﴿بسم اللہ الرحمن الرحیم

اسلام میں خواتین کا مقام

تحریر:خادم حسین آخوندی

مقدمہ:

        اسے پہلے کہ ہم  اس مقالے کے اصل موضوع کے بارے میں بحث کریں ، یہاں پر ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ مقدمے کے  طور پر    اس مقالے کی خصوصیات کے  بارے میں   چند   نکات بیان کریں،  تاکہ قارئین کرام     اجمالی  طور پر اس بات کا اندازہ لگا سکیں کہ   مقالہ ھذا میں  کن کن مطالب کی طرف  شارہ ہوا ہے۔ 

   ہم نے  مقالہ کے آغاز میں  یہ جاننے  کی کوشش کی ہے کہ   یورپی ممالک کے لوگ  اورخاص کر وہاں کے دانشمندان ،خواتین کے حوالے سے کیا  تائثرات رکھتے ہیں،تا کہ ہماری  خواتین حضرات کو اس بات کا اندازہ ہو جائیے کہ اسلامی ماحو ل کس قدر ان کے لئے اہمیت رکھتا ہے،اس  کے بعد ہم نے اسلام سے پہلے  دنیا کے مختلف   مناطق میں خواتیں کی وضعیت کا مقایسہ اسلام  کے بعد کی حالت سے کر کے  یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے  کہ اسلام کس حدتک حقوق نسواں  کےقائل ہے۔

    مقالے  کے آخر میں اسلام  میں  حجاب کا فلسفہ  بیان کر نے کے  علاوہ   آیات اور روایت  کی روشنی میں  خواتین  کے لئے حجاب  کی اہمیت  کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ  عقلی دلیل سے بھی  ثابت کر نے کی کوشش کی ہے کہ  عورتوں کیلئے حجاب  کس قدر ضروری  ہے۔

  اس کےعلاوه  حضرت امام خمینی(رح) کے  ان اقوال کا بھی تذکرہ هوا هے  جو  خواتین کے حوال سے حضرت امام(رح) نے مختلف مناسبتوں کے موقع پر بیان فرمایے تھے.

     

 

 

مغربی دانشمندوں کی نظر میں خواتین کا مقام

       قدیم زمانے سے   لیکر آج تک   یہ بات      اکثر  دنیا کے  غیر مسلم دانشمندوں کی نظر میں متفرقہ مسئلہ رہا ہے کہ عورت کو کس غرض سے اس دنیا  میں  وجود لایا گیا ہے؟اور اس کا مقصد حیات  کیا ہے؟

   ارسطوسے لیکر  زمانہ حاضر تک اس نظریہ کے حوالے سے صحیح  اور جامع  مطلب کو‎‎‏‏ئی   پیش  نہ کر سکا ہے۔

 اکثر  مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے  دانشمندوں کی نظر میں عورت  کا وجود ناقص اور بے ارزش ہے۔ چنانچہ افلاطون  جو یو نان کے  قدیم ترین دانشمندوں میں شمار ہوتا ہے،اس کا  نظریہ  بھی عورتوں کے حوالے سے  مثبت نہیں تھا، بلکہ  اس کاخیال کچھ اسطرح ہے۔

وہ کہتے ہیں: "خدا  وند متعال نے چند چیزیں مجھ پر عنایت کی ہے جس کا میں شکر گزار ہوں"۔

1-      یہ کہ خدا نے مجھے آزاد خلق کیا ، نہ کہ غلام یعنی غلام ہونا اسکے نزدیک ننگ و عار شمار ہوتا تھا!

2-    یہ کہ خدانے مجھے مرد خلق کیا، نہ کہ عورت!

اس کے نزدیک  عورت بہت بری چیز تھی،  اسی وجہ سے وہ  اپنے  آپ کو مرد کی شکل میں  دیکھ کر فخر محسوس کرتاتھا۔

  سقراط؛  جو پانچویں صدی عیسوی کا ایک مشہور فلاسفر گذرا ہے' وہ کہتا ہے  :

  "دنیا میں تمام فساد اور فتنے کی جڑ عورت ہے اور اگر عورت نہ ہوتی تو  دنیا میں ہمیشہ امن آمان  برقرار رہتا"۔

   ارسطو؛ چوتھی صدی عیسوی میں زندگی گزار تا تھا؛  انکا کہنا ہے کہ عورت کا وجود، مرد کی ناقص  خلقت سے ہے۔ یعنی مرد کی خلقت سے جو ناقص رہ گیا  وہ عورت کی شکل میں دنیا میں ظاہر ہو گیا ہے۔کبھی  وہ یوں بیان کرتا ہے:

"عورت خطای طبیعت ہے"اور دنیا  کے تمام بحرانوں کا منشا عورت ہے۔

 وہ مزید کہتا ہے : "عورت اس درخت کی مانند ہے جو ظاہرا بہت خوبصورت اور اس کے پتے اور پھل لذیذ  نظر آتے ہیں،  اور جب  اس پر پرندے بیٹھ جاتے ہیں تو مسموم ہو کر مر جاتے ہیں۔"

   ارسطو  آگے  جا کر کہتا ہے: " خدا وند نے عورت اور غلام کو اسلۓ  خلق کیا ہے تا کہ وہ مردوں کی خدمت کر سکیں۔

 موٹو سینکو ؛  اٹھارویں صدی  کا ایک دانشمند  گذراہے ؛ جن کا تعلق فرانس سے ہے  ، ان  کا نظریہ یوں  ہے ؛"عورت کو چاہۓ کہ وہ گھر میں مرد کے تابع رہ کر زندہ گی بسر کرے،  کیونکہ عورت  کا گھرکی   مالکن بنا ،عقل اور طبیعت کے خلاف ہے۔"

