امام زمانہ (ع) کی شناخت کیوں ضروری ہے ؟

خداوند عالم کے نظام قدرت کے تحت یہ جہان کبھی بھی حجّت خدا سے خالی نہیں رہا جناب آدم سے لیکر جناب خاتم الانبیاء علیہم السلام تک اور جناب خاتم سے لیکر آج تک زمین حجّت خدا سے خالی نہیں ہے۔ قران و احادیث کے تحت ہر زمانے میں حجّت خدا کے وجود پر اشارہ کیا گیا ہے پس وہ حجّت کہ جو ادلہ کے اعتبار سے ہر زمانے میں موجود ہے لازم ہیکہ لوگ اسے پہچانیں ۔ان صفحات میں امام علیہ السلام کی شناخت پر ہلکی سی تجلّی ڈالنے کی  کوشش کرینگیں۔ 
         
مقدمہ                                                                    
خدمت خلق کی ہدایت و اصلاح کے لئے معرفت امام ضروری و لازمی ہے تاکہ انکے ارشادات و فرامین پر عمل پیراں ہو سکیں امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت کے بغیر انسان نہ ہدایت یافتہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی منزل کمال تک پہونچ سکتا ہے انسان کو چاہیے کہ معرفت حاصل کرے اور معرفت سے مراد اسم و نسب کا جاننا نہیں بلکہ کمترین معرفت یہ ہیکہ انسان یہ جانے کہ امام منصوص من اللہ اور پیغمبر یا امام کے ذریعہ معرف شدہ ہوتا ہے ،علم و آگاہی سے مملو اور معصوم ہوتا ہے اور اسکی اطاعت اور فرمانبرداری لازم ہے جو کہ آیات و روایات سے ثابت ہے ۔امام کی معرفت کے لزومی ہونے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوے قران کریم کی آیت مدلول ہے جسمیں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے"یوم ندعوکل اناس بامامھم"  جو شخص دنیا میں جس امام کا پیروکار ہوگا قیامت میں بھی اسی امام کا پیروکار ہوگا۔ امامت اور رہبری کا تقاضہ یہ ہیکہ لوگ انکو مقتدا قرار دیں اور تمام کاموں میں انکی پیروی کریں اور امامت و پیشوای کا اعتقاد رکھیں کیونکہ انکی امامت کا عقیدہ انکی اطاعت کی زمینہ سازی ہے۔  

بارہویں امام دو مرتبہ لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوے، پہلی مرتبہ اپنی پیدائیش کے سال (255)یا (256) یا اپنے والد کے انتقال (۲۶۰) سے (329)ھ تک غائب رہے اس  زمانے میں آپ عام لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ تھے لیکن رابطہ کلی طور پر منقطع نہیں تھا بلکہ آپکے نائب آپکی خدمت میں آتے اور لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے غیبت کا یہ (69)سالہ یا (74) سالہ زمانہ غیبت صغری کے نام سے جانا جاتا ہے
                                                                        
غیبت کبری                                                                 
امام کی دوسری غیبت (329)ھ سے ہوتی ہے اس غیبت میں نوّاب کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا اور امام کی یہ غیبت ظہور تک جاری رہیگی اس غیبت کو غیبت کبری سے موسوم کیا گیا ہے ۔

قران کی آیات کی تجلّی میں امام کی شناخت کے لزوم                    
اللہ نے قران کریم میں اس بات کو کہ زمین کبھی حجّت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی مختلف انداز میں یاد دہانی کرائ ہے۔                                     
جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے  " و ان من امّۃ الّا خلہ فیھا نذیر"(فاطر/24) آیت اپنے بیان سے واضح  طور پر بتا رہی ہیکہ کو ئ امت ایسی نہیں ہے کہ جنکے درمیان ڈرانے والا موجود نہ ہو ۔                                                           
دوسرے مقام پر فرمایا "انّما انت منذر و لکل قوم ھاد"(رعد/7) یہ وہ آیت ہے کہ جو ہر قوم کے لئے ہادی اور رہنما پر دلالت کر رہی ہے ۔                 

"و ما کنّا معذبین حتی نبعث رسولا"(اسراء/15) اور ہم تو اس وقت تک عذاب کرنے والے نہیں ہیں جب تک کہ رسول نہ بھیج دیں۔                                       
پھر ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے "و اذقال ربّک للملائکۃ انّی جاعل فی الارض خلیفۃ" (بقرہ/30)لفظ "جاعل" زمین پر خلیفہ خدا کی برقراری کیطرف اشارہ ہے ۔ مذکورہ مختصر آیات امام زمانہ عج پر دلالت کرتی ہیں اور ہمیں امام کے بارے میں غور و فکر کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

