چھاپیے 

بسم اللہ الرحمن الرحیم مترجم:خادم آخوندی روایت عنوان بصری کا اردو ترجمہ ‌ یہ روایت جوکہ حضرت امام جعفر صادق(ع) سے منقول ہےاورہماری معتبرکتب احادیث، جیسے بحار الانورمیں علامہ مجلسی(رہ) نےاس کو ذکرکیاہے؛چونکہ یہ حدیث امام معصوم (ع)کی طرف سے ایک جامع تربیتی نسخہ ہے،جس میں مختلف مطالب جیسےآداب معاشرت،تحصیل علم،صبروتحمل،مقام عبودیت،رضای خدا پر تسلیم اورکھانے پینے کے آداب وغیرہ شامل ہیں۔ اس روایت کی اہمیت کا اندازہ ہم اسے کرسکتے ہیں کہ عارف بزرگ حضرت علامہ قاضی(رہ) اپنے شاگردوں کواس پرالتزام رہنے کی شرط پرقبول کرتے تھےاور وہ اپنے شاگردوں کوتأکید کے ساتھ توصیہ کیا کرتے تھے کہ اس حدیث کو تحریر کرکے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں اور ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ دقت سے اسکا مطالعہ کریں؛ لہذا ہم روایت کی متن کے ساتھ اسکا اردو ترجمہ قارئین محترم کی خدمت میں پیش کرتے ہیں تاکہ محبین اھلبیت(ع) اس گوھربارکلام سے مستفیض ہوسکیں۔ قَالَ الشَّیْخُ شَمْسُ الدِّینِ مُحَمَّدُ بْنُ مَکِّیٍّ: نَقَلْتُ مِنْ خَطِّ الشَّیْخِ أَحْمَدَ الْفَرَاهَانِیِّ رَحِمَهُ اللَهُ، عَنْ عِنْوَانِ الْبَصْرِیِّ؛ وَ کَانَ شَیْخًا کَبِیرًا قَدْ أَتَی عَلَیْهِ أَرْبَعٌ وَ تِسْعُونَ سَنَهً. قَالَ: کُنْتُ أَخْتَلِفُ إلَی‌ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ سِنِینَ. فَلَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ الصَّادِقُ عَلَیْهِ السَّلاَمُ الْمَدِینَهَ اخْتَلَفْتُ إلَیْهِ، وَ أَحْبَبْتُ أَنْ ءَاخُذَ عَنْهُ کَمَا أَخَذْتُ عَنْ مَالِکٍ. شیخ شمس الدین محمد بن مکی(شہید اول):میں نے شیخ احمد فراہانی(رہ) کے خط سے نقل کیا ہوں اورانہوں نےعنوان بصری سے؛عنوان بصری جو کہ ایک عمر رسیدہ اور بوڑھا شخص تھا۔ اور ان کی عمر94 سال سے تجاوز کر گ‏‏ئی تھی۔‌ انہوں نے کہا: میری حالت ایسی تھی کہ مالک بن انس کے پاس میری رفت وآمد رہتی تھی۔ جب (امام) جعفر صادق (ع) مدینہ تشریف لایے، میں نے ان کی خدمت میں جانے کا شرف حاصل کیا اور ان کےپاس میری آواجائی رہا کرتی تھی۔ میری خواہش تھی کہ جس طرح سے مالک بن انس سے کسب علم کیا، اسی طرح ان سے بھی تحصیل علم کروں۔‌ فَقَالَ لِی‌ یَوْمًا: إنِّی‌ رَجُلٌ مَطْلُوبٌ وَ مَعَ ذَلِکَ لِی‌ أَوْرَادٌ فِی‌ کُلِّ سَاعَهٍ مِنْ ءَانَآءِ اللَیْلِ وَ النَّهَارِ، فَلاَ تَشْغَلْنِی‌ عَنْ وِرْدِی‌! وَ خُذْ عَنْ مَالِکٍ وَ اخْتَلِفْ إلَیْهِ کَمَا کُنْتَ تَخْتَلِفُ إلَیْهِ. پھر ایک دن امام جعفر صادق(ع) نے مجھ سے فرمایا:میں ایک ایسا شخص ہوں جو حکومت کی زیر نگرانی میں ہے۔