بسم الله الرحمن الرحیم

قوم کی بیداری، وقت کا تقاضا

    انسان کو تمام مخلوقات پر برتری اس لئے حاصل هے، چونکه اس کے پاس عقل هے اور یهی وه چیز هے جو انسان کو باقی مخلوقات سے الگ کر دیتی هے. الله تعالی نے انسان کی هدایت کی خاطر دوقسم کی حجت کومقرر کیا هے.ایک حجت ظاهری هے جس سے مراد انبیاء و اولیاء(ع) هیں۔ دوسری حجت، باطنی هے جو هر انسان کے اندر پایی جاتی هے، وه انسان کی عقل هے۔ اگر انسان ان دونوں حجت الهی کی پیروی کرے تو وه انسان هر گز گمراهی کا شکار نهیں هوگا. نیز اسی بناء پراس کو اشرف المخلوقات یا فرشتوں پر برتری حاصل هوگئی هے.اب جبکه انسان کے پاس عقل موجود هے جوهرلمحه انسان کو صحیح سمت کی طرف راهنمائی کرتی رهتی هے۔ اور بی راه روی سے منع کرتی رهتی هے،اب یه انسان کے اختیارمیں هے که یا عقل کے پیروکاربن کر اپنی دنیا اور آخرت کی زندگی کو آباد کرے یا اپنی خواهشات نفسانی کےغلام بن کراپنی هلاکت کا خود زمینه فراهم کرے.

    الله تعالی کا ارشاد هے: هم نے انسان کو راسته دکهایا هے، چاهے هدایت پاکر، شاکربن کررهے یا گمراه هو کر کفرکے جرگے میں زندگی گزارے.( إِنَّا هَدَیْنَاهُ السَّبِیلَ إِمَّا شَاكِراً وَ إِمَّا كَفُوراً ). هدایت اور گمراهی کو تشخیص دینے کے حوالے سے همیں بصیرت اور بیدارهونے کی ضرورت هے. یعنی خود غفلت کے خواب سے بیدارهواوران افراد کو بهی بیدارکرے جو غفلت کا شکارهوکراپنےارد گرد کے ماحول اور قوم کے نفع نقصان سے بے خبر هے. اسلام کے نقطه نگاه سے دنیا میں ذلیل و خوارہو کر جینا یہی گمراهی هے۔ اور عزتمندانه زندگی گزارنا،خدمت خلق، سماجی مشکلات کا ازاله کرنا وغیره ، هدایت اور قابل تحسین عمل ہے.

   آج هماری قوم کے اندر بیداری ایجاد کرنا، انقلاب اور تبدیلی کا احساس پیدا کرنے کی اشد ضرورت هے اور یه تبدیلی اورانقلاب تب تک حاصل نهیں ہونگے جب تک هم خود اس سلسلسے میں کوشش نه کریں. یه سنت الهی کے خلاف هے که خود بخود کسی قوم کے اندر تغیر و تبدیل ایجاد هوجایے۔ بلکه هر قوم کو خود تحریک چلانے کی ضرورت هے، دوسرے الفاظ میں قوم خود ظلم ، تبعیض اور فساد کے خلاف اٹھ کهڑے هوجایے. اس حوالے سے خداوند متعال فرماتا هے: «ان الله لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا بانفسهم»،

 خداوند کسی قوم کی حالت کو تبدیل نهیں کریگا مگر یه که قوم خود اپنی وضعیت میں تبدیلی ایجاد کرے.       

  آج همارے سماج کے اندر تبدیلی کے زمینے فراهم هوتے نظر آرهے هیں، جوان طبقے کے اندر بیداری کی کرن نظرآرہی ہے،آج هماری قوم ماضی کی طرح هر ناانصافیوں اور ظلم وستم کے مقابلے میں خاموش رہنے کے لئے تیار نهیں هے. یه سب ایک چیز کی علامت هے وه هے انقلاب کا رجحان، یعنی تبدیلی؛ روشن مستقبل کی سمت ایک مثبت قدم. اور یه وقت کی اهم ضرورتوں میں سے هے.

