بسم اللہ  الرحمن الرحیم

٭نظام ولایت علی(ع) تا نظام ولایت فقیہ٭

(تحریر:خادم حسین آخوندی)

 

  مقدّمہ:

   انسان کو اچھی  اور سعادت مندانہ  زندگی گزارنے کی خاطر ایک بہترین قانون اور منظم نظام کا ہونا  ضرورت ہے ، اگر کسی سماج میں کوئی نظام اور قانون حاکم نہ ہو،  تو وہ سماج ایک دن بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔
     دوسری بات یہ کہ یہ قانون اور دستورات کون معین کرے،  خود انسان یا اس کا بنانے والا؟ واضح ہے کہ انسان اپنی ناقص عقل کے  بل بوتے پر اپنے لیے  ایک مفید قانون بنانے سے قاصر ہے۔  چونکہ وہ مکمل طور پر اپنے بارے میں معلومات نہیں  رکھتا۔ اور اگر با لفرض   دنیا ‏ئی اعتبار سےکو ئی اچھا سے اچھا قانون بنا بھی لے لیکن چونکہ اس کی زندگی اس  مادی دنیا میں محدود نہیں ہے بلکہ اگلی دنیا میں بھی جاری ہے اور یہ دنیا  اس لازوال دنیا کے لیے مقدمہ ہے ،لہذا  ایک  ایسا  جامع قانون کی ضرورت   ہے جس  پر عمل پیرا ہوکر انسان اس مادی  دنیا کے ساتھ ساتھ  اگلی  دنیا کی زندگی کو بھی سنوار سکے۔ تو ایسا قانون وہی بنا سکتا ہے جو انسان اور اس کی زندگی کی تمامتر جزئیات کے بارے میں سب سے زیادہ آشنا ہو۔ اور  وہ صرف اس کا  خالق ہی ہو سکتا  ہے وہی جانتا ہے کہ انسان کیسا مخلوق  ہے اور اس  کا مقصد حیات کیا ہے،   وہی بہتر جانتا  ہے کہ  اس دنیا میں جینے کا صحیح  سلیقہ کیا ہے۔ اور دنیای آخرت کی فلاح و بہبود کی خاطر کیا کرنا چاہئے۔
    یہی وجہ ہے کہ  اللہ نے انسان کے لیے قانون بنانے اور اس کو چلانے کا اختیار اپنی زات کے علاوہ کسی کو نہیں دیا ،اگر کسی کو دیا ہے تو وہ صرف اپنے مخصوص بندوں کو دیا ہے۔ قرآن نے واضح الفاظ میں فرمایا’’ لا حکم الا للہ ‘‘۔حکومت کا حق صرف اللہ کو ہے۔ لیکن چونکہ اللہ تعالی بنفس نفیس روئے زمین پر ظاہر ہو کر حکومت نہیں کر سکتا،  اس لیے کہ انسانوں پر حکومت کے لیے ضروری ہے کہ  کوئی انہیں کے جیسا جسم و بدن رکھنے والا موجود ہو جو ان کے درمیان نظام قائم کرے ، لہذا اپنے نمایندوں کے  طور پر انبیاء اور اولیاء(ع) کو اس مقصد کیلئے انتخاب فرمایا ۔

  سلسلہ انبیاء کے ختم ہونے کے بعد   اللہ نے  اپنے خاص بندوں کو  اپنا  جانشین مقرر کر  کے  انسان پر ان کی اطاعت واجب قرار دے دیا، ان میں سے  پہلا جانشین امام علی(ع) اور آخری حجت امام مھدی(عج) ہيں، ان  کی غیبت کے زمانے میں فقہاء عظام ان کے جانشین ہو تے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

نظام ولایت علی(ع) کی مشروعیت۔

     اسلام کے آنے سے قبل بالعموم دنیا  اور با لخصوص جزیرہ نما عربستان،   جہالت اور اندھیرے میں ڈوبے ہو ئےتھے، لوگ شرف انسانیت سے عاری ہوکر زندگی گزارہے تھے،قتل و غارت گری اپنے عروج پر تھے، انسان  حیوان کے ظرز کی زندگی گزار رہا تھا۔ 

     لیکن جب اس اندھیرے میں ڈھوبی  ہوئی سر زمین پر ، آفتاب اسلام   طلوع ہوا ، یکایک اس کی کرن کی  ضیاء اس  سناٹے پر غالب آگئی۔  یہ اسلام کا ہی کمال اور ہنر تھا کہ  جہالت اور تعصّب میں ڈوبی ہوئی قوم کو راہ ہدایت پر گامزن کر کے   انہیں سعادت اور خوشبختی کی زندگی جینے کا سلیقہ سکھا یا،امیر المؤ منین علی(ع) نہج   البلاغہ میں قبل از اسلام عربوں کی اجتماعی وضعیت کی طرف اشارہ  کرتے ہوئے فرما تے ہیں: "خداوند متعال نے محمد(ص)  کو  دنیا والوں کیلئےمبلّغ اور  رسالت اور نزول قرآن کے سلسلے میں امانتدار بنا کر بیجا۔ اور تم  ای  اہل عرب! تم لوگ بدترین دین  کے مانے والے اور بدترین معاشرے میں زندگی گزار رہے تھے،

 سخت  پتھروں اور بہرے سانپوں کے  درمیاں  زندگی گزارتے تھے، آلودہ پانی اور نامناسب ‏غذا کھا یا کرتے تھے، ایک دوسرے  کے خون بہانے سے باز  نہ آجاتے تھے،صلح رحم کو قطع کر دیتے تھے، بتوں کی پرستش کرتے تھے اور شدید ترین انحرافات اور گناہوں میں تم لوگ گرفتار ہو چکے تھے"۔[1]

        اب حضرت امیر(ع) کے اس نورانی کلام سے بخوبی اندازہ  ہوتا ہے کہ عرب معاشرہ انسانیت کی تہذیب سے کس قدر  گرا ہوا تھا، اسی وجہ سے  قرآن ، اس دور کو جاہلّیت  اولی ( پہلی جاہلیت)سے یاد کرتا ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ  ایک  دوسری جاہلّیت بھی ہے ۔      اس جاہلّیت کا مقا بلہ کرنے کے سلسلے میں پیامبر(ص) کو انتھائی کٹھن  مراحل سے گذرنا پڑا، چنانچہ خود رسالت مآب(ص) فرماتے ہیں:" ما اوذی نبی بمثل ما اوذیت" کسی بھی نبی کو میری جیسی ازیت نہیں ہوئی۔[2] جب  پیامبر(ص) کے چاہنے والوں کی تعداد کسی حد تک بڑھ گئی اور زمینی سطح  پر نظام نبوت کی تشکیل کے زمینے فراہم ہوچکے، تو آپ(ص) نے پہلی اسلامی نظام حکومت کا قیام عمل میں لایا۔ اس الہی حکویت کی شروعات سے ہی مشرکین  اور مستکبرین نے  مزاحمتی محاز کھول دیئے اور  رسول اللہ (ص)کی اس خدائی مشن کو سدّباب،  نیز طرح طرح کی رکاوٹوں کو ایجاد  کر نے کے حوالے سے کوئی کسر  باقی نہیں  چھوڑی۔  پیامبر(ص) کی پر برکت  زندگی کے بیشتر اوقات  ،اسلام دشمن عناصر کے ساتھ جنگ لڑنے میں گزر گئے اور بہت سارے دینی، اجتماعی،سیاسی امور کی اصلاحات باقی رہ گئیں، لہذا  باقی ماندہ  امور کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر  حکم الٰہی کی تعمیل کرتے ہوئے، غدیر خم کے مقام پرامیرالمؤمنین علی(ع) کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ شیعہ اور سنی علماء نے اعتراف کیا ہے کہ آیہ بلّغ اسی موضوع کے بارے میں نازل ہوئی ہے، چنانچہ وہابی مسلک کے بانی ابن تیمیہ نے بھی اپنی کتاب میں اس بات کا  اعتراف کیا ہے ، آیہ بلّغ (يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ۔۔۔)[3] غدیر خم میں ہی نازل ہوئی ہے۔[4]

  تاریخی اسناد اور فریقین کی کتب احادیث سے یہ مطلب بلکل واضح ہے کہ امیرالمؤمنین(ع) کی نظام  حکومت کی مشروعیّت اللہ اور اس کے رسول(ص) کے دستور سے  نہ صرف ثابت ہے بلکہ یہ نظام حکومت، رسول اللہ کی نظام حکومت کا امتداد اور اسی کا سلسلہ ہے ا ور یہ سلسلہ مختلف  شکل اور کیفیت میں ہمیشہ  جاری رہےگا۔

