تاریخ کے ہردورمیں مسلمان علماء دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں نے اسلامی معاشروں کے اتحاد پر خاص توجہ دی ہے اور اس اہم میدان میں نہایت سعی وکوشش کی ہے ـ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبری کے آغاز میں نامور شیعہ عالم دین شیخ طوسی نے `الخلاف` کے عنوان سے ایک اہم کتاب لکھی جس سے مذاہب اربعہ کے مابین فقہ تطبیقی اور فقہ مقارن کی راہ ہموار ہوئي ـ اس کے بعد عظیم المرتبت عالم دین علامہ حلی نے "تذکرہ" لکھ کر شیخ طوسی کی روش کو آگے بڑھایا۔
بعد کی صدیوں میں بھی سید حمال الدین اسدآبادی، شیخ محمد حسین کاشف الغطاء، شیخ محمد عبدہ،وغیرہ نے سیاسی و سماجی لحاظ سے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی گراں قدر کوششیں کیں ـ ، گذشتہ صدی میں لبنان میں آیت اللہ سید عبد الحسین شرف الدین ایران میں آیت اللہ بروجردی اور شیخ محمد علی قمی اور مصر میں شیخ محمد شلتوت اور شیخ محمد مدنی نے بھی اسی راستے کو اپنایا ـ انہیں ممتاز اور عظیم شخصیتوں کی گراں قدر خدمات کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لۓ مصر کےصدرمقام قاہرہ میں `دارالتقریب بین المذاہب الاسلامیہ` کے نام سے ایک مرکز کا قیام عمل میں آیا ـ اس سلسلے میں متعدد کتابیں اور جرائد شائع ہوۓ جلسوں اور کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا اور ان کی اہمیت اور افادیت کسی پرپوشیدہ نہیں ہے ۔ پہلی بار مختلف اسلامی فرقوں سے تعلق رکھنے والے رہنما اور علماء ایک جگہ پر ایک دوسرے کے نظریات سے آگاہ ہونے کےلۓ اکٹھاہوے اور الازہر یونیورسٹی نے بھی تمام اسلامی مذاہب کے لۓ مشترکہ طور پر تدریس کا انتظام کیا۔

فقہ تطبیقی کی ضرورت

امام موسی صدر کے نزدیک یہ ساری کوششیں اور اقدامات اتحاد بین المسلمین کے لۓ لازمی اور مثبت اقدامات تھے لیکن اتنا کافی نہیں تھا۔ وہ اپنی خاص روش کے تحت فقہی اتحاد پر یقین رکھتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ فقہی تطبیق وہ مقدس بنیاد ہے جس پرفقہی اتحاد کی عمارت استوار ہوگي اور شریعت کے احکام کا اتحاد اسی سے مکمل ہوتا ہے ـ ''(1)
ان کیا خیال تھا کہ ماضی میں بزرگوں کی کوششوں سے اس انتہائي اہم کام کے لۓ راہ ہموار ہو چکی ہے اور ہم اس وقت فقہی اتحاد سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑے ہیں۔ امام موسی صدر مختلف مسلک کے علماء کی ہم نشینی و گفتگو اور اتحاد بین المسلمین کے موضوع پر کتابوں اور مقالوں کی اشاعت کو واحد موثر راستہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان خیال تھا کہ پوری دنیا میں آباد تمام مسلم فرقوں کے افراد بند مٹھی کی انگلیوں کی مانند ایک دوسرے کے قریب ہو جائیں اور یہ امر فقہی اتحاد سے ہی ممکن ہے ـ