برٹولٹ؛  جو جرمنی کا معروف ڈرامہ نگار اور فلاسفرتھا ، و ہ  انیسوی عیسوی میں زندہ گی گزارتاتھا ۔ان کا  نظریہ  یہ تھا کہ"عورت ایک ایسی شئ ہے  ،جس کا ضرورت کے موقعہ پر مرد استعمال کر تا ہے اور  رفع حاجت کے بعد دور پھینکی جا تی ہے۔"

  معلوم ہوا کہ اپنے آپ کو  متمدّن سمجھنے والے   اور دنیا میں  انسانی حقوق کی پا ما لی  کا ڈنڈورا  پیٹ  نے والےمغربی معاشرے میں خوا تین کو کس حد تک انسانیت  کے معیار سے گرا دیا  گیا ہے۔  ان کے یہاں خواتین کا رتبہ مردوں کے مقابلے میں انتہایئ پست اور افسوس ناک ہے' ان کی نگاہ میں دنیا میں اچھی طرح سے،  یا باعزت زندگی گزارنے  کاحق صرف مردوں کو حاصل ہے۔  

  یہ اس حالت میں ہے جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک کے حکمران آج کل حقوق بشر کے مسئلے کو لے  کر بہت ہنگامہ  مچا رہے ہیں، کہ فلاں اسلامی ملک  میں عورتوں کے حقوق کی پایمالی ہورہی ہے' فلان اسلامی مملکت میں عورتوں سے آزادی سلب کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

  یہ لوگ اس قسم کے سینکڑں بے بنیاد بیانات دے کر اسلام اور مسلمانوں کے  حوالے سے  دنیا والوں کے اذہان میں شبھے ایجاد کرنا چاہتے ہیں تاکہ  دنیا میں اسلام  اور مسلمانوں کی بدنامی ہو جایے۔

    بہرحال  سچ تو یہ ہے کہ جتنا دین اسلام حقوق نسواں پر تئاکید کرتا ہے،  اتنا کوئی دوسرا دین یا مذهب نہیں کرتا .اسلام تو آج سے چودہ سوسال پہلے سے  خواتین کے حقوق اور ان کی عزت اور شرافت کا علمبردار  رهاہے۔

     استکبار جہانی اور دشمنان اسلام کا یہ ادّعا  کہ اسلام میں خواتین کے ساتھ نا انصافی اور زیادتیاں ہورہی ہیں، در اصل یہ لوگ  اسلام  کےآئین اور شریعت سے بے خبر ہیں،  اور یہ بھی نہیں چہتا کہ اسلام کا حقیقی چہرہ  دنیا والوں پر آشکار ہو جایے ، اسلئے اپنے  بے شمار اور مزموم  نواقص پر  پردہ  ڈالنے کی خاطر ہمیشہ دوسروں پر بے جا نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں۔

 

     یہ بات قابل ذکر ہے کہ  ہمارے  معاشرےکےنوجوان  نسل روز  بہ روز  اپنے دینی اور اخلاقی اقدار کو نظر انداذ کرتے ہوے مغربی ثقافت،   جو بد اخلاقی اور بے حیایی کا سر چشمہ ہے،کی طرف مائل ہوتے جارہے ہیں،ایسا ہونا  ہمارے  سماجی ماحول کیلئے  خطرے کی گھنٹی کے مترادف ہے۔ایسے عناصر کو چاہیے کہ اسے پہلے کہ وہ مغربی کلچر کے ظاہری زرق برق اورزیبائی کے فریب کا شکار ہوجایں ، ایک مرتبہ یہ بھی تو  مشاہدہ کریں کہ  اس کے اپنے  معاشرے پر، جہاں اپنی ماں بہنیں زندگی کرتی ہیں ،اس حیوانی کلچر کا کتنا منفی اثر مرّتب ہوتا جارہا ہے۔

  کیا ایسے معاشرے  جہاں  ہر طرف بے راہ روی،بے حیایی ، شہوترانی،بےپردگی اور  ظلم اپنے عروج پر ہوں ،وہاں انسان  کیونکرامن اور سکون کی زندہ گی گزارسکتا ہے؟

    بھلا یہ کیسےممکن ہے کہ  جس  سوسایٹی  کے اندر  شراب نوشی ،شیطان پرستی اور مادہ پرستی کے علاوہ خواتین عدم تحفظ کا شکار ہو ں ،جہاں ایک دن کے اندر سینکڑوں عصمت دری کے واقعات سامنے آتےہوں، وہ  ہما رے لئے آيئڈیل (الگو) بن جایے!؟

   کیا واقعی طور پر انسان کی زندگی کا  ہدف   یہی ہے؟! کیا ہماری زندگی کا مقصد صرف مادہ پرستی ہے اور معنویت  یا روحانیت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے؟!