*نظام ولایت فقیہ کی مشروعیت

     اصلِ  ولایت اور حکومت کا سلسلہ اللہ سے شروع ہوا،  جو اس نے اپنے نبیوں کے حوالے کیا۔ انبیاء(ع)  کا سلسلہ جب تک رہا انہوں نے حکومت قائم کرنے کی کوشش کی بعض اس راہ میں کامیاب ہوئے  اور  بعض ناکام،  اسی وجہ سے ہر نبی کی اپنے زمانے کے بادشاہ سے ٹکر رہی۔ انبیاء(ع)  کا سلسلہ جب ختم ہوا تو ایسا نہیں کہ ولایت اور حکومت کا سلسلہ بھی منقطع ہو جائے چونکہ انسان ابھی موجود ہے اور جب تک انسان ہے اسے نظام اور قانون کی ضرورت ہے۔ اور یہ طے ہے کہ نظام چلانے اور قانون بنانے کا حق صرف اللہ کو ہے ،یا پھر اس کے نمائندوں کو یہ حق دیا گیا ہے،  لہذا  ولایت اور حکومت کا سلسلہ ختم نہیں ہو سکتا، اس وجہ سے انبیاء(ع)  نے اس سلسلے کو اپنے اوصیاء کی طرف منتقل کیا ائمہ طاہرین(ع) جب تک موجود تھے، وہی الہی حکومت کے عہدہ دار تھے، اب دنیا کے شرائط نے انہیں حکومت کرنے دیا یا نہیں کرنے دیا،  یا وہ اپنی سعی میں کامیاب ہوئے یا نہیں ہوئے وہ الگ مسئلہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے جب تک وہ زندہ یا ظاہری طور پر موجود تھے حکومت اور ولایت کا حق انہیں کو حاصل تھا عصر غیبت کے شروع ہوتے ہی یہ سوال پیدا ہوا کہ اب یہ حق کس کی طرف منتقل ہونا چاہیے؟ کیا اس الہی نظام حکومت کا سلسلہ ختم ہونا جانا چاہیے یا آگے بڑھنا چاہیے؟ واضح ہے جب اللہ ہے،  اس کے بندے ہیں،  تو اس کی حکومت بھی ہونا چاہیے ؛یہ سلسلہ ختم نہیں ہو سکتا۔ لہذا بارہویں امام (ع)نے اس سلسلے کو فقہا کی طرف منتقل کیا ؛

"کتاب اکمال الدین اور تمام النعمۃ میں محمد بن محمد بن عصام بن محمد بن یعقوب بن اسحاق بن یعقوب سے منقول ہے کہ اسحاق بن یعقوب نے حضرت ولی عصر(ع) کو ایک خط لکھ کر اپنی مشکلات کا اس میں ذکر کیا جسے محمد بن عثمان عمری حضرت کے نائب خاص نے، حضرت کو یہ خط پہنچایا۔ اس خط کا جواب خود حضرت نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر بھیجا:’’ جو حوادث تم کو پیش آئیں ان میں ان کی طرف رجوع کرو جو ہم سے روایت نقل کرتے ہیں( یعنی علماء و فقہا) کیونکہ وہ تم پر ہماری طرف سے حجت ہیں اور ہم ان پر اللہ کی طرف سے حجت ہیں"۔[5]
   یہ حدیث جو تمام اہل تشیع کی حدیثی کتابوں میں موجود ہے ، میں واضح طور پر امام(عج) نے سماج کو پیش آنے والے جدید مسائل میں فقہا کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے،  اور یہ بات طے ہے کہ حدیث میں ’’حوادث واقعہ‘‘ سے مراد شرعی مسائل نہیں ہیں،  چونکہ پوچھنے والا یہ جانتا ہے کہ شرعی مسائل کس سے پوچھے جا سکتے ہیں ، اس لیے کہ ائمّہ(ع)  کے دور میں بھی شرعی مسائل کے لیے ائمّہ(ع)، فقہا کی طرف لوگوں کو لوٹا دیتے تھے۔ یہاں پر ڈھکے چھپے الفاظ میں جو ’’حوادث واقعہ‘‘ کی تعبیر استعمال کی جا رہی ہے،  اس سے مراد سماج کو درپیش سیاسی اور ثقافتی مسائل ہیں جن کی عہدہ دار ایک حکومت ہوا کرتی ہے ،تو امام(ع)  نے شیعہ سماج کو تمام سیاسی، اجتماعی اور ثقافتی مسائل میں فقہا کی طرف رجوع کرنے کا حکم  فرمایا،  اور یہ در حقیقت اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امام(ع)  نے اس عہدہ الٰہی کو جو ولایت الہیہ کا عہدہ ہے،  اپنے بعد فقہاء کے حوالے کیا اور یہ چیز سب پر عیاں ہے کہ اس دور میں اس طرح کی باتوں کو اسرار و رموز میں بیان کیا جاتا تھا تاکہ دشمن سمجھ نہ سکیں،   اگر امام (ع) واضح الفاظ میں فرما دیتے کہ آج کے بعد عہدہ ولایت کے حامل فقہا ہیں،  تو دشمن ہر شیعہ فقیہ کو تہہ تیغ کرنا شروع کر دیتے، لہذا مبہم تعبیرات استعمال کر کے اس عہدے کو فقہا تک منتقل کیا۔

   یاد رہے کہ جمہوری اسلامی ایران میں  ولایت فقیہ کی حکومت کا قیام  عمل میں آنے کے  بعد شخص ولی فقیہ  اس الٰہی منصب کا عہددار ہوتا ہے ، جن کو مجلس خبرگان میں موجود  فقہاء عظام، شرائط اورضوابط کا لحاظ کرکے انتخاب کرتے ہیں۔

 واضح رہے کہ نظام ولایت فقیہ کا موضوع ایسا نہیں ہے کہ حضرت امام خمینی(رہ) نے پہلی مرتبہ خود سے ایجاد کیا ہو، بلکہ اس کا  تصوّر اور اس کے دائرہ اختیار کے حدود کے حوالے سے   ان سے پہلے ہمارے جیّد علماء اور فقہاء نے اپنی کتابوں میں  بحث کی ہے، جیسے صاحب جواہر اور    شہرہ آفاق دانشمند اور فلاسفر شہید محمد باقر الصدرؒ نے اس موضوع کو اپنی علمی اثار میں وضاحت  کی ہے۔

    شہید صدر(رہ)  حکم شرعی کی تعریف یوں کرتے  ہیں : "الحکم الشرعی هو التشریع الصادر من‌الله تعالی لتنظیم حیاه الانسان"۔[6]حکم شرعی، ایک ایسا قانون(تشریع)  ہے جواللہ کی جانب سے انسان کی حیات کو منظم بنانے کیلئے صادر ہوا ہے۔ اس تعریف میں جو لفظ "حیات انسان" آیا ہے،   اس کے دو مختلف ابعاد ہیں، بعد فردی اور  اجتماعی، بعد فردی انسان اور حیوان دونوں میں پایا جاتا ہے ، لیکن بعد اجتماعی صرف انسان سے مخصوص ہے، چونکہ انسان فطرتاْ مدنیّ الطّبع ہے۔ بعد اجتماعی کے اہم مسائل جیسے سیاست، اقتصاد،جھاد و  دفاع وغیرہ کو منیجمنٹ(Management )  کرنا حکومت کا  کام  ہوتا ہے، لہذا  حکومت کے بغیر انسان کی زندگی  ممکن ہی نہیں، جیسے کہ حضرت امیر المؤمنین(ع) نے  نہج البلاغہ میں اشارہ  فر مایا ہے:

  " لابد للناس من امیر بر او فاجر"[7] انسان کیلئے ناگزیر، حاکم کی ضرورت ہے،چاہے نیک ہو یا  فاجر۔

      یعنی فاجر حاکم کا ہونا ، حاکم نہ ہونے سے بہتر ہے،چونکہ اگر حکومت نہ ہو تو معاشرے پر لاقانونیت حاکم ہوگی،  ہر سو افرا تفری (Anarchy ) کا ماحول ہوگا، پس اگر انسان اپنی فطرت پر عمل کر کے  دنیا  اور اپنے محیط زندگی کو مدینہ فاضلہ بنانا چاہے تو ضرور ی ہے کہ  ایک ایسا حکومتی نظام وجود میں لا یا جائے جو عدالت،   انصاف ، نیز انسانیت کی ہرجہت سے  فلاح  و بہبود کے ضامن ہو، اور دور حاضر میں اس نظام حکومت کا اصلی مصداق نظام ولایت فقیہ ہے، بہ نگاہ غائر دیکھا جائے تو   ولایت فقیہ، وہی  ولایت اللہ ، رسول(ص) اور ائمّہ(ع) کی ولایت کا  تسلسل ہے، حضرت امام خمینی(رہ) متعدد مرتبہ فرماتے تھے کہ ولایت فقیہ، ولایت  رسول اللہ (ص)ہے،یعنی اسی کے طول میں آجاتی ہے نہ عرض میں۔ اگر فقیہ کی ولایت، رسول اللہ(ص) اور ائمّہ معصومین(ع) کی ولایت کے طول میں نہ ہوتی ، تو ان کی  تقلید یا اطاعت کرنا   ہم پر  واجب نہ ہوتا۔

  

 

 

 

 

 

 

 *نظام ولایت علی(ع) اور  نظام ولایت فقیہ کے درمیان ایک تقابلی جائزہ*

     اگر چہ رسول اللہ(ص) کی رحلت کے بعد  امام علی(ع) کو پچیس سال کا طویل عرصہ خانہ نشین ہو کر رہنا پڑھا،  یہ عرصہ امام پر  اتنا جانکاہ تھا کہ امام(ع) نہج البلاغہ میں اس طرح یاد  فرماتے ہیں:

" صبرت و فی العین قذی و فی الحق شَجی[8] میں نے اس انسان کی طرح صبر کیا جس کی آنکھوں میں خار اور گلے میں ہڈی اٹکی ہوئی ہوں۔ لیکن  اس عرصے کے گذرجانے کے بعد  جب امام (ع) بر سر اقتدار آگئے تو  دوبارہ  الٰہی  نظام کو زندہ کر دیا۔

مجموعی طور پر حکومت علوی  ان بارزترین خصوصیات پر مشتمل تھی:

