بسم اللہ الرحمن الرحیم                                             

 (ازقلم:خادم حسین آخوندی)

امام خمینی(رہ)اور سیاست اسلامی

           مقدمہ:

       دین  مبین  اسلام ایک جامع آئین کا نام ہے  جو کہ  اللہ تعالی نے انسان کی زندگی  کو منظم بنانے کے لئے پیامبر اسلام  کے ذریعے ہم تک پہنچا یا ہے۔ اس آئین کے اندر ان تمام مسائل کا  صحیح اور جامع حل موجود ہے جن سے انسان اپنی  دنیوی اور اخروی  زندگی میں دوچار  ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو تمام مخلوقات پر  برتری  دےکر  نہ صرف  اشرف المخلوقات قرار دے دیا  بلکہ زمین پر اپنا جانشین   بھی مقرر کیا۔  تا کہ  خدا  کی عبادت اور اس کی آئین پر عمل پیرا ہوکر سعادت ابدی حاصل کرسکے۔ اس بلند اہداف کے حصول کے سلسلے میں نہ صرف نقشہ راہ  یا  فقط پروگرام کی تھیوری  کو انسان کے اختیار میں دےدیا ہے  بلکہ اس پر عملی جامہ پہنانے  اور ہدایت کی خاطر انبیاِء (ع) کو مبعوث کیا۔تاکہ   انسان  کی زندگی کے مختلف شعبوں میں رہنمائی کریں۔ ہمارے رسول حضرت محمد(ص)  انبیاء (ع) کے سلسلسے کی ایک اہم  کڑی ہے ،جن کو تمام انبیاء کا سردار قرار دیا گیا ہے۔

   رسول خداﷺ نے اپنی  بعثت کے اوائل میں جزیرہ نما عربستان میں پہلی اسلامی حکومت کا قیام عمل میں لا یا۔ اور  قرآن مجید کو آئین بنا کر پیش کیا۔ قرآن مجید اس زمانے کے لوگوں کے سامنے ایک انوکھا پروگرام تھا۔ کیونکہ زمان جاہلیت میں کوئی  بھی قانون ، آئین اسلام کی طرح جامع اور فراگیر نہیں تھا ؛ بلکہ ناقص اور ناکافی تھا۔ چاہے وہ  آئین سلطنت روم ہو یا ایران۔                                                           

   جب   لوگوں نے قرآنی آیتوں پر غور کر کے   اس بات کو سمجھ لیا کہ حقیقت میں قرآن ہی انسان کی زندگی کو منظم بنا سکتا ہے اور سوسائٹی کے اندر عدالت قائم کرسکتا ہے، تو  یہ دیکھ کر لوگوں نے ہرطرف سے قرآن کا استقبال کیا۔ اور  حکومت اسلامی کے سایے میں زندگی گزارنے پر ترجیح دی۔

   رسول خداﷺ کے بعدجب حضرت علیؑ   آنحضور کے جانشین مقرر ہوے، تو آپؑ نے سیاست اسلامی کو جوکہ رسول خدا ﷺ کی سیاست تھی، اسی کو مزید  توسیع  دیکر جامعہ اسلامی کے اندر عدالت اور امن و امان کو یقینی بنایا۔ اور یہی سلسلہ امام علیؑ کی شہادت کے  بعد امام حسنؑ کی  حکومت  میں بھی جاری رہا۔ لیکن بعد میں  بنی امیہ  نے تاریخ اسلام میں پہلی پر مرتبہ خلافت کو ملوکیت میں تبدیل  کر کے شیطانی سیاست کو آئین اسلام یا سیاست علوی کا جاگزین قرار دے دیا۔ تب سے لیکر  تقرباً اکیسوں صدی عیسوی تک  یہی سلسلہ جاری تھا ۔لیکن اسی دوران میں فرزند علیؑ امام خمینینے شیطانی سیاست  اور حکومت کو باطل قرار دےکر ایک  بار پھر دنیا میں سیاست اسلامی کی بنیاد پر ایران میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں لایا۔

 امام خمینی(رہ)  وہ عظیم  شخصیت تھی جنہوں نے امام زمانہ(عج) کی  غیبت کبرا  کے زمانے میں سیاست علوی کو  دوبارہ زندہ کیا۔

         اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کیا دین میں سیاست بھی شامل ہے؟ سیاست نبوی اور علوی، اور  آج کی دنیا کی سیاست  میں کیا  فرق  ہے؟حضرت امام خمینی(رہ) نے سیاست کی کیا تعریف کی ہے؟

 یہاں پر ہم   سب  سے  پہلے لفظ "سیاست" کے حوالے سے بحث کریں گے اور اس کے  مختلف زاویوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

سیاست کی لغوی معنی:

     یہ ایک عربی لفظ ہے جو کہ "ساس یسوس "سے لیا گیا ہے۔ اور یہ لفظ متعدد معنی رکھتا ہے۔ جیسے حکومت، ریاست، پرورش، ادارہ کرنا، مصلحت کرنا، تدبیر کرنا، عدالت اور رکھوالی کرنا۔(لسان العرب، قاموس الغہ لغت نامہ دہ خدا)۔

      بعض محققین کا  کہنا ہے کہ ان تمام معنوں میں سے  سیاست کا سب سے مناسب معنی ،پرورش اور  تربیت دینا ہے۔ان کا دعوا ہے کہ کوئی بھی  لفظ  ابتداء میں کسی محسوس اور مادی شیئ کے لئے انتخاب کیا جاتا ہے اور بعد میں اس معنی کو مزید  توسعہ دیکر یا  استعمال کی کثرت کی وجہ سے غیر مادی اشیاء کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے  طور پر اس عربی جملے کی وضاحت میں کچھ  یوں لکھا جاتا ہے:۔(ساسه الفرس ای راضها) اس کی معنی یہ ہے کہ مالک نے گھوڑے کی  پرورش اور تربیت کی۔ اسی طرح سیاست کا مفہوم بھی اس کے مصداق میں توسعہ دیکر  انسان یا سوسائٹی  کی تربیت   یا حتی ایک فرد کی پرورش اور تربیت  کی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔(نگرشی بر فلسفئہ سیاسی اسلام ،ص: ۱۵۰)۔

سیاست کی اصطلاحی معنی

     سیاست کی اصطلاحی معنی کے حوالے سے  دانشمندان کا  نظریہ ایک جیسا نہیں ہے بلکہ ہر ایک کے الگ الگ نظریے ہیں۔آج تک دہائیوں کی تعداد میں سیاست کی  تعریفیں ہوچکی ہیں۔ البتہ اسکی وجہ ہر ایک کے سلیقے کا متفاوت ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کی سیاست کی جامع اور مانع تعریف کرنا تقریباً ناممکن ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے مفہوم اور  تعریف میں مزید پیچید ہ  گیاں ایجاد ہوچکی ہیں۔ لہذ آنے والے عناوین  میں بحث ہوگی انشاء اللہ ۔

 

 

 

 

سیاست قرآن مجید کی روشنی میں

    اگر چہ قرآن مجید میں لفظ سیاست کا ذکر نہیں ہوا ہے لیکن اس کے مفہوم  کی بررسی یا وضاحت کی خاطر ہم قرآن  میں موجود ایسے الفاظ جو مفہوم کے اعتبار سے لفظ سیاست سے قریب ہیں، جیسے ولایت، امامت، اور خلافت ان  الفاظ سے استفادہ کرسکتے  ہیں۔

  چنانچہ خداوند متعال سورہ بقرہ کی آیت نمبر۲۵۷ میں فرمارہاہے۔

  اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ وَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِياؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُماتِ أُولئِكَ أَصْحابُ النَّارِ هُمْ فِيها خالِدُونَ (257)

  اس آیہ شریفہ میں خداوند متعال نے ولایت اور امامت کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے امامت حق اور  امامت باطل۔ لیکن دونوں کا مفہوم سرپرستی اور سیاست کا ہے۔ یعنی سیاستمدار حق انسان کو سعادت اور روشنی کی طرف ہدایت کرتا ہے اور سیاست مدار باطل  انسان کو تاریکی اور بدبختی کی طرف لے جا تا ہے۔

  دوسری آیت میں خداوند فرماتا ہے: وَ جَعَلْناهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا۔(انبیاء۷۳)

  اس آیہ شریفہ میں بھی امامت حق  جو روشنی کی طرف ہدایت کرتا ہے اس  کی طرف   اشارہ  ہوا ہے۔

 یا فرماتا ہے: وَ جَعَلْناهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَ يَوْمَ الْقِيامَةِ لا يُنْصَرُونَ ۔(قصص۴۱)۔

اس آیہ شریفہ میں امامت اور  باطل حکومت کی طرف  اشارہ ہوا ہے  جو انسان کو  جہنم کی آگ  کی طرف دعوت دیتی ہے۔

 کبھی قرآن حکومت اور جامعے کی سرپرستی کے لئے لفظ خلیفہ کا استعمال کیا ہے۔

يا داوُدُ إِنَّا جَعَلْناكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لا تَتَّبِعِ الْهَوى‏ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذابٌ شَدِيدٌ بِما نَسُوا يَوْمَ الْحِسابِ۔(ص۲۶)۔

  ای داود ہم نے تم کو زمین پر اپنا جانشین بنایا ہے  لہذا تم  لوگوں کے درمیان  حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشا ت نفس  کا اتباع نہ کرو کہ وہ راہ خدا سے منحرف کریں ۔بیشک جو لوگ راہ خدا سے بٹھک جاتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے انہوں نے روز حساب کو یکسر نظر انداز کردیا ہے۔

سیاست روایات کی روشنی میں

        لفظ سیاست در حقیقت روایات میں بھی پرورش، تربیت اور ریاست کی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ہم یہاں پر ان روایات میں سے چند، نمونے کے طور پر ذکر کر دیتے ہیں۔

  پیامبر اکرمﷺ فرماتے ہیں:کان بنو اسرائیل تسوسهم انبیاءهم۔ ہمیشہ بنی اسرائیل کی ریاست اور سرپرستی انبیاءؑ کے عہدے پر  تھی۔

 دوسری جگہ فرماتے ہیں: فوّض الیهم امر الدین و الدنیا لیسوس عباده.

