  متعال کسی بھی پیامبر کی  قسم نہیں دیتا  ہے (نہیں کھایی ہے) جبکہ آن حضور کے بارے میں فر ما رہا ہے، لعمرک؛ تمھاری جان کی قسم۔!

 اتنے  بلند  مرتبے کا مالک، اشرف المخلوقات اور خدا کا  محبوب ہونے کے با وجود، تین مقامات  پرخدا پیامبر (ص) سے  (سخت لہجے میں بات کر رہا ہے) اور تنبیہ کررہا ہے۔

۱۔ اگر توحید سے دستبردار ہو جایے تو تمام اعمال  ضایع ہو جا ینگے۔ وَ لَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَ إِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْخاسِرِينَ۔(۴)

۲۔اگر بعض با توں کو ہم سے نسبت دے تو ہم تمہا رے  شہرگ کاٹ دینگے: وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنا بَعْضَ الْأَقاوِيلِ لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنا مِنْهُ الْوَتِين۔(۵)

۳۔ اگر امر ولایت کو ابلاغ  نہ کیا تو، رسالت کو انجام نہیٖں دیا: وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ۔

     ۵۔ اگر خدا ند متعال کلمہ  ‘‘و ان لم تبلغ’’ کے بجاے ‘‘وان لم تفعل ’’ سے استفاد کر رہا ہے، تو یہ اس بات کی طرف اشارہ  کر تا ہے کہ یہ کام صرف اعلان کر نے کا نہیں ہے بلکہ  عملی (انجام دینے کا )ہے، یعنی یہ کام ایک عظیم جمعیت  کی حضوری میں انجام دینا ہو گا۔

     ۶۔ مراسم، نماز  ظہر کے بعد انجام پزیر ہوا  ، یعنی کسی بھی ضروری  پروگرام کی انجام دہی اور کسی شخص کو معرفی کر نا ہو  یا (کسی اہم پیغام کو ابلاغ کرنا ہو) تو  مسلما نوں کے بھرے مجمع   میں جیسے نماز جمعہ  وغیرہ، میں  انجام ہو نا چاہیے۔

۷۔ آن حضورﷺ کا خطبہ بہت طو لا نی ہے اور اس میں بارہا  امام  زمانہ (عج) کا اسم گرامی  تکرار ہوا  ہے، جبکہ ابھی امام زمانہ(عج) کا تولّد  نہیں ہوا تھا۔ اور یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ  خط امامت امام علیؑ سے آغاز اور  امام مھدی(عج) پر تمام ہو گا۔

۹۔ ‘‘من کنت مولاہ فھذا علی مو لاہ’’ کی عبارت اس کی طرف اشا رہ ہے کہ   پیامبرﷺ علیؑ کی طرف اشارہ کرکے، تشابہ اسمی کے ایجا د ہونے سے باز رکھا ہے۔

لفظ مولا سے مراد  دوست نہ ہونے پر تین  دلیلیں

        پہلی دلیل: اھلسنت کے(بعض) علماء کے بقول، مولا سے مراد دوستی ہے۔لیکن    اولاً یہ کہ دوستی بیعت نہیں چہتی۔ یعنی دوستی میں بیعت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ،چونک ہم اپنی روزہ مرہ  زندگی میں بہت ساری چیزوں سے   دوستی رکھتے ہیں لیکن ان سے  بیعت نہیں کرتے۔ جیسے:    انسان  اپنے فرزند سے دوستی  کرتا ہے لیکن  اس میں بیعت در کار نہیں  ہے۔

    دوسری دلیل: غدیر خم  کے مقام پر  علیؑ کو بیعت   کرنے کے علاوہ  مبارک باد بھی دیا گیا جبکہ دوستی کے  سلسلے میں مبارک بادی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔

 تیسری دلیل: آنحضرت ﷺ کو اس   خبر کے اعلان کے   حوالے سے  خوف تھا۔ اگر   دوستی کی خبر  دینا  ہو  تو خوف کی کیا معنی ہو سکتی ہے؟ چونکہ   بحث   حکو مت اور  اقتدار کی تھی   اسی  لیئے  پیا مبرﷺ کو خوف تھا۔

