مترجم: سید محمد میثم زیدی بجنوری
امام خمینیؒ کی قرآن سے انسیت
موضوع: امام خمینیؒ
انبیای الہی اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کو انسان کی زندگی میں انسان کامل کے حقیقی نمونوں اور ہر لحاظ سے کامل الگو کی طور پر شمار کیا جاتا ہے اور ان کی سیرت اور طریقۂ زندگی خدا پرست اسانوں کے لئے نمونہ ہے۔ انسان ہمیشہ کامیابی اور اپنے مقصد تک پہونچنے کے لئے الگو اور نمونہ کا محتاج ہے۔ انسانی آئیڈیل کامیابی کے مناروں تک پہونچنے کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ خداوندعالم نے بھی انسان کی شکل میں اپنے پیغمبروں اور ہادیوں کو بھیج کر لوگوں کو انسانیت کے بہترین نمونہ متعارف کرائے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہادیوں اور نمونوں کا انتخاب زندگی کے ہر موڑ پر ضروری ہے جس کی وجہ سے انسان امید کے ساتھ روشن مستقبل کی طرف اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے حرکت کرتا ہے۔


انبیای الہی اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کو انسان کی زندگی میں انسان کامل کے حقیقی نمونوں اور ہر لحاظ سے کامل الگو کی طور پر شمار کیا جاتا ہے اور ان کی سیرت اور طریقۂ زندگی خدا پرست اسانوں کے لئے نمونہ ہے۔ ائمۂ اطہار علیہم السلام کا ثقل اصغر ہونے کے عنوان سے ثقل اکبر سے محکم رابطہ ہے۔و اهتمام وصف ناپذيري نسبت به كتاب خدا از خود نشان داده اند؛ اس طرح سے کہ ان کی رفتار و گفتار کو قرآن کی کسی آیت کے نمونہ کے طور پر جانا جاسکتا ہے وہ نہ صرف قرآن پر عمل کرنے والے اور اس کو حمل کرنے والے ہیں بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے کتاب خدا سے رابطہ اور انس کے سلسلہ میں ضروری احکام بھی صادر کئے ہیں۔
اہل بیت علیہم السلام کے علاوہ علماء کے درمیان بزرگ اور ائمۂ اطہارؑ کے پیروکار اور قرآن پر عمل کرنے والے بھی ملتے ہیں جنہوں نے آیات الہی سے استفادہ کرکے کامیابی کے مناروں کو فتح کیا ہے اور اپنی جان کو پاک چشمہ سے سیراب کیا ہے۔ بدون شک کوئی بھی زمانہ اس طرح کے افراد سے خالی نہیں رہا ہے اور ان کو قرآن سے مانوس ہونے کے لئے بہترین فکری اور عملی الگو قرار دیا جاسکتا ہے۔ ہم بھی اپنے زمانہ میں اس طرح کے افراد سے بے بہرہ نہیں ہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے موئسس ان افراد میں سے ہیں جو قرآن سے مانوس ہوکر اور اس پر عمل کرکے انسانی اور آسمانی فضیلت میں ستارہ کی طرح چمکتے ہیں۔ درج ذیل تحریر میں امام راحلؒ کی قرآن پر خاص توجہات کے بعض جلووں کو ذکر کیا جارہا ہے جس پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
انقلاب قرآن کے آئینہ میں