 انبیاء  (ع) کو لوگوں کے  دینی اور دنیوی امور کو سونپ دیا تھا   تاکہ ان کی تربیت اور پرورش کریں۔

(اصول کافی،ج۱ص۲۲۶)

  ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ولامام مضطلع بالامامه، عالم باسیاسه.

 امام جامعے کی رہبری میں، خودکفیل اور سیاست سے آگاہ  ہوتا ہے۔(اصول کافی،۱،ص۲۰۲)۔

 امام صادقؑ فرماتے ہیں: جب خدا وند متعال نے پیامبر گرامی اسلام ﷺ کو اخلاقی اور روحی اعتبار سے تربیت کی۔

(ان الله ادب نبیه باحسن ادبه فلما اکمل له الادب قال:انک لعلی خلق عظیم. اس کے بعد فرماتے ہیں: ثم فوض الیه امر الدین ولامة لیسوس عباده.)اصول کافی،ج۱،ص۲۲۶۔

( خداوند متعال نے اپنے  رسول(ص) کو بہترین  انداز میں تربیت کی اور جب ادب و تربیت اپنے کمال تک  پہنچا یا تو  فرمایا: آپ  اخلاق کے  بالاتریں درجے پر فائض ہیں۔اسکے بعد دین اور امت کے امور اسکے اختیار میں دے دیا(تاکہ بندوں کی  صحیح تربیت   اور پرورش ہوجایے)۔

الامام عارف بالسیاسة.(بحار الانور،ج۹۹،ص۱۲۷،من لا یحضر الفقیہ،ج۲،ص۶۰۹)

 امام وہ ہیں جو  سیاست سے آگاہی رکھتے ہیں۔

  اور اسی طرح زیارت جامعہ کبیرہ میں ہم پڑھتے ہیں:اسلام علیکم یا اهل بیت النبوة... و دعائم الدین وساسة العباد.

   امام  علیؑ، پرورش، ادب اور سیاست کے درمیان رابطے کے حوالے سے فرماتے ہیں:بحسن السیاسة یکون الادب الصالح.

اچھی سیاستمداری سے یہی  ادب شایستہ حاصل ہوتا ہے۔(اصول کافی،ج۱،ص۲۲۶)۔

   نیز امامؑ عدالت  اور سیاست کی نسبت کے حوالے سے فرماتے ہیں: ملاک سیاسة العدل.جمال السیاسة العدل فی الامره والعفو مع القدرة.( سیاست کی اساس ،عدالت ہے۔سیاست کی حسن ، حکومت میں عدالت کی رعایت  اور حالت اقتدار میں  بخشش کرنے میں ہے۔)

 ایک اور مقام پر امامؑ فرماتے ہیں:آفة الزعامة ضعف السیاسة.(میزان الحکمه.ج4ص584.

(زعامت کی آفت، ضعف سیاست ہے)

   سیاست کی معنی مغربی دانشمندوں کے نزدیک

      یورپی  دانشمندوں کا کہنا ہے کہ لفظ سیاست(politic) یونانی کلمہ ہے۔ جوکہ لفظ((polisسے لیا گیا ہے ۔درواقع polis یونان کے ایک شہر کانام ہے۔ چنانچہ ارسطو(Aristotle)  اپنی سیاست نامی کتاب میں لکھتا ہے۔(انسان Polisis کے حکم پر ایک ایسا موجود ہے جوPolis  میں زندگی کرنے کے لئے خلق کیا گیا ہے۔ ارسطو کے نزدیک انسان کی آزادانہ زندگی  کا تصور  صرف  مدنیت اور  شہریت میں  ہی  ممکن  ہے۔اس اعتبار سے یونان باستان کے نزدیک علم سیاست کا موضوع شہریت اور مدنیت تھا ۔اور بعد میں آہستہ آہستہ اس کی معنی کا دائرہ  وسیع ہوتا گیا  اور قانون اساسیConstitutionیا حکومت کے معنی میں بھی اطلاق ہوا۔ بہرحال یونانیوں کی نظر میں شہر اور حکومت ناقابل تفکیک یا جداناپزیر تھا ،لہذا لفظ شہر اور حکومت یا State اس کا نزدیک ترین اور واضح ترین مفہوم ہے۔(سیاست،ص۱۳۔جامعہ حکومت،ص۲۹۔)

    ہم یہاں پر بعض مشہور نظریات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مختلف سیاستدانوں اور دانشمندوں کی آراء ہیں۔

  ۱۔اقتدار کا حصول اور اس کی حفاظت کرنا

        بعض ماہرین سیاست کا نظریہ  کچھ اس طرح  ہے۔سیاست یعنی مختلف گروہوں،قوموں اور حکومتوں کا   آپس میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے لڑنا یا جنگ کرنا ہے،خواہ یہ اقتدار کا حاصل کرنا قانونی ہو یا غیر قانونی، ان کے نزدیک یہ بھی  جانناضروری نہیں ہے  کہ یہ  اقتدار کی جنگ کس کے ایما پر یا کس جگہے یا کس مبناء اور  بنیاد پر لڑی جاتی ہو۔ ان کا مقصد صرف اور صرف اقتدار کی خاطر زورآزمائی اور طاقت کا بے تحاشا استعمال کرنا ہے۔اس قسم کے نظریے کا عملی نمونے آج کی دنیا میں بخوبی قابل  مشاہدہ  ہیں۔جیسے کہ بعض استکباری  حکومتوں کا طاقت کے بل بوتے پر دوسرے کمزور  ممالک  کے زمام حکومت کو اپنے ہاتھ میں لینا،غاصب اسرائیلی  رژیم کا فلسطین پر ناجائز قبضہ جمانا،عراق،شام اور مظلوم ملت یمن پر   آل یہود اور آل سعود کی طرف سے بے رحمانہ اور ظالمانہ  حملے جاری  رکھنا  وغیر یہ سب اسی سیاست کا بارزترین مصداق ہے۔

                       

 

 

واضح رہے کہ سیاست کے ایسی تعریف مغربی  اور بعض مشرقی ممالک  کی قدیمی سیاسی متون  اور کتابوں میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

 نمونے کے طورپر ہم  چند  موارد کی طرف اشارہ کردیتے ہیں۔

۰ مک آیور نامی دانشمند اپنی(  حکومت اور سماج) نامی کتاب میں سیاست کو اقتدار کا نافز کرنا اور تشکیلات کے متمرکز رکھنے  کے معنی میں قرار دیا ہے۔(جامعہ حکومت،ص۲۹)

۰ ھارڑولڈ لےسول:سیاست ایک ایسا علم ہے جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کون لےجاتا ہے، کیا لےجاتا ہے، کب لےجاتا ہے،کہاں لےجاتا ہے اور کس طرح لےجاتاہے۔(فہم نظریہ ھای سیاسی،ص۱۰)

۰ بریٹاین راسل:اپنی کتاب (اقتدار) میں سیاست کو  ،اقتدار  ہی کے معنی لیاہے۔

       ان کے علاہ رابٹ ڈال اور نیچہ کا بھی یہی نظریہ ہے۔ نیچہ کہتا ہے کہ اقتدار ہی سے حق حاصل ہوتا ہے اور کوئی بھی حق ایسانہیں ہے کہ جس کے باطن میں ایک قسم کی نارضایتی،غصہ اور ظلم نہ پایا جاتا ہو۔( مبانی اندیشہ ہای سیاسی در ایران و جہان،ص۱۱۔)

      البتہ  یاد رہے کہ جہان اسلام میں بھی کچھ اس طرح  کی تعریف (یعنی جبر و قدرت) قدیم زمانے سے  آج تک دیکھنے کو ملتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ مقولہ معروف ہے۔(الحق لمن غلب)یا(لا یقوم الناس الا بالسیف)۔( حق اسی کا ہے، جو غالب ہوتا ہے) لوگ صرف تلوار کے سایے میں  قیام  کرتا ہے)۔ (اصول علم سیاست،ص۱۰)۔

