۔ کیا قرآن مجید میں تحریف ھوئی ھے؟

شیعہ وسنی علماکے یھاں مشھور و معروف یھی ھے کہ قرآن مجید میں کوئی تحریف نھیں ھوئی ھے، اور مو جودہ قرآن کریم وھی قرآن ھے جو پیغمبر اکرم (ص)پر نازل ھوا ، اوراس میں ایک لفظ بھی کم و زیاد نھیں ھوا ھے۔
قدما اور متاخرین میں جن شیعہ علمانے اس حقیقت کی وضاحت کی ھے ان کے اسما درج ذیل ھیں:
۱۔ مرحوم شیخ طوسی(رہ) جو ”شیخ الطائفہ“ کے نام سے مشھور ھیں، موصوف نے اپنی مشھور و معروف کتاب ”تبیان“ میں وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ھے۔
۲۔ سید مرتضیٰ (رہ) ، جو چوتھی صدی کے عظیم الشان عالم ھیں۔
۳۔ رئیس المحدثین مرحوم شیخ صدوق محمد بن علی بن بابویہ (رہ) ، موصوف شیعہ عقیدہ بیان کرتے ھوئے فرماتے ھیں: ”ھمارا عقیدہ یہ ھے کہ قرآن مجید میں کسی طرح کی کوئی تحریف نھیں ھوئی ھے“۔
۴۔ جلیل القدر مفسرقرآن مرحوم علامہ طبرسی، جنھوں نے اپنی تفسیر (مجمع البیان) کے مقدمہ میں اس سلسلہ میں ایک واضح اور مفصل بحث کی ھے۔
۵۔ مرحوم کاشف الغطاء جو علمائے متاخرین میں عظیم مرتبہ رکھتے ھیں۔
۶۔ مرحوم محقق یزدی(رہ) نے اپنی کتاب عروة الوثقیٰ میں قرآن میں تحریف نہ ھونے کے اقوال کو اکثر شیعہ مجتھدین سے نقل کیا ھے ۔
۷۔ نیز بہت سے جید علماجیسے ”شیخ مفید(رہ)“ ، ”شیخ بھائی“، قاضی نور اللہ“ اور دوسرے شیعہ محققین نے اسی بات کو نقل کیا ھے کہ قرآن مجید میں کوئی تحریف نھیں ھوئی ھے۔


