دس رمضان المبارک ام المومنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا یوم وفات ہے۔

اسی مناسبت سے اسلامی جمہوریہ ایران، عراق، شام، لبنان، بحرین، پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور مختلف دیگر ممالک میں مجالس عزا کا سلسلہ جاری ہے۔
ایران میں مقدس شہروں مشہد اور قم سمیت مختلف علاقوں میں مجالس عزا برپا کی جا رہی ہیں۔
ام المومنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے زمانے کو خاتون جنت حضرت فاطمہ (س) کی شکل میں رحمت خداوندی کا عظیم تحفہ عطا کیا اور اسلام و بانی اسلام کا تحفظ جان و مال لٹا کر کیا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت خدیجہ (س) سے بے حد اور والہانہ محبت تھی ان کی دولت نے اسلام کو مالی لحاظ سے قوت بخشی اور انہوں نے ہر غم اور تکلیف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھر پورساتھ دیا۔
سیدہ خدیجہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں یہ تاریخی حقیقت بالکل سچ اور برحق ہے کہ آپ مالی حوالے سے عرب میں اس قدر مضبوط و مستحکم تھیں کہ زمانہ اسلام سے قبل ہی آپ کو اہل عرب ’’ملیکتہ العرب ‘‘ یعنی عرب کی ملکہ اور مالکہ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ عرب کی ملکہ نے کائنات کے سردار پر اپنی دولت وارفتگی سے لٹائی اور آپ سے فرمایا کرتی تھیں کہ کاش میرے پاس اور دولت ہوتی تو میں اسلام اور بانی اسلام پر لٹاتی رہتی تاکہ اسلام زیادہ سے زیادہ پھیلے۔
خاتم الانبیاء رحمت للعالمین سیدعالم نور مجسم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ترسٹھ سالہ حیات طیبہ میں اگرچہ اپنوں اور اغیار کی طرف سے کئی مصیبتیں، مشکلات، پریشانیاں، مصائب، رکاوٹیں اور سختیاں دیکھیں اور برداشت کیں لیکن ان میں غالب اکثریت پر حزن و ملال اور دکھ و اضطراب نہیں فرمایا بلکہ ہنسی خوشی اور اسلام کی ترویج و وسعت کا ہدف سامنے رکھتے ہوئے قبول فرماتے رہے۔
لیکن پیغمبر اسلام (ص) کی زندگی میں دو پریشانیاں ایسی آئیں جو آپ (ص) کو ناقابل تلافی صدمے سے دوچار کر گئیں اور ان مصیبتوں کے اثرات تادم آخر موجود رہے اور وہ مصیبتیں اپنے سرپرست و مربی چچا حضرت ابوطالب (ع) اور اپنی شریکہ حیات اور مشکل ترین اوقات کی ساتھی حضرت خدیجۃ الکبری (س) کی وفات ہے۔
حضرت خدیجۃ الکبری نے بعثت کے دسویں سال دس رمضان المبارک کو وفات پائی ۔اس وقت آپ کی عمر پینسٹھ سال تھی- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جسد خاکی کو اپنے ہاتھوں سے مکہ کے ابوطالب نامی قبرستان میں سپرد خاک کیا- حضرت خدیجہ کی وفات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بےحد غمزدہ کیا اور اس سال کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے " عام الحزن " یعنی غم کا سال قرار دیا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

*مھدویت کا تصوّر*

 (تحریر: خادم  حسین آخوندی)                                       

       مہدویت یا منجی عالم بشریت یہ ایک ایسا عام تصّور ہے  جو دنیا کے تمام ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ ہر انسان  کسی نہ کسی  طریقے سے اس بات کا معتقد ہے کہ یہ دنیا ایک خاص مقصد اور ہدف کی طرف گامزن ہے، اور اپنے سفر کو تیزی کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے، ایک دن ضرور اپنی منزل تک پہنچ جائے گی؛ اور اپنی موجودہ حالت اور کیفیت میں تبدیلی لائے گی۔ یہ اتفاق ہس وقت محقق ہوگا جب ایک شخص اس دنیا میں ظاہر ہوگا جو اس زمین کا حقیقی وارث اور مالک ہوگا، یہ شخص دنیا  سے ظلم ، بدعنوانی ، غربت اور نا انصافی وغیرہ کو ختم کر کے عدل ، انصاف پر مبنی ایک عظیم حکومت وجود میں لا ئے گا۔ دین مبین اسلام جوکہ  سب سے کامل ترین دین ہونے کے اعتبار سے اس موضوع کی طرف بطور خاص اہمیت دیتاہے اور اس کے تمام فرق  و مذاہب کے اندر  منجی گری یا مہدویت کا تصور پایا جاتا ہے، ان میں سے مذہب تشیع ایک ایسا مذہب ہے جو باقی مذاہب  اسلامی کے بہ نسبت مہدویت کے  مسئلے کو اس کے تمام خصوصیات اور جزئیات کے ساتھ بحث  کرتا ہے، اور  تشیّع کے یہاں منجی عالم کے مصداق اور اس کی  مکمل بیوگرافی موجود ہے، شیعہ مذہب کے پیروکار اپنے بارویں امام جوکہ ایک ہزار برس سے زائد  عرصے سے پردہ غیبت میں ہیں،  ان کومنجی عالم مانتے ہیں،  اور آج بھی انہی کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں ۔

 امام زمانہ(عج) کی ولادت باسعادت 255 ہجری کو واقع ہوئی ہے اور آج ان کی عمر شریف 1185برس  ہوچکی ہے۔ اسی مسئلہ کو لے کر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان اتنے سال تک زندہ رہے؟!

  علماء اور دانشمندان  اس موضوع کے اوپر  تحقیق کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسان کی عمر کا طولانی ہونا زاتاًً  محال نہیں ہے اور ممتنع بھی نہیں ہے، بلکہ زیادہ سے زیادہ محال وقوعی ہوسکتا ہے، یعنی طبیعی قانون کے اعتبار سے ایسا ہونا ممکن نہیں لگتا، لیکن خدا وندمتعال کی قدرت محال وقوعی سے تعلق رکھتی ہے۔ اور اسی طرح انبیاء(ع)  کے معجزات بھی اسی موضوع سے مربوط ہیں۔ یعنی خدا وندمتعال نے اپنی حکمت کے ذریعے مقدّر بنایا ہے کہ قوانین طبیعی سے ہٹ کر امام عصر(ع) کی عمر شریف کو معجزاتی طرز پر ایک لمبے عرصے تیک بڑھائے۔

 قرآن مجید حضرت یونس(ع) کے سلسلے میں ارشاد فرمارہا ہے: " فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ . لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ"[1]

 اور اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، تو روزقیامت تک مچلی کے پیٹ میں رہ جاتے۔

 آیہ مبارکہ واضی طور پر بیان فرمارہی ہے کہ روز قیامت تک انسان کا زندہ رہنا ممکن ہے۔ اس کے علاوہ  دانشمندان کا دعوا ہے کہ اگر انسان اپنے روزہ مرہ کی زندگی میں طبیعی یا آرگینک اور تازہ خوراک اور صاف آب وہوا کا استعمال کرے، تو اس کی عمر طولانی ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے پیشرفتہ ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی عمر، غریب ملکوں کے باشندوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ میں بھی  بعض  ایسے  لوگ گزرے ہیں جن کی عمر  غیر عادی تھی ان میں سے ایک حضرت نوح (ع) ہیں جن کی عمر ایک ہزار سال کے قریب تھی۔ جیسے قرآن مجید اشارہ فومارہا ہے:

"وَ لَقَدْ أَرْسَلْنا نُوحاً إِلي قَوْمِهِ فَلَبِثَ فيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلاَّ خَمْسينَ عاماً"۔[2]

 اور ہم نے نوح کو اس کی قوم میں بھیجا پس  وہ ان کے درمیان پچاس کم ایک ہزار سال رہے۔

  اللہ سبحانہ و تعالی نے قرآن کریم میں اسی موضوع سے مرتبط  ایک واقعہ کو داستان کی شکل میں بیان فرما رہا ہے، البتہ یہ داستان حضرت عذیر کے متعلق ہے؛ جب وہ ایک ایسی بستی سے گزر رہا تھا جن کے  مکینوں پر  انکے گھروں کی چھتیں خراب ہو چکی تھیں، اور مکانات کھنڈروں میں تبدیل ہوچکے تھے۔ حضرت عزیر(ع) اس کیفیت کو دیکھ کر متحیر ہوگئے اور  اللہ تعالی سے سوال کیا پروردگار!  تو ان لوگوں کو جو اس حالت میں مرچکے ہیں ، کس طرح دوبارہ زندہ کروگے؟ یہی سوال پوچھنا تھا اسی لحظے میں اللہ نے اسے موت دےدی، اور  سو  برس تک اسی حالت میں رہے پھر اللہ نے  دوبارہ اسے زندہ کیا، اور پوچھا کہ کتنی دیر پڑے رہے تو  اس نے کہا کہ ایک دن یا کچھ کم۔  اللہ نے  فرمایا: نہیں! بلکہ سوسال  گزر چکے ہیں ۔ ذرا  اپنے کھانے اور پینے کو تو دیکھو کہ خراب تک نہیں ہوا ہے اور اپنے گدھے پر نگاہ کرو( کہ سڑ گل گیا ہے) اور ہم اسی  طرح تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں، پھر ان ہڑیوں کو دیکھو  کہ ہم کس طرح جوڑ کر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔پھر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی تو بیساختہ آواز دی کہ مجھے معلوم ہے کہ خدا ہر شے پر قادر ہے۔[3]

 ہیاں پر شاہد مثال ان کی غذا اور پانی ہے، جو جو سوسال بیت جانے کے باوجود وہ بھی مختلف آب و ہوا میں اور  کسی قسم کی حفاظت کے بغیر  ترو تازہ رہ گئے تھے۔ اگر عادی اور طبیعی طور پر ملاحظہ کیا جائے تو  یہ خوراک اور پانی حد اکثر ایک یا دودن سالم رہ سکتے ہیں، لیکن اللہ نے  اپنی قدرت اور حکمت سے ان کو اتنے عرصے تک سالم رکھا۔ بالکل اسی کے مانند  مہدی موعود (ع) بھی اگر چہ ہماری طرح ایک انسان ہے اور طبیعی طور پر اتنے سال تک زندہ نہیں رہ سکتا، لیکن خداوند متعال نے اپنی حکمت اور قدرت سے ان کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

  امام زمانہ(عج) کے حوالے سے دوسرا سوال یہ ہے کہ روایات کے مطابق جب امام(ع) ظہور فرمايں گے تو ان کی شکل و شمائل ایک چالیس برس کے کڑیل جوان کی طرح ہونگے!تو ایسا کیوںکر ممکن ہے؟!

 اس کے جواب ہم یوں عرض کرسکتے ہیں: پہلی بات تو یہ کہ اگر اللہ چاہے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے، در اصل ایسا ہونا خدا کی قدرت کا ایک کرشمہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایسا ہونا عقلی طور پر بھی ممکن ہے، اور نہ ہی یہ کوئی تعجب آور کام  ہے، چونکہ اس طرح کے بہت سارے نمونے ہمارے روزمرہ زندگی میں ہم ملاحظہ کرتے ہیں،بعض ایسی چیزیں ہیں جو  اپنے نظیر اشیاء کے بنسبت ایک جنس کے ہونے کے باوجود کبھی اس میں تغیر و تبدیلی نہیں آتی، جیسے انسان کی آبرو(جبین) کے بال ہمیشہ آخری عمر تک سیاہ رہ تاہے جبکہ سر، داڈھی وغیرہ کے بال عمر کے گزر جانے کے ساتھ ساتھ سفید ہوجاتے ہیں۔

*  امام زمانہ(عج) کے ظہور  کے بعد کے زمانے کی خصوصیات

 ہماری بعض  احادیث کی کتابوں میں ظہور حضرت حجت(عج) کے  بعد والے حالات، ان کی حکوت کی خصوصیات اور  مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی وضعیت کے بارے میں تفصیل بیان ہوچکی ہے۔ جیسے کہ حضرت علامہ مجلسیؒ نے  "بحار الانوار" میں ایک روایت یوں نقل کیا ہے: " امام مہدی(ع) اپنے جدّبزرگوار رسول خدا(ص) کی سیرت کے مطابق رفتار کریں گے اور حضرت داود(ع) کی طرح، لوگوں کے درمیان قضاوت کرینگے، اس کے بغیر کہ کسی شاہد یا دلیل کی ضرورت ہو؛ حکومت اسلامی کو سراسر گیتی پر پھیلاینگے ؛ ان کے ظہور کے موقع پر زمین اور آسمان اپنے برکات کے دروازے لوگوں پر کھول دینگے؛ ہر سو امن و آمان کا ماحول ہوگا؛ ہر قسم کی بیماریاں اور آفات کا خاتمہ ہوگا؛ اس دوران مؤمنین کی عقلی اور معرفتی استعداد نکھارنے لگیں گے؛ انبیاء(ع) اور اوصیاء(ع) کے علوم لوگوں پر نمایاں ہو ں گے؛ ہرقسم کی بدعتوں سے مبارزہ کريں گے؛ اسلام کا حقیقی چہرہ آشکار کریں گے، زمین کو عدل و قسط سے پر نیز ظلم و ستم کا جڑہ سے خاتمہ کریں گے؛ کوئی ایسا کا فر نہیں رہے گا جس نے ایمان نہ لایا ہو؛ اور کوئی ایسا فاسق نہیں ہوگا جس نے اپنی اصلاح نہ کی ہو"۔[4]

 *انتظار کی فضیلت

  ہماری متعدد  روایات میں قائم آل محمد(ع) کی غیبت پر ایمان رکھنے کی فضیلت نیز غیبت کے زمانے میں انکے ظہور کے انتظار کرنے کی فضیلت پر بہت تاکید ہوئی ہے۔

 حضرت امام صادق(ع) فرماتے ہیں:" اگر تم میں سے کوئی امام زمانہ(ع) کے ظہور کے انتظار کی حالت میں مرجائے ،تو گویا یہ شخص اس انسان کی مانند ہے جو امام(ع) کے  خیمے میں ان کے ہمراہ رہ رہا ہو، اس کے بعد امام(ع) نے ایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد فرمایا: نہ؛ بلکہ اس شخص کی طرح ہے جو امام زمانہ(ع) کے ساتھ جہاد میں شریک ہو، اس کے بعد  مزید فرمایا: خدا کی قسم اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے  جس نے رسول خدا(ص) کی رکاب میں جہاد کرکے شہید ہوگیا ہوں۔[5]

* امام زمانہ(ع) کی غیبت کے عوامل

الف)؛ لوگوں کی آزمایش:

چانچہ یہ بات واضح ہے کہ اللہ سبحانہ تعالی کی جملہ سنّتوں میں سے ایک سنت امتحان ہے، جس کے ذریعہ مؤمن انسان اپنی کمال تک پہنچتا ہے اور اس کی اندرونی استعدار شگوفا ہونے کا باعث بنتا ہے۔ امام زمانہ(ع) کی غیبت نیز اس کی طولانی ہونا بھی ایک بڑی آزمایش ہے، جس کے ذریعہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے ایمان سست اور کمزور ہوتا ہے وہ اس حوالے سے شک و تردیر کا شکار ہوتے ہیں ، اور جن کا ایمان پختہ ، محکم اور استوار  ہو، وہ انتظار کی راہ میں ہمیشہ ثابت قدم رہ  کر ا پنے  معنوی درجات میں آاضافہ کر تے ہیں۔

حضرت امام کاظم(ع) فرماتے ہیں: جب میرے پانچویں فرزند  غیب میں چلے جایں گے، تو   تم اپنے  دین کی حفاظت کر لینا، کبھی ایسا نہ ہو کہ کوئی تم کو  دین سے خارج کر لے، ان کی غیبت ایک ناگزیر امر ہوگا، یہاں تک کہ و مؤمنین کا ایک گروہ اپنے عقیدے سے پلٹ جایں گے۔  اور خداوند اس غیبت کے ذریعے لوگوں کی آزمایش  کرتا ہے۔[6]

 

ب)؛ حجت خدا کی جان کی حفاظت

   خداوند متعال نے اسی غیبت  کے توسط سے امام مہدی(ع) کی جان کی  حفاظت فرمائی ہے،   اس اعتبار سے کہ اگر امام(ع) اپنی زندگی کے آوائل میں ظاہر ہوجاتے تو  دشمن کے ہاتھوں شہید ہوجاتے، ا ور  اگر  قت مقررہ سے قبل ظاہر ہوتے تو بھی ان کی جان کو خطرہ  لاحق ہوسکتا تھا، اس  طرح وہ اپنے بلند اہداف الہی اور ماموریت میں کامیاب نہ ہوتے۔ " زرارہ نامی شخص" جوکہ حضرت امام صادق(ع) کے صحابی تھے،  انہونے  نقل کیا ہے کہ امام صادق(ع) نے فرمایا: امام منتظر(ع) اپنے قیام سے پہلے ایک مدت تک لوگوں کی نگاہ سے غایب رہیں گے۔ میں نے عرض کیا: ایسا کیوں ہوگا؟ آپ(ع) نے  فرمایا:چونکہ اس کی جان خطرے میں ہوگی۔[7]

ج)؛ جابر  حکمرانوں کی بیعت سے پرہیز

 امام زمانہ(ع) کے اجدار بزرگواران یعنی ہمارے باقی امامان معصوم(ع) نے  مصلحت اور حکمت الٰہی کے  تقاضے نیز  اللہ کے دستور کے مطابق بعض مواقع پر مصلحت اسلام کی مراعات کرتے ہوئے ناچار کچھ  عرصے تک ظالم طاغوتی حکمرانوں کی حکومت کو تحمل فرماتے تھے، اور ان سے علنی طور پر مبارزہ کرنے سے پرہیز کرتے تھے۔ لیکن مشیّت الٰہی میں یہ طے پایا ہے کہ امام زمانہ (ع)جوکہ اللہ کی آخری حجت ہے، کسی بھی حالت میں جابر   اور طاغوتی حکومت کو تحمل نہیں کریں گے، یہاں تک کہ تقیّہ کی حالت میں بھی ان کے لئے ایسا ممکن نہیں ہے۔ لہذا  امام(ع) اس وقت ظاہر ہونگے جب ظاہری طور پر طاغوتی حکومت سے مبارزہ کرنے کے تمام وسایل اور اسباب مہیّا ہو چکے ہوں۔