۲۔حکومت کا مطالعہ کرنا

    بعض دانشمندوں نے سیاست کا مطلب حکومت کے ڑھانچے اور میکنیزم یاشعبوں(Departments of the (Government کا باریک بینی سے ملاحظہ اور مطالعہ کرنا ہے، جیسے مشہور ماہرین سیاسیات آینڈرسن، کارلٹون، اور  کیسٹول ، انہوں نے اپنے سیاسی نظریات میں اسی مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست یعنی حکومت سے مربوط ایک مستقل علم کا نام ہے یا ( (Social scienceہے جس میں مختلف, Organizations  حکومت، اورGovernment کی  

کار کردہ گی وغیرہ کے حوالے سے بطور حضوری بحث کی جاتی ہے۔(آشنائی با علم سیاست،ص۳۰۔)

  ۳بحرانوں کا ادارہ کرنا۔Management of Crisis

     بعض ماہرین سیاسیات کا نظریہ ہے کہ سیاست سے مراد کسی بھی  بحران کو اپنی حدسے تجاوز نہ ہونے دینا اور اس پر مکمل  طور پر کنٹرول حاصل کرنے کے سلسلے میں حکومت کا تدبیری عمل اور ان سے فوری طور نمٹنے کی صلاحتوں کا نام ہی سیاست ہے۔ جیسے کہ  ریمون آرول  کہتا ہے  کہ سیاست یعنی سماج  یا ملک کے اندر در پیش  مسائل کو حل کرنے کے حوالےسے مصمم ارادہ رکھنا۔

 (اصول علم سیاست،ص۸)۔

۴۔ ہدایت اور  عدالت کے ساتھ سماج کی مدیریت  کرنا یا .Leadership

      حضرت امام خمینی(رہ)نے  صحیفہ امام نامی کتاب جوکہ  حضرت امام کی فرمایشات کا  ۲۲ جلدوں پر  مشتمل ایک مجموعہ ہے، اس کتاب میں مجموعی طور پر۵۸۹ مرتبہ لفظ سیاست کا استعمال کیا ہے۔بہت سارے دانشمندان اور نظریہ پرداز لوگوں نے  بڑی دقت کے ساتھ حضرت امام خمینی(رہ)کے سیاست سے متعلق آرا ء اور نظریات کا  مطالعہ کرنے کے بعد  اس نتیجے پر پہونچے ہیں کہ حضرت امام خمینی(رہ)  جوکہ عصر حاضر کے  بے نظیر دانشمند،فقیہ، اور سیاستدان تھے ،ان کےنزدیک سیاست کی تعریف یوں ہے۔ معاشرے کو  عدالت اور(ہدایت) اچھی راہنمائی کے ساتھ مدیریت کرنا۔

      پس حضرت امام خمینی(رہ)کے نزدیک سیاست سے مراد نہ اقتدار ہے نہ حکومت اور بحرانوں کی مدیریت کرناہے بلکہ  سیاست سے مراد  وہ عادلانہ تدبیر  ہے جو تقوا  اور ہدایت پر مبنی ہو۔

      حضرت امام خمینی(رہ)ایک  مقام پر فرماتے ہیں:  سیاست کی معنی یہ  ہے کہ ا س انداز سے معاشرے کی ہدایت اور راہنمائی کرنا جس میں  خود معاشرہ اور معاشرے کے تمام افراد کی مصلحت  اور مختلف ابعاد(زندگی) کو  ملحوظ خاطر رکھا جایے۔ یا  اس راستے کی جانب   راہنمائی کرنا جس میں لوگوں کی صلاح ہو۔ اس طرح کی سیاست انبیاء اور اولیاء الہی کی سیاست ہے اور ان کی تبعیت میں علماء کرام اس سیاست کو انجام دے سکتے ہیں۔(صحیفہ نور،ج۳ص۴۲۳)۔

  

 

نیز امامؒ فرماتے ہیں:

   سیاست سے مراد معاشرے  کو اس سمت  میں راہنمائی کرنا ہے، جس میں معاشرہ اور  افرادمعاشرہ کی صلاح ہو ۔ اور  یہی معنی  ہماری  روایات میں بھی رسول اکرمﷺ سے لفظ سیاست کے حوالے سے ثابت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ  دعاؤں اور زیارت جامعہ کبیرہ  میں بھی اسی معنی میں آیا ہے۔ خود رسول خداﷺ امت کی ہدایت اور سیاست کی خاطر  مبعوث ہوےتھے۔

(صحیفہ نور،ج۳ص۴۳۱)۔

    حضرت امام خمینی(رہ)نے سیاست کی تعریف میں تدبیر اور عدالت کی طرف زیادہ توجہ دی ہے۔امام(رہ)  کی نزدیک سیاست عین دین ہے  یعنی دین اسلام  ہی سیاست کا دوسرا نام ہے ،جو کہ اللہ تعالی نے بندوں کی ہدایت اور معاشرے کے اندر عدالت برقرار کرنے کے لئے  معیّن کیا ہے۔ یاد رہے کہ وہ سیاست جو عدالت، تدبیر اور ہدایت پر مشتمل ہو، وہی سیاست مطلوب اور  اسلامی ہے۔ اور یہی سیاست کی حقیقی تعریف بھی  ہے ۔حضرت امام(رہ)   نے سیاست کی اس جامع تعریف کو متن دین ،یا آیات و روایات اور ائمہ معصومین (ع)کی سیرت سے انتخاب کیا ہے۔ لہذا  جس سیاست کے اندر عدالت،ہدایت  اور تدبیر نہ پایی جاتی ہوں  وہ  سیاست اسلامی اور مطلوب نہیں ہو سکتی۔

  ۰حضرت امام خمینی(رہ) کی  نگاہ میں سیاست کی قسمیں

      سیاست کے مفہوم کو مزید   تجزیہ و  تحلیل(Analyze ) کرنے کی غرض سے ہم یہاں پر  سیاست کی اقسام کے حوالے سے بحث کریں گے۔جوکہ حضرت امام(رہ)  نے  دنیا میں موجود   متعدد سیاستوں کو ملاحظہ کرکے نیز  ان کی  خصوصیات اور  صفات کو  مدنظر رکھ کر ان کے لئے جداگانہ نام رکھا ہے ۔ذیل میں ان مختلف سیاستوں کی طرف اشارہ کر دیں گے۔

 

 

 

         ۱۔ سیاست شیطانی  یا  ڈیکٹیٹر شپ((( Dictatorship (آمریت)

      حضرت امام خمینی(رہ) نے آمریت اور ڈیکٹیٹرشپ والی سیاست جس کا دوسرا نام شیطانی سیاست ہے ،اس حوالے سے فرماتے ہیں:اگر سیاست  جھوٹ،دھوکہ اور فریب پر مبنی ہو، ایسی سیاست فاسد اور شیطانی سیاست ہے۔ چونکہ اس قسم کی سیاست میں عام انسان کی منفعت اور  مصلحت کو نظرانداز کیا جاتا ہے ، جبکہ انفرادی، گروہی،اور شخصی مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے۔

      اگر حکومت اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے سلسلے میں شیطانی ابزار اور Dictatorship   والی راہ  کو انتخاب کرے ،تو یہ سیاست مردود اور انسانی فطرت کے مطابق نہیں ہے۔ اور اگر کوئی اپنے آپ کوسیاست مدار سمجھ کر سیاست کی اصلی تعریف کو عمداً یا جہالت کی بنیاد پر شرعی اور اخلاقی اقدار  کا لحاظ نہ رکھتے ہوے معاشرے کے اندر سیاسی فعالیت  انجام دینا چاہے، تو یقینًا یہ کام غلط اور نادرست ہے۔  چاہے جس رنگ اور لباس میں ایسی فعالیّت ہو رہی ہو۔

     امام(رہ)مزید تأکید کے ساتھ فرماتے ہیں: جو سیاست یا حکومت ڈیکٹیٹرشپ اور ظلم پر  مبنی ہو،وہ مردود اورناقابل قبول ہے۔(وصیت نامہ سیاسی الہی،ص۲۰)

       شیطانی سیاست کا اصلی مصداق عالمی استکبار اور استعمارکی سیاست ہے۔ عالمی استکبار اور صہیونیزم کی  ہمیشہ  یہی کوشش رہتی ہے کی سیاست  کے اصلی اور حقیقی چہرے کو بگاڈ کر اس کا مسخ شدہ چہرہ دنیا کےسامنے پیش کیا جایے۔ اور اس کی منگڈت اور غلط تعریف کرکے لوگوں کو خاصکر سماج کے دیندار طبقے کو اس  اس سے دور رکھ کر اپنے زاتی اور مزموم  مفاد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے لوگ اس قدر سیاست سے متنفّر ہوچکے ہیں کہ  جب بھی سیاست کا نام لیا جاتا ہے تو فوراً   جنگ، استعمارگری، ظلم، غارتگری،دھوکہ دہی،غلط وعدے،فراٹ ،جھوٹ اور فریب وغیرہ  زہن میں آجاتے ہیں۔ حالانکہ  ان سب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔بلکہ  یہ سب  ایسے شیطانی ابزار ہیں جن کو عالمی استکبار اور منفعت طلب لوگوں   اپنے مزموم اہداف کو  حاصل کرنے کی خاطر استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ  امام  خمینیؒ  کا  وہ  مقولہ جس میں حضرت امامؒ  نے دین اور سیاست کو ایک قرار دیا ہے۔    امام   فرماتے ہیں،اسلام تمام کے تمام سیاست ہے۔ جب لوگوں کے سامنے  یہ بیان کیا جاتا ہے تو  نہ صرف اظہار تعجب کرتے ہیں بلکہ اس قول کی تردید کرنے کی بھی کوشش کرنے لگ جاتے ہیں۔ چونکہ ان کے اذہان میں یہ بات  رسوخ کرچکی ہے کہ  سیاست ایک لعنتی اور نفرت پھیلانے والی چیز ہے! جبکہ حقیقت اسے کوسوں دور ہے اور  غلط رفتار اور رویے کا نام غلطی سے سیاست نام رکھا گیا ہے، بےشک انسان اس قسم کی سیاست کے سخت مخالف ہے۔