    لہذا هم وثوق کے ساتھ دعوا کر سکتے ہیں کہ  اسلام ہی وہ خدائی  آئین ہے  جو ہر کسی کے حقوق کے تحفظ کا طرفدار ہے۔  نیز قرآن مجید اس آئین کا تحریری مجسّمہ ہے،  اور اھلبیت (ع)اس کا عملی مجسمہ ہے۔ اگر اسلام کا صحیح مفہوم  سمجھنا چاہیں تو

 در ِِاھلبیت(ع)  پر جاکر سوال کرنا ہوگا .کیونکہ ان کی سیرت،  قرآن کا عملی نمونہ ہے۔  اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ  ہم سیرت اھلبیت(ع) کوسمجھنے کی کوشش کریں،  اوراپنی زندگی کے ہر شعبے میں انہی کو اپنا نمونہ عمل قرار دیں، کیونکہ یہ وہ ہستیاں ہیں جن کی برکت سے عالم بشریت کو جینے کا سلیقہ میسر ہوا ہے،جہالت اور گمراہی سے نجات  حاصل هوئی هے۔ نیز بشریت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو نجات کاکنارہ  ملاہے۔ ورنہ اسلام سے  پہلے انسانیت زوال کی طرف گامزن تھی،دنیا کا کوئی بھی علاقہ ایسا نہ تھا جہاں لوگ درندگی اور  وحشیانہ زندگی بسر نہ کرتا ہو،خاص طور سے خواتین کے حقوق دنیا کے چار گوشے میں پائےمال ہو رہے تھے۔

 

     اسے قبل کہ ہم  اس مسئلے کو اسلامی نقطہ نگاہ سے  تجزیه کریں، یہاں پر ہم چند ایسے مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اسلام سے پہلے دنیا کے  مختلف حصوں  پر خواتین کے حوالے سے  حاکم تھے۔

     جزیرہ نما عربستان میں اسلام سے پہلے خواتین کی کیفیت

      اس زمانے میں عرب معاشرے  کے اندر عورت یا لڑکی،   مردں کی دولت شمار ہوتی تھی؛   یعنی عورت اپنے باپ،بھائی اور یہاں تک کہ بیٹے کی جائدات سمجھی جاتی تھی،  اور ولی کے مر نے کے بعد  اس کے ورثاء ان پر قبضہ کر لیا کرتے تھے۔

 بہرحال وہ لوگ   جو انکا دل چاہتے  ویسا برتا ؤ کرتے تھے۔اگر چاہے تو وہ اس کو بازار لے جاکر بھیج ڈالتےیا اسے مارڈالتے یا کنیز بنا کر   اسےاپنی خواہشات کو  پورا کر لیا کرتے تھے۔

 اسکے علاوہ بعض قبائلوں میں یہ رواج تھا کہ اگر کسی کے گھر میں لڑکی پیدا ہوجاتی ، تو  وہ  اسےاپنے لئے ننگ و عار سمجھ کر زندہ  بہ گور کر دیتے تھے۔

  ایران میں خواتین کی وضعیت:

    قدیم  ایران میں بھی خواتین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوتا تھا ، ان کے معاشرے میں عورت کو نچلی زات اور پست ترین چیز سمجھے جانے کے ساتھ ساتھ انکے لئے کسی  قسم کے حقوق کے قائل نہیں تھے۔

 یونان میں خواتین کی حالت:

   یونانی معاشرے میں عورت کو سب سے بدترین مخلوق سمجھے جاتے تھے یہاں تک کہ وہ عورتوں کو  شیطان کے بچے یا جانورکے نام سے یاد کرتے تھے۔

 ہندوستان میں خواتین کی حالت:

    ہندوستان میں خواتین اپنی پوری زندگی  اپنے باپ، شوہر یا بیٹے کے زیر سر پرستی میں گزارنی پڑھتی تھی؛   اس پر یہ لازم تھا کہ وہ اپنے شوہر کو،  اپنا مالک یا حتی خدائی کے برابر سمجھ کر قبول کریں، نہ  شوہر کی حیثیت سے! شوہر کے مر نے کے بعد بھی اسکو  یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ اپنی مر ضی سے دوسری شادی کرلے،  بلکہ مر تے  دم تک بیوہ کی حیثیت سے زندگی گزارنی پڑھتی تھی۔ یہاں تک کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کو شوہر کی میت کے ساتھ زندہ جلادی جاتی تھی۔  

  جاپان میں خواتین کی وضعیّت:

   جاپانی سوسائٹی کے اندر بھی  عورت کو کسی قسم کی آزادی میسر  نہیں تھی بلکہ  انہیں باپ، بھائی یا شوہر کے ماتحت  رہ کر زندگی گزارنی پڑھتی تھی ا ور لڑکی کو  ارث بھی نہیں ملتی  تھی۔

 چین میں عورتوں کی وحالت:

        یہاں بھی باپ ہی گھر کا سب سے مقتدر شخص  شمارہوتا تھا، وہ اپنی  بیوی اور بچوں کو کنیز یا غلام  کی حیثیت سےبازاروں میں  لے جاکر فروخت کر نے کا با ضابطہ حق رکھتا تھا۔

بعض اوقات باپ اپنی اولاد کو قتل کر کے اس کی میت کو جنگل میں جانورں کی غذا بنا کر  چھوڑ دیتا تھا۔

اٹلی(روم) ميں خواتین کی حالت:

       اٹلی کے لوگ عورت کو شیطان کا مجسمہ سمجھتے تھے. اور بچوں کی طرح اپنی زیر نگرانی میں رکھا کرتے تھے۔(1)

 

     بہر حال  ہمیں اسے اندازہ ہوتا ہے کہ کس قدر پوری دنیا کو  جہالت اور گمراہی نے  اپنے لپیٹ میں لے رکھی تھی۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھرا  نظر آرہا تھا،کسی بھی جگہ روشنی کی چنگاری نظر نہیں آرہی تھی، انسانیت کی روح اور فطرت پر اندھرے کا پردہ لگ چکا تھا۔

  اس اندھرے کی شدت دنیا کے دیگر مقامات کے مقابلے میں جزیرہ نما عربستان میں زیادہ تھی،جیسے کہ امیرالمؤمنین   علی(ع) نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