 ایک شخص نے حضرت مام رضا(ع) سے سوال کیا کہ  امام زمان(ع)  ظاہر نہ ہونے کی علت کیا ہے؟

  حضرت امام رضا(ع) نے  فرمایا:" اسلئے کہ جب  وہ  قیام بالسیف کریں گے، اس وقت کسی کی بیعت ان کی گردن پر نہ ہو"۔[8]

 

 

 

 *ظہور امام(ع) کی نشانی:

 امام مہدی(ع) کے ظہور کا معین  وقت خداوند متعال کے سوا کسی کو علم نہیں ہے، اگر کوئی ادّعای علم  کرے تو  وہ جھوٹا ہے۔

چنانجہ خود امام زمانہ (ع) نے اپنے ایک توقیع میں فرمایا:" و اما   امر ظہور فرج اللہ کے اختیار میں ہے اور اگر کوئی قبل ازظہور وقت معین کرے گا، تو وہ کذّاب یعنی  چھوٹا ہے"۔[9]

 لیکن اس کے با وجود ہماری  بعض  روایات میں ایسے کچھ علائم اور نشانیوں  کا  بھی تذکرہ  ہوچکاہے جن کے ذریعے سے ہم  کسی بھی زمانے میں مہدی موعود(ع) کے دعوا کرنے والوں کو پہچان  سکتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

منابع:



[1]  سورہ صافات،آیت:143-143

[2] سورہ عنکبوت،آیت:14۔

[3]  سورہ بقرہ، آیت:259۔

[4]  بحار الانوار، ج52،ص 121۔

[5]  بحار الانوار،]52،ص 126

[6] غیبت نعمانی، ص 121ژ

[7]  اصول کافی، ج1 ص221۔

[8]  کمال الدین، شیخ صدوق، ص453۔

[9]  کمال الدین، ص485۔

 

بسم الله الرّحمن الرّحیم

 

غصب فدک،سامراجیت اور ایک استکباری حرکت

(تحریر:خادم حسین آخوندی)

 

مقدمہ: 

      کوثر رسول(ص) ، ہمسر  قسیم النار و الجنۃ، سیدۃ  النسا‏ء اہل الجنۃ، حضرت فاطمہ زہرا(س) کے فضائل و مناقب  بیان کرنا  انسان کیلئے  ایک سادہ اور آسان کام نہیں ہے۔چونکہ حضرت زہرا مرضیہ(س)  کے وجود مقدس کی حقیقت کو درک کرنا ہر کسی کی بس کی بات نہیں ہے۔ اللہ  سبحانہ  و تعالی نے اپنے حبیب  سے مخاطب ہوکر فرمایا: " اگر زہرا(س) کو خلق نہ کیا ہوتا ،تو میں آپ (ص) اور علی(ع) دونوں کو  وجود میں نہ  لاتے، نیزجن کے  بارے میں رسول خدا(ص) نے فرمایا:" فاطمہ میرا ٹکڑ ا ہے،جس نے ان کو ازیت پہنچائی،  اس نے  مجھے  ازیت پہنچائی ہے"۔ ان  کے علاوہ ہمارے  تمام اماموں نے اس و جود مقدس کا احترام اور ان کو اپنے لئے حجت اور نمونہ قرار  دے دیا ہے۔ حضرت مہدی آل محمد(عج) جن کے حوالے سے  امام صادق(ع) فرماتے ہیں:" اگر میں نے امام زمانہ(ع) کے ظہور کو  کو درک کیا ،تو عمر  بھر ان کی خدمت کرتا رہونگا،  فرماتے ہیں: «اِنَّ لی فی ابنة رسولِ الله اُسوةٌ حَسَنَةٌ»[1] رسول خدا کی بیٹی میرے لئے  بہترین نمونہ ہے۔

     جی ہاں! جن کے بطن  پاک سے  گیارہ امام  معصوم وجود میں آگئے ہوں،اور  آخری حجت خدا ان کو  اپنے لئے  اسوہ قرار  دے رہا ہو،  رسول خدا(ص) نے  جن کو اپنی نبوت کا حصہ  قرار  دے دیا ہو،  اس عظیم ہستی کی حقیقت  کو کون  صحیح طریقے سے درک کرسکتا ہے؟!  خداوند متعال قرآن مجید  میں شب قدر کے بارے میں  اپنے حبیب سے   مخاطب ہوکر ارشاد  فر ما رہا ہے:

" وَ ما أَدْراکَ ما لَیْلَةُ الْقَدْرِ* لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْر"ٍ

  ( تو کیا جانتاہے   لیلۃ  القدر کیا ہے؟ لیلۃ القدر ہزار مہنوں سے افضل ہے)۔

   روایت میں آیا ہے کہ  شب قدر، جناب فاطمہ زہرا(س)  ہے۔چنانچہ  صادق آل محمد(ع) فرماتے ہیں:

"انّا انزلناه في ليلة القدر. ليلة‌: فاطمه والقدر: الله، فمن عرف فاطمة حق معرفتها فقد ادرك ليلة‌القدر، وانها سميت فاطمة لان‌ّ الخلق فطموا عن معرفتها"[2]

"لیل (رات)سے مراد حضرت زہرا(س)،  اور قدر سے مراد اللہ ہے، جس نے حضرت زہرا(س)  کی معرفت اس  انداز سے حاصل کی جیسے معرفت حاصل کرنے کا حق ہے، اس نے  شب قدر کو درک  کر لیا ہے، جناب زہرا کا اسم گرامی فاطمہ اس لئے  مقرر کیا گیا ہے، چونکہ مخلوقات ان کی معرفت سے (بچھڑے ہوئےہے)  جدا ہے"

     پیامبر گرامی اسلام)ص) کی    جانگدازوفات کے بعد   اس  عظیم ہستی کی  مختصر سی زندگی میں بہت سارے  ناگوار حوادث رونما ہوئے، امت نے  عصمت کبرا کی حرمت کی پائمالی کرتے ہوئے  ان کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا  اور ان کو  اپنے حقوق سے بھی محروم کیا ۔  ان پائمال شدہ حقوق میں، غصب خلافت اور  فدک تاریخ میں سر فہرست ہیں۔

    مقالہ ھذا میں "فدک" کے  موضوع کے حوالے سے  بحث کرنا مقصد نگارش ہے۔ در اصل فدک سے  مربوط چند اہم سوالوں کے جواب قارئین کرام  کے اذہان شریف  تک پہنچانے کی کوشش ہوگی۔ ان ممکنہ سوالات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ فدک کیا ہے اور یہ کہاں پر واقع ہے؟ 2۔کیا   فدک  رسول خدا(ص) نے جناب زہرا(س) کو   بخشش یا ہبہ کے  طور پر  تقدیم کیا تھا،  یا بطور ارث آپ(س) کو ملا تھا؟3۔  کیا  انبیاء (ع)  ارث نہیں چھوڑتے ہیں اور  ان کا ترکہ صدقہ ہے؟ 4۔کیوں حضرت زہرا(س) نے غصب فدک کے فورا  بعد مسجد میں حاضر ہوکر فدک کی باز یابی کے سلسلے میں خلیفہ وقت پر احتجاج کیا؟

5۔ غاصبین فدک  کن مقاصد کے پیش نظر    جناب زہرا(س) کے حق   پر  قابض ہوئے؟6۔ ائمہ معصومین(ع) نے  کیوں  ہمیشہ  موضوع فدک کو  زندہ رکھنے کی کوشش کر تے رہے؟ ۔۔۔

 

 

فتح خیبر اور فدک کے مکینوں کا رسول خدا(ص) کے ساتھ فدک کا مصالحہ

   ساتویں صدی  ہجری میں پیامبر اسلام(ص) نے لشکر اسلام کو  یہودیوں کے سب سے مضبوط گٹھ  یعنی خیبر کو فتح کرنے کا حکم صادر کیا اور  لشکر اسلام رسول خدا(ص) کی قیادت میں سرزمین خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔ جب یہودیوں کو  لشکر اسلام کے آمد کی خبر موصول ہوئی،  اپنے تمام تر دفاعی وسائل کو بروی کار لاکر   مجاہدین اسلام سے نبرد ازما ہو نے کیلئے تیار ہوگئے۔  اور اپنے مضبوط قلعوں کو مزید مستحکم بنا نے میں سرگرم ہوگئے،   تاکہ دشمن کے متوقّع حملوں کی آنچ سے  بچ سکے۔

 جنگ کا آغاز اور فتح خیبر

    جب  سپاہیان اسلام  خیبر پہنچ گئے  تو سب سے پہلے قلعوں کا محاصرہ کیا اور کئی روز تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بعد میں رسول خدا (ص) نے  قلعوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا اور  یہودی قلعے  یکی بعد دیگرے فتح ہوگئے، ان میں سے  سب سے   پہلا قلعہ ـ جو مسلمانوں نے فتح کیا ـ قلعۂ ناعم تھا۔ یہ قلعہ خود کئی ذیلی قلعوں اور حصاروں پر مشتمل تھا اور رسول اکرم(ص) نے ان پر حملہ کرنے کے لئے اپنے اصحاب کی صف آرائی کا اہتمام کیا۔ یہودیوں نے مسلمانوں کو تیروں کا نشانہ بنایا اور اصحاب نے اپنے جسموں کو رسول خدا(ص) کے لئے ڈھال قرار دیا۔ اس روز آپ(ص) نے اپنا سفید پرچم دو مہاجروں ( ابوبکر اور عمر) اور ان کے بعد ایک انصاری کے سپرد کیا؛ لیکن وہ کچھ زیادہ کام کئے بغیر میدان جنگ سے پلٹ آئے؛ بعد میں رسول خدا(ص) نے اعلان کیا  کہ کل   پرچم  ایسے شخص کے ہاتھ میں دونگا   چو کرار ہے فرار نہیں۔ اس ماجرا کو  فریقین نے نقل کیا ہے  جیسے اہل سنت کی  مشہور کتاب  صحیح بخاری  میں بھی   صحیح سند کے ساتھ یوں ذکر ہوا ہے:

"عن أبي حازم قال : اخبرني سهيل بن سعد رضي لله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم خيبر: لأعطين هذه الراية غدا رجلا يفتح الله على يديه ، يحب الله ورسوله ، ويحبه الله ورسوله۔[3]"

   ابن حازم سے روایت کی ہے کہ سہیل بن سعد نے مجھے خبر دی کہ بتحقیق رسول اللہ(ص) نے خیبر کے دن فرمایا:

  بتحقیق کل میں یہ پرچم اس مرد کو دوں گا جس کے ہاتھوں خداوند عالم اس قلعے کو فتح فرمائے گا؛ وہ ایسا مرد ہے جو خدا اور اس کے رسول(ص)  سے محبت کرتا ہے اور خدا اور اس کا رسول(ص) بھی اس سے محبت کرتے ہیں؛ وہ کرار اور جم کر لڑنے والا اور غیر فرار ہوگا۔

اگلے روز رسول اللہ(ص ) نے علی بن ابی طالب(ع) کو بلایا جو آشوب چشم میں مبتلا تھے اور پیغمبر خدا(ص) کے معجزے سے آشوب چشم میں افاقہ ہوا تو پیغمبر اسلام(ص) نے پرچم آپ(ع) کے سپرد کیا۔

   مروی ہے کہ خیبر کے قلعوں میں سب سے بڑا، سخت اور مضبوط قلعہ "قموص" تھا اور رسول خدا(ص) نے اس کی فتح کا پرچم علی(ع) کو عطا کیا اور علی(ع) نے مرحب کو ـ جس کا نام اس قلعے کے لئے مختص تھا ـ ہلاک اور قلعے کو فتح کردیا۔[4]

   ابو رافع کی روایت کے مطابق، ایک یہودی نے قلعے کے دروازے کے پاس حضرت علی(ع) پر  وار کیا  اور آپ(ع) کی ڈھال گر گئی چنانچہ آپ(ع) نے قلعے کے ایک دروازے کو اکھاڑ کر اس کو اپنی ڈھال قرار دیا اور اسی دروازے کو ہاتھ میں لے کر آخر تک لڑتے رہے یہاں تک کہ قلعہ آپ(ع) کے ہاتھوں فتح ہوا اور اسی قلعے (یعنی قلعۂ مرحب) کی فتح کی خوشخبری رسول خدا(ص)  کے لئے بھجوا دی [5]۔ ایک روایت کے مطابق جس یہودی مرد نے آپ(ع) پر تلوار کا وار کیا تھا، وہ مرحب ہی تھا۔[6] مروی ہے کہ جنگ کے بعد 40 یا 70 افراد اس دروازے کو اٹھانے میں کامیاب ہوسکے تھے۔[7]  خیبر کی فیصلہ کن فتح امام علی علیہ السلام کے فضائل و مناقب میں شمار ہوتی ہے جس پر بہت سے مؤرخین اور محدثین کا اتفاق ہے۔

تسلیم فدک

    خیبر فتح ہوتے ہی یہودیوں نے ہتیار ڈال کر تسلیم ہوگئے۔ ابن ابی الحدید معتزلی ، سیرہ ابن اسحاق سے  یوں نقل کرتا ہے:

 جونہی مسلمانوں کے ہاتھوں خیبر کے  مضبوط قلعوں کے فتح کی خبر  اہالیان فدک نے سنی، خوف اور وحشت نے  ان کے وجود کو گھیر لیا اور خوف کے مارے  اپنے ایلچیوں کو فورا ْ رسول خدا(ص) کی خدمت میں بھیج دیے اور مصالحہ کی درخواست کی۔  اس مصالحے کے مقابلے میں فدک کا نصب حصہ رسول خدا (ص) کو عطاء کرنے کی پیشکش کی۔ آنحضرت(ص) نے ان کی درخواست کو قبول کیا، تب ہی سے فدک رسول خدا(ص) کی مخصوص  جا‏ئداد میں شامل ہوگئی۔[8]

   تمام  شیعہ اور سنی مفسریں نے  متفقہ طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ  فدک کے باغات، کسی  قسم کی خونریزی یا جنگ کے بغیر  حاصل ہوئے تھے ،( اس قسم کی زمینوں(مال غنیمت) کو اصطلاح فقہی میں"فئ" کہا  جاتا ہے  )جوکہ قرآن کی نص کے مطابق رسول خدا(ص) کی مخصوص ملکیت  ہوتی ہے:

"وَمَا أَفَاءَاللّه عَلَی رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَلاَ رِکَابٍ وَلَکِنَ اللّه یُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَی مَنْ یَشَاءُ وَاللّه عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ*مَا أَفَاءَاللّه عَلَی رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَی فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ کَیْ لاَیَکُونَ دُولَةً بَیْنَ الاْءَغْنِیَاءِ مِنْکُمْ"[9]  

اور  خدا نے  جو کچھ ان کی طرف سے مال غنیمت اپنے رسول کو دلوایا ہے جس کیلئے تم نے گھوڑے یا اونٹ کے ذریعے کوئی دوڈ دھوپ نہیں کی ہے۔۔۔ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو غلبہ عنایت کرتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔

 تو کچھ بھی اللہ نے اہل  قریہ  کی طرف سے  اپنے رسول کو دلوایا ہے(فیئ)  وہ سب  اللہ، رسول اور رسول کے قرابتدار، ایتام، مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے تاکہ سارا مال صرف مالداروں کے درمیان گھوم پھر کر نہ رہ جائے۔

  مذکورہ   دو آیتوں سے  یہ  ثابت ہوجاتا ہے کہ جو مال غنیمت، کسی قسم کی  جنگ اور جہاد کے بغیر حاصل ہوتا ہے،  یہ سب اللہ اور اس کے رسول(ص)  سے تعلق  رکھتا ہے۔ اور باقی مسلمانوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہوتا۔

       اور  جب  یہ اموال رسول خدا (ص) کے ہاتھ آجاتے ہیں، تو آنحضرت(ص)  ولی  امر المسلین  کی حیثیت سے   اسلام اور مسلمین کی مصلحتوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر، خرج کر دیتے ہیں۔نیز ان کو  سرمایہ دار افراد کے لئے ذخیرہ قرار نہیں دیتے۔ آیت جن موارد کو مصارف کے عنوان پر نشاندہی کر رہی ہے ، وہ  اس طرح سے  ہیں:راہ خدا،  رسالت نبوی کے بلند اہداف اور مقاصد،  ترویج و تقویت دین اسلام،  رسول خدا(ص) کے قرابتداروں،  یتیموں، مسکینوں اور غربت زہ  مسافروں کے لئے  ہیں۔

  رسول خدا(ص) کی وفات کے بعد ان تمام امورات کے بھاگ دوڑ،  ان کے جانشین برحق ، امام عادل کے  اختیار میں ہوتا ہے۔

 نخلستان فدک اور اس کی مالی ارزش

 فدک زمین کے اعتبار سے ایک زرخیز اور  کاشت کاری کے لئے نہایت ہی موزون  سرزمین تھی،اس کے رطب( کھجور کی ایک قسم) بہت مشہور تھے۔  اس  نخلستان کے کھجوروں  کی قیمت کا تخیمنہ  تاریخ میں مختلف ذکر ہوہاہے۔

       بعض مؤر‎‎خین کا  دعوا ہے کہ  فدک کے نخلستانون کا  اندازہ، چھٹی صدی  ہجری میں، کوفہ کے نخلستانوں کے برابر تھا[10]۔

   ابن ابی الحدید معتزلی لکھتا ہے: جب خلیفہ دوم نے فدک کے یہودیوں کو  وہاں سے  جلاوطن کرنے کا ارادہ   کیا   تو انپے بعض کارندوں کو  وہاں بھیج دئے ، تاکہ فدک کے اس نصف حصے کی قیمت کا حساب کیا جائے،  جو ان یہودیوں کے اختیار میں تھا، اس موقع پر عمر نے عراق سے  جو  بیت المال اس تک پہنچا تھا،  اس میں سے پچاس ہزار درہم ان کے اختیار میں دے کر وہاں سے ملک بدر کردیا۔[11]