     یہاں پر  ہم ایک بار پھر حضرت امام خمینی(رہ)   کے فرمان کا  ذکر کردیتے ہیں؛ صحیفہ امامؒ میں  حضرت امام خمینی(رہ)سے ایک یاد داشت کچھ اس طرح نقل ہوا ہے: امامؒ فرماتے ہیں مجھے ایک  قصہ یاد آرہا ہے ،جب میں جیل میں  قیدی بن کے تھا اور جب جیل سے رہا ہوکر  نظر بند(Home arrest)  کرنے کی بات ہورہی تھی۔ ایسے میں جیل کے انچارچ  نے مجھ سے کہا جناب والا! سیاست کو ترک کرو کیونکہ یہ  جھوٹ ،فراٹ، فریب کاری اور بہت بری چیز ہے، لہذا  آپ اس کو ہمارے لئے چھوڈ دیجے گا ،یہ ہمارے لئے مناسب ہے نہ آپ کے لئے! میں نے اسے کہا  :یہ والی سیاست واقعاً تمہارے  لئے ہی ہے۔۔۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ سیاست اس معنی میں جو وہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاست یعنی جھوٹ بولنا، مکر اور حیلے کے ذریعے لوگوں کے اموال پر مسلط ہونا اور معاشرے پر تسلّط حاصل کرنا وغیرہ۔ اس قسم کی سیاست کا  سیاست اسلامی سے کوئی ربط نہیں ہے بلکہ یہ شیطانی سیاست ہے۔

(صحیفہ امام،ج۱۳،ص۴۳۱)۔

 ۲۔ سیاست نفسانی و حیوانی

   حضرت امام خمینی(رہ)  کی نظر میں سیاست کی دوسری قسم کا نام سیاست نفسانی یا حیوانی ہے۔ اس قسم کی سیاست میں صرف نفسانی خواہشات ،معاشرے   میں انسان کی شخصی یا زاتی سہولیات اور مادی ضرورتوں کو پوری کی جاتی ہے۔ اسکے علاوہ  معاشرے کے اجتماعی اور انفرادی امن و امان کو یقینی بنایاجاتا ہے، تاکہ سماج کے اندر ہرج مرج((Anarchy وجود میں نہ آجایے۔

       لیکن حضرت امام خمینی(رہ)کے نزدیک یہ والی سیاست بھی درست نہیں ہے،اگرچہ یہ صحیح روش  اور نظم کے ساتھ اجرا  بھی ہوجایے۔چونکہ اس قسم کی سیاست میں صرف انسان کی  مادی اور حیوانی مصلحتوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔

     حضرت امام خمینی(رہ) اس قسم کی سیاست کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتے ہیں: انسان کا وجود ایک پہلوئی یا ایک عنصری(Single Dimension)  یعنی صرف حیوانی عنصر نہیں ہے  ،بلکہ  اسکے  علاوہ  عنصر روحانی بھی انسان کے اندر موجود ہے۔ ایسا  ہرگز نہیں ہے کہ  صرف  غذا تناول کرنا، غذا کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھومنا وغیرہ   انسان کا  کام ہے۔۔۔ اگرچہ یہ ایک عنصر والی( حیوانی)  سیاست صحیح روش سے اجراء ہوجایے ،تب بھی انسان  کو صرف ایک عنصر کے حوالے سے راہنمائی مل سکتی ہے۔ وہ ہے  عنصر حیوانی۔ اور   یہ والی سیاست اُس سیاست  کے مقابلے میں ناقص ہے جو انبیاء الٰہی ؑکے لئے ثابت ہے۔ ایک حکومت کو تشکیل دینا،صدر کا انتخاب کرنا اور گورنمینٹ  بنانا۔۔۔ اگر چہ صحیح اور درست  طریقے سے اجراء ہوجایے اور قوم کی بھلائی اور مصلحتوں کا لحاظ رکھا جایے تو یہ(حیوانی) سیاست انبیاءؑ کے پاس بھی موجود تھی۔(صحیفہ امام،ج۱۳،ص۴۳۱'۴۳۲)۔

۳۔ سیاست اسلامی

   سیاست اسلامی سے مراد وہ سیاست ہے جس میں حکومت لوگوں کی مادی اور حیوانی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی  معنوی  اقدار اور استعداد کو نکھار نے کی   کوشش کرتی ہے۔ حضرت امام خمینی(رہ)کی نظر میں سیاست اسلامی  اور  مطلوب سیاسی نظام اس سیاسی   نظام کا نام ہے جس کے اندر الہی نظام اور  اقتدار موجود ہوں۔ اس حکومتی نظام میں حاکم اسلامی اپنی حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ  جامعہ اسلامی کی  دنیائی اور آخرتی ضرورتوں  کو پورا کرنے کی کوشش کرتا  ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر حضرت امامؒ فرماتے ہیں؛  سیاست  وہ ہے جس میں معاشرے کی راہنمائی ہوتی ہے اور  معاشرے کے تمام تر  مصلحتون اور انسان کی زندگی کے مختلف ابعاد  کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔

     سیاست اس  چیز کا نام ہے  جس کو قرآن مجید میں صراط مستقیم  کہا گیا ہے ۔یہ ایسا صراط مستقیم ہے جو  اس دنیا سے شروع اور قیامت میں اسکا خاتمہ ہوتا ہے۔(  صحیفہ امامؒ،ج۱۳،ص۴۳۲)۔

      یہی وجہ ہے کہ ا سلامی حکومت اور سیاست کے اندر حاکم اور ارباب اقتدار کو چاہیے کہ  اسے پہلے کہ معاشرے کی راہنمائی کررے، خود کی تربیت، اور دستورات اسلامی کی رعایت کرے۔

 

 

 

 

 

 جیسے کہ مولای کائنات امام علی      کا ارشاد ہے:

مَنْ نَصَبَ نَفْسَهُ لِلنَّاسِ إِمَاماً فَلْيَبْدَأْ بِتَعْلِيمِ نَفْسِهِ قَبْلَ تَعْلِيمِ غَيْرِهِ وَ لْيَكُنْ تَأْدِيبُهُ بِسِيرَتِهِ قَبْلَ تَأْدِيبِهِ بِلِسَانِهِ وَ مُعَلِّمُ نَفْسِهِ وَ مُؤَدِّبُهَا أَحَقُّ بِالْإِجْلَالِ مِنْ مُعَلِّمِ النَّاسِ وَ مُؤَدِّبِهِمْ .

     اگرکوئی شخص لوگوں کا امام بناّ چاہے  تو وہ   لوگوں کی   تربیت کرنے سے  پہلے خود کی تربیت کرے،اور  دوسروں کو گفتار کے ذریعے ہدایت کرنے سے قبل اپنے  عمل کے ذریعے ان کی راہنمائی کرے، اور وہ انسان جو خود کی اصلاح اور تربیت کرتا ہے،اس کی تعظیم کرنا  اس  انسان سے بہتر ہے جو صرف دوسروں کو  ادب سکھاتا ہے۔(نہج البلاغہ کلمات قصار؛ ۷۳)

        دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی سیاست کے اندر صرف یہ نہیں دیکھا جاتا ہے کہ کس طرح کی حکومت تشکیل دی جایے، بلکہ  یہ بھی دیکھا  جاتا ہے کہ اقتدار سنبھالے تو کون سنبھالے۔ یعنی خود شخص بھی اہمیت رکھتا ہے ۔ یہ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔

 دین اور سیاست کا  ا  ٓپس میں رابطہ

  حضرت امام خمینی(رہ)کی سیاسی نظریے کے مطابق دین اور سیاست دو الگ الگ عنصر کا نام نہیں ہے بلکہ  یہ دونوں ایک دوسرے کو تکامل بخشنے والے ہیں۔ اگر دین سیاست سے جدا ہوجایے تو گویا  دین نے   اپنے اجرائی بازو کو کھو دیاہے۔ اور اسی طرح سیاست دین سے جدا ہو جایے تو یہ ایک خطرناک عنصر میں تبدیل ہوکر سیاسی  اقتدار کا لگام  شرور اور نالایق افرد کے  ہاتھ لگ جایے گا۔