روایات کے اعتبار سے امام زمانہ کی شناخت پر ترغیب
امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں "من مات و لیس لہ امام من ولدیی مات میتۃ جاھلیۃ و یؤخذ بما عمل فی الجاھلیّۃ و الاسلام"( عیون اخبار:219)جو شخص مر جائے اور میرے فرزندوں میں سے اسکا کوئ امام نہ ہو تو وہ جاھلیّت کی موت مرا ہے اور اسکا مواخذہ لیا جایئگا اس عمل کے ذریعے جو اسنے دوران جاھلیّت اور اسلام میں انجام دئے ہیں۔
احمد بن حنبل نے رسول خدا صلّ اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے نقل کیا ہے "من مات بغیر امام مات میتۃ جاھلیّۃ"(مسند احمد،ج 6) جو بغیر امام کے دنیا سے چلا جائے تو وہ جاھلیّت کی موت مرا ہے ۔     
                                                                    
ابن ابی الحدید کہتا ہے :خبر مرفوع میں آیا ہیکہ "من مات بغیر امام مات میتۃ جاھلیّۃ" اسکے بعد کہتا ہے: تمام اصحاب اس بات کے قائل ہیں کہ کوی وارد بہشت نہیں ہوگا مگر یہ کہ امام کو پہچانتا ہو، اگر خداوند عالم کے قول مبارک "یوم ندعو کلّ اناس بامامھم" کی تعبیر دیکھیں تو ظاہرترین تفاسیر اور مشہورترین تفاسیر اسی بات کی تائید کرتی ہیں کہ  کوی جنّت میں نہیں جایئگا مگر یہ کہ امام کو پہچانے۔ (شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید)                                                                                          
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا "من مات و ھو لا یعرف امامہ مات میتۃ جاھلیّۃ"جو مر جاے اور اپنے امام زمانہ کو نہ پہچانیں وہ جاھلیت کی موت مرا ہے۔

ائمہ علیہم السلام کے ذریعہ امام زمانہ کی شناخت
فضل بن شاذان امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ امام غائب ظہور کے وقت اس آیت کی تلاوت فرماینگے "بقیّۃ اللہ خیر لکم ان کنتم مؤمنین"(سورہ ھود/86) اور اسکے بعد فرماینگے کہ میں بقیّۃ اللہ ہوں میں۔ (نورالابصار:172)
نعمانی نے کتاب "غیبت" میں آیہ شریفہ " فلا اقسم بالخنّس، الجوار الکنّس کی تفسیر میں امام باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے:  "خنّس" سے مراد "پوشیدہ ستارہ" امام آخر ہیں جو آنکھوں سے پوشیدہ ہیں (بحار الانوار،ج 5)    
                                            
شیخ صدوق کتاب کمال الدین میں آیہ ھدی للمتقین،الّذین یؤمنون بالغیب ، کی تقسیر میں امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے فرمایا " المتّقون: شیعۃ علی، والغیب: فھو الحجّۃ الغائب ۔ امام نے فرمایا :متقین شیعان علی ہیں اور غیب سے مراد حجّت غایب ہے ( کمال الدین ،ج/2)   
                                                      
کتاب اثبات الھداۃ میں ابو خالد کابلی نے روایت کی ہے کہ میں مولا امام سجّاد کی خدمت میں شرفیاب ہوا تو میں نے آنحضرت  کے ہاتھ میں ایک ورق دیکھا کہ جس پر مولا نگاہ کر رہے تھے اور گریا فرما رہے تھے میں نے عرض کیا  فرزند رسول میں آپ پر فدا ہوں اس ورق میں کیا ہے ؟  فرمایا کہ یہ وہ لوح ہے جو خداوند عالم نے رسول اکرم کو ھدیہ فرمایا اور اسمیں پروردگار کا نام ،رسول خدا کا نام اور امیرالمؤمنین کا نام ہے، امام نے حدیث کو ادامہ دیا اور دوسرے ائمہ  کا نام ترتیب سے لیا یہاں تک کہ آپنے فرمایا :انکے بیٹے حجّت ابن حسن ہیں کہ جو امر خدا سے قیام کرینگے اور دشمنان خدا سے انتقام لینگے ۔ وہ غیبت طولانی کے بعد ظہور فرماینگے اور زمین کو عدل و انصاف سے پر کر دینگے جس طریقے سے ظلم و جور سے بھری ہوی ہوگی۔ (مصدر پیشین:ح4)  یہ بالکل واضح سی بات ہے کہ جس قیام کے لئے ہمارے چوتھے امام گریہ فرما رہے ہوں اس صاحب قیام کی شناخت ہمارے لئے کیونکر لازم و ضروری نہ ہوگی!! زندگی کے مقصد کا اہم قصد امام کی معرفت ہے ۔  
                                   