اس کے علاوہ میرے ہر شبانہ روز کچھ وِرد اور اذکاربھی ہیں جن میں، میں مشغول رہتا ہوں۔ اور تم مجھکو ان وِرد اور اذکار سے محروم نہ کرو! اور جو علم تم حاصل کرنا چاہتے ہو، وہ انس سے حاصل کرو۔ اور جس طرح سے پہلے ان کے پاس رفت آمد کیا کرتے تھے اسی طرح رفت و آمد کرتے رہو۔ ‌ فَاغْتَمَمْتُ مِنْ ذَلِکَ، وَ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ، وَ قُلْتُ فِی‌ نَفْسِی‌: لَوْ تَفَرَّسَ فِیَّ خَیْرًا لَمَا زَجَرَنِی‌ عَنِ الاِخْتِلاَفِ إلَیْهِ وَ الاْخْذِ عَنْهُ. فَدَخَلْتُ مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّی‌ اللَهُ عَلَیْهِ وَ ءَالِهِ وَ سَلَّمْتُ عَلَیْهِ، ثُمَّ رَجَعْتُ مِنَ الْغَدِ إلَی‌ الرَّوْضَهِ وَ صَلَّیْتُ فِیهَا رَکْعَتَیْنِ وَ قُلْتُ: أَسْأَلُکَ یَا اللَهُ یَا اللَهُ! أَنْ تَعْطِفَ عَلَیَّ قَلْبَ جَعْفَرٍ، وَ تَرْزُقَنِی‌ مِنْ عِلْمِهِ مَا أَهْتَدِی‌ بِهِ إلَی‌ صِرَاطِکَ الْمُسْتَقِیمِ! اس ماجرے کے بعد میں بہت غمگین ہوا اور ان کے یہاں سے باہر نکلا، اور میں نے اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہا:اگر حضرت نے میرے اندرزرا سی خیر ملاحظہ فرماتے تو ہرگز مجھے اپنے محضر شریف سے دور،اور تحصیل علم سے منع نہ کرتے۔ اس کے بعد میں مسجد رسول خدا(ص) میں داخل ہوا اور آنحضرت(ص) پر سلام کیا۔ اگلے دن دوبارہ روضہ شریف کی جانب واپس جا کر دورکعت نماز پڑھ کرعرض کیا: یا اللہ یا اللہ! میں تیری بارگاہ میں ملتمس ہوں کہ تو قلب(امام) جعفر(صادق)(ع) کو مجھ پر نرم اور متمائل فرما! اور ان کے علم سے کچھ مقدار میری نصیب فرما!تاکہ مجھے تیری راہ مستقیم کی طرف ہدایت حاصل ہوجایے۔ وَ رَجَعْتُ إلَی‌ دَارِی‌ مُغْتَمًّا وَ لَمْ أَخْتَلِفْ إلَی‌ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ لِمَا أُشْرِبَ قَلْبِی‌ مِنْ حُبِّ جَعْفَرٍ فَمَا خَرَجْتُ مِنْ دَارِی‌ إلاَّ إلَی‌ الصَّلَوهِ الْمَکْتُوبَهِ، حَتَّی‌ عِیلَ صَبْرِی‌. فَلَمَّا ضَاقَ صَدْرِی‌ تَنَعَّلْتُ وَتَرَدَّیْتُ وَ قَصَدْتُ جَعْفَرًا، وَ کَانَ بَعْدَ مَا صَلَّیْتُ الْعَصْرَ اسکے بعد نہایت غم و اندوہ کے ساتھ گھر واپس آگیا؛ چونکہ میرا دل (امام) جعفر(صادق) کی محبت سے لبریز تھا، لہذا میں انس بن مالک کے پاس نہیں گیا۔ یہی وجہ تھی کہ میں صرف واجب نماز (جماعت) کے علاوہ کبھی گھر سے خارج نہیں ہوا، یہاں تک کی میرا صبر تمام،نیزمیرا سینہ تنگ ہوگیا تھا اور میرا حوصلہ ختم ہو چکا تھا،میں نے اپنی نعلین(چپل) پہن لی اور سر پر ردا اوڑھ کر( امام) جعفر(ع) کی زیارت کے قصد سے گھر سے نکلا؛ یہ اُس وقت تھا جبکہ میں نے نماز عصر بجا لا یی تھی۔ فَلَمَّا حَضَرْتُ بَابَ دَارِهِ اسْتَأْذَنْتُ عَلَیْهِ، فَخَرَجَ خَادِمٌ لَهُ فَقَالَ: مَاحَاجَتُکَ؟! فَقُلْتُ: السَّلاَمُ عَلَی‌ الشَّرِیفِ. فَقَالَ: هُوَ قَآئِمٌ فِی‌ مُصَلاَّهُ. فَجَلَسْتُ بِحِذَآءِ بَابِهِ. فَمَا لَبِثْتُ إلاَّ یَسِیرًا إذْ خَرَجَ خَادِمٌ فَقَالَ: ادْخُلْ عَلَی‌ بَرَکَهِ اللَهِ. فَدَخَلْتُ وَ سَلَّمْتُ عَلَیْهِ. فَرَدَّ السَّلاَمَ وَ قَالَ: اجْلِسْ! غَفَرَ اللَهُ لَکَ! جب میں حضرت کے دولت خانے کے دروازے پر پہنچا،حضرت کی زیارت کے واسطے اذن دخول طلب کیا۔اسی وقت حضرت کا ایک خادم باہر نکلا اور کہا:تیری کیا حاجت ہے؟ میں نے عرض کیا: شریف(امام صادق) پر سلام کرنا چہتا ہوں۔ خادم نے جواب دیتے ہوے کہا: وہ مصلے پر مشغول نماز ہیں۔ پھر میں کجھ لمحے کیلئے دروازے پر بیٹھا تھا کہ یکایک ایک خدمتکار باہرآکر کہا کہ (اللہ کی فضل و برکت سے)اندر آجاو۔ میں داخل ہو کر حضرت پر سلام کیا۔حضرت نے میرے سلام کا جواب دیا اور فرمایا:بیٹھ جاؤ! خدا تجھے مغفرت کرے۔ فَجَلَسْتُ، فَأَطْرَقَ مَلِیًّا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، وَ قَالَ: أَبُو مَنْ؟! قُلْتُ: أَبُو عَبْدِاللَهِ! قَالَ: ثَبَّتَ اللَهُ کُنْیَتَکَ وَ وَفَّقَکَ یَا أَبَا عَبْدِاللَهِ! مَا مَسْأَلَتُکَ؟! فَقُلْتُ فِی‌ نَفْسِی‌: لَوْ لَمْ یَکُنْ لِی‌ مِنْ زِیَارَتِهِ وَ التَّسْلِیمِ غَیْرُ هَذَا الدُّعَآءِ لَکَانَ کَثِیرًا. ‌ پھرمیں نیچے بیٹھ گیا،حضرت کچھ لمحے اپنے سرکو جھکا کر سوچنے لگے،اس کے بعد سر اٹھا کر فرمایا:تمہارا کنیہ کیا ہے؟ عرض کیا: ابو عبداللہ! حضرت نے فرمایا:خداوند تمہارے کنیے کو ہمیشہ (تمہارے لئے) ثابت رکھے اور تجھے کامیابی عطا فرمایے ای ابو عبداللہ! تمہاری کیا حاجت ہے؟ ایک دفعہ میں نے اپنے آپ سے کہا: اگر اس دیدار اور سلام جو میں نے حضرت پر کیا، کے عوض حضرت کی دعا کے علاوہ اور کچھ میری نصیب میں نہ آجائے تو یہی میرے لئے بہت زیادہ ہے! ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ: مَا مَسْأَلَتُکَ؟ فَقُلْتُ: سَأَلْتُ اللَهَ أَنْ یَعْطِفَ قَلْبَکَ عَلَیَّ، وَ یَرْزُقَنِی‌ مِنْ عِلْمِکَ. وَ أَرْجُو أَنَّ اللَهَ تَعَالَی‌ أَجَابَنِی‌ فِی‌ الشَّرِیفِ مَا سَأَلْتُهُ. فَقَالَ: یَا أَبَا عَبْدِاللَهِ! لَیْسَ الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ؛ إنَّمَا هُوَ نُورٌ یَقَعُ فِی‌ قَلْبِ مَنْ یُرِیدُ اللَهُ تَبَارَکَ وَ تَعَالَی‌ أَنْ یَهْدِیَهُ. فَإنْ أَرَدْتَ الْعِلْمَ فَاطْلُبْ أَوَّلاً فِی‌ نَفْسِکَ حَقِیقَهَ الْعُبُودِیَّهِ، وَ اطْلُبِ الْعِلْمَ بِاسْتِعْمَالِهِ، وَ اسْتَفْهِمِ اللَهَ یُفْهِمْکَ! اس کے بعد حضرت نے اپنے سر کو اٹھا کر فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: میں نے خدا وند متعال سے درخواست کی تھی کہ آپ کا قلب مبارک مجھ پر مہربان ہو جایے،اور آپ کے علم سے مجھے روزی مل جایے۔ اور اللہ تعالی سے امید رکھتاہوں کہ جو کچھ آپ حضرت شریف کے حوالے سے خواہش کی تھی، مجھ کوعنایت فرمایے۔ حضرت نے فرمایا:ای اباعبداللہ!علم،حاصل کرنے سے حاصل نہیں ہوتا،بلکہ علم ایک نور ہے جس کو خداوند متعال جس کے دل میں ہدایت کا ارادہ کرے، ڈال دیتا ہے۔ پس اگر تم علم چاہتے ہو تو سب سے پہلے اپنے وجود کے اندر حقیقت عبودیت کوطلب کرو؛اور اپنے علم پر عمل پیرا ہوکر طلب علم کرو؛ اور خداوند متعال سے استفہام(اللہ سے چاہو کہ علم تمہارے سمجھ میں آجایے اور زہن نشین ہوجایے) کرو تاکہ تجھے سمجھا یاجایے۔ قُلْتُ: یَا شَرِیفُ! فَقَالَ: قُلْ: یَا أَبَا عَبْدِاللَهِ! قُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِاللَهِ! مَا حَقِیقَهُ الْعُبُودِیَّهِ؟! قَالَ: ثَلاَثَهُ أَشْیَآءَ: أَنْ لاَ یَرَی‌ الْعَبْدُ لِنَفْسِهِ فِیمَا خَوَّلَهُ اللَهُ مِلْکًا، لاِنَّ الْعَبِیدَ لاَ یَکُونُ لَهُمْ مِلْکٌ، یَرَوْنَ الْمَالَ مَالَ اللَهِ، یَضَعُونَهُ حَیْثُ أَمَرَهُمُ اللَهُ بِهِ؛ وَ لاَ یُدَبِّرَ الْعَبْدُ لِنَفْسِهِ تَدْبِیرًا؛ وَ جُمْلَهُ اشْتِغَالِهِ فِیمَا أَمَرَهُ تَعَالَی‌ بِهِ وَ نَهَاهُ عَنْهُ. فَإذَا لَمْ یَرَ الْعَبْدُ لِنَفْسِهِ فِیمَا خَوَّلَهُ اللَهُ تَعَالَی‌ مِلْکًا هَانَ عَلَیْهِ الاْءنْفَاقُ فِیمَا أَمَرَهُ اللَهُ تَعَالَی‌ أَنْ یُنْفِقَ فِیهِ؛ وَ إذَا فَوَّضَ الْعَبْدُ تَدْبِیرَ نَفْسِهِ عَلَی‌ مُدَبِّرِهِ هَانَ عَلَیْهِ مَصَآئِبُ الدُّنْیَا؛ وَ إذَا اشْتَغَلَ الْعَبْدُ بِمَا أَمَرَهُ اللَهُ تَعَالَی‌ وَ نَهَاهُ، لاَیَتَفَرَّغُ مِنْهُمَا إلَی‌ الْمِرَآءِ وَ الْمُبَاهَاهِ مَعَ النَّاسِ. فَإذَا أَکْرَمَ اللَهُ الْعَبْدَ بِهَذِهِ الثَّلاَثَهِ هَانَ عَلَیْهِ الدُّنْیَا، وَ إبْلِیسُ، وَ الْخَلْقُ. وَ لاَ یَطْلُبُ الدُّنْیَا تَکَاثُرًا وَ تَفَاخُرًا، وَ لاَ یَطْلُبُ مَا عِنْدَ النَّاسِ عِزًّا وَ عُلُوًّا، وَ لاَ یَدَعُ أَیَّامَهُ بَاطِلاً. فَهَذَا أَوَّلُ دَرَجَهِ التُّقَی‌. قَالَ اللَهُ تَبَارَکَ وَ تَعَالَی‌: تِلْکَ الدَّارُ ا لاْ خِرَهُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِینَ لاَ یُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی‌ الاْرْضِ وَ لاَ فَسَادًا وَ الْعَـ’قِبَهُ لِلْمُتَّقِینَ. ‌ میں نے عرض کیا ای شریف! فرمایا:کہو: ای اباعبداللہ(ای بندہ خدا) میں نے عرض کیا: اے ابا عبداللہ! حقیقت عبودیت کیا ہے؟ فرمایا: حقیقت عبودیت تین چیز ہیں:1۔ یہ کہ بندہ خود کوان تمام اشیا‏‏‏ء کا مالک نہ سمجھے جن کو اللہ تعالی نے اسکے اختیار میں دیا ہے؛چونکہ بندے کسی بھی چیز کا مالک نہیں ہوا کرتے ہیں، وہ یقیں رکھتے ہیں کہ تمام اموال کا مالک صرف خدا ہے؛اورجہاں پراللہ نے رکھنے کا حکم دیا ہے،رکھ دیتے ہیں؛ بندہ اپنی نفس پر کسی قسم کی مصلحت یا تدبیر نہیں کرتا ہے؛اور اپنے تمام تر مشاغل اور مصروفیات( میں اس چیز کا ہمیشہ خیال رکھتا ہے کہ ان کے بہ نسبت خدا نے) یا انکو انجام دینے کا حکم دیا ہے یا منع کیا ہے۔ کیونکہ جب اللہ کا بندہ اپنے ان تمام اموال کا خود مالک نہ سمجھے جنکو اللہ نے اسے عطا کیا ہے،ان اموال کو اس راہ میں انفاق کرنا جس راہ میں اللہ نےانفاق کر نے کا حکم دیا ہے، اس پر آسان ہوگا۔اورجب بندہ اپنے تمام تدبیر کو مدبّر حقیقی کے سپرد کرے، تودنیا کے تمام مصائب اور مشکلات اس پر آسان ہوگا۔ نیزجب بندہ اپنے آپ کو اللہ کے اوامر اور نواہی میں مشغول رکھتاہے، تو اسے ان دو چیزوں سے فراغت ہی نہیں ملتی تاکہ لوگوں پر فخر و مباہات کی خاطر کوئی مجال پیدا کرسکے۔ پس اگرخداوند متعال،اپنے بندے کو ان تیں چیزوں کے ذریعے تکریم کرتا ہے، تودنیا،ابلیس اور تمام خلائق اس برآسان اورسبک ہوگا؛اوروہ نہ دنیا کو تکاثر اور فخرفروشی کی خاطر طلب کرتاہےاور نہ جو ( مال و دولت،منصب و مقام وغیرہ) لوگوں کے پاس ہیں( ان کو اپنے درجات اور مقام کی بلندی) اورعزت نفس کاوسیلہ سمجھ کران کوحاصل کرتا ہے؛اور اپنی زندگی کے ایام کو بطالت اور بیہودگی میں صرف نہیں کرتا ہے۔اور یہ تقوا کے درجات کا پہلا زینہ(درجہ) ہے؛ خداوند متعال فرماتا ہے: تِلْکَ الدَّارُ ا لاْ خِرَهُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِینَ لاَ یُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی‌ الاْرْضِ وَ لاَ فَسَادًا وَ الْعَـ’قِبَهُ لِلْمُتَّقِینَ اُس سرای آخرت کوان لوگوں کیلئے قرار دےدیا ہے جو زمین پر کسی قسم کی برتری اور تسلط اور فساد نہیں چاہتے اورعاقبت اہل تقوا کیلئے ہے۔(قصص/83) قُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِاللَهِ! أَوْصِنِی‌! قَالَ: أُوصِیکَ بِتِسْعَهِ أَشْیَآءَ، فَإنَّهَا وَصِیَّتِی‌ لِمُرِیدِی‌ الطَّرِیقِ إلَی‌ اللَهِ تَعَالَی‌، وَ اللَهَ أَسْأَلُ أَنْ یُوَفِّقَکَ لاِسْتِعْمَالِهِ. ثَلاَثَهٌ مِنْهَا فِی‌ رِیَاضَهِ النَّفْسِ، وَ ثَلاَثَهٌ مِنْهَا فِی‌ الْحِلْمِ، وَ ثَلاَثَهٌ مِنْهَا فِی‌ الْعِلْمِ. فَاحْفَظْهَا، وَ إیَّاکَ وَ التَّهَاوُنَ بِهَا! قَالَ عِنْوَانٌ: فَفَرَّغْتُ قَلْبِی‌ لَهُ. میں نےعرض کیا:ای ابا عبداللہ! مجھے کچھ توصیہ اورنصیحت فرمایئں؛ فرمایا: میں تم کو نوچیزوں کی سفارش اوروصیت کرتا ہوں؛چونکہ میری یہ وصیت ان لوگوں کیلئے ہے جوطریق الی اللہ کو طے کرتے ہیں( یعنی قرب الہی کو حاصل کرنے کے سلسلےمیں تلاش و کوشش کرتے رہتے ہیں) (لہذا) میں خداوند متعال کی بارگاہ سے دعا کرتاہوں تاکہ تجھے اس پرعمل کرنے کی توفیق عنایت فرمایے۔ ان میں سے تین چیز تربیت اور تأدیب نفس کے بارے میں ہیں،اور تین حلم اور بردباری کے بارے میں ہیں،اوران میں سے تین علم و دانش کے حوالے سے ہیں۔ پس انکو بخوبی یاد رکھو،خبردارتم ان پر عمل کرنے کے سلسلے میں سستی کرو گے!(یعنی سستی اور کاہلی کرنے سے پرہیز کرو)۔ عنوان نے کہا: میں نےاپنےدل(ذہن) کو خالی کیا(تاکہ جو کچھ حضرت ارشاد فرمایئں ان کودقت کے ساتھ ذہن نشین کرسکوں اور اس پرعمل کروں)۔ ‌ فَقَالَ: أَمَّا اللَوَاتِی‌ فِی‌ الرِّیَاضَهِ: فَإیَّاکَ أَنْ تَأْکُلَ مَا لاَ تَشْتَهِیهِ، فَإنَّهُ یُورِثُ الْحَمَاقَهَ وَ الْبَلَهَ؛ وَ لاَ تَأْکُلْ إلاَّ عِنْدَ الْجُوعِ؛ وَ إذَا أَکَلْتَ فَکُلْ حَلاَلاً وَ سَمِّ اللَهَ وَ اذْکُرْ حَدِیثَ الرَّسُولِ صَلَّی‌ اللَهُ عَلَیْهِ وَ ءَالِهِ: مَا مَلاَ ءَادَمِیٌّ وِعَآءًا شَرًّا مِنْ بَطْنِهِ؛ فَإنْ کَانَ وَ لاَبُدَّ فَثُلْثٌ لِطَعَامِهِ وَ ثُلْثٌ لِشَرَابِهِ وَ ثُلْثٌ لِنَفَسِهِ. *اما وہ چیزیں جو ریاضت نفس سے مربوط ہیں: 1۔ اس وقت تک کوئی بھی چیز کھانے سے پرہیز کرو،جب تک تجھے اسکی اشتہا(خواہش) نہ ہو، چونکہ ایسا کرنے سے انسان کے اندر حماقت اور نادانی پیدا ہوتی ہے؛ 2۔جب تک تجھے بھوک نہ لگی ہو تب تک کوئی بھی چیز نہ کھاؤ؛اوراگر کوئی چیز کھانے کا ارادہ کرے توحلال چیزوں میں سے تناول کرو اوراللہ کا نام لے کے کھاو؛نیزرسول خدا(ص) کی حدیث کو یاد کرو کہ آپ(ص) نے فرمایا: 3۔ کبھی بھی انسان نے شکم(پیٹ) کے سوا کسی بترین ظرف کو پر نہیں کیا ہے،اس حالت میں کہ آگر ناچارہوجایے تواسکا ایک تہائی حصہ غذا کیلئے،ایک تہائی پانی کیلئے اور ایک تہائی ہوا کیلئے مقررکرو۔ وَأَمَّا اللَوَاتِی‌ فِی‌ الْحِلْمِ: فَمَنْ قَالَ لَکَ: إنْ قُلْتَ وَاحِدَهً سَمِعْتَ عَشْرًا فَقُلْ: إنْ قُلْتَ عَشْرًا لَمْ تَسْمَعْ وَاحِدَهً! وَ مَنْ شَتَمَکَ فَقُلْ لَهُ: إنْ کُنْتَ صَادِقًا فِیمَا تَقُولُ فَأَسْأَلُ اللَهَ أَنْ یَغْفِرَلِی‌؛ وَ إنْ کُنْتَ کَاذِبًا فِیمَا تَقُولُ فَاللَهَ أَسْأَلُ أَنْ یَغْفِرَ لَکَ. وَ مَنْ وَعَدَکَ بِالْخَنَی‌ فَعِدْهُ بِالنَّصِیحَهِ وَ الرَّعَآءِ. اما وہ تین چیزیں جو صبر اوربردباری سے مربوط ہیں: 1۔ اگر کوئی تم سے کہے:اگرتم ایک کلمہ بولے تو(مجھ) دس کلمے سنوگے؛ تو تم اسے کہو:اگر تم دس کلمے بولوگے(تومجھ سے)ایک بھی نہیں سنوگے! 2۔اگر کوئی تجھے گالی گلوچ دے، تو اسے کہو:جو کچھ توبول رہے ہواگرصحیح ہے تومیں خداسے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مجھے معاف کرے؛اوراگرجھوٹ بول رہے ہو، تومیں اللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ تجھے معاف کرے۔ 3۔اوراگر کوئی تجھے ناسزا اورگالی کی دھمکی دے، تو تم اسے نصیحت اورخیرخواھی کی نوید (بشارت) دو۔ وَ أَمَّا اللَوَاتِی‌ فِی‌ الْعِلْمِ: فَاسْأَلِ الْعُلَمَآءَ مَا جَهِلْتَ، وَ إیَّاکَ أَنْ تَسْأَلَهُمْ تَعَنُّتًا وَ تَجْرِبَهً؛ وَ إیَّاکَ أَنْ تَعْمَلَ بِرَأْیِکَ شَیْئًا، وَ خُذْ بِالاِحْتِیاطِ فِی‌ جَمِیعِ مَا تَجِدُ إلَیْهِ سَبِیلاً؛ وَ اهْرُبْ مِنَ الْفُتْیَا هَرَبَکَ مِنَ الاْسَدِ، وَ لاَ تَجْعَلْ رَقَبَتَکَ لِلنَّاسِ جِسْرًا! قُمْ عَنِّی‌ یَا أَبَا عَبْدِاللَهِ! فَقَدْ نَصَحْتُ لَکَ؛ وَ لاَ تُفْسِدْ عَلَیَّ وِرْدِی‌؛ فَإنِّی‌ امْرُؤٌ ضَنِینٌ بِنَفْسِی‌. وَ السَّلاَمُ عَلَی‌ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَی‌. واما وہ تین چیزیں جو علم و دانش سے مربوط ہیں: 1۔جوکچھ تم نہیں جانتے ہو وہ علما‏‏ء سے پوچھو؛ 2۔ اوران(علماء) سے صرف امتحان اورمزاحمت ایجاد کرنے کی غرض سے سوال نہ کرو؛ 3۔ اپنی شخصی رای کے مطابق کوئی بھی کام انجام دینے سے بازرہو،اوران تمام امورمیں احتیاط کی راہ اپنالوجن میں احتیاط کرنا مناسب ہے۔ اور جس طرح شیرسے فرارکرتے ہو،اسی طرح فتوادینے سے پرہیزکرو؛اوراپنی گردن کو لوگو کے عبورہونے کا وسیلہ یا پل قرارنہ دو۔ ای اللہ کا بندہ!(ابا عبداللہ) اب یہاں سے اٹھو! کیونکہ حقیقت میں،میں نے تیری نصیحت اور خیرخواہی کی ہے،میرے وِرد(اذکار) کو مجھ پر فاسد مت کرو؛(یعنی میں جس اذکارکا وِرد کررہا ہوں اس میں مزید خلل ایجاد نہ کر) چونکہ میں ایک ایسا انسان ہوں کہ زنگی کے ہر لمحے کا محاسبہ کرتا ہوں،میں خوف رکھتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک پَل بیہودہ گی میں گذر جائے۔ اور سلامتی کے تمام مراتب اوردرود خدا اس پر ہوجوھدایت کی پیروی کرتا ہے۔ منابع: 1۔ سه دستور العمل عرفانی از آیت الله علی آقا قاضی رحمه الله، مبلغان بهمن 1381، شماره 37، به نقل از محمد حسین حسینی طهرانی، روح مجرد، ص 175. 2۔ مشكاة الأنوار في غرر الأخبار، على بن حسن طبرسى، ص 326؛ بحار الانوار، ج‌ ۱، ص‌ ۲۲۴، کتاب‌ العلم‌، باب‌: آداب‌ طلب العلم‌ و أحکامه. 3۔ مشكاة الأنوار في غرر الأخبار، ترجمه عبدالله محمدى و مهدى هوشمند۔