حضرت امام(رہ) فرماتے ہیں: دین اسلام ایک سیاسی دین ہے جس میں سب کچھ سیاست ہے۔ دین اسلام ایک ایسا مکتب  ہے جو باقی توحیدی مکاتب سے ذرا  ہٹ کر ہے  چونکہ یہ انسان کی زندگی کے تمام شعبوں میں دخالت کرتا ہے ۔چاہے وہ  فردی معاملے ہوں یا اجتماعی، مادی ہوں یا معنوی، ثقافتی ہوں یا سیاسی، یا   پھر اقتصادی ہوں۔ غرض اسلام ان تمام مسائل پر نظارت رکھتا ہے۔ اور کسی معمولی چیز کو  بھی نظر انداز نہیں کیاہے۔(صحیفہ نور،ج۱۷ ص۱۳۹)

 

  انبیاءؑ اور اولیاء الٰہیؑ کی  پاک زندگی میں سیاسی کردار

     انبیاءؑاور اولیاءؑ الہی  کی دیانت ؑعین سیاست تھی اور سیاست عین دیانت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان مقدس ہستیوں نے اپنی سیاست عملی اور نظری دونوں کو  احکام  الہی اور  اللہ کی رضایت کی بنیاد پر بنا ڈالی ہے ۔دینی اور سیاسی زمہ داریاں دونوں ان کے ہاتھوں میں تھیں۔ حضرت امام علیؑ  لوگوں کو  دینی احکام سے آشناء کراتے تھے اور ہاتھ میں تلوار بھی  ہوتی تھی، اور  جنگ بھی لڑتے تھے۔

        خود  رسول خداﷺ نے  قرآن اور  احادیث کے ساتھ ساتھ شمشیر کا بھی سہارا لیا۔ آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں بہت سارے سیاسی اقدامات بھی  اٹھایے۔جیسے روم، یمن اور ایران  کے بادشاہوں کو خط لکھ کر بھیجا ،نیز صلحہ حدیبیہ کے موقعے پر صلح نامے پر دستخط کیا۔

      حضرت زہراؑ   ولایت سے دفاع  کرنے کے سلسلے میں چالیس  رات  تک  مھاجر و انصار کے  گھر  پر    تشریف لے گئیں۔ جناب زھراؑ نے  مسجد میں جا کر خلیفہ دوم کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس کے علاوہ حضرت زھراؑ کی وہ وصیت کہ جس میں آپؑ نے فرمایا میرے جنازے پر فلان فلان  افراد  کو شرکت    کر نے  کی اجازت  نہیں  ہے، اور میری قبر کو مخفی رکھا جایے۔ غرض یہ سب اقدامات سیاست پر ہی  مبنی تھے۔ زیارت  عاشورا  کے بعض جملے کاملاً سیاسی ہیں جیسے  میں ان سب لوگوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں جو امام حسینؑ کی  قتل پر راضی تھے۔ یعنی اگر آج بھی کوئی قتل حسینؑ پر راضی ہیں یا خوش ہیں  تو ہم ان سے بیزار ہیں۔ 

       حضرت امام خمینی(رہ)فرماتے ہیں: میں ان  ملّاؤں میں سے نہیں ہوں جو ہاتھ میں تسبیح لے کر ایک ہی جگہے پر  بیٹھا کرے۔ میں پاپ(Pop ( نہیں  ہوں کہ صرف اتوار کے دن  کلیسا(چرچ) میں جا کر  دینی رسومات انجام دوں اور باقی ایام میں بادشاہ  بن کر  باقی امور سے بے خبر رہ جاووں۔ صحیفہ نور۔ج۱۰ ،ص۶۵)۔

 

 

 

 

 سیرت معصومین میں سیاست

  کے  ماہرین کے نظریے  کے مطابق، غالباً کسی بھی مکتب اور قوم کے اندر انکے رہبران   کی (Social science)سماجی علوم         سیرت  اور  روش اُس مکتب کا  مکمل آ‏ئینہ  ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ   سیرت کو  قومی ستون یا ثقافت  کا  ایک اہم جز‏‏‎‌‍‌ء قرار دیا  گیا ہے۔ ہر سماج  کے افراد کا اصلی نمونہ یا   آیڑ‏‏یل   سماج کے  مشہور اور  نخبہ لوگوں  کی عملی سیرت   ہوتا ہے۔

     مکتب اسلام میں  بھی  مسلمان حضرت رسول (ص) اور  ائمّہ معصومین(ع) کی سیرت پاک  کو  اپنے لئے نمونہ قرار د یتے ہیں۔ لہذا   ہر  مسلمان پر  ضروری ہے کہ  اپنی   زندگی  کے تمام  معاملات میں  انکی سیرت   کو    اپنا نصب العین  قرار دیں۔

     هما ری زندگی  کے    اهم  مسا‏ئل  میں سے  ایک  اہم  مسئلہ  ‎ سیاست   ہے۔  اس حوالے سے  جب هم   ائمّه معصومین (ع) اور   علماء کی سیرت عملی کی طرف نظر   ڈالتے ہیں  تو همیں  ایسی کوئی دلائل نهیں    ملتی هیں    جو   دین  اور سیاست کے  ایک  دوسر ے سے  جدا ہونے  پر دلالت کرتی ہوں۔ بلکه اسکے  بر عکس دلائل موجود هیں جن سے  انکے  واحد هونا  ثابت ہے۔    

     رسول گرامی اسلام (ص)نے سیاست کی بنیاد  دیانت  پر رکھی ہے،  اور خود  رسول خدا (ص) نے    اسلام میں  سب سے   پہلے حکومت تشکیل دی   تھی ۔ حضرت امام   خمینی (رہ) فرماتے ہیں: ہم ا یسی حکومت کے  خواہشمند  ہیں   جسکا  حقیقی مصداق   رسول الله(ص) کی حکومت هے( جبکه وه خود حاکم بھی  تھے)۔ امام              مزید فرماتے ہیں: ہم نے  یہ  طے کرلیا ہے کہ   ہم (مملکت) کے لئے   امراء اور  مدیروں  کا انتخاب  کرینگے۔ لہذا  اس سلسلے میں  ہمیں  ہمارے بزرگوں  کی سیرت کی  طرف  نظر  کرنی چاہیے جن میں  خود  امیر المومنین علی (ع)  ہمارے لیئے   آئڈیل ہے۔( صحیفہ   نور،ج2ص 136)

    حضرت امام خمینی (ر ہ)کے  سیاسی نقطہ نگاہ  کے مطابق    ، نیز   ائمّہ  معصومین (ع) کی سیرت پاک   کی طرف نگاہ  کرنے  سے یہ

 وا ضح ہو جاتا ہے کہ  یہ ہستیاں  بعثت کے ا وائل  سے ہی  اسلامی  سماج  کے سیاسی مسائل   اور    امور     کی مدیریت پر مامور تھے۔

چنانچه  حکومت  کا تشکیل دینا ، قوم کی سیاسی  رهنمائی، کفار سے بر سر پیکار هو  نا  ، راہ خدا میں شهید اور  قید کی صعوبتو  ں  کو تحمل کرنا، مختلف علاقو ں  میں  والیوں  کی تقرُّری عمل میں لانا  اور  بعثت  کے ساتھویں  برس  میں رسول اللہ (ص) کا   دنیا کے  مختلف ممالک  کی جانب  سفیروں  کا روانہ کرنا ،  یہ سب  اس بات کی ٹھوس دلیل ہے کہ  دین اور سیاست ایک دوسرے سے آمیختہ اور   جدائی نا پزیر ہے۔

                  ہم اگر  ا ئمّہ   معصو  مین(ع) کے پیروکار ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے   کہ  ان عظیم   ہستیوں نے  اپنی  پاک زندگی میں کیا     کیا کرتے تھے؟ کیا انہوں  نے صرف  بیٹھ کر شرعی مسئلے  بیان کیا کرتے تھے؟!اگر صرف   بیٹھ کر مسئلے بیان کرتے رہتے تو  ظالموں  اور  ستمکاروں  کے  ہاتھوں  یہ لوگ شہید نہ ہو تے۔ اور نہ ہی   کوئی  مشکل ہوتی، دوسرے  الفاظ میں   ان کا  ستمکاروں کے ہاتھوں شہید  یا قیدی ہونا  ،بے معنی  ہوتی۔( صحیفہ نور،ج20 ص 159)

      امام خمینی(رہ)کی نظر میں  ائمّہ معصومین (ع) کا مقصد حکومت کا قیام  اور  سیاست میں دخیل ہونا تھا۔ اگر کسی خاص زما نےمیں ان حضرات نے  سیاسی امور سے کناره گیری اختیار   کر لیا  هے  تو   ایسا کرنا  ،ایک  خاص مصلحت کی بنا  ء پر تھا   جو اس سیاسی امور سے  زیاده

ا همیت   کا حامل هوتا  تھا .جیسے اتحاد بین المسلمین یا وفادار حامیون  کا فقدان هونے  کی وجه سے  ایسا کرنا   ناگزیر  بنتا تھا۔

      اہل بیت (ع) کا   شیوہ ایسا   بلکل    نہیں تھا کہ عوام سے فیصلہ  اختیار کر لیں ۔بلکہ    یہ حضرات ہمیشہ عوام الناس سے جڑے رہتے تھے۔اور  جب بھی موقع  مل جاتا تو حکومت کا بھاگ دوڈ  خود سنبھال لیتے  تھے۔(صحیفہ نور، ج 19 ص 118)

