Description: C:\Users\muntazir mahdi\Downloads\زینب کبرا.jpg*بسم الله الرحمن الرحیم. *

(تحریر:خادم حسین آخوندی)

حضرت زینب(س)، مظہر علم  و کمالات

دو عالم بر علیؑ نازد، علیؑ بر همسرش نازد               علیؑ و همسرش زہرا(س)، به زینبؑ  دخترش نازد.

 مقدمہ:

    یه  ایک مسلَمه حقیقت هے، کہ انسان اپنی ‌زندگی کو بہتر اور سعادتمند بنانے کے لئے‎ ضروری ہے، کہ وہ کسی ایسے شخص کو اپنا آیڈیل قرار دے،  جو خود صاحب کمالات ہوں۔ تاکہ انسان،‏ اس انسان کامل کی پیروی کرتے ہوے، ان تمام کمالات کو اپنے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا، جو اس ہستی کے اندر پایے جاتے ہیں۔تاکہ وہ اپنی زات کو بھی اس مرحلہ کمال پر پہنچادے، جس کمال کی اونچی چوٹی پر وہ عظیم ھستی فائز ہے۔

     ہر انسان کو اپنے ہدف اور مقصد کو پانے کی خاطر،بعض ایسے مراحل  کو طے کرنا پڑھتا ہے، جن کو تنہا طے کرنا اس کیلئے  نہ صرف دشوار ہوتا ہے، بلکہ  غیر ممکن ہوتا ہے۔لہذا س منزل مقصود  تک پہنچنے کے سلسلے میں بعض ایسی شخصیتوں کا سہارا لیتا ہے، جو خود اس مطلوبہ ہدف میں کامیاب ہوچکی ہوں۔نیز  اس شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مربی یا استاد کی صحیح ڈنگ سے شاگردی ،اور ظریف و حساس نکات کو سیکھنے کی کوشش کرے،جو اس مقصد کو پانے کی راہ میں کارآمد ثابت ہوں۔

    بہرحال،  انسان کو اللہ تعالی نے اس دنیا  میں اشرف  المخلوقات کے عنوان سے مزین کر کے بھیجا ہے ،اوراس کے ساتھ ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی اس پر عائد کر رکھی ہے۔ ان ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوے، انسان کو  اس مقصد کی جانب آگے بڑھنا ہے، جس مقصد  والا کی خاطر اس کو خلق کیا گیا ہے۔

   اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنی لطف و کرم سے، اپنے بندوں کی ہدایت اور راہ نمائی کیلئے کچھ ہستیاں اس کائنات کے اندر بھیجی ہیں،جن کو انسان اپنے لئے نمونہ عمل قرار دے کر،  نیز  ان کی اطاعت کر کے اپنی زندگی کو اس راہ  پر گامزن کردیتا ہے، جو سعادت اور خوشبختی کے منزل تک لے جاتی ہے۔ ان عظیم ہستیوں سے مراد انبیا‏ءا ور اولیا‏ء الہی کے علاوہ اور بھی کچھ صاحب عظمت، اللہ کے مخلص بندے ہیں، اگر چہ یہ بندے صاحب عصمت  نہیں ہیں،  لیکن ان کے عظیم اور مثالی کارنامے، عالم بشریت کے لئے لمحہ فکریہ بنا ہوا ہے؛  اور یہ حضرات ہدایت کےسرچشمے ہیں۔اگر ہم دنیا اور آخرت کی سرخ رویی کے متمنی ہیں ،تو ان کی  ہی دہلیز پر حاضری دینا ، اور انکو اپنی زندگی میں نمونہ قرار دیکر جینا، ہمارے لئے ناگزیر بن جاتا ہے۔

ان عظیم ہستیوں میں سے ایک، جن کے تاریخی  بے مثال کارنامے کسی پر ڈھکی چھپی نہیں ہے، وہ نامدار ہستی ، عقیلہ بنی ہاشم ،عالمۃ غیرمعلمۃ ، صدیقہ صغراء، حضرت زینب  سلام اللہ علیہا ہیں۔

  حضرت زینب(س) کا اجمالی تعارف:

       آپ(س) نےچھٹی صدی ہجری میں خانہ بطول(س) میں آنکھیں کھولیں۔جس دن حضرت زینب(ع) کی ولادت ہوئی، اس دن رسول گرامی اسلام(ص) سفر پر تشریف لے گئے تھے۔حضرت زہرا(س) نے امیر المؤمنین علی(ع) سے درخواست کی کہ اس مولودہ مبارکہ کا نام معین کیا جائے، لیکن مولای کائنات(ع) نے فرمایا:میں آپ کے والد ماجد پر سبقت نہیں لے سکتا، لہذا بہتر ہے کہ رسول خدا(ص) کے واپس تشریف آوری تک صبر کیا جائے، تاکہ خود آنحضرت(ص) انکا نام انتخاب کریں۔

    جب رسول گرامی اسلام(ص) ،سفرسے واپس تشریف لےآئے،  تو حضرت علی (ع) نے آگے بڑھ کر بچی کی ولادت کی خبر  دےدی۔

   پیامبر گرامی اسلام(ص) نے ارشاد فرمایا: اولاد فاطمہ(س)، میری اولاد ہیں،لہذا  خدا وند متعال کی زات خود اس حوالے سے فیصلہ کرے گا ۔ چند لمحے کے بعد جبرئیل امین،  اللہ کی طرف سے پیام لے کر نازل ہوئے،  اور عرض سلام اور ادب کے بعد فرمایا: اللہ رب العزت نے بچی کا نام "زینب" انتخاب کیا  ہے، اور لوح محفوظ پر یہ نام ثبت ہوچکا ہے۔

    اسی دوران رسول اکرم(ص) نے نورچشم فاطمہ زہرا(س) کو گود میں لے کر بوسہ دیا ، اور فرمایا:میں وصیت کرتا ہوں کہ سب لوگ اس  بچی کا احترام کریں، چونکہ یہ بچی  جناب خدیجہ(س) کی مثل ہے۔

     واضح رہے کہ رسول خدا(ص) نے یہ مطلب اس لئے ارشاد فرمایا کہ جس طرح حضرت خدیجہ کی فداکاری اور  بے پناہ قربانیاں،رسول خدا(س) کے بلند اہداف اور اسلام کی پیشرفت کے سلسلے میں ثمر بخش تھیں،  بالکل اسی طرح  ثانی زہرا حضرت زینب(س) کے صبر اور استقامت، اسلام کی بقاء اور جاودانی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

  زینب کی معنی:

    زینب کی معنی باب کی زینت ہے، اور خداوند متعال نے یہ نام ایک ایسی خاتون کے لئے انتخاب کیا ہے ، جو ختم رسالت کےبعد، تاریخ بشریت کی خاطر زینت کا باعث ،نیز خاندان ولایت  کے لئےباعث افتخارہیں۔

     یہی وجہ ہے کہ جناب زینب ‎(س) کے نام گرامی، تاریخ نہضت عاشورا میں ہمیشہ محور توجہ اور درخشاں نظرآتا ہے۔

 حضرت زینب(س) نے اپنی بچپن کی زندگی، نانا اور مادرگرامی کے آغوش میں گزاری اور ان کے نورانی ماحول میں پرورش پائی۔

   آپ(س) نے سنہ 17 ہجری میں اپنے چچازاد ،عبد اللہ بن جعفر سے شادی کی۔ جب حضرت علی ابن ابی طالب(ع) ظاہری خلافت پر فائز ہوئے، تو امام(ع) مدینہ سے کوفہ کی جانب تشریف لےآئے ، اور شہر کوفہ کو اپنی حکومت کا دار الخلافہ مقرر کیا،اس موقع پر جناب زینب(س) بھی والد گرامی کے ہمراہ کوفہ تشریف لے آئیں۔

      حضرت زینب(س) صاحب معرفت، اور مظہر علم و کرامت تھیں،چنانچہ جس زمانے میں کوفہ میں زندگی گزاررہی تھیں، وہاں لوگوں کی علمی اور عملی خدامات انجام دینے کے سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزار نہیں کیا۔ حضرت زینب(س) کوفہ کے اندر  تفسیر قرآن، احکام اور مختلف علوم کے درس دیتی  تھیں۔  ان کی معرفت کے کمالات کا اندازہ اس طرح سے کیا جاسکتا ہے کہ، ایک دن حضرت علی(ع) نے ان سے یوں سوال کیا: اے میری بیٹی !کیا تم اپنے بابا سے  محبت کرتی ہیں؟ تو جناب زینب(س) نے  جواب مثبت  دےدیا۔ پھر امام(ع) نے جناب زینب(س) سے مخاطب ہو کر فرمایا:" والدین اپنی اولاد کو دل سے محبت کرتے ہیں!" اس پر حضرت زینب(س) نے فرمایا:" محبت اورعشق حقیقی، مخصوص خدا کی ملکیت ہے،اور اظہار  انس والفت ،اولاد کی خاطر ہے۔

    جب حضرت علی(ع) کے سر مبارک پر ضربت لگی،   تو اس مشکل اور کٹھن موقع پر بھی جناب زینب(س) اپنے بابا کو دلاسہ اور تیمارداری کرتی رہیں۔اسکے علاوہ حضرت امام حسن مجتبی(ع) کے عصر میں بھی ہمیشہ اپنے بھائی کے یار و ناصر بن کر رہیں۔

    جس وقت حضرت امام حسین(ع) نے مدینہ سے عراق کی طرف سفر کرنے کا عزم کیا،تو جناب ابن عباس نے امام(ع) کو  مسافرت سے منصرف ہونے کا مشورہ دیا، اور  جب امام(ع) نے  سفر کے حوالے سے اپنے مصمم ارادے کا اظہار کیا ، تو جناب ابن عباس نے بچوں اور عورتوں کو مدینے میں چھوڑ کر  تشریف لے جانے کی سفارش کی، اس وقت حضرت زینب(س) نے یہ تاریخی جملہ فرمایا:میں ہرگز  اپنے ویر حسین(ع) سے جُدا نہیں ہوسکتی ہوں، یہ کہہ کر اپنے شوہر جناب عبد اللہ بن جعفر کی خدمت میں جاکر ان سے اجازت لے کر امام حسین(ع) کے ہمراہ  سفر کیا، نیز ہر منزل پر نہضت امام حسین(ع) کی نصرت کی۔

     جیسے کہ ہم نے  پہلے  بھی  اس بات کی طرف اشارہ کیا ، کہ حضرت زینب(س)علم و کمالات کے مالک تھیں،ایسا ہونا، ان صاحب عصمت او رطہارت ہستیوں کو ہی زیب دیتا ہے۔حضرت زینب(س) کی پرورش ایسے گھرانے میں ہوئی  ، جس کے مکینوں کو اللہ نے  ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ  قرار دےدیا ہے۔ اگر چہ جناب زینب(س) عصمت کے اس درجے پر فائز نہیں تھیں،جس پر رسول خدا(ص)،حضرت زہرا(س) اور ائمّہ معصومین(ع)،فائز تھے۔لیکن اس کے باوجود ان کے وجود مقدس میں بھی عصمت کا عنصر پایا جاتا ہے۔چنانچہ ان کے القاب میں  سے ایک"معصومہ صغرا"ذکر ہواہے۔ ان کے القاب جو تاریخی کتابوں میں نقل ہوے ہیں ، وہ اسطرح سے ہیں: محدثہ،عالمۃ غیر معلّمہ،عقیلۃ النساء، الکاملۃ الفقاہۃ، صدیقۃ صغرا،نائبۃ الزہراء،فاضلہ، فہیمہ،عابدہ۔۔۔

محدّثہ:

    حضرت زینب(س) کے جملہ القاب میں سے ایک معروف لقب،محدّثہ ہے۔ اس  کی علت یہ ہے کہ ان سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔جیساکہ تاریخ کے مشہورترین راوی اور مفسّر قرآن، جناب ابن عباس نے خطبہ حضرت زہرا(س) کے سلسلے میں یوں فرمایا ہے:"حدثنی عقیلتنا زینب(س)"۔

عبادت:

     حضرت زینب(س) انتہائی  پارسا اورعبادت گذار خاتون تھیں، ہمیشہ  اللہ کی عبادت میں مصروف رہتی تھیں۔ انہوں نے اپنی پر برکت زندگی میں، کھبی بھی نافلہ شب ترک نہیں کیا۔ چنانچہ امام سجاد(ع) فرماتے ہیں: میری پھوپھی امّا  سے ،کسی بھی حالت میں نمازشب فوت نہیں ہوئی، یہاں تک کہ شب عاشور جب حضرت امام حسین(ع) ان کی خدمت میں رخصتی کے لئے حاضر ہوئے،  تو آپ(ع) نے بہن زینب(ع) سے مخاطب ہوکر یوں فرمایا:" يَا اُختَاه‏، لَا تَنسِينِی‏ فِي نَافِلَة الَّليل"ای خواہر گرامی! نماز شب میں مجھے فراموش نہیں کرنا۔

    اسی طرح جناب فاطمہ بنت  امام حسین(ع) سے مروی ہے : "اَمَّا عَمَّتِي زِينَب فَاِنَّها لَم تَزل قَائِمِة فِی تِلکَ الَّليلَة، (اَی العاَشِرَة مِنَ اَلمُحَرَّمِ) فِی مِحرَابِها" ہماری پھوپھی  زینب(س) نے اس رات(شب عاشور)(پوری رات)  جاگ  کرعبادت میں  گذاری۔[1]

    امام سجاد(ع) فرماتے ہیں: حضرت زینب(س) نے کربلا سے کوفہ،  اور کوفہ سے شام کے راستے میں بھی نمازشب ترک نہیں کیا اور چنانچہ بعض مقامات پر جسم کی کمزور ی اور نقاہت کی وجہ سے بیٹھ کر نمازادا کی۔[2]

 شجاعت حضرت سیّدہ  زینب(س):

      یہ ایک ناقابل انکار اور  مسلم بات ہے،  کہ حصرت زینب(س) شجاعت اور  بے باکی کے اعتبار سے، ایک بے نظیر خاتون تھیں، اس بات کا اعتراف دشمنان اھلبیت(ع) نے بھی کیا ہے۔ بھا‏ئی کی شہادت کے بعد، جس شجاعت اور جرئت کا  جناب زینب(س) نے مظاہرہ کیا، وہ تاریخ  بشریت میں ایک اہم نمونہ ہے۔

    عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی کا بھرا گھر اجڑ جاتا ہے،  اور اپنے آپ کو  دشمن کی اسارت میں پاتاہے، تو اس ستم دیدہ انسان کے وجود میں ہمیشہ خوف اور بےچینی کا عنصر پایا جاتا ہے۔    ایسی کیفیت کا پیدا ہونا،  ایک  عادی اور  معمولی امر ہے۔ لیکن جب ہم  داستان کربلا کی طرف نظر  ڈالتے ہیں، تو ہمیں قضیہ برعکس نظر آتا ہے۔ جناب سیدہ زینب(س)  نے کربلا کی ٹریجڈی کے  بعد ایک ایسی غیر معمولی کیفیت اپنے اندر پیدا کی، کہ اعداء آل محمد (ص)، بھی  دنگ ہو کر  رہ گئے۔ جناب زینب(س) نے نہ صرف اپنے آپ کو  اسیر کہلانا گوارا نہیں کیا، بلکہ پیامبر کربلا  بن کر دنیا والوں پر یہ ثابت کردیا کہ کون حق پر ہے، اور کون باطل پر۔

