بسم اللہ الرحمن الرحیم

(تحریر:کےایچ آخوندی)

*پورنو گرافی ،سافٹ وار کا ایک مہلک ہتیار!*

 

     تمدّن اور ثقافت کسی بھی قوم و ملت کی  پہچان ہوتی ہے، یعنی ہر کسی قوم  کا تشخص اور  حیثیت  اس کے کلچر سے منسلک ہے، لہذا بیدار اور زندہ  قوم  اپنی  قومی اور مذہبی  تمدّن کو ہر حالت میں  تحفظ فراہم کرنے  کے حوالے سے کوتاہی نہیں کرتی،   بلکہ  اس کی حفاظت کرنا اپنے اوپر  لازم سمجھتی ہے، دوسری طرف  جب کوئی   دشمن اپنے حریف  کو شکست دینا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اس کے ثقافتی آثار کو مسمار کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے بہت سارے نمونے ہمارے سامنے موجود ہیں جیسے (جنت البقیع کی مسماری، مغول حکمرانوں کا سرزمیں ایران ، عراق اور شامات پر  چڑھائی کرکے اسلامی اثار کو ختم کردینا اور  حال حاضر میں عالمی  استکبار  کا   داعش جیسے دہشتگردوں  کے ہاتھوں ،  لاکھوں اسلامی آثار کا تباہ کر وا دینا  وغیرہ ) ۔

     رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای(دام ظلہ) نے سنہ 21 مارج 2014 ،(ایرانی کلنڈر کے مطابق 1393ھ ش ) کو حضرت امام رضا(ع) کے روضہ مطہر میں نئے سال کےآغاز کے موقع پر  لاکھوں ارادتمندوں سے خطاب فرمایا، اپنے اس خطاب میں میں موصوف نے نئے‏ سال کانام"معیشت اور کلچر،  قومی عزم و ارادہ اورمدیریت جہادی"  اعلان فرمایا۔ اس سالانہ خطاب میں آپ نے  (اسلامی) ثقافت اور کلچر کے مفہوم کی وضاحت فرماتے ہوئے، اس کو ہوا یا آکسیجن(Oxygen)سے تعبیر  فرمایا۔ یعنی ہر انسان خواہ نہ خواہ ا س کو استعمال کرتا ہے،  چاہے صاف ہو یا آلودہ، چونکہ انسان کی حیات اور بقاء کیلئے آب ہوا کا ہونا لازمی،  اور اس کے بغیر زندگی کرنا ناممکن ہے۔ جب آب ہوا صاف اور پاکیزہ ہو تو اس کے آثار بھی مثبت ہونگے؛   نیز ایسی آب و ہوا انسانی حیات زندگی کی خاطر سازگار ہوگا۔ اس کے برعکس اگر آب و ہوا آلودہ اور ناپاک ہوں، تو ضرور اس کے آثار بھی منفی اور انسان کی صحت و سلامتی کیلئے مضر ہوگا؛ اور نتیجہ کے طور پر سماج کے اندر طرح طرح کے امراض پھوٹ پڑیں گے،چونکہ اس آلودہ آب ہوا سے بچ کے رہنا  انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔

   بلکل اسی کی مانند اگر ہماری ثقافت اور کلچر پاکیزہ اور ہرقسم کی آلودہ گیوں سے منزہ ہو،  تو ہمارا معاشرہ بھی مہذّب ، شائستہ اور خوشگوار ہوگا، لیکن اس کے برعکس  ہماری  اسلامی ثقافت اور کلچر کروٹ  بدل کر اھرمنی طرز  و  تفکر کی بنیاد پر وجود میں آجائے، تو  ہماری سوسائٹی کے اندر کسی قسم کی خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی،   اور نہ ہی   انسانی اقدار کی  کوئی قدر ہوگی۔