    محدث قمی  کے نقل کرتے ہیں:سید ابن طاووس اپنی  " کشف المحجہ" نامی کتاب میں، شیخ عبداللہ بن حماد سے روایت نقل کرتے ہوئے،  فدک کے سالانہ  درآمد کا تخمینہ  ستر ہزار درہم ذکر کیا ہے۔[12]

فاطمه علیهاالسلام کو فدک کی واگذاری

   چنانچہ شیعہ اور اہلسنت دونوں کی روایات میں آیا ہے کہ رسولخدا(ص) نے اپنی رحلت سے تین سال قبل یعنی اپنی حیات میں  ہی ،فدک حضرت زہرا(س) کو واگذار کیا تھا۔

 صاحب مجمع  البیان، اس آیہ شریفہ«وَآتِ ذَاالْقُرْبَی حَقَّهُ وَالْمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ»[13]  کی تفسیر کے ذیل میں، حضرت امام محمد باقر(ع) اور امام صادق(ع)، نیز   ابو سعید خدری سے اس طرح سے روایت نقل کر تے ہیں:

"إنّه لَمّا نَزَلَتْ هذِهِ الآیَة عَلَی النَّبِی صلی الله علیه و آله أَعْطاها وَ سَلَّمَها فَدَکا وَ بَقِیت فِی یَدِها ثَلاث سَنَوات قَبْلَ وَفاتِ النَّبِیّ".[۱۰

  جونہی یہ آیہ کریمہ رسولخدا(ص) پر نازل ہوئی کہ ذوی القرباء کو اپنا حق دے دیجئے،آنحضرت(ص) نے  فدک کو حضرت زہرا(س) کو دے دیا؛  اور رسول خدا(ص) کی وفات سے تین سال قبل یہ جناب زہرا(س) کے اختیار میں تھا۔

   اسی مطلب کو اہل سنت کے مشہور مفّسر سیوطی نے اپنی  کتاب(تفسیر) "الد ر المنثور"  میں ابو سعید خدری سے یوں نقل کیا ہے:

"أخرج البزاز وابویعلی وابن حاتم و ابن مردویه عن أبی سعید الخدری، قال: لَمّا نَزَلَتْ هذِهِ الآیَة وَآتِ ذَاالْقُرْبَی حَقَّهُ... دعا رسول اللّه فاطمة فأعطاها فَدَکا"

  جب آیت نازل ہوئی،پیامبر صلی الله علیه و آله فاطمه علیهاالسلام کو طلب کیا اور فدک کو انہیں سپرد کردیا۔

 نیز اسی طریقے سے جناب ابن عباس سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:

 "لما نزلت وَ آتِ ذَاالْقُرْبی حَقَّه أقطع رسول اللّه فاطمة فدکا" جب آیہ شریفہ نازل ہوئی، رسول خدا صلی الله علیه و آله نے فدک کو ملک فاطمه علیهاالسلام قرار دےدیا۔ [14]

  علامہ مجلسی ؒبحار الانوار میں  یوں نقل کرتے ہیں: پيامبر صلى الله عليه و آله  نے ایک ورقه‏ طلب کیا اور اميرالمؤمنين عليه‏السلام کو بلوا کر فرمایا:" فدك کی سند کو پیامبر(ص) کی بخشش اور عطیے کے عنوان سے تحریر کرو۔اميرالمؤمنين عليه‏ السلام نے اسے لکھا، اور خود حضرت(ص)  اور ام ‏ايمن نے اس پر گواہی دی ۔ پيامبر صلى الله عليه و آله  نے اس موقع پر ارشاد فرمایا:'ام ‏ايمن اهل بهشت میں سے ہے". حضرت زهرا عليهاالسلام نے اس مکتوب کو اپنے تحويل میں لے لیا، اور جب فدک کو غصب کیا گیا، تو اس وقت اسی تحریر کو لیکر ابوبکر کے پاس حاضر ہوکر سند کے طور پر پیش کیا۔ [15]

   حضرت زهرا عليهاالسلام  نے سرزمين فدك پر اپنا نمايندہ  مقرر کیا اور کچھ تعداد میں عملے بھی اس کے اختیار میں دے دئے۔ یہ لوگ اپنے اخراجات کا محاسبہ کرنے کے بعد سالانہ خالص منافع یا سود  کو حضرت زہرا(س) کی خدمت میں لاکر حوالہ کر دیتے تھے۔فدک کا سالانہ درآمد، سترہزار طلا‏ئی سکے سے ایک لاکھ بیس ہزارسونے کے سکے ذکر ہوا ہے۔[16]

حضرت زہرا(س) ہرسال اپنے مختصر مخارج کو نکال کر باقی سب فقراء کے درمیان تقسیم کر دیتی تھیں۔ اور رسول خدا(ص) کی رحلت تک یہی شیوہ جاری تھا۔[17]

‍‍ ابوبکر اور فدک کا حرجانہ

     ماجرای  سقیفہ اور غصب خلافت کے  فوراْ  بعدفدک کو حضرت زہرا (س) کے قبضے سے خارج کرنا ،خلیفہ وقت کا  سب سے اہم اور  پہلا اقدام  تھا۔ ابوبکر  نے جب مسند خلافت پر تکیہ لگا کر مسلمانوں کے  امیر بن بیٹھے، تو ا پنے بعض  سیاسی مقاصد کے  تناظر میں سب سے پہلے خاندان رسالت کے مال و دولت پر طمع کیا ،اور  اسی سلسلے  میں "نخلستان فدک"  جوکہ  اھلبیت (ع) کی سب سے بڑی  دولت اور جا‏ئداد شمار ہوتی تھی، اسے ہڑپ کرکے  بیت المال میں ضم کر دیا۔  اور وہاں سے حضرت زہرا(س) کے نمایندے اور عملوں کوزبردستی اخراج کردیا ۔ اگر چہ اس کام کا کوئی شرعی جوازیت اسکے پاس نہیں تھی، بلکہ صرف اپنی حکومت کو  استحکام بخشانے کی غرص سے اس  ناجائز فعل کا مرتکب ہوا۔ انہوں  نے اپنے اس فعل کو شرعی رنگ لگانے کے لئے ایک حدیث بھی گڑی  جس کا راوی   بھی تنہا خود ہے اور ان کے علاوہ کوئی دوسرے صحابی  نے  نقل نہیں  کیاہے۔

  صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے نقل ہوا ہے کہ  ابو بکر نے جناب زہرا(س) کی طرف سے غصب فدک کے متعلق کیئے ہوئے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا:

"إنّ رسول اللّه قال: لانورث ما ترکناه صدقة"؛[18]رسول خدا (ص)نے فرمایا: ہم ارث نہیں چھوڑتے ہیں، جو کچھ ہمارے بعد  رہ جائے وہ سب صدقہ ہے۔

او بعض دوسرے منابع میں اس طرح سے نقل ہوئی ہے: "نحن معاشر الانبیاء لانورث"۔

 ہم انبیاء کی جماعت،ارث نہیں چھوڑتے ہیں۔[19]  

     نیز بخاری نے جناب  عائشہ سےمزید  نقل کیا ہے ،   ابو بکر نے اسی بناء(حدیث) پر فدک کو واپس لٹانے سے انکار کیا، اسی  وجہ سے جناب زہرا(س) ابوبکر پر غضب ناک ہوئیں اور   آخری عمر شریف تک  ابوبکر سے بات نہیں کی۔  پیامبر(ص) کی وفات کے بعد انہوں نے صرف چھے مہینے زندگی کی اور  جب رحلت کرگئی  تو علی(ع) نے ان کو شبانہ دفن کیا اور ابوبکر کو تدفین  اور نماز کی خاطرخبر نہیں کی، اور  امام(‏ع) نے خود نماز پڑھ لی۔[20]

    صحیح بخاری کی  اس حدیث سے  معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر نے  حضرت زہرا(س) کو  ازیت اور ان کے احساسات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ پس ابو بکر  نے اپنے غیر زمہ دارانہ عمل کے ذریعہ نہ صرف جناب زہرا کا دل دکھایا ہے   بلکہ  اللہ اور  اس کے رسول کو بھی غضبناک کیا ہے۔ چنانچہ روایت میں ہے :  

"إن الله يغضب لغضبك ويرضى لرضاك"[21] رسول خدا(ص) نے  جناب زہرا(س) سے مخاطب ہو کر فرمایا: یقینا خداوند آپ کی رضاء  پر راضی اور  آپ کی  نارضایتی پر ناراضی ہے۔

 "فاطمۃ بصضعۃ منی فمن اغضبھا اغضبنی"۔[22]

 فاطمہ(س) میرا  حصہ ہے، جس نے انکو غضبناک کیا،اس نے مجھ کو غضبناک کیا ہے۔

  حضرت زہرا(س) کا  عدم رضایت، صرف  خلیفہ اول  تک محدود نہیں ہے،  بلکہ خلیفہ دوم بھی اس میں شامل ہے، اب یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ  غصب خلافت اور فدک ، کے حوالے سے ان دونوں کا موقف یکسان تھا۔

 چنانچہ جناب "عبد المنعم حسن  سودانی" نے اپنی تحقیقی کتاب" اھتدیت بنور فاطمہ"( نور فاطمہ(س) کی برکت سے مجھے  ہدایت ہوئی) میں اس موضوع پر مفصل بحث کی ہے۔

      ابن قتیبہ نے اپنی  تایخی کتاب میں نقل کیا ہے:ابوبکر اور  عمر دونوں حضرت زہرا(س) کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور جب آپ(س) کے  پاس میں بیٹھ گئے، تو حضرت زہرا(س) نے  اپنا رخ پھیرکر دیوار کی طرف   رخ کیا۔۔۔ ، اس کے بعد ان دونوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: آگر میں رسول خدا(ص) سے ایک حدیث نقل کروں ،تو کیا  آپ لوگ اس کو پہچان لوگے؟ اور اس پر عمل کروگے؟ انہوں نے  جواب مثبت میں دیا  ۔  حضرت(س) نے  فرمایا: " تمہیں خدا اور اس کے رسول(ص) کی قسم دے کر کہتی ہوں، کیا رسول خدا(ص) سے نہیں سنا تھا کہ آپ(ص) نے  فرمایا:  فاطمہ(س) کی خوشنودی میری خوشنودی ہے اور  ان کے ‏غم اور ناخوشی میری ناخوشی ہے، پس جس نے میری بیٹی فاطمہ(س) سے دوستی رکھی،  اس نے مجھ سے دوستی رکھی ہے،  جس نے ان کے خوشحال کیا، اس نے مجھ کو خوشحال کیا ہے، اور جس نے ان کو غضبناک کیا، اس نے مجھ کو غضبناک کیا ہے" ان دونوں نے جواب دیا: ہاں؛  ہم نے یہ حدیث  رسول اللہ  (ص) سےسنی ہے! حضرت زہرا(س) نے فرمایا: پس میں  اللہ اور  فرشتہ گان کو گواہ رکھ کر اعلان کرتی ہوں کہ تم لوگوں نے  مجھ کو غضبناک کیا ہے،مجھ کو خوشحال نہیں کیا ہے، اگر میں رسول خدا(ص) سے روبرو ہوجاؤں، تو   آپ(ص) سے تمہاری شکایت کرونگی۔ اس کے بعد مزید فرمایا: خداکی قسم! ہر نماز میں تمہارے لئے نفرین کرونگی۔[23]

غصب فدک کے بعد حضرت فاطمه (س) کے  عملی اقدامات

الف:اسناد کی پیشکش

   حضرت امام محمد باقر(ع) سے روایت ہے ،  جب   ابو بکر نے  غاصبانہ طور پر فدک پر قبضہ جمایا، تو  حضرت زهرا عليهاالسلام نے ابوبکر سے فدک کی واپسی کا تقاضا کیا اور اس کے متعلق پیامبر اکرم(ص) کی تحریری سند کو بھی پیش کیا، نیز ابوبکر سے مخاطب ہوکر فرمایا: یہ رسول خدا(ص)کی وہ تحریری  سند ہے ،جس میں پیامبر(ص) نے فدک کو مجھے اور میرے فرزندان کو بخشایا ہے۔[24]

       اگر غائر نگاہ سے  ملاحظہ کیا جائے تو  معلوم ہواتاہے کہ حضرت(س)    اس عکس العمل  کے ذریعے  ابوبکر  کے اس بےتکانہ  ادعا کو  مسترد کر  دینا چاہتی ہیں، جس میں وہ پیامبر(ص) کی ارث کا بہانہ بناکر  فدک کو  چھینے  کی راہ  ہموار کرنا چاہتا تھا۔  یعنی حضرت زہرا(س) نے  اس بات کی یادآوری کی کہ  فدک ،رسول خدا(ص) نے اپنی حیات میں ہی  عطیہ اور بخشش کے طور پر عطاکیا تھا، ایسا  ہرگز  نہیں  ہے کہ  یہ ارث کے طور پر ملا ہو،   چونکہ ارث اس ترکہ کو کہا جاتا ہے جو انسان  کی  موت کے بعد اس کے وارثین  کومنتقل ہوتاہے،جبکہ فدک کا قضیہ اس کے برعکس ہے۔

     واضح رہے کہ جس روایت سے ابوبکر نے  غصب فدک کے سلسلے میں استناد کیا،  وہ  سند کے  اعتبار سے ضعیف ہے اور  بقول ابن ابی الحدید، متکلمین  اور فقہاء نے اس حدیث کی مخالفت کی ہے۔ اور علماء نے اس  پر عمل نہیں کیا ہے[25]۔

  ابو بکر کی اس حدیث کے حوالے سے چند نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔

 اس زمانے تک ابوبکر کے سوا کسی دوسرے صحابی نے اس حدیث کو  پیامبر(ص) سے نہیں سنا تھا ، اور  بہت سارے محدثین  نے اس بات  کا اعتراف کیا ہے۔  البتہ بعد میں مالک بن اوس، عمر، زبیر،طلحہ اور عائشہ نے اس قول کی تائید کی۔[26]

2۔ ایک طرف سے ابو بکر تنہا اس حدیث پیامبر(ص) کے ناقل ہے ، اور اس کے مقابل میں حضرت زہرا(س)، حضرت علی(ع) اور ام ایمن  تینوں   رسول خدا(ص)  کے کردار اور سخن کے  ناقلین ہیں،  جو  سب مل کر  گواہی دے رہے ہیں کہ فدک کو رسول خدا(ص) نے اپنی حیات میں جناب زہرا کو  بخشایا تھا،  اس کے علاوہ  یہ حضرات  معمولی  انسان  نہیں ہیں بلکہ  آیات قرآن اور احادیث نبوی، ان کی صداقت اور پاکیزہ گی پر مؤید ہیں، لہذا   ابوبکر کے قول کے مقابلے میں ان کے قول معتبر  اور قبول کرنا   ناگزیر بن جاتا  ہے۔

یہ حدیث، ان  متعدد آیات قرآنی سے منافات رکھتی ہے، جن میں  میراث انبیاء(ع) کا تذکرہ ہوا ہے۔ اور یہ بات عیاں ہے کہ صرف ایک ضعیف روایت کو لے کر متعدد آیات قرآنی کے مقابلے میں  مقاومت کرنا درست نہیں ہے۔

4۔ اگر فرض کریں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور پیامبر اکرم(ص) نے کسی قسم کی ارث نہیں چھوڑی ہے، تو ایسا کیونکر ممکن ہے کہ  خود اہل سنت کے نقل کے مطابق پیامبر (ص) کے  اموال میں سے بعض چیزیں جیسے آنحضرت(ص) کے شخصی  وسایل اور حجرے ارث کے طور پر جناب زہرا(س) کو ملے تھے؟!۔[27]

ب): حضرت زہرا(س) کا ابوبکر اور عمر کے سامنے دلائل کی پیشکش۔

   حضرت فاطمه (س) کو جب معلوم ہوا کہ  خلیفہ کے حکم پر اپنے مسلمہ حق کا تاراج ہواہے تو   فورا ْ  اس مجلس کی طرف روانہ ہوئی جہاں ابوبکر اور عمر بعض دوسرے افراد کے ہمراہ   حاضر تھے، اور ان پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی حقانیت  کے اثبات کے  سلسلے میں اور ان کے غاصب ہونے کے  حوالے سے ٹھوس دلیلوں کا  اقامہ کیا ۔

   ان  شواہد اور دلائل میں سے بعض جن کے ذریعے حضرت(س) نے اپنے ادّعا کی صداقت کے سلسلے میں دلیل کے طور پر پیش کیا ، وہ درجہ ذیل موارد پر مشتمل ہیں:

  اوّل یہ کہ، پيامبر صلى الله عليه و آله کی حیات  کے زمانے میں فدك زیر تصرف حضرت زہرا(س) تھا۔

2۔ یہ کہ، حضّار مجلس نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ رسول خدا(ص) نے جناب زہرا(س) کو خواتین جنت کے سررار قراردے دیا تھا، لہذا اس عظیم ہستی سے باطل ادّعا کا سرزد ہونا، تصوّر سے باہر ہے۔

3۔ یہ کہ، حضرت‎(س) کا شمار، اھلبیت پیامبر(ص) میں ہوتا ہے اور نص آیہ تطہیر کے مطابق خدا وند متعال نے انہیں ہر قسم کی پلیدی اور رجس سے پاک و منزہ قرار دیا ہے۔ لہذا کسی قسم کی دلیل کے بغیر ان کو جھٹلانا تو دور، ان کے بر علیہ شہادت کا قبول کرنا بھی ناجائز بن جاتا ہے۔

4۔ یہ کہ، اللہ نے فدک کے سلسلے میں آیت نازل کی، اور پیامبر(ص) کو حکم ہوا کہ اپنے قرابت داروں کو،اپنا حق ادا کرو۔

"فَآتِ ذَا الْقُرْبى حَقَّهُ"؛ اور قرابتداروں سے مراد حضرت(س) اور ان کے فرزندان ہیں۔

5۔ یہ کہ، فدک اس وقت حضرت زہرا(س) کے قبضے میں تھا، اور فقہی قاعدے کے مطابق اس شخص سے گواہ طلب نہیں کیا جاتا جس کے قبضے میں مال ہو، بلکہ مدّعی سے شہادت طلب کیا جاتا ہے، لہذا جناب زہرا(س) سے  فدک کی مالکیت کے سلسلے میں شہادت طلب کرنا، جبکہ فدک سالوں سال سے ان کے قبضے میں تھا، شرعی ضوابط کے خلاف ہے۔