اھل سنت کے علمااور محققین کا بھی یھی عقیدہ ھے کہ قرآن کریم میں تحریف نھیں ھوئی ھے۔
اگرچہ بعض شیعہ اور سنی محدثین جو قرآن کریم کے بارے میں زیادہ معلومات نھیں رکھتے تھے، اس بات کے قائل ھوئے ھیں کہ قرآن کریم میں تحریف ھوئی ھے، لیکن دونوں مذھب کے عظیم علماکی روشن فکری کی بنا پر یہ عقیدہ باطل قرار دیا گیا اور اس کو بھُلادیا گیا ھے۔
یھاں تک کہ مرحوم سید مرتضیٰ ”المسائل الطرابلسیات“ کے جواب میں کہتے ھیں: ”قرآن کریم کی نقلِ صحت اتنی واضح اور روشن ھے جیسے دنیا کے مشھور و معروف شھروں کے بارے میں ھمیں اطلاع ھے، یا تاریخ کے مشھور و معروف واقعات معلوم ھیں“۔
مثال کے طور پر کیا کوئی مکہ اور مدینہ یا لندن اور پیرس جیسے مشھور و معروف شھروں کے وجود میں شک کرسکتا ھے؟ اگرچہ کسی انسان نے ان شھروں کو نزدیک سے نہ دیکھا ھو، یا انسان ایران پر مغلوں کے حملے ، یا فرانس کے عظیم انقلاب یا پھلی اور دوسری عالمی جنگ کا انکار کرسکتا ھے؟!
پس جیسے ان کا انکار اس لئے نھیںکر سکتے کہ یہ تمام واقعات تواتر کے ساتھ ھم نے سنے ھیں، توقرآن کریم کی آیات بھی اسی طرح ھیں ، جس کی تشریح ھم بعد میں بیان کریں گے۔
لہٰذا جو لو گ اپنے تعصب کے تحت شیعہ اھل سنت کے درمیان اختلاف پیدھا کرنے کے لئے تحریف قرآن کی نسبت شیعوں کی طرف دیتے ھیں تو وہ اس نظریہ کو باطل کرنے والے دلائل کیوں بیان نھیں کرتے جو خود شیعہ علماکی کتابوں میں موجود ھيں ؟!
کیا یہ بات جائے تعجب نھیں ھے کہ ”فخر الدین رازی“ جیسا شخص (جو ”شیعوں“ کی نسبت بہت زیادہ متعصب ھے) سورہ حجر کی آیت نمبر ۹ کے ذیل میں کہتا ھے کہ یہ :آیہ ٴ شریفہ شیعوں کے عقیدہ کو باطل کرنے کے لئے کافی ھے ،جو قرآن مجید میں تحریف ( کمی یا زیادتی) کے قائل ھیں۔
تو ھم فخر رازی کے جواب میں کہتے ھیں: اگر ان کی مراد بزرگ شیعہ محققین ھیں تو ان میں سے کوئی بھی ایسا عقیدہ نھیں رکھتا ھے، اور اگران کی مرادبعض علما ء کا ضعیف قول ھے تو اس طرح کا نظریہ تو اھل سنت کے یھاں بھی پایا جاتا ھے، جس پر نہ اھل سنت توجہ کرتے ھیں اور نہ ھی شیعہ علماتوجہ کرتے ھیں۔
چنا نچہ مشھور و معروف محقق ”کاشف الغطاء“ اپنی کتاب ”کشف الغطاء“ میں فرماتے ھیں:
”لارَیبَ اٴنَّه (اٴی القرآن) محفوظٌ مِنَ النُّقْصَانِ بحفظِ الملک الدَّیان کما دَلَّ علَیه صَریحُ القُرآنِ وَإجمَاع العلماء فِی کُلِّ زمان ولا عبرة بنادر“[1]
”اس میں کوئی شک نھیں ھے کہ قرآن مجید میں کسی بھی طرح کی کوئی تحریف نھیں ھوئی ھے، کیونکہ خداوندعالم اس کا محافظ ھے، جیسا کہ قرآن کریم اور ھر زمانہ کے علماکا اجماع اس بات کی وضاحت کرتا ھے اور شاذو نادر قول پر کوئی توجہ نھیں دی جاتی“۔
تاریخ اسلام میں ایسی بہت سی غلط نسبتیں موجود ھیں جو صرف تعصب کی وجہ سے دی گئی ھیں جبکہ ھم جانتے ھیں کہ ان میں سے بہت سی نسبتوں کی علت اور وجہ صرف اور صرف دشمنی تھی، اور بعض لوگ اس طرح کی چیزوں کو بھانہ بنا کر کوشش کرتے تھے کہ مسلمانوںکے درمیان اختلاف کر ڈالیں۔
اورنوبت یھاں تک پھنچی کہ حجاز کا مشھور و معروف موٴلف ”عبد اللہ علی قصیمی “ اپنی کتاب ”الصراع“ میں شیعوں کی مذمت کرتے ھوئے کہتا ھے:
”شیعہ ھمیشہ سے مسجد کے دشمن رھے ھیں! اور یھی وجہ ھے کہ اگر کوئی شیعہ علاقے میں شمال سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک دیکھے تو بہت ھی کم مسجدیں ملتی ھیں“ !![2]
ذرا دیکھے تو سھی ! کہ شیعہ علاقوں میں کس قدر مساجد موجود ھیں، شھر کی سڑکوں پر، گلیوں میں اوربازاروں میںبہت زیادہ مسجدیں ملتی ھیں، کھیں کھیں تو مسجدوں کی تعداد اتنی ھوتی ھے کہ بعض لوگ اعتراض کرنے لگتے ھیں کہ کافی ھے، ھمارے کانوں میں چاروں طرف سے اذانوں کی آوازیں آتی ھیں جن سے ھم پریشان ھیں، لیکن اس کے باوجود مذکورہ موٴلف اتنی وضاحت کے ساتھ یہ بات کہہ رھے ھیں جس پرھمیں ھنسی آتی ھے چونکہ ھم شیعہ علاقوں میں رہ رھے ھیں، لہٰذا فخر الدین رازی جیسے افراد مذکورہ نسبت دینے لگیں تو ھمیں کوئی تعجب نھیں ھونا چاہئے۔[3]