      اگر امام حسین(ع) نے اپنے پاک لہو  کے ذریعے،  اسلام کو  زندہ کیا ہے، تو  سیّدہ زینب(س) نے اس  خون پاک کی عملی تفسیر کر تے ہوئے، اپنے حیدری لہجے میں، گفتار کے ذریعے، اسلام کی ڈوپتی ہوئی کشتی کو نجات کا کنارہ   بخشا ہے۔

   شہادت امام حسین(ع) کے بعد حضرت زینب(س) پر  کچھ  نہایت سنگین زمہ داریاں تھیں؛جن میں یتیموں کی سرپرستی، حسینی مشن کی پاسداری، اہلبیت عصمت و طہارت(ع) کی حقانیت سے دفاع ،  آل ابوسفیان کے پلید   چہرے کا بے نقاب کرنا اور بنی امیہ کی منافقت کو  دنیا پر آشکار کرنا ،قابل ذکر ہیں۔

 جیسے کہ شاعر کہتا ہے:

سر نی در نینوا می ماند اگر زینب نبود* کربلا در کربلا می ماند اگر زینب نبود

چهره سرخ حقیقت بعد از آن توفان رنگ* پشت ابری از ریا می ماند اگر زینب نبود

" سر امام حسین(ع) نیزے کی انی پر کربلا میں ہی رہ جاتا، اگر زینب(س) نہ ہوتی*( نہضت) کربلا ، کربلا تک ہی محدود رہ جاتی، اگر زینب (س) نہ ہوتی۔"

" کربلا کے  سہمگین طوفان کے بعد، حقانیت کے سرخرو*( بنی امیہ کی) ریا کاری کی  کالی  گٹھا  کے پیچھے چھب کر رہ  جاتا، اگر زینب(س) نہ ہوتی۔"

         یقینا؛  اگر واقعہ  عاشورا کے بعدحضرت  زینب(س) نے وہ حماسی  کارنامے  انجام نہ  دیے ہوتے، تو آج نتیحہ کچھ اور ہوتا،  جس مقدس  مقصد کے تئیں امام حسین(ع) نے  قیام کیا تھا، وہ کسی  پر عیاں نہ ہوتا، اور  بنی امیہ اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب ہو جاتے۔

    لیکن شیر خدا کی بیٹی نے  مختلف زمان و مکان پر اپنے  فصیح و بلیغ خطبوں کے ذریعے،باطل قوتوں کو ذلیل ،اور حقانیت کوعزت بخشی۔ دنیا کے تمام انصاف پسند اور  حق شناس لوگوں  کے ‍ضمیر کو جھنجوڑ کر غفلت کی نید سے بیدار کیا۔

       لکھا ہے کہ جناب زینب(س) کا وہ تاریخی خطبہ، جو  دربار  یزید(لع) میں دیا، اس قدر تاثیر گذار خطبہ تھا ، کہ لوگ  سن کر داڈھے مار کر  رونے لگے، اور یزید(لع) کے دربار میں ہلچل مچ گیا۔ لوگ اس انداز سے ثانی زہرا(س) کا خطبہ سن رہے تھے کہ گویا،علی علیہ السلام کا خطبہ سن رہے ہوں۔

       بہرحال،  سیّدہ زینب(س) کے خطبے نے دربار   بنی امیہ میں بھی لوگوں کے ضمیر کو  جگایا،  اور یزیدیت کو ہمیشہ کیلئے ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا۔

 

 حجاب و عفت:

    جناب زینب(س) کی حیا ء اور عفت  کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ، نبی گرامی اسلام(ص) اور امام علی(ع) کے زمانے سے لیکر  عاشورا تک، کسی  نامحرم نے  حضرت زینب(س) کو نہیں دیکھا۔

  یحیی مازنی جن کا شمار مشہورترین علماء اور راویان میں ہوتا ہے،وہ  یوں نقل کرتے ہیں:

   " کافی مدت سے میں مدینہ میں زندگی گزار رہا تھا، اور میرا گھر امیر المؤمنین علی(ع) کے دولت خانے کے ہمسایے میں واقع تھا، اور زینب(س)  بنت علی(ع) اسی دولت خانے میں زندگی گذار رہی تھیں؛ میں نے اس دوران حتی ایک مرتبہ بھی نہ جناب زینب(س) کو دیکھا،   اور نہ ان کی آواز سنی۔ جب  اپنے نانا  رسول خدا(ص) کی قبر شریف کی زیارت کے مشتاق  ہو تی، تو رات کے  اندھرے میں،  اس شان وشوکت کے ساتھ جایا کرتی تھیں، کہ امام  علی(ع) اور حسنین(ع) ان کے ہمراہ ہوا کرتے تھے۔ اور جب رسول اللہ(ص) کی روضہ اقدس کے نزدیک ہو جاتے،تو امام علی(ع) آگے بڑھ کر قبر شریف  کے اطراف سے چراغ  بجھا یا کر تے تھے۔

 ایک دن امام حسن(ع) نے چراغ  خاموش کرنے کی علت پوچھی ،تو  امام علی(ع) نے  فرمایا:

 " «اَخشی اَن یَنظُر اَحَد اِلی شَخصِ اُختِکَ زَینَبَ" ۔ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کوئی اس روشنی میں،تمہاری خواہر گرامی کی طرف نگاہ کرے۔ [3]

       یہ تھی غیرت علوی اور حیاء زینبی  کی حد! آج  ہمارے   مَروں کو غیرت علوی،  اور ہماری ماں بہنوں کو ، حیاء  زینبی کی اشد ضرورت ہے۔ جس سوسائٹی کے اندر  انسانی اقدار، غیرت اور حیاء ختم ہوجائے، تو اس معاشرے  میں فساد، ظلم،بی عدالتی اور بے راہ روی کا عام ہونا، یقینی ہے۔  نیز اس سماج میں موجود افراد کی کوئی خیر نہیں ہوگی۔ جیسے روایت میں آیا ہے:" مَن لاحَیاءَ لَهُ لاخَیر فِیهِ" [4]جس انسان کے اندر حیا نہ ہو، اس کے اندر کوئی خیر نہیں ہوتی۔

   لہذ ان  مشکلات سے نمٹنے کا واحد راستہ، سیرت اہلبیت(ع) پر گامزن رہنا ہے۔

        یہی وجہ ہے کہ  روایات معصومین(ع) میں ، بے حیائی کو، بے دینی  اور بی ایمانی سے تعبیر کیا ہے۔

امام صادق (ع) فرماتے ہیں: "لاایمانَ لِمَن لاحَیاءَ لَهُ"۔[5]  جس کے پاس حیا نہیں ہے،  اس کے پاس ایمان نہیں ہے۔

     امام باقر (ع) فرماتے ہیں: "اَلحَیاءُ وَ الاِیمان مَقرُونانِ فی قَرنٍ فَاِذا ذَهَبَ اَحَدَهُما تَبَعهُ صاحِبهُ" ؛ [6]حیا اور ایمان  ہمیشہ ایک دوسرے کے قرین اور  ہمراہ ہوتے ہیں، اور اگر ان میں سے ایک چلا جائے، تو دوسرا  بھی اس کی تبعیت میں چلاجاتا ہے۔

  امام حسین (ع) فرماتے ہیں: "لا حَیاءَ لِمَن لادِینَ لَهُ" [7]جس کے پاس  دین نہیں ہے،  اس کے پاس حیا ءنہیں ہے ۔

پیامبر اکرم(ص) فرماتے: "الحَیاءَ عَشرَةُ اَجزاءٍ فَتِسعَة فِی النِّساءِ وَ واحِدٌ فی الرِّجالِ"؛[8]

 حیاء کے دس جزء ہوتے ہیں،ان میں سے نو جزء عورتوں کے حصے میں ، اور ایک جزء مردوں  کے حصے میں ہے.

  حیا  صرف عورتوں سے مخصوص نہیں ہے،  بلکہ مردوں کو بھی اس کی رعایت کرنا ضروری ہے۔

    قرآن مجید،  غالبا ْکلی طور پر مسائل کو بیان کرتا ہے،لیکن بعض حیاتی اور اسٹراٹیجک مسئلے کو  بطور جزئی  اور تمام خصوصیات کے ہمراہ بیان کرتا ہے۔  ان اہمیت کے حامل  مسائل میں سے ایک، حضرت شعیب(ع) کی بیٹیوں کے داستان اور حضرت موسی(ع) کے   ان  کے ساتھ  مبینہ  سلوک اور رفتار ہے۔

        قرآن کریم اس  ماجرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: جب حضرت موسی(ع)چاہ   مدین (مدین  شہر کی نواح میں واقع کنواں) پر پہنچے، تو ایک جماعت کو دیکھا،  جو اپنے مویشیوں کو  سیراب کرنے میں مشغول تھی ؛ ان   سے زرا  دور ، ایک مقام پر دو خاتون نظر آرہی تھیں ،جو  اپنے مویشیوں کی رکھوالی ،  اور  لوگوں کے کنویں سے دور ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔

  حضرت  موسی(ع) آگے بڑھ کر   ان سے  سوال کیا:تمہارے کام کیا ہے؟حضرت شعیب(ع) کی بیٹیوں نے کہا : ہم اپنے مویشیوں کو  تب تک پانی نہیں پلاتے،  جب  تک  لوگ کنویں کے پاس ہیں۔ حضرت موسی(ع) نے ان کی مدد کرتے ہوئے، مویشیوں کو سیراب کیا۔ ۔۔

     قرآن اس داستان کو جاری رکھتے ہوئے، حضرت شعیب(ع) کی ایک بیٹی کے واپس آنے  کی صورت حال  کی منظر کشی کرتے ہوے مزید ارشاد فرما رہا ہے:" فَجاءَتهُ اِحدا هُما تَمشی عَلَی اِستِحیاء قالَت اِنَّ اَبی یَدعُوک لِیَجزِیَکَ اَجرَما سَقَیتَ لَنا"۔[9]

   یکایک  ان  دو لڑکیوں میں سے ایک، "شرم و حیا  "کے ساتھ حضرت موسی(ع) کی خدمت میں آ کر عرض کیا : ہمارے والد نے آپ کو طلب کیا ہے ،تاکہ  اس  کام  کی اجرت ادا کیا جائے، جو آپ نے  جانورں کو سیراب کرنے کے سلسلے میں انجام دیا تھا۔

  اس آیہ شریفہ سے ہم چند اہم، حیا   اور پاکدامنی  کے نمونے دریافت کر سکتے ہیں:

1۔جب تک(نامحرم)  مردوں کی جماعت،  کنویں کے ارد گرد موجود تھی،حضرت شعیب(ع) کی بیٹیاں کنویں کے قریب نہیں گئیں۔

2۔ اس وقت اپنے جانوروں کو سیراب کرنے کیلئے تیار ہوئیں،جب سب لوگ وہاں سے چلے گیئے تھے۔

3۔شرم اور حیا  کے  ساتھ،  حضرت موسی(ع) کے پاس آگئی۔

4۔یہ نہیں کہا کہ ہم تمہاری مزدوری کو آدا کرنا چاہتے ہیں، بلکہ کہا: ہمارے والد آپ کو بلا رہے ہیں ، تاکہ  آپ کی اجرت ادا کریں۔

5۔جب حضرت موسی(ع) حضرت  شعیب (ع) کے گھر روانہ ہوئے، تو انہون نے بھی نہایت عفت اور حیا  کا  مظاہرہ کرتے ہوئے اس لڑکی سے کہا ،کہ میرے پیچھے پیچھے حرکت کرنا،تاکہ ان کی نظر اس لڑکی کے بدن پر نہ پڑھ  پائے۔

  ایثار و فدا کاری:

     حضرت زینب(‎س)  کی جملہ خصوصیات میں سے ایک ، ایثار اور فداکاری ہے،در حقیقت   فضیلت اور  خوبی ، ان زوات مقدسات کے وجود میں،  اتم اور اکمل طریقے سے موجود ہو تےہیں۔حضرت ز ینب(س) نے   اس خانوادے میں تربیت اور پرورش پائی ،جن کے ایثار اور فداکاری کو دیکھ کر  ،  اللہ  تعالی نے  قرآن مجید کے اندر ایک مکمل سورہ، "سورۂ الانسان" کے نام پر نازل کیا ہے۔

     جناب زینب(س) وہ  منفرد خاتون ہے،  جن کے نانا،والد، والدہ، اور  دو بھائی   معصوم  ہیں، اور ایسا ہونا ان کیلئے  ایک امتیاز شمار ہوتا ہے۔

     ایک دن حضرت علی(ع) نے ایک غریب اور نادار شخص کو  اپنے گھر لے کر آئے، تا کہ اس کو کھانے کیلئے کچھ دیا جائے۔

 جب حضرت زہرا(س) سے کھانے کا تقاضا کیا،   تو جواب ملا کہ گھر میں کھانے کیلئے کوئی چیز موجود نہیں ہے،مگر یہ کہ ایک مختصر سا کھانا ہے،  جو بیٹی زینب(س) کی خاطر بچا کر رکھا ہے۔

  حب سیّدہ زینب(س) نے  یہ گفتگو سنی، تو  فوراْ  فرمایا: میرا کھانا غریب مہمان کو دے  دیجئے؛  جب کہ ان کی عمر شریف صرف چار سال تھی۔

    ان  تمام صفات کے علاوہ اور بھی بہت  ساری  نیک خصوصیات ان بزرگوار میں پائی جاتی ہیں، جیسے صبر، بردباری، فصاحت و بلاغت اور سادہ زیستی وغیرہ۔

  اللہ ،ہم سب کو  اہل بیت(ع) کی سیرت پاک پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرما ئے۔آمین۔

11جنوری2019

          

حوالہ جات:


[1] عوالم العلوم و المعارف والأحوال من الآيات و الأخبار و الأقوال (مستدرك سيدة النساء إلى الإمام الجواد)، بحرانى اصفهانى، عبد الله بن نور الله‏، ج11، ص955، ايران؛ قم‏.
[10]. همان، ص 954.

[2] مجله فرهنگ كوثر شهریور 1376، شماره 6

[3] . شیخ جعفر نقدی، کتاب زینب کبری، ص 22، و ریاحین، ج3،ص 60.

[4] عبدالواحد آمدی، غررالحکم، ترجمه علی انصاری، ص 646.

[5] میزان الحکمه ص 717، روایت 4570.

[6] بحارالانوار، ج 78، ص 309.

[7] میزان الحکمه، ج 2، ص 717،

[8] میزان الحکمه، ج،2، ص 730، روایت 4603.