1۔ خدامحوری: امام علی(ع) حکومت کی بنیاد ہی خدامحور تھی، یعنی حکومت خود ہدف نہیں تھا بلکہ یہ احکام الٰہی کی اجرائی کے سلسلے میں ایک وسیلہ تھا۔ چنانچہ لوگوں کی بیعت کے بعد آپ (ع) نے ارشاد فرمایا:"‎ إِنِّی أُرِیدُکُمْ لِلَّهِ۔۔"[9] میں تم لوگوں کو دین خدا کے لئے چاہتا ہوں۔ امام(ع) ہر چیز  پر رضای خدا کو مقدم رکھتے تھے۔ ان کی حکومت کا محور دین ہوتا تھا نہ لوگ، بہ الفاظ دیگر نظام ولایت یا حکو مت دینی میں صرف کثرت انسان ملاک  نہیں ہوتا،  مطلق ڈیموکریسی جو آج کی دنیا میں خاص طور پر مغربی دنیا میں سب سے کامیاب نظام حکومت مانا جاتا ہے،اس قسم کی جمہوریت نظام مقدس ولایت میں قابل قبول نہیں ہے، اس نوعیت کی جمہوریت  کی اصلّیت کو شاعر مشرق زمین علامہ اقبال نے یوں بیان کیا ہے:"

"گريز از طرز جمهوري غلام پخته کاري شو  * که از مغز دو صد خر فکر انساني نمي آيد"

ہوشیار اور تجربہ کار انسان بن کے رہو اور ایسی جمہوریت[1] سے ہمیشہ بیزار رہو، چونکہ  اگر دوسو کی تعداد میں گدھوں کے دماغ کو جمع کیا جائے ، تب بھی ایک انسان کی فکر کے برابر نہیں ہوسکتی۔

 

  اگر چہ اس مقدس نظام میں بھی عوام کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاتا، بلکہ اس نظام کے متن میں لوگوں کی حاضری انتہا‏ی اہمیت کے حامل ہوتی ہے، ہاں البتہ باقی جمہوریت اور اس طرز حکومت میں فرق اتنا ضرور ہے؛  وہ یہ کہ  باقی جمہوری نظام میں قانون کی تصویب کا ملاک، لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے،  چاہے یہ قانون  دینی احکام کی منافی کیوں نہ ہو! لیکن نظام ولایت میں لوگ قانونی استصواب کا معیار نہیں ہوتا ، بلکہ لوگ خود اس نظام کو تشکیل دینے  والے ہوتےہیں، جس کے قانون اور دستورات خالق حقیقی کی طرف سے معین ہوتا ہے۔ حضرت امام خمینیؒ نے انقلاب کا نام "جمہوری اسلامی" اس لئے رکھا،  کیونکہ اس مقدس نظام میں لوگوں کا  رول سب سے نمایاں ہوتا ہے، اس اعتبار سے کہ قانون الٰہی کی بالادستی کو قوم کے فرد فرد نے دل وجان سے قبول کرلیا ہوتاہے، بہ الفاظ دیگر اس  نظام کے اندر  منشاء الٰھی اور منشاء انسان کے درمیان ڈیالیٹک تعلق ہوتا ہے، اور اسی بنیاد پر حکومت اسلامی وجود میں آتی ہے۔  اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت امامؒ نے قانون اساسی کی قبولی یا عدم قبولی کا اختیار لوگوں پر چھوڑتے ہوئے constitution کو  رفرنڈیم(Referendum)کی شکل میں عوام کے سامنے رکھا،  تو اٹھانوے فیصد سے زیادہ لوگوں نے اس  نظام ولایت فقیہ کے حق میں رائے دے دی۔ اس طرح سے حضرت امام(رح) کے نزدیک ڈیموکریسی کی تعریف  صرف لوگوں کی حکومت نہیں ہے،  بلکہ لوگوں پر اللہ کی حکومت کی معنی میں ہے، جس کو اصطلاح میں

"Democratic Theocracy" یعنی "دینی ہدایت یافتہ جمہوریت"  سے تعبیر کیا جاتا ہےجوکہ نظام حکومتی کا ایک جدید ماڈل ہے ۔لہذا نظام ولایت میں ہر شئ رضاء الٰہی پر جانچی جاتی ہے۔

 2۔ عدالت طلبی: امام علی(ع) کی حکومت میں عدالت حاکم تھی، جوکہ ہر خاص و عام کے زبان زد ہے، یہاں تک کہ دشمن بھی اس کا اعتراف  کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

      جناب  ابن عباسؓ فرماتے ہیں: ایک دن مجھے امام (ع) کے خیمے میں جانے کا اتفاق ہوا، میں نے دیکھا کہ امام(ع) اپنے پھٹے پرانے جوتے کو رفوگری کر رہے ہیں ،انہوں نے فرمایا:ابن عباسؓ! اس جوتے کی کیا قیمت  ہوگی؟ میں عرض کا:کچھ نہیں!  آپ(‏ع) نے فرمایا: میری نگاہ میں اس جوتے کی  قیمت ، تم پر حکومت کرنے سے زیادہ ہے، مگر یہ کہ اس حکومت کے ذریعہ عدالت قائم کرسکوں یا کسی ذی حق کو اس کا حق دلواؤں یا کسی باطل کو ریشہ کن کرسکوں۔[10]  اسی طرح لبنان کے ایک مسیحی دانشمند جارج جرداق نے اپنی کتاب  "الأمام علی علیه السلام صوت العداله الأنسانیه" نامی کتاب میں امام علی(ع) کو شہید راہ عدالت قرار دیا ہے۔(  قتل فی محرابه لعدالته) [11]۔

 نظام ولایت فقیہ میں بھی ہرشعبہ جات کے اندر عدالت کا لحاظ رکھا جاتا ہے، یہاں تک کہ خود ولی فقیہ کی بقاء بھی   عدالت پر ہی منحصر ہے۔

3۔ عوام پسندی اور سادہ  زیستی: حکومت علوی میں  رعایا کے ساتھ حسن رفتاری سے پیش آنا ایک اہم اصول تھا، امام علی(ع) کو  ہرگز کوئی ایسی خبر سنے کو گوارا نہیں تھا کہ ان کی  حکومت میں کسی کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے ، یا کسی حکومتی عہدے دار کی جانب سے ناشائستہ رفتار سرزد ہوجائے۔ امام(ع) نے جب  جناب مالک اشترؓ کو بصرہ کا گورنر معین کیا تو انہیں ایک اہم دستور العمل بھیجا،جس میں امام(ع) فرماتے ہیں:

"  رعایا کے ساتھ مہربانی اور خوش رفتاری  سے  پیش آنا اپنا  شیوہ بنالو ( حسن رفتار کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے جگہ بنالو) ایسا نہ ہو کہ تم لوگوں کے لئے درّندہ جانور بن کر ان کو طعمہ فرض کر کے   اپنے لئے غنیمت سمجھے، چونکہ عوام کی دو  قسمیں ہیں،  یا تمہارے دینی بھائی ہیں یا خلقت کے اعتیار سے  تمہاری مانند ہیں"۔[12]

  واضح رہے کہ امام(ع) کا یہ خط نہج البلاغہ کے اندر مفّصل ہے، اور یہ اس قدر جزّاب اور  حکمت آمیز ہے، جب اقوام متحدہ کے بڑے بڑے محققین نے  اس کا مطالعہ کیا تو سب حیرت میں پڑھ گئے اور اس خط سے متاثر ہوکر سنہ2004 میں اس کو اقوام متحدہ  کے انتہائی  اہم اسناد میں شامل کر دیا۔[13]  امام (ع) کی زندگی کی سادہ گی کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ امام(ع) نے  احنف بن قیس سے مخاطب ہوکر فرمایا: رہبران امت کی خوراک کو پوشاک معاشرے کے فقیرترین افراد کی مانند  اور زندگی  بھی ان کی طرح  کرنی چاہئے، تاکہ بے نوایان کیلئے نمونہ بن جائے اور فقیروں کو اپنی مشکلات سہنے میں آسانی ہوجائے۔[14]

    نظام ولایت فقیہ میں بھی ہمیں  ایسے بہت سارے نمونے دیکھنے کو  ملتے ہیں۔ چنانچہ حضرت امام خمینی(رہ) مختلف مناسبتوں کے موقع پر ان دو   اہم چیزوں (عوام پسندی اور سادہ گی) کی طرف  متذکر  ہوتے رہتے تھے،حضرت امامؒ ایک مقام پر جمہوری اسلامی کے آفیشلس سے مخاطب ہوکر   ان کو سادہ زیستی کی طرف  دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:" اگر جس دن حکومتی عہدداروں کا  رخ محلوں کی جانب ہوجائے  ، اس دن ملت اور حکومت دونوں  کا فاتحہ پڑھا جائےگا۔[15]  علاوہ بر این آج بھی رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت ا مام خامنہ ای(حفظ ا۔۔۔) ان دوچیزوں پر زیادہ اہمیت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ  جس زندان اور طاغوتی انٹراگیشن سنٹر(Interrogation center ) کے اندر رہبر معظم محبوس  ہوکر  قید کی صعوبتیں جیل  رہے تھے  ،اور جس قید خانے کے فرش پر بیٹھ کر آپ ستم شاہی کے ‌ ‌ظلم سہا کرتے تھے، اسی جنس کا  فرش آج   اس حسینیہ  میں بچھا یا گیا ہے جہاں رہبر معظم مہمانوں سے ملاقات اور خطاب فرماتے ہیں۔

4۔اللہ کی اطاعت اور طاغوت کی مخالفت:

