Print 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت معصومہ علیہاالسلام کا ایران تشریف آوری کا راز

مقدمہ  :

مورخین اور تاریخ نگاروں نے حضرت معصومہ علیہاالسلام  کی ایران تشریف آ وری کے راز کے حوالے سے  بہت سارے  عوامل ذکر کئے  ہیں ۔ہم  پہلے ایک پس منظر علویوں کی ہجرت کے سلسلے میں ذکر کرتے ہیں ۔بعض  مورخین کا کہنا ہے کہ ایرانی قوم کا آل علی علیہ السلام سے محبت و مود ت کرناسبب بنا کہ خاندان اھل  بیت اور انکے چاہنے والے ایران کی جانب سفرکریں[1]۔بعص کا کہنا ہے کہ جب پیامبر گرامی اسلام کے خاندان والوں  کے لئے مدینہ میں زندگی گزارنادشوار ہوگیاتو انھوں نےآسایش و آرام کیلئے دوسرے ممالک اورشھروں  میں ہجرت کرنا شروع کردی  [2]۔بعص کا کہنا ہے کہ جب ایران کے لوگوں نے امام علی علیہ السلام کی ولایت کا اقرار کرتےہوئے  انکے خاندان والوں سے محبت کا اظہارکیا کرتے تھے اور ولایت کے پرچار کیلئے تمام ترکوششیں  کیں اور اس راہ میں جان ومال کی قربانی بھی منظور تھی اس لئے علویوں نے اپنی جان کی حفاظت کے خاطر ایران کا رخ کیا تھا [3]۔

ہجرت کے راز:

حضرت معصومہ  ؑ بھی دوسرے علویوں کی طرح سوچےسمجھے منصوبہ کے تحت مدینے سے ایران تشریف لائیں تھیں  بعص کہتے ہیں کہ چونکہ امام رضا علیہ السلام اور حضرت معصومہ دونوں  کی مادر گرامی ایک تھی اور ان دونوں میں محبت تھی اس لئے بھائی کی محبت ان کو ایران کھینچ کرلائی ۔اسلام میں محبت وعاطفیت  کا موٖضوع  ایک مھم موضوع ہے اس کے باوجودبھی ،میرے خیال میں  حضرت معصومہ ؑ کی ہجرت کو صرف ایک عاطفی اور احساسی ہجرت تلقی کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ انکی ہجرت قرآن اور احادیث  کی روشنی میں اسلامی تعلیمات اور تفکرات کو عام کرنے کےلئے بھی تھی اور اس دور کے جابر اور ظالم حکمرانوں کے خلاف ایک عظیم کارنامہ تھا اور خاندان علوی کی بقا ءبھی اسی ہجرت کا مرہون منت ہے اوراس  طرح بہت سارے عوامل  موجودہیں۔

’تاریخ مذھبی قم ‘کے مصنف نے علویوں کے ایران آنے کے  تین رازذکر کئے ہیں ۔

[۱] سرزمین قم امام علی علیہ السلام کے چاہنے والوں کی بستی تھی اور خاندان امام علی علیہ السلام کے لئے امن وامان کا مقام تھا  درحالیکہ وہ  دوسرے شہروں میں مشکلات اور سختیوں سے  روبرو تھےاس دورمیں حالات اتنے خراب تھے کہ انکے خون بہانے  کا امکان تھا اس لئے انہوں نے ایران کی جانب ہجرت کی ۔

[۲]سرزمین قم کومعصومین علیہم السلام  نے   پناہگاہ آل محمد علیہم السلام [4]سے یا د کیا ہے اور اس راز سے علوی لوگ  اور قم والے باخبر تھے ۔اس لئے علویوں نے قم  کی طرف سفرکیااور قم کو اپنا مسکن و ماوی بنایا۔

[۳] علوی خاندان دوسری اور تیسری قرن میں بنی امیہ اور بنی عباس کے خلفا ءکے شکنجے کا شکار تھا ۔بعض خلفا ءجیسے منصور دوانقی اور متوکل نے خاندان امام علی علیہ السلام کے ساتھ دشمنی کی انتہا کردی تھی اس بناءپر جب مولا علی علیہ السلام کے خاندان والوں کو فرصت ملتی تھی تو وہ ہجرت کرتے تھے اور موقع ملنے پر خلفا ءسے جنگ کرلیا کرتے تھے کہ  جس میں کبھی کامیاب ہوتے اور کبھی شکست کا سامنے ہوتا تھا[5]۔