یہ بات تو واضح ہے کہ فقہی اتحاد سے امام موسی صدر کی مراد یہ ہرگز نہیں ہے کہ مسلمان مفتیوں اور علماء کے فتووں میں کسی قسم کا کوئي اختلاف نہ ہو سب کے سب یکساں انداز میں سوچیں اور ایک ہی بنیاد اور معیار پر کام کریں۔ یہ ممکن بھی نہیں ہے ۔ امام موسی صدر احادیث کی روشنی میں امت مسلمہ کے درمیان نظریاتی اختلاف کو رحمت قرار دیتے تھے ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اختلاف سے فقہ کو مزید ترقی اور وسعت حاصل ہوگی۔ اس سے اجتہاد کی نشوو نمامیں مددملے گي لہذا جب تک نظریاتی اختلاف علمی نظریۓ کی حد تک ہے وہ باعث خیرو برکت اور ترقی و وسعت ہے۔ لیکن جب یہ نظریہ معاشرے میں فتوا اور حکم کی شکل میں تبدیل ہو جاۓ اور دینی شعار کی شکل اختیار کر لے تو اگر اس میں ہم آہنگی اور اشتراک نہ ہوا تو پھر مختلف فرقوں کے درمیان اختلاف تفرقہ اور ایک دوسرے کے تئیں غلط فہمیوں کا باعث ہوگا۔ اس سے بچنا بہت ضروری ہے ـ
امام موسی صدر فقیہ واسلامیات کے ماہر تھے انہوں نے دودھائیوں تک مشرق وسطی عالم اسلام اور مغربی دنیا کے اجتماعی اور سیاسی مسائل کا نزدیکی سے جائزہ لیا ہے اور اسلام و مغرب کی اہم سیاسی اور مذھبی شخصیتوں سے قریبی رابطے میں رہے ہیں وہ اسلام ومغرب کی تاریخ سے مکمل آشنائی رکھتے تھے وہ مسلمانوں کے مسائل سےبھی بخوبی واقف تھے
انہیں یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا تھا کہ ہر سال موسم حج میں اسلام کی عظیم اور بے مثال قوت جزئي اور ضمنی فقہی اختلافات کے سبب ضا ئع ہو رہی ہے ۔ وہ مسلم ممالک کے شرعی افق پر اتحاد کا سورج چمکتے دیکھنا چاہتے تھے ان کی کوشش یہی رہتی تھی کہ غرہ شوال کا چاند دیکھنے کے سلسلے میں جو اختلافات سامنے آتے ہیں وہ رویت واحد اور افق واحد کی حلاوت سے ختم ہوجائيں اور اس سنہری موقع کو مسلمانوں کی سربلندی وقار اور رشد و ترقی کے لۓ استعمال کیا جا سکے ـ
امام موسی صدر کی یہانتک کوشش رہتی تھی کہ جماعت کی نمازیں، اذانیں، وفات کی تاریخیں اور عیدیں تمام مسلم ممالک میں ایک ساتھ اور ایک وقت میں منائي جائيں کیوں کہ یہ صورت حال دشمنان اسلام خاص طورسے سامراج کے لۓ ایٹم بم سے بھی زیادہ فائدہ مندثابت ہوگی لیکن اگر مسلمان اس نہج پر متحد ہونے کی کوشش کریں گے تو اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیشہ کے لۓ مضبوط ہو جائیں گے۔
امام موسی صدر نے پہلی دفعہ سن انیس سو نواسی میں ستائيس رجب المرجب کو عید سعید مبعث کے موقع پر لبنان کےاہل سنت کے مفتی شیخ حسن خالد کے نام اپنے ایک خط میں یہ مسئلہ اٹھایا اس کے بعد اسی سال ذی الحجہ کے مہینے میں جب انہوں نے قاہرہ میں ابحاث اسلامی کونسل کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی تو ایک تفصیلی تقریر میں عالم اسلام کی ممتاز شخصیتوں کے سامنے فقہی اتحاد سے متعلق اپنا موقف بیان کیا اور اجلاس میں ایک مدون تجویز پیش کی جس کا حاضرین نے بڑا استقبال کیا اور امام موسی صدر کو ابحاث اسلامی کونسل کا مستقل رکن منتخب کیا گیا۔