کیوں قرآن میں حضرت  علیؑ کا نام  موجود نہیں ہے؟

     جواب؛  اولاً، ابو بکر کا نام بھی قرآن میں ذکر نہیں ہوا ہے۔ دوسری بات یہ کہ  ضروری  بھی نہین ہے کہ نام موجود ہو یا نہ ہو، مھم یہ  ہے کہ وہ صفات   جو ایک  او لی الامر کیلے قرآن مجید میں  ذ کر  ہوئی ہیں وہ  صفات صرف حضرت علیؑ میں ہی  مو  جود  ہیں۔

     حضرت علیؑ وہ شخص ہے جس نے  رکوع کی حالت سایل کو  اپنی  انگو ٹھی دے دی۔ ( صدقہ دیا)

 جب آیت نازل ہوئی  کہ  اگر کوئی یہ چہتا ہے کہ پیامبرؑﷺ کے ساتھ  نجوا کریں، تو صدقہ دے تو  علیؑ کے  سوا  کوئی بھی سوال پوچھنے کی خاطرصدقہ نہیں دیا۔

 امیرالمئو منین علی ؑ ۷۰ کمالات کے مالک  ہیں، اور ان کے سوا    پوری ہستی میں کوئی بھی  ان کمالات کے مالک نہیں ہے۔

   ‘‘کسی  بھی پیامبر کی زوجہ  معصومہ نہیں  ہے  لیکن حضرت علیؑ کی زوجہ محترمہ معصومہ ہے۔ اوراسی طرح وہ  دو معصو مون کے وا لد  بھی ہے’’۔

 ‘‘ سلونی قبل ان تفقدونی’’ کا ادعا صرف حضرت علیؑ نے کیا ہے۔

  قرآن مجید  میں ۱۸ مقامات پر لفظ ‘‘فوز’’استعمال  ہواہے جبکہ علیؑ نے کسی بھی کمال پر   لفظ‘‘فزت’’ سےاستفادہ  نہیں کیا لیکن جب شہید ہوے  تو فرمایا ‘‘فزت’’ واضح رہے کہ شہادت کا مقام تمام  کمالات سے بر تر ہے۔

اس دن کی چار اہم خصوصیات جو صرف حضرت علیؑ کی شخصیت پر منحصر ہے۔

      قرآن کریم نے  اس دن کو   الیوم سے  یاد کیا ہے جن میں چار خصوصیات  موجودہیں:‘‘ الیوم  أ کملت لکم دینکم’’  ‘‘ الیوم أتممت علیکم نعمتی’’  ‘‘الیوم رضیت لکم  الاسلام دیناً ’’  ‘‘ الیوم یئس  الذین کفروا ’’۔(6)

      اگر ہم پیامبر گرامی اسلام ﷺ کی پر برکت زندگی کو  بررسی کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی میں چند اہم واقعات رونما ہوے ہیں ،مانند:بعثت، علنی طور  پر( اسلام   کی طرف) دعوت کرنا، ہجرت،ولادت حضرت زہراؑ، جنگ بدر ، جنگ خیبر ، جنگ حنین، فتح  مکہ،برائت، اعمال حج اور  غدیر خم۔

     الیوم سے مراد  روز بعثت نہیں ہو سکتا اور نہ  وہ دن اتنا حساس تھا، کیونکہ پیامبرﷺ ابھی تازہ  رسالت پر مبعوث ہوے تھے، اور ایک جدید دین لایے تھے جو ابھی کامل  بھی نہیں ہواتھا۔۔۔

  تین سال بعد دعوت  علنی  واقع  ہوا   اور آنحضورﷺ تازہ مخفی گاہ سے  با ہر نکلے تھے۔ہجرت کے دن بھی دین کامل نہیں ہوا چونکہ اس وقت پیامبرﷺ کی جان خطرے میں تھا  ،لہذا ہجرت کر نے پر مجبور ہوئے۔

  حضرت زہرا(س) کی ولادت کے مو قع پر بھی کفار   نا امید(الیوم یئس الذین کفروا) نہیں ہوے تھے کیونکہ اس دن دشمنوں نے کہا تھا کہ اچھا  ہوا پیامبرﷺ کو اولاد  نرینہ نہیں ہے اور وہ ابتر ہے۔

