بسم الله الرحمن الرحیم

تاریخ انقلاب اسلامی میں 9 دے کا کردار

(تحریر:خادم حسین آخوندی)

    30دسمبر۲۰۰۹،(یہ دن) جمهوری اسلامی ایران کی تاریخ میں ایک انتہائی اہمیت کا حامل دن شمارہوتا ہے ۔ یہ دن ایرانی کلنڈرکےمطابق9دے1388ہ[1] کےنام سے جانا جاتا ہے۔ اس دن کی اہمیت کا اندازہ،رہبرانقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای(دام ظلہ)کے اس تاریخی جملے سے کیا جاسکتا ہےکہ،آپ نے یوں فرمایا:"اگرملت ایران کی اس ہوشیاری کے واسطے سینکڑوں مرتبہ سجدہ شکر بجالایا جائے توکم ہے" ۔

  اس دن کو روز بصیرت، یا روز میثاق با ولایت فقیہ بھی کہا جاتا ہے ۔ دیگرالفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ 9دے یقینا تاریخ انقلاب میں ایک تاریخی نقطہ عطف

 یعنی(Historical turning point) سے تعبیر کیا جائے تو بےجا نہ ہوگا۔ چونکہ اگر یہ حماسی دن وجود میں نہ آتا، توانقلاب اسلامی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔ لہذا اس دن نے انقلاب اسلامی کے رگوں میں تازہ خون جاری کیا اور اس مقدس انقلاب کو ایک مرتبہ پہر سے چاق و چوبند اور تونائی بخشی۔اس طرح سے انقلاب اسلامی کو لاحق ایک بہت بڑا خطرہ ٹل گیا ۔

یہ فتنہ کیونکر وجود میں آگیا؟

   جمہوری اسلامی ایران کےاندر یہ فتنہ اچانک یا انفعالی طورپر وجود میں نہیں آیا، بلکہ اس قسم کے فتنوں کی ایک بہت لمبی تاریخ ہے۔اگرچہ یہ فتنہ اپنی نوعیت کا منفرد اور سب سے تباہ کن فتنہ تہا.لیکن دراصل یہ ان متعدد فتنوں کے سلسلے کی ایک کڑی تھی، جو اس سے قبل بھی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران کے اندر مختلف مقاطع زمانی میں رونما ہوتے آیے ہیں, جیسے 1377ہ میں یا اسے پہلے دفاع مقدس اور بنی صدر کے برسراقتدار کے دوران وغیرہ۔ اس کی تہ تک پہنچنے کیلئے مقدمے کی صورت میں اجمالی طور پر اس کی تاریخ کی طرف اشارہ کردیتے ہیں۔

      انقلاب اسلامی سے پہلے دنیا دو بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی،شرقی بلاک اورغربی بلاک .یا

 (Nato @Sato)۔ شرقی بلاک کی سربراهی روس کررها تھا اور غربی بلاک کی بھاگ دوڑ امریکہ کے ہاتھ میں تھا۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں تھا جو ان دو سپر پاورز سے وابستہ نہ ہوں ۔           

         پوری دنیا میں کوئی مستقل اورخودمختار ریاست موجودنہیں تھا۔ مشرقی بلاک   کمیونزم(Communism )کے طرفدار تھا، یعنی ان کے نظام حکومت کمیونزم کے تفکر   اور آیڑولوجی پر پائیدار تھا۔ جبکہ مغربی بلاک کے نظام حکومت، اس کے برخلاف یعنی کپٹلیزم (Capitalism) نظام سرمایه داری پر مبنی تھا۔ ان دو آیڑولوجی یا طرز تفکر کےکشمکش کے دوران،سرزمین ایران پر حضرت امام خمینی(رح) کی قیادت میں200 سالہ شاہنشاہی سلطنت کو ختم کر کے، انقلاب اسلامی کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اور دنیا میں  پہلی مرتبہ ایک نیا رول ماڈل اور طرز حکومت،ولایت فقیہ کے نام سے پیش کیا۔ نیز ڈیموکریسی کے مقابلے میں تھیوکریسی(theocracy )کو جهان میں نہ فقط  متعارف کرایا بلکہ عملی شکل میں بھی اسکا کامیاب نمونہ ایران میں عملاکر دنیاوالوں پر نظام  ولایت فقیہ کی صلاحیت اور  قدرت کو ثابت کر دیا۔