    تبرّی اور تولّی دو ایسے  اہم  الفاظ ہیں جن کا شمار ہمارے  اصول دین میں  ہوتا ہے، یعنی جتنی اہمیت نماز، روزہ ،حج ، وغیرہ کی ہے، اتنی ہی اہمیت تولی اور تبرّی  کی ہے۔ ان سے مراد یہ ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے اعتبار سے اللہ، رسول(ص) اور ائمّہ معصومین(ع) سے قلبی دوستی رکھیں اور ان کے  دشمنوں سے دشمنی رکھیں۔ اللہ تبارک تعالی نے جتنے بھی انبیاء(ع) مبعوث کیے ہیں، ان تمام الہٰی نمایندوں کے اہداف اور  مقاصد   انہی دو کلمے میں خلاصہ ہوتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید میں ارشاد

فرماتاہے:" وَ لَقَدْ بَعَثْنا في کُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ"[16]

   ہم نے ہر امّت میں ایک رسول کو مبعوث کیا، تا کہ وہ  یہ اعلان کرے کہ  اللہ کی عبادت کریں  اور طاغوت سے  پرہیز کریں۔

 آیہ کریمہ  کے پس منظر  میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہرنظام  الٰہی کے مقابلے میں ایک باطل طاغوتی  نظام موجود تھا جو حق کی راہ میں روڈے اٹکا کر لوگوں کو انپی طرف جذب کرنے میں کوشاں رہتا تھا، جیسے حضرت آدم(ع) کے مقابل میں شیطان، ہابیل کے مقابل  میں قابل، موسی(ع) کے مقابلے میں فرعون، ابراہیم (ع) کے مقابلےمیں نمرود،عیسی(ع) کے مقابل میں قوم بنی اسرا‏ئیل  اور  رسول گرامی اسلام (ص)کے مقابل میں کفار قریش۔ سلسلہ اولیاء میں بھی ہمیں ایسے ہی نمونے نظر آتے ہیں جیسے نظام ولایت علی(ع) کے ضدّ میں بنی امیہّ نے قد علم کیا  اور باقی ائمّہ (ع) کے دور میں بنی  امیّہ اور بنی عباسی کے جابر حکمران وغیرہ۔ ان انبیاء اور اولیاء الٰہی نے  اپنے  اپنے  زمانے کے طاغوتی سلاطین سے  مختلف شکل میں مقابلے یا مبارزے کرتے رہے یہاں تک کہ غیبت کبرا کا زمانہ آگیا  اور نظام ولایت علی(ع) کے بعد   ایک لمبا عرصہ گزر جانے کے بعد حضرت امام خمینی(رہ) نے نظام ولایت علی(ع) کو نظام ولایت فقیہ کے روپ میں  احیا کیا اور اپنی قوم اور تمام مسلمانوں کو  مذکورہ  دو اہم  وظائف " اللہ کی بندگی اور طاغوت زمان سے اجتناب" کی طرف دعوت دی۔  اب اس  صدی کے اندر طاغوتی نظام مختلف شکل و صورت میں جیسے  امپریلیزم ، ا ستکباریت ، استعماریت اور صہیونیت کی شکل میں ابھر کر سامنے آگیا ہے اور  نظام ولایت فقیہ کو نابود کرنے کی غرض سے  منظم ہوکر کام کررہا ہے۔

چونکہ یہ نظام، نظام ولایت علی(ع) کا تسلسل ہے،  لہذا  اس کے اصول اور قوانین بھی  قران و سنت  کے مطابق وضع کیے گئے ہیں، لہذا طاغوت زمان کے سامنے تسلیم نہ ہونا، ظالم سے بغاوت اور مظلوم کی حمایت کرنا، اس مقدس نظام کے اہم  اصولوں میں شمار ہوتاہے، مولای کائنات کا فرمان ہے" کونا لظالم  خصما و للمظلوم عونا"[17]س نظام  کا  الگو اور نمونہ  حکومت امیر المؤمنین(ع) ہے،  لہذا اطاعت الٰہی اور  طاغوت زمان سے نبردازما ہونا اس  مقدس نظام کی اہم خصوصیات میں سے ہے۔

استقامت اور پائداری

      جن لوگوں نے  اللہ، رسول(ص) اور صاحبان امر کی ولایت کو  قبول کیا ہو،  نیز انہی کے  تسلسل یعنی ولایت فقیہ کے پرچم تلے  زندگی گزارنے  کا عزم و ارادہ کیا ہو، ان لوگوں کے وجود میں صبر و استقامت کا  ملکہ موجود ہوتا ہے، زمانہ جتنا بھی ان پر فشار ڈالے، لیکن  یہ لوگ ہرگز حق سے دستبردار نہیں ہوتے، اپنی  سرپرست  اور  امام کو کبھی تنہا نہیں چھوڈتے، دشمن کے سبز باغ کے فریفتہ نہیں ہوتے،  اور نہ ہی   طاغوتی قوتوں کی دھمکیوں اور للکاروں  سے یہ لوگ  مرغوب ہوتے  ہیں۔ جب ہم تاریخی اوراق پلٹاکر   ملاحظہ کرتے ہیں تو  ان کے بہت سارے نمونے مل جاتے ہیں۔ جیسے اصحاب کھف،حضرت طالوت  کے لشکر  میں سے ایک قلیل جماعت ، قرآن جن کو(" كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإذْنِ اللَّهِ” [18]سے یاد کرتا ہے) حضرت عیسی(ع) کے حواریین،  رسول  خدا (ص)کے بعض اصحاب، امیر المؤمنین علی(ع)  مختصر اصحاب اور  امام حسین(ع) کے با وفا اصحاب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس گروہ کے مقابلے میں کچھ ایسے لوگ بھی دیکھنے کو  ملتے ہیں ، جن میں ذرہ برابر استقامت اور جوانمردی پائی نہیں جاتی، ان کا ایمان سست اور کمزور ہوتا ہے، اسی وجہ سے  دشمن کی جال میں بڑی آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔      تاریخ میں اس قسم کے  لوگوں کے  نمونے کم نہیں ہیں، جیسے، اصحاب اخدود، نمرود اور فرعون کے   زمانے میں  موجود فریب خوردہ  افراد،  منافقین کی جماعت جو مدینہ میں رہائش پزیر تھے، بنی امیہ اور بنی  عباس  کے زمانے موجود نام نہاد مسلمان وغیرہ۔ ان سب میں سے  نہضت عاشورا میں جن لوگون نے امام حسین(‏ع) کو دھوکہ دیکر کربلا میں محاصرہ کروایا،  اور بعد میں حادثہ کربلا وجود میں آگیا، ان کے کارنامے تاریخ میں سب سے سیاہ ترین اور نفرت آمیز  نمونے ہیں، چونکہ ان لوگوں نے پہلے اپنی وفاداری کا مختلف طریقے سے اعلان کیا تھا لیکن بعد میں اپنی بی بصیرتی  کی وجہ سے گمراہ ہوگئے، انہوں نے پہلے امام حسین(ع) ایلچی کی بیعت کی؛ اور بعد میں بیعت شکنی کی، در اصل کوفہ میں حضرت مسلم کی آمد ان کے لئے ایک بہت بڑی آزمائش تھی اس اعتبار سے کہ ان میں کس حد تک استقامت اور پائداری پائی جاتی ہے،لیکن اس تاریخ سا‌ز امتحان میں یہ لوگ ناکام رہے، اس ناکامی صرف ایک علت تھی وہ  تھی فقدان استقامت ، یعنی انہوں نے امام زمان کے نائب  کی ارزش کو نہیں سمجھا، جبکہ کوفے میں جناب مسلم(ع)،  امام حسین (ع) بن کر آئے تھے،ان کی اطاعت گویا امام(ع) کی اطاعت تھی۔

    یہی مثال آج بھی  ہوسکتی ہے،  ولایت فقیہ جو کہ امام زمانہ(عج) کا نائب عام کی حیثیت رکھتا ہے، اگر  کوئی ان   کی اطاعت کرنا خود پر فرض نہ سمجھے تو بعید ہے کہ کل امام زمانہ(عج) کی اطاعت  کرنے کی اسّے توفیق  نصیب ہوجائے، چونکہ جب انسان اس  شخصّیت کی معرفت  حاصل نہ کرے، جس کی اطاعت کرنا خود امام معصوم(ع) نے  واجب قرار دےدیا ہو، تو جب امام (ع) بنفس نفیس لوگوں کے درمیان  حاضر ہوجائے،  تو ایک دم سے ان کے  حکم پر لبیک کہنا ایک مشکل کام ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے امام معصوم(ع) کی غیبت میں ان کے نائب کی اس طرح اطاعت کریں، گویا ان کا حکم امام زمانہ(عج) کا حکم ہے، ان کے لئے کل امام زمانہ(عج) کے  ہر حکم کو عملانا آسان ہوگا،  چونکہ انہوں نے  پہلےسے ہی اپنے اندر اس آمادگی کو تیار کر رکھا ہوتا ہے۔  ان سعادتمند لوگوں کے زمرے میں سب سے پہلے مرحلے پر  ایرانی  غیور اور بابصیرت قوم آجاتی ہے، کیونکہ  اس قوم نے اپنے  زمانے کے نائب امام کی اس قدر حمایت کی،  کہ ان سے قبل کسی قوم نے  ایک امام معصوم کی حمایت نہیں کی تھی۔  جمہوری اسلامی ایران کےمعروف اسٹرا ٹریجسٹ(Strategist) ڈاکٹر حسن عباسی کے بقول، جس  کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے  ایرانی قوم نے حضرت امام خمینی(رہ) کی حمایت کی، اس نوعیت کی حمایت تاریخ میں کسی نبی یا امام کو حاصل نہیں تھی! اور حقیقت بھی یہی ہے چونکہ لوگوں کی عدم  طرفداری کے سبب جو کا م امام معصوم کے لئے میسر نہیں ہوا ، اس کام کو  ایرانی قوم نے  اپنے رہبر کے لئے   ممکن بنا کر   نظام ولایت علی(ع) کے خاتمے کا ایک لمّا عرصہ بیت جانے کے  بعد ،  پہلی دفعہ سرزمین ایران میں نظام ولایت فقیہ کو احیاء کر دیا۔