[9] قصص،آیت25۔

بسم الله ارحمن الرحیم
اج به تاریخ 30دسمبر2018 کو بہ روز اتوار صدر بخش علمی فرھنگی مجمع روحانیوں کرگل و لیہ
نےطلاب خوابگا مجمع روحانیوں کرگل و لیہ کے ساتھ ایک اھم میٹنگ رکھی جس میں صدر بخش علمی فرھنگی نے اڈوکیشن سستم  اور اڈوکیشن کی اھمیت  پر روشنی ڈالی اور طلاب کے لبیک کی آواز پر یہ طے پایا کہ آیندہ جمعی مباحثہ خوابگاہ میں رکھا جائگا اور اخلاق کی کلاس کے ساتھ ساتھ تجوید قران کی کلاس بھی ھفتہ میں ایک دن رکھی جایےگی اس پر تمام طلاب نے امادگی کا اظہار کیا ہے۔ان شاء اللہ آیندی مختلف موضوعات پر کلاسس رکھی جایےگی اور مختلف فنون میں طلاب کو مھارت دی جایےگی جیسے خطابر، آرٹیکل بنانا اور مختلف موضوعات پر مقالہ لکھنا۔

اس میٹنگ کی تصویری جھلک آپ کے حاضر ہے۔

<img src="data:image/jpeg;base64,/9j/4AAQSkZJRgABAQAAAQABAAD/2wCEAAoKCgoKCgsMDAsPEA4QDxYUExMUFiIYGhgaGCIzICUgICUgMy03LCksNy1RQDg4QFFeT0pPXnFlZXGPiI+7u/sBCgoKCgoKCwwMCw8QDhAPFhQTExQWIhgaGBoYIjMgJSAgJSAzLTcsKSw3LVFAODhAUV5PSk9ecWVlcY+Ij7u7+//CABEIAykEOAMBIgACEQEDEQH/xAAvAAEBAQEBAQEAAAAAAAAAAAAAAQIDBAUGAQEBAQEAAAAAAAAAAAAAAAAAAQID/9oADAMBAAIQAxAAAAL6Xbj3MNjnOg5Ttk4usObUSWDeudN3FNXNNsU0FAGDbjE7uA7OI65wNMDUkNSFILEKgsAAApJQVRZRQFWKIpI0XFtM2jLUIoijKjM1DM1EzKMzUICKXKiSiKJKIogEoiiKJbsmeUJrfeOXbQASwJxOnLmIoi0y6j2d+HegAAEozNjlntDi6ZTKwuucOzno3cU6OdNheXPvzTnNZCCsl0yNMjTNKgqCoKAUFJVSVSWhVWWiNCKIpIsM6Uilk0MtDM3DLUMzcTE3DE3DE3DDQypczUIok1CLCKIqIoi6M7z5668dd45d+lAEsDHI7cucCiLoxeujn04SttD09+HY0AAAAABKMY7Q887Qw6Q51zTreW13rnpLmwkoxncXC5KgqCoKgoKlKC2UVQtSNUzdUzdFlAAABL507a8fsAUAAACZ2Oc6ZTE3DE3DE2MTUXKjKjKiSoiiKIuDfHn1Ofbr0M7BKIzwOvHIFI1s566wMaObtC10rmyOvfh2NgAAAAAAAk0http://www.kargilonline.com/administrator/index.php?option=com_content&task=article.edit&id=283JNDjz78zOroltMSwgJLCZ1kzneIMU1cDbI2yNXFNXFN3Frpeejeuejes7AAAAAAHHsTxe2UBQAAAAAJNZMy5RlkskWyQqSKgsAgqC56bMboUDPA7ceYIK1sx0g0sFmqxrvtOPaw3hk8oXr15dDsAAAAAAAAADOOmSaaJQ5TWSEAJnUMY6YjmoKFAoFCgoVoalNbxutAAAAAAAAAAAAAAAmN4M51kzneYysIoyoijKiKJqaLqaFcTpyzCTWzi6jNxg6456s6dM6NdEOjNNXI3JC5uTzol7757r0AAAAAHI6vD7gAABnWTQAOed4JLACSyM53k5qBQBQKFBQtlLZTWs2ujA2AAAAAAAAAAAAAmC5sJLDMsiTUJKICKIABqUupS8e3AyodefU5ZsOWN5samjrVOuWTdxTVyNyQ0zTziXtrGj1JaAAAAA5b0AAAEsKADGN4ICAkqM51DCwFAFAg1ZRQtlLZSlpboAAAAAAAAAAAAAzNjnN5MywksiSwiwiwlACKGpS6lHD0ecgL15djgDjnWbLvOzpZTWUNWQusaKgusbPMpetlj0657qgAAAAAAAASwoAM8+nMgIBLImdZMzUAFAUihQqUWUtlpZTW+ejYAAAAACUAAAAJQmDUQZuRKJnfOJc0sABLAAC6lLVHm9PmANdeezjLDlLLLvGjrUIZNaxS3I2yNbxTkF6pYuvNwr6nT5Pps9zw9Y9LGloAAAAAGbC2UAzz6cyASwSozNZMzUABQBQAoGs6KWsa8sPY8cPfv5+z13wj3vHT1a8Oz158uU9l8Wj1XyD1vIPU8kPa8lX0a8Wj158kPXrw6PTnyj1vIPRrz+gY1kxZYAAQACi6lLZSef0cBLDprNOWdZOcssbxs7Z1zCCoNM6Kg2ZMhetzYzjpys8+91NXkt328vY+illAAAAQGbC6zoAnLrxAEsAJLIzNZBQAUAWUAazo0K83LWTdaJaItM2iKSKqKAEoiiKiLFiwiiTUIqOnTn0JjeKzZYAlAAADWpSgzx68gDouTnjeDEssdOfU3iwyQrNNM01cQ743zDI7WJZz7964vTxOGs9jHL0+dPdcaW3NKgsQpCyBLC6xsqBx7cQAQCJKMywAAoAFlAGs6NA8beTWpqpQFIolACUAIoi4NJRKIsIoiyAN7zsc+nIllAAAABTVC2U58unMA7c+nMxjfMzLmy9uHcmbFkRKg0gqD0c+vFcIT0WWWp46+vz+P0X6bgT0cuWz1Xn0FgqCwACBLBvGi2C8evIRIqUAgJLCAFAAAKBrOjSU489ZN2aAozhOrOigFIQsA5l6KIBKIsIqIoijdzoc+nMllAACUAWU2UWU443gA78e3AzjfMzLLHfh3Jz3zEAlKgtlPTx7cV5Mk9diW+L28a8E9HpPBbhL147X6no8vqAKgAAELAaxuALy6c6kZi3nyPUlECSwgFAABYLAazo0DjneS6miKMeT2XU+b6um7NqzZQSiKM8+vI6EWgiyAIsACjVBz6chYLAAWCgWaNWUWU4ZsFmjrw7+cnPpyJLLHfh6Dnz3ggFgqC759Try1leIT1iW51wrt38mzliTOt8u/bU338/oRYKgqCoAEsGsaigY3g5ce3A6cfR5z1bxsgJKJLBYKAAABrNNWDPOw1rOhLB15d7MtDLQzdDDYw2OfD1eY1ZVCAIAAAU1Ac+nIoAAAKlGs6NWUA84JvHQ6efvwJy6czIsvfj2OONYAKgqB24+gmbhcBPWllcuuKx04dTDlvOt9/F6tSez5/uTaCpQQqCoAM7xqNILjWTn5vT5jpx7cT1bxsAgJLBYKAAABZTQM43ktUksL249rKKAWCoKgeb0+aGptZNIyok1CKIolDWbC8evItlAAAFlGs6NWUS5OFlJ059S8evIxz3hISunXnTlmwQKlBB6vJ7DljfGULPWWVnUPJ1navJv1SXyY9nzrL9n5X1jSCgAJQBAlzqNAZ1k5+b0+Y3y6cz09OXUAgJAAWCgAAWUtgzLDVlGdZHfj1sqUAWCoKgcO/AazpaoiwiogIolBLkc+nI0ABZQBZRvGy2C51g42B249jPPfMxjWbJA753zXnnWZEsKirAe3x+xePn9HmNBPYJVg8W8cq+nfJ6Tn4fR5k9H0/lfTXaCpQAlAAM2I2BLDn5vT5i894PR183pABCAAAWCwAFlLYGbDVlJLB249bKlAAAAHHtxG8bWgAghKIBZTBBz3g0lAAFlALvGygvPfM5gd+PY5Y3Dlj008k9cMY66PHPXk8z0ZOM6yubeZL6vP2XHm9HAos9iWUDycfZyrl06dDzY9mTzfS8/oOiCpQAAACS5joCwOfDvk5dbolgqACJk08OD6TyeoqUN8ys0qDQIQ1rNGdZHbh2soAAAAHLrxG+e12mE6EUIQAFlM5QmdZKCpQBYKC7xsqUce3AiUvbl1OEQ4xmt74k9aeVfZrwE+hPFo9bzaO85aNcuvCXWdww9AzZQC6m6xqjE6jj00KgqUAWCoAJnWY6WCwMIFlCCoLA5/I9/zKBLvp2mvbNE47U3ZQCroxnfzz33lg9GcjXbz96oQAAAQvHrxLrG13BKx4V+jPj7PqsagCpTmQY3g0gYZN3lTtc6FlLvGxYL5+/nFg3159DzwOGbLJrOz0eT1+NaEApAD0Z6c5eeJwPa8I+qlANdOXQpC2CoqoKgoAAAGNZjdzosDAJrNJnj5a+lfH6jSWPN8j73xa567Jd53iX6PTx+ywEAJROfiPS4Jr08tZ1nqkO3p8fsAQAAgqUcevEus7l83Drx7cM8NuXfyt8z63s+X7D0JYtzTmCZ1koAEotgoNazoqUefv5yg6bzThNYOObLHTl2Onk9PnFAsACU9fLtxl8vLeDKl+pZUAdeeygAqKoAAFgqCwGNZjWsbAMAEPB5rws9Hbw7r6nf5HWPpfO93Ca8eO/CVrj0r3+vz92QHPfyz0Z8WLPXy56Xp14prtfPi5+jryeqN+zw+w0WwQoIogHHpxXprMjOPR49Z5cWM9Nebtxs305Rn19/nU+5v4X1pdqMTWSkKlAKlFg3rNKgcOvIoOsuTnjfI551mx34eiJw7caoEQILvn1PRz1iXx43gIX6lhKC757NAWCoqoKAAAABifPPo7+HD7z4/sPUiL5+/hrx5ubKzDbFj3dePpmvNjr54z7PFa+trGkqC/F+z8WufXp608c64XzOuTt6+Gy+jls6vGj

مجمع روحانیون کرگل و لیہ کی طرف سے ایک شاندار سیمنار منعقد کیا گیا جس میں مشھور و معروف خطیب اعظم حضرت حجت الاسلام و المسلمین آقای مروج زید عزه نماینده مقام معظم رهبری یمن اور سوریه میں تھے۔اس سیمنار کے خصوصی مہمان نمایندہ ولی فقیہ حجت الاسلام و المسلمین شیخ مھدوی پور تھے۔

 

 

  

  

 

 

بسم الله الرحمن الرحیم

کربلای یمن کی فریاد.

 

قُتِلَ أَصحَابُ الْأُخْدُودِ، النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ، إِذْ هُمْ عَلَیهَا قُعُودٌ، وَ هُمْ عَلیَ‏ مَا یَفْعَلُونَ بِالْمُۆْمِنِینَ شهُودٌ، وَ مَا نَقَمُواْ مِنهُمْ إِلَّا أَن یُۆْمِنُواْ بِاللَّهِ الْعَزِیزِ الحَمِیدِ.[1]

 ترجمه: اصحاب اخدود هلاک کر دیئے گیے۔آگ سے بهری هوئی خندکوں والے۔ جن میں آگ بهرے بیٹھے ھوئے تھے۔

اور وه مومنین کے ساتھ  جو سلوک کر رهے تھے  خود اس کے گواه بهی هیں۔ اور انهوں نے ان سے صرف اس بات کا بدله لیا هے که وه خدا عزیز و حمید پر ایمان لائے تهے۔ [2]

۲۵ مارچ ۲۰۱۵، یه وه سیاه  دن هے جس دن آل سعود اور اسکے چیلوں (مصر، سوڈان،جیبوٹی،متحده عرب امارات، قطر اور بحرین) نے عالمی استکبار یعنی امریکه اورصهیونی ریاست کی ایما اور اشارے پر، ایک کمزوراور فقیر ملک یعنی یمن پر اپنے وحشیانه حملوں کا آغاز کیا. سب نے یه تصور کیا که یه ایک محدود جنگ هوگی جوصرف چند روز یا چند هفتون تک محدود رهے گی.لیکن یه تصور درست ثابت نهیں هوا بلکه یه عدم مساوات والی جنگ اورتجاوز، روز به روز شدت اختیار کرگئی. اور تین سال سے زیاده عرصه گذر جانے کے باوجود ابهی تک یمنی مظلوم اور بے کس عوام پر یه بے رحمانه حملے جاری ہیں.

 رهبر معظم انقلاب اسلامی حضرت امام خامنه ای (دام ظله الشریف) نے اپنی ایک تقریر میں یمنی قوم کو دنیا کی مظلومترین قوم قرار دیا. اور جمهوری اسلامی ایران کے وزیر دفاع کے بقول یه جنگ اس 8 ساله جنگ سے بهی زیاده بی منطقی (Illogic) هے جو صدام نے ایران پر جاری رکهی تهی, یعنی اسے بهی زیاده احمقانه جنگ هے جو آل سعود نے اس مظلوم قوم پر مسلط کر رکهی هے.

  یمنی قوم اکیسویں صدی کا سب سے مظلوم قوم اسلئے هے که ان کی فریاد سنے والا کوئی نهیں هے۔ اگر چه ملت فلسطین بهی مظلوم هے لیکن آج دنیا کا کوئی ملک ایسا نهیں هے جهاں ملت فلسطین سے اعلان همدردی او حمایت نه هوتی هو؛ اسکے علاوه اکثر و بیشتر دنیا کی میڈیا بهی مسئله فلسطین کو کوریج کرتے رهتے هیں۔ لیکن ستم ظریفی کی یه حد هے که  یمن کے مظلوم اور معصوم بچے ہر لمحے آل سعود کے بے رحمانه طمانچوں سے محفوظ نهیں هے۔ اور هر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرهے هیں۔ نیز یه بچے اسکول یا مدرسے جانے سے بهی محروم هوچکے هیں. یهان تک که اقوام متحده، یونسکو(unesco) اور human right commission  وغیره بهی خاموش تماشائی بنے هوے هیں۔ ان کی طرف سے سعودی جارحیت کو روکنے کے سلسلے مین کوئی ٹهوس اور عملی اقدام نهیں اٹها یےجارہے هیں. حال هی میں اقوم متحده سے منسلک اداره

 (United Nations emergency Children's Fund) (UNICEF) نے خبر دار کیا که 2لاکه سے زاید یمنی بچوں کی جان صرف خوراک کی قلت کی وجه سے خطرے میں هے اور هر دس منٹ کے بعد یمن میں ایک معصوم بچه بیماری اور قحط کی وجه سے مرجاتا هے،لیکن بعض قلیل ذرائع ابلاغ کے سوا باقی پوری دنیا کی میڈیا اور سوشل نیٹ ورک وغیره وہاں کی صورت حال کو پوری طرح نظر انداز کررہے ہیں۔

  میڈیا کی خاموشی

  افسوس کی بات تو یه هے که دنیا کے تمام تر میڈیا یمن کی صورت حال پر کسی قسم کا تبصره تک نهیں کرتے هیں اور سب نے خاموشی اختیار کرلیا هے۔ گویا یمن میں کوئی جنگ هی نهیں هے. دراصل آل سعود نے پٹرول ڈالر کے ذریعے ان سب کو خرید لیا هے اس کا ثبوت یه هے که چند روز قبل سٹلایت کمپنی نیل سیٹ(Nile set) نے یمنی ٹی وی چنل المسیره کی براٹ کاسٹنگ روک دی جوکه یمن کا ایسا واحد ٹیوی چینل ہے جو اپنی قوم کی مظلویت کی ترجمانی کرتا هے.

 چند سال پهلے فرانس کے دارالخلافه پایرس کی ایک اسٹیڈیم میں بم بلاسٹ هوا تها جس کے نتیجے میں متعدد لوگ مارے گئے تهے، تو ویسٹرن میڈیا سمیت دنیا کے تما ذرایع ابلاغ نے اس حادثےکو کوریج کیا تھا اور هفتون تک اسی پر تبصره کرتے رهے؛ دنیا کا کوئی ملک ایسا نهیں رها جهاں فرانس ایمبیسی کے احاطے میں ان قربانیوں کی یاد میں چراغانی  نه هوئی هوں. لیکن دنیا کی مکّاری اور دوروئی کی حد دکهيے، اب تک یمن میں هزاروں کی تعداد میں صرف معصوم بچے شهید هوچکے هیں، لیکن چراغانی کرنا تو دور، الٹا ظالم کا ساتھ دیکر مظلوم کی زخمون پر نمک چهٹکا رهیں هیں!