ہشام بن حکم کے ذریعہ امام کی معرفت کی عقلی دلیل
یونس بن یعقوب کہتا ہے:امام صادق علیہ السلام کے صحابہ میں سے کچھ صحابہ امام کے حضور میں تھے انمیں ہشام بن حکم بھی  تشریف فرماں تھے، امام نے فرمایا: ہشام ہمیں بتاؤ کہ آپنے کس طرح عمرو بن عبید سے سؤال کئے؟  ہشام  کہتے ہیں: میں بصرہ گیا تو میں نے دیکھا کہ عمرو بن عبید دوش پر عباء ڈالے ہوئے ہے اور لوگ اسکے چاروں طرف حلقہ بنائے ہوئے ہیں اور اس سے سؤال کر رہے ہیں ،میں نے عمرو سے سوال  کی اجازت لی ،عمرو نے مجھے اجازت دی ،میں نے کہا : کیا آپکے پاس آنکھیں ہیں؟عمرو نے کہا کہ یہ کیسا سوال ہے جس چیز کو دیکھ رہے ہو  اسکے بارے میں سوال کیسا ! میں نےکہا جواب دو۔عمرو نے کہا کہ ہاں میں آنکھیں رکھتا ہوں؛ میں نے کہا  انسے کیا کرتے ہو ؟ کہا:   دیکھتا ہوں ۔پھر میں نےسؤال کیا کہ کیا آپکے پاس ناک ہے ؟ کہا ہاں ۔کہا اس سے کیا کرتے ہو؟کہا بو محسوس کرتا ہوں۔ کہا منھ ہے ؟ کہا ہاں ۔کہا اس سےکیا کرتے ہو؟ کہا کھاتا ہوں۔ کہا کان ہیں ؟کہا ہاں ہیں۔ کہا ان سے کیا کرتے ہو ؟ کہا سنتا ہوں ۔کہا دل ہے ؟ کہا ہاں دل ہے ۔کہا اس سےکیا کرتے ہو ؟کہا: ہر وہ چیز جو ان اعضاء و حواس پر وارد ہوتی ہے دل کے ذریعہ تشخیص دیتا ہوں  ۔میں نے کہا :کیا یہ اعضاء دل سے بےنیاز نہیں ہیں؟ کہا نہیں ۔ میں نے کہا : ایسا کیوں ہے جبکہ یہ تمام اعضاء سالم ہیں ۔عمرو نے کہا: جب یہ اعضاء کسی چیز میں شک کرتے ہیں تو یقین حاصل کرنے کے لئے دل سے رجوع کرتے ہیں تاکہ شک دور ہو جائے ۔میں نے کہا :پس خدا نے دل کو شک دور کرنے کے لئے قرار دیا ہے ؟ کہا :ہاں ۔ میں نے کہا :ابا مروان ' پس خداوند عالم نے تیرے اعضاء بدن کے لئے رہبر قرار دیا تاکہ شک و تردید نہ کر سکے ۔ جب اسنے ایک چھوٹے سے بدن کے لئے رہبر کا انتظام کیا ہے تو کیا خداوند عالم اس مخلوق کو بغیر رہبر و امام کے شک و تردید میں مبتلا کر سکتا ہے(اصول کافی،ج1)

زمین حجّت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی                          
حسین بن ابی العلاء کہتا ہے : میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا : کیا یہ ممکن ہے کہ زمین بغیر امام کے ہو ؟ آپنے فرمایا نہیں ۔ میں نے عرض کیا : کیا یہ ممکن ہے کہ ایک زمانے میں دو امام موجود ہوں ؟ فرمایا نہیں مگر یہ کہ ان دو میں سے ایک خاموش ہو ۔(اصول کافی، ج 1)               
عبداللہ بن سلیمان کہتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : زمین ہمیشہ اس طریقے سے رہی ہے کہ اسمیں حجّت خدا ہو، تاکہ لوگوں کو حلال و حرام کی پہچان کرائے اورانکو راہ خدا کی دعوت دے (اصول کافی، ج 1)

ابو بصیر کہتا ہیکہ امام صادق علیہ السام نے فرمایا :خداوند عالم اس سے کہیں زیادہ بزرگ و برتر ہیکہ زمین کو بغیر امام عادل کے باقی رکھے۔ ( اصول کافی، ج 1)
احادیث و روایات وآیات سے بالکل واضح ہیکہ زمین بغیر حجّت خدا کے باقی نہیں رہتی تو ہر اس شخص پر کہ جو زمین پر زندگی گزار رہا ہے اسکی زمہ داری  ہیکہ جس زمانے میں وہ زندگی گزار رہا ہے اس زمانے کے امام کی شناخت کرے تاکہ اسکی اطاعت گزاری ہو سکے ۔

نتیجہ                 
آیات و روایات کا مطالعہ کرنے کے بعد فرمان رسول اکرم اور کتاب خدا کے مطابق ہر انسان پر امام وقت کی معرفت ضروری ہے اسلئے کہ امام کی شناخت کا نہ ہونا اسے جاھلیت کی موت کے آستانے پر لے جاتا ہے ۔ بس ان چند صفحات کے بعد یہ کہنا صحیح ہوگا کہ امام کی ناشناسی انسان کو دنیا و آخرت میں خاسرین کی صفوں میں لاکر کھڑا کر دیتی ہے۔