ولادت حضرت امام ھادی علیہ السلام

حضرب امام ھادی (ع ) کی تاریخ ولادت کے بارے میں بعض مورخین نے ان کی ولادت 15 ذی الحجہ اور بعض نے 2 یا 5 رجب بتائي ھے، اسی طرح ولادت کے سال کے بارے میں بھی بعض نے 212 ھجری قمری اور بعض نے 214 ھ بیان کیا ھے(1)
رجب میں امام ھادی علیہ السلام کی پیدایش کی ایک دلیل
دعای مقدسہ ناحیہ ھے، جس میں اس جملہ کا استعمال ھوا ھے کہ: "الھم انی اسلک باالمولودین فی رجب ، محمد بن علی الثانی و ابنہ علی ابن محمد المنتجب"(2)
آپ کا نام گرامی علی اور لقب ،ھادی، نقی ۔ نجیب ،مرتضی ، ناصح ،عالم ، امین ،مؤتمن ، منتجب ، اور طیب ھیں، البتہ ھادی اور نقی معروف ترین القاب میں سے ھیں،آنحضرت کی کنیت " ابو الحسن " ھے اور یہ کنیب آنحضرت کے علاوہ دوسرے تین اماموں یعنی امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام،امام موسی ابن جعفر علیہ السلام ،امام رضا علیہ السلام کی ھے، لیکن کنیت(ابو الحسن) کا تعین اور تمیز امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لۓ مخصوص ھے اور امام موسی بن جعفر علیہ السلام کو ابو الحسن اول ،امام رضا علیہ السلام کو ابو الحسن الثانی، اور امام علی النقی علیہ السلام کو ابو الحسن الثالث کہا جاتا ھے(3)
امام دھم کے والد گرامی کا نام
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اور والدہ ماجدہ کا نام سمانہ مغربیہ ھے،
امام ھادی علیہ السلام نے اپنی والدہ کے بارے میں فرمایا: میری والدہ میری نسبت عارفہ اور بھشتیوں میں سے تھی، شیطان کبھی بھی اس کے نزدیک نہیں جا سکتا اور جابروں کے مکر و فریب اس تک نہیں پہنچ سکتے، وہ اللہ کی پناہ میں ھے جو سوتا نھیں اور وہ صدیقین اور صالحین کی ماؤں کو اپنی حالت پر نھیں چھوڑتا" (4)
امام علی النقی الھادی علیہ السلام کی ولادت مدینہ منورہ کے ایک گاؤں " صریا " میں ھوئی،صریا مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر واقع ہے کہ جسے امام موسی ابن جعفر نے آباد کیا اور کئ سالوں تک آنحضرت کی اولاد کا وطن رھا ھے
حضرت امام علی النقی علیہ سلام جو کہ ھادی اور نقی کے لقب سے معروف ہیں 3 رجب اور دوسری قول کے مطابق 25 جمادی الثانی کو سامرا میں شھید کۓ گۓ،(5)
امام علی النقی علیہ سلام نے ذیقعدہ سن 220 ھجری میں جب انکے والد گرامی" نویں امام" شھید کۓ گۓ میراث امامت کے اعتبار سے آپ امامت کے منصب پر فائز ھوۓ،
شایان ذکر ھے کہ جب امام ھادی(ع) امامت کے منصب پر فائز ھوۓ توآنحضرت کی عمر 8 سال 5 مھینے سے زیادہ نہ تھی،آپ(ع) اپنے والد کے مانند بچپن میں ہی امامت کےعظیم الھی منصب پر فائز ھوۓ،
حضرت امام علی النقی علیہ سلام کا دور امامت،6 عباسی خلیفوں( معتصم ، واثق، متوکل ،منتصر ،مستعین ، اور معتز کے ھمعصر تھا۔