  ہم نے  کم و بیش اس بات کو سنا ہے کہ آج  دنیا کے اندر  Cultural War)) یا ثقافتی جنگ ہو رہی ہے، مغربی ممالک اور  امریکہ یا دوسرے الفاظ میں عالمی استکبار نے پوری دنیا پر  اس جنگ کو مسلّط کر رکھا ہے،  اور خاص طور پر ممالک اسلامی میں یہ جنگ انتہائی مخرّب انداز میں جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس  کی اصلی عّلت  یہ ہے کہ ایران میں  اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد پوری دنیا اور  خاص کر ملت اسلامی  پر اس انقلاب کی تاثیر بڑھتی جارہی ہے، دنیا کے ہر باضمیر انسان نے مغربی  تباہ  کن اور   انسانی تہذیب دشمن  کلچر کو ٹھکرا کر  اسلامی فرہنگ  اور ثقافت کی طرف  اپنا  رجحان  بڑھایا ہے؛  اسلامی انقلاب کی بڑھتی ہوئی اثر رسوخ کو دیکھ کر   امپریلیزم جہانی اور عالمی صہیونیزم اپنی پوری قوت کے ساتھ اس انقلابی تحرکات اور اثررسوخ کو کچلنے کیلئے میدان میں قدم  جما کر ہر ممکن  وسائل کو بروے کار لاکر اس پر  جارحانہ حملے کر رہے ہیں۔ مجوعی طور پر  دوقسم کی جنگ اس کے خلاف تھونپے جارہے  ہیں، ایک سخت جنگ(Hard War) اور نرم جنگ(Soft War) ان میں سے اوّل الذّکر جنک میں ان کو ناقابل تلافی شکست ہوئی ہے جو کہ پوری د نیا  جانتی ہے۔  لیکن ثانی الذکر  جنگ یعنی  سافٹ وار  آج  بھی شد ومت کے ساتھ جاری ہے۔ جنگ نرم میں دشمن کسی قسم  کے متعارف اسلحے استعمال نہیں کرتا بلکہ اس میں نامحسوس ہتیار جیسے اقتصادی محاصرے اور ثقافتی یلغار وغیرہ سب سے کارساز اور مؤثر ہتیار مانا جاتا ہے۔

    جب  ان شیطانی ٹولوں پر یہ ثابت ہوگیا کہ جنگ اور اقتصادی پابندی کارساز نہیں ہے ، لہذا  ثقافتی جنگ مسلط کرنا مناسب سمجھا ، چونکہ انہوں نے اس جنگ کا تجربہ  اسے پہلے  سر‌زمین اسپین (Spain)  پر کیا تھا اور اس کا  تسلی بخش نتیجہ بھی حاصل ہوا تھا چونکہ اس  سرزمین پر جو مسلمانوں کا آٹھ سوسالہ(800) حکومت تھی،  اس  کو ختم کرنے میں کامیابی ملی تھی۔

    ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے خاتمے کے بعد جب عالمی صہیونزم کو بخوبی احساس ہوا کہ ان کو عبرت ناک  شکست ہوئی ہے،  تو  یہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا، اور اپنے تمام تر صلاح مشورے کے بعد اس نتیجے پر  پہنچا کہ  جمہوری اسلامی ایران کو صرف  ایک ہی چیز  شکست دے سکتی ہے  وہ ہے کلچرل وار یا ثقافتی یلغار۔  یہی وجہ ہے کہ"  نتان یاہو" جو  ابھی   اسرائیل کا صدر نہیں بنا تھا، اس نے  اعلان کیا تھا  اگر امریکا یہ چاہتا ہے کہ ایران پر اپنا  تسلط جمایے،  تو  اسے چاہے کہ ایران کے خلاف ثقافتی جنگ چھیڑا جائے، اور میڈیا کے توسط سے یہ جنگ شروع کرکے ایرانی ریڈیو ،ٹلی ویژن پر کنٹرول حاصل کرنا چاہئے۔

      آج عالمی صہیونزم پوری دنیا پر  اپنا تسلّط  برقرار کرنے کی غرض سے دنیا والوں کو طرح طرح کے سبز باغ دکھا کر فریب دینا چاہتا ہے۔ ایک طرف سے میڈیا کی بالادستی  ان کے ہاتھ میں ہے ،وہی دوسری طرف انہی کو  وسیلہ قرار دے کر اپنے مزموم سازشوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں، انٹر نٹ، سٹلائٹ چنلز  کے علاوہ باقی سوشل ذرایع ابلاغ پر ان کا قبضہ ہے لہذا ان چیزوں کا استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کے اندر پروپیگنڈا   اور   نفرت کی بیچ بو رہے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں ویب سائٹ تیار کراکے  نیز مختلف چینلوں کے ذریعے لوگوں کو خاص کر نوجوان طبقے کو گمراہ  کر رنے کے سلسلے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔

    تحقیقات کے ذریعہ معلوم ہوا ہے کہ   عالمی استکبار اور صہیونی ایجنٹوں نے انٹر نٹ پر دس میلین سے زائد  مبتزل اور گندی تصویروں کو اپلوٹ کر رکھے ہیں، اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں اسی نوعیت کے  ویڈیو کلیپس(Video Clips ) تیار کرکے منتشر کیا ہے،  تاکہ لوگوں کو شہوت رانی  کے بھوَر میں غرق کرکے نیز   ان کی استعداد  کا سبوتاج اور ان کی نگاہوں کو محدود کر کے  اپنے مزموم مقاصد میں کامیابی حاصل  کر سکے۔  حال ہی میں ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے اعلان کیا کہ صرف ایرانی قوم کو گمراہ کرنے کی خاطر ایکسو چونتیس(134) سٹلائٹ چنلز فارسی زبان میں میں  براٹ کاسٹ کیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی صہیونیزم نے  دنیا کو تباہ کرنے کی غرض سے ان  وسائل کے علاوہ ایک اور   تباہ کن ابزار  کا استعمال کرنا   شروع کیا ہے  جو  غالبا ہمارے نوجوانوں کو نشانہ  بنانے  کیلئے  تیار کیا گیا ہے، اس  انتہائی مہلک  نرم ابزار کا نام  پورنوگرافی(Porno grapy )  ہے۔

    پورنوگرافی سے مراد  ایسی  کتابیں، مجلات، کارٹون، اینمیشن، عریان اور نیم عریان تصویریں اور فلمیں ہیں،  جن کو صرف انسان کی  جنسی غریزے کو  تحریک کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔[1]  صہیونی  عناصر اس غیر اخلاقی  فعل کے ذریعہ  کافی  درآمد حاصل  کر رہے ہیں۔ ایک عالمی نجی تحقیقی ادارہ " فوسٹر" کے  رپوٹ کے مطابق صرف سال 1998ء میں ان سے حاصل کی ہوئی رقم کا تخمینہ 750 میلین ڈالر سے لیکر ایک ارب ڈالر لگایا گیا ہے!

     یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی صہیونیزم  اپنے مادّی اہداف کو حاصل کرنے کے سلسلے میں ہر  قسم کے  حربے استعمال کرتے ہیں، چاہے وہ غیر اخلاقی اور انسانی  اقدار کی منافی بھی کیوں نہ ہو۔  ان کے یہاں صرف ہدف اور مقصد کا حاصل ہونا اہمیت رکھتا ہے، یہ لوگ اپنے سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی اہداف کو حاصل کرنے کے سلسلے میں ہرنوع انتہائی گٹھیا اور پست   طریقے بروی کار لانے سے شرم نہیں کرتے، اس کا ایک  زندہ نمونہ چند سال قبل اسرائیل کے سابقہ وزیر خارجہ( ٹی زیپی لیونی) کا  بے حیائی پر مبنی بیان ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا اگر فلسطینی زمامداران یا سیاسی رہنماوں نے ہمارے ساتھ صلح کا راستہ انتخاب نہیں کیا،  تو میں  ان  اسرار کو فاش کرونگی جو میری زات اور ان کے درمیان  واقع ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے: عرب ممالک کے کچھ رئساء اور فلسطینی سیاستمداروں کا میرے ساتھ جنسی ارتباط رہ چکا ہے اور میرے پاس  ثبوت کے طور پر وہ سیڑیاں بھی  موجود ہیں جو  ان غیر اخلاقی کاموں سے مربوط ہیں![2]  

    جمہوری اسلامی ایران کے ایک معروف   روزنامہ "مشرق نیوز" کے رپوٹ کے مطابق  350 غیر اخلاقی ویب سائٹیں صرف ان ایٹرنٹی سرور(Servers) کے ذریعہ ادارہ  ہوتے ہیں جو مقبوضہ فلسطین میں موجود ہے۔