      اسلام  ہی  در اصل حکومت کا  نام ہے اور  اسلام کی شان و شوکت بہت زیادہ ہے۔ احکام  اور قوانین اسلامی  اسی شان و شوکت کی نشانی ہے۔یعنی  اسلام میں  احکام اور قوانین کا  وجود ہو نا ہی،   حکومت کی صلاحیت  اور ظرفیت  کی علا مت ہے۔ اسلام میں قوانین اور احکام کی اجرائی  کی اہمیت کے حوالے سے  اگر بحث کیا جایے  تو اتنا کہنا کافی ہو گا کہ ہمارے  ائمّہ  معصومین(ع) اسی قرآن کو اجرا کرنے  اور اسلامی  حکومت کی تشکیل کی راہ  میں بہت ساری   سختیاں جیلیں اور  جابر حکومت کا تختہ الٹنے  کی  تلاش کرتے ہوے شہید ہوگئے۔

 

 

 

 

   دینی اداروں کا سیاست کے ساتھ  را بطہ

       حضرت  امام خمینی(رہ)کی  نگاہ میں  طبقہ روحانیت  اور  دینی  اداروں کی زمہ داری یہ ہے کہ  وہ  معاشرے  کے  اندر ناصح  ا ور مصلح کے عنوان سے  رہیں۔ نیز ظلم و فساد سے  مقابلہ کرنے کے سلسلے میں ہمیشہ پیش قدم رہیں ، اور روحانیت    عوام کے خدمت گذار ہونی چاہے۔دینی حکومت کی  تأسیس ، دینی احکام  کا نشر اور مراکز کا  احیا کرنا، دین کی حمایت کرنا، سماج کے کمزور طبقوں اور مستضعفین کی  بھرپور مدد کرنا، اور استکبار جہانی  کے مقابلے میں استقامت  کرنا  روحانیت کا اصلی کام ہے۔  مزکورہ  عوامل کو ملحوظ  خاطر  رکھتے ہوے  ہم   یہ  ادّعا کرسکتے ہیں کہ  سماجی زندگی(Social life )میں   علماء یا روحانیت  ،باقی   طبقے  اور عناصر  کے بنسبت   زیادہ    سیاست  سے  قریب ، اور  سیاسی  معاملات ،نیز   تشکیل حکومت کے حوالے سے  زیادہ    مئوثر  ہیں۔

    حضرت امام(رہ)ایک مقام پر اس موضوع  کے بارے میں یوں فرماتے ہیں: اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے مدارس اور  متعھّد علماء کرام  تشیّع کی تاریخ میں ہمیشہ  کجرویوں  اور  انحرافات کے مقابلے یک  اہم  (مضبوط) قلعے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

 (کلمات قصار،ص 117۔)

        ہمارے علماء  جس قدر ممکن ہو  دینی تعلیمات کے تئیں حقایق  کا   تذکرہ   اور   مذاکرات کے ذریعہ یا ا  پنے   ایلچی وغیرہ کو حکومت کے مکینزم میں  بھیج کر  مشکلات کا  ازالہ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر اس حکمت عملی سے  مسئلہ  حل نہیں ہوا تو ناچار  اس حکومت کے خلاف  قیام اور  اقدام  اٹھاتے ہیں۔(کلمات قصار،ص 189)۔

   سیاست کی ماہیت کا نادرست تعریف کرنا

      دین  اور سیاست کے  مابین عدم سنخیت  کا  توہّم  ایجاد ہونے کی ایک وجہ سیاست  کی  غلط تعریف ہونا ہے۔اسی لئے جب  بھی لوگوں کے اذہان    میں سیاست کا مفہوم آجاتا ہے تو فوراً  جھوٹ، فریب،دھوکا  دہی  اور غلط وعدے وغیرہ    آجاتے ہیں۔حقیقت      میں یہ سیاست کی اصلی معنی نہیں ہے بلکہ  یہ ان مفاد پرست عناصر  کی   سازش اور چال ہے جو   سیاست کی حقیقی معنی کو منحرف کرنے کی غرض  سے  اس غلط مفہوم کو معاشرے میں عام کیا ہے۔تاکہ دیندار افراد اور متعھّد    علماء اور  روحانیت      کو سیاسی میدان سے ہمیشہ کیلئے باہر رکھا جاسکے۔ اور سیاست پر   ہمیشہ کیلئے  اپنا تسلّط  برقرار رکھ کر  اپنے مفاد کا تحفظ کرسکے۔

     حضرت امام خمینی(رہ)فرماتے ہیں: ان لوگوں نے پہلے سے ہی تمہارے اذہان میں یہ  بات ڈال  دی ہے کہ  سیاست  سے مراد  جھوٹ   بولنا وغیرہ ہے ، تاکہ اس حربے کے ذریعے تم لوگوں کو حکومت کے امور  میں دخالت کرنے سے باز رکھ کر خود اپنے کام میں  مشغول رہیں۔(ولایت  فقیہ ؛ص129)۔

 امام(رہ)مزید فرماتے ہیں:

      سیاست (خدعہ) دھوکا دہی نہیں ہے؛ سیاست ایک حقیقت ہے؛ سیاست ایک ایسی چیز ہے  جو مملکت کو ادارہ کرتی  ہے۔ سیاست کا مطلب فریب اور دھوکا  نہیں ہے۔(بلکہ) یہ سب غلط معنی ہے،اسلام سیاست ہے ،فریب اور دھوکا   نہیں۔

(صحیفہ نور،ج9،ص20)

 عالِم دین اور عالِم سیاست کے درمیان فرق ایجاد کرنا!

    حضرت  امام خمینی(رہ)کے نقطہ نگاہ   کے مطابق، عالمی استعمار نے دوسروں کے منافع اور دولت کو  لوٹ  مار کرنے، اور اپنی ثقافت  اور مغربی  ارزش کو فروغ دینے کی غرض سے دو مختلف تفکر  "عالم دین اور عالم سیاست" کو ایجاد کیا ، اس کے بعد عملی طور پر   لوگوں کے درمیان  خاص کر مسلم معاشرے کے اندرتفرّقہ ایجاد کرنا شروع کیا۔تاکہ دین کو سیاست سے جداکرنے کا زمینہ فراہم  ہوسکے۔

      ایک مقام پرحضرت امام(رہ)فرماتے:

      ایسا کہنا  کہ دین سیاست سے جداہے ، یہ ایک ایسا  مطلب  ہے  جو استعمار نے لوگوں کے ذہنوں  میں ڈال رکھا ہے۔اس کے ذریعے سے  وہ  دو الگ الگ فرقوں کو ایک دوسرے      سے جداکرتا ہے۔    بعض لوگ جوکہ عالم دین ہیں اور   بعض غیر عالم دین، ان دونوں کے درمیان تفرّقہ ایجاد کرنا ( نیز  ایک دوسرے    کے  مقابل  میں لا کر  کھڑا کرنا ) ان کا مقصد ہوتا ہے۔  سیاست مدار  اشخاص کو باقی عوام سے جدا   کرتا ہے تاکہ اپنے  مفادات کو آسا نی سے حاصل کرسکے۔اگر (مسلمان)سب ایک قوت بن کر رہیں تو یہ  (استعماری قوتیں )جانتی  ہیں کہ  اس حالت میں ان کے منافع خطرے میں  پڑھ جایےگا۔لہذا لوگوں میں تفرقہ ڈالتے ہیں۔( تاکہ اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب ہوسکے)۔( صحیفہ نور؛ج20؛ص158)۔

    معاشرے  کے  متعھّد ، ایماندار  افراد اور علماء حضرات  کو سیاسی میدان  میں  وارد ہونے سے ہرگز نہیں کترانا چائیے ۔نیز  میدان سیاست کو  نااہل لوگوں کے لئے  خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ تاکہ    عوام  الناس  اور خاص کر سماج کے کمزور طبقوں کے حقوق  کا تحفظ ، اور   غارت گری سے  بچا سکے۔ اگر ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائے تو یہ بالاترین عبادت میں میں شمار ہوگا۔

     حضرت امام خمینی(رہ)کے نظریے  کے مطابق ایسا    ہرگز   نہیں ہے کہ اگر کوئی تمام تر  انفرادی اعمال کو بجالاتے رہے یا  دوسرے الفاظ میں سیر الی اللہ میں مشغول رہے،تو اس  نے  اللہ کی عبادت اور اطاعت کی ہے۔ اور اگر کبھی  کوئی اسلامی  معاشرے کی خدمت کرے اور  اس اسلامی معاشرے کی  خدمت  کے سلسلے میں  فعّالانہ  تلاش  اور کوشش کرتے رہے  ، تو یہ اللہ کی  عبادت شمار نہیں  ہوتی۔  بلکہ    یہی  سب سے   بڑی عبادت ہے ۔ قرآن  کریم   ،خدمت خلق کو  واجب قرار دے رہا ہے ۔اور   اس سلسلے میں   یوں  ارشاد فرمارہا ہے: تعاونو علی البر والتقوی. (مائدہ ؛ 2)یعنی نیکی میں  ایک دوسرے کی حمایت  کرو۔

جس کو    احادیث میں  بھی خدمت  خلق  کے نام سے تعبیر کیا ہے۔

       پیامبر گرامی اسلام ﷺ ارشاد  فرماتے ہیں: اگر کوئی  شخص کسی مومن بھائی کی  خدمت کرے گا، گویا اس نے  عمر بھر اللہ کی عبادت کی ہے۔((من قضی لاخیه المؤ من حاجة کان کمن عبد الله دهرا))  (بحار؛ ج 71؛ص302).