مظلومیت کے دو نمونے

   کچھ دن پهلے انٹرنت پر دو ایسے ویڈیو ویرل هوگیے جس نے هر باشعور انسان کے قلب کو جهنجوڑ کر رکھ دیا. اور جن کو دیکھ کر هر باوجدان انسان کے دل متاثرهوگیے .ایک ویڈیو میں یه دکها یا گیا که ایک یمنی ماں جوکه نهایت هی بی بس او جسم کی نقاہت کی اعتبار سے ضعیف نظر آرهی تهی، فقر اور فلاکت نے ان کو بیچاره گی کی کھائی میں دهکیل دیا تها. اس خاتون نے جب اپنے سینے کا دودھ خشک هوگیا تو بچے کی جان بچانے کی خاطرپستان کے بدلے اپنی انگلی کو اس ننے معصوم کے منہ میں رکھ کر مأیوسانه اندازاورحسرت بهری نگاه سے بچے کی طرف نظر کر رهی تهی اور آهیں سسک رهی تهی.

  دوسرے ویڈو میں ایک یمنی شخص جو که ایک 5 ماه کے بچهے کا باپ هے اور ایک پسمانده گاؤں میں زندگی گزارتا هے۔ جب فقر اور ناداری کے سبب بچے کی ماں کا دودھ خشک هوتا هے تو بچه روز به روز کمزور اور ناتوان هوتاجارها تها. جب بچے کی حالت انهائی بگڑ گئی تو یه جوان باپ  اپنے لخت جگر کی جان بچانے کی کوشش میں بچے کو اپنے سینے سے لگاکر مسلسل دو گھنٹے دوڈتا ہوا آکرشهر پهنچتاهے اوربیحال معصوم بچے کو ایک میڈکل سنٹر میں تحویل دیتا هے، لیکن بد قسمتی سے ڈاکٹروں کی سخت کو ششوں کے باوجود یه معصوم بچه آخر کار تاب نہ لاکر دم توڈ بیٹهتا هے۔ ڈاکٹروں نے ایک سفید کپڑے میں بچے کو لپیٹ کر باپ کے حوالے کردیتا هے۔ اور یه بیچاره باپ پر نم انکهوں کے ساتھ بچے کے ننے جنازے کو لے کر واپس جاتاهوا نطر آتا ہے. یه ان هزاروں درد مند صورت حال میں سے ایک چھوٹا سا نمونه هے.

 بی تحاشا بربریت کا نتیجہ

 آل سعود کے وحشیانه حملوں کے نتیجے میں اب تک هزاروں بے گناه لوگ، جن میں عورتوں اور بچوں کی تعداد زیاده هے، شهید هوچکے هیں. لاکهوں کی تعداد میں بے گناہ لوگ زخمی، نیز 2 ملین سے زیاده لوگ بے گهر هو چکے هیں. اس شجره ملعونه کے وحشیانه حملوں سے یمن کی کوئی بهی چیز محفوظ نهیں هے، بلکه هرخشک و تر کو جلاکر راکھ میں تبدیل کردیا هے.جیسے  ملک کے بیشترانفرااسٹکچرتباہ ہوچکےہیں،هزاروں مساجد مسمارهوچکی ہیں،لاکهوں رهایشی مکان تباه، سینکڑون هسپتالوں اور طبی مراکز، سینکڑوں کارخانه جات ، پولٹری فارم اور خوراکی گودام، هزارون پل اور مواصلاتی راه ، دینی مدرسے، بندر گاهیں، ایرپورٹ؛ اور یهاں تک که ان مراکزپربهی رحم نهیں کیا جن میں نوزاد بچوں کی خوراک اور باقی حیاتی سامان تیار هوتے هیں.

  اب اسے اندازه کر سکتے هیں که یه شجره خبیثه کس قدر بیرحم اور سفاک هے. یهی وجه هے که رهبرمعظم نے ملت یمن کو دنیا کی مظلوم ترین قوم میں شمار کیا چونکه یه قوم ایسے بی رحم دشمن سے روبرو هیں جن میں انسانیت که بو تک موجود نهیں هے. در اصل یه آل سعود اصحاب اخدود کا مصداق هے جس کو قران مجید میـں مرده باد کها هے.(بعض مفسرین کی نزدیک اصحاب اخدود وهی کافر قوم هے جو مومنین کو زندہ آگ کی گوال میں ڈال دیتے تھے) جس طرح سے اصحاب اخدود مومنین کو سلکتی ہوئی آگ میں ڈال دیتے تهے اور خود خوشیاں مناتے تهے. ان اهل ایمان کا قصور یه تها که وه الله عزیز وحمید پر ایمان رکهتے تهے.( وَ مَا نَقَمُواْ مِنهُمْ إِلَّا أَن یُۆْمِنُواْ بِاللَّهِ الْعَزِیزِ الحَمِیدِ.)

 اسی طرح آج آل سعود دور حاضر کے اصحاب اخدود بن کر یمنی مسلمان قوم پر هر قسم کے اسلحے، یهان تک که وه ممنوعه اسلحے جن کو سکیوریٹی کونسل   (United Nations Security Council نے ممنوع قرار دے دیا هےجیسے کلسٹر بم  وغیره ، بهی استعمال کرکے انسانیت کی دجهیاں اڑا رها هے. انکا قصور بهی یهی هے که یه لوگ مومن اور امیرالمونین علی(ع) کے پیروکارهیں، جو وهابی ناصبیوں کے نزدیک سب سے بڑا جرم هے. آل سعود اس حال میں طاقت کا بی تحاشا استعمال کررهاہے، جبکہ وه خود کو خطے کا سب سی طاقت ور ملک سمجهتا هے ان کا سالانه دفاعی بجٹ 65 بیلن ڈالرسے زیاده هے.اس کے مقابلے میے یمن خطے کا سب سے کمزور اور فقیر ملک شمار ہوتا ہے.اسی لیے اس  قسم کی جنگ کو نابرابری جنگ کهلاتے هیں.

 آل سعود ایک جدید جهالیت((Modern Barbarism

یه وہ اصطلاح هے جو رهبر انقلاب اسلامی، مغربی کلچر اور عالمی استکبار کے رفتار وغیره کو استعمال کرتے هیں. چونکه آل سعود خطے میں (میڈلیسٹ) میں امریکا کا اتحادی اور صهیونیسم کا نوکر هے، لہذا ان کی جاهلیت سب سے زیاده هے یهاں تک که صدراسلام کی جاهلیت اور مشرکین مکه سے بهی بدتر هے.اس لئے که لیلة المبیت کی رات جب امیرالمومنین علی(ع) بستر رسول(ص) پر سورہے تهے اور مشرکین مکه  برهنه تلواریں لے کر رسول الله(ص) کو قتل کرنے کی تیاری کررهے تهے.لیکن رات کے وقت پیامبر(ص) پر حمله نهیں کیا چونکه یه انکی مروت اور شرف کے خلاف تها که رات کے وقت جبکه افراد خانواده آرام کرهے هوتے هیں، اس وقت اهل خانه کو مزاحمت ایجاد کریں، لهذا صبح هونے تک صبر کیا. لیکن جاهلیت زمان کی پستی اور بی مروتی اتنی هے که رات کے وقت بهی یمنی گهرانوں پر بم برسا کر گهروں کو مسمار کردیتے هیں اور شادی بیاه وغیره کے مراسم کو مجلس عزاء میں تبدیل کردیتا هے.

 یمنی قوم کی بی مثال صبر اور استقامت

  آل سعود اپنے خام خیالی میں یه سوچ رها تها که یمنی عوام دباؤ میں آکر جلدی تسلیم هوجایے گی، اسی وجه سے جنگ کے ابتدایی ایام سے لیکر آج تک یمن کو زمین، دریا اور فضاء ، هر طرف سے محاصره کیا هواهے. لیکن یمنی عوام اور خاص کر انصار الله تنظیم کی بی باک حسینی جوانون نے  هلکے هتیار، ننگے پاؤں، "ھیھات منا الذلۃ" کے شعار کے ساتھ اور عاشورا سے درس حاصل کرتے ہوے حسینی عزایم  کے ساتھ ابهی تک بی مثال مقاومت کرکے آل سعود کو شکست اور دنیا کو حیرت میں ڈال دیا هے.

  بعض تجزیه نگاروں کا کهنا هے که آج یمن کی صورت حال 61 هجری کی کربلا کی مانند هے اور حادثه کربلا کے بعد سے آج تک اس جیسے ظلم، بربریت، فاقه کشی، غربت، بی چاره گی و ... تاریخ میں اس دهرتی پر دیکهنے کو نهیں ملا هے.

 یمن کی موجوده صورت حال حقیقی معنی میں  نسل کشی اور اکیسویں صدی کا سب سے بڑا انسانی المیه او ٹریجڑی هے.

 جس طرح کربلا میں امام حسین (ع) نے استغاثه کیا تها، آج یمنی مظلوم قوم  بهی استغاثه کررهی هے، مدد کے لئے پکار رهی هے. خاص کر ان معصوم بچوں کے والدین جنهوں نے اپنے نیمه جان بچوں کو ہاتهوں میں اٹها  کر دنیا سے مدد کی اپیل کر رهے هیں۔ آج یمنی معصوم بچوں کی آہ و بکاء ہر طرف گونج رہی ہے، لیکن کوئی ان کا پرسان حال نظر نہیں آ رہا هے.

 آج ملت مظلوم یمن دنیا کے مسلمانوں اور بطور خاص شیعیان حیدر کرار سے یه توقع رکهتی هے که وه انکی حمایت کریں اور ان کو اس مصیبت سے نجات دیں.

مظلوم کی حمایت کرنا هماری اخلاقی اور دینی فریضه هے لهذا آج هر مسلمان کو چاهے که وہ  مسلمانان یمن کی امداد رسانی کے لئیے کوشش کر کے سچے مسلمان هونے کا ثبوت پیش کریں.

 آل سعود سلطان ارّه(The monarch of saw )

  یه وه لقب هے جو بعض سیاسی تجزیه نگار اور صلح طلب شخصیتوں نے آل سعود کو رکھا ہے. اس کی وجه یه هے که حال هی میں آل سعود خاندان ایک اور بڑے جرم کا مرتکب هوا، وه یه که سعودی عرب کا ایک معروف جرنلیسٹ جس کانام جمال قشقچی تها، اس شخص کو آل سعود کی شیطانی سیاست پر تنقید کرنے کی جرم میں ایک سوچی سمجهی سازش کے تحت ترکی کے شهر استنبول میں موجود سعودی قونسل خانے میں انتهائی وحشیانه اور بیدردی کے ساتھ  قتل کر دیا گیا اس کے جسم کو برقی ارّه کے ذریعے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے.اس المناک حادثے کی پوری دنیا نے مذمت کی۔ سوای امریکا کے۔ چونکه امریکه خود اس جرم میں ملوث هے.بقول رهبر معظم انقلاب اسلامی،دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی شر واقع نهیں هوتا مگر یه که امریکا اس ميں شریک هوتا هے.جیسے یمن پر آل سعود کی جارحانه تجاوز میں بهی امریکا شریک هے.

 

قرآن مجید اور مظلوم کی حمایت

  قران مجید کی متعدد آیات اور احادیث معصومین(ع) همیں مظلوم کی مدد اور حمایت کرنی کی دعوت دیتی هیں.

 جیسے خداوند فرماتاهے:

«... إِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِى الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ... [3]

  اگر( مهاجرین میں سے) ایک(مومن) گروه اپنے دین کی حفاظت کے سلسلے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر لازم هے که انکی مدد کریں.

  اس آیت مبارکه میں خداوند تاکید کے ساتھ فرماتا هے که هر مسلمان پر واجب هے که  وه اپنے اس برادر دینی کی مدد کریں جو مظلوم واقع هوچکے هیں. ملت یمن مظلوم هونے کی ساتھ ساتھ مسلمان بهی هیں لهذا ان کی مدد کرنا  آیت کے مطابق همارا دینی فریضه هے.

  ایک اور آیت میں خداوند متعال ان لوگون کی شدت سے مذمت کرتا هے جو مظلوم کی مدد کر نے کے حوالے سے کوتاهی کرتا هے۔ یا ذمه داری کا احساس نهیں کرتا۔ اور عدم حمایت کے سلسلے میں ملامت کے ساتھ ساتھ  سخت لہجے میں سوال کر رها هے. چنانچه ارشاد رب العزت هے:

«وَ ما لَكُمْ لا تُقاتِلُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساءِ وَ الْوِلْدانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْ هذِهِ الْقَرْيه الظَّالِمِ أَهْلُها وَ اجْعَلْ لَنا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَ اجْعَلْ لَنا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيراً.[4]

ترجمه: اور آخر تمهیں کیا هوگیا هے که تم الله کی راه میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کیلئے جهاد نهیں کرتے هو جنهیں کمزور بنا کر رکها گیا هے اور جو برابر دعا کرتے هیں که خدا یا همیں اس قریے سے نجات دے دے جس کے باشندے ظالم هیں اور همارے لیے کوئی سرپرست اور اپنی طرف سے مددگار قرار دے دے.

 آیت سے ثابت هوتا هے که جو مسلمان مظلوم هو اور خدا کے علاوه کوئی ان کا پرسان حال نهیں هو، اور الله کی بارگاه میں دعا کے لیے ہاتھ اٹها نے کے سوا کوئی اور چاره انکے پاس نہیں  ہو، تو هر مسلمان پر واجب هے که ان کی هر جهت سے حمایت کریں اور ظالم کے ظلم و ستم سے ان کو نجات دیں.

آج یمنی بے کس قوم اس کا حقیقی مصداق هے جن کا کوئی مددگار نہیں اور رات دن الله سے دعا کرتی رہتی هیں که اس بری مصیبت سے نجات حاصل ہوجایے.

 مظلوم کی حمایت روایات کی روشنی میں

 امام على (ع)  ‌فرماتے ہیں: «اَحسَنِ العَدلِ نصره المظلوم؛[5]

 بهترين عدالت مظلوم کی یاری کرنا هے.

 اسی طرح امام جعفر صادق(ع) سے منقول هے:

«مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُعِينُ مُؤْمِناً مَظْلُوماً إِلَّا كَانَ أَفْضَلَ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَ اعْتِكَافِهِ فِى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَنْصُرُ أَخَاهُ وَ هُوَ يَقْدِرُ عَلَى نُصْرَتِهِ إِلَّا نَصَرَهُ اللَّهُ فِى الدُّنْيَا وَ الْآخِرَه.[6]

  کویئ بهی مومن،کسی مظلوم که مدد نهیں کرتا ، مگر یه که اس کا عمل مسجد الحرام کے اندر مسلسل ایک ماہ اعتکاف کی حالت میں روزه رکهنے سے( اسکا ثواب)  افضل اور برتر هے.اور کوئی مومن ایسا نهیں هے جو اپنے برادر مومن کی مدد کرسکتا هو اور وه اس کی مدد کرے،مگر یه که خدا وند متعال دنیا اور آخرت میں اس کی مدت کرتا هے.

