كونسا قانون انسان كى كاميابى كا ضامن ہے ؟

 

چونكہ انسان اجتماعى زندگى گزار نے كيلئے مجبور ہے اور منافع ميں اپنے بھائيوں سے مزاحمت بھى اجتماعى زندگى كالازمہ ہے لہذا انسانوں كے درميان قانوں كى حكومت ہونا چاہئے تا كہ اختلاف و پراكندگى كا سد باب ہوجائے _ قانوں بھى معاشرہ كو اسى صورت ميں چلا سكتا ہے كہ جب درج ذيل شرائط كا حامل ہوگا _
1_ قوانين جامع و كامل ہوں تا كہ تمام اجتماعى و انفرادى امور ميں ان كا نفوذ اور دخل ہو _ ان ميں تمام حالات اور ضرورتوں كى رعايت كى گئي ہو ، كسى موضوع سے غفلت نہ كى گئي ہو ايسے قوانين كو معاشرہ كے افراد كى حقيقى اور طبيعى ضرورتوں كے مطابق ہونا چاہئے _
2_ قوانين حقيقى كاميابى و كمالات كى طرف انسان كى راہنمائي كرتے ہوں ، خيالى كاميابى و كمالات كى طرف نہيں _
3_ ان قوانين ميں عالم بشريت كى سعادت و كاميابى كو ملحوظ ركھا گيا ہو اور مخصوص افراد كے مفاد كو پور ا نہ كرتے ہوں _
4_ وہ معاشرے كو انسانى كمالات و فضائل كے پايوں پر استوار كرتے ہوں اور اس كے اعلى مقصد كى طرف راہنمائي كرتے ہوں يعنى اس معاشرے كے افراد دنيوى زندگى كو انسانى فضائل و كمالات كا ذريعہ سمجھتے ہوں اور اسے ( دنيوى زندگى كو) مستقل ٹھكانا خيال نہ كرتے ہوں_

92
5_ وہ قوانين ظلم و تعدى اور ہرج و مرج كو رد كركے كى صلاحيت ركھتے ہوں اور تمام افراد كے حقوق كو پورا كرتے ہوں _
6_ ان قوانين كى ترتيب و تدوين ميں روح اور معنوى زندگى كے پہلوؤں كى بھى مكمل طور پر رعايت كى گئي ہو يعنى ان ميں سے كوئي قانون بھى نفس اور روح كيلئے ضرر رساں نہ ہو اور انسان كو سيدھے راستہ سے منحرف نہ كرتا ہو _
7_ معاشرے كو انسانيت كے سيدھے راستہ سے منحرف كرنے اور ہلاكت كے غار ميں ڈھكيل دينے والے عوامل سے پاك و صاف كرتا ہو _
8_ ان قوانين كا بنانے والا تزاہم ( ٹكراؤ) مصلحت اور مفاسد كو بھى اچھى طرح جانتا ہو _ زمان و مكان كے اقتضا سے واقف ہو _
انسان يقينا ايسے قوانين كا محتاج ہے اور يہ اس كى زندگى كے ضروريات ميں شمار ہوتے ہيں اور قانون كے بغير انسانيت تباہ ہے _ ليكن يہ بات موضوع بحث ہے كہ كيا بشر كے بنائے ہوئے قوانين اس عظيم ذمہ دارى كو پورا كرسكتے ہيں اور معاشرہ كو چلانے كى صلاحيت ركھتے ہيں يا نہيں ؟
ہمار ا عقيدہ ہے كوتاہ فكر اور كوتاہ انديش افراد گا بنايا ہوا قانون ناقص اور معاشرہ كے نظم و نسق كو برقرار ركھنے كى صلاحيت سے عارى ہے _ دليل كے طور پر چند موضوعات پيش كئے جا سكتے ہيں _
1_ انسان كے علم و اطلاع كا دائرہ محدود ہے _ عام آدمى مختلف انسانوں كى ضروريات خلقت كے رموز و اسرار خير و شر كے پہلوؤں ، زمان و مكان كے اقتضاء كے اعتبار سے فعل و انفعالات ، تاثير وتأثر اور قوانين كے تزاحم سے مكمل طور پر واقف

93
نہيں ہے _
2_ اگر بفرض محال قانون بنانے والے انسان ايسے جامع قانون بنانے ميں كامياب بھى ہوجائيں تو بھى وہ دنيوى زندگى اور معنوى حيات كے عميق ارتباط اور ظاہر حركات كے نفس پر ہونے والے اثرات سے بے خبر ہيں اور كچھ آگہى ركھتے ہيں تو وہ ناقص ہے اصولى طور پر معنوى زندگى ، ان كے پروگرام سے ہى خارج ہے _ وہ بشريت كى خوش بختى اور سعادت مندى كو مادى امور ميں محدود سمجھتے ہيں جبكہ ان دونوں زندگيوں ميں گہرا ربط ہے اور جدائي ممكن نہيں ہے _
2_ چونكہ انسان خودخواہ ہے لہذا دوسرے انسانوں كا استحصال طبيعى ہے چنانچہ نوع انسان كا ہر فرد اپنے مفاد كو دوسروں كے مفاد پر ترجيح ديتا ہے _ پس اختلاف اور استحصال كا سد باب كرنا اس كى صلاحيت سے باہر ہے ، كيونكہ قانون بنانے والے انسان كو اس كى خواہش ہرگز اس بات كى اجازت نہيں ديتى كہ وہ اپنے اور اپنے عزيزوں كے منافع و مفاد سے چشم پوشى كركے لوگوں كى مصلحت كو مد نظر ركھے _
4_ قانون بنانے والا انسان ہميشہ اپنى كوتاہ نظرى كے اعتبار سے قانون بناتا ہے اور انھيں اپنے كوتاہ افكار ، تعصبات اور عادتوں كے غالب ميں ڈھالتاہے ، لہذا چند افراد كے منافع اور مفاد كے لئے قانون بتاتا ہے اور قانون بناتے وقت دوسروں كے نفع و ضرر كو ملحوظ نہيں ركھتا _ ايسے قوانين ميں عام انسانوں كى سعادت كو مد نظر نہيں ركھا جاتا _ صرف خدا كے قوانين ايسے ہيں جو كہ انسان كى حقيقى ضرورتوں كے مطابق اور خلقت كے رموز كے مطابق نبے ہيں ، ان ميں ذاتى اغراض و مفاد او ركجى نہيں ہے اور ان ميں عالم بشريت كى سعادت كو مد نظر نظر ركھا گيا ہے _ واضح ہے كہ انسان قانون الہى كا محتاج ہے

94
اور خدا كے الطاف كا اقتضا يہ ہے كہ وہ مكمل پروگرام بنا كر اپنے پيغمبروں كے ذريعہ بندوں تك پہنچائے _