  "اللہ  نے حضرت محمد(ص) کو دنیا والوں کیلئے تنبیہ کرنے والا بنا کر مبعوث کیا،تا کہ  وحی الہھی کا  امانددار اور محافظ بن جایے۔اے عرب کے لوگو! اس زمانے میں تم  بدترین دین کے پیروکار تھےاور بدترین گھروں ،غاروں  میں ،سخت پتھروں اور بہرے زہریلے سانپوں کے در میان زندگی گزارا کرتے تھے۔آلودہ پانی اور نامناسب غذا کھایا کرتے تھے،ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے،صلہ رحم کو قطع کرتےتھے ، تمہارے درمیان بتوں کی پرستش ہوتی تھی اورفساد اور گناہوں نے تمہیں گیر رکھا تھا۔(2)

         جب اسلام کا نور جزیرہ نما عربستان میں طلوع ہوا،  تو اس نور نے  مختصر سے عرصے میں اپنی کرن کو  کرہ زمین کے ایک بڑے حصے  پر  پھیلادیا  ،جہالت اور اندھرے میں ڈوبی ہوئی دنیا  کو اجالے میں تبدیل کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جہاں ہر طرف  سے  بے چینی اور ناامیدی کا عالم تھا۔اسلام کے آنے سے  بے چینی اور ناامیدی کا  شکار ہونے والے بشر کو  امید کی  کرن مل گئی،بشریت کی ڈوبتی  ہوئی کشتی کو  کنارہ نصیب  هوُا۔

  

    اسلام  کا   آئین،  وہ خدایی  قانون ہے  جو انسان کو اس دنیا میں جینے کا سلیقہ سکھا تا ہے ، ہمیں امن اور رواداری کی زندگی گزار نے کی تلقین کرتا ہے،اس قانون میں کسی بھی قسم کا ظلم،ناانصافی اورتبعیض کی گنجایش نہیں ہے۔ہر انسان چاہے وہ مرد ہو یا عورت،اسلام کی نظر میں محترم ہے ۔

    اسلام،  خواتیں کے حقوق  اور عزت کا حامی ہونے کے  علاوہ یہ بھی چاہتا ہے کی  وہ مردوں کے شانہ بہ شانہ ر ہ کر زندگی کے ہر شعبے میں مخصوصا  سائنس اور ٹکنالوجی کے میدانوں میں  حصہ لے کر اپنی مہارت اور کمالات کا مظاہرہ کریں۔اسطرح سے اسلام  نہ فقط  خواتین کی آزادی کا مخالف نہیں ہے،  بلکہ ان کی ہمیشہ سعادت اور خوش بختی چاہتا ہے۔

    بعض اسلام مخالف عناصر کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ  حجاب کے مسئلے کو غلط رنگ دے کر مسلمان خواتین  کے  اذہان میں شبہ ایجاد  کریں،  تاکہ وہ  مسلم خواتین کو پیشرفت کرنے سے روک سکیں، لیکن انہیں یہ نہیں معلوم کہ   خواتین کی عزت، کرامت اور ترقی کا راز اسی حجاب اور عفت کی حفاظت کرنے میں مضمر ہے۔

حجاب کی اهمیت:       

   جی ہاں! اسلام جس چیز کو خواتین کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل  قرار دیتا ہے،وہ حجاب اور اپنی پاکدامنی کی محافظت کر نا ہے۔اگر خواتیں  اپنے جسم کے حساس حصوں کو نامحرموں  کی  نگاہ سے چھپاکر  رکھیں تو وہ ہرگز شیطان صفت عناصر کی هوس اور  درند گی کا  شکار نہیں ہونگیں۔

          آج کل   دنیا میں اکثر  عصمت دری کا شرمناک واقعہ اسی  بے پردگی کی وجہ سے رونما ہو رہا ہے، مغربی ممالک میں جہاں پردہ نام کی کوئی چیز  نظرنہیں آتی،  وہاں سب سے زیادہ خواتین عدم تحفظ کا شکار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل جو مغربی ممالک سےتعلق رکھنے والی نوجوان  لڑکیاں جوق در جوق اسلام سے مشرّف ہورہی ہیں،ان کا بھی یہی خیال ہے کہ مغربی ممالک   میں خواتین  عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اسے تنگ آکر ہم نے اسلام قبول کرلیا ہے۔

     چونکہ اسلام میں خواتین  کو ہر قسم کی اخلاقی برائیوں سے محفوظ رکھنے کی خاطر  سب سےبہترین چیز کا اہتمام کیا گیا ہے ،اور وہ  ہے حجاب ۔ لہذا ہماری ماں بہنوں کو بھی اس بات کا اندازہ ہو نا چاہیے کہ جب مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں جو بظاہر اسلام سے بے خبر ہیں، اور    ان کاتعلق  سماج کے        پڑھے لکھے طبقے سے ہیں،پردے کو اپنے لئے  بہترین وسیلہ نجات سمجھ کر مسلمان ہو رہے ہیں،  تو ایسے میں  ان کی کیا زمہ داری بنتی ہے؟

    بہر حال ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم آئین اسلام کو سمجھنے کی ہرممکن کوشش کریں تاکہ ہم   اپنے آپ کو  حقیقی  مسلمان ہونے کے لائق بناسکیں۔

  قرآن مجید کی متعدد آیات اور  ائمہ معصومین(ع) کی احادیث کے پس منظر سے یہ ثابت شدہ مسئلہ ہے کہ حجاب ہر مسلمان عورت پر واجب ہے ،اس کے علاوہ  پردہ کی عدم رعایت کو سنگین جرم قرار دیاگیا ہے۔  