رسول اكرم(ص) فرماتے هیں: «مَنْ أَصْبَحَ لَا يَهْتَمُّ بِأُمُورِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ بِمُسْلِمٍ.[7]

 اگر کوئی مسلمان اس حالت میں صبح کرے که مسلمانوں کے امور کے حوالی سے بی خبر هو، تو وه مسلمان نهیں هے۔( جوشخص مسلمانوں کی مشکلات کو اهمیت نهیں دیتا هے، وه حقیقی مسلمان نهیں هے)

امام على(علیه السلام) اپنے دو فرزند بزرگوار امام حسن اور حسین(علیهما السلام) سے مخاطب هو کر فرماتے هیں: «کُونا لِظّالِمِ خَصْماً وَ لِلْمَظْلُومِ عَوْناً»[8] ظالم کے دشمن اورمظلوم  کے مددگار بن کر رهیں .

 اس روایت میں صرف مسلمان مظلوم کا تذکره نهیں هو رها هے بلکه هر مظلوم کی حمایت کرنا ضروری هے چاهے وه غیر مسلمان کیوں نه هو.

 ایک اور روایت میں پیامبر گرامى اسلام(صلى الله علیه وآله) فرماتے هیں: «مَنْ سَمِعَ رَجُلاً یُنادى یا لَلْمُسْلِمینْ فَلَمْ یُجِبْهُ فَلَیْسَ بِمُسْلِم.[9]

اگر کوئی شخص ایک مظلوم که فریاد سن رها هو ،لیکن اسکی مدد کرنے کیلئے نه جایے تو وه مسلمان نهیں هے.

  ان روایات کے علاوه اور بهی کثیر تعداد میں روایات هماری معتبر کتابوں میں موجود هیں جو مظلوم که حمایت کرنے کی تأکید کرتی هیں،هم نے اختصار کی خاطر صرف ان میں سے چند پر اکتفا کیا هے.

 بہرحال قرآن اور احادیث معصومین (ع) سے یه ثابت هوتی هے که مظلوم کی حمایت اور ان سے دفاع کرنا هم سب پر واجب هے.لهذا الله اور اسکے رسول(ص) اور ائمه معصومین(ع) کی اتباع کرتے ہوے آج یمن میں ہورہے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور ان مظلوم قوم کی صدا کو دنیا کے گوشے گوشے تک پهنچا کر آل سعود اور عالمی استکبار کی مذموم سازشوں کو ناکام بنانے کے سلسلے میں اپنا رول اداکرنا ہمارا فریضہ ہے.

 همارے علمای کرام، مبلغین حضرات، سماج کے بااثر شخصیات اور خاص کر مذهبی ادارون سے بهرپوراستدعا کی جاتی ہے که وه اس سلسلے میں اپنا دینی اور اخلاقی فرایض کو انجام دیں. اور مادی اور معنوی اعتبار سے ان کلمه گو ستمدیده مسلمانوں کی مدد کریں.معنوی اعتبار سے یعنی توسل اور دعایه مجالس کا اهتمام کریں اور مادی طور عوام الناس سے حسب توفیق رقم جمع کرکے بالواسطه یا بلاواسطه  طور پر ان مفلوک الحال انسانوں تک پہنچا نے کی  ضرورکو شش کریں۔

مثال کے طور پر هم ایرانی هلال احمر کمیٹی (Iran Red Crescent society) کے ذریعے اپنے امدادی عطیے کو ارسال کروا سکتے هیں.

 اگر چه هماری مالی امداد وہاں کے اڑاهائی میلین بهوکے اور قحط زده لوگوں کی لئے ناکافی هے لیکن  ایک محدود انسانوں کو ضرور بچا سکتے هیں. همیں اس پرندے کی مثالی بننا چاهے جو اپنی چونچ میں پانی کے چند قطرے اٹها کر حضرت ابراهیم(ع) کو نمرود کی هولناک آگ سے نجات دینے کی خاطر آیا.اگرچه اس آگ کے مقابلے میں پانی کے چند قطرے کچھ بهی نهیں تها لیکن اسنے اپنی وسعت کی مقدار ضرور مدد کی او اپنے وظیفے پرعمل کیا. لهذا هم کو بهی  چاهیے  که اپنے وظیفے پر عمل کریں تاکه انشاءالله امام زمانه(ع) هم پر راضی هوں.  وما علینا الا البلاغ المبین.                                                                خادم آخوندی، قم المقدسہ.     9/12/2018                 

 

حوالہ جات



[1]سوره بروج؛ آیت 4،5،6،7،8

[2] ترجمه حضرت علامه ذیشان حیدر جوادی.

[3] انفال،آیت72.

[4] سوره نساء آیت75.

[5] غرر الحكم: ٢٩٧٧.

[6] ثواب الأعمال و عقاب الأعمال , ج 1 , ص 147

[7] کافی، ج 2، ص 163.

[8]  نهج البلاغه،نامه 47.

[9] کافى، ج 2، ص 164.

﴿بسم اللھ الرحمن الرحیم                      (مسئلہ غدیر اور آیہ بلّغ۔‘‘آقای محسن قرائتی’’)

چاپ:آفاق شمارہ: ۵۲ ،ص۲۴

غدیر کا مسئلہ آیۃ   بلٖغ کے پس منظر میں

يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكافِرِينَ (۱)

اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پرور دٖٖٖگار کی  طرف سے نازل  کیا گیا  ہے اور آپ نے  یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچا  یا اور   خدا آپ کو لوگوں کی شر سے محفوظ رکھے گا خدا کافروں کی ھدایت نہیں کرتا۔

     تمام علماء شیعہ اور 356 سنی علماء اس بات پر  متفق ہیں کہ آیہ مذکورہ   واقعہ غدیر خم کے بارے میں نازل  ہوئی  ہے  اور پیامبر اکرم ﷺ کی وفات سے صرف 70 روز پہلے نازل ہوئی ہے۔

    اس آیہ شریفہ کے پس منظر میں تین  اہم سوالات پوشیدہ ہیں  اور ان سوالوں کا  جواب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

 ۱۔ وہ کونسا مسئلہ تھا جو پیامبر اکرم ﷺ کی وفات سے 70 روز  پہلے تک  انجام نہیں پایا تھا؟

۲۔ وہ کونسا  عظیم مسئلہ تھا جو   بہ تعبیر آیہ مذکورہ، تمام زحمات پیامبرﷺ سے ہم پلہ ہے؟( وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ)

3۔ یہ کیسا مسئلہ تھا جس کے اظہار کر نے کے حوالے سے پیامبرﷺ خوف رکھتے تھے؟( وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ)

 لفظ (ما) یعنی   وہی چیز جو پیامبر(ص) پر نازل ہوئی تھی؛ یا اصول دین میں سے ہوگی یا فروع دین میں سے! یعنی توحید، نبووت، معاد۔ یا نماز، روزہ، جھاد، خمس، زکات، حج،امربہ معروف و نہی  از منکر۔۔۔

 ‘‘ما’’ سے مراد  ہرگز توحید نہیٖں ہو سکتا کیونکہ توحید کا مسئلہ رسالت  کی ابتدا ہی سے مطرح  ہوا تھا۔

 اسی  طرح نبوت اور معاد کا مسئلہ بھی، بعثت کے اوائل میں مکہ میں مطرح  ہو چکا تھا۔

اور فروع دین میں سے ۴ اہم امور یعنی جہاد، روزہ، خمس اور زکات بھی  ہجرت کے دوسرے سال میں مطرح ہو چکا تھا۔

  اسے مراد حج بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ لوٖگ حج  اد اکر کے  واپس لوٹ رہے تھے۔

‘‘ما’’ سے مراد  امر بہ معروف و نہی از منکر بھی   نہیں ہے کیونکہ ان  دو چیزوں کے حوالے سے کسی بھی خوف کا اندیشہ  نہیں ہے اسلئے کہ مدتون سے پیامبر اکرمﷺ کسی بھی خوف کے بغیر بت پرستوں سے مبارزہ کرتے آئے تھے۔

 امامت؛‘‘ تمام  عبادی امور میں اس   تسبیح کے دھاگے کی مانند ہے جو اس کے دانوں کے بنسبت  ہے’’۔

خدا وند فرماتا ہے‘‘وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ’’ اسے معلوم ہوتا  ہے کہ کُل دین حضرت علیؑ کی امامت سے منسلک ہے، اگر امام موجود ہو تو نماز حقیقی نماز ہوگی اور باقی  اعمال بھی با معنی اور مکمل ہو جا تا ہے۔

 آیت کے حوالے سے چند اہم  نکتے

۱۔ خدا وند متعال کا پیامبر (ص) سے ‘‘يا أَيُّهَا الرَّسُولُ’’ کہہ کر خطاب کرنا اس بات کی  طرف اشارہ  ہے کہ ‘‘امر’’ بین الاقوامی ہے نہ قومی یا گروھی چونکہ قومی یا گروھی مسائل کے بارے میں خدا ‘‘ یا ایھا النبی’’ کہہ کر خطاب کرتا ہے اور بین  الاقوامی امور کے بارے میں رسولاللہ سے ‘‘یا ایھا  الرسول’’ کے نام سے خطاب  کرتا ہے۔

۲۔چونکہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے لھذا اس کی اہمیت کو  مد نظر رکھتے ہوےفعل امر ‘‘ابلغ’’ کے  بجاے لفظ ‘‘بلغ’’ کا استعمال  کیا  ہے کہ شدت امر کی نشانی ہے۔

۳۔آیت میں لفظ ‘‘رب’’ کا استعمال کر کے خدا وندمتعال انسان کی تربیت کرنا چہتا ہے اور تربیت کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہدایت ایک لایق اور (توانمند) رہبر کے زریعہ ہو۔ یہ کہ   بشریت کے ہاتھ کسی غیر معصوم کے ہاتھ میں تھما دینا  بشریت پر ظلم ہے کیونکہ چاند ،سورج، ہوا،بادل اور زمین و آسمان سب انسان کی خاطر خلق ہوا ہے:‘‘خلق لکم’’  ‘‘سخر لکم’’ ‘‘متاعا لکم’’  اور   انسان کو خدا کی   عبادت کی خاطر خلق کیا ہے۔‘‘وما خلقت الاجن و الانس الا لیعبدون’’(۲)

۴۔سرزمین غدیر خم کا انتخاب اسلئے ہوا تھا کہ یہ جگہ ایک چوراہے پر واقع  تھا جہاں سے   ہر کسی کا راستہ جدا ہوتا تھا۔ ہر  قافلہ اپنے اپنے شہر یا سرزمین کی  طرف جانے کیلئے  اسی مقام سے ایک دوسرے سے جدا ہو تا تھا۔ اسکے علاوہ غدیر ایک تالاب کی مانند تھا جس میں لوگوں کے جانوروں کی خاطر پانی موجود تھا۔ اسکے علاوہ اگر کوئی کسی  نمائش کو انجام دینا چاہیں تو وہ نچلے سطح پر ہونا چاہیے اور تما شا گران اوپر والے سطح پر تاکہ اچھی طرح نمائش کا نظارہ کر سکیں  جیسے کہ کھیل کا میدان۔

 

 کوئی بھی ہو! اگر ولایت سے جدا  ہو  جایے تو اسکی رخصت ہوگی

خدا وند متعال پیامبر(ص) جوکہ اشرف المخلوقات ہے،سے  ارشاد فر ماتا ہے اگر  ولایت سے ہاتھ اٹھا لیا تو چھٹی ہو گی۔

‘‘وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ’’

 علیؑ توحید اور وحی کا ہم وزن !

 پیغمبرﷺ  وہ   عظیم  شخصیت ہے جس کو خدا وند متعال قرآن میں۲۴۰ مرتبہ اپنی زات سے نسبت دیتا  ہے:‘‘ربک’’۔در حالیکہ تمام ہستی کے بارے میں صرف ایک مرتبہ خدا اپنی زات کو   کائنات سے نسبت دیتا ہے:‘‘ رب المشارق و المغارب’’

پیامبر (ص) وہ    عظیم ھستی  ہے کہ قرآن اسکے  بدن کے تمام اعضاء کے بارے میں بات کرتا  ہے۔

«الم نشرح لک صد رک) ( الذی انقض ظهرک» «وجهک» «عینک»   «لسانک» (3)

« عنقک» «یدک» « نساءک» «بناتک» «قریتک» جبکہ خدا وند متعال نے کسی بھی پیامبر کِے بارے مین اس انداز میں بات نهیں کی هے۔

    خدا وند  متعال قرآن مجید میں تمام پیغمبروں کو انکے نام  سے یاد کیا  ہے  مانند: یا نوح ، یا ابراھیم ، یا موسی۔۔۔

لیکن کسی بھی جگہ  پیامبر(ص) کو یا محمد کہہ کر  خطاب نہیں کیا ہے  بلکہ  یا ایّھا  الرّسول کے نام سے یاد کیا ہے۔

   خدا وند  متعال کسی بھی پیامبر کی  قسم نہیں دیتا  ہے (نہیں کھایی ہے) جبکہ آن حضور کے بارے میں فر ما رہا ہے، لعمرک؛ تمھاری جان کی قسم۔!

 اتنے  بلند  مرتبے کا مالک، اشرف المخلوقات اور خدا کا  محبوب ہونے کے با وجود، تین مقامات  پرخدا پیامبر (ص) سے  (سخت لہجے میں بات کر رہا ہے) اور تنبیہ کررہا ہے۔

۱۔ اگر توحید سے دستبردار ہو جایے تو تمام اعمال  ضایع ہو جا ینگے۔ وَ لَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَ إِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْخاسِرِينَ۔(۴)

۲۔اگر بعض با توں کو ہم سے نسبت دے تو ہم تمہا رے  شہرگ کاٹ دینگے: وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنا بَعْضَ الْأَقاوِيلِ لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنا مِنْهُ الْوَتِين۔(۵)

۳۔ اگر امر ولایت کو ابلاغ  نہ کیا تو، رسالت کو انجام نہیٖں دیا: وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ۔

     ۵۔ اگر خدا ند متعال کلمہ  ‘‘و ان لم تبلغ’’ کے بجاے ‘‘وان لم تفعل ’’ سے استفاد کر رہا ہے، تو یہ اس بات کی طرف اشارہ  کر تا ہے کہ یہ کام صرف اعلان کر نے کا نہیں ہے بلکہ  عملی (انجام دینے کا )ہے، یعنی یہ کام ایک عظیم جمعیت  کی حضوری میں انجام دینا ہو گا۔

     ۶۔ مراسم، نماز  ظہر کے بعد انجام پزیر ہوا  ، یعنی کسی بھی ضروری  پروگرام کی انجام دہی اور کسی شخص کو معرفی کر نا ہو  یا (کسی اہم پیغام کو ابلاغ کرنا ہو) تو  مسلما نوں کے بھرے مجمع   میں جیسے نماز جمعہ  وغیرہ، میں  انجام ہو نا چاہیے۔

۷۔ آن حضورﷺ کا خطبہ بہت طو لا نی ہے اور اس میں بارہا  امام  زمانہ (عج) کا اسم گرامی  تکرار ہوا  ہے، جبکہ ابھی امام زمانہ(عج) کا تولّد  نہیں ہوا تھا۔ اور یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ  خط امامت امام علیؑ سے آغاز اور  امام مھدی(عج) پر تمام ہو گا۔

۹۔ ‘‘من کنت مولاہ فھذا علی مو لاہ’’ کی عبارت اس کی طرف اشا رہ ہے کہ   پیامبرﷺ علیؑ کی طرف اشارہ کرکے، تشابہ اسمی کے ایجا د ہونے سے باز رکھا ہے۔

