چھلم امام حسین علیہ السلام اور ھماری ذمہ داریاں

نواسہ رسول (ص)مظلومانہ شہادت کے خون کی سرخی نے واقعہ کربلا کے دامن پر وہ نقش چھوڑے ہیں کہ جن کی سرخی نے تاریخ کی ہر جنگ کی رونق کو چھین کر لوگوں کے ذہنوں سے ہر معرکہ کو محو کردیا اور اس وقت جب بھی کسی مظلوم کا تذکرہ ہوتاہے تو مظلومیت حسینؑ ذہنوں کے سامنے دکھائی دینے لگتی ہے یہاں تک کہ نواسہ رسول (ص)کی مظلومانہ شہادت نے انسانیت کے دل و دماغ پر ایسا اثر چھوڑا ہے کہ ہر مورخ و شاعر کا قلم یہ لکھنے پر مجبور ہے حسینیت زندہ باد ،یزیدیت مردہ باد۔اس لیے کہ امام حسین علیہ السّلام نے اپنی اور اپنے اصحاب یہاں تک کہ اپنی اولاد کی قربانی پیش کرکے کلمہ توحید کو بچاتے ہوتے  انسانیت کو نجات دی جسے خواجہ معین الدین چشتی نے اپنے لفظوں میں یوں بیان کیا ہے۔

"شاہ است حسین ؑ بادشاہ است حسینؑ                      دین است حسین ؑ دین پناہ است حسینؑ

سر داد نداد دست در دست یزید                               حقہ  کہ  بناء     لا الہ   است   حسینؑ

واقعہ کربلا در حقیقت حیات جاودانی کا نام ہے ؛واقعہ کربلا تلوار پر خون کی کامیابی کا نام ہے ؛واقعہ کربلا ظلم کے خلاف ایک مستحکم تحریک کا نام ہے؛واقعہ کربلا جہالتوں پر علم کے غلبے کا نام ہے ؛ واقعہ کربلا ظلم اور ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے ؛واقعہ کربلاخواب غفلت سے بیدار کرنے کا نام ہے ؛ واقعہ کربلا توحید کی سربلندی اور کفرو نفاق کی نابودی کا نام ہے ۔

اس عظیم واقعہ نے دنیاکو متزلزل اور بڑی بڑی چٹانوں کو پانی کردیا اورعالم اسلام میں  ایسا انقلاب لایاکہ جس کا اثر  آج بھی پوری دنیا میں موجود ہے اس لیے کہ آج بھی جتنی تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہورہی ہیں انہوں نے کربلا والوں کو اپنا آئیڈیل بنایا ہے ۔

ہم امام حسین علیہ السّلام کا حق اسی وقت ادا کرسکتے ہیں جب آنحضرتؑ کے اس عظیم مقصد کوپورے عالم تک پہنچائیں اور اس کا دفاع بھی کریں ۔ اسی مقصد امام حسین علیہ السّلام اور آپؑ اور آپؑ کے اصحاب  کی قربانی کی یادتازہ کرنے کا ایک نمونہ ان مقدس ہستیوں کے چہلم کی یاد  منانا ہے جس کی سنت ایک جلیل القدر صحابی رسول ؐ جناب جابر بن عبداللہ انصاری کے عمل سے پڑی جنہوں نے سینکڑوں میل پیدل چل کر ۲۰ صفر المظفر کو نواسہ رسولؐ کی زیارت کا شرف حاصل کیالہذا آج ہماری بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس روز امام حسین علیہ السّلام کی زیارت کے لیے جائیں اور اس پیدل چل کرزیارت کرنے کی سنت کو زیادہ سے زیادہ ترویج کریں تاکہ یوں نواسہ رسولؐ کے حق کو ادا کیا جاسکے۔

اس حوالے سے ابو طالب علیہ السّلام  انٹر نیشنل اسلامک انسٹی ٹیوٹ لاہور لائق تحسین ہے جس نے گذشتہ سال کی طرح اب بھی اس سلسلہ میں قدم اٹھایا اور اردو زبان مؤمنین تک چہلم امام حسین علیہ السّلام کے عنوان سے ایک خصوصی شمارہ شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے  ۔اسی طرح ان دوستوں  کے بھی تہہ دل سے ممنون و مشکور ہیں کہ جنہوں نے عزاداروں کے نام اپناپیغام بھیج کرہماری حوصلہ افزائی فرمائی۔علماء کرام اور اہل مطالعہ حضرات سے ہماری یہ گزارش ہے کہ چونکہ اس سلسلہ میں یہ ہماری جدید کاوش ہے جسے آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے لہذا اس میں اصلاحات اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیےاپنی مفید آراء سے مطلع فرمائیں ۔

سید عزادار حسین