   اب یہاں سے دنیا میں نہ شرقی اور نہ غربی کی صدا گونجنےلگی۔آزادی اور آزادہ گی،استقلال اور خودارادیت کا احساس زندہ ہوگیا، استعماریت اور سامراجی طاقتوں کے ہاتھ کٹنے لگے۔ مستضعفین جہان کو امید کی نوید مل گئی،غلامی کی زنجیریں کٹنے لگی۔ایسے میں حضرت امام خمینی(رح)نے اس وقت کےسوئیت یونین کے صدر گورباچوف کو خصوصی خط کے  ذریعے خبردار کیا کہ کمیونزم عنقریب اپنے خاتمے تک پہنچ جائے گا۔ امام (رہ) نے مزید تحریر کیا کہ میں کمیونزم کے ڈھانچے کی چکنا چور ہونے کو محسوس کر رہاہوں۔ لہذا اسلام کے پرچم تلے پناہ لے آو؛ اسی میں تمہاری بھلائی ہے ۔

   ابھی ایک مختصر عرصہ ہی بیت گیا تھا،امام خمینی(رہ)کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی،کمیونزم کا ڈھانچہ چور چور ہوکر سویت یونین کا ہمشیہ کے لیے خاتمہ ہو گیا ۔اس صورت حال کو دیکھ کر دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں خاص کر نیٹو بلاک کا سربراہ  امریکہ کو بھی احساس خطر ہونے لگا۔ اوراسی وقت سے جمہوری اسلامی سے دشمنی اور اس کی نابودی کے سلسلے میں ہر ممکن سازشیں رچانا شروع کیا۔ ان عالمی طاقتوں نے جمہوری اسلامی کو اپنی مزموم اور تسلط پسندعزائم اور ظالمانہ رویے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے لگیں۔

    انہی دیرینہ دشمنی اورعداوت کی بناء پرانقلاب کی کامیابی کے اوائل میں ہی نظام مقدس جمہوری اسلامی کو نابود کرنے کی غرض سے عالمی استکبار نے دو قسم کی جنگ مسلط کرنے کی ٹھان لی۔ جن کوسخت جنگ اور نرم جنگ (Soft war &Hard war )کہاجاتا ہے ۔اس سلسلے میں جو سب سے پہلا شیطانی قدم اٹھایا گیا، وہ مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ تھی۔ جوکہ دفاع مقدس  کی شکل میں تاریخی اوراق میں ثبت، نیز انقلابی جوانوں کی بے مثال مقاومت  اور جان نثاری، تاریخی اوراق کی زینت بنی ہوئی ہے ۔

    اس جنگ کا نام بعض سیاسی تجزیہ نگار اور دانشوروں نے تیسری عالمی جنگ سے بھی تعبیر کیا ہے ۔ اور حقیقت بھی یہی ہے۔ چونکہ ان آٹھ سالہ جنگ میں ایران بظاہر ایک ملک یعنی عراق(بعثی یا صدام )سے لڑرہا تھا، لیکن درواقع دنیا کے بڑے بڑے طاقتورملکوں سمیت دیگر  چالیس ممالک صدام کی ہرممکن پشت پناہی کررہے تھے۔

  یہی وجہ ہے کہ اس جنک کے دوران آٹھارہ ممالک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں جنگجو  اہلکار ایرانی مجاہدین کے ہاتھوں اسیر ہوگئے۔ اس کے بعد بھی سخت جنگ کو مختلف شکل میں آزمایا گیا۔ لیکن انقلاب دشمن عناصر کی سرتوڑ کوششیں کارگر ثابت نہ ہوسکیں۔ اور کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ انقلاب اسلامی مقتدرانہ طورپر باقی رہ گیا۔