لفظ مولا سے مراد  دوست نہ ہونے پر تین  دلیلیں

        پہلی دلیل: اھلسنت کے(بعض) علماء کے بقول، مولا سے مراد دوستی ہے۔لیکن    اولاً یہ کہ دوستی بیعت نہیں چہتی۔ یعنی دوستی میں بیعت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ،چونک ہم اپنی روزہ مرہ  زندگی میں بہت ساری چیزوں سے   دوستی رکھتے ہیں لیکن ان سے  بیعت نہیں کرتے۔ جیسے:    انسان  اپنے فرزند سے دوستی  کرتا ہے لیکن  اس میں بیعت در کار نہیں  ہے۔

    دوسری دلیل: غدیر خم  کے مقام پر  علیؑ کو بیعت   کرنے کے علاوہ  مبارک باد بھی دیا گیا جبکہ دوستی کے  سلسلے میں مبارک بادی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔

 تیسری دلیل: آنحضرت ﷺ کو اس   خبر کے اعلان کے   حوالے سے  خوف تھا۔ اگر   دوستی کی خبر  دینا  ہو  تو خوف کی کیا معنی ہو سکتی ہے؟ چونکہ   بحث   حکو مت اور  اقتدار کی تھی   اسی  لیئے  پیا مبرﷺ کو خوف تھا۔

کیوں قرآن میں حضرت  علیؑ کا نام  موجود نہیں ہے؟

     جواب؛  اولاً، ابو بکر کا نام بھی قرآن میں ذکر نہیں ہوا ہے۔ دوسری بات یہ کہ  ضروری  بھی نہین ہے کہ نام موجود ہو یا نہ ہو، مھم یہ  ہے کہ وہ صفات   جو ایک  او لی الامر کیلے قرآن مجید میں  ذ کر  ہوئی ہیں وہ  صفات صرف حضرت علیؑ میں ہی  مو  جود  ہیں۔

     حضرت علیؑ وہ شخص ہے جس نے  رکوع کی حالت سایل کو  اپنی  انگو ٹھی دے دی۔ ( صدقہ دیا)

 جب آیت نازل ہوئی  کہ  اگر کوئی یہ چہتا ہے کہ پیامبرؑﷺ کے ساتھ  نجوا کریں، تو صدقہ دے تو  علیؑ کے  سوا  کوئی بھی سوال پوچھنے کی خاطرصدقہ نہیں دیا۔

 امیرالمئو منین علی ؑ ۷۰ کمالات کے مالک  ہیں، اور ان کے سوا    پوری ہستی میں کوئی بھی  ان کمالات کے مالک نہیں ہے۔

   ‘‘کسی  بھی پیامبر کی زوجہ  معصومہ نہیں  ہے  لیکن حضرت علیؑ کی زوجہ محترمہ معصومہ ہے۔ اوراسی طرح وہ  دو معصو مون کے وا لد  بھی ہے’’۔

 ‘‘ سلونی قبل ان تفقدونی’’ کا ادعا صرف حضرت علیؑ نے کیا ہے۔

  قرآن مجید  میں ۱۸ مقامات پر لفظ ‘‘فوز’’استعمال  ہواہے جبکہ علیؑ نے کسی بھی کمال پر   لفظ‘‘فزت’’ سےاستفادہ  نہیں کیا لیکن جب شہید ہوے  تو فرمایا ‘‘فزت’’ واضح رہے کہ شہادت کا مقام تمام  کمالات سے بر تر ہے۔

اس دن کی چار اہم خصوصیات جو صرف حضرت علیؑ کی شخصیت پر منحصر ہے۔

      قرآن کریم نے  اس دن کو   الیوم سے  یاد کیا ہے جن میں چار خصوصیات  موجودہیں:‘‘ الیوم  أ کملت لکم دینکم’’  ‘‘ الیوم أتممت علیکم نعمتی’’  ‘‘الیوم رضیت لکم  الاسلام دیناً ’’  ‘‘ الیوم یئس  الذین کفروا ’’۔(6)

      اگر ہم پیامبر گرامی اسلام ﷺ کی پر برکت زندگی کو  بررسی کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی میں چند اہم واقعات رونما ہوے ہیں ،مانند:بعثت، علنی طور  پر( اسلام   کی طرف) دعوت کرنا، ہجرت،ولادت حضرت زہراؑ، جنگ بدر ، جنگ خیبر ، جنگ حنین، فتح  مکہ،برائت، اعمال حج اور  غدیر خم۔

     الیوم سے مراد  روز بعثت نہیں ہو سکتا اور نہ  وہ دن اتنا حساس تھا، کیونکہ پیامبرﷺ ابھی تازہ  رسالت پر مبعوث ہوے تھے، اور ایک جدید دین لایے تھے جو ابھی کامل  بھی نہیں ہواتھا۔۔۔

  تین سال بعد دعوت  علنی  واقع  ہوا   اور آنحضورﷺ تازہ مخفی گاہ سے  با ہر نکلے تھے۔ہجرت کے دن بھی دین کامل نہیں ہوا چونکہ اس وقت پیامبرﷺ کی جان خطرے میں تھا  ،لہذا ہجرت کر نے پر مجبور ہوئے۔

  حضرت زہرا(س) کی ولادت کے مو قع پر بھی کفار   نا امید(الیوم یئس الذین کفروا) نہیں ہوے تھے کیونکہ اس دن دشمنوں نے کہا تھا کہ اچھا  ہوا پیامبرﷺ کو اولاد  نرینہ نہیں ہے اور وہ ابتر ہے۔

  جنگ میں کامیابی  حاصل  ہونے سے  صرف  ان  دشمنوں کو ما یوس  ہونا پڑے گا  جو (مسلما نوں) مد مقا بل ہوے تھے نہ تمام کفار کو! چونکہ وہ اب بھی امید رکھتے تھے  کہ مسلما نوں کو شکست دے سکتے ہیں۔

       اہل سنت کہتے  ہیں کہ ‘‘ الیوم’’ سے مراد ‘‘حجۃ الوداع ’’ہے؛ اسلیئے کہ اس دن مسلمانوں نے  آنحضرتﷺ کی  بیعت کی تھی اور مناسک حج انجام  دیا تھا  اسلئے خدا وند فرما تا ہے کہ‘‘الیوم یئس الذین کفروا’’ آج کفار مایوس ہو گئے۔ اگر ایسا ہوتا تو  خدا وند  ایسا فرما تا:‘‘الیوم اکملت لکم  حجّکم’’ در حالیکہ  بات کل دین کے بارے میں ہو رہی ہے۔

   فتح مکہ سنہ  ۸( آٹھ) ہجری میں واقع ہوا ہے  اور اگر اس دن دین  کامل  ہوا تھا تو  وہ  تمام آیتیں  جو  پیامبرﷺ کی رحلت   تک  دسویں  ہجری  میں  نازل ہوئی تھیں، سب  بے ارزش ہو جا ئے گی۔

            ان تمام  استد لا لات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ‘‘ الیوم’’سے مراد ‘‘غدیرخم’’ ہی  ہوسکتا ہے۔ اس کے  سوا کوئی  دوسرا راستہ  موجود نہیں ہے کیونکہ کفار نے ہر وہ کام  انجام  دیے تھے جس کی   وجہ سے آنحضرتﷺ تبلیغ دین کا فریضہ انجام دینے سے  باز آجا یں، چنانچہ  انہوں نے پیامبرﷺ کو جھوٹا، شاعر، کاہن ، ساحر، مجنون، اور «یکلّمه بشر، أعانه قوم آخرون» کہتے تھے۔ لیکن یہ سب   ،  پیامبرﷺ کو تبلیغ دین کرنے سے روک نہیں سکے۔ ‘‘لیلۃ المبیت’’ میں  پیامبر ﷺکو جو  قتل کرنے کا منصوبہ   بنا یا تھا  آخر  وہ بھی نا کام رہا ،اورجنگ کرنا بھی بے نتیجہ تھا۔

        آخر تنگ آکر کہا کہ ان کو( فالحال) اپنی حالت پر چھوڈ دو کیونکہ اس کا کوئی اولاد نرینہ نہیں  ہے جو   بعد میں اس کا   جا نشین بن جا یے ۔لھذا جب یہ خود مرجایگا تو  خود بہ خود  اس کا دین بھی ختم ہو جا یے گا۔اس حالت میں جب  رسول اللہﷺ نے  امیر المومنین علیؑ کو بعنوان  جانشین معرفی کیا تو   (کفار) نا امید ہو گیئے اسلئے کہ اگر آن حضرتﷺ کا کوئی   بیٹا ہوتا  تو  حضرت علیؑ  سے بہتر  نہیں ہوتا۔

   قرآن کریم،امام زمانہ(عج) اور انکے آحر زمان میں ظہور ہونے کے بارے ارشاد فرما رہا ہے:‘‘ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضى‏’’ (۷)  اور  دوسری جگہ فرماتا ہے:ِ ‘‘الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً’’ اسے روشن ہوتا ہے کہ دین غدیر خم رضای الہی کا دین ہے  نیز  حضرت مہدی(عج)  بھی  ولایت علی ابن ابی طالب ؑ  کی ترویج دیتے ہیں۔

حوالہ جات:

۱۔مائدہ،آیت ۶۷۔

۲۔الذاریات، آیت۵۶۔

۳۔الشرح،آیت۱۔۲۔

۴۔الزمر،۶۵۔

۵۔ الحاقۃ، ۴۴۔۴۵۔۴۶۔

۶۔مائدہ،۳۔

۷۔ النور،۵۵۔

   

 

 

 

بسم الله الرحمن الرحیم

قوم کی بیداری، وقت کا تقاضا

    انسان کو تمام مخلوقات پر برتری اس لئے حاصل هے، چونکه اس کے پاس عقل هے اور یهی وه چیز هے جو انسان کو باقی مخلوقات سے الگ کر دیتی هے. الله تعالی نے انسان کی هدایت کی خاطر دوقسم کی حجت کومقرر کیا هے.ایک حجت ظاهری هے جس سے مراد انبیاء و اولیاء(ع) هیں۔ دوسری حجت، باطنی هے جو هر انسان کے اندر پایی جاتی هے، وه انسان کی عقل هے۔ اگر انسان ان دونوں حجت الهی کی پیروی کرے تو وه انسان هر گز گمراهی کا شکار نهیں هوگا. نیز اسی بناء پراس کو اشرف المخلوقات یا فرشتوں پر برتری حاصل هوگئی هے.اب جبکه انسان کے پاس عقل موجود هے جوهرلمحه انسان کو صحیح سمت کی طرف راهنمائی کرتی رهتی هے۔ اور بی راه روی سے منع کرتی رهتی هے،اب یه انسان کے اختیارمیں هے که یا عقل کے پیروکاربن کر اپنی دنیا اور آخرت کی زندگی کو آباد کرے یا اپنی خواهشات نفسانی کےغلام بن کراپنی هلاکت کا خود زمینه فراهم کرے.

    الله تعالی کا ارشاد هے: هم نے انسان کو راسته دکهایا هے، چاهے هدایت پاکر، شاکربن کررهے یا گمراه هو کر کفرکے جرگے میں زندگی گزارے.( إِنَّا هَدَیْنَاهُ السَّبِیلَ إِمَّا شَاكِراً وَ إِمَّا كَفُوراً ). هدایت اور گمراهی کو تشخیص دینے کے حوالے سے همیں بصیرت اور بیدارهونے کی ضرورت هے. یعنی خود غفلت کے خواب سے بیدارهواوران افراد کو بهی بیدارکرے جو غفلت کا شکارهوکراپنےارد گرد کے ماحول اور قوم کے نفع نقصان سے بے خبر هے. اسلام کے نقطه نگاه سے دنیا میں ذلیل و خوارہو کر جینا یہی گمراهی هے۔ اور عزتمندانه زندگی گزارنا،خدمت خلق، سماجی مشکلات کا ازاله کرنا وغیره ، هدایت اور قابل تحسین عمل ہے.

   آج هماری قوم کے اندر بیداری ایجاد کرنا، انقلاب اور تبدیلی کا احساس پیدا کرنے کی اشد ضرورت هے اور یه تبدیلی اورانقلاب تب تک حاصل نهیں ہونگے جب تک هم خود اس سلسلسے میں کوشش نه کریں. یه سنت الهی کے خلاف هے که خود بخود کسی قوم کے اندر تغیر و تبدیل ایجاد هوجایے۔ بلکه هر قوم کو خود تحریک چلانے کی ضرورت هے، دوسرے الفاظ میں قوم خود ظلم ، تبعیض اور فساد کے خلاف اٹھ کهڑے هوجایے. اس حوالے سے خداوند متعال فرماتا هے: «ان الله لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا بانفسهم»،

 خداوند کسی قوم کی حالت کو تبدیل نهیں کریگا مگر یه که قوم خود اپنی وضعیت میں تبدیلی ایجاد کرے.       

  آج همارے سماج کے اندر تبدیلی کے زمینے فراهم هوتے نظر آرهے هیں، جوان طبقے کے اندر بیداری کی کرن نظرآرہی ہے،آج هماری قوم ماضی کی طرح هر ناانصافیوں اور ظلم وستم کے مقابلے میں خاموش رہنے کے لئے تیار نهیں هے. یه سب ایک چیز کی علامت هے وه هے انقلاب کا رجحان، یعنی تبدیلی؛ روشن مستقبل کی سمت ایک مثبت قدم. اور یه وقت کی اهم ضرورتوں میں سے هے.

 انقلاب ایک عجیب لفظ نہیں هے بلکه اسے مراد تبدیلی او ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹ جانے کا نام انقلاب یا (Revolution )هے. همارے سماج کے اندر ہر قسم کے انقلاب کی ضرورت بے. جیسے سیاسی، ثقافتی، اقتصادی، اور فکری. اج بعض مفاد پرست عناصر، سیاسی اور مذهبی لبادے میں آکر هماری فکر کو سابوتاج کر رهے ہپں، دراصل ان کو نه دین کا پته هے اور نه سیاست کا، ان کی نگاهیں همیشه اپنی جیب پر ٹکی رهتی هے! لهذا فکری آزادی اور انقلاب سب سے ضروری هے.

  حقیقت میں اگرهم انقلابی بنا چاهیں تو همیں دنیا کی بعض غیور قوم کی طرف ضرور نظر کرنا چاہیے اوران کو اپنے لئے آیڈیل قرار دینا چاہیے. جیسے ایرانی قوم اور لبنانی شیعه قوم.

  تاریخ گواه ہے که آج سے چند سال پهلے لبنان کے اندر بهی شیعه قوم کی حالت اس سے بهی بدتر تهی، جتنی آج هماری قوم کی هے. اس قوم کی ساتھ بهی نا انصافیاں، تبعیض اورظلم کی اتنها هو رهی تهی.اس قوم کوحقیقی معنوں میں مستضعف بنا دیا تها، هر قسم کی مشکالات اور پریشانیوں کا سامنا کرنےپرمجبورتهی، فقر اورغربت کی یه نا گفته به حالت تهی که جنوب لبنان سے لوگ بیروت کے نواحی علاقوں کی طرف هجرت کرنے پرمجبور تهے۔ اوراپنے بچوں کو بهیگ منگوانے پر مجبور کرتے تهے ، یهاں تک که خواتین غذا اور پیسوں کی خاطر جسم فروشی پر مجبور تهیں.