 انقلاب ایک عجیب لفظ نہیں هے بلکه اسے مراد تبدیلی او ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹ جانے کا نام انقلاب یا (Revolution )هے. همارے سماج کے اندر ہر قسم کے انقلاب کی ضرورت بے. جیسے سیاسی، ثقافتی، اقتصادی، اور فکری. اج بعض مفاد پرست عناصر، سیاسی اور مذهبی لبادے میں آکر هماری فکر کو سابوتاج کر رهے ہپں، دراصل ان کو نه دین کا پته هے اور نه سیاست کا، ان کی نگاهیں همیشه اپنی جیب پر ٹکی رهتی هے! لهذا فکری آزادی اور انقلاب سب سے ضروری هے.

  حقیقت میں اگرهم انقلابی بنا چاهیں تو همیں دنیا کی بعض غیور قوم کی طرف ضرور نظر کرنا چاہیے اوران کو اپنے لئے آیڈیل قرار دینا چاہیے. جیسے ایرانی قوم اور لبنانی شیعه قوم.

  تاریخ گواه ہے که آج سے چند سال پهلے لبنان کے اندر بهی شیعه قوم کی حالت اس سے بهی بدتر تهی، جتنی آج هماری قوم کی هے. اس قوم کی ساتھ بهی نا انصافیاں، تبعیض اورظلم کی اتنها هو رهی تهی.اس قوم کوحقیقی معنوں میں مستضعف بنا دیا تها، هر قسم کی مشکالات اور پریشانیوں کا سامنا کرنےپرمجبورتهی، فقر اورغربت کی یه نا گفته به حالت تهی که جنوب لبنان سے لوگ بیروت کے نواحی علاقوں کی طرف هجرت کرنے پرمجبور تهے۔ اوراپنے بچوں کو بهیگ منگوانے پر مجبور کرتے تهے ، یهاں تک که خواتین غذا اور پیسوں کی خاطر جسم فروشی پر مجبور تهیں.

   لبنان کے ایک ممتاز عالم دین علامه شرف الدین اپنی ایک یاد داشت میں فرماتے ہیں: جب میں نے لبنان کے شیعہ قوم کی حالت کا جائزه لیا تو مجهے معلوم ہوا که یه قوم هر جهت سے پسمانده اور غریب هیں، سرکاری ملازمت میں شیعوں کی تعداد نه هونے کے برابر تهی۔ اور وه  بهی نچلے سطح کے پوسٹوں پرتعینات تهے. یعنی جهاں بهی بقال،خاکروب،چپراسی،چوکیدار وغیره نظر آتے، سب شیعه مسلک سے تعلق رکهتے تهے اور بڑے بڑے سرکاری عهدوں پر باقی مسلک سے تعلق رکهنے والے لوگ فائز تهے.علامه فرماتے هیں: میں نے سوچا که اگر میں ایک گوشے میں بیٹھ کر کتاب لکھتا رهوں یا ایک محدود طالب علموں کو تدریس کرتا رهوں، تواس بیچاره قوم کو کوئی فائده نهیں هوگا. بلکه اس کا علاج یه هے که لبنان کے شیعه آبادی والے علاقوں میں کچھ بنیادی کام هونا لازمی هے تا که حالت میں تبدیلی آجایے. اس کے بعد علامہ نے قوم کیلئے ایک مفید اور ثمربخش کام کرنےکی ٹهان لی. انهوں نے سب سے پهلے تعلیمی نظام کو اصلاح کر نے کی کوشش کی.هر جگھ تعلیمی مراکز کا اهتمام کیا.قوم کے بچوں کو تعلیم حاصل کر نے کی تشویق دے دی. کچھ عرصے کے بعد ان طالب علموں نے اسکولوں، کالجوں اور یونورسیٹیوں کا رخ کیا.اور تعلیمی میدان میں خاطر خواه کامیابی حاصل کی.ان کے بعد باقی علماء جیسے امام موسی صدر، سیدعباس موسوی وغیره نے قوم کے لئے انتھک محنت کی.اسی دوران سرزمین ایران میں انقلاب آیا اور لبنانی شیعہ قوم نے سب سے پهلے حضرت امام خمینی(ره) کی حمایت کی اور نظام ولایت فقیه سے مستفید هوے۔ اور مختلف میدانوں میں ملت ایران کو اپنے لئے نمونه اور آیڈیل قرار دیکر کامیابی کے بڑےبڑے منزلوں کو طے کیا.

 آج هم دیکھ رہے هیں که یه قوم پوری دنیا میں کس مقام پر کهڑی هے. دنیا کا هر باضمیرانسان لبنانی قوم ، حزب الله اور قائدمقاومت اسلامی سید حسن نصرالله(حفظہ اللہ) کی تعریف کرتا هے اور ان کو سلام پیش کرتا هے.