       

 

 حجاب کا مسئلہ صرف  حق الناس سے مربوط نہیں ہے بلکہ یہ حق اللہ بھی شمار ہوتا ہے۔  دوسرے الفاظ میں یہ ایسا مسئلہ  نہیں ہے کہ اگر  کوئی عورت بے پردگی کی یا   گناہ کا مرتکب ہو جایے اور  اگر اس کا خاندان یا والدین اس کی   بے شر مانہ حرکت پر  رضایت دیں،  تو  اس کا جرم معاف ہو جایے، ایسا  ہر گز نہیں  ہو سکتا ۔ بلکہ اس  بے پرد ہ گي کا خامیازہ کسی بھی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔

    آج کل مغربی دنیا میں  اگر کوئی عورت  کسی  شیطان صفت مرد  کی ہوس کا    شکار بن جاتی ہے ،  اور  جب مجرم  پر عدالت میں مقدمہ چلا یا جاتاہے،اسی اثنا میں اسکا شوہر یا والدین اس مجرم کو  معافی دے،  تو عدالت اس مجرم کو بری کر دیتی ہے!۔

  لیکن اسلام،   یورپی ممالک کی اس روش کو سختی سے مسترد کر تا ہے اور اسے سنگین جرم قرار دیتا ہے یعنی اگر کوئی  عورت  آبروریزی کا شکار ہوجایے تو مجرم  کو معافی ملنے سے آزادی نہیں ملتی بلکہ وہ سزا کا  مستحق بن جاتا ہے، اسی طرح اگر کوئی عورت  معاشرے میں نیم عریان  یا بے پردگی  کی حالت میں ظاہر ہو جاتی ہے،  تو اگر  بالفرض معاشرہ  اسکو  معافی  دے، لیکن  شریعت اس کو ہر گز معاف نہیں کرے گی۔کیونکہ  یہ حق الناس کے ساتھ ساتھ حق اللہ بھی ہےیعنی اللہ تعالی کا  حکم ہے کہ مسلمان عورتوں کو   پردے میں رہیں۔

  اسلام میں حجاب کا فلسفہ

        قرآن کریم کی کسی بھی آیت میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ  خواتین  اپنے  بدن کو  پردہ کرنے کے سلسلے میں آزاد ہیں،بلکہ جو کچھ قرآن مجید میں آیا ہے ، وہ یہ کہ  عورت پر  پردہ واجب ہے،لیکن پردہ کا اندازہ کس قدرہے اس کی طرف  اشارہ نہیں ہوا ہے۔ جو کچھ شریعت کے احکام،   فقہا ء کرام نے بیان کیا ہے  ان کے مطابق عورت کو  چہرہ  اور ہاتھوں کے سوا  تمام بدن کو  چھپا کر رکھنا چاہیے۔ نیز عورت کو پردےمیں  رہنے کا حکم ہے، اسکے  علاوہ  ، کیا  صرف لمبے چادر کا استعمال کر نا چاہیے؟ اس حوالے سے ساکت ہے۔

   البته  چادر کا استعمال باقی چیزوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔خواتین پر واجب ہے کہ  اپنے چہروں اور  ہاتھوں کے علاوہ بدن کے باقی حصوں کو  ڈاھنپ کر رکھیں، چاہے  وہ چادر کے ذریعہ ہو یا دوسرے کپڑوں کے ذریعے۔

    اور خاص کر اس قسم کے لباس سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے بدن کے حساس  حصّےیا بنوسنگار  نمودار ہو جائیں۔(3)

   البتہ قرآن کریم  میں ایک آیت موجود ہے جسے بعض مفسرین،عورتوں کیلئے چادر[1]  کا  استعمال کرنا ثابت  کرتے ہیں۔

جیسے  خداوند اپنے رسول(ص) سے فرماتا ہے:

     " اے رسول(ص) اپنی بیویوں،  مومن عورتوں اور لڑکیوں سے کہدو کہ وہ اپنے بدن کو "جلباب" سے ڈھانپ لیں ،یہ کام ان کی عفّت کی علامت اور  تعرّض سے محفوظ رہنے کا وسیلہ ہے اور یہ ان کے لئے بہتر ہے"۔(4)

   مذکورہ آیت  میں لفط "جلباب"کا استعمال ہوا ہے جس کی معنی بعض مفسّرین کے نزدیک سر سے پا‎‎‎ؤں تک ڈھانپنے والا لباس ہے اور تقریبا چادر کا  اندازہ ہے۔(5)

     اسکے علاوہ بعض کے نزدیک "جلباب" کی معنی  ایسا  چادر ہے جس کا اندازہ سر سے گٹھنوں تک ہو۔(6) تیسرا نظریہ برقع یا نقاب کی معنی میں ہے۔(7)

      پہلے نظریے  کے مطابق  ہم  اس نتیجے  تک پہنچتے ہیں کہ قرآن  مجیدخواتین کو چادر جیسے لباس کے ذریعے اپنے جسم کو  چھپانے کی ہدایت  دیتا ہے۔علاوہ بر این، حضرت زھرا (س) کی سیرت پاک سے بھی  ہم   یہ ثابت  کرسکتے ہیں کہ اسلام میں چادر کے  حدود کس قدر  مطلوب ہے۔

    چنانچہ نقل ہوا ہے کہ جب جناب زھرا(س) فدک کی بازیابی اور  ولایت سے دفاع کرنے کی غرض سے  دولت خانہ سے مسجد کی طرف روانہ ہوئیں ،  تو اس موقعہ پر  جناب زہرا(س) ایسی چادر اوڈھ کر نکلیں تھیں کہ جس کی حد،  سر سے پا‎‎ؤں تک تھی۔(8)

