خداوند کریم نے انسان کی ہدایت کیلئے انبیاء و مرسلین کو بھیجا۔ مقدس کتابیں نازل فرمائیں۔ شریعتیں بھیجیں جن میں سب سے آخر اور کامل ترین شریعت وہ ہے جس کو خاتم النبین حضرت محمد مصطفےٰ کے ذریعے سے بھیجا گیا۔ دور اور زمانے کے لحاظ سے شریعتیں بدلتی گئیں دین ایک ہی رہا جیسا کہ ارشاد ہے ”ان الدین عند الله الاسلام “ اللہ کے نزدیک دین بس اسلام ہی ہے۔ حضرت ابراہیم (ع) اور حضرت یعقوب (ع) کے متعلق یہ تصریح ہے کہ آپ نے اپنی اولادوں سے یہ وصیت فرمائی کہ تمہیں اسلام ہی پر موت آئے۔ پس معلوم ہوا کہ رسالت مآب سے پہلے بھی جس دین کی تبلیغ کی جاتی رہی ہے وہ اسلام ہی تھا۔ شریعتوں کی تبدیلی کا مطلب یہ تھا کہ ضروریات زمانہ کے لحاظ سے فروعی احکام میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔
خود شریعتوں کا بدلنا اس بات کی دلیل ہے کہ خداوند کریم کے احکام میں اغراض و مقاصد پیش نظر آتے ہیں اگر اغراض و مقاصد کے پیش نظر شریعت کے احکام نہ ہوتے تو زمانے کے بدلنے سے حالات کی تبدیلی سے شریعت کی تبدیلی کے کوئی معنی نہیں ہوتے خود شریعتوں کا بدلنا اس نظریے کو باطل قرار دے دیتا ہے جسمیں یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کے احکام اغراض و مقاصد کے پیش نظر نہیں ہوتے حقیقت میں کوئی اچھائی اور برائی نہیں ہے جس کا لحاظ کرکے اللہ نے کسی بات کا حکم دیا ہو یامنع کیا ہو بلکہ وہی اچھا ہے جو اللہ کہہ دے اور وہ برا ہے جس کی اللہ ممانعت کردے۔ اگر وہ جھوٹ کوواجب کردیتا تو جھوٹ اچھا ہوتا اور اگر سچ کو منع کر دیتا تو سچ براہوتا یعنی اچھائی اور برائی کی بنیاد خالق کا حکم اور اس کی ممانعت ہے۔ اس سے قطع نظر کہ واقعہ میں نہ کوئی چیز اچھی ہے نہ کوئی چیز بری لیکن اگر یہ نظریہ درست ہو تو پھر خود احکام کی تبدیلی کی بنیاد کیا قرار پاتی ہے حالات و واقعات کے بدلنے سے احکامات میں کیوں تبدیلی کی گئی؟ قرآن مجید بھی تصریح کر رہا ہے کہ تم خداوند عالم کے احکام بے مقصد نہیں ہوتے جیسا کہ روزے کے بارے میں ارشاد ہے کہ روزہ اس لیے تم پر فرض کیا گیا ”لعلکم تتقون“ کہ میں تقوی پیدا ہو جائے۔ نماز کیلئے ارشاد ہے ”ان الصلواة تنھی عن الغحثاء والمنکر“ نماز ہر طرح کی کھلی اور چھپی برائیوں سے روکتی ہے۔نماز باجماعت کی غرض و غایت یہی قرار دی جاتی ہے کہ مسلمانوں میں اجتماعیت پیدا ہو۔ حج کا مقصد بھی عالم اسلام کا ایک مرکز پر جمع ہونا ہے۔ اہلبیت عظام سے بھی بکثرت ایسی روایتیں منسوب ہیں جن میں شرعی احکام کے اغراض و مقاصد کو بیان فرمایا گیا ہے۔
یقیناً احکام الہی کی پابندی ہے اجرو ثواب اخروی حاصل ہوگا لیکن یہ ثواب اطاعت کا ہے چونکہ بندہ مومن نے احکام الٰہی کی پابندی کی اس کا ثواب اللہ آخرت میں دے گا جو مختلف عبادتوں کیلئے الگ الگ معین ہے لیکن نگاہ قدرت میں ان احکام کی غرض اخروی ثواب نہیں بلکہ اس نے تو جو حکم دیئے ہیں وہ انسان کی دینوی زندگی کے منافع و مصالح کا لحاظ رکھتے ہوئے دیئے ہیں۔