  جنگ میں کامیابی  حاصل  ہونے سے  صرف  ان  دشمنوں کو ما یوس  ہونا پڑے گا  جو (مسلما نوں) مد مقا بل ہوے تھے نہ تمام کفار کو! چونکہ وہ اب بھی امید رکھتے تھے  کہ مسلما نوں کو شکست دے سکتے ہیں۔

       اہل سنت کہتے  ہیں کہ ‘‘ الیوم’’ سے مراد ‘‘حجۃ الوداع ’’ہے؛ اسلیئے کہ اس دن مسلمانوں نے  آنحضرتﷺ کی  بیعت کی تھی اور مناسک حج انجام  دیا تھا  اسلئے خدا وند فرما تا ہے کہ‘‘الیوم یئس الذین کفروا’’ آج کفار مایوس ہو گئے۔ اگر ایسا ہوتا تو  خدا وند  ایسا فرما تا:‘‘الیوم اکملت لکم  حجّکم’’ در حالیکہ  بات کل دین کے بارے میں ہو رہی ہے۔

   فتح مکہ سنہ  ۸( آٹھ) ہجری میں واقع ہوا ہے  اور اگر اس دن دین  کامل  ہوا تھا تو  وہ  تمام آیتیں  جو  پیامبرﷺ کی رحلت   تک  دسویں  ہجری  میں  نازل ہوئی تھیں، سب  بے ارزش ہو جا ئے گی۔

            ان تمام  استد لا لات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ‘‘ الیوم’’سے مراد ‘‘غدیرخم’’ ہی  ہوسکتا ہے۔ اس کے  سوا کوئی  دوسرا راستہ  موجود نہیں ہے کیونکہ کفار نے ہر وہ کام  انجام  دیے تھے جس کی   وجہ سے آنحضرتﷺ تبلیغ دین کا فریضہ انجام دینے سے  باز آجا یں، چنانچہ  انہوں نے پیامبرﷺ کو جھوٹا، شاعر، کاہن ، ساحر، مجنون، اور «یکلّمه بشر، أعانه قوم آخرون» کہتے تھے۔ لیکن یہ سب   ،  پیامبرﷺ کو تبلیغ دین کرنے سے روک نہیں سکے۔ ‘‘لیلۃ المبیت’’ میں  پیامبر ﷺکو جو  قتل کرنے کا منصوبہ   بنا یا تھا  آخر  وہ بھی نا کام رہا ،اورجنگ کرنا بھی بے نتیجہ تھا۔

        آخر تنگ آکر کہا کہ ان کو( فالحال) اپنی حالت پر چھوڈ دو کیونکہ اس کا کوئی اولاد نرینہ نہیں  ہے جو   بعد میں اس کا   جا نشین بن جا یے ۔لھذا جب یہ خود مرجایگا تو  خود بہ خود  اس کا دین بھی ختم ہو جا یے گا۔اس حالت میں جب  رسول اللہﷺ نے  امیر المومنین علیؑ کو بعنوان  جانشین معرفی کیا تو   (کفار) نا امید ہو گیئے اسلئے کہ اگر آن حضرتﷺ کا کوئی   بیٹا ہوتا  تو  حضرت علیؑ  سے بہتر  نہیں ہوتا۔

   قرآن کریم،امام زمانہ(عج) اور انکے آحر زمان میں ظہور ہونے کے بارے ارشاد فرما رہا ہے:‘‘ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضى‏’’ (۷)  اور  دوسری جگہ فرماتا ہے:ِ ‘‘الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً’’ اسے روشن ہوتا ہے کہ دین غدیر خم رضای الہی کا دین ہے  نیز  حضرت مہدی(عج)  بھی  ولایت علی ابن ابی طالب ؑ  کی ترویج دیتے ہیں۔

حوالہ جات:

۱۔مائدہ،آیت ۶۷۔

۲۔الذاریات، آیت۵۶۔

۳۔الشرح،آیت۱۔۲۔

۴۔الزمر،۶۵۔

۵۔ الحاقۃ، ۴۴۔۴۵۔۴۶۔

۶۔مائدہ،۳۔

۷۔ النور،۵۵۔