    ایک اور  مقام پر  حضرت امام خمینی(رہ)فرماتے ہیں:

    سیر الٰہی  میں یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان ایک گوشے میں بیٹھ کر یہ ادّعا کرے کہ  میں سیر الٰہی کرنا  چاہتا ہوں   ، ایسا کرنا   ہرگز  درست  نہیں ہے۔ سیر الٰہی  سے مراد  وہی  انبیاء الٰہی  اور خاص کر  پیامبر گرامی اسلام ﷺ  اور ائمّہ معصومین (ع) کی روش (سیرتیں) سیر الٰہی ہے۔ کہ جنہوں نے جنگ کیا کرتے تھے، قتل کر دیتے تھے  ، خود بھی مارے جاتے تھےاور حکومت کرتے تھے ۔ یہ سب کے  سب سیر الٰہی ہیں۔ ایسا  نہیں ہے کہ جس  دن حضرت امیر(ع)جنگ میں مشغول  ہوتے تو  سیر الہی نہیں  ہوتا   اور جب  نماز پڑھتے تھے  تو سیر الہی ہوتاتھا!بلکہ دونوں حالتوں میں دونوں کام سیر الہی  ہوتے  تھے۔یہی وجہ ہے کہ جنگ خندق (احزاب)میں  رسول خداﷺنے ارشاد فرمایا: روز خندق میں علی(ع) کی ضربت ثقلین کی عبادت  سے افضل ہے۔    

(صحیفہ نور؛ ج 17؛ص 123)۔

      سیاست سے جدا  والی عبادت، مصلحت اجتماعی میں  نہیں تھی۔ اسلام میں ہروہ کام جن کی انجام دہی کی طرف دعوت ہوئی ہے، عبادت شمار ہوتا ہے۔یہاں تک کہ کارخانوں میں کام کرنا،زمینداری، اسکولوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کام کرنا وغیرہ یہ سب   اسلامی مصلحتوں میں سے  ہیں اور عبادی  پہلو    رکھتے ہیں۔( صحیفہ نور؛ ج 18؛ص 257)۔

 سیاست مدار متعھّد علماء سے قداست زدائی

     ہرمسلمان اپنے  اعتقادات کی بناء پر روحانیت اور علماء  کے لئے ایک خاص قداست کے قائل ہیں۔اور خود کو انکے تابع   سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے  کہ تاریخ میں جب بھی علماء  حضرات نے انقلابی حرکت کا آغاز کیا، لوگوں نے ان کا  بھرپور ساتھ دیا اور  انکی پیروی کرنے لگے۔جیسے آیت اللہ میرزای شیرازی (رہ) کی طرف سے تنباکو کی حرمت کا فتوا، ایران میں نہضت مشروطیت اور انقلاب اسلامی وغیرہ  ۔جب استکبار  جہانی اور سامراجی  طاقتوں نے کو  معلوم ہوا  کہ   مسلمانوں کے درمیان  علماء کی مقبولیت بے نظیر ہے  اور ہر انقلابی تحریک میں روحانیت کا  اثر رسوخ سب سے زیادہ ہے، تو    ا ن قو   ّ  توں نے  یہ کوشش کی  کہ  لوگوں  اور  علماء کے  مابین  تفرقہ ڈال کر  ایک دوسرے   سے جدا  کریں۔ ان  کے  مزموم عزائم  اور سازشوں  کا   ایک  مہلک  حربہ، متعھّد علماء سے  تقدّس زدائی ہے۔ یعنی  علماء کے تقدّس  اور شان و شوکت کو  معاشرے کے اندر  ختم کرنے کی  سرتوڑ کوشش کرنا ان کا  اصلی مقصد ہے۔ اس حوالے سے حضرت امام خمینی(رہ) فرماتے ہیں:

         انہوں نے  بہ خوبی اس بات کو درک کیا تھا کہ اس گروہ(علماء) کو جو کہ  لوگوں کے درمیان موجود  ہیں اور  لوگوں میں  نفوز(اثررسوخ )      رکھتے ہیں،ہر مسائل میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں، لہذا کوئی    ایسا  کام کرنا چاہیے  تاکہ لوگ خود  روحانیت  کو سیاسی  مسائل  میں مداخلت کرنے  کی اجازت نہ دیں۔ نیز  روحانیت اس مرحلے پر پہنچ جایے کہ وہ    پرعزم  ہوکر خود اعتراف کرے کہ  ہمیں  سیاسی امور میں دخالت  نہیں کرنی چاہیے!۔(صحیفہ نور؛ ج14 ؛ص 20)۔

     روحانیت سے قداست کو  ختم کرنے کے سلسلے میں دشمن نے اس قدر کام کیا کہ  امام خمینی         ایک یاد داشت میں یو ں  فرماتے ہيں:دشمن نے اس قدر منفی  تبلیغ کی تھی ، کہ  مجھے قم میں آکر ابھی صرف دو سال ہوچکے تھے، قم میں یہ حالت تھی کہ  ایک روحانی جوکہ  ایک  شعبے کا رئیس بھی تھا، لیکن لوگ اس روحانی سے متنفّر تھے۔  لوگ اس روحانی کو طعن   اور ناسزا کہتے تھے۔ (جب اس کی علت    پوچھی جاتی تو) کہا جاتا تھا   اس روحانی کے گھر سے  اخبار(News paper) برآمد ہوا ہے۔  یعنی ایک روحانی شخصیت کے گھر سے اخبار برآمد ہونا  اتنا   برا  مانا  جاتا تھا کہ لوگ  ان سے قطع رابطہ یا سوشل بائیکاٹ کر دیتے تھے۔

( صحیفہ نور؛ ج 8؛ص 211)۔

     واضح رہے کہ جب  روحانیت سے قداست  ختم ہوجایے  تو نتیجے کے طور  پر  سماج کے اجتماعی، سیاسی اور  فرہنگی(ثقافتی) امور  میں  روحانیت کا اثر رسوخ ختم ہوجایے گا۔ چونکہ اجتماعی تحرّکات کا لازمہ  لوگوں کی حمایت ہوتا ہے۔ اگر  یہ حمایت  فقدان ہو جایے تو   

  بہ تعبیر امام ،لوگ  اس روحانی کے اقتداء میں نماز پڑھنا بھی چھوڑ دیں گے!۔

      کہا جاتا تھا کہ یہ عالم سیاسی ہوگیا ہے  ان سے  دوری اختیار کرو۔ ان کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھتے تھے، یہ کیا  ماجرا تھا؟ یہ علماء کو سیاست سے دور رکھنے کے لئے  ایک  سازش تھی۔(صحیفہ نور؛ ج 9؛ ص 203)۔ 

   روحانیت کی معاشرے میں بدعملی کے تأثرات

     اسلامی معاشرے  کے اندر، دین  ا ور دینداری کا سمبل (نمونہ)   علماء   ہوتے ہیں۔  لوگ جب ،  دینداری  میں اپنے لئے  کوئی  الگو(آیئڈیل ) انتخاب کرنا چاہتے ہیں، تو  علماء کو اپنے ذہن میں مجسّم کر تے ہیں۔ ایسے میں اگر علماء،  دین کو صحیح طریقے سے معرّفی  کرنے میں ناکام رہیں ، نیز  اپنے رفتار، کردار اور گفتار کے ذریعے سے لوگوں کو مأیوس کریں، تو نتیجتاً  لوگ  اصل دین اور  علماء کی نوعیّت سے بدبین یا متنفّر ہوجایں گے۔ جس  کا عملی  تجربہ   قرون وسطی  میں ہم  یورپ میں عیسائی  روحانی پیشواووں  کے کردار  میں مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ 

     در حقیقت یورپ  میں سکیولیرزم  (Secularism)  کے  فروغ  کی اہم وجہ  یہی مسئلہ تھا۔ چونکہ عیسائیت  کے دینی  راہنماء، ارباب کلیسا تھے۔ جو علم و دانش کے مخالف تھے ، جن  کو علمی پیشرفت تحمل نہیں ہوتا تھا۔ روشن خیال رکھنے والوں اور  مفکّر  طبقے سے مبارزہ کرتے تھے۔ اپنی کچ فہمی  اور تحجرانہ   تفکر کے ذریعے انسانی کرامتوں  کو خدشہ دار کردیتے تھے۔اسی بناء پر  یورپی سماج کے دانشمند طبقے  نے  یہ احساس کیا کہ  دین ،انسان کے تکامل اور   علمی پیشرفت کی  راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔  لہذ  ارباب کلیساء کے رفتار سے تنگ آکر  عیسائیت  میں  ایک جدید  فرقہ  پروٹسٹانٹ (Protestant) کے نام  پر وجود میں آگیا جو احتجاج گر  کے  معنی میں  ہے۔ یعنی  عیسائی دین سے احتجاج کرکے جدا ہونے وا لا گروہ۔ بعد میں یہ مسئلہ رنسانس(Renaissance)  اور دین  و سیاست کی جدائی  کا  سبب بنا۔ اسی وجہ سے  امام راحل  جس طرح علماء کی سیاست گریزی  سے خدشہ رکھتے تھے، اسی طرح  روحانیت کی بدعملی سے بھی خوف رکھتے تھے۔