   لبنان کے ایک ممتاز عالم دین علامه شرف الدین اپنی ایک یاد داشت میں فرماتے ہیں: جب میں نے لبنان کے شیعہ قوم کی حالت کا جائزه لیا تو مجهے معلوم ہوا که یه قوم هر جهت سے پسمانده اور غریب هیں، سرکاری ملازمت میں شیعوں کی تعداد نه هونے کے برابر تهی۔ اور وه  بهی نچلے سطح کے پوسٹوں پرتعینات تهے. یعنی جهاں بهی بقال،خاکروب،چپراسی،چوکیدار وغیره نظر آتے، سب شیعه مسلک سے تعلق رکهتے تهے اور بڑے بڑے سرکاری عهدوں پر باقی مسلک سے تعلق رکهنے والے لوگ فائز تهے.علامه فرماتے هیں: میں نے سوچا که اگر میں ایک گوشے میں بیٹھ کر کتاب لکھتا رهوں یا ایک محدود طالب علموں کو تدریس کرتا رهوں، تواس بیچاره قوم کو کوئی فائده نهیں هوگا. بلکه اس کا علاج یه هے که لبنان کے شیعه آبادی والے علاقوں میں کچھ بنیادی کام هونا لازمی هے تا که حالت میں تبدیلی آجایے. اس کے بعد علامہ نے قوم کیلئے ایک مفید اور ثمربخش کام کرنےکی ٹهان لی. انهوں نے سب سے پهلے تعلیمی نظام کو اصلاح کر نے کی کوشش کی.هر جگھ تعلیمی مراکز کا اهتمام کیا.قوم کے بچوں کو تعلیم حاصل کر نے کی تشویق دے دی. کچھ عرصے کے بعد ان طالب علموں نے اسکولوں، کالجوں اور یونورسیٹیوں کا رخ کیا.اور تعلیمی میدان میں خاطر خواه کامیابی حاصل کی.ان کے بعد باقی علماء جیسے امام موسی صدر، سیدعباس موسوی وغیره نے قوم کے لئے انتھک محنت کی.اسی دوران سرزمین ایران میں انقلاب آیا اور لبنانی شیعہ قوم نے سب سے پهلے حضرت امام خمینی(ره) کی حمایت کی اور نظام ولایت فقیه سے مستفید هوے۔ اور مختلف میدانوں میں ملت ایران کو اپنے لئے نمونه اور آیڈیل قرار دیکر کامیابی کے بڑےبڑے منزلوں کو طے کیا.

 آج هم دیکھ رہے هیں که یه قوم پوری دنیا میں کس مقام پر کهڑی هے. دنیا کا هر باضمیرانسان لبنانی قوم ، حزب الله اور قائدمقاومت اسلامی سید حسن نصرالله(حفظہ اللہ) کی تعریف کرتا هے اور ان کو سلام پیش کرتا هے.

   بی شک آج لبنانی قوم نے اپنے آپ کو انقلابی کهلانے کے لائق بنادیاهے.انهوں نے عملی میدان میں ثابت کیا که حقیقی انقلابی اور ولایت فقیه کے پیروکارهیں. یه ان دلسوزعلماء کی کاوشوں کا نتیجه هے که آج شیعیان لبنان، لبنان کے اندر سربلندی اورعزت کی زندگی بسر کر رهے ہیں.آج ملکی سطح پرحزب الله کی مشارکت کے بغیر کوئی بهی فیصله لینا ناممکن هو گیا ہے.آج پارلیمنٹ کے اندر پڑی تعداد میں اراکین پارلیمٹ شیعیان سے منسلک هیں، پارلیمنٹ کا اسپیکرهمیشه شیعه هوتا هے، کابینے کے اندر بهی ان کے وزراء موجود هیں۔ اس کےعلاوه مختلف شعبه جات جیسے دفاعی،ثقافتی اوردینی وغیره میں بهی پیشرفت حاصل ہورهی هے.

 لبنانی قوم کی ان کامیابیوں کا راز یه هے که یه لوگ آپس میں متحد هیں اپنی علماء کرام پر بروسه رکهتے هیں اور اس کامرانی کی سب سے بڑی علت، نظام ولایت فقیه سے منسلک رهنا هے.

  اگر چه همارے معاشرے میں بھی انقلابی کے دعویدار کم نهیں هیں لیکن فرق اتنا ضرور هے که لبنانی انقلابی لوگ صرف نعرے نهیں دیتے بلکه عملی میدان میں انقلابی شاهکار دکهاتے هیں.جبکه همارے بعض لوگ انقلابی هونے کے دم تو ضرور بهرتے هیں لیکن عملی میدان میں ابهی بهت پیچهے هیں.

 انقلاب اسلامی صرف یه نهیں ہے که هم، ایران زنده باد امریکا مرده باد کھیں؛ یا 22 بهمن (یوم الله) مناییں یا روز قدس کی موقع پر جلسه جلوس کریں،امام خمینی (رح) اور امام خامنه ای(حفظه ا...) کی تصویریں اٹها کرریلیوں میں حاضری دیں، یه تو صرف انقلاب اسلامی کے ظاهری کرشمے اور نشانی هیں.اور هم نے اسی کو سب کچھ سمجھ کر اسی حد تک اهمیت دیتے هیں دوسرے الفاظ میں همیں انقلاب کا ارث صرف اتنا نصیب هوا هے. جبکه انقلاب کے آثار و کرامات سے پوری دنیا استفاده کررهی هے. انقلاب کی برکت سے جمهوری اسلامی ایران نےتمام تر پابندیوں کے باوجود ان چالیس سالوں میں مختلف میدانوں میں اتنی بی مثال ترقی کی هے کہ دنیا اس کو دیکھ کرمبهوت هے.جمهوری اسلامی اج سائنس اور تکنولوجی کے شعبے میں مڈلیسٹ میں پہلی پوزیشن اور پوری دنیا مین پندره ویں یا سولویں پوزیشن پر هے. نینو اور ایٹمی ٹکنالوجی اور دفاعی سکٹر میں دنیاکی دس ممتاز ممالک میں شامل هیں اور یه سب انقلاب کی بدولت هے. اگر هم نے حقیقت میں انقلاب اسلامی کو درک کیا هوتا تو آج هماری یه حالت نهیں هوتی.   

  اب آیے هم اپنے معاشرے کی موجوده صورت حال پر بحث کرتے هیں، آج کا سب سے بڑا اور اهم مسئله جو آج کل خبروں کی سرخیوں میں هے، وه یونورسیٹی کا مسئله هے جو که ریاستی گورنر جناب ستیاپال ملک صاحب نے "لیہ" شهر میں بنانے کا عندیه دیا ہے.اس مایوس کن فیصلے کو لیکر آج کل ضلع کرگل کےعوام خاص کر نوجوانوں کے درمیان کافی غم وغصه پایاجارها هے جس کا اندزه، هم سوشل میڈیا یا باقی ذرایع ابلاغ میں موجود بیانات سے بخوبی کرسکتے هیں۔

 اگر چه یه ناانصافی پرمبنی فیصلے،اس سے پهلے بهی وقتا فوقتاﱠ، چاهے اسٹیٹ گورنٹمنٹ هو یا سنٹرگورنمنٹ، کی طرف سے لیتے رهے ہیں۔ جیسے خطه لداخ کے نام پر جتنے بهی امتیازات سرکار کی طرف سے آجاتی ہیں، (جیسی لداخ اسکوٹ،سویل ایرپورٹ،سنٹریل جیل،رسوئی گیس کا ہیڈکواٹروغیره) وه سب لیه کو حاصل هو تی هیں۔ گویا لداخ سے مراد صرف له هے جبکه جیوپوٹکل، آیئن اور قانونی اعتبارسے، جب لداخ کا نام لیا جاتا ہے تو اس میں کرگل بهی شامل هے. یهاں تک که وکیپیڈیا میں بهی لداخ سے مراد کرگل اور لیه  دونوں هے. لیکن ان سب کے باوجود حکومت کی طرف سے ضلع کرگل کے سات امتیازی سلوک ہو رہا ہے. اب یونورسیٹی کا فیصله تو گونر انتظامیه کی طرف سے لیا گیا ہے جو که تعجب کی بات نهیں هے. لیکن اس سے پهلے بهی جبکه ریاست میں سیول سرکار بر سراقتدار تها اس وقت بهی ریاستی حکومت لیه کو هی اهمیت دیتی رهی هے.جبکه سالوں سے لیه والے UT (مر کزی زیر اهتمام علاقے جیسے دمن ،دیو، گوا،پانڈیچری وغیره) کی مانگ کر رهے هیں اور ریاست جمو و کشمیر سے الگ هونے کا نعره لگا رهے هیں. جبکه هم نے همیشه ریاست کے ساتھ رهنے کے حق میں فیصله دیا هے اور ریاست کے بٹوارے کی سختی سے مخالفت کی هے.

  همارے خلاف جتنے بهی نا انصافیا‎ں هو رهے هیں، ہو سکتا هے یه سب ایک سوچی سمجھی سازش کی تحت هو رہی هوں.شاید شیعه قوم کو همیشه پسمانده رکهنے کی کوشش ہورہی هو،شاید نامحسوس طور پرعالمی صهیونیزم اور استکبار، ان عوامل کے پیچهے چهپے هوے هوں؛ اور همیں معلوم نه هو.

  لهذا همیں هر لمحے بیدار رہنے کی ضرورت هے.همیں فرعونی سیاست کا ڑٹ کر مقابله کرنا هوگا. جو کچھ آج کل هماری قوم کے ساتھ ہورها هے و فرعونی سیاست کا حقیقی مصداق هے.

فرعون نے بهی بنی اسرائیل کی قوم کو دو حصوں میں تقسیم کیا تها یک گروه کا نام سبطی تها جو حضرت موسی(ع) کی پیروگار تهے اور دوسرے گروه کا نام قبطی تها، فرعون صرف قبطیوں کو هرقسم کے امکانات فراهم کرتا تها اور سبطیوں کو موحد هونے کے جرم میں هر قسم کے امتیازات سے محروم کرتا تها اور ان پر ظلم کرتا تها.

  آج وهی فرعونی سیاسی رفتار همارے ساتھ بهی هو رها هے. اب وقت آگیا هے که هم آپسی اختلافات کو بالای طاق رکھ  کر متحد هوجائیں اور سب مل کر قوم کی فلاح و بهبود کی خاطر تلاش و کوشش کریں.همارے مذهبی اور سیاسی اداروں کو چاهے که هوش کے ناخن لیکر قوم و ملت کو مذید تباهی سے بچانے کے سلسلے میں ٹھوس اقدام اتهایئں. علمای کرام کو اپنی زمه داری نبهانے کا وقت ٱگیا هے۔ اب مذید خاموشی جایز نهیں هے. لبنان کے دلسوزعلماء کی طرح قوم کی عزت وآبرو کیلئے میدان میں آجایئں. اداروں یا سیاسی دهڑوں کا متعدد هونا کوئی نقصان نهیں هے بشرط اینکه ان سے مذهبی، قومی اور علاقائی تعصب ختم هو جایے.لبنان میں بهی شیعوں کی مختلف جماعت هیں لیکن یه لوگ چهوٹے چهوٹے مسائل کو لے کر آپس میں نهیں الجتے ہیں.لبنان میں جزب الله کی جماعت ایک ایسی جماعت هے جو "الامل مومنٹ" سے جدا هوکر وجود میں آگئی تهی.«حرکت امل»جس کی بنیاد امام موسی صدر نے رکهی تهی جن میں جزب الله کے موجودہ اراکین بهی شامل تهے.لیکن بعد میں حزب الله الگ هوگئی تهی.اور ابهی تک یه دونوں جماعت موجود هیں.لیکن دونوں آپس می متحد اور یدواحده بن کر قوم کی سر بلندی کی سلسلے میں کسی قسم کی کوتاهی نهیں کرتے ہیں.

  همارے مذهبی اداروں کو ان لبنانی قوم سے درس لینا چاهے. اور قومی مفاد کے سلسلے میں متحد هوکر دشمن کے ناپاک سازشوں کو ناکام بنادیں. ابهی ایک بهت بڑا امتحان همارے سامنے هے وہ پارلمانی الکشن هے۔ اس بار تمام سیاسی اور مذهبی جماعتوں کی یه ذمه داری هے که  کرگل ہی سے کسی لائق اور دلسوز فرد کو اس عهدے کے لئے انتخاب کریں اور سب مل کر اسی کو کامیاب بنایں. اختلافات کو مزید هوا دیکر قوم کو مزید نا امید نه کریں، غیورنوجوانوں کی ناراضگی میں مزید اضافه نه هونے دیں.

  آج تک جتنے بهی نا انصافی همارے ساتھ هوئی هے وه هماری کوتاهیوں کی وجه سے هوئی هے، جن میں همارے نام نهاد سیاسی رهنما، مذهبی ادارے، سماجی سرگرم کارکنان اور کچھ حدتک عوام بهی مقصر هیں؛ هم لوگوں کو همیشه کم پر راضی هونے کی عادت هوگئی هے، همارے ارباب سیاست حکومت سے بڑی بڑی مانگیں کرنے کے سلسلے میں کتراتے هیں۔ لهذا نا امید هوکر چهوٹی اور کم ارزش چیزوں کو زیاده اهمیت دیتے هیں.جبکه لیه کے سیاسی رهنما‏ سرکار کے پاس بڑی بڑی مانگیں لیکر جاتے هیں اورکافی حد تک کامیاب رهتے هیں.هماری سب سے بڑی اور دیرینه مانگ زوجله ٹنل هے جو که سالوں سے چل رهی هے۔ لیکن ابهی تک نا کامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا ہے.جبکه سنٹرل گورنمنٹ اور اسٹیٹ گورنمنٹ دونوں نے لیه خطے پر بے حساب بجٹ صرف کیا هے.حال ہی میں یه خبرمنظرعام پرآگئی که حکومت،  "لیه" خطے میں ریلوے لین بچهانے جا رہی ہے جس پر پچاسی هزار کروٹ روپیے سے زیاده خرچ هونے کا تخمینه لگایا جارها هے۔ اور حکومت اس پر کام کرنے کے حوالے سے غور کر رهی هے. یهی حکومت، لیه والوں پر اتنی بڑی رقم صرف کرنے پر تیار هے، لیکن زوجله ٹنل جوکه کرگل کے رگ حیات کی مانند هے، اس پر صرف ساڑھے چارهزار کروٹ روپیے خرچ کرنے پر تیار نهیں هے. یه ناانصافی اورDiscrimination  کی ایک کهلی دلیل هے.

  لهذا یونورسیٹی همارا بنیادی حق هے اور اپنے حقوق سے دفاع کے لئے سب کو میدان میں آنا هوگا. هرشهری اپنی بضاعت کے مطابق اس مشکل اور حیاتی مسئلے کو ملحوظ خاطر رکھ کر اپنے وظیفے پرعمل کریں.چاہیں کونسل هو یا مذهبی ادارے، عوام هو یا خواص، اهل قلم هو یا اهل فن، سب کو اپنا کردار ادا کرنا هوگا۔ تاکه آینده همارے ساتھ نا انصافی نه هو. اور آینده ظلم کے خلاف خاموشی اختیارکرنے کی همیں دوباره عادت نه پڑھ جایے. والسلام.