     اگر  ا سرائیلیوں کے امریکا میں وارد  ہونے کی  تاریخ پر نظرڈالی جائے تو مزید ان کے متعلق  معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ جس وقت انہوں نے  سرزمین امریکہ پر قدم رکھا اس وقت  نہ ان کے پاس کوئی سرمایہ موجو تھا اور نہی ان کی کوئی حیثیت تھی، بلکہ دوسروں کی مالی حمایت کے بغیر  ان کا امریکہ  تک پہچنا ہی ناممکن تھا۔   یہی وہ زمانہ ہے کہ یہودیوں نے اپنی اجتماعی موقعیت اور جایگاہ کو تثبیت کرنا شروع کیا، اور  تاریخ بشریت میں پہلی مرتبہ انہوں نے  اپنے آپ کو سرمایہ دار بنانے کی غرض سے غیر انسانی اور غیر اخلاقی  کاموں یعنی" پورنو" وغیرہ  کے ذریعہ سرمایہ جمع کرنا شروع کیا۔  اس  طرح سے عالمی صہیونی عناصر نے دنیا کی ثقافت اور تمدّن کا استثمار کرنے کے حوالے سے پڑے پیمانے پر غیر اخلاقی فلمیں، تصاویر، رسالے، اور کتابیں ،غیرہ تیار کرکے پوری دنیا میں منتشر کردیا،  اور رفتہ رفتہ یہ کام ان کیلئے درآمد کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن گیا۔  جب  ہم ان غیر اخلاقی اور گمراہ کن  مطالب پر مشتمل مجلات اور کتابوں کی تاریخ کی طرف ملاحظہ کرتے ہیں تو  معلوم ہوتاہے اکثر  ان مطالب کے لکھنے والوں میں ان یہودیوں کا نام سامنے آتا ہے جنہوں نے  1890ء  سے لیکر 1960ء تک   کے عرصے میں امریکہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ یہ افراد  اس قدر بے حیاء بد اخلاق تھے کہ اپنے تحریری مطالب کے  ساتھ ساتھ گندی اور بترین نوعیت کی  تصاویر بھی چھپوادیتے تھے۔

اس طرح  سے امریکا میں یہودی لوگ  پورنو گرافی کی صنعت میں مشہور ہوگئے، اگر چہ اس وقت امریکہ میں ان کی تعداد بہت کم تھی لیکن  انہی غیر اخلاقی فعل کی وجہ سے انہیں بہت شہرت حاصل ہوئی۔

  امریکہ کے ایک معروف دانشمند "جی اے گرٹزمن" کے بقول یہودیوں نے امریکا کے تمام قوانین کو پائمال کرکے ثروت اور شہرت حاصل کرنے میں لگ گئے۔

       یاد رہے کہ یہودیوں نے اس غیر انسانی حرکت کا آغاز  تو قلم کے ذریعے کیا ،لیکن بعد میں تصویر، انمیشن اور فلموں کی شکل میں اس میں  مزید توسیع دے دی ، یہاں تک کہ ہالیووڈ اور دوسری فلمی اینڈسٹریس نے بھی  دنیا  کی ثقافت پر قبضہ جمانے کے سلسلے میں کافی حد تک ان کی  مدد بھی  کی، اور اس کے بعد  ہالیوود کے بڑے بڑے  اینڈسٹریس بھی اسی شوم مقاصد کی حصولی کی خاطر صہیونی عناصر نے  تاسیس کی، ان فلمی اینڈسٹریس میں بہت سارے  ایسے لوگ کام کرتے  تھے جو پورنوگرافی بنانے  یا مبتزل  داستان سرائی میں معروف تھا، ان میں سے ایک مشہور  شخص جس کا نام رابی اسٹرورمن(Rabi Storman)تھا جو کہ خود ایک یہودی تھا۔  انہوں نے پورنوگرافی کی صنعت کو توسیع دینے  کے  مقصد سے مختلف طریقے اپنائے اور  اس قسم کی تحریری اوراق یا انمیشن و غیرہ تیار کرنے کیلئے ہر قسم کے ابزار کا استعمال کیا  یہاں تک کہ وہ اس زمانے میں امریکہ کے  معاشرے میں بدنام زمانہ میں تیدیل ہوگیا اور لوگ ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس کے بدنام ہونے کی علت  یہ تھی کہ اس زمانے میں امریکہ کے  بہت سارے ماہرین نفسیات نے  اسے ایسا کرنے سے  منع کیا تھا؛ کیونکہ ان کی نازیبا حرکات  کی وجہ سے نوجوانوں کا ایک  خاص  بڑا طبقہ متاثر  ہورہا تھا۔ لیکن انہوں نے ان کی ایک بھی نہ سنی اور ا پنے موقف پر مصر رہے۔ آخر میں  اس  شخص  کو  مالیات کی عدم آدائگی کی وجہ سے زندان جانا پڑا اور  وہی اس کی موت واقع ہوئی۔