امام موسی صدر نے قاہرہ سے شائع ہونے والے جریدے المصور سے گفتگو میں اتحاد کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہو ‎ۓ ایک بار پھر فقہی اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اتحادبین المسلمین فقہی اتحاد کےبعد ممکن ہوگا مختلف مذاہب کے علماء اور فضلاء کی گفتگو ہی اس کے لۓ کافی نہیں ہے ۔ کیوں کہ ہر مسلک اپنے پیروکاروں کی دل وجان میں سمایاہوا ہے۔ اتحاد مسلمین کے لۓ میری امید فقہی اتحاد سے وابستہ ہے ۔ عالم اسلام میں قاہرہ کو خاص مقام حاصل ہے یہ جگہ اس ہدف کی تکمیل میں بہت موثر کردار ادا کر سکتی ہے ۔
امام موسی صدر ہر موقع سے فائدہ اٹھاکر عالم اسلام کی سیاسی اور مذہبی شخصیات سے اس موضوع پر تبادلہ خیال کرتے تھے ۔ اس کے اگلے سال انیس اپریل سن انیس سو اکہتر کو ابحاث اسلامی کونسل کے چھٹے اجلاس میں شرکت کی اور نہر سویز میں تعینات فوجیوں سے ملاقات کے موقع پر اسرائیل کے خلاف جہاد کی ضرورت پر زور دیا اور شعائر دینی کے اتحاد کے زیر عنوان فقہی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ۔
سن انیس سو تہتر میں بھی الجزائر میں" اسلامی فکر کی شناخت"کے زیرعنوان منعقدہ کانفرنس میں بھی امام موسی صدر نے شرکت کی اور المجاہد جریدے کو انٹرویو دیتے ہوۓ اس انتہائي اہم موضوع پر تاکید کی ۔

فقہی اتحاد کا امکان

فقہ کا موضوع افعال مکلف ہے اورفقہ ایک مسلمان کے لۓ گہوارے سے لیکر گورتک کا دستورالعمل ہے بنابریں حقیقی اتحاد اسی صورت میں معرض وجود میں آۓ گا جب یہ اتحاد فقہی بنیادوں پر استوار ہو ورنہ اتحاد صرف دکھاوٹی اور ناپائدار ہوگا۔ انہیں اس اتحاد پر پورا یقین تھا اور اس کو ممکن بھی سمجھتے تھے۔ ابحاث اسلامی کونسل کے پانچویں سالانہ اجلاس میں جب امام موسی صدر نے فقہی اتحاد کےلۓ ایک مدون تجویز پیش کی تو بلا تفریق شیعہ و سنی تمام حاضرین نے اس تجویز کا والہانہ استقبال کیا۔
امام موسی صدر کی نگاہ میں فقہی اتحاد وہ گرانبہا گوہر تھا جس کے حصول کے لۓ مسلم معاشروں میں کوئي کوشش نہیں کی گئی تھی۔ اپنے استاد آیت اللہ بروجردی کے زمانے میں امام موسی صدر نے نزدیک سے اس گوہر کی ضوء فشانی اور اس تحریک کے ایک چھوٹے سے حصے کو عملی جامہ پہنتے دیکھا تھا۔ لہذا ان کے خیال میں عالم اسلام فقہی اتحاد سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا ہے ۔ آیت اللہ بروجردی جو عالم اسلام کے مایہ ناز فقیہ تھے فقہی اتحاد کے حامی تھے آپ نے ایک انتہائی اہم اقدام کرتے ہوۓ حج سے متعلق ایسے چار سو فتوے اور احکام جن سے متعلق روایتیں اہل سنت علماء نے صحاح ستہ اور دیگر کتابوں میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے نقل کی ہیں سعودی عرب کے حاکم کو ارسال کیں تاکہ عالم اسلام کا عظیم اجتماع یعنی حج کے اعمال مشترکہ طور پر اور پوری ہم آہنگی کے ساتھ انجام دۓ جائيں اور اس توحیدی جلوہ گاہ سے عالم اسلام اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ فیض حاصل ہو۔