حضرت معصومہ علیھاالسلام کی ایران تشریف آوری کے بہت سارے راز ہیں جن میں بعض کا ہم تذکرہ کرتے ہیں ۔

(۱)عقیدہ  کی مضبوطی:

جس چیز کی انسان پر حکومت ہوتی ہے وہ اسی فکرو عقیدہ کی ہوتی ہےاس لئے  ایران کے لوگوں نے توحید کی  آواز اور نبوت کا پیغام سنا تو اس پر لبیک کہتے ہوئے اور جوق در جوق اسلام میں  داخل ہوئے ۔اور اسلام کی سربلندی کے لئے  دشمنوں کے ساتھ جنگیں کی  ۔ان کا عقیدہ اتنا مضبوط تھا کہ  اس کے لئے اپنی جان و مال نثار کرنے کے کئے تیار تھے  جب علوی خاندان  کو انکی محبت کا اندازہ ہو ا تو ایران کی طرف روانہ ہوئے اور ایران کو سکونت کے لئے انتخاب کیا ۔

(۲) ایران کی تاریخ  اور آب و ہوا:

ایران اور سرزمین قم کی اپنی ایک خاص تاریخ ہے قدیم ایام سے چلا آرہا ہے جو عبرتوں اور حوادث سے پر ہیں  اور فضائل شہر مقدس قم کے بارے میں بہت سی  روایتیں بھی موجود ہیں کہ جن کو سارے اھل عرب  ،بالخصوس علوی خاندان نے سناتھا اور   اسکے علاوہ ایران کی آب و ہو ابھی زندگی گزارنے کےلئے مناسب تھی  اور شاید یہی سبب بناہو کہ   حضرت معصومہ ؑ اور دوسرے امام زادے قم تشریف لائیں  ۔

(۳)  قم کی امنیت :

سرزمین قم دوسرے  شہروں اور ممالک  کی نسبت،امام علی ؑکے خاندان کے لئے امنیت کی جگہ تھی  بعض لکھتے ہیں کہ امام علی ؑ کے خاندان والوں نے شھرقم اس لئے ھجرت کی تاکہ بنی امیہ اور بنی عباس کے ظالم حکمرانوں کے ساتھ مقابلہ کرسکیں [6]۔اور قم میں موجود امام کے چاہنے والوں نے بھی اسلام کے ترویج کی خاطر خود کو تیار کیا ہوا تھا اور پرچم اسلام کے سائے میں اپنی جان ومال عزت و آبرو کو قربان کرنے کیلئے تیار تھے۔

(۴)  امام رضا علیہ السلام کی ہجرت :

حضرت معصومہ ؑ کا ایران سفرکرنے کے عوامل میں ایک  مہم عامل امام رضاعلیہ السلام کی ہجرت تھی اور امام رضا علیہ السلام خاندان نبوت کے آٹھویں جانشین تھے اس لئے انکے چاہنے والے ان سے ملنے کے لئے ایران آیا کرتے تھے  تاکہ دینی اور دنیوی سوالوں کو انکی خدمت میں پیش کیا کرسکیں ۔

حضرت معصومہ ؑ کے قم تشریف آوری کے سلسلے سے بہت سارے تحلیلات اور نظریات موجود ہیں لیکن ایک چیز جو مسلّم ہے وہ یہ ہے کہ سن ۲۰۰ ہجری میں امام رضاعلیہ السلام کو اجبارا مدینے سے خراسان لایا گیا اور مامون نے ولایت عہدی کے سلسلے میں انکو ایران بلایا اور بعض لوگوں  نے یہ سمجھا کہ اب مامون ولایت عہدی  امام رضا ؑ کو دے گا جب یہ خبر پورے مدینے میں پھیلی تو امام کے چاہنے والے ایران کی طرف روانہ ہوئے اور ان میں ایک حضرت معصومہ علیھاالسلام بھی تھیں جو اپنے بھائی سے ملنے کیلئے مدینے سے ایران روانہ ہوئی تھیں۔