   بی شک آج لبنانی قوم نے اپنے آپ کو انقلابی کهلانے کے لائق بنادیاهے.انهوں نے عملی میدان میں ثابت کیا که حقیقی انقلابی اور ولایت فقیه کے پیروکارهیں. یه ان دلسوزعلماء کی کاوشوں کا نتیجه هے که آج شیعیان لبنان، لبنان کے اندر سربلندی اورعزت کی زندگی بسر کر رهے ہیں.آج ملکی سطح پرحزب الله کی مشارکت کے بغیر کوئی بهی فیصله لینا ناممکن هو گیا ہے.آج پارلیمنٹ کے اندر پڑی تعداد میں اراکین پارلیمٹ شیعیان سے منسلک هیں، پارلیمنٹ کا اسپیکرهمیشه شیعه هوتا هے، کابینے کے اندر بهی ان کے وزراء موجود هیں۔ اس کےعلاوه مختلف شعبه جات جیسے دفاعی،ثقافتی اوردینی وغیره میں بهی پیشرفت حاصل ہورهی هے.

 لبنانی قوم کی ان کامیابیوں کا راز یه هے که یه لوگ آپس میں متحد هیں اپنی علماء کرام پر بروسه رکهتے هیں اور اس کامرانی کی سب سے بڑی علت، نظام ولایت فقیه سے منسلک رهنا هے.

  اگر چه همارے معاشرے میں بھی انقلابی کے دعویدار کم نهیں هیں لیکن فرق اتنا ضرور هے که لبنانی انقلابی لوگ صرف نعرے نهیں دیتے بلکه عملی میدان میں انقلابی شاهکار دکهاتے هیں.جبکه همارے بعض لوگ انقلابی هونے کے دم تو ضرور بهرتے هیں لیکن عملی میدان میں ابهی بهت پیچهے هیں.

 انقلاب اسلامی صرف یه نهیں ہے که هم، ایران زنده باد امریکا مرده باد کھیں؛ یا 22 بهمن (یوم الله) مناییں یا روز قدس کی موقع پر جلسه جلوس کریں،امام خمینی (رح) اور امام خامنه ای(حفظه ا...) کی تصویریں اٹها کرریلیوں میں حاضری دیں، یه تو صرف انقلاب اسلامی کے ظاهری کرشمے اور نشانی هیں.اور هم نے اسی کو سب کچھ سمجھ کر اسی حد تک اهمیت دیتے هیں دوسرے الفاظ میں همیں انقلاب کا ارث صرف اتنا نصیب هوا هے. جبکه انقلاب کے آثار و کرامات سے پوری دنیا استفاده کررهی هے. انقلاب کی برکت سے جمهوری اسلامی ایران نےتمام تر پابندیوں کے باوجود ان چالیس سالوں میں مختلف میدانوں میں اتنی بی مثال ترقی کی هے کہ دنیا اس کو دیکھ کرمبهوت هے.جمهوری اسلامی اج سائنس اور تکنولوجی کے شعبے میں مڈلیسٹ میں پہلی پوزیشن اور پوری دنیا مین پندره ویں یا سولویں پوزیشن پر هے. نینو اور ایٹمی ٹکنالوجی اور دفاعی سکٹر میں دنیاکی دس ممتاز ممالک میں شامل هیں اور یه سب انقلاب کی بدولت هے. اگر هم نے حقیقت میں انقلاب اسلامی کو درک کیا هوتا تو آج هماری یه حالت نهیں هوتی.   

  اب آیے هم اپنے معاشرے کی موجوده صورت حال پر بحث کرتے هیں، آج کا سب سے بڑا اور اهم مسئله جو آج کل خبروں کی سرخیوں میں هے، وه یونورسیٹی کا مسئله هے جو که ریاستی گورنر جناب ستیاپال ملک صاحب نے "لیہ" شهر میں بنانے کا عندیه دیا ہے.اس مایوس کن فیصلے کو لیکر آج کل ضلع کرگل کےعوام خاص کر نوجوانوں کے درمیان کافی غم وغصه پایاجارها هے جس کا اندزه، هم سوشل میڈیا یا باقی ذرایع ابلاغ میں موجود بیانات سے بخوبی کرسکتے هیں۔