      عصر حاضر میں اگر کسی قوم نے اپنی دینی قیادت کے سلسلے میں بے پناہ قربانیاں دی ہے، تو وہ صرف ایرانی قوم ہے، اس قوم نے نہضت خمینی(رہ) کو  پروان چڑانے اور اس کی بقاء کے سلسلے میں بے  مثال استقامت کا جوہر دیکھایا  ؛  اور آج بھی دشمن کے مقابلے میں مقاومت کررہی ہے،  یہ ولایت مدار قوم،  نہ صرف خود  مقاومت کر رہی ہے بلکہ  پوری دنیا کے مستضعفین کو  مقاومت کا درس بھی  دے رہی ہے، فلسطین، شام،  لبنان ،عراق،بحرین اور  یمن سمیت دنیا کے مختلف گوشہ و کنار میں جو لوگ استکبار اور استعماری قوّتوں کے مقابلے میں ڑٹ کر مقاومت  کررہے ہیں، ان تمام لوگوں نے ایرانی انقلابی قوم سے  درس حاصل کرکے  اپنی مشن کو شدومت سے آگے لے جارہے ہیں ۔

     حضرت امام خمینی(رہ) نے قرن اخیر میں جس عظیم انقلاب کو پائدار  کرکے، پوری ہستی کے اندر مختلف  فیلڈ میں تحوّل اور تجدّد  ایجاد کرادیا ،  اسی طرح آج رہبر معظم حضرت امام خامنہ ای(حفظہ اللہ) کے ہاتھ میں جو قیادت اور اقتدار ہے، جس اقتدار نے استکبار عالم کی نیدیں حرام کررکھی ہے، ان سب کی علت ایک چیز ہے ، وہ ہے ایرانی مؤمن قوم کی استقامت،اگر جو دباؤ اور  طرح طرح کے دشمن کی ایجاد کردہ مشکلات، کسی دوسری قوم کے اوپر ہوتی، تو ایک دن بھی استقامت کا مظاہرہ نہ کرپاتی۔ یہی وجہ ہے کہ امام معصوم(ع) نے اس قوم کی تمجید و تعریف فرمائی ہے، چنانچہ امام موسی کاظم (ع)سے مروی ہے:

"وَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عِیسَى عَنْ أَیُّوبَ بْنِ یَحْیَى الْجَنْدَلِ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ الْأَوَّلِ ع قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ قُمَّ یَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْحَقِّ یَجْتَمِعُ مَعَهُ قَوْمٌ کَزُبَرِ الْحَدِیدِ لَا تُزِلُّهُمُ الرِّیَاحُ الْعَوَاصِفُ وَ لَا یَمَلُّونَ مِنَ الْحَرَبِ وَ لَا یَجْبُنُونَ وَ عَلَى اللَّهِ یَتَوَکَّلُونَ وَ الْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ‏"[19]

 اہل قم میں سے ایک شخص، لوگوں کو حق کی طرف دعوت دے گا۔ ایک ایسی قوم(جماعت) اس کی ہمراہی کرے گی،جو لوہے کے ٹکڑوں کی مانند ہوگی،ہواوں کی جھونکیاں ان کے قدموں کو نہیں ہلا سکے گی، نہ ان کوجنگ (دفاع) سے کوئی خوف ہوگا، اور نہ ہی اس سے انہیں تھکاوٹ ہوگی،  اور خدا پر توکل رکھنے والی قوم ہوگی۔

    یاد رہے کہ اس حدیث میں جو عنوان آیاہے وہ "سرزمین قم سے ایک شخص" کی عبارت  کے ساتھ آیا ہے،کسی مخصوص شخصیت کا نام ذکر نہیں ہواہے۔ لیکن اس توجہ کے ساتھ کہ جمہوری اسلامی ایران کے عظیم انقلاب کا آغاز" سرزمیں مقدّس قم" سےحضرت امام خمینی(رہ) کی حکیمانہ قیادت میں ہواتھا، لہذا بعض دانشمندوں نے اس حدیث کو حضرت امام(رہ) پر تطبیق دی ہے۔

 

 

 

 

*نظام ولایت علی(ع) اور نظام ولایت فقیہ کے  ممکنہ خطرات( در پیش چلینجز)*

*الف؛ دنیا پرستی

   قرآن مجید کلی طور پر انسان کو دو  گروہ میں تقسیم کر رہا ہے، ایک گروہ جو  اہل دنیا ہے اور دوسرا  اہل آخرت؛

"مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ"[20] تم میں سے بعض دنیا کو چاہتے ہیں اور بعض آخرت کو۔ مفسرین نے اس آیہ شریفہ کی شان نزول کو‎ غزوہ  احد قرار دے دیا ہے۔[21]  آیت مجیدہ میں اہل آخرت سے مراد  وہ  مجاہدین اسلام ہیں جنہوں نے رسول اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے، جنگی محاز پر ڈٹے رہے اور اسلام کی بقاء اور وقار کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے سلسلے میں کوتاہی نہیں کی، بلکہ  راہ خدامیں شہید ہونا اپنے لئے باعث افتخار سمجھتے تھے۔ دوسری جانب ایک گروہ جو مال دنیا کی لالچی اور دنیاپرستی میں غرق تھے، انہوں نے حکم پیامبر (ص) سے عدول کرتے ہوئے  پہاڑی سےمورچے  خالی کر کے مال غنیمت کی چکر میں نیچے اتر آئے۔ واضح رہے کہ  انہی دنیا پرست جماعت کی کوتاہیوں کی  وجہ سے تاریخ اسلام میں پہلی مرتبہ مسلمانوں کی جیتی ہوئی جنگ ہ شکست میں تبدیل ہوگئی۔

        جس قوم کے دلوں میں  صرف دنیا ہو یا  دنیا کو  اپنی زندگی کا ہدف  فرض کرتی ہو، وہ  قوم  ہرگز   نہ  الٰہی مشن میں کامیاب نہیں ہوسکتی اور نہ   حق کے طرفدار بن سکتی۔ جب  ہم تاریخی اوراق میں جھانگ کردیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے ،  جن لوگوں نے رسول اللہ(ص)  کی وصیت کا مذاق اڈاتے ہوئے خلافت کو اس کی اصلی اور طبیعی راستے سے منحرف کیا اور حضور(ص) کے جانشین برحق کو پچیس سال  خانہ نشینی پر مجبور کیا، اس  کی علت بھی  ان کی دنیادوستی اور دنیا پرستی تھی، یعنی دنیا کی چند روزہ  رفاہ اور مال ومنصب کی خاطر حق کو چھوڑ کر باطل کی دامن پکڑنے لگے۔

 

 

 

   امیر امؤمنین(ع) نہج البلاغہ کے اندر مختلف مقامات پر دنیا پرستی کی  مزمت کی ہے، چنانچہ ایک مقام پر  دنیا پرست لوگوں کو  بھونگتے ہوئے درنّدے کتوں سے تشبیہ کی ہے:

"۔۔۔ فَإِنَّمَا أَهْلُهَا كِلَابٌ عَاوِيَةٌ وَ سِبَاعٌ ضَارِيَةٌ، يَهِرُّ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ وَ يَأْكُلُ عَزِيزُهَا ذَلِيلَهَا وَ يَقْهَرُ كَبِيرُهَا صَغِيرَهَا...[22]

  بے شک دنیا پرستان  ان  درّندہ کتوں کی مانند ہیں جو بھونگتے ہوئے طعمے کی تلاش میں  ادھر اُدھر دوڈتے ہیں تاکہ اسے چیر پھاڑ کے رکھ دیں، اور  ان میں سے جو چاق وچوبند ہیں وہ ضعیفوں کو کھا جاتے  ہیں، اور  جو بڑے ہیں وہ  چھوٹوں کو کھا جاتے ہیں۔

      امام(ع)  اپنے  اس نورانی کلام  میں  علم جامعہ شناسی(Sociology)  کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے، سماج کے اس طبقے  کے خلق خو  کو ترسیم  فرما رہے ہیں جو صرف  مال و دولت کمانے کے صدد میں رہتے ہیں، ان کا  مقصد ثروت اندوزی اور  نام کمانا ہوتا ہے۔  ان مقاصد کو حاصل کرنے کےسلسلے میں جو بھی کرنا پڑھے کر لیتے ہیں، دوسروں کے حقوق کی پائمالی، سماج کے مفلوک الحال اور کمزور طبقوں کے ساتھ ظالمانہ رویوں کا اختیار کرنا وغیرہ،  ان کے اصول ہوتے ہیں۔ درو اقع امیرالمؤمنین علی(ع) نہ صرف اپنے زمانے کی  سماجی نقائص اور مشکلات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں، بلکہ امام(ع) ہر عصر اور زمانے کی حالات  کے نبض پر ہاتھ رکھ کر اس کے متعلق ایک مسلم   واقعیت کو بیان  فرما رہے ہیں۔ یہ صورت حال آج کی دنیا میں بڑی شدت و  حدّت کے ساتھ نہ صرف جاری  ہے بلکہ روزبروز اس میں اضافہ ہوتےہوےنظر آرہے ہیں۔ آج عالمی استکبار اور  سامراجی قوّتوں کا یہی طریقہ کار ہے،  یہ عالمی سامراجی قوتیں ایک منظم اور  ہدف مند طریقے سے  دنیا کے کمزور اور  اسلامی ممالک کی خداداد ثروتوں کو تاراج کررہے ہیں، اگر غور سے دیکھا جائے تو  ایسا کرنا  ان ستمگروں کےعقیدے میں   شامل ہے،  انہوں نے یہ آیڈیولوجی قدیم یونان کی فسطائیّت اور  مغرب زمین سے تعلق رکھنے والے  فلاسفر،" نیچہ اورمیکیا ول" سے لیا ہے ، ان کے نظریے کی بنیاد ہی ظلم اور بربریت پر تھی،  ان کا کہنا ہے  کہ" ہدف وسیلے کو  توجیہ کرتا ہے" یعنی  مطلوبہ ہدف  تک رسائی کے سلسلے میں جوبھی کا م کرنا پڑے،  وہ سب جائز ہیں،یہی وجہ ہے کہ ان مستکبرین جہان نے اپنے مزموم اہداف کے حاصل کرنے کے سلسلے میں کسی پر بھی رحم نہیں کرتے، اگر   دنیا کے کسی بھی کونے میں ان کو اپنا منافع نظر آجائے، تو فورا  اس پر حملہ کر دیتے ہیں، اور لاکھوں بی گناہوں کو موت کی ابدی نید سلاتے ہیں، جیسے جاپان، ویدنام، بوسنی،  کیوبا، عراق، افغانستان، شام اور یمن میں اب تک لاکھوں نہتے عوام  کو   بے رحمانہ طور پر موت کی گھاٹ اتار دئے ہیں،  ان کی بربریت اور غیر انسانی  حرکات کو دیکھ کر رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت  امام خامنہ ای نے ان کو  "جدید جاہلّیت"(Modern Barbarism )  نام رکھا ہے۔