  خادم آخوندی؛ قم مقدس؛

 17/12/2018

۔ کیا قرآن مجید میں تحریف ھوئی ھے؟

شیعہ وسنی علماکے یھاں مشھور و معروف یھی ھے کہ قرآن مجید میں کوئی تحریف نھیں ھوئی ھے، اور مو جودہ قرآن کریم وھی قرآن ھے جو پیغمبر اکرم (ص)پر نازل ھوا ، اوراس میں ایک لفظ بھی کم و زیاد نھیں ھوا ھے۔
قدما اور متاخرین میں جن شیعہ علمانے اس حقیقت کی وضاحت کی ھے ان کے اسما درج ذیل ھیں:
۱۔ مرحوم شیخ طوسی(رہ) جو ”شیخ الطائفہ“ کے نام سے مشھور ھیں، موصوف نے اپنی مشھور و معروف کتاب ”تبیان“ میں وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ھے۔
۲۔ سید مرتضیٰ (رہ) ، جو چوتھی صدی کے عظیم الشان عالم ھیں۔
۳۔ رئیس المحدثین مرحوم شیخ صدوق محمد بن علی بن بابویہ (رہ) ، موصوف شیعہ عقیدہ بیان کرتے ھوئے فرماتے ھیں: ”ھمارا عقیدہ یہ ھے کہ قرآن مجید میں کسی طرح کی کوئی تحریف نھیں ھوئی ھے“۔
۴۔ جلیل القدر مفسرقرآن مرحوم علامہ طبرسی، جنھوں نے اپنی تفسیر (مجمع البیان) کے مقدمہ میں اس سلسلہ میں ایک واضح اور مفصل بحث کی ھے۔
۵۔ مرحوم کاشف الغطاء جو علمائے متاخرین میں عظیم مرتبہ رکھتے ھیں۔
۶۔ مرحوم محقق یزدی(رہ) نے اپنی کتاب عروة الوثقیٰ میں قرآن میں تحریف نہ ھونے کے اقوال کو اکثر شیعہ مجتھدین سے نقل کیا ھے ۔
۷۔ نیز بہت سے جید علماجیسے ”شیخ مفید(رہ)“ ، ”شیخ بھائی“، قاضی نور اللہ“ اور دوسرے شیعہ محققین نے اسی بات کو نقل کیا ھے کہ قرآن مجید میں کوئی تحریف نھیں ھوئی ھے۔


اھل سنت کے علمااور محققین کا بھی یھی عقیدہ ھے کہ قرآن کریم میں تحریف نھیں ھوئی ھے۔
اگرچہ بعض شیعہ اور سنی محدثین جو قرآن کریم کے بارے میں زیادہ معلومات نھیں رکھتے تھے، اس بات کے قائل ھوئے ھیں کہ قرآن کریم میں تحریف ھوئی ھے، لیکن دونوں مذھب کے عظیم علماکی روشن فکری کی بنا پر یہ عقیدہ باطل قرار دیا گیا اور اس کو بھُلادیا گیا ھے۔
یھاں تک کہ مرحوم سید مرتضیٰ ”المسائل الطرابلسیات“ کے جواب میں کہتے ھیں: ”قرآن کریم کی نقلِ صحت اتنی واضح اور روشن ھے جیسے دنیا کے مشھور و معروف شھروں کے بارے میں ھمیں اطلاع ھے، یا تاریخ کے مشھور و معروف واقعات معلوم ھیں“۔
مثال کے طور پر کیا کوئی مکہ اور مدینہ یا لندن اور پیرس جیسے مشھور و معروف شھروں کے وجود میں شک کرسکتا ھے؟ اگرچہ کسی انسان نے ان شھروں کو نزدیک سے نہ دیکھا ھو، یا انسان ایران پر مغلوں کے حملے ، یا فرانس کے عظیم انقلاب یا پھلی اور دوسری عالمی جنگ کا انکار کرسکتا ھے؟!
پس جیسے ان کا انکار اس لئے نھیںکر سکتے کہ یہ تمام واقعات تواتر کے ساتھ ھم نے سنے ھیں، توقرآن کریم کی آیات بھی اسی طرح ھیں ، جس کی تشریح ھم بعد میں بیان کریں گے۔
لہٰذا جو لو گ اپنے تعصب کے تحت شیعہ اھل سنت کے درمیان اختلاف پیدھا کرنے کے لئے تحریف قرآن کی نسبت شیعوں کی طرف دیتے ھیں تو وہ اس نظریہ کو باطل کرنے والے دلائل کیوں بیان نھیں کرتے جو خود شیعہ علماکی کتابوں میں موجود ھيں ؟!
کیا یہ بات جائے تعجب نھیں ھے کہ ”فخر الدین رازی“ جیسا شخص (جو ”شیعوں“ کی نسبت بہت زیادہ متعصب ھے) سورہ حجر کی آیت نمبر ۹ کے ذیل میں کہتا ھے کہ یہ :آیہ ٴ شریفہ شیعوں کے عقیدہ کو باطل کرنے کے لئے کافی ھے ،جو قرآن مجید میں تحریف ( کمی یا زیادتی) کے قائل ھیں۔
تو ھم فخر رازی کے جواب میں کہتے ھیں: اگر ان کی مراد بزرگ شیعہ محققین ھیں تو ان میں سے کوئی بھی ایسا عقیدہ نھیں رکھتا ھے، اور اگران کی مرادبعض علما ء کا ضعیف قول ھے تو اس طرح کا نظریہ تو اھل سنت کے یھاں بھی پایا جاتا ھے، جس پر نہ اھل سنت توجہ کرتے ھیں اور نہ ھی شیعہ علماتوجہ کرتے ھیں۔
چنا نچہ مشھور و معروف محقق ”کاشف الغطاء“ اپنی کتاب ”کشف الغطاء“ میں فرماتے ھیں:
”لارَیبَ اٴنَّه (اٴی القرآن) محفوظٌ مِنَ النُّقْصَانِ بحفظِ الملک الدَّیان کما دَلَّ علَیه صَریحُ القُرآنِ وَإجمَاع العلماء فِی کُلِّ زمان ولا عبرة بنادر“[1]
”اس میں کوئی شک نھیں ھے کہ قرآن مجید میں کسی بھی طرح کی کوئی تحریف نھیں ھوئی ھے، کیونکہ خداوندعالم اس کا محافظ ھے، جیسا کہ قرآن کریم اور ھر زمانہ کے علماکا اجماع اس بات کی وضاحت کرتا ھے اور شاذو نادر قول پر کوئی توجہ نھیں دی جاتی“۔
تاریخ اسلام میں ایسی بہت سی غلط نسبتیں موجود ھیں جو صرف تعصب کی وجہ سے دی گئی ھیں جبکہ ھم جانتے ھیں کہ ان میں سے بہت سی نسبتوں کی علت اور وجہ صرف اور صرف دشمنی تھی، اور بعض لوگ اس طرح کی چیزوں کو بھانہ بنا کر کوشش کرتے تھے کہ مسلمانوںکے درمیان اختلاف کر ڈالیں۔
اورنوبت یھاں تک پھنچی کہ حجاز کا مشھور و معروف موٴلف ”عبد اللہ علی قصیمی “ اپنی کتاب ”الصراع“ میں شیعوں کی مذمت کرتے ھوئے کہتا ھے:
”شیعہ ھمیشہ سے مسجد کے دشمن رھے ھیں! اور یھی وجہ ھے کہ اگر کوئی شیعہ علاقے میں شمال سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک دیکھے تو بہت ھی کم مسجدیں ملتی ھیں“ !![2]
ذرا دیکھے تو سھی ! کہ شیعہ علاقوں میں کس قدر مساجد موجود ھیں، شھر کی سڑکوں پر، گلیوں میں اوربازاروں میںبہت زیادہ مسجدیں ملتی ھیں، کھیں کھیں تو مسجدوں کی تعداد اتنی ھوتی ھے کہ بعض لوگ اعتراض کرنے لگتے ھیں کہ کافی ھے، ھمارے کانوں میں چاروں طرف سے اذانوں کی آوازیں آتی ھیں جن سے ھم پریشان ھیں، لیکن اس کے باوجود مذکورہ موٴلف اتنی وضاحت کے ساتھ یہ بات کہہ رھے ھیں جس پرھمیں ھنسی آتی ھے چونکہ ھم شیعہ علاقوں میں رہ رھے ھیں، لہٰذا فخر الدین رازی جیسے افراد مذکورہ نسبت دینے لگیں تو ھمیں کوئی تعجب نھیں ھونا چاہئے۔[3]

 

2۔ قرآن کریم کس طرح معجزہ ھے؟

ھم پھلے قرآن کریم کی عظمت کے سلسلہ میں چند نامور افراد یھاں تک کہ ان لوگوں کے اقوال بھی نقل کریں گے کہ جن لوگوں پر قرآن کریم سے مقابلہ کرنے کا الزام بھی ھے :


۱۔ ابو العلاء معرّی (جس پر قرآن کریم سے مقابلہ کرنے کا الزام بھی ھے) کہتا ھے:
اس بات پر سبھی لو گ متفق ھیں (چاھے وہ مسلمان ھوں یا غیر مسلمان) کہ حضرت محمد (ص)پر نازل ھونے والی کتاب نے لوگوں کی عقلوں کو مغلوب اور مبھوت کردیا ھے، اور ھر ایک اس کی مثل و مانند لانے سے قاصر ھے، اس کتاب کا طرز ِبیان عرب ماحول کے کسی بھی طرز بیان سے ذرہ برابر بھی مشابہت نھیں رکھتا ، نہ شعر سے مشابہ ھے، نہ خطابت سے، اور نہ کاھنوں کے مسجع سے مشابہ ھے،اس کتاب کی کشش اور اس کا امتیاز اس قدرعالی ھے کہ اگر اس کی ایک آیت دوسرے کے کلام میں موجود ھو تو اندھیری رات میں چمکتے ھوئے ستاروں کی طرح روشن ھوگی!“۔


۲۔ ولید بن مغیرہ مخزومی، ( جو شخص عرب میں حسن تدبیر کے نام سے شھرت رکھتا تھا)اور دور جاھلیت میں مشکلات کو حل کرنے کے لئے اس کی فکر اور تدبیر سے استفادہ کیا جاتا تھا، اسی وجہ سے اس کو ”ریحانہ قریش“ (یعنی قریش کا سب سے بہترین پھول) کھا جاتا تھا، یہ شخص پیغمبر اکرم (ص)سے سورہ غافر کی چند آیتوں کو سننے کے بعد قبیلہ ”بنی مخزوم“ کی ایک نشست میں اس طرح کہتا ھے:
” خدا کی قسم میں نے محمد (ص) سے ایسا کلام سنا ھے جو نہ انسان کے کلام سے شباہت رکھتا ھے اور نہ پریوں کے کلام سے، ”إنَّ لَه لحلاوة، و إِنَّ علیه لطلاوة و إنَّ اعلاه لمُثمر و إنَّ اٴسفله لمغدِق، و اٴنَّه یَعلو و لا یُعلی علیه“ (اس کے کلام کی ایک مخصوص چاشنی ھے، اس میں مخصوص خوبصورتی پائی جاتی ھے، اس کی شاخیں پُر ثمر ھیں اور اس کی جڑیں مضبوط ھیں، یہ وہ کلام ھے جو تمام چیزوں پر غالب ھے اور کوئی چیز اس پر غالب نھیں ھے۔)[4]


۳۔ کارلائل۔ یہ انگلینڈ کا مورخ اور محقق ھے جو قرآن کے حوالہ سے کہتا ھے:
”اگر اس مقدس کتاب پر ایک نظر ڈالی جائے تو اس کے مضا مین بر جستہ حقائق اور موجودات کے اسراراس طرح موجزن ھیں جس سے قرآن مجید کی عظمت بہت زیادہ واضح ھوجاتی ھے، اور یہ خود ایک ایسی فضیلت ھے جو صرف اور صرف قرآن مجید سے مخصوص ھے، اور یہ چیز کسی دوسری علمی، سائنسی اور اقتصادی کتاب میں دیکھنے تک کو نھیں ملتی، اگرچہ بعض کتابوں کے پڑھنے سے انسان کے ذھن پر اثر ھوتا ھے لیکن قرآن کی تاثیر کا کوئی موازنہ نھیں ھے، لہٰذا ان باتوں کے پیش نظر یہ کھا جائے کہ قرآن کی ابتدائی خوبیاں اور بنیادی دستاویزات جن کا تعلق حقیقت، پاکیزہ احساسات، برجستہ عنوانات اور اس کے اھم مسائل و مضامین میں سے ھے ھر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ھیں، وہ فضائل جو تکمیل انسانیت اور سعادت بشری کا باعث ھیں اس میں ان کی انتھا ھے اور قرآن وضاحت کے ساتھ ان فضائل کی نشاندھی کرتا ھے۔[5]


۴۔ جان ڈیون پورٹ: یہ کتاب ”عذر تقصیر بہ پیش گاہ محمد و قرآن“ کا مصنف ھے، قرآن کے بارے میں کہتا ھے: ”قرآن نقائص سے اس قدر مبرا و منزہ ھے کہ چھوٹی سی چھوٹی تصحیح اور اصلاح کا بھی محتاج نھیں ھے، ممکن ھے کہ انسان اسے اول سے آخر تک پڑھ لے اور ذرا بھی تھکان و افسردگی بھی محسوس نہ کرے“۔[6]
اس کے بعد مزید لکھتا ھے: سب اس بات کو قبول کرتے ھیں کہ قرآن سب سے زیادہ فصیح و بلیغ زبان اور عرب کے سب سے زیادہ نجیب اور ادیب قبیلہ قریش کے لب و لہجہ میں نازل ھوا ھے اور یہ روشن ترین صورتوں اور محکم ترین تشبیھات سے معمور ھے“۔[7]


۵۔ گوئٹے: جرمنی شاعر اور دانشور کہتا ھے:
”قرآن ایسی کتاب ھے کہ ابتدا میں قاری اس کی وزنی عبارت کی وجہ سے روگردانی کرنے لگتا ھے لیکن اس کے بعد اس کی کشش کا فریفتہ ھوجاتا ھے او ربے اختیار اس کی متعدد خوبیوں کا عاشق ھوجاتا ھے“۔
یھی گوئٹے ایک اور جگہ لکھتا ھے:
”سالھا سال خدا سے نا آشنا پوپ ھمیں قرآن اور اس کے لانے والے محمدکی عظمت سے دور رکھے رھے مگر علم و دانش کی شاھراہ پر جتنا ھم نے قدم آگے بڑھایاتو جھالت و تعصب کے ناروا پردے ہٹتے گئے اور بہت جلد اس کتاب نے جس کی تعریف و توصیف نھیں ھوسکتی دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیا اور اس نے دنیا کے علم و دانش پر گھرا اثر کیا ھے او رآخر کار یہ کتاب دنیا بھر کے لوگوں کے افکار کا محور قرار پائے گی“۔
مزید لکھتا ھے: ”ھم ابتدا میں قرآن سے روگرداں تھے لیکن زیادہ وقت نھیں گزرا کہ اس کتاب نے ھماری توجہ اپنی طرف جذب کرلی اور ھمیں حیران کردیا یھاں تک کہ اس کے اصول اور عظیم علمی قوانین کے سامنے ھم نے سرِتسلیم خم کردیا۔[8]

  • 1
  • 10
  • 11
  • 12
  • 13
  • 14
  • 15
  • 16
  • 17
  • 18
  • 19
  • 2
  • 20
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6
  • 7
  • 8
  • 9

Simple Image Gallery Extended

Warning: No images in specified directory. Please check the directoy!

Debug: specified directory - http://kargilonline.com/images/pictures/hamaesh-islam

  • Sanctuary-1
  • Sanctuary-10
  • Sanctuary-11
  • Sanctuary-12
  • Sanctuary-2
  • Sanctuary-3
  • Sanctuary-4
  • Sanctuary-5
  • Sanctuary-6
  • Sanctuary-7
  • Sanctuary-8
  • Sanctuary-9

Simple Image Gallery Extended