 اگر چه یه ناانصافی پرمبنی فیصلے،اس سے پهلے بهی وقتا فوقتاﱠ، چاهے اسٹیٹ گورنٹمنٹ هو یا سنٹرگورنمنٹ، کی طرف سے لیتے رهے ہیں۔ جیسے خطه لداخ کے نام پر جتنے بهی امتیازات سرکار کی طرف سے آجاتی ہیں، (جیسی لداخ اسکوٹ،سویل ایرپورٹ،سنٹریل جیل،رسوئی گیس کا ہیڈکواٹروغیره) وه سب لیه کو حاصل هو تی هیں۔ گویا لداخ سے مراد صرف له هے جبکه جیوپوٹکل، آیئن اور قانونی اعتبارسے، جب لداخ کا نام لیا جاتا ہے تو اس میں کرگل بهی شامل هے. یهاں تک که وکیپیڈیا میں بهی لداخ سے مراد کرگل اور لیه  دونوں هے. لیکن ان سب کے باوجود حکومت کی طرف سے ضلع کرگل کے سات امتیازی سلوک ہو رہا ہے. اب یونورسیٹی کا فیصله تو گونر انتظامیه کی طرف سے لیا گیا ہے جو که تعجب کی بات نهیں هے. لیکن اس سے پهلے بهی جبکه ریاست میں سیول سرکار بر سراقتدار تها اس وقت بهی ریاستی حکومت لیه کو هی اهمیت دیتی رهی هے.جبکه سالوں سے لیه والے UT (مر کزی زیر اهتمام علاقے جیسے دمن ،دیو، گوا،پانڈیچری وغیره) کی مانگ کر رهے هیں اور ریاست جمو و کشمیر سے الگ هونے کا نعره لگا رهے هیں. جبکه هم نے همیشه ریاست کے ساتھ رهنے کے حق میں فیصله دیا هے اور ریاست کے بٹوارے کی سختی سے مخالفت کی هے.

  همارے خلاف جتنے بهی نا انصافیا‎ں هو رهے هیں، ہو سکتا هے یه سب ایک سوچی سمجھی سازش کی تحت هو رہی هوں.شاید شیعه قوم کو همیشه پسمانده رکهنے کی کوشش ہورہی هو،شاید نامحسوس طور پرعالمی صهیونیزم اور استکبار، ان عوامل کے پیچهے چهپے هوے هوں؛ اور همیں معلوم نه هو.

  لهذا همیں هر لمحے بیدار رہنے کی ضرورت هے.همیں فرعونی سیاست کا ڑٹ کر مقابله کرنا هوگا. جو کچھ آج کل هماری قوم کے ساتھ ہورها هے و فرعونی سیاست کا حقیقی مصداق هے.

فرعون نے بهی بنی اسرائیل کی قوم کو دو حصوں میں تقسیم کیا تها یک گروه کا نام سبطی تها جو حضرت موسی(ع) کی پیروگار تهے اور دوسرے گروه کا نام قبطی تها، فرعون صرف قبطیوں کو هرقسم کے امکانات فراهم کرتا تها اور سبطیوں کو موحد هونے کے جرم میں هر قسم کے امتیازات سے محروم کرتا تها اور ان پر ظلم کرتا تها.

  آج وهی فرعونی سیاسی رفتار همارے ساتھ بهی هو رها هے. اب وقت آگیا هے که هم آپسی اختلافات کو بالای طاق رکھ  کر متحد هوجائیں اور سب مل کر قوم کی فلاح و بهبود کی خاطر تلاش و کوشش کریں.همارے مذهبی اور سیاسی اداروں کو چاهے که هوش کے ناخن لیکر قوم و ملت کو مذید تباهی سے بچانے کے سلسلے میں ٹھوس اقدام اتهایئں. علمای کرام کو اپنی زمه داری نبهانے کا وقت ٱگیا هے۔ اب مذید خاموشی جایز نهیں هے. لبنان کے دلسوزعلماء کی طرح قوم کی عزت وآبرو کیلئے میدان میں آجایئں. اداروں یا سیاسی دهڑوں کا متعدد هونا کوئی نقصان نهیں هے بشرط اینکه ان سے مذهبی، قومی اور علاقائی تعصب ختم هو جایے.لبنان میں بهی شیعوں کی مختلف جماعت هیں لیکن یه لوگ چهوٹے چهوٹے مسائل کو لے کر آپس میں نهیں الجتے ہیں.لبنان میں جزب الله کی جماعت ایک ایسی جماعت هے جو "الامل مومنٹ" سے جدا هوکر وجود میں آگئی تهی.«حرکت امل»جس کی بنیاد امام موسی صدر نے رکهی تهی جن میں جزب الله کے موجودہ اراکین بهی شامل تهے.لیکن بعد میں حزب الله الگ هوگئی تهی.اور ابهی تک یه دونوں جماعت موجود هیں.لیکن دونوں آپس می متحد اور یدواحده بن کر قوم کی سر بلندی کی سلسلے میں کسی قسم کی کوتاهی نهیں کرتے ہیں.