    لہذا  نظام ولایت  کا ایک اہم  چلیج  اور خطرہ  ان دنیا پرست افراد سے ہے،نظام ولایت علی(ع) کو ختم کرنے کے سلسلے میں  ان عناصر کا ہاتھ نمایان نظر آتے ہیں، یہی ماجرا نہضت عاشورا میں بھی بخوبی قابل ملاحظہ ہے، چونکہ جن لوگوں نے امام حسین(ع)کے مقدس لہو میں ہاتھ لگایا، در اصل وہ اسیر دنیا تھے،لہذا یہ لوگ ایک طرف سے روتے بھی تھے،  دوسری طرف سے  امام عالی مقام(ع) سے جنگ بھی لڑتے تھے۔ نظام ولایت فقیہ کو بھی  اسی طبقے سے زیادہ  خطرہ لاحق ہے، اسی وجہ سے حضرت امام خمینی(رہ) ایرانی قوم کو اشرافیت آمیز زندگی سے برحزر رکھتے تھے۔

*ب؛ ولایت اللہ کی قدر ناشناسی اور دشمن کے سبز باغ کا فریفتہ ہونا۔

   ولایت کا سلیس  ترجمہ اور معنی سرپرستی کے  ہیں، سرپرستی یعنی ہماری جان، مال ، ناموس اور عزت ، سب اُس سرپرست کے حوالے ہیں ۔ تو قرآن میں ایک ولایت اللہ کا تذکرہ ہےاور ایک ولایتِ طاغوت کا۔  مجموعی طور پر دو ولایتوں کا تذکرہ آیا ہے ،جیسا کہ اس آیت میں رب العالمین اشاد فرمارہا ہے ،" اللہ ولیُّ الذین آمنوا"۔ جو صاحب ایمان ہیں ، جو مؤمن ہیں اُن کا ولی اللہ ہے  کیونکہ اُنہوں نے اللہ کی ولایت کو قبول کرلیا ہے۔  اب اُس کے مقابلہ میں کافر ہے ،" والَّذین کفروا اولیآئھم الطاغوت "، اور جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے ،اُن کا سرپرست اور ولی طاغوت ہے ۔ یعنی مراد یہ ہے کہ مؤمنین نے اللہ کو اپنا سرپرست بنایا ہے  اور کفار نے طاغوت کو اپنا سرپرست بنایا ہے ۔ مجموعی طور پر دو ولایتوں کا تذکرہ ہے ، ایک ولایتِ اللہ ، اور ایک ولایتِ طاغوت ۔
   
وہ لوگ  جنہوں نے اللہ کو اپنا ولی قرار دیا ہے، تو اللہ ان کو  ظلمت  اور  تاریکی  سے نکال کر ہدایت  اور نور کے شاہراہ پر گامزن کر دیتا ہے:"اللہ ولی الذین آمنوا یخرجھم من الظلمٰات الی النور"لیکن جنہوں نے شیطان کو ، طاغوت کو ، نظام فسق و فجور کو اپنا سرپرست بنایا ہے ، جو لوگ کافر ہوچکے ہیں ، خدا کےمنکر ہوچکے ہیں  اُن کے اولیاء طاغوت ہیں ۔ جو اُنھیں نور سے نکال کر ظلمات اور گمراہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں ، ہدایت سے نکال کر گمراہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں: "والَّذین کفروا اولیآئھم الطاغوت یخرجھم من النور الی الظلمٰات "۔[23]

 بہرحال یہ بات طے شدہ ہے کہ جن لوگوں نے  ولایت الٰہی  کو ٹھکرا کر  ولایت طاغوت کے اندر زندگی گذار نے کو ترجیح  دی ہیں،  گویا انہوں نے  اپنی بربادی اور ہلاکت کا ذریعہ خود  اپنے ہاتھوں سے مہیا کیا ہے، چونکہ انسان جب  اللہ کی سرپرستی کو چھوڑدیتا ہے تو  خود بخود شیطان کی گرفت میں پھنس جاتا ہے،لہذا  اس کیلئے نجات کا  کوئی راستہ نہیں بچتا۔ یہی وجہ ہے کہ جتنے بھی اللہ کے رسول آیے، ان سب کا ہدف یہ تھا کہ انسان  پر  اللہ کی سرپرستی کا سایہ  دائم ،  اور  طاغوت کے تسلط سے بچاکر رکھیں۔ 
"و لقد بعثنا فی کل امۃٍ و رسولاً انِ اعبدوا اللہ واجتبوا الطاغوت"[24]

         حضرت آدم(ع) سے لیکر پیامبرگرامی اسلام(ص) کے دور تک تمام انبیاء(ع) کے  الہی نظام کے مقابلے میں زمانے  کے طاغوتی قوتوں نے مختلف شکل و شمائل میں آکر   مزاحمت اور قد علم کیا،  ان طاغوتی مزاحمت کاروں کو تب تک کوئی خواطرخواہ  کامیابی حاصل نہیں ہوئی ، جب تک انہی انبیاء الہی کے پیروکاروں میں سے کمزور  ایمان والے اور   فریب خوردہ  افراد نے ان کے ساتھ نہ دئے ہوں، یہی وجہ ہے کہ  رسول اللہ(ص) کو جتنا  خطرہ  منافقین سے تھا ، اتنا  غیروں سے نہیں تھا، اور   اسی طرح اسلام کو سب سے زیادہ نقصان منافقوں سے پہنچا۔ یاد دہے کہ قرآن مجید میں ایک مکمل سورہ  "سورہ منافقین" کے نام سے آیا ہے، جس میں اللہ نے ان کی تمام خصوصیات کو بیان فرمایا ہے۔  منافقین در اصل وہی لوگ تھے جو بظاہر مسلمان تھے لیکن باطنا  طاغوت  اور کفّارکے آلہ کار تھے۔ دوسرے الفاظ میں ، منافقین سے مراد وہی عناصر ہیں جنہوں نے    ولایت اللہ اور رسول(ص) کو نظر انداز کرکے طاغوت کی سرپرستی کو اپنایا ہے، طاغوت سے مراد کفار ، مشرکین اور ہرزمانے کے استکباری  نظام ہیں، جو بشریت کے وجود سے ہی آغاز ہوا تھا اور جب تک بشر ہے تب تک جاری رہے گا۔

     قرآن مجید  سخت لہجے میں مؤمنین کو  طاغوت پرستی سے  دوری اختیار کرنے کے حوالے سے خبردار اورمتنبہ  کررہا ہے:

"لن يجعل الله للكافرين علي المؤمنین سبيلا" [25] خداوند نے ہرگز مؤمنین پر کافروں کا تسلّط قرار نہیں دیا ہے۔

    لیکن قرآن  کی  ہدایت  اور روشنگری کے باوجود ،   اّمت نے اپنی حقیقت اور دینی تعلیمات  کو بھلا کر طاغوتیت اور کفّار کو اپنا سرپرست بنا کر ذلّت کی راہ اپنالی۔ یہی وبہ تھی کہ  رسول خدا(ص) کی رحلت ہوتے ہی اکثریت نے انحراف کا راستہ اپنالیا اور  یہی سے ہی نظام ولایت کے مقابل محاز کھل گیا،   اور ایک اسلام نما جماعت نے خود سے  ایک انحرافی دین" اسلام بنی امیہ" کے نام سے وجود میں لاکر اسلام ناب محمدی کے خلاف بغاوت کی، اور انہی جماعت کی کارستانیوں کا نتیجہ تھا کہ نظام ولایت علی(ع) فقط چار سال اور نو ماہ تک محدور رہا۔