ایک خط میں ارسال کۓ جانے والے یہ فتوے اور احکام عالم اسلام کے علماء وقت کی داد و تحسین کا مرکز بنے اور اس پورے خط کو رسالۃ الاسلام نامی جریدے اور سعودی عرب کے دیگر اخبارات میں شائع کیا گيا۔
امام موسی صدر کے خیال میں فقہی اتحاد کے عملی شکل اختیار کرنے کی بنیادی شرط عالم اسلام کے دانشوروں اور رہنماؤں کی ہمہ گیر سعی و کوشش ہے اگر مختلف اسلامی فرقوں کے رہنما اس اتحاد کی ضرورت کا احساس کریں اور اس سلسلے میں کوشش کریں تو امت مسلمہ بہت جلد اس عظیم تحریک کا ثمرہ حاصل کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام موسی صدر نے لبنان کے مفتی اہل سنت شیخ حسن خالد کے نام اپنے خط میں تمام باضمیر اور نیک نیت افراد کو اس عظیم اسلامی ہدف تک رسائي کے لۓ تعاون کی دعوت دی۔

فقہی ہم آہنگی،

موجودہ دور کی اولین ضرورت سن انیس سو ساٹھ اور ستر کے عشرے میں امام موسی صدر نے فقہی اتحاد پر بہت زیادہ زور دیاجس وقت پوری دنیا مغربی اور مشرقی دو بلاکوں میں منقسم تھی اور ایسے بہت سے حساس واقع
ات پیش نہیں آۓ تھے جو اب رونماہو چکے ہیں۔
اس وقت تو سوویت یونین کا خاتمہ ہو چکا ہے اور دنیا یک قطبی نظام کی جانب گامزن ہے اور امریکہ کی سرکردگي میں مغربی سامراج تمام اقوام کو اپنی پیروی کے لۓ مجبور کر رہا ہے دوسری جانب سائنسی ترقی کے نتیجے میں دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے اور عالم اسلام اس گاؤں کا ایک چھوٹا سے محلہ بن گیا ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کے درمیان فقہی اتحاد کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس وقت عالمی سامراج اور صیہونزم اپنی غنڈہ گردی کے ذریعے مسلم ممالک کے ذخائر لوٹ رہے ہیں مسلمانوں کے مادی و روحانی خزانوں کو شیطانی روشوں سے تاراج کیا جا رہا ہے تو ایسے میں امت مسلمہ کے دینی اور سیاسی قائدین کا اولین فریضہ ہے کہ تفرقے اور اختلاف کے جملہ عوامل و اسباب سے پرہیز کریں اور فقہی اتحاد کو عام کرنے کے لۓ کوئی بنیادی تدبیر کریں۔ اسلام و مسلمانوں کے وقار کی حفاظت کا راستہ تلاش کریں۔ اس وقت یہ دانشمندی نہیں ہے کہ ہمارے گھروں اور گلیوں سے تفرقہ انگیز آوازیں سنائی دیں۔ اور ہر شخص اپنے طور پر اور ہر گروہ اپنے انداز میں احکام اسلامی پر عمل کرنے پر اصرار کرے۔ آج عالم اسلام کو عالمی کفر و شرک و نفاق کا مقابلہ کرنے اور عظیم اور ہمہ گیر اسلامی تہذیب و ثقافت کے احیاء کےلۓ حقیقی اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے اور یہ ہدف فقہی اتحاد کے زیر سایہ ہی حاصل ہو سکتا ہے۔