لہذا اگر یہ کہا جائے کہ واقعات کربلا اور مجالس عزا سے سبق لیکر انسان کو اپنی زندگی سنوارنا چاہئے۔ اپنے اخلاق و کردار کو درست کرنا چاہئے شہدائے کربلا کی سیرت کو اپنانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ تو اس کو کوئی نئی بات یانیا تخیل نہ سمجھنا چاہئے یقیناً اہلبیت عظام کی روایات موجود ہیں ”من جلس مجلسا یحی فیه ذکرنا لسمه یمت قلبه یوم تموت فید القلوب“ جو شخص کسی ایسی مجلس میں بیٹھے جسمیں ہمارا ذکر زندہ کیا جائے تو اس کا دل اس دن جب تمام دل مردہ ہونگے (روز قیامت) مردہ نہ ہوگا۔
جن احادیث میں فضائل گریہ بیان کی گئی ہیں ان سے انکار ممکن نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ وہ تمام ثواب تو نتیجہ اطاعت حکم امام (ع) میں ملیں گے۔ معصوم (ع) نے ذکر واقعات کربلا اور مصائب امام حسین (ع) پر حکم ہی کیوں فرمایا ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے۔ شریعت کے حکم کا مقصد ثواب اخروی نہیں ہوسکتا (کیونکہ یہ نتیجہ اطاعت ہے) اب وہ مقصد کیا ہے جس کے پیش نظریہ احکام دیئے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ جب کربلا کے واقعات ہمارے سامنے آتے ہیں تو ان سے ہمیں ایسا درس ملتا ہے جس سے ہم اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے اخلاق و کردار کو اس سانچے میں ڈھال سکتے ہیں۔ جو ایک سچے مومن اور مسلمان کا ہونا چاہئے۔ کبھی کبھی یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ اہلبیت (ع) تو معصوم تھے۔ امام حسین (ع) تو امام تھے ہم معصوم کیا امام تو نہیں ان کی پیروی کیونکر کر سکتے ہیں لیکن قرآن کی تصریح ہے کہ خدا کسی کے اوپر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا۔ جو اس کی برداشت سے باہر ہو اگر معصوم کی پیروی غیر معصوم کیلئے ممکن نہ ہوتی تو اللہ کبھی تمام مسلمانوں کو اتباع رسول کا حکم نہ دیتا۔ پھر کربلا کے آئینہ میں تو معصوم کی پیروی میں کچھ غیر معصوم محبان کی زندگیاں بھی ہمارے سامنے مشعل راہ بن کر آتی ہیں کیا کسی نے بھی جناب حبیب ابن مظاہر‘ جناب مسلم ابن عوسجہ اور جناب زہیر قین اور دوسرے افراد کے متعلق عصمت کا دعوی کیا ہے امام حسین (ع) کے ساتھ آنے والوں میں صرف ہاشمی و مطلبی ہی نہیں صرف قریشی ہی نہیں صرف عرب ہی نہیں بلکہ روم و حبش کے رہنے والے بھی شامل تھے تقریباً ہرسن کے جوان بوڑھے اوربچے موجود تھے مرد بھی تھے عورتیں بھی تھیں لیکن ان میں سے جس کو بھی دیکھے وہ ایک بے مثال واقعہ کربلا سے بڑھ کر ملتی ہے؟ کیا اللہ کی عبادت کو کسی حال میں ترک نہ کرنے کا نمونہ یہاں سے بہتر حاصل کیا جاسکتا ہے؟ کیا آپس میں اخوت و ہمدردی و مساوات کا جذبہ اس سے زیادہ کامل ڈھونڈا جاسکتا ہے؟ کیا سچائی پر جم جانے اور صداقت سے سرو قدم نہ ہٹانے کی مثال یہاں سے بہتر کہیں پائی جاسکتی ہے؟ کیا ایثار و قربانی کے نمونے کربلا سے بہتر کہیں ملیں گے؟ کیابڑی سے بڑی مصیبت کو برداشت کرنے اور صبرو استقلال میں فرق نہ آنے کا کربلا سے بڑھ کر کوئی واقعہ پیش کیا جاسکتا ہے؟ کیا امام کی اطاعت اور فرمانبرداری کو ہر شے پر مقدم کر دینے کی مثال یہاں سے بڑھ کر کہیں مل سکتی ہے؟ غرض کربلا کی ایک تصویر ہے جس کے ہزاروں رنگ نمایاں ہیں کربلا ایک پھول نہیں بلکہ گلدستہ ہے گلدستہ نہیں بلکہ ایک چمن ہے جس میں اخلاق و کردار کے گلہائے رنگارنگ کے مختلف تختے کھلے ہیں اور ہر ایک اپنے رنگ و بو میں لا جواب و بے مثال ہے یہ تصور بالکل غلط ہے کہ امام حسین (ع) ہمارے لیے نجات کا وسیلہ قرار پائے جیسے عیسائی حضرت عیسیٰ (ع)کے متعلق فدیہ کا تصور رکھتے ہیں یعنی ہم دعوی محبت امام حسین (ع) کے بعد بالکل آزاد کردیئے گئے ہیں کہ جو چاہے بد اخلاقی کریں ا ور برائی کریں دوسروں پر ظلم کریں ان کے حقوق غصب کریں احکام اسلامی کوپیروں سے روندیں لیکن جنت کا ٹھکانہ ہمارے نام لکھ دیا گیا ہے یقیناً امام حسین(ع) ذریعہ نجات ہیں۔ بلاشبہ امام حسین (ع) وسیلہ بخش ہیں مگر کس طرح؟ اسی طرح جس طرح حضرت حرُ کو جہنم سے نجات دیکر جنت کا مستحق بنا دیا یعنی صرف زبان سے دعویٰ محبت نہ کرو بلکہ عمل و کردار سے بھی حسینی بننے کی کوشش کرو۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم نے مجالس عزا کو صرف رسمی چیزبنا لیا ہے۔ ہمارے باپ دادا مجلس کراتے تھے لہذا ہمیں مجلس کا انعقاد کرانا ہے۔ اگر مجلس نہ کرائی تو ناک کٹ جائے گی گویا آج کی مجالس کا مقصد مشن حسینی کی تکمیل کم اور ناک بچانے کا ذریعہ زیادہ ہیں۔ صبح سے شام تک ایک سے ایک مجالس میں شرکت کی جاتی ہے لیکن نہ یہ مقصد لے کر جاتے ہیں کہ کچھ حاصل کرناہے تو کچھ تعلیم لیکر اٹھتے ہیں لیکن وہی لوگ جو ماتم کرکے نکل رہے ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زبانوں سے ابھی تھوڑی دیرپہلے امام حسین(ع) اور شہداء کربلا کے پاک و پاکیزہ نام لیے تھے جب ان کی گفتگو گلیوں اور کوچوں میں سنی جاتی ہے تو شرم و ندامت سے سرجھک جاتا ہے۔ ہماری قوم اخلاقی اعتبار سے روز بروز گرتی چلی جا رہی ہے حالانکہ ذکر حسین (ع) سننے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اسلام دشمن عناصر کی تمام تر کوششوں کے باوجود حسینی اپنے مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ مجالس عزاء اور عزاداران حسینی پر گولیوں کی بوچھاڑ کرکے دشمنوں نے خیال کیا کہ اب مجالس اور عزاداری کا سلسلہ ختم ہوجائیگا مگر پاکستان کا چپہ چپہ ہر گاؤں محلہ آج بھی گواہ ہے کہ پہلے سے زیادہ جوش و خروش سے عزاداری سید الشہداء کا انعقاد کیا جا رہا ہے مومن پورہ کا قبرستان ہو یا کرم داد قریشی کا قصبہ ہر مقام پرمجالس و عزاداری کا سلسلہ جاری ہے اور انشاء اللہ تا قیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ مشن حسینی پر آنچ نہیں آنے دینگے بے شک ہمارا لہو بہہ جائے۔ موت کے سیلاب میں ہر خشک و تر بہہ جائے گا
ہاں مگر نام حسین (ع) ابن علی(ع) رہ جائیگا