      خود یہ شخص تو مرگیا،  لیکن اس کی موت کے  بعدبھی صہیونیوں نے  نہ صرف  اس کے مشن کو روکا  بلکہ اس کے کم و کیف میں اور شدّت لائی۔ یہودیوں نے ہالیووڈ کے فلم ایڈسٹریس پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے ان میں بھی    غیر اخلاقی اور فحاشی فلمیں وارد کرنا شروع کیا ۔  اس سلسلے میں وہ  پہلے خوبصورت  جوان  لڑکیوں کو فلموں میں کام کرنے کا بہانہ بناکر  دعوت کر تے تھے ، بعد میں ان کو  جھانسہ دیکر ان سے ایسی فلمیں تیار کرنے لگ جاتے تھے، جن میں جنسی رابطے کی نمائش دی جاتی ہے۔

  ابتداء میں اس قسم کے فلمیں صرف انہی کی مخصوص کمپنیوں کے   ذریعے تیار کئے جاتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکے، لیکن جب راۓ عامہ(Public opinion ) کی طرف سے ان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو انہوں نے ہالیووڈ کو بھی اپنے ہمراہ کر کے اس کام کو عمومیت دینے کی کوشش کی  ، تاکہ اس طر یقے سے  اپنے اوپر کئے جارہے  ان اعتراضات کو کم کیا جا سکے جو دنیا بھر کے  روشن فکر افراد اور مذہبی طبقوں کی جانب سے ان پر  کئے جارہے تھے۔ اس طرح سے  یہودیوں نے  ہالیووڈ کے اندر  غیر اخلاقی یا  جنسی موضوع سے مربوط فلموں کو تیار کرنے  کا زمہ اپنے عہدے میں لے لیا، یہاں تک کہ کچھ عرصے کے بعد انسانی اسکینڈل یا غیرقانونی طور پر عورتوں اور جوان لڑکیوں کی خرید و فروخت کرنے والے عناصر سے جوان اور خوبصورت لڑکیوں کو خرید کر ان کو اس قسم کے فلموں میں کام کرنے پر مجبور  کرکے مزید فلمیں بناکر دنیا میں  منتشر کرنے لگے، اس طرح  سے پوری دنیا میں  شہوت رانی کو فروغ دے کر نوجوان طبقے کو  گمراہ کر رہے ہیں۔

   یاد رہے کہ انسانی اسکینڈل کرنے کا کام آج بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے، آج  دنیا کے مختلف ممالک کے اندر  بہت سارے لوگ اس کام میں مشغول ہیں ، ان میں سے  بیشتر  افریقہ، مشرق  وسطی اور یہاں تک کہ بعض  یورپی ممالک سے غیر قانونی طور پر  یا اغوا کاری کے ذریعے بہت سارے انسان کو  مختلف اہداف کے پیش نظر  امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی  طرف منتقل کئے جارہے  ہیں۔ ان تمام  راستوں کا  تحفظ اور کنٹرول خود  غاصب  اسرائیلی حکومت کی طرف سے ہو تے ہیں، اس کے علاوہ باقی ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ امریکی ایجنسیاں بھی اس میں دخیل ہیں۔

    عالمی صہیونزم نے اس قسم کی سازشوں کا استعمال دنیا کے ہر مذہبی معاشرے میں کیا ہے (یا کر رہا ہے)، جن میں زیادہ تر اسلام اور عیسائیت کو نشانہ بنا یا جارہا ہے، تاکہ اس طرح سے ان  دو بڑے دینی طبقے کے اندر نوجوانوں کے استعداد کو نکھار نے  کا موقع نہ دے سکے۔