بڑی خوشی کی بات ہے کہ مقدس شہر قم میں اسلامی علوم کے عالمی مرکز میں فقہا علماء اور دانشوروں میں اس ہدف کے لۓ مناسب جذبہ اورسعی و کوشش دکھائي دے رہی ہے مرحوم آیت اللہ بروجردی کی کوششوں کے علاوہ جن کی جانب پہلے اشارہ کیا گيا دیگر دو فقہاء مرحوم آیت اللہ مہدی روحانی اور مرحوم آیت اللہ میرزا علی احمدی میانجی نے مل کر جدت عمل کا مظاہرہ کیا اور "احادیث اہل البیت عن طرق اہل السنۃ" کتاب کی شکل میں اپنی لا فانی یادگار چھوڑی ہے اور اس طرح موجودہ اور آیندہ ادوار کے نوخیز مسلم رہنماؤں اور علماء کے لۓ فقہی اتحاد کے سلسلے میں بنیادی کام کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ ان عظیم شخصیات کی علمی کاوشوں کی قدردانی کا واحد راستہ، نشیب و فرازسے بھرے ان کے اس راستے پر آگے بڑھنا اور اس تحریک کو وسیع و ہمہ گیر بنانا ہے۔ یہ مقالہ حوزہ علمیہ کے جریدے پگاہ کے شمارہ نمبر دو سو چار میں شائع ہوا ہے ۔

------- فوٹ نوٹ؛
بخشی از نامہ وی بہ شیخ حسن خالد
ر،ک؛ مجلہ سروش، ش 161،سال چہارم، ص 34 و امام موسی صدر، سروش وحدت، ص 96 امام صدر، سروش وحدت، ص 106

متن کامل این مصاحبہ روز 7/3/1970 در روزنامہ الانوار لبنان بہ چاپ رسید ر،ک؛ روزنامہ المحرر،بیروت، 20/3/1971 م
ر،ک؛ روزنامہ المجاہد، ش 678، 13 رجب 1393 و 1973 م
امام موسی صدر، امید محرومان، ص 277
مجلہ حوزہ، ش 43-44، ص 83
زندگی آیت اللہ بروجردی، محمد واعظ زادہ خراسانی، ص

بقلم: سید نجیب الحسن زیدی
عنقریب ہم سب امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی ولادت با سعادت منانے کے لئیے آمادہ ہیں ،۱۳ رجب کی تاریخ ایک بڑی تاریخ ہے اس دن تاریخ کے اس عظیم المرتبت انسان کی ولادت ہوئی ہے جس کی تعلیمات سے آج بھی بنی نوع بشر بہرہ مند ہو رہی ہے وہ انسان جسکا دل صرف اپنوں ہی کے لئیے نہیں ہر ایک انسان کے لئیے تڑپتا تھا ۔ کیا ایسے انسان کی ولادت کا جشن ہمارے ملک میں اس انداز میں نہیں  ہونا چاہیے کہ دیگر قومیں متوجہ  اس بات کی طرف متوجہ ہوں کہ ہم  تاریخ کی کسی عظیم ہستی کی ولادت منا رہے ہیں اورجسکی ولادت منا رہے ہیں اس نے انسانیت کو کیا دیا ہے ؟  جب ہم امام علی علیہ السلام کی ولادت کا جشن منائیں تو کیا بہتر ہو کہ یہ جشن کچھ اس انداز سے منایا جائے کہ لوگوں کو آپ کے تعلیمات کا پتہ چل سکے اور خود ہم اس ۱۳ رجب کو عہد کریں کہ ہماری زندگی راہ علی پر گزرے گی  اس لئیے کہ علی کی زندگی سیرت پیغبر ص کی آئینہ دار وہ زندگی ہے جسکا ایک ایک پل ویسا گزرا جیسا خدا کو مطلوب تھا ۔