              حضرت  امام خمینی   اس بارے میں  فرماتے ہیں:

               میں تمام علماء کو   اعلان کرتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ  تمہارے درمیان کوئی ایسا  شخص موجود ہو جو موازین  اسلامی کے خلاف کام کر رہا ہو،تو اسے ایسا کرنے سے منع کرو    اور اگر قبول نہیں  کرتا ہے تو  اسے روحانیت کے جرگے سے خارج کردو۔

(صحیفہ نور؛ج 14؛ص 123)۔

                 جس قدر اسلام  نے ان   عالم نما   عناصر سے نقصان  اٹھایا ہے، اُس قدر  باقی کسی دوسرے   عناصر سے  نہیں اٹھا یا ہے۔ اس کا بارزترین نمونہ  امیر المومنین علی(ع)کی   غربت اور مظلومیت تاریخ  میں بالکل عیاں ہے۔(صحیفہ نور؛ج 21؛ص 97)۔

       دنیا اور آخرت کے درمیان تعارض ایجاد کرنا

      ممکن ہے کہ    یہاں  پر ایک  اہم سوال پیش آجایے ،وہ  یہ کہ، دنیا اور آخرت کے حوالے سے حضرت امام خمینی(رہ) کا  کیا نظریہ ہے؟ ان کے نزدیک  ان دونوں کےمابین  کیا رابطہ ہے؟

    بعض  افراد کا عقیدہ  یہ  ہے کہ  بعثت انبیاء  کا اصلی  ہدف  صرف آخرت ہے۔ اور دنیائی امور میں  مداخلت کرنا  انبیاء (ع) کی  رسالت یا تبلیغی برنامے میں شامل نہیں ہے۔ لیکن  امام  معتقد ہیں کہ قرآن مجید  میں  آخرت سے زیادہ  دنیائی مسائل  سے   بحث ہوئی ہے۔

اس حوالے سے امام(رہ) فرماتے ہیں:

      قرآن مجید کی وہ  آیات  جو  اجتماعی  مسائل سے مربوط ہیں، ان کی تعداد  اُن آیتوں کے مقابلے میں جو  عبادات سے مربوط ہیں،اتنا  زیادہ ہیں کہ آیات  عبادی  ان کے مقابلے میں ایک فیصد سے بھی کم  ہیں۔ نیز  کتب احادیث کا  مجموعہ جو  کہ  پچاس جلدوں پر مشتمل ہے، اور تمام احکام اسلامی ان کتابوں  میں   موجود ہیں، اس مجموعے میں  سےصرف تین یا چار کتابیں  عبادات  اور  ان  وظائف   کے بارے میں لکھی جا چکی  ہیں،  جن کو   اللہ تعالی نے اپنے  بندوں   پر واجب  کیاہے۔  اور کچھ احکام اخلاقیات  کے متعلق ہیں۔  اس کے علاوہ باقی تمام احکام   اجتماعی، اقتصادی، سیاسی اور معاشرے کی تدبیر کے مسائل سے مربوط ہیں۔

(ولایت  فقیہ؛ ص ؛5)

              حضرت امام خمینی(رہ) کی  آراء کے مطابق پیامبر گرامی اسلام ﷺ   دنیا کی لذّتوں سے  استفادہ  کرتے تھے، اگر ایسا نہ ہو تا   تو    آیت  " لقد کان لکم فی رسول الله اسوة حسنة" بے  معنی ہوجاتی۔ (سورہ احزاب؛21)۔

       حضرت امام( رہ) کی نظر میں ایسے شعائر جیسے: دنیا کو  دنیا والوں کے لئے  چھوڑ دو، مؤمن کے لئے  دنیا ٹھیک نہیں ہے، آخرت کو آباد کرنا چاہیے،  دنیا  فقر ِ مومن ہے اور آخرت (میں) مومن کے لئے   بہشت ہے۔ اگر یہ سب باتیں  مطلق طور پر  اور(دنیا کے حوالے سے) کسی قسم کے ملاحظے کے بغیر کہی جائیں تو یہ اصل اسلام سے  منحرف ہیں۔ اس قسم کی فکر کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا  کہ ایک مسلمان ، مقدس انسان، ایک مذہبی  شخص ہوتے ہوئے  بھی اگر  اسکی دولت لوٹ لی جایے، پٹرولیم  کی غارت گری ہوجایے تب بھی خاموش رہیں گے  اور کہیں گے کہ  دنیا  کے  مال   و    دولت کی کوئی ارزش نہیں ہے  لہذا اسے لے جانے دو۔

( صحیفہ نور؛ج 9؛ص 182)۔

    اخلاق اور تہذیب نفس سے نادرست معنی  لینا

      اسلام میں تہذیب نفس  اور اخلاقی اقدار کی  اہمیت   کے بارے میں بہت تاکید ہوئی ہے۔   جب ہم انبیاء و   اولیاء الٰہی کی  زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو    معلوم ہوتا ہے کہ   اں ہستیوں کی وجود  مقدس میں  اخلاق اور تہذیب نفس دونوں  بطور اتم موجود تھے۔ لہذا باقی   انسانوں کے لئے یہ  حضرات الگو اور نمونے ہیں۔ قرآن مجید میں پروردگار،  رسول خدا  ﷺکے   اخلاق   کے بارے میں  فرماتا ہے: و  انک لعلی خلق عظیم.آپ اخلاق کے بالاترین درجے پر فائز ہیں۔(سورہ قلم؛4) لہذا    اخلاق اور تہذیب نفس   ان ہی  سے سیکھنا چاہیے  چونکہ  یہ حضرات انسان کامل ہیں۔ اس مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت امام خمینی     فرماتے ہیں:

      کبھی کہا جاتا ہے کہ  حکومتی کارندوں کے ظلم و ستم  اور  فساد کے حوالے سے بحث نہیں کرنی چاہیے۔ چونکہ ایسا کرنا  اخلاق اسلامی کے خلاف ہے۔ اور غیبت کا باعث  بنتا ہے، جوکہ مردہ مسلمان بھائی کے گوشت کھانے  کی مانند ہے۔! اسلام سے ایسے  غلط تصوّر   اخذ کرنے سے سیاسی  فعّا لیت  کے سلسلے میں رکاوٹیں وجود میں آگئیں ہیں۔ نیز  عملی طور پر دین و سیاست  کی جدائی کا تصور سامنے آیا ہے۔ البتہ  ا س  مسئلے کا  تاریخ   اسلام  میں سابقہ رہا ہے۔ جیسے کہ(اہل سنت کے معروف عالم) امام غزالی نے امام حسین(ع)                                            کے قاتلوں پر لعنت  بھیجنے کے   بارے میں  یوں کہا ہے: چونکہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یزید  (لع) نے امام حسین(ع)                                        کے  قتل کا حکم دیا تھا   یا نہیں،پس اس پر لعنت بھیجنا  جائز نہیں ہے۔ یہاں تک کہ  امام حسین (ع)کے قتل کی نسبت  اسکی طرف دینا بھی جائز  نہیں ہے۔ صحیفہ نور؛ج 13؛ص 3۔ (قصئہ ارباب معرفت ؛ص 28)۔

        اسلام کا اخلاقی احکام بھی سیاسی ہے، اور یہ ایک اجتماعی حکم ہے۔ جب ایک متعہّد مسلمان  حکومتی  مدیروں کے رفتار اور کردار پر ناظر رہتا ہے یا انتقاد کرتا ہے۔ اور انکے ظالمانہ  برتاؤ کے  بارے میں تقریریں کرتا ہے تو ایسا کرنا  نہ صرف  اخلاق کے خلاف نہیں ہے بلکہ  امر بہ معروف و نہی از منکر کے اصل کے مطابق واجب شرعی  محسوب ہوتا ہے۔( صحیفہ نور؛ج 15؛ص4 3)۔

                    اس طرح سے  ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام  خمینی )رہ)کے نظریے کے مطابق  ( جوکہ  مکتب  ولایت  کا نظریہ ہے) ہمارے علماء اور مبلغیں حضرات کو ،     ارباب سیاست اور حکمرانوں کے نادرست کارناموں اور  ناانصافیوں کے خلاف سکوت  اختیار نہیں کرنا چاہیے ۔ بلکہ ہر صورت میں  انکی مخفیانہ سازشوں  سے ہوشیار رہ کر انکے  ناپاک چہروں کو بے نقاب کرنا  ناگزیر ہے ، ایسا کرنا  نہ صرف غیبت شمار نہیں ہوتا ہے  بلکہ عین عبادت ہے۔

  اللہ تبارک و تعالی ہم سب کو سیاسی بصیرت عطافرمائیے اور سیاست علوی  و حسینی  کو  پوری گیتی پر پھیلا کر امام زمانہ(عج) کے ظہور کا زمینہ فراہم ہو جایے آمین۔

 ۔20 اگست 2018۔