    اس کے بعد دوسرا حربہ استعمال کرنے لگا یعنی سافٹ وار،جس کے حوالے سے رھبر معظم انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای ہمیشہ تہاجم فرھنگی سے تعبیر کرتے ہوئے ایرانی قوم کو خاص کر، اور امت مسلمہ کو عام طور پر خبردار کرتے رہتے ہیں۔

  تهاجم فرهنگی یا کلچرل وار اس جنگ کو کها جاتاهے جس میں متعارف جنگی اسلحے استعمال نہیں هوتے ہیں، چونکه اس جنگ میں انسان کا جسم یا مادی سازوسامان دشمن کے نشانےپر نہیں ہوتے، بلکه ہماری روح، معنویات اور دینی اعتقادات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس قسم کی جنگ میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والے اسلحے جیسے:انٹرنٹ،سٹلائٹ چینلز،سوشل میڈیا اور مطبوعات، جیسے اخبارات اور جرائد وغیرہ شامل ہیں۔

   یاد رہے کہ یہ جنگ، ہارٹ وارسے کئی گنا خطرناک اور تباکن ہوتی ہے۔ اسی لیئے آج عالمی صہیونیزم اس حنگ پر اربوں ڈالر کی بجٹ خرج کرہا ہے۔ چنانچہ چند سال قبل اسرائیل کے وزیر اعظم نتنیاہونے کھل کرامریکا سے مطالبه کیا تھا کہ ایران کے ریڑیو اور ٹلیویژن پر کاری ضرب لگایا جایے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سینکڑوں کی تعداد میں مخرب سٹلائٹ چینلز صرف فارسی زبان میں براٹکاسٹ ہوتے ہیں۔ اور ان تمام ٹی وی پروگراموں کے مخاطب صرف ایرانی نوجوانان ہوتے ہیں، تاکہ اس طریقے سے ایرانی قوم کو گمراہ کرکے انقلاب اسلامی کو ایرانیوں ہی کے ہاتھوں زک پہنچا کر نابود کرایا جایے۔ جیسے اسے پہلے اسپاین (Spain) کے اندر کیا تھا۔

   بہرحال دشمنان اسلام ہرزمان اور مکان کو جمہوری اسلامی کے خلاف استعمال کرنے کے حوالے سے گریز نہیں کرتے۔ لیکن اللہ رب العالمین کی برکت سے دشمن اپنے تمام تر کوششوں میں ناکام ہوے ہیں. اور ان کی تمام دولت برباد ہوگئی ہے۔  امریکا کے صدر ڈونال ٹرمپ کے بقول سات بیلن ڈالر صرف مشرق وسطی میں خرچانے کے باوجود نتیجہ صفر نکلاہے۔

  "دراصل دشمن اپنے محاسبات میں خطا کر بیٹھےہیں ۔ انہوں نے نہ انقلاب کو پہچانا اور نہ ولایت فقیہ کی حقیقت کو"۔  

   بعض لوگ اس حوالے سے علم رکھتے ہیں لیکن حقیقت کو درک کرنے سے کتراتے ہیں، جیسے امریکہ کے سابق وزیر خارجہ کونڈلی رائز نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ھم نےسالوں سال بیٹھ کر ایران کے خلاف جو پروگرام ترتیب دیتے ہیں، وہ سب ایران کے رہبر،صرف ایک خطابت کے ذریعے نابود کر دیتے ہیں۔

  " آج تک عالمی استکبار کی تمام مزموم سازشیں ملت ایران نے رہبر معظم کی تدبیر اور ہدایت کی طفیل سے ناکام بنا تے آیے ہیں۔اور آج جمہوری اسلامی ایران سر بلندی اور سرفرازی کے ساتھ انقلاب کی کامیابی کے چالیسویں سالگرہ منانے جارہے ہیں"۔