اہلسنت عالم دین  سید ابوالحسن ندوی امام علی علیہ السلام کے پیغمبر سے مانوس ہونے کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاندانی اورنسبی تعلق، ایک عمر کی رفاقت اور روز مرہ کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کی وجہ سے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو آپ کے مزاج افتاد طبع سے اور ذات نبوی کی خاص صفات و کمالات سے گہری مناسبت ہوگئی تھی، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا تھا، وہ آپ کے میلان طبع اور مزاج کے رخ کو بہت باریک بینی اور چھوٹی بڑی باتوں کی نزاکتوں کو سمجھتے تھے، جن کا آپ کے رجحان پر اثر پڑتا ہے، یہی نہیں بلکہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو ان کے بیان کرنے اور ایک ایک گوشہ کواجاگر کرکے بتانے میں مہارت تھی، آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و رجحان اور طریق تامّل کو بہت ہی بلیغ پیرایہ میں بیان کیا ہے۔،،  اسکا مطلب یہ ہے کہ چاہے ہم ہوں جو علی علیہ السلام کو اپنا پہلا امام مانتے ہیں چاہے ہمارے اہلسنت برادران ہوں اگر انہیں صحیح انداز میں آگے بڑھنا ہے اور زندگی کے نشیب و فراز سے سربلند گزرنا ہے تو ضروری ہے کہ وہ علی ؑ کی زندگی کے رہنما اصولوں کو اختیار کریں تاکہ دین و دنیا میں سرخ رو ہو سکیں ۔یقینا ایسی شخصیت کی عملی زندگی سے آشنا ہونا ہم سب کے لئے ضروری ہے جسے اپنوں تو کیا غیروں نے زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
آئیں دیکھیں غیر مسلم دانشورں نے امام علی علیہ السلام کے بارے میں کیا کہا ہے اور ان کی گفتگو کے بعد ہماری ذمہ داری ایک پیرو علی ع ہونے کی حیثیت سے کیا ہے:
سلیمان کتانی  کا امام علی علیہ السلام کے بارے میں یہ  ایک جملہ کتنا سچا اور پیاراہے کہ: تمام فضائل و خصائل علي عليہ السلام ميں اکٹھے ہو گئے تھے، وہ جب منظر عام پر آئے تو انسان کي عظمت بلند ہوئي اور يہ علي عليہ السلام ہي کي مرہون منت ہے-”-
ایک اور مقام پر کہتے ہیں : ‌جس وقت علي عليہ السلام کو خلافت ظاہری حاصل ہوئی، توانہوں نے اپنا وظيفہ اور فرض سمجھا کہ دو محاذوں پر مقابلہ کيا جائے- پہلا محاذ لوگوں کو انساني بلندي و عظمت سے آگاہ کرنا تھا اور دوسرا فتوحات جنگي کو اسلامي اصولوں کے تحت استوار کرنا تھا- يہي نکات تھے جو سرداران عرب کو ناپسند تھے اور انہوں نے بغاوت کے علم اٹھالئے-”-
عیسائی مصنف  (Poul Salama) امام علی ؑ کو یوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں :
جی ہاں میں ایک عیسائی  ہوں، لیکن  وسعت نظر کا حامل ہوں ، تنگ نظر نہیں ، گرچہ میں عیسائی ہوں لیکن ایک ایسی شخصیت کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جس کے بارے میں تمام مسلمانوں کا کہنا ہے کہ خدا ان سے راضی ہے،  ایسی  شخصیت جس کا عیسائی احترام کرتے  ہیں اور اپنے اجتماعات میں ان کی ذات کو موضوع سخن قرار دیتے ہیں اور ان کے فرامین کو اپنے لیے نمونہ عمل سمجھتے ہیں، آئینہ تاریخ نے پاک و پاکیزہ اور اپنے نفس کو کچلنے والی بعض نمایاں ہستیوں کی واضح تصویر کشی کی ہے، ان میں علیؑ کو سب سے برتری حاصل ہے۔