ج)؛ جناب زہرا(س) کی طرف سے گواہوں پیش کرنا

    ابو بکر اور عمر نے  دلائل کے باوجود ، حضرت زہرا(س)  سے اپنے ادّعا کو  ثابت  کر نے کے حوالے سے،گواہیں پیش کرنے  کی درخواست کی اور حضرت(س) نے گواہوں کے طور پر امیر المؤمنین( علی) ، حسنین(ع) اور جناب ام ایمن  کو  حاضر کیا۔ لیکن عمر نے  امام علی(ع) اور حسنین (ع) کی  شہادت کو رشتہ داری کا  بہانہ کرکے  قبول کرنے سے انکار کیا۔  اور   اسی طرح ام ایمن کی گواہی کو بھی  نوکرانی اور عجمی ہونے کا  بہانہ کرکے مسترد کردیا![28]

 د)؛ حضرت فاطمه سلام الله علیها کا مسجد میں خطبه

     جب حاکم وقت کی جانب  سے فدک  کا رسول خدا(ص)  کی حیات  پربرکت میں جناب فاطمہ(س) کو ھبہ یا بخشش کے  طور پر عطاء کرنے  کی تصدیق نہیں ہوئی! تو آپ(س) نے  ارث کے عنوان پر  اپنے حق  کو حاصل کرنے کی ٹھان لی،    لہذا  حضرت زہرا(س) اپنے استحقاق حق کے سلسلے میں مزید اقدام کرتے ہوئے اس بار، بنی ہاشم کی بعض خواتین کے ہمرا مسجد کی طرف تشریف لے گئیں۔ اور  ایک  فصیح و بلیغ  خطبے کے ذریعے لوگوں پر اتمام حجت، نیز  ابو بکر کی طرف سے  خلافت اور  فدک کے غصب کرنے  پر  سختی سے اعتراض کیا۔ اس  خطبے میں سے وہ مطالب جو  فدک کے متعلق ہیں، یہاں پر اشارہ کردیتے ہیں۔

 چنانچہ حضرت فاطمہ زہرا(س) نے  مسجدمیں حاضر لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:

اور تم لوگوں نے یہ گمان کیا کہ ہمارے لئے کوئی ارث نہیں ہے؟

"أَ فَحُكْمَ الْجاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَ مَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْماً لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ"۔[29]

   کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں جبکہ صاحبان یقین کے لئے اللہ کے فیصلہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

 کیا یہ نہیں جانتے ہیں؟ ہاں؛  تم لوگوں کو بخوبی علم ہے کہ میں کس کا  فرزند ہوں، اوریہ تمہارے نزدیک آفتاب کی مانند روشن ہے۔

   ای مسلمانو! کیا یہ شائستہ ہے کہ مجھ سے میرے باپ کی ارث چھین لیا جائے؟! ای ابو قہّافہ کا بیٹا( ابوبکر) کیا اللہ کی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ تم اپنے باپ کی ارث تو لے سکتے ہو،  اور میں اپنے باپ کی ارث  سے محروم رہ جا‎‎ؤں؟! تم نے نہایت ہی گٹھیا اور تازہ امر کو لایا ہے۔ کیا تم   دانستہ طور پر اللہ کی کتاب کو ترک کر رہے ہو؟  کیا قرآن اس بات کی طرف اشارہ نہیں کررہا ہے:

"وَ وَرِثَ سُلَیْمانُ داوُدَ"[30]

اور پھر سلیمان داوود کے وارث ہوئے۔

  نیڑ قرآن حضرت ذکریا(ع) کے حوالے سے  فرماتا ہے: "فَهَبْ لی مِنْ لَدُنْكَ وَلِیّاً یَرِثُنی وَ یَرِثُ مِنْ الِ‏یَعْقُوبَ"[31]

تو اب مجھے ایک ایسا ولی اور وارث عطا فرمادے جو میرا  اور آل یعقوب کا وارث ہو۔

 اور  مزید فرماتا ہے:"وَ اوُلُوا الْاَرْحامِ بَعْضُهُمْ اَوْلی بِبَعْضٍ فی كِتابِ اللَّهِ"[32]

 اور کتاب اللہ کی رو سے رشتے دار، آپس میں مؤمنین اور مہاجرین سے زیارہ حقدار ہیں۔

" یُوصیكُمُ اللَّهُ فی اَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ"[33]

 اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت فرماتا ہے، ایک لڑکے کا حصہ دوکڑکیوں کے برابر ہے۔

" ۔۔۔انتَرَكَ خَیْراً الْوَصِیَّةَ لِلْوالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبَیْنِ بِالْمَعْرُوفِ حَقّاً عَلَى الْمُتَّقینَ"[34]

 جب تم میں سے کسی کی موت سامنے آجائے تو اگر کوئی مال چھوڑا ہے تو اپنے ماں باپ اور قرابتدارون کیلئے وصیت کردے یہ صاحبان تقوا پرایک طرح کاحق ہے۔

 کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ مجھے اپنے والد کی طرف سے کوئی سھمیّہ یا حصہ نہیں نصیب ہوا ہے؟ کیا اللہ نے تم پر کوئی نئی آیت نازل کی ہے  جس کے مطابق میرے والد کو باقی لوگوں سے استثناء (مستثنی) قرار دیا گیا ہے ؟! یا یہ کہنا چاہتے ہو کہ  دو  الگ دین کے مانے والے  ایک دوسرے سے ارث نہیں لیتا؟، کیا میں اور ومیرے والد کے دین الگ ہے؟! یا یہ کہ تم قرآن مجید کے عام وخاص کے سلسلے میں میرے والدگرامی اور میرے چچازاد(علیؑ) سے زیادہ علم رکھتے ہو!؟

      اب یہ تم ہو اور یہ تمہارے لگام اور زین زدہ اونٹ،اس کو پکڑ اور لیجا!(یہ جملہ کنایتاْ  استعمال ہواہے اس سے مراد "اب تم جو کرنا چاہتے ہو کر لو" ہوسکتاہے)۔ اور میں قیامت کے دن تم سے ملاقات کرونگی۔ کس قدر،اللہ بہترن فیصلہ کرنے والا اور پیامبر(ص) عدالت کرنے والا ہے،اور روزقیامت کس قدر نیک وعدہ گاہ ہے، اس دن اہل باطل زیان اور گھاٹے میں ہوگا، اور اس دن پشیمانی تمہارے لئے سودمند ثابت نہ ہوگا، اور ہر ایک اخبارکے لئے ایک قرارگاہ معیّن ہے، پس عنقرب جان لوگے کہ ذلیل و خوار کرنے والے عذاب، کس پر نازل ہوتا ہے، اور جاودانہ عذاب کس کے شامل حال ہوتاہے۔[35]

 خاتون جنت  فاطمہ زہرا(س) سے فدک  غصب کرنے کے  سیاسی عوامل اور وجوہات

     خلیفہ وقت کے توسط سے حضرت زہرا(س) سے فدک کا غصب کرنے کا مقصد صرف ایک مالی اور اقتصادی مسائل تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کا اقتصادی پہلو صرف ظاہری پہلو شمار ہوتا ہے، جبکہ اس کا اصلی مقصد پیامبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد  رونما ہونے والے سیاسی صورتحال میں ہی مضمر ہے، لہذا موضوع فدک کو  اس زمانے کے دیگر حوادث  اور سیاسی جریانات سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔

اس تاریخی غاصبانہ اقدام کے  وجوہات ،در جہ ذیل عوامل ہو سکتے ہیں:

1۔ فدک کا   خاندان پیامبر(ص) کے ہاتھ میں رہنا، ایک  بہت بڑا معنوی امتیاز  محسوب ہوتا تھا، اور  ایسا ہونا اس بات کی ٹھوس دلیل تھی کہ اللہ  تعالی کے نزدیک اس خاندان  کا ایک خاص مقام اور منزلت  ہے، اور یہ حضرات،   پیامبر(ص) کے نزدیکترین  رشتہ دار ہیں۔ خاص کر ایسا ہونا اس بات سےاور واضح ہوجاتا ہے کہ، روایات شیعہ اور اہل سنت کی رو سے چنانچہ اس سے قبل بھی اشارہ ہوا،جب آیہ «و آت ذالقربی حقه» نازل ہوئی پیامبر(ص) نے فاطمه(س) کو  طلب کیا اور سرزمین فدک کو انہیں بخشایا۔

     واضح ہے کہ فدک کا ان تمام فضائل اورایک خاص مستقل تاریخ کے ہوتےہوئے، یہ اہلیبت(ع) کے قبضے میں رہنا، اس بات کا باعث بن جاتا تھا کہ لوگ پیامبر (ص) کے باقی آثار، خاص کر مسئلہ خلافت اور آپ(ص) کے جانشینی کو بھی، اسی  نجیب خاندان میں جستجو کریں۔ اور ایسا ہونا دشمنان اھلبیت(ع) کے لئے ہرگز گوارا نہیں ہوسکتا تھا۔

یہ مسئلہ ،سیاسی ابعاد کے علاوہ اقتصادی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل تھا،چونکہ اگر امیر ا لمؤمنین علی(ع) اور ان کے  خاندان ایک شدید معیشتی مشکلات  سے روبرو ہوتے، تو  ان کی سیاسی قوت اور  اثر رسوخ بھی تقلیل یا کمزور پڑھ جاتے۔  دوسری عبارت میں سرزمین فدک کا ان بزرگواروں کے ہاتھ میں ہونا، مسئلہ ولایت کے سلسلے میں ایک  مضبوط  پشت پنا ہ ثابت ہوسکتا تھا،چنانچہ اس سے پہلے صدر اسلام میں حضرت خدیجہ(س) کے وافر  اموال،  اسلام کی پیشرفت  کے سلسلے میں انتہائی کارآمد ثابت ہوا تھا۔

      ہمیشہ سے مخالفین حق اور مستکبرین عالم کا، اپنے  مدمقابل کو تسلیم ہونے پر وادار کرنے  کے سلسلے میں، یہی غیر انسانی رفتار اور شیوہ رہا ہے۔ چنانچہ تاریخ اسلام میں، یہ واقعہ  ثبت ہوچکا ہے  کہ دشمنان اسلام نے جب یہ دیکھا کہ سول خدا(ص) اور ان کے  پیروکار، جنگ یا  طرح طرح کے مختلف حربوں سے مرعوب نہیں ہو تے، اور  اپنے اسلامی مشن کو آگے بڑھانے  پر مصر ہیں،  تو  ان کو شکست دینے کی غرض سے  ان پر شدید ترین اقتصادی پابندیاں لگائی۔  مسلمانوں کے ساتھ ہر قسم کی  اقتصادی اور  ثقافتی معاملہ کرنا ممنوع قرار دیا گیا، رسول گرامی اسلام (ص) اور مسلمانوں کو ایک تنگ درّے( شعب ابی طالب) کے اندر مسلسل  تین سال تک محاصرہ کر کے رکھے گئے،  اور مختلف قسم کی سختیاں جیلنے پر مجبور کیا۔

          استکبارجہانی کا  یہ  مزموم شیوہ آج بھی  اپنے تمام تر  قوت کے ساتھ باقی اور  بدستور جاری ہے۔ آج امیریکہ جوکہ شیطان اکبر کے نام سے مشہور ہے ، تمام دنیا کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے ،اور اگر کوئی ملک ان کے حکم سے  سرپیچی کرے تو  اس پر  سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کرکے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتا ہے، آج کیوبا، شمالی کوریا اور  جمہوری اسلامی ایران جیسے ممالک سالوں سے  ان غیر انسانی اور غیر اخلاقی رفتار  کے زد میں ہیں۔  اگرچہ دنیا کے متعدد ممالک ایسی مشکلات سے  دچار ہیں،  لیکن استکبار جہانی کا معادنانہ رفتار جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ باقی ممالک کے بہ نسبت پیچیدہ اور انوکھا ہے، اس کی  وجہ  مملکت  ایران کا  منفرد خصوصیت کا حامل ، "انقلاب اسلامی" ہے۔ جوکہ  کامیابی کے دور سے لیکر آج تک ان مستکبرین جہان کی آنکھوں کی دھول بنی ہوئی ہے، اور  ان کی مخاصمانہ سازشوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر مضوط چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ در اصل   اسلامی انقلاب نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ  امریکا اور صہیونی ریاست کے مقابلے میں استقامت اور مقاومت کر کے بھی،  ترقی اور پیشرفت کو  تیزی سے جاری رکھا جا سکتا ہے۔  یاد  رہے کہ آج  "جمہوری اسلامی ایران" ان تمام  مشکلات اور  رکاوٹوں کے باجود، مختلف فیلڈ میں، جیسے سائنس اور ٹکنالوجی، اور  دفاعی سکٹر میں، مشرق وسطی کے اندر  پہلا مقام اور پوری دنیا میں  ان ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے ،جن کی تعداد بہت کم ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے  میں  خطے کے  وہ  ممالک جو امریکا کو اپنا آقا ء سمجھتے ہیں، سب ایران سے بہت پیچھے ہیں۔  اس سال  دنیا کا معتبر ترین ادارہ گلوبل فائر پاور(Global fire power) کی  جانب سے ایران کو دنیا کا تیرواں سب سے  طاقتور ملک  قرار دے دیا ،جبکہ اسرائیل اور سعودی عربیہ جو کہ  اپنی اسلحوں اور فوجی طاقت پر فخرفروشی ،  اور جمہوری اسلامی ایران پر آئے دن حملہ کرنے کے ڈنڈورے پیٹتے  رہتےہیں، ان  کا رتبہ  ایران سے بہت پیچھے ہے ۔  درواقع ایران کے اس شائستہ شاہکار نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیاہے۔

3۔ اگر یہ لوگ   اس موقع پر فدک کو میراث ، بخشش  اور ہبہ کے عنوان پر، حضرت زہرا(س) کے اختیار میں قرار  دے دیتا،  تو   خود بخود مسئلہ  خلافت کے مطالبہ کے لئے بھی راہ ہموار ہوجاتا،  اس بات کا اشارہ ، ا ہل سنت  کے ایک دانشمند  ابن ابی الحدید نے

 "شرح نہج البلاغہ" کے اندر ایک ظریف انداز میں  یوں  کیا ہے:

 میں نے اپنے استاد(علی بن فاروقی) مدرس بغداد، سے سوال کیا: کیا حضرت فاطمہ زہرا(س) فدک کی مالکیت کے متعلق کئے  ہوئے  دعوے میں صادق(سچی) تھیں؟

 انہوں نے کہا:ہاں!

میں کہا: تو پھر خلیفہ اول نے ان کو فدک کیوں نہیں دیا ،جبکہ فاطمہ(س) ان کے نزدیک راستگو (سچّی) تھیں؟

 یہ سن کر ان نے تبسم کیا ؛ اور ایک خوبصورت  اور طنزیہ انداز میں کہا،  جبکہ انہیں  ہرگز شوخی اور  مزاق کرنے کی عادت نہیں تھی۔

"لو اعطاها الیوم فدکاً بمجرد دعواه لجائت الیه غداً و ادعت لزوجها الخلافة و زحزحته من مکانه، و لم یمکنه لاعتذار و المدافعة بشیئی لانه یکون قد اسجل علی نفسه بانها صادقة فیما تدعیه، کائنا ما کان، من غیر حاجة الی بینة"

      اگر اس وقت ابوبکر فدک کو صرف حضرت زہرا(س) کی مالکیت کا دعوا کرنے کی بناء پر انہیں واپس کردیتا،تو کل وہ  دوبارہ ابوبکر کے پاس آکر، اپنے شوہر کے لئے خلافت کا دعوا کر دیتی! اور ان کو منصب خلافت سے بر کنار کردیتی،اور اس دعوے کے مقابلے میں ابوبکر کے پاس عذر یا دفاع کے لئے کوئی راستہ باقی نہ رہ جاتا، چونکہ اس نے فدک کو تحویل دے کر گویا یہ قبول کر لیا تھا کہ جو کچھ  جناب زہرا(س) دعوا کرے، وہ سچ اور حقیقت ہے، اور اس سلسلے میں بیّنہ اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

  ابن ابی الحدید اس داستان کے بعد لکھتا ہے : اگرچہ میرے استاد نے اس کو مزاحیہ انداز میں بیان کیا، لیکن یہ ایک واقعیت ہے۔[36]

    اہل سنت کے ان دو معروف دانشمندوں کے اعتراف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ داستان فدک، کس حدتک سیاسی پہلو رکھتا ہے۔

4۔ در اصل فدک کی مالکیت کا دعوا، ایک بہت بڑے مسئلے کی حقیقت کے سلسلے میں ایک مقدمے کی مانند تھا، اور  وہ اساسی مسئلہ،  ولایت امیر المؤمنین (ع) اور  پیامبر (ص)کے جانشینی کا مسئلہ تھا، تاریخی شواہد اور قرائن کے علاوہ،  ائمّہ معصومین (ع) کی سیرت و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زہرا (س)  فدک کے موضوع کو صرف  مالی اور اقتصادی پہلو کو مدنظر رکھ کر، خلیفہ وقت کو نہیں للکارا تھا، بلکہ ان کا اصلی ہدف اور مقصد، رسول خدا(ص) کی  جانشین برحق کے مبینہ طور پر تاراج کیا ہوا مسلّمہ حق کی بازیابی اور ان کے حقوق سے دفاع کرنا تھا۔

  چنانچہ امیرالمؤمنین علی(علیه السلام) نهج البلاغه  نامہ 45 میں عثمان بن حنیف کو مخاطب کر کے  فدک کے مسئلہ کو اس انداذ میں بیان فرمارہے ہیں:

"۔۔۔بَلَى كَانَتْ فِي أَيْدِينَا فَدَكٌ مِنْ كُلِّ مَا أَظَلَّتْهُ السَّمَاءُ، فَشَحَّتْ عَلَيْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ وَ سَخَتْ عَنْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ آخَرِينَ، وَ نِعْمَ الْحَكَمُ اللَّهُ. وَ مَا أَصْنَعُ بِفَدَكٍ وَ غَيْرِ فَدَكٍ؟وَ النَّفْسُ مَظَانُّهَا فِي غَدٍ جَدَثٌ۔۔۔"[37]