 

2۔ قرآن کریم کس طرح معجزہ ھے؟

ھم پھلے قرآن کریم کی عظمت کے سلسلہ میں چند نامور افراد یھاں تک کہ ان لوگوں کے اقوال بھی نقل کریں گے کہ جن لوگوں پر قرآن کریم سے مقابلہ کرنے کا الزام بھی ھے :


۱۔ ابو العلاء معرّی (جس پر قرآن کریم سے مقابلہ کرنے کا الزام بھی ھے) کہتا ھے:
اس بات پر سبھی لو گ متفق ھیں (چاھے وہ مسلمان ھوں یا غیر مسلمان) کہ حضرت محمد (ص)پر نازل ھونے والی کتاب نے لوگوں کی عقلوں کو مغلوب اور مبھوت کردیا ھے، اور ھر ایک اس کی مثل و مانند لانے سے قاصر ھے، اس کتاب کا طرز ِبیان عرب ماحول کے کسی بھی طرز بیان سے ذرہ برابر بھی مشابہت نھیں رکھتا ، نہ شعر سے مشابہ ھے، نہ خطابت سے، اور نہ کاھنوں کے مسجع سے مشابہ ھے،اس کتاب کی کشش اور اس کا امتیاز اس قدرعالی ھے کہ اگر اس کی ایک آیت دوسرے کے کلام میں موجود ھو تو اندھیری رات میں چمکتے ھوئے ستاروں کی طرح روشن ھوگی!“۔


۲۔ ولید بن مغیرہ مخزومی، ( جو شخص عرب میں حسن تدبیر کے نام سے شھرت رکھتا تھا)اور دور جاھلیت میں مشکلات کو حل کرنے کے لئے اس کی فکر اور تدبیر سے استفادہ کیا جاتا تھا، اسی وجہ سے اس کو ”ریحانہ قریش“ (یعنی قریش کا سب سے بہترین پھول) کھا جاتا تھا، یہ شخص پیغمبر اکرم (ص)سے سورہ غافر کی چند آیتوں کو سننے کے بعد قبیلہ ”بنی مخزوم“ کی ایک نشست میں اس طرح کہتا ھے:
” خدا کی قسم میں نے محمد (ص) سے ایسا کلام سنا ھے جو نہ انسان کے کلام سے شباہت رکھتا ھے اور نہ پریوں کے کلام سے، ”إنَّ لَه لحلاوة، و إِنَّ علیه لطلاوة و إنَّ اعلاه لمُثمر و إنَّ اٴسفله لمغدِق، و اٴنَّه یَعلو و لا یُعلی علیه“ (اس کے کلام کی ایک مخصوص چاشنی ھے، اس میں مخصوص خوبصورتی پائی جاتی ھے، اس کی شاخیں پُر ثمر ھیں اور اس کی جڑیں مضبوط ھیں، یہ وہ کلام ھے جو تمام چیزوں پر غالب ھے اور کوئی چیز اس پر غالب نھیں ھے۔)[4]