یتیموں اور فقراء  کی حالت زار دیکھ کر غم سے نڈھال ہوکر آپ کی حالت ہی غیر ہوجاتی تھی اے علیؑ آپ کی شخصیت کا مقام ستاروں کے مدار سے بھی بلند و برتر ہے۔ یہ نور کی خاصیت ہے کہ پاک و پاکیزہ باقی رہتا ہے اور اور گرد و نواح کے گرد و غبار اسے داغدار اور آلودہ نہیں کرسکتے۔وہ شخص جو شخصیت کے اعتبار سے آراستہ پیراستہ ہو وہ ہرگز فقیر نہیں ہوسکتا، آپ کی نجابت و شرافت دوسروں کے غم بانٹنے کے ذریعے پروان چڑھی شک نہیں کہ  دینداری اور ایمان کی حفاظت میں جام شہادت نوش کرنے والا مسکراتے ہو ہر درد و الم کو قبول کرتا ہے،،۔
کیا قابل غور نہیں  کہ ایک عیسائی اس والہانہ انداز میں گفتگو کر رہا ہے اوروہ بھی امام علی علیہ السلام کے سلسلہ سے اگر ایک عیسائی دانشور علی ؑ کی شخصیت میں دوسروں کا درد دیکھ رہا ہے اگر  فقراکو دیکھ کر علی ؑ کا مچلنا دیکھ رہا ہے تو ایسے میں ہماری ذمہ داری کیا ہے ایک علی ؑ کے چاہنے والے کی حیثیت سے  ؟کیا علی ؑ کی زندگی ہم سے مطالبہ نہیں کرتی کہ ہم اپنے سماج اور معاشرہ میں غریب و نادار طبقے کا ہاتھ پکڑیں ؟ کیا علی ؑ کی زندگی ہم سے مطالبہ نہیں کرتی کہ دوسروں کا غم بانٹے انہیں ہلکا کریں  اگر  علی ؑ کی شخصیت درد و غم و اندوز سے نکھرتی ہے تو ہمیں بھی مصائب و آلام اور پریشانیوں میں خود کو سنبھالتے ہوئے جادہ عشق پر سر بلند و سرفراز ہو کر چلنا ہوگا ۔
ایک اوور مقام پر  ایک اور مستشرق برطانوی مصنف جرنل سرپرسی سایکس(Journal Sir Percy Sykes)امام علی علیہ السلام کے بارے میں یوں کہتے نظر آتے ہیں ''حضرت علیؑ دیگر خلفاء کے درمیان شرافت نفس، بزرگواری اور اپنے ماتحت افراد کا خیال رکھنے کے اعتبار سے بہت مشہور تھے۔ بڑے لوگوں کی سفارشات اور خطوط آپ کی کارکردگی پر اثرانداز نہیں ہوتےتھے اور نہ ہی ان کے تحفے تحائف پر آپ ترتیب اثر دیتے تھے،، ۔ امانتوں  کے معاملے میں حضرت علیؑ کی دقت نظر اور ایمانداری  کے باعث لالچی عرب  آپ سے نالاں تھے،،۔  اس عیسائی مصنف کا امام علی علیہ السلام کے بارے میں یوں اظہار خیال  کیا ہم سے یہ تقاضا نہیں کرتا کہ آج سیرت علی ؑ  پر عمل کرتے ہوئے ہمیں اپنی زندگی میں انہیں چیزوں کا اپلائی کرنا ہوگا جو امام علی علیہ السلام کی حیات میں نظر آتی ہیں ؟ اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد ایک عیسائی مصنف اگر علی علیہ السلام کو اس لئیے یاد رکھے ہوئے ہے کہ علی ؑ اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے تو ہم کہاں پر ہیں ؟ اپنے ما تحتوں کے ساتھ ہمارا طرز عمل کیا ہے ؟ علی ؑ اگر امانت کے سلسلہ سے بہت زیادہ حساس تھے تو ہم کتنے حساس ہیں ؟