تاریخ قم‘ ایک قدیم تاریخی کتاب ہے جو امام رضا علیہ السلام اور حضرت معصومہ ؑ کے حوالےسے ایک مھم منبع تاریخی ہے اسکا مولف لکھتا ہے کہ (جب امام رضا علیہ السلام کو سن ۲۰۰ ہجری میں ولایت عہدی کے بھانے  خراسان لایا گیا تھا اس کے کچھ عرصے بعد حضرت معصومہ ؑ ، خود امام کے حکم سے سن ۲۰۱ ھجری میں ایران تشریف لائی تھیں[7]۔)

ان سب کے علاوہ اور بھی انکے سفر کے رازہیں جو مختلف کتب[8] میں موجود ہیں ہم ان میں سے بعض کو اس مقالے میں تحریر کرتے ہیں۔

ْحضرت معصومہ علیھاالسلام کی ایران تشریف آوری کے راز کے حوالے سے مذکورہ باتیں  ان سے متعلق لکھی جانے والی کتب[12] میں پائی جاتی ہیں لیکن تاریخ کی کسی کتاب میں یہ سب  راز بیان نہیں ہوئی ہیں  بلکہ ہم ان باتوں کو تحلیل گروں اور مصنفوں  سے نسبت دے سکتے ہیں یہ اہمیت اور عظمت سے بھرپور مسئلہ خواہ اسکی تاریخی کوئی سند نہ  بھی ہو لیکن  اس  کی بررسی کی جانی چاہئے ۔

اس  حوالے سے ہم کسی ابتکاری عمل کا دعوا    دار نہیں ہیں  لیکن اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے تاریخ میں موجود ماہر ین اور تجربہ کاروں کے نظریات ،انکی شخصیات ،فرہنگ اور عقاید بھی ان مسائل کے حل کے لئے موثر ہیں ۔کسی بھی تاریخی واقعے کی تحلیل کے لئے اس واقعے میں موجود ماہرین  کے عقاید ،انکی طرز تفکر اور انکے  اجتماعی وقار سے غافل نہیں ہونا چاہئے ۔بلکہ اسی طرح ہم نے بھی  حضرت معصومہ ؑ کی شخصیت کی تحلیل کی ہے حالانکہ انکی ہجرت کے حوالے سے ہمیں کوئی خاص مطالب تاریخ میں  نظرنہیں آتا ہے لیکن جب ہم انکی شخصیت ،مقام و منزلت کو آئمہ اطہار علیہم السلام کی احادیث میں دیکھتے ہیں  تو انکو شافع ،کریمہ اھل  بیتؑ،معصومہ ،ثانی فاطمہ ؑ ،عالمہ ۔۔۔ پاتےہیں روایت ہے کہ (ہمارے سارے شیعہ انکے واسطے سے بھشت میں جاینگے [13]

نتیجہ :

حضرت معصومہ علیہاالسلام کی ہجرت بھی دوسرے علویوں کے مانند باہدف تھی اس کے مختلف اسباب و عوامل ہیں جن میں سے بعض کو ہم نے اس مقالے میں ذکرکیا ہے جو ان کی اس عظیم ہجرت  میں موثر رہےہیں۔حضرت معصومہ ؑ کی علمی شخصیت[14]  کو مدنظر رکھتے ہوئے انکی اس ہجرت کی تحلیل کی جانی چاہئے جس امام حسین علیہ السلام کے عظیم مشن کو دنیاتک پہچانے کیلئے حضرت زینب ؑ نے قربانی دی تھی اسی طرح حضرت معصومہ ؑ نے امام رضاعلیہ السلام کے مشن کو باقی رکھنے کےلئے ہجرت کی تھی جس طرح حضرت زینب ؑ نے بنی امیہ کے خونخوار بادشاہوں کے خلاف قیام کیا تھا ویسے ہی حضرت معصومہ ؑ کا  بنی عباس [15]کے  ظالم حکرانوں کے خلاف قیام تھا۔اگر چہ اس سلسلے  میں ہمارے پاس تاریخی منابع بہت کم ہے مگر حضرت معصومہ ؑ جیسی باوقار شخصیت ،جو مظہر عقل اور صاحب فکر تھیں انکی اس ہجرت کو ایک عادی اورمعمولی ہجرت سے تعبیر کرنا مناسب نہیں ہوگا ۔تاریخ میں ہے کہ امام رضاعلیہ السلام نے خود حضرت معصومہ کو خط کے ذریعہ بلایا تھا [16]۔