     واضح رہے کہ نظام ولایت علی(ع) کو   یہودیوں اور عیسائیوں نے ساقط نہیں کیا تھا، (اگرچہ بعید نہیں ہے کہ  اس جعلی اسلام کے وجود میں لانے  کے سلسلے میں ان کے بھی ہاتھ ہوں)، بلکہ کلمہ پڑھنے   والوں نے ہی ساقط کیا۔ تب سے کسی بھی امام معصوم(ع) کو دوبارہ اس  مقدس نظام کو احیاء کرنے کا موقع  فراہم نہیں ہوا ،  اور نہ   ہی طاغوتی حکمرانوں نے انہیں اس سلسلے میں فعّالیت کرنے کی اجات دی ، اور نہ ان   بزرگواروں کے پاس اس قدر  یاور موجود تھے جن کی مدد سے حکومت بنایا جاسکے۔ حضرت امام صادق(ع) کے پاس شاگرو تو بڑی تعداد میں موجود تھے، یہاں تک کی ان کی تعداد چارہزار تک ذکر  کی گئی ہے، لیکن ان کے پاس بھی مخلص اصحاب اور یاور کی کمی تھی،تا  کہ  طاغوتی حکمرانی کے خلاف ڑٹ جائے۔

 موضوع کی مزید  وضاحت کی خاطر ہم یہاں پر خود امام(ع) کی ایک گفتگو کو نقل کردیتے ہیں:

    سدیر صیرفی نامی شخص نقل کرتا ہے کہ میں  امام صادق(ع) کی  خدمت میں مشرف ہوا، میں نے امام (ع) سے عرض کیا : خداکی قسم یہ روا نہیں ہے کہ آپ(ع) قیام کرنے کے بجائے گھر میں بیٹھے رہیں ! امام(‏ع) سے فرمایا:کیوں؟

میں عرض کیا: اس لئے کہ آپ(ع) کے اصحاب ، اعوان کی تعداد اتنی  زیادہ ہیں کہ اگر امیر المؤمنین علی(ع) کے پاس اتنی تعداد میں یاور ت اور حامی ہوتے تو  " قبیلہ تیم اور عدی"( خلیفہ اول اور دوم کے قبیلے) ہر گز ان کے قریب آنے  کی جرئت نہ کرتے۔

 امام(ع) نے فرمایا: آپ کے حساب سے ہمارے چاہنے والے یاوروں کی کتنی تعداد ہیں؟

 عرض کیا: ایک لاکھ۔ حضرت(ع) نے فرمایا: ایک لاکھ؟! میں عرض کیا: جی ہاں؛  بلکہ ان کی تعداد دولاکھ ہیں۔ حضرت نے پھر سے فرمایا: دولاکھ؟! میں عرض کیا: جی ہاں؛ بلکہ دنیا کی نصف آبادی آپ(ع) کے یاور  و مددگار ہیں۔

     یہ سن کر امام(ع)  نے چند لمحہ سکوت اختیار کرنے کے بعد فرمایا: ہمارے ساتھ مقام ینبع تک چلو۔ امام(ع) نے مجھے ایسی سرزمین پر لے چلے جس کی مٹی کا رنگ سرخ تھا، اور  ایک نوجوان چرہاوا پنے مویشیوں کو چروا رہا تھا۔ امام(ع) نے اس کی طرف ایک نگاہ کی اور میری طرف رخ کرکے فرمایا: ای سدیر! خدا کی قسم اگر ان مویشیوں کی تعداد میں میرے شیعہ اور یاور ہوتے ، تو ایک لمحہ بھی حکومت ‌ظلم و جور کے خلاف قیام کرکے اپنے حق  کو حاصل کرنے کے سلسلے میں کوتاہی نہ کرتا!

اس کے بعد ہم اپنے سواریوں سے اتر کر نماز پڑھ لی ، نماز سے فارغ ہونے کے بعد جب میں نے ان  جانوروں کو گن کر دیکھا  تو ان کی تعداد صرف سترہ تھی۔[26]

  معلوم ہوتا ہے کہ  ہمارے چھٹے امام(ع) کے پاس شاگرد تو  تھا ، لیکن  حقیقی  حامی  نہیں تھا،  لہذ طاغوت زمان  کے مقابلے میں قیام کرنے کا زمینہ فراہم  نہیں ہوا اور ناگزیر خاموش رہنا پڑا۔

 *ج؛حقیقت اسلام سےغفلت شکاری

     نظام ولایت کو  ختم کرنے کے سلسلے میں دشمن کی  مزموم سازشوں میں سے ایک، ولایت مدار افراد اور  خاص کر سماج کے نوجوانوں کو  فریب  دیکر اپنے جال میں پھنسا دینا  ہوتاہے۔ اس  حربے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سب سے پہلے کوئی ایسا کام انجام دیتا ہے جو بظاہر   قوم اور  نوجوان طبقے کے نفع میں نظرآتا ہے، لیکن در اصل یہ ایک شیطانی جال  ہوا کرتا ہے ،  اگر اس میں ایک مرتبہ پھنس جائے تو اس سے باہر نکل آ نا آسان نہیں ہوتا، ایک ایسا خطرناک جان لیوا بھنور  ہوتا ہے ،جس میں  غرق ہونے  سے بچ جانا نہایت  مشکل ہوتا ہے۔ چاہے  نظام ولایت علی(ع) کو  زک پہنچانے کی بات ہو یا نظام ولایت فقیہ کو  متضرر کرنے کی بات، دشمن نے ہمیشہ اس  روش  کو کام میں لاکر  یا  اسےتجربہ کرکے   کچھ حد تک کامیابی حاصل کی ہے، مثال کے طور پر  بنی امیہ نے نظام  ولایت علی(ع) کو گرانے کیلئے  قرآن کے مصحف کو  نیزوں کی انیوں پر بلند کرا کے  کہا کہ ہم قرآن کے فیصلے پر تسلیم ہیں اور اسی  طرز پر خوارج نے  "لا حکم الا للہ"  کا نعرہ لگا یا یعنی  اللہ کے سوا کسی کو حکومت کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ دونوں کام  بظاہر اسلامی، خدا پسند اور منطقی لگ رہے ہیں، لیکن باطنی طور پر  طاغوتی حکمرانوں کا  ایک مؤثر ترین حربہ شمار ہوتا تھا، ان کے ‌ ظاہر کے دیکھ کر  بہت سارے لوگوں نے امیر المؤمنین(ع) کو چھوڑ کر  طاغوتی جرگے کے اندر چلے گئے اور اس سے بھی آگے نکل کر  خود کو مسلمان اور علی(ع) کو کافر سمجھنے لگے۔ امیر المؤمنین(ع) نے ان کو دشمن کی چال سے آگاہ فرماتے رہے، چنانچہ مولای کائنات(ع) نہج البلاغہ کے اندر فرماتے ہیں:
"كَلِمَةُ حَقٍّ يُرَادُ بِهَا بَاطِلٌ نَعَمْ إِنَّهُ لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ وَ لَكِنَّ هَؤُلَاءِ يَقُولُونَ لَا إِمْرَةَ إِلَّا لِلَّهِ وَ إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَمِيرٍ بَرٍّ أَوْ فَاجِر۔۔۔"[27]

     " ان کی گفتار، حق ہے، لیکن اسے باطل ارادہ کیا گیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں، لیکن ان لوگوں کا کہنا ہے حکمران اللہ کے علاوہ کوئی نہیں ہے، در حالیکہ لوگوں کے لئے ایک حکمران کا ہونا ضروری ہے، چاہے وہ نیک ہو یا بدکار"۔۔۔
    اس  ‌طرح سے اسلام ناب کے مقابل میں، اسلام بنی امیہ  وجود میں آگیا جو اسلام کے ہی لبادے اوڑھ کر حقیقت اسلام کے ریشے کو تیشے کے ذریعے  کاٹ  رہا تھا، لیکن لوگ ان کی کالی کرتوتوں سے غافل تھے،  اور انہی غفلتوں کے نتیجے میں کربلا کی المناک ٹریجڈی وجود میں آگئی۔

    بنی امیہ کی سب سے  بڑی چال یہ تھی کہ   وہ  لوگوں کو  صرف  اللہ کی عبادت اور  نیک کام انجام دینے کی تشویق کرتا تھا،  تبرّی کے عنصر کو کم رنگ کراکے تولّی کے عنصر کی طرف زیادہ توجہ مبزول  کرانے لگا۔نتیجہ کے طور پر لوگ خشک مقدسی میں مبتلا ہوگئے، اور بنی امیہ کو ہی اسلام کا حقیقی نمایندہ سمجھنے لگے۔

   حضرت امام صادق(ع)  بنی امیہ کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:

"انّ بنی‌امیّة اطلقوا تعلیم الایمان، و لم یطلقوا تعلیم الکفر، لکی اذا حملوهم علیه لم یعرفوه"[28]

بنی امیہ نے لوگون کو ایمان کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت  تو دےدی، لیکن کفر اور فسق کے بارے میں جانّے کی اجازت نہیں دی،  اس لئے کہ اگر لوگوں کو شرک اور کفر میں میں مبتلا کردیں تو نہ پہچان پائے۔

   بنی امیہ  تدریجاْ غیر ملموس  طریقے سے مسلمانوں کو حقیقت اسلام سے دور کررہا تھا، اسی وجہ سے  شرک اور کفر کے بارے  میں جانکاری حاصل کرنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی،  تاکہ اگر خود فسق وفجور میں ڈوب جائے تو کوئی ان پر اعتراض نہ کرسکے اور لوگ انہی کفرآمیز  حرکات کو دستورات اسلامی سمجھ کر خاموش رہیں۔

   اگر ہم تاریخی حوادث کی طرف دقّت کے ساتھ ملاحظہ کرتے ہیں، تو    معلوم ہوتاہے کہ دشمنان اسلام نے  نظام ولایت علی(ع) کو  ختم کرنے کیلئے  اسلام ہی کو  ابزار بنایا اور  نرم جنگ(Soft war) کے ذریعے اس مقدس نظام حکومت کو  ختم کردیا۔