  همارے مذهبی اداروں کو ان لبنانی قوم سے درس لینا چاهے. اور قومی مفاد کے سلسلے میں متحد هوکر دشمن کے ناپاک سازشوں کو ناکام بنادیں. ابهی ایک بهت بڑا امتحان همارے سامنے هے وہ پارلمانی الکشن هے۔ اس بار تمام سیاسی اور مذهبی جماعتوں کی یه ذمه داری هے که  کرگل ہی سے کسی لائق اور دلسوز فرد کو اس عهدے کے لئے انتخاب کریں اور سب مل کر اسی کو کامیاب بنایں. اختلافات کو مزید هوا دیکر قوم کو مزید نا امید نه کریں، غیورنوجوانوں کی ناراضگی میں مزید اضافه نه هونے دیں.

  آج تک جتنے بهی نا انصافی همارے ساتھ هوئی هے وه هماری کوتاهیوں کی وجه سے هوئی هے، جن میں همارے نام نهاد سیاسی رهنما، مذهبی ادارے، سماجی سرگرم کارکنان اور کچھ حدتک عوام بهی مقصر هیں؛ هم لوگوں کو همیشه کم پر راضی هونے کی عادت هوگئی هے، همارے ارباب سیاست حکومت سے بڑی بڑی مانگیں کرنے کے سلسلے میں کتراتے هیں۔ لهذا نا امید هوکر چهوٹی اور کم ارزش چیزوں کو زیاده اهمیت دیتے هیں.جبکه لیه کے سیاسی رهنما‏ سرکار کے پاس بڑی بڑی مانگیں لیکر جاتے هیں اورکافی حد تک کامیاب رهتے هیں.هماری سب سے بڑی اور دیرینه مانگ زوجله ٹنل هے جو که سالوں سے چل رهی هے۔ لیکن ابهی تک نا کامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا ہے.جبکه سنٹرل گورنمنٹ اور اسٹیٹ گورنمنٹ دونوں نے لیه خطے پر بے حساب بجٹ صرف کیا هے.حال ہی میں یه خبرمنظرعام پرآگئی که حکومت،  "لیه" خطے میں ریلوے لین بچهانے جا رہی ہے جس پر پچاسی هزار کروٹ روپیے سے زیاده خرچ هونے کا تخمینه لگایا جارها هے۔ اور حکومت اس پر کام کرنے کے حوالے سے غور کر رهی هے. یهی حکومت، لیه والوں پر اتنی بڑی رقم صرف کرنے پر تیار هے، لیکن زوجله ٹنل جوکه کرگل کے رگ حیات کی مانند هے، اس پر صرف ساڑھے چارهزار کروٹ روپیے خرچ کرنے پر تیار نهیں هے. یه ناانصافی اورDiscrimination  کی ایک کهلی دلیل هے.

  لهذا یونورسیٹی همارا بنیادی حق هے اور اپنے حقوق سے دفاع کے لئے سب کو میدان میں آنا هوگا. هرشهری اپنی بضاعت کے مطابق اس مشکل اور حیاتی مسئلے کو ملحوظ خاطر رکھ کر اپنے وظیفے پرعمل کریں.چاہیں کونسل هو یا مذهبی ادارے، عوام هو یا خواص، اهل قلم هو یا اهل فن، سب کو اپنا کردار ادا کرنا هوگا۔ تاکه آینده همارے ساتھ نا انصافی نه هو. اور آینده ظلم کے خلاف خاموشی اختیارکرنے کی همیں دوباره عادت نه پڑھ جایے. والسلام.

  خادم آخوندی؛ قم مقدس؛

 17/12/2018