امام علی النقی علیہ سلام کے ساتھ ان خلیفوں کا سلوک مختلف تھا جن میں سے کسی نے امام کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو کسی نے حسب معمول برا ، البتہ سب کے سب خلافت کو غصب کرنے اور امامت کو چھیننے میں متفق اور ھم عقیدہ تھے،جن میں سے متوکل عباسی (دسواں عباسی خلیفہ)اھل بیت اور خاندان امامت و علوی کے نسبت سب سے زیادہ دشمنی رکھنے میں نامدار تھا اور ھر طریقے سے انکو آزار و اذیت پھچانے میں کوئی کسر باقی نھیں چھوڑی ، حد تو یہ تھی کہ ا ئمہ ھدی کی ھر یاد گار کو مٹانا چاھتا تھا، اماموں کی قبروں کو خراب کیا ، خاص کر قبر مطھر سید الشھدا حضرت امام حسین علیہ سلام اور اس کے اطراف کے تمام گھروں کو ویران کرنے اور وھاں کھیتی باڑی کرنے کا حکم دیا۔ (6)
متوکل نے امام کو سن 243 ھجری میں مدینہ منورہ سے نکلوا کر سامرا نقل مکانی کروائی اسطرح آنحضرت کو اپنے آبائی وطن سے دور کیا۔(7)
ان 6 عباسی خلیفوں میں سے صرف منتصر عباسی ( گیارواں عباسی خلیفہ ) نے اپنے باپ متوکل کی ھلاکت کے بعد اپنی مختصر دور خلافت میں علویوں اور خاندان امامت و رسالت کے ساتھ قدرے نیک سلوک کیا،جبکہ جو مظالم عباسی خلیفوں نے ان پر ڈھاۓ ناقابل تھا،
حضرت امام علی النقی علیہ سلام کو سامرا " عباسیوں کے دار الخلافہ" میں 11 سال ایک فوجی چھاونی میں جلا وطنی کی حالت میں رکھا گیا اور اس دوران مکمل طور پر اپنے دوستوں کے ساتھ ملاقات کرنے سے محروم رکھا گیا۔ آخر کار 3 رجب اور دوسری روایت کے مطابق 25 جمید الثانی سن 254 ھجری میں معتز عباسی کی خلافت کے دور میں خلیفہ کے بھای معتمد عباسی کے ھاتھوں زھر دے کر شھید کیا گیا،
شھادت کے وقت امام علیہ سلام کے سر ھانے انکے فرزند حضرت امام حسن عسکری علیہ سلام کے سوا کوئي نہ تھا،
حضرت امام حسن عسکری علیہ سلام  اپنے والد گرامی کی شھادت پر بہت روۓ اور گریبان چاک کیا اور آنحضرت کا خود ھی غسل دیا کفن اور دفن کیا، اور کچھ نادان اور متعصب لوگوں نے حضرت امام حسن عسکری علیہ سلام کی تنقید کی کہ انھوں نےکیوں گریبان چاک کیا؟ ، آنحضرت نے انکو جواب دیا کہ" آپ احکام خدا کے بارے میں کیا جانتے ھیں؟ حضرت موسی بن عمران علیہ سلام نے اپنے بھائی ھارون علیہ سلام کے ماتم میں گریبان چاک کیا"(8)امام ھادی علیہ سلام کا جنازہ نھایت شان سے اٹھا، اھل بیت اطھار کے چاھنےوالوں ، فقیھوں ، قاضیوں، دبیروں اور امیروں کے علاوہ خلیفہ کے دربار کے بزرگوں نے شرکت کی اور امام کواپنے ایک حجرہ میں دفن کیا گیا،(9)
اس وقت آنحضرت کا مرقد مطھر شھر سامرا میں ھے جھاں آپ (ع) کے جوار میں آپکے فرزند حضرت امام حسن عسکری علیہ سلام ، انکی بھن حکیمہ خاتون امام جواد علیہ سلام کی بیٹی اور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ شریف کی والدہ ماجدہ نرگس خاتون دفن ھیں،
حوالجات :
1 {الارشاد (شیخ مفید)، ص 635؛ کشف الغمہ ( علی ابن عیسی اریلی) ج،3، ص،23 ؛ مننتھی الامال ( شیخ عباس قمی)، ج 2 ، ص،361؛ الکافی ( شیخ کلینی) ، ج 1، ص،497؛ وقایع الایام ( شیخ عباس قمی)،ص497}
2 {مفاتیح الجنان، ماہ رجب کی چٹی دعای }
3 {منتھی الامال،ج2،ص،361؛وقایع الایام، ص 296}
4 { منتھی الامال ج2 ، ص 361 }
5 الارشاد (شیخ مفید)، ص 649؛ منتہی الآمال (شیخ عباس قمی)، ج2، ص 384.
6 منتہی الآمال، ج2، ص 383.
7_ منتہی الآمال، ج2، ، ص 377 و الارشاد، ص 646.
8_ منتھی الآمال، ج2، ص 385.
9_ نک: الارشاد، ص 635؛ کشف الغمہ (علی بن عیسی اربلی)، ج3، ص