قم کے حوالے سے قدیم ترین تاریخ نے بھی حضرت معصومہ ؑ کے ایران تشریف آوری کے راز کے سلسلے میں لکھا ہے کہ حضرت معصومہؑ اپنے بھائی امام رضاعلیہ السلام سے مقالات کے لئے ایران تشریف لائی تھیں[17] ۔مزید مطالب کےلئے  محققین  سے عرض ہے کہ انکے حوالے سے لکھے گئے کتابوں کی جانب رجع فرمائیں۔

                                                                                            

منابع:

 

 

 محمدجواد حبیب

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

 

[1]   یادگارعصمت ص ۷۴۔

[2]  یادگارعصمت ص ۷۴۔

[3]   یادگارعصمت ص۷۵۔

[4]   قم عشق ٓال محمد و ماوی شیعتھم ۔

[5]  تاریخ مذھبی قم ص ۷۸،۷۷۔

  یادگارعصمت ص ۷۷۔[6]

[7]       تاریخ قم ص ۲۱۳

[8]    تاریخ قم ،تاریخ مذھبی قم ،حضرت معصومہ فاطمہ دوم ،کریمہ اھل البیت ،بانوی ملکوتی ،ھجرت کریمہ ۔۔۔ سے اقتباس کیا ہے ۔

[9]      نجمہ خاتون، اثرحمید احمدی جلفایی ۔

[10]  کریمہ اھل البیت ،علی مھدی پور ص ۴۹۳۔

[11]      تاریخ قم ،تاریخ مذھبی قم ،حضرت معصومہ فاطمہ دوم ،کریمہ اھل البیت ،بانوی ملکوتی ،ھجرت کریمہ ۔۔۔ سے اقتباس کیا ہے ۔

[12]   تاریخ قم ،تاریخ مذھبی قم ،حضرت معصومہ فاطمہ دوم ،کریمہ اھل البیت ۔

[13]    یادگارعصمت   ۸۰۔

[14]    حضرت معصومہ کی عظمت و شخصیت کے حوالے سے بھہت سے کثیر روایات ہماری روائی کتابوں میں موجود ہیں ۔بحار الانوار ۶۰ص ۲۲۸

[15]     اس عظیم ہجرت کے اسباب و وسایل کے حوالے سےہمیں تاریخ میں خاص مطالب دستیاب نہیں ہے اما جیسے کہ جانتے ہیں کہ مامون کا اصل ہدف یہ تھا کہ امام کو لوگوں سے دور کیا جائے اور شیعہ مکتب کو نابود کیا جائے اس لئے مختلف فرقہ وجود میں لائے (واقفی گری )جو امامت کو امام موسی بن الکاظم علیہماالسلام تک محدود جانتے تھے اس لئے ضروری تھا کہ حضرت معصومہء بھی حضرت زینب کی طرح قیام کریں اور ان ظالم حکمرانوں کی گندھی سازش کو مٹی میں ملادیں۔

[16] سفرنامہ ی صفا السلطنہ مشتاقی ،تحفہ الفقراء،اگر امام رضا علیہ السلام نے ولایت عھدی کو قبول کرنے کے بعد حضرت معصومہ ؑ کو دعوت دی تھی تو ان کو انکی سلامتی کے لئے بھی کچھ تدبیر کرلیتے حالانکہ انکے کاروان پر ایران آنے کے بعد حملہ ہو ا   اور انکے ساتھ آنے والے شھید ہوئے اور خود حضرت معصومہ ؑ زخمی ہوئی تھیں اس پر غور کیا جائےہے ۔

[17]   تاریخ قم ۲۱۳۔