 9 دے کا عظیم حماسہ استکبار جہانی اور انقلاب دشمن عناصر کی آنکھوں میں دھول بن کر رہ گئی،چونکہ ان کو یقین تھا کہ اب کہ بار ضرور کامیابی ملے گی۔ لیکن اس بار بھی منہ کی کھائی پڑی۔

فتنے کا آغاز:

   سنہ 2009ء میں حسب معمول ایران میں صدارتی انتخابات کا انعقاد ہوا۔ جس میں مجموعی طور پر چارامیدوار آپس میں رقابت کررہے تھے، جن کے اسامی بترتیب، محموداحمدی نجاد، محسن رضائی، میرحسین موسوی اور شیخ کروبی تھے۔ انتخابات، پر امن ماحول میں ختم ہوگیا، ووٹنگ کی گنتی کے بعد، ابھی نتیجے کے اعلان ہونا باقی تھا،  یکایک ایک امیدوار نے اپنی جیت کا باضابطہ طورپراعلان کردیا۔اس کے فورا بعد وزارت داخلہ نے محمود احمدی نجاد کوبھاری اکثریت کے ساتھ  کامیاب قرار دے دیا۔

    میر حسین موسوی اورکروبی نے انتخابات میں دھاندلی ہونے کا الزام لگاتے ہوے انتخابات کے نتائج کو سرے سے رد کردیا، اوردوبارہ ازسرنوالکشن کا مطالبہ کیا، جس کو نگران کونسل نے مسترد کردیا۔ اس کے بعد ان دو شکست خوردہ امیدواروں نے اپنے طرفداروں کو سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کی اپیل کی۔ نتیجے کے طور پر لوگ تہران اور بعض باقی شہروں میں سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے لگے۔ آہستہ آہستہ احتجاج زور پکڑھتا گیا اور مشتعل ہوکر سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچانے لگے۔ اب ان کا احتجاج کرنا روزکا معمول بن گیا۔ ایک طرف سے کروبی اور موسوی ان مشتعل ہجوموں کی قیادت کر رہے تھے، وہی دوسری طرف داخلی اور خارجی انقلاب دشمن عناصر یک صدا ہوکر ان کی بھرپور حمایت کرنے لگے۔ تمام عالمی قوتیں میدان میں آکر ان کی ہر نوع حمایت کی یقین دلائی۔ ان عالمی استکبار سے وابستہ ذرائع ابلاغ جیسے bbc,cnn.france24 وغیرہ نے اپنے معمول کے پروگرام کو روک کر ایران میں ہورہے حواد‎ث اور احتجاجات کا دن رات کوریج کرتے رہے اور حالات کو مزید پیچیدہ بنانے کی ناکام کوشش کرنے لگے۔

  ایران کے بڑےبڑےآفشلز،مذہبی شخصیات اورسماج کےبااثرلوگوں نےان دوسرغنوں کوکافی سمجھانے کی انتھک کوششیں کیں۔ لیکن ٹس سےمس نہیں ہوے۔ اوراپنے بے منطق مطالبات پر مصررہے۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای(دام ظلہ) نے ابتدا‏‏ء سے ہی ان کو مختلف شکل میں قانع کرنے کی کوشش کی۔ اور قانونی چارہ جوئی سے اپنے مطالبات کو آگے لےجانےکی ہدایت دی۔ اس سلسلے میں انکو ہر ممکن مدد کرنے کی بھی یقین دھانی کی۔ لیکن یہ لوگ اپنے بیرونی آقا‎ؤں کو خوش کرنے کیلئے اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

    "رھبر معظم انقلاب اسلامی نے تہران نماز جمعہ کے اس تاریخی خطبے میں بھی ان کو قانون کے تقدس کا احترام رکھنے کی اپیل کی۔ نیزاسی خطبے میں امام زمانہ(عج) سے مخاطب ہوکر انقلاب کے بنسبت اپنی وفاداری کا اعلان فرمایا"۔