       یہی وجہ ہے کہ ہمارے علماء اور  دانشمندان،  خواتین کو  روسری  کے علاوہ چادر کے بھی استعمال کرنے کا مشورہ  دیتے ہیں۔

       حجاب کا  وجوب  ، آیات اور روایات  سے ثابت ہونے کے علاوہ ہماری عقل بھی یہی بتاتی ہے کہ مرد کے  مقابلے میں عورت کو  اپنے بنوسنگار کی حفاظت کرنا ضروری ہے، کیونکہ ماہرین نفسیات کے  بقول عورت  فطرتی طور پر اپنے  جسم کی آرائش اور بدن کی نمائش کرنا پسند کرتی ہے،  اور قوت لامسہ کا  زیادہ اثر رکھتا ہے۔ اس کے برعکس مرد اپنے جسم کو زینت  یا آرائش کر کے خود نمائی کر نا پسند نہیں کرتا ہے۔ اور فطرتا مرد کے اندر  شہوت نمائی کا  عنصر زیادہ ہوتا ہے  اور جب اسکی نگاہ  کسی ایسی لڑکی پر  پڑھتی ہے جو  بد حجاب یا پاک دامن نہ ہو،  تو  قوّت شہوانی اس کے باقی تمام قوتوں پر،  یا تمام خلاقیت پر بھاری پڑھ جاتی ہے، نتیجہ کے طور پر  وہ  اپنے ہدف والا سے محروم رہ جاتا ہے۔

      انسان فطرتی طور پر کمال کا طالب ہے اور ہمیشہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ کمالات کے منا زل کو طے کرے، لیکن  شہوت جنسی کا غریزہ  اس راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر  اگر کسی آفس میں ایک جوان لڑکا  اور لڑکی ایک ساتھ کام کرتے ہوں اور لڑکی اگر بے پردہ ہو اور اپنی بنو سنگار کی نمائش کرتی ہو،  تو  خواہ  نہ خواہ   اس لڑ کے کی توجہ اسکی طرف   مرکوز ہوجاتی ہے  اور آہستہ آہستہ وہ  اپنے تمام ضروری کام کی انجام دہی سے قاصر رہ جاتا ہے،نتیجہ کےطور پر وہ  کمال اور  سعادت کی منزل تک پہچنے سے رہ جاتاہے ۔

        اسلام میں عورتوں کو حجاب کرنے کی سفارش کا ایک مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے فطری راستے پر چل کر تکامل کے منزلوں کو  طے کرے۔  یعنی اگر انسان  ہر جگہ اپنی عفت اور پاکدامنی کو حجاب کے ذریعہ محفوظ رکھیں تو ضرور کامیاب ہونگے، ایسا نہ کر نے کی صورت میں عورت اپنی عفت کو خطرے میں ڈال کر  نہ فقط خود کو نقصان پہنچا ئے گی،  بلکہ  معاشرے پر بھی  اسکا منفی اثر مرّتب ہو سکتا ہے ،کیونکہ اگر   معاشرےمیں  صرف ایک فرد خرابی کرے تو اسکا اثر دوسرے افراد پر ضرور پڑھ جاتاہے ۔   مثال کے طور پر اگر  مسافروں کی ایک جماعت کشتی پر سوار ہوجائے اور  سمندر کے بیچ ،  کشتی میں سوار ایک مسافر اپنی جگہ سوراخ کر نے لگ جائے اور باقی  لوگوں کے ایسا کر نے سے منع کر نے پر وہ یہ کہے کہ  ارے آپ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ،کیوں مجھے ایسا کرنے سے منع کر رہے ہیں؟ میں تو صرف اپنی جگہ پر سوراخ کررہا ہوں!آپ کی جانوں کا کوئی خطرہ نہیں ہے!۔ کیا اس کا یہ کہنا  معقول ہے؟! کیا اس ایک بندہ کی  غلطی سے باقی مسافرون کی جانیں  خطرے میں  نہیں پڑھ سکتی!؟

   یقینا آپ کا جواب منفی  ہوگا  اور  بلا شک ہمارے  سماجی مسائل بھی بالکل اسی کے مانندہے۔

        انسان اگر مسلمان  نہ ہو،   بلکہ کسی بھی دین کے قا ئل نہ ہو ،بقول  معروف لائک یا کمیونسٹ ہو،اگر  تھوڑی دیر کیلئے  نفسانی خواہشات کو بالائے طاق رکھ کر فکر کرے اور اپنی عقل سے کام لے،  تو یقینا  ہر کوئی پردہ کی رعایت کرنے کے ساتھ ساتھ عفت اور پاکدامنی کا مظاہرہ کرےگا۔ اس کی روشن دلیل یہ ہےکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں چاہے وہ غیر اسلامی ملک  بھی کیوں نہ ہو،ہر کوئی عورت یہ چاہتی ہے کہ اس کو ایک ایسا شوہر ملے جو  سو فیصد اسی سے محبت کرے، اور  اس کے سوا  ذرہ  برا بربھی کسی دوسرے  شخص سے محبت نہ کرے،  اور اگر  اس کا شوہر ایک لمحے کیلئے بھی کسی اجنبی عورت سے رابطہ برقرار کرے ، تو  وہ  ،اسے  یہ کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں ہوتی۔  در حقیقت عورت  اپنے  شوہر کی محبت کو اپنا بنیادی حق سمجھتی ہے، وہ کسی بھی صورت میں اس حق سے محروم نہیں ہونا چاہتی، اگر  کوئی عورت  یہ برداشت کرنے کی طاقت   نہیں رکھتی کہ اسکا شوہر ایک فیصد اسکی محبت   کو نظر انداز کرکے کسی دوسری عورت  کی طرف نگاہ کرے،تو ایسے میں  اگر وہ خود  بےپردہ  اور نیم عریان ہوکرنامحرم  مردوں کے درمیان اپنے بدن کی نمائش کرنے لگ جایے  تو  کیا  اس کی یہ نازیبا حرکت، گویا دوسروں کے شوہر کی توجہ کو اپنی طرف جلب کرنے کے مترادف نہیں ہے؟کیا  ایسا کرنا گویا دوسرں کے حقوق کے ساتھ

 کھلوا ڑ کرنے کے مانند نہیں ہے؟!