جی ہاں؛ جن اشیاء پر آسمان کا سایہ ہے، ان میں سے صرف فدک ہمارے ہاتھ میں تھا،پس بعض لوگوں نے اس پر بھی بخل کیا اور بعض لوگوں نے سخاوتمندانہ انداز میں اس کے بہ نسبت چشم پوشی کی، بہترین حکم اللہ کی زات ہے،ہمیں فدک اور غیر فدک سے کیا کام جبکہ انسان کی منزل قبر ہے۔

 امیرالمؤمنین علی(ع) کی یہ نورانی کلام چند اہم مسئلوں مشتمل ہے۔

1۔"کانت فی أیدینا" یہ جملہ واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سرزمین فدک پر ان کا قبضہ تھا۔

"فَشَحَّت علیها نفوس قوم" یہ جملہ اس اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فدک کو ایک قوم نے غصب کیا تھا۔

" سَخَت عنها نفوس قوم آخرین " اس جملے سے مراد یہ ہے کہ بنی ہاشم کی قوم یا انصار نے اس موضوع پر سکوت اختیار کیا۔

"نعمَ الحَکمَ الله"یہ جملہ امام(ع) کی مظلومیّت کی غمازی کرتا ہے جو رحلت رسول(ص) کے بعد روا ہونے والے ظلم و زیادتی کی طرف اشارہ ہے۔ لہذا امام(ع) فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔

امام علی(علیه السلام) آگے جاکر  متاع دنیا کے بہ نسبت اپنی بے رغبتی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

" و ما أصنَعُ بفدک و غیر فدک، و النفسُ مظانّها فی غدٍ جَدَثٌ"۔

      امام (ع) نے یہ جملہ اس لئے فرمایا کہ آیندہ آنے والے لوگ جب تاریخ کے اندر جستجو کرینگے، تو معلوم ہوجائے گا ،  فدک کی بازیابی کے سلسلے میں تلاش کرنا، دنیا پرستی،مال دنیا کی طرف رغبت اور لالچ کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ "فدک" اپنے پائمال شدہ

 "حق "یعنی خلافت اور جانشینی پیامبر(ص) کا ایک شاخص تھا۔

    امیر المؤمنین علی(ع) کے بعد باقی ائمّہ معصومیں(ع) نے بھی مسئلہ "فدک"کو ہر گز فراموش نہ ہونے دیا چونکہ اگر یہ تاریخ میں محو ہوجاتا،  تو ولایت اور خلافت کا مسئلہ بھی تاریخی افسانوں میں تبدیل ہوجاتا،چنانچہ غاصبین خلافت کے طرفداروں کی یہی کوشش رہی ہے۔ لہذا ائمہ ھداء(ع) نے اس موضوع کو خلافت کی مضوع سے الگ نہ ہونے دیا۔ اور اس مسئلے کا زندہ ثبوت تاریخ میں امام کاظم علیه السلام اور ہارون رشید کی بیچ ہونے والی گفتکو ہے۔

     هارون الرشید نے امام کاظم(ع)  سے عرض کیا کہ فدک کو اپنے قبضے میں لے لو، امام علیه السلام نے قبول نہیں کیا۔ اورجب هارون نے   اپنےموقف پراصرار کیا تو وامام کاظم(علیه السلام)نے فرمایا:"میں فدک کو اس شرط پر قبول کرونگا  کہ اس کے تمام حدود کو معین کرکے ہمیں بخشایا جائے۔ ہارون ہے کہا:  اس کے حدود کیا ہے؟ امام(ع) نے فرمایا: اس کی پہلی حدعدن ہے، یہ سنتے ہی ہارون کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ دوسری حد سمرقند ہے، تیسری حد افریقا اور اس کی چوتھی حد بحر خذر اور ارمنستان ہے۔ ہارون رشید جوکہ بہت پریشان تھا، طیش میں آکر کہا:«فلم یبق لنا شیء»؛ «پس ہمارے لئے کچھ باقی نہیں رہ جاتا ہے۔[38]

  امام(علیه السلام) حدود فدک کو اس طرح ترسیم کیا کہ ہارون رشید کی حکومت کی تمام حدود کو شامل ہوتا تھا۔ در اصل امام(ع) نے ہارون کو یہ پیغام دینا چاہا کہ فدک صرف زمین کے ایک ٹکڑے تک محدود نہیں ہے،  بلکہ یہ مظلومیت اهلبیت(علیهم السلام) اور حاکمان ظلم وجور کے ہاتھوں غصب شدہ، خلافت اور جانشین رسول خدا(ص) کا ایک زندہ نمونہ اور شاخص ہے اور  یہ مسئلہ تا قیام قیامت لوگوں کے اذہان میں باقی رہے گا۔

مختلف ادوار تاریخی میں مالکیّت فدک کی کیفیت

     سرزمین فدک خلفاء  ثلاثہ  کے بعدمختلف ادوارتاریخ میں، بنی امیہ اور بنی عباس کے خلفاء کے قبضے میں رہا ہے۔ صرف بعض مختصرمقاطع تاریخ میں  اولاد فاطمہ(س) کے ہاتھ میں تھا۔
 بنی عباس کے خلفاء جن کے قبضے میں" فدک" رہا تھا،  ان کے اسامی بترتیب اسطرح سے ہیں:

۱. عمر بن عبدالعزیز،۲۔ ابوالعباس سفاح، ۳. مهدی پسر منصور عباسی، ۴. مأمون.

    مامون کے بعد، متوکل عباسی نے دستور دیا کہ فدک کی مالکیت کو دوبارہ اپنی سابقہ حال(یعنی مامون سے پہلے کی حالت) کی طرف پلٹایاجائے۔ اکثر تاریخی کتابوں نے متوکل عباسی کے دور کے بعد فدک کی وضعیت کے حوالے سے کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے۔
 لکھا ہے کہ مامون عباسی نے ارادہ کیا کہ فدک کو اولاد حضرت فاطمہ(س) کو واپس دلوایا جائے۔  لیکن بہت سارے افراد نے اس کی مخالفت کی، لہذا  مامون نے اس زمانے کے  دو سو سے زائد برجستہ علماء کو اپنے شاہی در بارمیں مدعو کرکے ان سے تقاضا کیا کہ، فدک کو اولاد فاطمہ(س) کی ملکیت میں دینے کے حوالے سے اپنی آراء  کو بیان کیا جائے۔ مجلس میں حاضر دانشمندان  نے کافی بحث و مباحثے کے بعد  ، یہ حضرات اس نتیجے پر پہنچے کہ فدک چونکہ حضرت زہرا(س) کی ملکیت تھی، لہذا آج اس کو انہی کے وارثین اور اولاد کے سپرد کرنا چاہئے۔ اس فیصلے کے بعد مخالفین نے پھر سے اس فیصلے  کے سلسلے مین تجدید نظر کرنے کی اپیل کی اور اپنےموقف پر سختی سے اصرار کیا۔

    فدک کو اولاد زہرا(س) کے تحویل میں دینے کے اس فیصلے کی مخالفت کر نے والوں کے اصرار اور دبا‎ؤ کو دیکھ کر، مامون نے دوبارہ علماء حضرات کو دعوت کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن اس دفعہ پہلے کے مقابلے ميں زیادہ وسیع تعداد میں علماء اور دانشوروں کو بلا کر ان اسے فدک کو واپس اولاد فاطمہ(س)  کو لوٹانے  کے حوالے سے رای اور مشورت چاہی۔ اس دفعہ بھی سابق کی طرح علماء نے مامون کے اس فیصلے کی تائید اور حمایت کی۔  اسی دوران مامون نے سنہ 210ہ ق کو مدینہ کے گورنر، قثم بن جعفر کو ایک خط کے ذریعے، فدک کو اولاد فاطمہ(س) کے سپرد کرنے کہ حکم دیا، اس طرح سے فدک ایک بار پھر اس کے مالکان حقیقی کو مل گیا۔

 اس مسرّت بھری خبر کو سن کر  معروف شاعر اھلبیت(ع) جناب دعبل خزاعی نے اشعار کے ذریعہ اظہار رضایت کیا۔ ان اشعار کا پہلا مصرع یوں ہے:

"اَصْبَحَ وَجْهُ الزَّمانِ قَدْ ضَحِکاً بِرَدَّ مَأْموُنُ هاشِمُ فَدَکاً"
ترجمه:

" زمانے کے رخ پر خوشی کا تبسم آگیا، مامون نے جب فدک بنی ہاشم کو واپس لوٹا دیا۔"[39]

سرزمین فدک  کی موجودہ صورت حال

    سر زمین  فدک جوکہ آج "حرّہ ھتیم" کے نام سے جانا جاتا ہے،جوکہ حرہ خیبر کے مشرقی علاقے میں واقع ہے۔ کتاب"مدینہ شناسی" کے مؤلف  لکھتاہے کہ میں نے  سر زمین فدک کے  آثار کو جاننے کےحوالے سے بہت جستجو کی ،اور  ایسا لگتا ہے کہ اس کا موجودہ نام "حائط" ہے اور سنہ 1975ء میں اس علاقے میں 21 بستیاں موجود تھیں۔  ان بستیوں میں رہائش پذیر افراد کی تعداد اس وقت گیارہ ہزار تھی۔  لیکن یہ سرزمین اس موقع پر بھی سابق کی طرح، کھجور کے گنّے دختوں سے پوشیدہ  تھی، اس کے علاوہ کاشت کاری کے لئے بھی ذرخیز نظر آرہی تھی۔

      حائط کا علاقہ(فدک) جوکہ پہلے مدینہ  جانے والے راستے میں آتا تھا، آج کل اپنے سابقہ شکل و  شمائل سے مزیّن نہیں ہے بلکہ مخدوش شدہ چہرے کے ساتھ ایک متروکہ بیابان میں تبدیل ہوگیا ہے۔

 حالت کہ کیفیت سے ایسا لگتا ہے کہ اس علاقے کی زمینیں، عبوری طور پر وہاں  کے مکینوں کے تحت تصرف میں ہیں اور اس کا درآمد بھی انہی لوگوں کی معیشت پر صرف ہوتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ سرزمین سعودی شاہنشاہی سلطنت کے  ذیر نظر میں ہے اور مستقل طور پر کسی خاص جگہ کا گوئی مخصوص مالک نہیں ہے۔

 آل سعود اور وہاں کے وہابی لوگوں نے باقی اسلامی آثار کی نابودی کی طرح فدک کے اسلامی اور تاریخی آثار کو بھی مسمار کررہے ہیں جوکہ تاریخ اسلام اور خاص کر رسول گرامی اسلام (ص)اور ان کے اھلبیت(ع) کے ساتھ کھلی خیانت ہے۔[40]

 نتیجہ:

    یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے  کہ صدیقہ طاہر ہ (س)کی نورانی وجود مقدس کی حقیقت کا درک ہونا،ایک مشکل امرہے۔آیات قرآنی اور احادیث نبوی کی رو سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آپ(س) ایک بے نظیر فضیلت کے مالک خاتون تھیں۔ لیکن ان تمام فضائل اور مناقب کے ہونے کے باوجود امت نے ان باعظمت خاتون کے حق میں اس قدر ظلم و  جفاء کی انتہا کی،کہ اگر یہ مصیبت روشن دن پر پڑھ جاتی،تو تاریکی میں تبدیل ہوجاتا۔

   جناب زھرا(س) کے ساتھ ہوئے یہ ظالمانہ برتاؤ غیروں کی جانب سے نہیں ہوا، بلکہ پیامبر (ص)کے بعض نام نہاد صحابیوں کے ایماء اور اشارے اور انہی کی سوچی سمجھی سازش  کی تحت عمل میں آگیا ، جو کہ فریقین کی روایات سے ثابت ہوتا ہے ۔ حضرت زہرا(س) کے حق میں جتنے بھی مظالم روا  رکھے گئے،  ان میں سے سب سے اہم اور  المناک ظلم،غصب خلافت کا مسئلہ تھا۔      یادرہے کہ حضرت زہرا (س)کے توسط سے  فدک کی بازیابی کے سلسلے میں کئے ہوئے اقدامات،نیز  ائمہ معصومین(ع) کی طرف سے مسئلہ فدک کو ہمیشہ زندہ رکھنا، خلافت کے موضوع کو جاویدانی بخشنے  کے سلسلے میں  ایک اہم کردار تھا۔

    دشمنان اھلبیت(ع) نے فدک کو اس غرض سے مستبدّانہ انداز میں تاراج  کیا ، تاکہ ان نجیب خاندان کی معیشتی حالت کو ابتر بنا یا جائے،   تاکہ ان سے قدرت مقاومت کو سلب کیاجائے۔ واضح رہے کہ یہ رویہ ہمشیہ سے مستکبرین جہاں اور باطل قوتوں کا اپنے مخالفین پر دباؤ ڈالنےکی  غرض سے استعمال کیاجاتا ہے،جس کانام آج اقتصادی پابندی کے نام سے تعبیر کیا جاتاہے اور اسی طرح آل سعود کی جانب سے اسلامی آثار قدیمہ،جیسے قبرستان بقیع کی مسماری، پیامر(ص) اور ان کے اصحاب کرام کے دولت خانوں کو ختم کر کے دوسری چیزوں میں تبدیل کرنا اور سرزمین فدک کو متروکہ کھنڈرات میں تبدیل کرنا وغیرہ سب انہی مزموم سازشوں کا حصہ ہے ۔

28جمادی الاول1440ھ.

Email:This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

منابع و حوالہ جات



[1]الغیبه، للطوسی؛ ص 286 ۔

[2] بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۶۵، روايت ۵۸۔

[3] صحيح البخاري، ج5، ص134۔

[4]تاریخ الیعقوبی، ج2، ص56۔

[5] کتاب المغازی، واقدی ،ح2،ص655۔

[6] امتناع الاسماع بما لنبی۔۔، مقریزی،ج1،ص310۔

[7] الارشاد، ج2، ص128-129۔

[8] شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، ج 4، ص 108.

[9] سوره حشر، آیات 6 و 7.

[10] آیت الله شهید سید محمدباقر صدر، فدک در تاریخ، ص 27.

[11] شرح نهج البلاغه، ج 4، ص 108، چھاپ بیروت.

[12] محدث قمی، بیت الاحزان، ص 82.

[13]  سورہ اسرا، آیہ 26۔

[14]  مسندابی یعلی ، ج2،ص 534،حدیث436۔  تفسیر الدر المنثور،ج5، ص274۔

[15] بحار الانوار: ج 21 ص 23.

[16] اسرار فدک، محمد باقر انصاری، ص22، بحار الانوار: ج 29 ص 118.

[17] اسرار فدک، محمد باقر انصاری، ص22، بحار الانوار: ج 29 ص 123 ح 25۔

[18] صحیح بخاری، ج 8، ص 3 و 4 ،و ج 5 ص 82۔

[19] شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، ج 4، ص 117۔

[20]  صحیح بخاری،ج 3،ص 252۔ کتاب المغازی،باب 155 غزوہ حیبر،حدیث704۔

[21]  کنز العمال،ج13،ص 674، حدیث37725۔

[22]  صحیح بخاری،ج 5، ص96۔

[23] تاریخ الخلفاء،ص20۔

[24] بحار الانوار، ج1، ص23 و مكاتيب الرسول صلى الله عليه و آله و سلم، ج‏1، ص 291۔

[25]  شرح نہج البلاغہ، ج 16 ص221،227۔

[26] شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 221و227۔

[27] فدک فی التاریخ، ص 149 .

[28]   بحار الانوار، ج1، ص23 و مكاتيب الرسول صلى الله عليه و آله و سلم، ج‏1، ص 291۔

[29] سوره المائدہ، آیه 50۔

[30] سوره نمل، آیه 16۔

[31] سوره مریم، آیه ،5،6۔

[32] سوره احزاب، آیه 6۔

[33] سوره نساء، آیه 11۔

[34] سوره بقره، آیه 180۔

[35] بحار الأنوارج‏29، ص226 و 227۔

[36] شرح ابن ابی الحدید) بر (نهج البلاغه) جلد 4 ص .78۔

[37] نہج البلاغہ،نامہ،45۔

[38] سیره پیشوایان،ص461۔

 [39] Irna.ir

[40] ۔( yjc.ir مدینه شناسی، ج 2، ص 492.