شہید راہ حق علامہ سید عارف حسین الحسینی رضوان اللہ علیہ کے فرمان کے عین مطابق عزاداری سید الشہداء ہماری شہہ رگ حیات ہے۔ ہمیں آج عہد کرنا چاہئے کہ اسلام دشمن عناصر کی ان کاروائیوں سے دلبرداشتہ ہونے کی بجائے ہم آگے بڑھ کر شہادت کو گلے لگائیں گے اور ثابت کرینگے کہ ہم واقعی حسینی ہیں مشن حسینی کے فروغ کیلئے ضروری ہے کہ ہم باہمی اختلافات بھلا کر متحد ہو جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ مجالس کا انعقاد ضرور کریں مگر مقصد ذہن میں رکھیں کیا فائدہ ایسی مجالس کا جن کے ذریعے ہمارے نوجوان اصلاح کی بجائے اسے رسمی کاروائی سمجھنے لگیں میرے خیال میں تمام امراض کا واحد علاج یہ ہے کہ علمائے کرام اور ذاکرین مجالس کو اہلبیت کے اخلاق و کردار کی درسگاہ بنادیں اور شرکائے مجالس بھی مجلسوں میں صرف سننے واہ واہ سبحان اللہ کے نعرے بلند کرنے اور دوسرے کان سے اڑا دینے کی نیت سے نہ جائیں بلکہ ہر مجلس سے کچھ نہ کچھ حاصل کرکے اٹھیں یقیناً مجالس کا انعقاد ہماری قوم کی تربیت و اصلاح کا بہترین ذریعہ ہیں۔ شہادت امام حسین (ع) نے ہمیں تبلیغ کا ایک بہترین وسیلہ دیا ہے جو کسی قوم کو حاصل نہیں۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وسیلہ اور ذریعہ کا صحیح مصرف کیا جائے۔ تلوار جتنی جوہر دار اور تیز ہوگی غلط استعمال سے برے نتائج نکلنے کا اتنا ہی زیادہ امکان ہوگا لہذا اس ذریعہ تبلیغ کو بھی غلط ہاتھوں میں جانے سے بچانا چاہئے ورنہ بجائے مفید نتائج برآمد ہونے کے برے نتائج حاصل ہوتے چلے جائیں گے۔
موجودہ نازک حالات میں فروغ عزاداری کے ساتھ ساتھ ہمیں باہمی تعاون و اتحاد سے جلوس عزاداری کے تحفظ کیلئے بھی اقدامات کرنے چاہئے تاکہ دشمنانان اسلام اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل نہ کرسکیں جب تک ہم خود بیدار نہیں ہونگے ملت جعفریہ کا قتل عام جاری رہے گا اب ہمیں چاہئے کہ خواب غفلت سے بیدار ہو کر کردار حسینی ادا کریں کہ ایک بار پھر کربلا کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ بے شک میدان کربلامیں شہادتوں کے بعد ظاہری فتح و دشمنوں کو ملی مگر دنیا نے دیکھا کہ حسینیوں کا بہتالہو یزید کے اقتدار کا سورج غروب کرگیا۔ اور پھر فتح حق کو حاصل ہوئی۔ کربلائے پاکستان میں ملت جعفریہ کا بہتا لہو در حقیقت ہماری سچائی کی دلیل ہے۔ واضح ہو چکا ہے کہ اسلام دشمن عناصر ایک بار پھر کردار یزیدی ادا کرتے ہوئے حسینیت کے خون کے پیاسے ہوچکے ہیں۔ لیکن یزیدی پیروکاروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔ حسینی مرکر بھی امر ہو جاتے ہیں۔


سبط نبی کا نقش مٹایا نہ جائیگا
یہ پرچم بلند جھکایا نہ جائیگا

واجب ہوئی ہے ہم پہ عزاداری حسین (ع)
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائیگا

اس کربلا میں اب کسی ابن زیاد سے
عباس(ع) کے علم کو گرایا نہ جائیگا

سن لیں میری طرف سے یزیدان عصر نو
نام حسین(ع) ان سے مٹایا نہ جائیگا