وہ جس کا نام انقلاب کے ساتھ ہے اور پوری دنیا میں ایران کے اسلامی انقلاب کے ساتھ پہچانا جاتا ہے۔ اس نے اپنی تحریک کی بنیاد قرآنی اصولوں پر رکھی اور اپنے مقاصد اور عقائد کو قرآن سے لیا اور ہمیشہ کوشش کی کہ حکومت اور معاشرہ کو قرآن کے اصول اور نہج پر ادارہ کرے۔ امام انقلاب اور تحریک کے مقصد کو اس طرح سے بیان کرتے ہیں: "جانتے ہو یہ تحریک اور انقلاب اسلام کے احکام کو جاری کرنے کے لئے ہے۔ ہمارا اس کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں تھا تم حکومت حاصل کرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ قرآن کو زندہ کرنا چاہتے تھے"1 امامؒ کا عقیدہ تھا کہ اگر قرآن مہجور ہوجائے گا تو اسلام مظلوم ہوجائے گا اور قرآن کے مہجور ہونے کی دلیل اسلام کے سیاسی احکام کی طرف توجہ نہ کرنا ہے آپ انسان کی زندگی میں قرآن پر عمل کرنے کی تاکید کرتے تھے اور آپ کا ماننا تھا کہ اگر قرآن میں منعکس اسلام کے سیاسی احکام پر عمل کیا جائے تو یہ مسلمانوں کی سربلندی کا باعث ہوگا اور اگر مسلمان ممالک استعماری طاقتوں پر بھروسہ کے بجائے اسلام اور اس کی نورانی اور قرآنی تعلیمات سے استفادہ کرتے تو آج صہیونی غاصبوں اور امریکہ کی چال میں گرفتار نہ ہوتے۔2
اسلامی جمہوریہ ایران کے موئسس سیاسی اور سماجی مراکز میں قرآنی احکام کے نفاذ پر تاکید کے علاوہ  قرآن سے مانوس ہونے پر بھی بہت زیادہ توجہ دیتے تھے اور ائمہ علیہم کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے قرآن سے دیرینہ لگاؤ رکھتے تھے اور جب بھی وقت ملتا تھا قرآن کی تلاوت کرتے تھے امامؒ کو قرآن سے اس طرح سے عشق تھا کہ آیات الہی کے خوبصورت نظاروں کو آپ کی زندگی میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
وقت سے استفادہ
امامؒ نے اپنے روز مرہ کے کاموں کو انجام دینے کے لئے ایک شیڈول بنا رکھا تھا دن یا رات میں جو کام آپ کو انجام دینے رہتے تھے وہ اس میں درج تھے(3) پروگرام کے مطابق یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی زندگی میں کبھی ایک منٹ بھی ضایع نہیں ہوا(4) آپ جب پیرس میں تھے، جس وقت خبر نگار انٹرویو کے لئے آپ کی خدمت میں آتے تھے تو عام طور پر کیمرے سیٹ کرنے میں ان کو 10 سے 15 منٹ تک لگ جاتے تھے امامؒ اس وقتمیں قرآن کی تلاوت میں مشغول ہوجاتے تھے بعض لوگ کہتے تھے آپ خود کو انٹرویو کے لئے تیار کیجئے (یعنی اس وقت تلاوت نہ کیجیے) آپ جواب میں فرماتے: کیا میں اپنی زندگی کے ان چند منٹوں کو ضایع کردوں؟(5) امامؒ کے ایک قربی کہتے ہیں: امامؒ دن میں کئی مرتبہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ نماز صبح کے بعد، نماز ظہر و عصر سے پہلے، نماز مغرب و عشاء سے پہلے اور جب بھی وقت ملتا تھا آپ اس مستحب عمل کو پابندی سے انجام دیتے تھے۔ ہم دن میں جب بھی آپ کی خدمت میں جاتے تھے تو امامؒ کو تلاوت قرآن میں مشغول دیکھتے تھے۔(6)
مجھے قرآن کی تلاوت کے لئے آنکھ چاہیئے
جس زمانہ میں امامؒ نجف میں تھے، آپ کی آنکھ میں پریشانی ہوجاتی ہے جس وقت ڈاکٹر نے آپ کی آنکھ کا معاینہ کیا تو آپ سے گذارش کی کہ کچھ دن قرآن کی تلاوت نہ کریں اور آرام کریں۔ امامؒ مسکرائے اور فرمایا: مجھے قرآن کی تلاوت کے لئے آنکھیں چاہیئے آنکھوں کے ہوتے ہوئے اگر قرآن نہ پڑھوں تو ان کا کیا فایدہ۔(7)
تلاوت قرآن کی سفارش