 

 

علم کے دریچے


تحریر: ایس ایم شاہ

علم ایک لازوال دولت ہے۔ مال کی حفاظت انسان کو خود کرنا پڑتا ہے جبکہ علم انسان کی حفاظت کرتا ہے۔ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا جاتا ہے جبکہ علم استعمال کے حساب سے بڑھتا بھی جاتا ہے۔ علم ایک ایسا نور ہے کہ جس کی نورانیت کائنات میں ہر سو پھیلی ہوئی ہے۔ علم کے مقابلے میں جہل آتا ہے جو کہ گھٹاٹوپ تاریکی کا نام ہے۔ جس میں پڑے انسان کو نہ کسی  کے مقام و رتبے کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کی شخصیت و خودی کی قدر و قیمت کا اندازہ۔ اسلامی روایات کی رو سے انسان جب کچھ بھی نہیں جانتا ہے تو وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ میں بہت  کچھ جانتا ہوں۔ جتنا وہ علم حاصل کرتا جاتا ہے تو اس کے اندر اپنی جہالت کا احساس بھی بڑھتا  ہی چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک سٹیج تک پہنچنے کے بعد اپنے اندر یہ احساس کرنے لگتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں جانتا ہوں۔

جہالت دو طرح کی ہوتی ہے۔ جہل مرکب اور جہل بسیط۔ جاہل مرکب وہ شخص ہےکہ جو کچھ جانتا بھی نہیں ساتھ ہی یہ بھی نہیں جانتا کہ میں کچھ نہیں جانتا ہوں۔ جبکہ جاہل بسیط وہ شخص ہے  کہ جس کے پاس علم تو اتنا نہیں ہوتا البتہ اسے اپنی جہالت کا احساس ضرور ہوتا ہے۔

آج کے جدید دور میں علم میں دن بہ دن اضافے  کے ساتھ ساتھ اس  کے نئے دریچے اور شعبے بھی کھلتے چلے جارہے ہیں۔ علم کو اگر عقلی ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سائنسی علوم اور عقلی علوم میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ تجرباتی علوم کا تعلق سائنس سے ہے جبکہ فلسفہ، کلام، منطق، ہیئت اور علم الحساب وغیرہ  عقلی علوم میں آتے ہیں۔ علوم تجربی پر کامل مہارت رکھنے والے کو سائنس دان، سوشل سائنس کے بارے میں صاحب نظر افراد کو ماہر عمرانیات،  فلسفے پر گرفت رکھنے والے کو حکیم یا  فلاسفر، علم کلام میں تخصص رکھنے والے کو متکلم، علم منطق  کی موشگافیوں سے کماحقہ آشنائی رکھنے والے کو منطقی، علم ہیئت کے ماہرین کو ماہر فلکیات اور علم الحساب پر کامل دسترس رکھنے والے کو ریاضی دان کہا جاتا ہے۔

پیغمبر اکرمؐ کی روایت کے مطابق علم و دانش  شمارش سے بھی زیادہ ہیں۔ پس ان میں سے سب سے اچھے کا انتخاب کیا کرو!۔ حضرت علیؑ کے فرامین میں  علم کی اقسام کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔علم چار طرح کے ہیں: علم فقہ دین کے لیے، علم طب جسموں کے علاج کے لیے، علم نحو زبان کی اصلاح کے لیے،علم نجوم زمان کی پہچان کے لیے۔ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: علم کی دو قسمیں ہیں: دینی علم اور جسم سے متعلق علم۔  روح کی حیات دینی علوم کے باعث ہے جبکہ بدن  کی حیات علم الابدان کے باعث ہے۔ جان لو کہ دین  جسم سے افضل ہے۔ لہذا دین کی حفاظت بدن کی  حفاظت سے بھی افضل ہے۔

 فلسفی، منطقی، سماجی اور دیگر عقلی  علوم پر گرفت حاصل کرکے متقن دلیلوں سے اصول دین کو ثابت کرنے والے، علم الفقہ پر عبور حاصل کرنے کے ذریعے  دینی احکام کا عمیق مطالعہ رکھنے والے، علم عرفان کے اصولوں کو پہچاننے کے بعد عرفان  و شہود کے مختلف منازل کو طے کرنے والے،  اپنی زندگی کو قرآن مجید کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ہر ممکن کوشش کے لیے وقف کرنے والے، علم روایت و درایت پر عبور حاصل کرنے کے بعد سچی روایتوں کو جھوٹی روایتوں سے پرکھنے کی صلاحیت رکھنے والے اور ان تمام امور کو انجام دینے کے بعد معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے والے، دین کی سربلندی کے لیے اقدامات کرنے والے،صاحبان حق تک ان کے حقوق بہم پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے والے،  انسانیت کی آبیاری کرنے والےاور سماجی ناانصافیوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار  بن کر  نڈر ہوکر  ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے ڈٹ کر انہیں گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کرنے  والے کو عالم دین کہا جاتا ہے۔

 یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایات میں علما  کو انبیاء کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ عالم دین پھل دار درخت کی مانند علم و تقوی سے آراستہ پیراستہ ہونے کے باوجود تواضع کا پیکر بنا رہتا ہے۔ اسی تواضع سے غلط فائدہ اٹھاکر  آج کل بعض ایسے نام نہاد تعلیم یافتہ  افراد سماج میں سر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں جو مغرب زمین کے ظاہری شوشا کی فقط خبر سن کر  سماج میں علما کی خدمات کے باعث لوگوں کے دلوں میں ان کی حکومت کو کمزور کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ دین کمزور ہو پھر معاشرے کو اپنی من مانی کے سانچے میں ڈالا جاسکے۔ جو شخص مذکورہ  بالا علوم میں سے کسی بھی علم سے آراستہ پیراستہ ہو وہ  کبھی بھی دوسرے  شعبے کے ماہرین کے بارے میں بدزبانی سے کام نہیں لے گا اور بلاجواز تنقید کا نشانہ نہیں بنائے گا۔  کیونکہ  اسے معلوم ہے کہ یہ میرا شعبہ نہیں۔اگر کوئی ڈاکٹر نجنئیروں کو، کوئی  ماہر قانون ریاضی دانوں کو  یا کوئی  علم فلکیات کا ماہر  معاشرتی علوم کے ماہرین کو  نشانہ تنقید بنانا شروع کر دیں تو فوری سمجھ لینا چاہیے کہ یہ شخص  در اصل   خود سے نہ  ڈاکٹر ہے ، نہ انجنئیر ہے، نہ ماہر فلکیا ہے اور نہ ہی ریاضی دان بلکہ جاہل مرکب ہے۔ آج اگر معاشرے میں اچھے برے کی تمیز باقی ہے، ماں بہنوں کی  حرمت برقرار ہے، امن و امان کی حکمرانی ہے، اخلاقی برائیوں میں کمی ہے، نیک کردار والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، رشتہ داروں کے حقوق کا پاس رکھا جاتا ہے، والدین کا احترام  برقرار ہے،  طبقاتی نظام سست رفتاری کا شکار ہے، استاد کا احترام کیا جاتا ہے،تعلیم کے ساتھ ساتھ نئی نسل بہترین تربیت پارہی ہے، ظالم کے خلاف اپنے حقوق کے لیے استقامت دکھانے کی قابلیت رکھتا ہے، خاندانی نظام برقرار ہے ...تو یہ سب کچھ علمائے کرام کی بے لوث خدمات کا نتیجہ ہے۔  جس معاشرے  کے افراد کے دلوں پر دین اور  علمائے دین  کی حکمرانی ہو وہ معاشرہ بھی لازوال اور آئیڈیل  معاشرہ بن جاتا ہے۔

اس اسلام نے عورتوں کو نجات بخشی، اب زہرا (س) پر زنان عرب کی سردار ہونے کے ناطے فرض تھا کہ اسلام کا شکریہ ادا کرے، تو زہرا (س) کیا کرتیں کہ اسلام کا شکریہ ادا ہو جاتا، کیا اسلام کے نبی (ص) پر جب کوئی مشرک نماز کے دوران اوجھڑی پھینک جائے زہرا (س) اسے صاف کرے پھر بھی شکریہ ادائی نہ ہوئی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

تحریر: محمد زکی حیدری
 
خیّاط نامی یہ عرب بدو ہے، اس کے گھر میں قہرام بپا ہے کہ اس نے لات و منات و ھذا و ھبل کے سامنے بہت سجدے کئے تھے کہ اس کے یہاں بیٹی پیدا نہ ہو لیکن آج صبح ہی اس کی بیوی کو دوسری بیٹی پیدا ہوئی ہے، معاشرے میں ناک کٹجانے کا ڈر تو کنار، اس کی بیوقوف بیوی اس بار کبھی نہیں مانے گی کہ اس نئی آنے والی دوسری نحوست کا خاتمہ کیا جائے، خیّاط کو پچھلے سال گرمیوں کا قصہ یاد ہے کہ جب اس کے یہاں بیٹی ہوئی تھی اور وہ اسے دفن کرنے جا رہا تھا تو اس کی بے عقل بیوی کتنی چیخی چلائی تھی. اسے یاد ہے کہ اس کی بیوی نے اس کے دامن سے لپٹ کر فلک شگاف چیخیں ماریں تھیں اور اسے کہا تھا کہ بے رحم انسان! اتنی تپتی دھوپ میں جب اونٹ بھی صحرا کی جانب جانے کا سوچ کر تھر تھرا اٹھتے ہیں، ایسے میں بھلا میری اس نومولود بچی نے تیرا کیا بگاڑا ہے کہ تو اسے زندہ تپتی ریت میں دفن کرنے چلا ہے! لیکن خیّاط ایام العرب کا ایک غیور عرب تھا اسے بے وقوف بیوی، ناقص العقل بیوی، کا رونا اور گڑگڑانا بھلا کب روک سکتا تھا سو اس نے زبردستی یہ کام انجام دے کر اپنے قبیلے میں اپنے نام کی لاج رکھی تھی.
لیکن ایک بار پھر؟ خیاط کو علم ہے کہ اس بار اس کی بیوی اسے ہر گز یہ کام کرنےنہ دیگی. خیّاط گھر آتا ہے اس کی بیوی کے آنسو دیکھ کر چپ ہوجاتا ہے، ایک ماں کی دوسری بار چیخیں، آھیں، منت اور سماجت سنگدل خیّاط پر اثر کرتی ہیں اورخیّاط کے وجود پر پڑی فرسودہ اعتقاداتِ معاشرہ کی آھنی زنجیریں پگل کر رہ جاتی ہیں اور وہ بیوی کی بات مان کر اپنی بیٹی کو چھوڑ دیتا ہے کہ جیتی رہے. یہ معجزہ تھا، اس میں اللہی حکمت پنہان تھی. یہ سمّیہ بنت خیّاط کی ولادت ہوئی ہے! حضرت عمار یاسر (رض) کی پاکیزہ ماں سمّیہ بنت خیّاط! یہ وہی سمّیہ ہے کہ عمار بن یاسر (رض) کے ایمان لانے کی پاداش میں اس کے گھر پر حملہ کیا جاتا ہے، اسے اس کے شوہر یاسر کے ساتھ تپتی دھوپ میں شکنجہ دیا جاتا ہے لیکن سمیہ کے خون میں اس کی مظلوم ماں کے آنسو سمائے تھے کہ جو اس نے اپنی بیٹی کو زندہ در گور ہوتے دیکھ کر بہائے تھے. ماں کے ان ہی آنسوؤں کی طاقت ہے کہ جب ابوجہل اس کے قریب جاکر کہتا ہے اب مانتی ہو ہمارے خدا کو یا اب بھی محمد (ص) کا خدا؟ یہ سن کر سمّیہ اس کے منہ پر تھوک کر کہتی ہے "بؤسا لک و لآلهتک"، لعنت ہو تجھ پے اور تیرے خداؤں پر!
عجب ہے! اس عرب کی عورت کو کیا ہو گیا ہے، اسے کس نے ایسی طاقت عطا کردی کہ ابوجہل کے منہ ہر تھوک رہی ہے اور ان خداؤں کو لعنت کر رہی ہے. اسے پتہ چل گیا ہے کہ وہ محمد (ص) آچکا ہے جسے کوثر عطا ہوا ہے، شاید اسے پتہ چل گیا کہ اب عرب کی عورتوں کی پہچان خرید و فروش کی ایک جنس نہیں، کسی بھیڑ بکری کی طرح جینے والی عورت، جسے استعمال کیا اور جب اچھے دام ملے تو بیچ دیا، اب عرب کی عورت کو معاشرے میں نحوست کا نشان سمجھنے والوں کے دن گئے، اب قبیلائی جرم، جن کے مرتکب مرد ہوتے تھے لیکن سزا کے طور پر عورت کو کسی بوڑھے کی زوجیت میں دے کر اس کے ارمانوں کا گلا گھونٹنے کے دن گئے، اب ان عرب کی عورتوں کی پہچان زہرا (س) ہےـ ام ابیہا! کوثر!
اس اسلام نے عورتوں کو نجات بخشی، اب زہرا (س) پر زنان عرب کی سردار ہونے کے ناطے فرض تھا کہ اسلام کا شکریہ ادا کرے، تو زہرا (س) کیا کرتیں کہ اسلام کا شکریہ ادا ہو جاتا، کیا اسلام کے نبی (ص) پر جب کوئی مشرک نماز کے دوران اوجھڑی پھینک جائے زہرا (س) اسے صاف کرے پھر بھی شکریہ ادائی نہ ہوئی، کوئی مشرک احد میں نبی (ص) کو زخمی کردے زہرا (س) کو جوں ہی خبر ملے تو وہ عورتوں کے ساتھ اپنے بابا کی مرہم پٹی کرنے پہنچے پھر بھی شکریہ ادا نہ ہوا؟ اپنے گھر میں اسے حسین (ع) جیسا بیٹا پیدا ہو اپنے بابا کی مسکراہٹ کی بجائے آنسو دیکھے اور حسین (ع) کی کربلا میں شہادت کی بات سن کر چپ رہے پھر بھی نہیں؟ بابا کی رحلت کے بعد روئے تو گھر کے باہر احتجاج کرنے والوں کا ہجوم دیکھے پھر بھی نہیں؟، بیت الاحزان میں دن گذارے، نبی (ص) کی زبانی من کنت مولا ف... کے الفاظ سننے والوں کی طرف سے سقیفہ کا بزم سجتا دیکھے، اپنے شوہر کو کنویں میں منہ ڈال کر روتا دیکھے، حقوق نسواں کے حصول کی مثال قائم کرنے کیلئے دربار کا منہ دیکھے اور وراثت کے جعلی تفسیر سن کر واپس آجائے، گھر گھر جا کر ولایت کی تبلیغ کرے، کیا پھر بھی شکریہ ادا نہ ہوا؟ زہرا (س) اسلام کا شکریہ ادا کرنے کی کوشش میں ۱۸ سال کی عمر میں ۸۸ سال کی بوڑھیا نظر آئے، رات کو کفن دفن ہو، قبر کا نشان تک نہ نظر آئے... ہاں جب وجود کو خدمت اسلام میں مٹا دیا تو قبر کی بساط ہی کیا ہے، جب بھرا گھر جس پہ آیت تطہیر نازل ہوئی، اس طرح بکھرا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا... زہرا (س) کے بعد کساء میں یکجا نظر آنے والوں کے ذرا نشانات تو ڈھونڈیئے، زہرا (س) کی قبر کا نشان نہیں پتہ، علی (ع) نجف میں، حسن (ع) مدینہ، حسین (ع) کربلا اور زینب!!! زینب (س) سب سے دور شام میں. خانوادہ زہرا (س) کی خوبصورت مالا ٹوٹی اور موتی بکھر گئے کیا اب بھی اسلام کا شکریہ ادا نہ ہوا؟
زہرا (س) اور کیا کرے کہ اسلام یہ نہ کہے کہ میں نے عورت پر جو احسان کیا اس پر عورت نے میرا شکریہ ادا نہ کیا!

Description: C:\Users\muntazir mahdi\Downloads\زینب کبرا.jpg*بسم الله الرحمن الرحیم. *

(تحریر:خادم حسین آخوندی)

حضرت زینب(س)، مظہر علم  و کمالات

دو عالم بر علیؑ نازد، علیؑ بر همسرش نازد               علیؑ و همسرش زہرا(س)، به زینبؑ  دخترش نازد.

 مقدمہ:

    یه  ایک مسلَمه حقیقت هے، کہ انسان اپنی ‌زندگی کو بہتر اور سعادتمند بنانے کے لئے‎ ضروری ہے، کہ وہ کسی ایسے شخص کو اپنا آیڈیل قرار دے،  جو خود صاحب کمالات ہوں۔ تاکہ انسان،‏ اس انسان کامل کی پیروی کرتے ہوے، ان تمام کمالات کو اپنے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا، جو اس ہستی کے اندر پایے جاتے ہیں۔تاکہ وہ اپنی زات کو بھی اس مرحلہ کمال پر پہنچادے، جس کمال کی اونچی چوٹی پر وہ عظیم ھستی فائز ہے۔

     ہر انسان کو اپنے ہدف اور مقصد کو پانے کی خاطر،بعض ایسے مراحل  کو طے کرنا پڑھتا ہے، جن کو تنہا طے کرنا اس کیلئے  نہ صرف دشوار ہوتا ہے، بلکہ  غیر ممکن ہوتا ہے۔لہذا س منزل مقصود  تک پہنچنے کے سلسلے میں بعض ایسی شخصیتوں کا سہارا لیتا ہے، جو خود اس مطلوبہ ہدف میں کامیاب ہوچکی ہوں۔نیز  اس شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مربی یا استاد کی صحیح ڈنگ سے شاگردی ،اور ظریف و حساس نکات کو سیکھنے کی کوشش کرے،جو اس مقصد کو پانے کی راہ میں کارآمد ثابت ہوں۔

    بہرحال،  انسان کو اللہ تعالی نے اس دنیا  میں اشرف  المخلوقات کے عنوان سے مزین کر کے بھیجا ہے ،اوراس کے ساتھ ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی اس پر عائد کر رکھی ہے۔ ان ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوے، انسان کو  اس مقصد کی جانب آگے بڑھنا ہے، جس مقصد  والا کی خاطر اس کو خلق کیا گیا ہے۔

   اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنی لطف و کرم سے، اپنے بندوں کی ہدایت اور راہ نمائی کیلئے کچھ ہستیاں اس کائنات کے اندر بھیجی ہیں،جن کو انسان اپنے لئے نمونہ عمل قرار دے کر،  نیز  ان کی اطاعت کر کے اپنی زندگی کو اس راہ  پر گامزن کردیتا ہے، جو سعادت اور خوشبختی کے منزل تک لے جاتی ہے۔ ان عظیم ہستیوں سے مراد انبیا‏ءا ور اولیا‏ء الہی کے علاوہ اور بھی کچھ صاحب عظمت، اللہ کے مخلص بندے ہیں، اگر چہ یہ بندے صاحب عصمت  نہیں ہیں،  لیکن ان کے عظیم اور مثالی کارنامے، عالم بشریت کے لئے لمحہ فکریہ بنا ہوا ہے؛  اور یہ حضرات ہدایت کےسرچشمے ہیں۔اگر ہم دنیا اور آخرت کی سرخ رویی کے متمنی ہیں ،تو ان کی  ہی دہلیز پر حاضری دینا ، اور انکو اپنی زندگی میں نمونہ قرار دیکر جینا، ہمارے لئے ناگزیر بن جاتا ہے۔

ان عظیم ہستیوں میں سے ایک، جن کے تاریخی  بے مثال کارنامے کسی پر ڈھکی چھپی نہیں ہے، وہ نامدار ہستی ، عقیلہ بنی ہاشم ،عالمۃ غیرمعلمۃ ، صدیقہ صغراء، حضرت زینب  سلام اللہ علیہا ہیں۔

  حضرت زینب(س) کا اجمالی تعارف:

       آپ(س) نےچھٹی صدی ہجری میں خانہ بطول(س) میں آنکھیں کھولیں۔جس دن حضرت زینب(ع) کی ولادت ہوئی، اس دن رسول گرامی اسلام(ص) سفر پر تشریف لے گئے تھے۔حضرت زہرا(س) نے امیر المؤمنین علی(ع) سے درخواست کی کہ اس مولودہ مبارکہ کا نام معین کیا جائے، لیکن مولای کائنات(ع) نے فرمایا:میں آپ کے والد ماجد پر سبقت نہیں لے سکتا، لہذا بہتر ہے کہ رسول خدا(ص) کے واپس تشریف آوری تک صبر کیا جائے، تاکہ خود آنحضرت(ص) انکا نام انتخاب کریں۔

    جب رسول گرامی اسلام(ص) ،سفرسے واپس تشریف لےآئے،  تو حضرت علی (ع) نے آگے بڑھ کر بچی کی ولادت کی خبر  دےدی۔

   پیامبر گرامی اسلام(ص) نے ارشاد فرمایا: اولاد فاطمہ(س)، میری اولاد ہیں،لہذا  خدا وند متعال کی زات خود اس حوالے سے فیصلہ کرے گا ۔ چند لمحے کے بعد جبرئیل امین،  اللہ کی طرف سے پیام لے کر نازل ہوئے،  اور عرض سلام اور ادب کے بعد فرمایا: اللہ رب العزت نے بچی کا نام "زینب" انتخاب کیا  ہے، اور لوح محفوظ پر یہ نام ثبت ہوچکا ہے۔

    اسی دوران رسول اکرم(ص) نے نورچشم فاطمہ زہرا(س) کو گود میں لے کر بوسہ دیا ، اور فرمایا:میں وصیت کرتا ہوں کہ سب لوگ اس  بچی کا احترام کریں، چونکہ یہ بچی  جناب خدیجہ(س) کی مثل ہے۔

     واضح رہے کہ رسول خدا(ص) نے یہ مطلب اس لئے ارشاد فرمایا کہ جس طرح حضرت خدیجہ کی فداکاری اور  بے پناہ قربانیاں،رسول خدا(س) کے بلند اہداف اور اسلام کی پیشرفت کے سلسلے میں ثمر بخش تھیں،  بالکل اسی طرح  ثانی زہرا حضرت زینب(س) کے صبر اور استقامت، اسلام کی بقاء اور جاودانی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

  زینب کی معنی:

    زینب کی معنی باب کی زینت ہے، اور خداوند متعال نے یہ نام ایک ایسی خاتون کے لئے انتخاب کیا ہے ، جو ختم رسالت کےبعد، تاریخ بشریت کی خاطر زینت کا باعث ،نیز خاندان ولایت  کے لئےباعث افتخارہیں۔

     یہی وجہ ہے کہ جناب زینب ‎(س) کے نام گرامی، تاریخ نہضت عاشورا میں ہمیشہ محور توجہ اور درخشاں نظرآتا ہے۔

 حضرت زینب(س) نے اپنی بچپن کی زندگی، نانا اور مادرگرامی کے آغوش میں گزاری اور ان کے نورانی ماحول میں پرورش پائی۔

   آپ(س) نے سنہ 17 ہجری میں اپنے چچازاد ،عبد اللہ بن جعفر سے شادی کی۔ جب حضرت علی ابن ابی طالب(ع) ظاہری خلافت پر فائز ہوئے، تو امام(ع) مدینہ سے کوفہ کی جانب تشریف لےآئے ، اور شہر کوفہ کو اپنی حکومت کا دار الخلافہ مقرر کیا،اس موقع پر جناب زینب(س) بھی والد گرامی کے ہمراہ کوفہ تشریف لے آئیں۔

      حضرت زینب(س) صاحب معرفت، اور مظہر علم و کرامت تھیں،چنانچہ جس زمانے میں کوفہ میں زندگی گزاررہی تھیں، وہاں لوگوں کی علمی اور عملی خدامات انجام دینے کے سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزار نہیں کیا۔ حضرت زینب(س) کوفہ کے اندر  تفسیر قرآن، احکام اور مختلف علوم کے درس دیتی  تھیں۔  ان کی معرفت کے کمالات کا اندازہ اس طرح سے کیا جاسکتا ہے کہ، ایک دن حضرت علی(ع) نے ان سے یوں سوال کیا: اے میری بیٹی !کیا تم اپنے بابا سے  محبت کرتی ہیں؟ تو جناب زینب(س) نے  جواب مثبت  دےدیا۔ پھر امام(ع) نے جناب زینب(س) سے مخاطب ہو کر فرمایا:" والدین اپنی اولاد کو دل سے محبت کرتے ہیں!" اس پر حضرت زینب(س) نے فرمایا:" محبت اورعشق حقیقی، مخصوص خدا کی ملکیت ہے،اور اظہار  انس والفت ،اولاد کی خاطر ہے۔

    جب حضرت علی(ع) کے سر مبارک پر ضربت لگی،   تو اس مشکل اور کٹھن موقع پر بھی جناب زینب(س) اپنے بابا کو دلاسہ اور تیمارداری کرتی رہیں۔اسکے علاوہ حضرت امام حسن مجتبی(ع) کے عصر میں بھی ہمیشہ اپنے بھائی کے یار و ناصر بن کر رہیں۔

    جس وقت حضرت امام حسین(ع) نے مدینہ سے عراق کی طرف سفر کرنے کا عزم کیا،تو جناب ابن عباس نے امام(ع) کو  مسافرت سے منصرف ہونے کا مشورہ دیا، اور  جب امام(ع) نے  سفر کے حوالے سے اپنے مصمم ارادے کا اظہار کیا ، تو جناب ابن عباس نے بچوں اور عورتوں کو مدینے میں چھوڑ کر  تشریف لے جانے کی سفارش کی، اس وقت حضرت زینب(س) نے یہ تاریخی جملہ فرمایا:میں ہرگز  اپنے ویر حسین(ع) سے جُدا نہیں ہوسکتی ہوں، یہ کہہ کر اپنے شوہر جناب عبد اللہ بن جعفر کی خدمت میں جاکر ان سے اجازت لے کر امام حسین(ع) کے ہمراہ  سفر کیا، نیز ہر منزل پر نہضت امام حسین(ع) کی نصرت کی۔

     جیسے کہ ہم نے  پہلے  بھی  اس بات کی طرف اشارہ کیا ، کہ حضرت زینب(س)علم و کمالات کے مالک تھیں،ایسا ہونا، ان صاحب عصمت او رطہارت ہستیوں کو ہی زیب دیتا ہے۔حضرت زینب(س) کی پرورش ایسے گھرانے میں ہوئی  ، جس کے مکینوں کو اللہ نے  ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ  قرار دےدیا ہے۔ اگر چہ جناب زینب(س) عصمت کے اس درجے پر فائز نہیں تھیں،جس پر رسول خدا(ص)،حضرت زہرا(س) اور ائمّہ معصومین(ع)،فائز تھے۔لیکن اس کے باوجود ان کے وجود مقدس میں بھی عصمت کا عنصر پایا جاتا ہے۔چنانچہ ان کے القاب میں  سے ایک"معصومہ صغرا"ذکر ہواہے۔ ان کے القاب جو تاریخی کتابوں میں نقل ہوے ہیں ، وہ اسطرح سے ہیں: محدثہ،عالمۃ غیر معلّمہ،عقیلۃ النساء، الکاملۃ الفقاہۃ، صدیقۃ صغرا،نائبۃ الزہراء،فاضلہ، فہیمہ،عابدہ۔۔۔

محدّثہ:

    حضرت زینب(س) کے جملہ القاب میں سے ایک معروف لقب،محدّثہ ہے۔ اس  کی علت یہ ہے کہ ان سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔جیساکہ تاریخ کے مشہورترین راوی اور مفسّر قرآن، جناب ابن عباس نے خطبہ حضرت زہرا(س) کے سلسلے میں یوں فرمایا ہے:"حدثنی عقیلتنا زینب(س)"۔

عبادت:

     حضرت زینب(س) انتہائی  پارسا اورعبادت گذار خاتون تھیں، ہمیشہ  اللہ کی عبادت میں مصروف رہتی تھیں۔ انہوں نے اپنی پر برکت زندگی میں، کھبی بھی نافلہ شب ترک نہیں کیا۔ چنانچہ امام سجاد(ع) فرماتے ہیں: میری پھوپھی امّا  سے ،کسی بھی حالت میں نمازشب فوت نہیں ہوئی، یہاں تک کہ شب عاشور جب حضرت امام حسین(ع) ان کی خدمت میں رخصتی کے لئے حاضر ہوئے،  تو آپ(ع) نے بہن زینب(ع) سے مخاطب ہوکر یوں فرمایا:" يَا اُختَاه‏، لَا تَنسِينِی‏ فِي نَافِلَة الَّليل"ای خواہر گرامی! نماز شب میں مجھے فراموش نہیں کرنا۔

    اسی طرح جناب فاطمہ بنت  امام حسین(ع) سے مروی ہے : "اَمَّا عَمَّتِي زِينَب فَاِنَّها لَم تَزل قَائِمِة فِی تِلکَ الَّليلَة، (اَی العاَشِرَة مِنَ اَلمُحَرَّمِ) فِی مِحرَابِها" ہماری پھوپھی  زینب(س) نے اس رات(شب عاشور)(پوری رات)  جاگ  کرعبادت میں  گذاری۔[1]

    امام سجاد(ع) فرماتے ہیں: حضرت زینب(س) نے کربلا سے کوفہ،  اور کوفہ سے شام کے راستے میں بھی نمازشب ترک نہیں کیا اور چنانچہ بعض مقامات پر جسم کی کمزور ی اور نقاہت کی وجہ سے بیٹھ کر نمازادا کی۔[2]

 شجاعت حضرت سیّدہ  زینب(س):

      یہ ایک ناقابل انکار اور  مسلم بات ہے،  کہ حصرت زینب(س) شجاعت اور  بے باکی کے اعتبار سے، ایک بے نظیر خاتون تھیں، اس بات کا اعتراف دشمنان اھلبیت(ع) نے بھی کیا ہے۔ بھا‏ئی کی شہادت کے بعد، جس شجاعت اور جرئت کا  جناب زینب(س) نے مظاہرہ کیا، وہ تاریخ  بشریت میں ایک اہم نمونہ ہے۔

    عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی کا بھرا گھر اجڑ جاتا ہے،  اور اپنے آپ کو  دشمن کی اسارت میں پاتاہے، تو اس ستم دیدہ انسان کے وجود میں ہمیشہ خوف اور بےچینی کا عنصر پایا جاتا ہے۔    ایسی کیفیت کا پیدا ہونا،  ایک  عادی اور  معمولی امر ہے۔ لیکن جب ہم  داستان کربلا کی طرف نظر  ڈالتے ہیں، تو ہمیں قضیہ برعکس نظر آتا ہے۔ جناب سیدہ زینب(س)  نے کربلا کی ٹریجڈی کے  بعد ایک ایسی غیر معمولی کیفیت اپنے اندر پیدا کی، کہ اعداء آل محمد (ص)، بھی  دنگ ہو کر  رہ گئے۔ جناب زینب(س) نے نہ صرف اپنے آپ کو  اسیر کہلانا گوارا نہیں کیا، بلکہ پیامبر کربلا  بن کر دنیا والوں پر یہ ثابت کردیا کہ کون حق پر ہے، اور کون باطل پر۔

      اگر امام حسین(ع) نے اپنے پاک لہو  کے ذریعے،  اسلام کو  زندہ کیا ہے، تو  سیّدہ زینب(س) نے اس  خون پاک کی عملی تفسیر کر تے ہوئے، اپنے حیدری لہجے میں، گفتار کے ذریعے، اسلام کی ڈوپتی ہوئی کشتی کو نجات کا کنارہ   بخشا ہے۔

   شہادت امام حسین(ع) کے بعد حضرت زینب(س) پر  کچھ  نہایت سنگین زمہ داریاں تھیں؛جن میں یتیموں کی سرپرستی، حسینی مشن کی پاسداری، اہلبیت عصمت و طہارت(ع) کی حقانیت سے دفاع ،  آل ابوسفیان کے پلید   چہرے کا بے نقاب کرنا اور بنی امیہ کی منافقت کو  دنیا پر آشکار کرنا ،قابل ذکر ہیں۔

 جیسے کہ شاعر کہتا ہے:

سر نی در نینوا می ماند اگر زینب نبود* کربلا در کربلا می ماند اگر زینب نبود

چهره سرخ حقیقت بعد از آن توفان رنگ* پشت ابری از ریا می ماند اگر زینب نبود

" سر امام حسین(ع) نیزے کی انی پر کربلا میں ہی رہ جاتا، اگر زینب(س) نہ ہوتی*( نہضت) کربلا ، کربلا تک ہی محدود رہ جاتی، اگر زینب (س) نہ ہوتی۔"

" کربلا کے  سہمگین طوفان کے بعد، حقانیت کے سرخرو*( بنی امیہ کی) ریا کاری کی  کالی  گٹھا  کے پیچھے چھب کر رہ  جاتا، اگر زینب(س) نہ ہوتی۔"

         یقینا؛  اگر واقعہ  عاشورا کے بعدحضرت  زینب(س) نے وہ حماسی  کارنامے  انجام نہ  دیے ہوتے، تو آج نتیحہ کچھ اور ہوتا،  جس مقدس  مقصد کے تئیں امام حسین(ع) نے  قیام کیا تھا، وہ کسی  پر عیاں نہ ہوتا، اور  بنی امیہ اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب ہو جاتے۔

    لیکن شیر خدا کی بیٹی نے  مختلف زمان و مکان پر اپنے  فصیح و بلیغ خطبوں کے ذریعے،باطل قوتوں کو ذلیل ،اور حقانیت کوعزت بخشی۔ دنیا کے تمام انصاف پسند اور  حق شناس لوگوں  کے ‍ضمیر کو جھنجوڑ کر غفلت کی نید سے بیدار کیا۔

       لکھا ہے کہ جناب زینب(س) کا وہ تاریخی خطبہ، جو  دربار  یزید(لع) میں دیا، اس قدر تاثیر گذار خطبہ تھا ، کہ لوگ  سن کر داڈھے مار کر  رونے لگے، اور یزید(لع) کے دربار میں ہلچل مچ گیا۔ لوگ اس انداز سے ثانی زہرا(س) کا خطبہ سن رہے تھے کہ گویا،علی علیہ السلام کا خطبہ سن رہے ہوں۔

       بہرحال،  سیّدہ زینب(س) کے خطبے نے دربار   بنی امیہ میں بھی لوگوں کے ضمیر کو  جگایا،  اور یزیدیت کو ہمیشہ کیلئے ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا۔

 

 حجاب و عفت:

    جناب زینب(س) کی حیا ء اور عفت  کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ، نبی گرامی اسلام(ص) اور امام علی(ع) کے زمانے سے لیکر  عاشورا تک، کسی  نامحرم نے  حضرت زینب(س) کو نہیں دیکھا۔

  یحیی مازنی جن کا شمار مشہورترین علماء اور راویان میں ہوتا ہے،وہ  یوں نقل کرتے ہیں:

   " کافی مدت سے میں مدینہ میں زندگی گزار رہا تھا، اور میرا گھر امیر المؤمنین علی(ع) کے دولت خانے کے ہمسایے میں واقع تھا، اور زینب(س)  بنت علی(ع) اسی دولت خانے میں زندگی گذار رہی تھیں؛ میں نے اس دوران حتی ایک مرتبہ بھی نہ جناب زینب(س) کو دیکھا،   اور نہ ان کی آواز سنی۔ جب  اپنے نانا  رسول خدا(ص) کی قبر شریف کی زیارت کے مشتاق  ہو تی، تو رات کے  اندھرے میں،  اس شان وشوکت کے ساتھ جایا کرتی تھیں، کہ امام  علی(ع) اور حسنین(ع) ان کے ہمراہ ہوا کرتے تھے۔ اور جب رسول اللہ(ص) کی روضہ اقدس کے نزدیک ہو جاتے،تو امام علی(ع) آگے بڑھ کر قبر شریف  کے اطراف سے چراغ  بجھا یا کر تے تھے۔

 ایک دن امام حسن(ع) نے چراغ  خاموش کرنے کی علت پوچھی ،تو  امام علی(ع) نے  فرمایا:

 " «اَخشی اَن یَنظُر اَحَد اِلی شَخصِ اُختِکَ زَینَبَ" ۔ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کوئی اس روشنی میں،تمہاری خواہر گرامی کی طرف نگاہ کرے۔ [3]

       یہ تھی غیرت علوی اور حیاء زینبی  کی حد! آج  ہمارے   مَروں کو غیرت علوی،  اور ہماری ماں بہنوں کو ، حیاء  زینبی کی اشد ضرورت ہے۔ جس سوسائٹی کے اندر  انسانی اقدار، غیرت اور حیاء ختم ہوجائے، تو اس معاشرے  میں فساد، ظلم،بی عدالتی اور بے راہ روی کا عام ہونا، یقینی ہے۔  نیز اس سماج میں موجود افراد کی کوئی خیر نہیں ہوگی۔ جیسے روایت میں آیا ہے:" مَن لاحَیاءَ لَهُ لاخَیر فِیهِ" [4]جس انسان کے اندر حیا نہ ہو، اس کے اندر کوئی خیر نہیں ہوتی۔

   لہذ ان  مشکلات سے نمٹنے کا واحد راستہ، سیرت اہلبیت(ع) پر گامزن رہنا ہے۔

        یہی وجہ ہے کہ  روایات معصومین(ع) میں ، بے حیائی کو، بے دینی  اور بی ایمانی سے تعبیر کیا ہے۔

امام صادق (ع) فرماتے ہیں: "لاایمانَ لِمَن لاحَیاءَ لَهُ"۔[5]  جس کے پاس حیا نہیں ہے،  اس کے پاس ایمان نہیں ہے۔

     امام باقر (ع) فرماتے ہیں: "اَلحَیاءُ وَ الاِیمان مَقرُونانِ فی قَرنٍ فَاِذا ذَهَبَ اَحَدَهُما تَبَعهُ صاحِبهُ" ؛ [6]حیا اور ایمان  ہمیشہ ایک دوسرے کے قرین اور  ہمراہ ہوتے ہیں، اور اگر ان میں سے ایک چلا جائے، تو دوسرا  بھی اس کی تبعیت میں چلاجاتا ہے۔

  امام حسین (ع) فرماتے ہیں: "لا حَیاءَ لِمَن لادِینَ لَهُ" [7]جس کے پاس  دین نہیں ہے،  اس کے پاس حیا ءنہیں ہے ۔

پیامبر اکرم(ص) فرماتے: "الحَیاءَ عَشرَةُ اَجزاءٍ فَتِسعَة فِی النِّساءِ وَ واحِدٌ فی الرِّجالِ"؛[8]

 حیاء کے دس جزء ہوتے ہیں،ان میں سے نو جزء عورتوں کے حصے میں ، اور ایک جزء مردوں  کے حصے میں ہے.