  بہرحال اگر  ہر انسان اپنی عقل اور وجدان سے سوال کرے،  تو اس کی عقل ضرور یہ جواب دےگی کہ جس طرح تو  اپنے بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا ، اسی طرح دوسرے لوگ بھی  اپنے بنیادی حق کو دوسروں کے ہاتھوں لوٹتے ہوئے تماشا نہیں دیکھ سکتا ۔ لہذ ا تمہیں بھی  دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔

    جس قدر ہمارے جامعہ کے  اندر حجاب اور پردہ داری کا ماحول رائج رہے گا،   اتنا ہمارا معاشرہ بھی ہر قسم کی بےراہ روی اور فساد سے محفوظ رہے گا  ۔ اور اگر خدانخواستہ  سماج کے اندر  بے عفتی اور بد حجابی  عام ہوجایے،  تو  فساد اور گناہ  کا  زمینہ بڑھتا جائیے گا۔

       ہمارے معاشرے میں کتنے ایسے کنبے ہیں جو  اسی  فساد اور بداخلاقیوں  کی وجہ سے بر باد ہو چکے ہیں!؟ اور کتنے بچے بے سر پرست ہو چکے ہیں!؟

    لہذا  ہم سب کا فریضہ ہے کہ ان تمام سماجی مشکلات کو روکنے کیلئے  منظم ہو کر   فوری اقدام کریں، جیسے کہ کہاجاتاہے کہ علاج سے بہتر پرہیز کرناہے!ہمیں بھی اس سماجی بیماری کو ختم کرنے کی خاطر سب سے  پہلے ان عوامل کا پتہ لگا نا چاہیے جس کی وجہ سے یہ بیماری پھیل جاتی ہے۔

    امیرالمؤمنین  علی(ع) اس سلسلے میں فرماتے ہیں:

"یظھرفی آخرالزمان وھوشرالازمنۃ نسوۃ کاشفات عاریات متبرجات،من الدین خارجات، فی الفتن داخلات، مائلات الی الشہوات،مسرعات الی اللذات،مستحلات للمحرمات،فی جہنم خالدات"۔(9)

   " آخر  زمان ، جو ہر مانے سے  بدتر ہے جس میں عورتیں  بے پردہ اور ننگی ہوکر   ظاہر  ہونگیں۔  اور اپنے آپ کو  زینت اور رائش کرکے باہر  نکلیں گي ، یہ عورتیں دین کے دائرہ سے خارج ہونے والیاں ہیں۔فساد کے دائرہ میں داخل ہونے والیاں ہیں،شہوت رانی کی طرف بھاگنے والیاں ہیں  اورحرام کو حلال کرنے والیاں ہیں،آخر میں   ہمیشہ  رہنے والےعذاب میں گرفتار ہونگیں"۔

     غرض جس قدر عورت اپنے جسم کو پرده کرنے کیےسلسلے میں کوشاں رهے،  اس قد ر وه اپنی عزت کو پائمالی سے بچا سکتی هے۔ اور خود کو هرقسم کے خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے.

چند سال قبل ایک عرب جریدےمیں ایک دلچسپ داستان کچھ اس طرح نقل کیا  گیا تھا:

     "مصر کے دارالخلافه قاهره کے ایک چوراهے پر بعض سماجی کارکنوں نے نمایشی طور پر ایک بلندی پر  دو الگ الگ طبق یا رکابیوں میں میٹھائیاں اور چاکلیٹ رکھی،   ان میں سے  ایک میں جتنی بھی چاکلیٹ یا  میٹھائیاں تھیں، ان سب کی چھلکے  یا کاوروں کو چھلکایا گیا۔   دوسرے طبق میں موجود میٹھائیوں  کے  چهھلکے باقی رکھ دئے گئے. چند دنوں کے بعد جب دیکھا گیا  تو  وه میٹھا ئیا حن کا    کاور نهیں تھا ، ان پر هر قسم کے موزی اورغیر  موزی حشرات نے هجوم لاکر خراب کیا  ہوا تھا  اور باقی  جو  کچھ بچی تھی، سب کھاچکی تھی۔ لیکن وه میٹھائیاں جو کاوروں میں ڈھانپی هوئی تھیں، سب محفوظ اورتازه باقی ره گئی تھیں".

   ان لوگوں نے اس نمائشی  حرکت کو،  بی حجاب اور باحجاب عورتو کے در میان فرق کو اجاگر کرنےک غرض  سے پیش کیا تھا.یعنی وه عورت جو عریان یا نیم عریان هوکر گھرسے باهرنکلتی ہے،  اس کا  هر پَل خطر  ےسے خالی نهیں هے اور جوعورت حجاب اور پردے میں ره کر  گھرسےباهر نکلتی هے  وهمیشه مطمئن اور اپنی آپ کو محفوظ ہونے  کا احساس کرتی هے.