امام راحلؒ قرآن سے مأنوس ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں سے بھی قرآن کو فہم و ادراک کے ساتھ پڑھنے کی سفارش کرتے تھے یہاں تک کہ قرآن سے ظاہری انس کو بھی مؤثر اور مفید مانتے تھے؛ جیسا کہ آپ نے ایک خط میں اپنے بیٹے سید احمد کو لکھا ہے: "میرے بیٹے اس کتاب معرفت سے آشنائی حاصل کرو اور تلاوت قرآن کے ذریعہ اپنے محبوب کی طرف راستہ کو کھولوں اور یہ تصور نہ کرو کہ بغیر معرفت کے قرائت مؤثر نہیں ہے دیکھو یہ شیطان کا فریب ہے۔ بلآخرہ یہ کتابتمہارے اور ہر شخص کے لئے محبوب کی طرف سے ہے اور محبوب کا خط محبوب ہوتا ہے چاہے محبوب اس کے معنی کو نہ جانتا ہو شاید اس جذبہ محبوب کی محبت کہ جو کمال مطلوب ہے کی وجہ سے محبوب تمہاری تلاش میں آئے اور تمہارے ہاتھ کو تھام لے۔
قرآن کا احترام
قرآن ایک عظیم کتاب ہے جس کی عظمت خدا کی عظمت سے وجود مین آئی ہے؛ کیونکہ قرآن پروردگار کی واضح تجلی ہے۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:«فتجلي سبحانه لهم في كتابه من غير ان يكونوا رأوه؛(۹)خداوندعالم نے اپنی کتاب میں خود کو آشکار کردیا ہے بغیر اس کے کہ اسے دیکھو" قرآن الہی اور آسمانی ہونے کی وجہ سے لایق احترام و تکریم ہے۔ امامؒ کو عظیم ماننے کے ساتھ ساتھ ظاہری اور باطنی لحاظ سے اس کی حفاظت کرتے تھے بعض اوقات بعض وجوہات کی وجہ سے ہم چھوٹے قرآنوں کو ہینڈ میں بیگ میں امام کی خدمت میں لے جاتے تھےابتدا میں ایسا ہوا کہ بغیر کسی توجہ کے دوسرے سامان کے ساتھ قرآن کو بیگ سے باہر نکال کر فرش پر رکھ دیا امامؒ جو اس کی طرف متوجہ تھے نے فرمایا: "قرآن کو زمین پر نہ رکھو اور بغیر کسی فاصلہ کے اسے اٹھایا اور میز پر رکھ دیا(۱۰(
قرآن کی آیت کے کامل مصداق
ایران کے اسلامی انقلاب کے قائد فرماتے ہیں: امامؒ کے انتقال کی اگلی رات میں حیرت و بے چینی میں قرآن سے فال نکال رہا تھا تو سورۂ کہف کی اٹھاسیوی آیت آئی «و اما من آمن و عمل صالحا فله جزاء الحسني و سنقول له من امرنا يسراً»اور جس نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیا ہے اس کے لئے بہترین جزا ہے اور میں بھی اس سے اپنے امور میں آسانی کے بارے میں کہوں گا۔میں سمجھ گیا اس آیت کی کامل مصداق یہی عظیم ہستی ہے۔ ایمان اور عمل صالح اور بہترین جزاء ان کے لئے بہترین انعام ہے"(۱۱(
جو کچھ بیان کیا گیا وہ امامؒ کی قرآنی سیرت کا مختصر سا حصہ ہے اس موضوع پر تفصیلی بحث کے لئے زیاہد وقت کی ضرورت ہے اس لئے ہم اسی پر اکتفا کررہے ہیں۔
 
 
مركز فرهنگ و معارف قرآن

علي اكبر مؤمني
حوالہ جات
۱( صحيفه نور، ج۱۶، ص.۲۷
۲( رجوع کیجئے: صحيفه نور، ج ۱۶، ص ۳۹و ج ۱، .۱۸۶
۳( حجه الاسلام انصاري كرماني، رسالت اخبار،
۹۷۲.۳.
۴( فرشته اعرابي، سيره ۱، ص .۱۹
۵( مجله حوزه، شماره ۹۶، ص .۲۰۸
۶( مصطفي وجداني، سرگذشت هاي ويژه از زندگي امام خميني، ج۲، ص.۵۲
۷( مجله حضور، شماره ۳، فاطمه طباطبايي.
۸( مجله حوزه، شماره ۹۶، ص .۲۲۵
۹( نهج البلاغه، صبحي صالح، خطبه .۱۴۷
۱۰( سرگذشت هاي ويژه از زندگي امام خميني، ج ۵ ص .۶۹
۱۱(حديث ولايت، ج۱، ص ۶؛ قرآن كتاب زندگي درآينه نگاه رهبر انقلاب، ص .۱۹۱
 كيهان اخبار     
              
      
http://www.navideshahed.com