  حیا  صرف عورتوں سے مخصوص نہیں ہے،  بلکہ مردوں کو بھی اس کی رعایت کرنا ضروری ہے۔

    قرآن مجید،  غالبا ْکلی طور پر مسائل کو بیان کرتا ہے،لیکن بعض حیاتی اور اسٹراٹیجک مسئلے کو  بطور جزئی  اور تمام خصوصیات کے ہمراہ بیان کرتا ہے۔  ان اہمیت کے حامل  مسائل میں سے ایک، حضرت شعیب(ع) کی بیٹیوں کے داستان اور حضرت موسی(ع) کے   ان  کے ساتھ  مبینہ  سلوک اور رفتار ہے۔

        قرآن کریم اس  ماجرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: جب حضرت موسی(ع)چاہ   مدین (مدین  شہر کی نواح میں واقع کنواں) پر پہنچے، تو ایک جماعت کو دیکھا،  جو اپنے مویشیوں کو  سیراب کرنے میں مشغول تھی ؛ ان   سے زرا  دور ، ایک مقام پر دو خاتون نظر آرہی تھیں ،جو  اپنے مویشیوں کی رکھوالی ،  اور  لوگوں کے کنویں سے دور ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔

  حضرت  موسی(ع) آگے بڑھ کر   ان سے  سوال کیا:تمہارے کام کیا ہے؟حضرت شعیب(ع) کی بیٹیوں نے کہا : ہم اپنے مویشیوں کو  تب تک پانی نہیں پلاتے،  جب  تک  لوگ کنویں کے پاس ہیں۔ حضرت موسی(ع) نے ان کی مدد کرتے ہوئے، مویشیوں کو سیراب کیا۔ ۔۔

     قرآن اس داستان کو جاری رکھتے ہوئے، حضرت شعیب(ع) کی ایک بیٹی کے واپس آنے  کی صورت حال  کی منظر کشی کرتے ہوے مزید ارشاد فرما رہا ہے:" فَجاءَتهُ اِحدا هُما تَمشی عَلَی اِستِحیاء قالَت اِنَّ اَبی یَدعُوک لِیَجزِیَکَ اَجرَما سَقَیتَ لَنا"۔[9]

   یکایک  ان  دو لڑکیوں میں سے ایک، "شرم و حیا  "کے ساتھ حضرت موسی(ع) کی خدمت میں آ کر عرض کیا : ہمارے والد نے آپ کو طلب کیا ہے ،تاکہ  اس  کام  کی اجرت ادا کیا جائے، جو آپ نے  جانورں کو سیراب کرنے کے سلسلے میں انجام دیا تھا۔

  اس آیہ شریفہ سے ہم چند اہم، حیا   اور پاکدامنی  کے نمونے دریافت کر سکتے ہیں:

1۔جب تک(نامحرم)  مردوں کی جماعت،  کنویں کے ارد گرد موجود تھی،حضرت شعیب(ع) کی بیٹیاں کنویں کے قریب نہیں گئیں۔

2۔ اس وقت اپنے جانوروں کو سیراب کرنے کیلئے تیار ہوئیں،جب سب لوگ وہاں سے چلے گیئے تھے۔

3۔شرم اور حیا  کے  ساتھ،  حضرت موسی(ع) کے پاس آگئی۔

4۔یہ نہیں کہا کہ ہم تمہاری مزدوری کو آدا کرنا چاہتے ہیں، بلکہ کہا: ہمارے والد آپ کو بلا رہے ہیں ، تاکہ  آپ کی اجرت ادا کریں۔

5۔جب حضرت موسی(ع) حضرت  شعیب (ع) کے گھر روانہ ہوئے، تو انہون نے بھی نہایت عفت اور حیا  کا  مظاہرہ کرتے ہوئے اس لڑکی سے کہا ،کہ میرے پیچھے پیچھے حرکت کرنا،تاکہ ان کی نظر اس لڑکی کے بدن پر نہ پڑھ  پائے۔

  ایثار و فدا کاری:

     حضرت زینب(‎س)  کی جملہ خصوصیات میں سے ایک ، ایثار اور فداکاری ہے،در حقیقت   فضیلت اور  خوبی ، ان زوات مقدسات کے وجود میں،  اتم اور اکمل طریقے سے موجود ہو تےہیں۔حضرت ز ینب(س) نے   اس خانوادے میں تربیت اور پرورش پائی ،جن کے ایثار اور فداکاری کو دیکھ کر  ،  اللہ  تعالی نے  قرآن مجید کے اندر ایک مکمل سورہ، "سورۂ الانسان" کے نام پر نازل کیا ہے۔

     جناب زینب(س) وہ  منفرد خاتون ہے،  جن کے نانا،والد، والدہ، اور  دو بھائی   معصوم  ہیں، اور ایسا ہونا ان کیلئے  ایک امتیاز شمار ہوتا ہے۔

     ایک دن حضرت علی(ع) نے ایک غریب اور نادار شخص کو  اپنے گھر لے کر آئے، تا کہ اس کو کھانے کیلئے کچھ دیا جائے۔

 جب حضرت زہرا(س) سے کھانے کا تقاضا کیا،   تو جواب ملا کہ گھر میں کھانے کیلئے کوئی چیز موجود نہیں ہے،مگر یہ کہ ایک مختصر سا کھانا ہے،  جو بیٹی زینب(س) کی خاطر بچا کر رکھا ہے۔

  حب سیّدہ زینب(س) نے  یہ گفتگو سنی، تو  فوراْ  فرمایا: میرا کھانا غریب مہمان کو دے  دیجئے؛  جب کہ ان کی عمر شریف صرف چار سال تھی۔

    ان  تمام صفات کے علاوہ اور بھی بہت  ساری  نیک خصوصیات ان بزرگوار میں پائی جاتی ہیں، جیسے صبر، بردباری، فصاحت و بلاغت اور سادہ زیستی وغیرہ۔

  اللہ ،ہم سب کو  اہل بیت(ع) کی سیرت پاک پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرما ئے۔آمین۔

11جنوری2019

          

حوالہ جات:


[1] عوالم العلوم و المعارف والأحوال من الآيات و الأخبار و الأقوال (مستدرك سيدة النساء إلى الإمام الجواد)، بحرانى اصفهانى، عبد الله بن نور الله‏، ج11، ص955، ايران؛ قم‏.
[10]. همان، ص 954.

[2] مجله فرهنگ كوثر شهریور 1376، شماره 6

[3] . شیخ جعفر نقدی، کتاب زینب کبری، ص 22، و ریاحین، ج3،ص 60.

[4] عبدالواحد آمدی، غررالحکم، ترجمه علی انصاری، ص 646.

[5] میزان الحکمه ص 717، روایت 4570.

[6] بحارالانوار، ج 78، ص 309.

[7] میزان الحکمه، ج 2، ص 717،

[8] میزان الحکمه، ج،2، ص 730، روایت 4603.

[9] قصص،آیت25۔

بسم الله ارحمن الرحیم
اج به تاریخ 30دسمبر2018 کو بہ روز اتوار صدر بخش علمی فرھنگی مجمع روحانیوں کرگل و لیہ
نےطلاب خوابگا مجمع روحانیوں کرگل و لیہ کے ساتھ ایک اھم میٹنگ رکھی جس میں صدر بخش علمی فرھنگی نے اڈوکیشن سستم  اور اڈوکیشن کی اھمیت  پر روشنی ڈالی اور طلاب کے لبیک کی آواز پر یہ طے پایا کہ آیندہ جمعی مباحثہ خوابگاہ میں رکھا جائگا اور اخلاق کی کلاس کے ساتھ ساتھ تجوید قران کی کلاس بھی ھفتہ میں ایک دن رکھی جایےگی اس پر تمام طلاب نے امادگی کا اظہار کیا ہے۔ان شاء اللہ آیندی مختلف موضوعات پر کلاسس رکھی جایےگی اور مختلف فنون میں طلاب کو مھارت دی جایےگی جیسے خطابر، آرٹیکل بنانا اور مختلف موضوعات پر مقالہ لکھنا۔

اس میٹنگ کی تصویری جھلک آپ کے حاضر ہے۔

<img src="data:image/jpeg;base64,/9j/4AAQSkZJRgABAQAAAQABAAD/2wCEAAoKCgoKCgsMDAsPEA4QDxYUExMUFiIYGhgaGCIzICUgICUgMy03LCksNy1RQDg4QFFeT0pPXnFlZXGPiI+7u/sBCgoKCgoKCwwMCw8QDhAPFhQTExQWIhgaGBoYIjMgJSAgJSAzLTcsKSw3LVFAODhAUV5PSk9ecWVlcY+Ij7u7+//CABEIAykEOAMBIgACEQEDEQH/xAAvAAEBAQEBAQEAAAAAAAAAAAAAAQIDBAUGAQEBAQEAAAAAAAAAAAAAAAAAAQID/9oADAMBAAIQAxAAAAL6Xbj3MNjnOg5Ttk4usObUSWDeudN3FNXNNsU0FAGDbjE7uA7OI65wNMDUkNSFILEKgsAAApJQVRZRQFWKIpI0XFtM2jLUIoijKjM1DM1EzKMzUICKXKiSiKJKIogEoiiKJbsmeUJrfeOXbQASwJxOnLmIoi0y6j2d+HegAAEozNjlntDi6ZTKwuucOzno3cU6OdNheXPvzTnNZCCsl0yNMjTNKgqCoKAUFJVSVSWhVWWiNCKIpIsM6Uilk0MtDM3DLUMzcTE3DE3DE3DDQypczUIok1CLCKIqIoi6M7z5668dd45d+lAEsDHI7cucCiLoxeujn04SttD09+HY0AAAAABKMY7Q887Qw6Q51zTreW13rnpLmwkoxncXC5KgqCoKgoKlKC2UVQtSNUzdUzdFlAAABL507a8fsAUAAACZ2Oc6ZTE3DE3DE2MTUXKjKjKiSoiiKIuDfHn1Ofbr0M7BKIzwOvHIFI1s566wMaObtC10rmyOvfh2NgAAAAAAAk0http://www.kargilonline.com/administrator/index.php?option=com_content&task=article.edit&id=283JNDjz78zOroltMSwgJLCZ1kzneIMU1cDbI2yNXFNXFN3Frpeejeuejes7AAAAAAHHsTxe2UBQAAAAAJNZMy5RlkskWyQqSKgsAgqC56bMboUDPA7ceYIK1sx0g0sFmqxrvtOPaw3hk8oXr15dDsAAAAAAAAADOOmSaaJQ5TWSEAJnUMY6YjmoKFAoFCgoVoalNbxutAAAAAAAAAAAAAAAmN4M51kzneYysIoyoijKiKJqaLqaFcTpyzCTWzi6jNxg6456s6dM6NdEOjNNXI3JC5uTzol7757r0AAAAAHI6vD7gAABnWTQAOed4JLACSyM53k5qBQBQKFBQtlLZTWs2ujA2AAAAAAAAAAAAAmC5sJLDMsiTUJKICKIABqUupS8e3AyodefU5ZsOWN5samjrVOuWTdxTVyNyQ0zTziXtrGj1JaAAAAA5b0AAAEsKADGN4ICAkqM51DCwFAFAg1ZRQtlLZSlpboAAAAAAAAAAAAAzNjnN5MywksiSwiwiwlACKGpS6lHD0ecgL15djgDjnWbLvOzpZTWUNWQusaKgusbPMpetlj0657qgAAAAAAAASwoAM8+nMgIBLImdZMzUAFAUihQqUWUtlpZTW+ejYAAAAACUAAAAJQmDUQZuRKJnfOJc0sABLAAC6lLVHm9PmANdeezjLDlLLLvGjrUIZNaxS3I2yNbxTkF6pYuvNwr6nT5Pps9zw9Y9LGloAAAAAGbC2UAzz6cyASwSozNZMzUABQBQAoGs6KWsa8sPY8cPfv5+z13wj3vHT1a8Oz158uU9l8Wj1XyD1vIPU8kPa8lX0a8Wj158kPXrw6PTnyj1vIPRrz+gY1kxZYAAQACi6lLZSef0cBLDprNOWdZOcssbxs7Z1zCCoNM6Kg2ZMhetzYzjpys8+91NXkt328vY+illAAAAQGbC6zoAnLrxAEsAJLIzNZBQAUAWUAazo0K83LWTdaJaItM2iKSKqKAEoiiKiLFiwiiTUIqOnTn0JjeKzZYAlAAADWpSgzx68gDouTnjeDEssdOfU3iwyQrNNM01cQ743zDI7WJZz7964vTxOGs9jHL0+dPdcaW3NKgsQpCyBLC6xsqBx7cQAQCJKMywAAoAFlAGs6NA8beTWpqpQFIolACUAIoi4NJRKIsIoiyAN7zsc+nIllAAAABTVC2U58unMA7c+nMxjfMzLmy9uHcmbFkRKg0gqD0c+vFcIT0WWWp46+vz+P0X6bgT0cuWz1Xn0FgqCwACBLBvGi2C8evIRIqUAgJLCAFAAAKBrOjSU489ZN2aAozhOrOigFIQsA5l6KIBKIsIqIoijdzoc+nMllAACUAWU2UWU443gA78e3AzjfMzLLHfh3Jz3zEAlKgtlPTx7cV5Mk9diW+L28a8E9HpPBbhL147X6no8vqAKgAAELAaxuALy6c6kZi3nyPUlECSwgFAABYLAazo0DjneS6miKMeT2XU+b6um7NqzZQSiKM8+vI6EWgiyAIsACjVBz6chYLAAWCgWaNWUWU4ZsFmjrw7+cnPpyJLLHfh6Dnz3ggFgqC759Try1leIT1iW51wrt38mzliTOt8u/bU338/oRYKgqCoAEsGsaigY3g5ce3A6cfR5z1bxsgJKJLBYKAAABrNNWDPOw1rOhLB15d7MtDLQzdDDYw2OfD1eY1ZVCAIAAAU1Ac+nIoAAAKlGs6NWUA84JvHQ6efvwJy6czIsvfj2OONYAKgqB24+gmbhcBPWllcuuKx04dTDlvOt9/F6tSez5/uTaCpQQqCoAM7xqNILjWTn5vT5jpx7cT1bxsAgJLBYKAAABZTQM43ktUksL249rKKAWCoKgeb0+aGptZNIyok1CKIolDWbC8evItlAAAFlGs6NWUS5OFlJ059S8evIxz3hISunXnTlmwQKlBB6vJ7DljfGULPWWVnUPJ1navJv1SXyY9nzrL9n5X1jSCgAJQBAlzqNAZ1k5+b0+Y3y6cz09OXUAgJAAWCgAAWUtgzLDVlGdZHfj1sqUAWCoKgcO/AazpaoiwiogIolBLkc+nI0ABZQBZRvGy2C51g42B249jPPfMxjWbJA753zXnnWZEsKirAe3x+xePn9HmNBPYJVg8W8cq+nfJ6Tn4fR5k9H0/lfTXaCpQAlAAM2I2BLDn5vT5i894PR183pABCAAAWCwAFlLYGbDVlJLB249bKlAAAAHHtxG8bWgAghKIBZTBBz3g0lAAFlALvGygvPfM5gd+PY5Y3Dlj008k9cMY66PHPXk8z0ZOM6yubeZL6vP2XHm9HAos9iWUDycfZyrl06dDzY9mTzfS8/oOiCpQAAACS5joCwOfDvk5dbolgqACJk08OD6TyeoqUN8ys0qDQIQ1rNGdZHbh2soAAAAHLrxG+e12mE6EUIQAFlM5QmdZKCpQBYKC7xsqUce3AiUvbl1OEQ4xmt74k9aeVfZrwE+hPFo9bzaO85aNcuvCXWdww9AzZQC6m6xqjE6jj00KgqUAWCoAJnWY6WCwMIFlCCoLA5/I9/zKBLvp2mvbNE47U3ZQCroxnfzz33lg9GcjXbz96oQAAAQvHrxLrG13BKx4V+jPj7PqsagCpTmQY3g0gYZN3lTtc6FlLvGxYL5+/nFg3159DzwOGbLJrOz0eT1+NaEApAD0Z6c5eeJwPa8I+qlANdOXQpC2CoqoKgoAAAGNZjdzosDAJrNJnj5a+lfH6jSWPN8j73xa567Jd53iX6PTx+ywEAJROfiPS4Jr08tZ1nqkO3p8fsAQAAgqUcevEus7l83Drx7cM8NuXfyt8z63s+X7D0JYtzTmCZ1koAEotgoNazoqUefv5yg6bzThNYOObLHTl2Onk9PnFAsACU9fLtxl8vLeDKl+pZUAdeeygAqKoAAFgqCwGNZjWsbAMAEPB5rws9Hbw7r6nf5HWPpfO93Ca8eO/CVrj0r3+vz92QHPfyz0Z8WLPXy56Xp14prtfPi5+jryeqN+zw+w0WwQoIogHHpxXprMjOPR49Z5cWM9Nebtxs305Rn19/nU+5v4X1pdqMTWSkKlAKlFg3rNKgcOvIoOsuTnjfI551mx34eiJw7caoEQILvn1PRz1iXx43gIX6lhKC757NAWCoqoKAAAABifPPo7+HD7z4/sPUiL5+/hrx5ubKzDbFj3dePpmvNjr54z7PFa+trGkqC/F+z8WufXp608c64XzOuTt6+Gy+jls6vGj

مجمع روحانیون کرگل و لیہ کی طرف سے ایک شاندار سیمنار منعقد کیا گیا جس میں مشھور و معروف خطیب اعظم حضرت حجت الاسلام و المسلمین آقای مروج زید عزه نماینده مقام معظم رهبری یمن اور سوریه میں تھے۔اس سیمنار کے خصوصی مہمان نمایندہ ولی فقیہ حجت الاسلام و المسلمین شیخ مھدوی پور تھے۔