       صهیونی  عناصر اپنے محاسباتی عمل میں اس  نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں نوجوانوں کو بے راہ روی کی طرف  گامز ن، نیز ان کو  انسانیت کے اعلی درجے سے محروم کرنے کا  سب سے آسان طریقہ  یہ ہے کہ ہر جگہ سینماگھر بناکے اس میں غیر اخلاقی پکچرز یا  فلموں کو فروغ دے کر مسلمان  جوانوں  اور نو جوانوں میں جنسی غریزہ  کا موج ایجاد کیا جائے تاکہ ان سےشرم،حیاء، ایمان، غیرت، اخلاق اور انسانی اقدار و غیرہ کو ختم کرا یا جا سکے، اگر اس میں کامیاب رہیں تو  ، سامراجیت، لیبریلیزم، سیکولیریزم اور   عالمی استکبار کے مقا بلے میں ڑٹ کر مزاحمت کرنے والا  وہ اسلامی تمدن جو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد، دنیا کے گوشہ و کنار اور  بالخصوص  ملت تشّیع کے اندر  ایجاد ہو چکا ہے ، اسّے  شکست سے دوچار کر سکتے ہیں۔ چونکہ  فحاشی گری،   ثقافتی یلغار یا سافٹ وار کا  الٹمیٹ (Ultimate)   ہتیار گنا   جاتا ہے، لہذا  آج  پہلے سے  کئی گنّا  زیادہ  اس پر کام کیا جا رہا ہے اور اس پروجٹ پر سالانہ اربوں ڑالر خرچا یا جا رہا ہے، اسی سلسلے میں چند سالوں سے دنیا کے مختلف مقامات پر اس کی نمائش گاہیں، فیسٹول اور انعامی مسابقے بھی منعقد کئے جارہے ہیں؛ ان میں سے بڑا  فیسٹول(Festival)  جس کا  ہر سال بڑے اہتمام کے ساتھ  انعقاد کیا جاتا ہے، اس میں دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی  منتخب ہوتی ہے۔   اسی طرح  سالانہ   ایک اور فیسٹول کا انعقاد ہوتا ہے جس میں ہر  کمپنی اپنے اپنے پورنو سے مربوط فلمیں، تصاویر، اور انمیشن و غیرہ کو نمائش کی صورت میں پیش کرتی ہے اور اس پروگرام میں بھی سال کا سب سے مقبول و مشہور  فیلم کا انتخاب ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا خطرناک حربہ ہے جو عالمی صہیونزم فحشاء اور منکرات کو رائج کرنے کی غرض سے انجام دے رہا ہے۔ ان شیطان صفت عناصر کی  کار کردگی کو دیکھ کر  آج یورپ کے اندر بھی   صدای احتجاج  بلند ہورہی ہے، چنانچہ  بعض سماجی  اور اجتماعی فلم  بنانے والوں نے ، ان بے شرمانہ پروگراموں کو انسانی اخلاق کی تدفین سے تعبیر کیا ہے۔

   اس  تہاجم فرہنگی یا  بہ الفاظ دیگر ثقافتی یلغال کا خطرہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ عالمی تنظیم آیسکوبIOSCO[3]. بھی اس کو ثقافتی یلغار کا مصداق قرار دیتی ہے۔[4]  یہاں تک کہ  خود  غاصب اسرائیلی ریاست بھی اسے محوظ نہیں  ہے، چنانچہ ایک اور عالمی تنظیم(Amnesty international)   کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2000ء میں اسرائیل کے اندر ہر تیرہ گھنٹے کے بعد ایک عورت کی آبرور یزی ہو چکی ہے۔ اور سنہ 2009ء میں  یہ عدد بڑھ کر ہر چار گھنٹے کے بعد ایک اسرائیلی عورت کا جنسی استحصال ہوا ہے۔[5]

    واضح رہے کہ اس ثقافتی یلغار نے آج قلب اسلام کو نشانہ بنایا ہوا ہے،  چونکہ بشمول جمہوری اسلامی ایران کے ،  دنیا کے اکثر اسلامی ممالک نے  اس  تباہ کن جنگ کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ  عالمی صہیونزم اور استکبار نے اپنے طاقتور میڈیا کے ذریعے  ہمارے اسلامی کلچر پر  پے در پے کاری ضرب لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، لہذا  ضرورت اس بات کی ہے  کہ ہم خود ہوشیار رہیں اور اپنی قوم، نسل  اور خاص کر ہمارے عزیز نوجوانوں کو کو  دشمن کی  مزموم سازشوں ہے آگاہ کریں اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے ہمیشہ کوشاں رہیں، تاکہ قوم کے جوان نسل دشمن کے جھانسے میں آکر   گمراہی کا شکار نہ ہوں اور ہمیں ناقابل تلافی نقصان سے روبرو نہ ہو نے پائے۔

       



[1]  سنہ 2015میں جہان نیوز کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں ایک ایسی کمپنی ہے جو صرف مصنوعی لڑکیاں تیار کرتی ہے اور ان کو  شام کے اندر دہشتگردوں کے درمیان  مفت تقسیم کردیتی ہے، تاکہ ان کا جنسی غریزہ   پورا ہوسکے۔ یاد رہے کہ اس کمپنی کا مالک  قطری ایک شیخ بتایا جاتا ہے۔

[2] Jahadadgar.persianblog.ir.

[3] International organization of securities commission).)

[4] نقل  از مشرق نیوز، ویب سائٹ، 6 اپریل 2014۔  

[5] Mashreghnews.ir,2014