 

    آخر میں  یہاں پر ہم  حضرت امام خمینی (رح)کے چند گوہر بار کلام کا  ذکر کرتے ہیں تاکہ ہم  ‏ اسلام  میں خواتین کی جایگاہ کے حوالے سے مزید  آشنائی حاصل کر سکیں:

    " حضرت امام خمینی(رح) فرماتے ہیں : ہمیں افسوس ہے کہ  خواتین دنیا میں دو مرتبہ مظلوم  واقع ہو چکی ہیں، پہلا زمانہ ،جاہلیت  کا زمانہ تھا اور یہ اسلام کا ہی احسان تھا کہ ان کو اس مظلومیت سے نجات  حاصل هوئی۔ دوسرا  ایران میں شہنشاہیت کا  زمانہ تھا، جس میں آزادی کے نام پر خواتین پر  بہت ظلم  کیا گیا ۔  اور خواتین کو  ان کی شرافت اور عزت کی جایگاہ سے گرا دیا گیا"۔(10)

       امام(رح)اپنی انقلابی تحریک کے دوران خواتین سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں:"اے محترم خواتین! بیدار ہوجا ئیں اور ان شیطانوں کی فریب   میں نہ آجا ئیں ،  یہ لوگ تمہیں  سڑکوں پر لانا چاہتے ہيں،لہذا  آؤ  اور اسلام کے پرچم تلے پناہ لو، اسلام تمہاری خوشبختی کا ضامن ہے"۔(11)

      "اسلام مرد اور عورت دونون کو زندگی کے تمام شعبوں میں حصہ لینے کا حق فراہم کرتا ہے ۔ایرانی قوم مرد ہو یا عورت سب کو چاہیے کہ سب مل کر ان کھنڈرات میں تبدیل  ہوئی آبادی کو  دوبارہ بازسازی کریں،مملکت ایران صرف مردوں کے ہاتھوں درست نہیں ہوگا، بلکہ عورتوں کو بھی ہاتھ بٹانا ہو گا"(12)

    " اسلام  خواتین کی شخصیت کی حفاظت کرنا چاہتا ہے اور اس کو ایک بہترین اور کارآمد انسان بنا نا چاہتاہے۔ ہم اس بات کا  ہر گز  اجازت نہیں دینگے کہ  خواتین صرف مردوں  کیلئے استعمال ہونے والی چیز،  یا ان کا آلہ کار  بن کر رہ جایے"۔(13)

   "آج وہ  تاریک زمانہ نہیں ہے،  آج کے زمانے میں خواتین کو چاہیے کہ  وہ اپنے اجتماعی اور دینی وظیفے پر عمل کریں،اپنی عفت اور پاکدامنی کے دائرے  میں رہ کر اپنے سیاسی اور اجتماعی اومور کو  انجام دیں"(14)

  نتیجہ:

       دین اسلام میں خواتین کا  مقام انتہائی محترمانہ ہے، اسلام  اپنی  مقدس تعلیمات کے  ذریعہ انسان کو  سعادت اور خوشبختی کی  راہ  پر چلنے کا  طریقہ  بتاتا ہے،  اور  حجاب کے مسئلے کو  انتہائی اہمیت  دے کر  ہمیں یہ  پیغام دیتا ہے کہ ہم اس کے ذریعے  اپنے معاشرے  کے اندر امن  و آشتی  برقرار  رکھ سکتے ہیں۔

  اسلام اپنے احکام کے ذریعہ  عورت کو  گوشہ نشینی  پر  مجبور کرنا نہیں چہتا  ہے  ، بلکہ یہ چہتاہے کہ وہ ان احکام پر عمل پیرا ہوکر  اپنی عزت اور شرافت کی حفاظت کریں، نیز اسلامی تعلیمات کے ذریعے ہم اپنے ماحول کو  امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔  تاکہ ہماری ماں بہنیں کسی  قسم کے خوف کے بغیر معاشرے کے اندر شریفانہ زندگی گزار سکیں اور اسی پر امن ماحول میں رہ کر  اپنی مختلف قسم کی فعالیت کو انجام دے سکتی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حوالہ جات:

1-Roots of religion. Page no=117

2-نہج البلاغہ، خ 26

3-توضیح المسائل مراجع،ج2 ص 417

4-سورہ احزاب آیت 59

5-المیزان  ،تبیان  شیخ طوسی در ذیل آیۃ۔

6-المصباح المنیر ریشہ جلب۔

7- مفردات راغب اصفہانی ریشہ جلب۔

8-الاحتجاج طبرسی ج1 ص98

9-وسائل شیعہ ج14 ص19،من لایحضر الفقیہ ج2 ص 125

10-پیام بہ مناسبت روز خواتین.26/2/58.(مندجه تاریخ ایرانی کلنڈر کے مطابق ہے)

11-اسی کتاب میں۔۔

12- قم، خواتین کے مجمع  میں.13/2/57

13-جیم کوکررفٹ کے انٹریو کے دوران(روٹکرز  یونورسیٹی  امریکا کے  پروفیسر)  .19/6/58

14-کنھاک میں خواتین کانفرنس میں شرکت کرنے والے ایرانیوں کے مجمع  میں. 19/6/58

تحریر:

 24 دسمبر 2018     

 



[1](( لباس کی ایک قسم جو بعض اسلامی ممالک جیسے ایران، عراق اور  دیگر  اسلامی ممالک میں خواتین اپنے معمولی لباس کےاوپر پهنتی هیں جس کی لمبا‏ئی سر سے پاؤں تک هوتی هے))