امام رضا (ع)کا اخلاق اور آپ کی زاہدانہ زندگی

بے شک اخلاق وہ عنصر ہے جس کے ذریعہ کسی  انسان کی شخصیت کو پرکھا او رسمجھا جاتا ہے ، در اصل اخلاق انسان کے باطن کی عکاسی کرتا ہے

 

امام رضا علیہ السلام اخلاق کے اعلی ترین مرتبہ پر فائز تھے، یہ  آپ کا اخلاق ہی تھا جس کی وجہ سے دوست ہو یا دشمن، خاص ہو یا عام سب کی نظر آپ کی شخصیت  پر متمرکز رہتی تھی یہی وجہ آپ کا قصیدہ اس زمانے کے ہر خاص و عام کی زبان کی زینت بنا ہوا تھا، حقیقت میں آپ اس زمانے کے لئے بالخصوص اور ہر زمانے کے لئے بالعموم اسوہ حسنہ تھے اور ہیں۔

 

ابراہیم بن عباس صولی[1] سے نقل ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں:

 

میں نے ابوالحسن علیہ السلام کو کبھی کسی سے سختی سے بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

 

میں نے ابوالحسن علیہ السلام کو کبھی بھی کسی کی بات کو کاٹ کر اپنا کلام کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

 

میں نے کبھی بھی کسی کی اس درخواست کو جسے آپ انجام دے سکتے تھے رد کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

 

میں نے کبھی بھی آپ کے  پیروں کو کسی کے سامنے پھیلاتے  ہوئے نہیں دیکھا۔

 

میں نے کبھی بھی آپ کو  ہمنشینوں کے سامنے تکیہ لگاتے ہوئے نہیں دیکھا۔

 

میں نے کبھی بھی آپ کو غلاموں کو برا بھلا کہتے ہوئے نہیں دیکھا۔

 

میں نے کبھی بھی آپ کو تھوکتے ہوئے نہیں دیکھا۔

 

میں نے کبھی بھی آپ کو قہقہہ لگاتے نہیں دیکھا بلکہ ہمیشہ مسکراتے ہوئے پایا۔

 

یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں: کوئی بھی اگر یہ کہے کہ میں نے فضیلتوں میں  ابو الحسن کی نظیر دیکھی ہے تو گویا وہ جھوٹ بول رہا ہے اور ایسے شخص کی باتوں کو قبول نہیں کرنا چاہئے۔[2]

 

امام رضا علیہ السلام اپنے زمانہ کے سب سے بڑے زاہدوں میں شمار ہوتے تھے گویا آپ اخلاقی پہلو کے ہر رخ سے اپنے جد محمد مصطفی (ص) کا، کہ جو تمام پیغمبروں میں  سب سے ممتاز اور اخلاق کے عظیم درجہ پر فائز تھے آئینہ تھے۔

 

آپ (ع) کو زہد وراثت میں ملا تھا اسی لئے آپ زہد کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: زاہد وہ ہے جو دنیا کے حلال سے بچے آخرت کے حساب و کتاب کے ڈر سے اور حرام سے پرہیز کرے آخرت میں سزا کے خوف سے۔[3]

 

محمد بن عبادہ آپ کی زاہدانہ زندگی کے بارے میں کہتے ہیں: ابوالحسن کا پہناوا چاہے گرمی کا موسم ہو یا ٹھنڈک کا  ان تمام عظمتوں و وقار کے باوجود ہمیشہ سادہ اور یک نواخت رہتا تھا ہمیشہ سادہ لباس میں زیب تن رہتے مگر اس وقت کہ جب آپ لوگوں سے ملنے، ان کے حال دل کو  سننے اور دلجوئی کے لئے تشریف لے جاتے تھے  تو اچھا لباس زیب تن فرماتے تھے ۔[4]

 

امام فرماتے ہیں: لباس انسان کی ظاہری شخصیت کا مظہر ہے اس وجہ سے اس سے بے اعتنائی نہیں کرنا چاہئے، مومن کا احترام اس بات کا متقاضی ہے کہ اچھے لباس کے ساتھ اس سے ملاقات کی جائے، اپنے ظواہر کی شان و شوکت کا خیال رکھاجائے  اورساتھ ساتھ اس بات کا خیال رکھا جائے  کہ اس کے سامنے  صاف اور پاکیزہ لباس پہنے۔[5]

 

امام علیہ السلام کا لوگوں کے ساتھ صاف اور اچھے لباس میں ملبس ہوکر ملنے کی ایک دلیل یہ تھی کہ یہ بات طبیعی ہے  اگر انسان کا ظاہری حلیہ صاف ستھرا ہو تو مد مقابل  اس کو دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں، اسکی بات کو غور سے سنتے ہیں ، اسکے برعکس ایک گندے اور کثیف حال ہے۔

 

امام علیہ السلام اچھے لباس میں اس لئے تشریف لے جاتے تھے تاکہ لوگ نظم و ضبط کا درس لیں، لوگ نظافت و پاکیزگی کی طرف گامزن ہوں اور لوگ اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ ایک مومن اپنی حد امکان تک دنیا سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

 

دوسری طرف  نقل ہوا ہے کہ امام کے بیت الشرف میں وسائل زندگی کے علاوہ کچھ نہ تھا نہ لعل و جواہر اور نہ دوسرے زیور و آراستگی۔

 

امام رضا علیہ السلام کے اخلاق دوسرا نمونہ یہ تھا کہ آپ باوجود اسکے کہ ولایت عہدی کے مقام پر فائز تھے مگر نہ اس مقام سے پہلے اور نہ یہ دنیوی  مقام ملنے کے بعد اپنے شخصی امور کے لئے کسی غلام کو حکم دیا ہو۔

 

چنانچہ روایت میں ملتا ہے جب آپ کو حمام جانے کی خواہش ہو تی تو کسی غلام کو حکم دیئے بغیر خود سے اپنے حمام کو آمادہ کرتے تھے، اسی طریقہ سے کبھی کبھی لوگوں سے دل جوئی کے لئے عمومی حمام تشریف لے جاتے اور نزدیک سے ان کی باتوں کو سنتے اور اپنے پیغام کو پہنچاتے۔ [6]

 

مقالہ مذکور سےمندرجہ ذیل نتیجے نکلتے ہیں

 

۱۔ تمام محبان اہلبیت کو بااخلاق ہونا چاہئے۔

 

۲۔ اپنے مقام و منصب کے نشے میں چور ہوکر اپنے ایمانی بھائیوں کو فراموش نہیں کر نا چاہئے۔

 

۳۔ جب کسی مومن سے ملاقات کریں تو اسکے احترام کا خیال رکھتے ہوئے ملنا چاہئے۔

 

۴۔نظم و ضبط اور اور ساتھ ساتھ نطافت و پاکیزگی کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے۔

 

خدا وند منان ہم تمام لوگوں کو مولا رضا (ع)کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

حوالہ جات

 

 

 

[1] امام کے صحابیوں میں سے ایک صحابی تھا۔

 

[2] كشف الغمه، ج 3، ص 156 – 157

 

[3] عیون اخبار الرضا علیه السلام، علی اكبر غفاری، ج 1، ص 628

 

[4] كشف الغمه، ج 3، ص 157

 

[5] پژوهشی دقیق در زندگی علی بن موسی الرضا ص 59-60

[6] پژوهشی دقیق در زندگی امام رضا علیه السلام ، ج 1، ص