۳۔ کارلائل۔ یہ انگلینڈ کا مورخ اور محقق ھے جو قرآن کے حوالہ سے کہتا ھے:
”اگر اس مقدس کتاب پر ایک نظر ڈالی جائے تو اس کے مضا مین بر جستہ حقائق اور موجودات کے اسراراس طرح موجزن ھیں جس سے قرآن مجید کی عظمت بہت زیادہ واضح ھوجاتی ھے، اور یہ خود ایک ایسی فضیلت ھے جو صرف اور صرف قرآن مجید سے مخصوص ھے، اور یہ چیز کسی دوسری علمی، سائنسی اور اقتصادی کتاب میں دیکھنے تک کو نھیں ملتی، اگرچہ بعض کتابوں کے پڑھنے سے انسان کے ذھن پر اثر ھوتا ھے لیکن قرآن کی تاثیر کا کوئی موازنہ نھیں ھے، لہٰذا ان باتوں کے پیش نظر یہ کھا جائے کہ قرآن کی ابتدائی خوبیاں اور بنیادی دستاویزات جن کا تعلق حقیقت، پاکیزہ احساسات، برجستہ عنوانات اور اس کے اھم مسائل و مضامین میں سے ھے ھر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ھیں، وہ فضائل جو تکمیل انسانیت اور سعادت بشری کا باعث ھیں اس میں ان کی انتھا ھے اور قرآن وضاحت کے ساتھ ان فضائل کی نشاندھی کرتا ھے۔[5]


۴۔ جان ڈیون پورٹ: یہ کتاب ”عذر تقصیر بہ پیش گاہ محمد و قرآن“ کا مصنف ھے، قرآن کے بارے میں کہتا ھے: ”قرآن نقائص سے اس قدر مبرا و منزہ ھے کہ چھوٹی سی چھوٹی تصحیح اور اصلاح کا بھی محتاج نھیں ھے، ممکن ھے کہ انسان اسے اول سے آخر تک پڑھ لے اور ذرا بھی تھکان و افسردگی بھی محسوس نہ کرے“۔[6]
اس کے بعد مزید لکھتا ھے: سب اس بات کو قبول کرتے ھیں کہ قرآن سب سے زیادہ فصیح و بلیغ زبان اور عرب کے سب سے زیادہ نجیب اور ادیب قبیلہ قریش کے لب و لہجہ میں نازل ھوا ھے اور یہ روشن ترین صورتوں اور محکم ترین تشبیھات سے معمور ھے“۔[7]


۵۔ گوئٹے: جرمنی شاعر اور دانشور کہتا ھے:
”قرآن ایسی کتاب ھے کہ ابتدا میں قاری اس کی وزنی عبارت کی وجہ سے روگردانی کرنے لگتا ھے لیکن اس کے بعد اس کی کشش کا فریفتہ ھوجاتا ھے او ربے اختیار اس کی متعدد خوبیوں کا عاشق ھوجاتا ھے“۔
یھی گوئٹے ایک اور جگہ لکھتا ھے:
”سالھا سال خدا سے نا آشنا پوپ ھمیں قرآن اور اس کے لانے والے محمدکی عظمت سے دور رکھے رھے مگر علم و دانش کی شاھراہ پر جتنا ھم نے قدم آگے بڑھایاتو جھالت و تعصب کے ناروا پردے ہٹتے گئے اور بہت جلد اس کتاب نے جس کی تعریف و توصیف نھیں ھوسکتی دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیا اور اس نے دنیا کے علم و دانش پر گھرا اثر کیا ھے او رآخر کار یہ کتاب دنیا بھر کے لوگوں کے افکار کا محور قرار پائے گی“۔
مزید لکھتا ھے: ”ھم ابتدا میں قرآن سے روگرداں تھے لیکن زیادہ وقت نھیں گزرا کہ اس کتاب نے ھماری توجہ اپنی طرف جذب کرلی اور ھمیں حیران کردیا یھاں تک کہ اس کے اصول اور عظیم علمی قوانین کے سامنے ھم نے سرِتسلیم خم کردیا۔[8]