       کل اگر اسلام بنی امیہ،  اسلام ناب محمدی کے  ليے ناسور بن کر ابھر آیا تھا ،تو آج اسلام   تکفیری، اسلام وہابی،  سیکیولر اسلام اور   برتا نیایی تشیّع،خالص  اسلام محمّدی  کے دشمن بن کے سامنے آیے ہیں  ۔ کل اگر طاغوتی نظام اپنے لئے حقیقی اسلام کو سب سے بڑا خطرہ سمجھ کر اس کو  راستے سے ہٹانے کے سلسلے میں کسی بھی قسم کے حربے استعمال کرنے سے  باز نہ آجاتا تھا، تو   آج کے طاغوتی  نظام بھی یعنی عالمی استکبار، صہیونیزم اور آل سعود، نظام ولایت فقیہ کو سب سے بڑا  خطرہ  قرار دے کر،  اس کے استقرار سے ہی ،

   ا س نظام الہٰی کو ختم  کرنے کے سلسلے میں آیے دن  سازشیں رچائی جاتی ہیں۔  استکباری قوّتوں نے بنی امیہ کی طرز پر  اس نظام ولایت فقیہ کو نابود کرنے کیلئے، مسلمانوں اور خاص کر تشیّع کو ہی  ابزار  بنا نا  شروع کیا ہے اور اس پر  اربوں ڑالر خرچا کر شدومد سے کام جاری ہے۔  آج شوشل میڈیا اور باقی ذرائع کو استعمال کر کے اور  پیسوں پر بکنے والے ملاوں اور  عمامے والے عالم نما عناصر کو تیار کرکے اس نظام ولایت فقیہ کے حوالے سے طرح طرح کے شبہات کو لوگوں،  اور خاص طور پر ہمارے عزیز نوجوانوں کے اذہان میں ڈال کر،  ان کو اس  مقدس نظام کے خلاف اکسانے کی ایک منظم کوشش ہورہی ہے، تاکہ   دیندار  لوگوں کے ہاتھوں ہی اس کو ختم کیا جائے۔

     جب  جمہوری اسلامی ایران نے امریکا کا ایک اہم جاسوس( جیسن رضائیان) کو گرفتا کیا ، اور قید کی مدت کاٹنے کے بعد  آزاد ہوگيا تو  واپس امریکا جاکر  امریکی صدر کو خط کے ذریعے آگاہ کیا ،   اب تک کی ہماری تمام تر  کوششیں ناکام ہوچکی ہیں ،اگر نظام ولایت فقیہ کو  نابود کرنا ہے تو ہمیں کچھ ایسا کام کرنا ہوگا کہ شہداء کے مائیں اپنے  بچوں کی تصویریں ہاتھ میں اٹھا کر سڑکوں پر آکر اس  حکومت ولایت فقیہ کے خلاف نعرے   لگایں،  تو حتمی طور پر انقلاب اسلامی ساقط ہو جائے گا۔

      یادرہے کہ  رواں سال میں جمہوری ایران کی اقتصادی پابندیوں میں جو شدت لائی گئی، ان کا مقصد یہ تھا کہ ایرانی قوم پر کمرجکادینےوالی معیشتی پریشر ڈال کر اس قوم کو اس نظام کے  خلاف اکسایا جائے،نیز ایرانی قوم اپنی معیشتی خستہ حالی کا زمہ دار،   نظام ولایت فقیہ کو ٹھرا کر اس کے خلاف سڑکوں پر آجائیں؛  اسی    وجہ سے امریکی صدر کے انتہاپسند مشیر "جان بولٹون" نے اعلان کیا تھا کہ اس سال جمہوری اسلامی  اپنی چالیسویں سالگرہ نہیں منا پائےگا!لیکن ایرانی غیور، بابصیرت  اور ولایت مدارقوم نے طاغوتی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے، اس سال انقلاب کی چالیسویں برسی کو ، تاریخی اور  مثالی طور پر منایا۔ اس طرح سے  استکباری قوّتوں کی سالوںسال سے رچی گئی مزموم عزائم اور سازشیں ایک بار پھر سے خاک میں ملیامٹ ہوکر  ناامیدی سے دوچار ہونا پڑا۔

 

 

 

 

 

نتیجہ: 

        انسان چونکہ فطرتی طور پر مدنی الطبع ہے اور اس کی زندگی کا راز ا سی حیات اجتماعی میں ہی مضمر ہے اور اجتماعیّت سے عاری ہوکر  جیناممکن ہی نہیں۔  اب جبکہ انسان کے بودو پاش اجتماعی زندگی سے منسلک ہے، لہذا اس نوع زندگی کو نظم و نسق بخشنے کیلئے ایک جامع قانون کا ہونا ناگزیر بن جاتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے انسانیت کی ہدایت اور کی فلاح و بہبود کی خاطر نہ صرف ایک منظم قانون کو ترتیب دیا،بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قانون کے ماہرین کو بھی انبیاء(ع) کی صورت میں اس گیتی پر  بیج دئے، تاکہ دونوں جہاں میں انسان کی سرخروئی ہو۔  سلسلہ انبیاء(ع) کے بعد اولیاء الہٰی کا سلسلہ آغاز ہوتاہے جو اسی قانون کی پاسداری اور اسی مشن کے مبلّغ ہوتے ہیں؛  امام علی(ع) جو کہ سرور اولیاء ہیں، انہوں نے نظام نبوّت کے بعد پہلا نظام ولایت کی حاکمیت کی بنیاد رکھی اور اسلام کے بلند و بالا پروگرام کے سایے میں انسانیت کی ہدایت اور خوشبختی کے سلسلے میں نہایت سعی اور تلاش کی، حضرت امیر(ع) کے نظام حکومت جوکہ تاریخ بشریت میں ایک بے نظیر حکومتی  ماڈل جانا جاتا ہے، جس کی خوبیاں ہر صاحب انصاف دانشمند نے اپنے آثار میں قلم بند کیا ہے۔ اس مرحلے کے بعد اسی کے تإسی میں ایک اور نظام، نظام ولایت فقیہ کے عنوان سے وجود میں آگیا، جوکہ در اصل نظام ولایت علی(ع) کا تسلسل ہے؛ یہ نظام خدامحوری،عدالت طلبی، عوام پسندی اور سادہ  زیستی، اللہ کی اطاعت اور طاغوت کی مخالفت اور استقامت اور پائداری جیسی خصوصیات پر مشتمل ہے۔

   جس  طرح سے  نظام ولایت علی (ع) کے سقوط کے عوامل،  دنیا پرستی، ولایت اللہ کی قدر ناشناسی اور دشمن کے سبز باغ کا فریفتہ ہونا، اورحقیقت اسلام سےغفلت شکاری، قرار دے سکتے ہیں، اسی منوال پر آج بھی  یہی تین عوامل نظام ولایت فقیہ کے  ممکنہ چلینجز ہو سکتے ہیں۔

 ہر انقلاب کی بقاء اور دوام  کی خاطر تین اہم شرائط کا  ہونا ضروری ہے؛ 1 ۔امام 2۔امّت 3۔ امّت کا ولایت(امام) سے اتصال۔

 چونکہ   بغیر امت کے امام  کے پاس اقتدار نہیں ہوتا؛  بغیر  امام والی امت کی حیات نہیں ہوتی ؛ اور  جو امت ولایت سے متصل ہو، اس کے لئے شکست غیر قابل تصور ہے۔

 

 

منابع:



[1] ایسی حمہوریت جس میں عالم اورجاہل،عادل اور ظالم، نیک انسان اور برے انسان، سب کی آرا کی قدر وقیمت  ایک جیسی ہو،جاہلوں کی اکثریت کو دانشمند طبقے  کی اقلیت پر ترجیح دی جاتی ہو،  اور اسی  کو مبنا قرار دیکر حکومتی آئین وجود میں آجاتا ہو،  اس قسم کی ڈیموکریسی اسلام اور عقل کے خلاف ہے۔   



[1] نہج البلاغہ، خ 26۔

[2] بحارالانوار، ج 39، ص 56.

[3]،آیت67۔ سورہ مائدہ

[4] النبویّہ، ابن تیمیہ،ج7 ص315۔ منہاج السنہ

[5]  کمال الدین ، تمام النعمۃ،ج1،ص484

[6] دروس فی علم الاصول،ج1ص۔3۔

[7] نهج‏البلاغه، خطبه 40۔

[8] نہج النلاغہ، خ3۔

[9] نہج النلاغہ،خ136۔

[10] سیری در نہج النلاغہ،شہید مطہری، ص 45۔

[11] امام علی علیه السلام صدای عدالت انسانی ، ترجمه ی هادی خسرو شاهی ، ج 1 ، ص 227 .

[12]  نہج النلاغہ،ن 53۔

[13] مجلہ خیمہ،شمارہ 10۔hozah.net

[14] حلیۃ الابرار،ح1ص357

[15] صحیفه امام، ج‏17، ص: 377و376

[16] سورہ نحل،آیہ36۔

[17] نہج البلاغہ،خط 29۔

[18] سورہ بقرہ آیت:249۔

[19] بحارالأنوار، ج 57، ص 215۔

[20] آل عمران،آیہ152

[21] طبرسي، مجمع البيان في تفسير القرآن، ج ‌2، ص 693.

[22]  نہج النلاغہ۔خط،31۔

[23] سورہ بقرہ،آیت257

[24] سورہ نحل،آیت36۔

[25] سورہ نساء،آیت141۔

[26]ج2،ص152۔ اصول كافي،

[27]۔خ40۔ نہج البلاغہ

[28] الكافی،ج ۲، ص ۴۱۵؛

بحارالأنوار،ج۱۲،ص۳۷۵