   "حالات کی ابتری اور بے تحاشا نقصانات سے وحشت ہوکربعض خواص نے بھی تلویحا رھبری کو مقصر ٹھرانے کی کوشش کی۔ بعض نے رھبر معظم کو غیر معمولی خط لکھ کرآزردہ کیا اور بعض نے سکوت اختیار کر کے ان کو تنہا کرنے کی بھی کوشش کی"۔

   ان احتجاج کرنے والوں نے ایران کی معیشت کو کافی حد تک متأثر کیا۔ عام لوگ شش و پنج میں مبتلا ہوکر رہ گئے،آیندہ کیا ہوگا اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں بتا سکتا تھا۔

     ماہ محرم کا چاند نظر آگیا،ایک طرف ملت ایران عزاداری سید شہدا‏ء میں مشغول ہوگئے، ہرطرف سیاہ پرچم اور بینرنظرآرہے تھے، وہی دوسری طرف فتنہ گر عناصر اپنی فتنہ گری میں مشغول تھے!

   سنہ1431ھجری کا عاشورا آگیا،ہر شہر اور دہات میں عاشقان حسینی، ماتمی جلوسوں میں ماتم داری کررہے تھے، اچانک یہ خبر جنگل کی آگ کی مانند ہر جگہ پھیل گئی کہ تہران شہر میں انقلاب دشمن عناصر نے تعزیہ حسینی پر حملہ کیا ہے، اورعلم شریف کو بھی نذر آتش کردیا ہے، ح‍ضرت امام خمینی(رح) اور امام خامنہ ای کی تصویروں کی بی حرمتی کرنے لگے، ولایت فقیہ مرہ باد اور نہ غزہ نہ لبنان کے نعرے لگایے گیے۔ اور ایک بسیجی جوان کوبھی زندہ زندہ جلادیاگیا۔۔۔

     "دراصل انہوں نے اپنے حقیقی کریھ چہرے کو اس دن بے نقاب کیا۔ سب پر واضح ہوگیا کہ یہ لوگ انتخابات کے نتائج کے خلاف نہیں ہے، یہ سب بہانے ہیں۔ بلکہ یہ لوگ دین و مذہب کے مخالف ہیں"۔۔۔

    اس اسفناک واقعے کے بعد لوگوں کی بصیرت کی آنکھیں کھل گئی،خاص کر جو ان کے جانسے میں آکران کی حمایت کرنے لگے تھے، اب وہ بھی پشیمان ہوگئے اور ان سے اظہار بیزاری کرنے لگے۔

   ٹھیک دو دن بعد دارالخلافہ تہران سمیت مملکت ایران کے ہرچھوٹے بڑے شہروں اور دہاتوں میں تمام لوگ، چھوٹے بڑے،بوڈھے جوان، مرد و عورت اور بچے سب منظم ہوکر، کروڑوں کی تعداد میں، خود بہ خود سڑکوں پر آگیے۔ اوریک صدا ہوکر لبیک یا حسین،لبیک یا خامنہ ای، امریکہ مردہ باد، اسرا‏ئیل مردہ باد اور منافق مردہ باد کے نعروں کی صدا پورے ایران میں گونج اٹھی۔

   اس طرح سے ایرانی ولایت مدار، با بصیرت قوم نے رھبر معظم انقلاب امام خامنہ ای(حفظہ ا۔۔۔) کے ہاتھوں تجدید بیعت کرکے اس عظیم فتنے کو ہمیشہ کیلئے تاریخ کے زبالہ دان کے حوا لے کردیا۔ اور عالمی استکبار کو ایک بار پھر مأیوس ہونا پڑا۔ اس دن کا نام جمہوری اسلامی ایران میں روز بصیرت یا یوم اللہ 9( دے ) سے مشہورہوگیا اور ہر سال اس دن کو یوم اللہ کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔

ومکروا و مکر اللَّه واللَّه خیر الماکرین ۔(30 دسمبر، 2018۔

 

 

 



[1] دے، ایرانی سال کے دسویں مہینے کا نام ہے۔