ایک اور برطانوی مصنف اور ماہر تعلیم سائمن اوکلے (1678-1720)   یوں کہتے نظر آتے ہیں :
''علیؑ ایسے صاحب فصاحت تھےعرب میں ان کی باتیں زبان زد عام ہیں،آپٖ ایسے غنی تھے مساکین کا ان کے گرد حلقہ رہتا تھا ،، سوال یہ ہے کہ کیا ہماری زندگی ایسی ہے کہ ہمارے ارد گرد مسا کین و فقراء کا حلقہ رہے ؟ یا ہم اس حلقہ کو ڈھونڈتے ہیں جہاں اغنیاءو ثروت مند افراد نظر آتےہیں ؟
فرانس کے میڈم ڈیالفو Madame Dyalfv کہتے ہیں  : آپ اسلام کی سربلندی کے لیے  مظلومیت کے ساتھ وہ بھی جام شہادت نوش کرگئے،حضرت علیؑ وہ باعظمت ہستی ہیں جنہوں  نے ان تمام بتوں کو توڑ ڈالا جنہیں عرب یکتا خدا کا شریک ٹھہراتے تھے۔اس طرح آپ توحید پرستی اور یکتا پرستی کی تبلیغ کرتے تھے، آپ ہی وہ ہستی ہیں جس کا ہر عمل اور کام مسلمانوں کے ساتھ منصفانہ ہوا کرتا تھا
یہ صرف فرانس کے دانشور ہی نہیں بلکہ برطانوی ماہر تاریخ ایڈوڈ گیبن(1737-1794) بھی امام علی علیہ السلام کے بارے میں  کہتے نظر آتے ہیں :''حضرت علیؑ لڑائی میں بہادر اور تقریروں میں فصیح تھے، وہ دوستوں پر شفیق اور دشمنوں پر فراخ دل تھے۔ “
۔ اب یہاں پر بھی ہمیں خود سے سوال کرنا ہے کیا ہمارا ہم و غم وہی ہے جو علی کا تھا کیا ہماری زندگی میں وہ توحید پائی جاتی ہے جس کے لئیے علیؑ نے جنگیں لڑیں کیا ہمارا مزاج مسلمانوں کے ساتھ ویسے ہی منصفانہ ہے جیسا علی ؑ کا تھا ؟ ان مصنفین کے جملوں کو دیکھیں اور خود کو ان جملوں کے میزان پر تولیں کیا ہم ایسے ہی ہیں ؟ کیا ہم اپنے بھائیوں اور برادران دینی کے ساتھ منصفانہ مزاج رکھتے ہیں ؟ کیا ہمارا کام ہمارا عمل حتی ہمارا نظریہ منصفانہ معیاروں پر استوار ہے ؟ کیا جہاں ہم ہوں وہاں انصاف و عدل کی خوشبو آتی ہے یا جہاں پہنچ جائیں وہاں ظلم کا سیاہ دھواں اٹھتا نظر آتا ہے ، کیا ہم اپنے دوستوں کے ساتھ شفقت کا برتاو کرتے ہیں کیا کیا اپنے دشمنوں کے ساتھ ہمارا عداوت و دشمنی کا کوئی معیار ہے ، یا جو فراخ دلی امام علی علیہ السلام کی دشمنوں کے ساتھ تھی وہ ہم اپنے دوستوں کے ساتھ بھی نہیں دکھا پاتے ؟
معروف تاریخ  پروفیسرفلپ کے حتی1886-1978) کہتے ہیں ”سادگی حضرت علیؑ کی پہچان تھی انھوں نے بچپن سے اپنا دل و جان رسول خدا کے نام کردیا تھا۔
کیا ہم اپنے طرز زندگی میں سادہ ہیں یا دنیا کی زرق و برق میں پوری طرح یوں غرق ہیں کہ سادگی محض ایک حرف بن کر رہ گئی ہے ہماری زندگی میں سب کچھ ہے سوائے سادگی کے ،ہم فیشن اور زمانے کی ضرورت کی آڑ میں وہ سب کچھ کرتے ہیں جسکی علی ع کی زندگی میں کوئی جگہ نہیں تھی بلکہ علی ع کی جنگ ہی انہی لوگوں سے تھی جو دنیا میں اس طرح رنگ گئے تھے کہ سادہ زیستی انکے لئے آبرو کا مسئلہ بن گئی تھی وہ ایک عام آدمی کی طرح سادہ نہیں جی سکتے تھے انہیں تام جھام کی ضرورت تھی ، انہیں اپنے انسان ہونے پر فخر نہ تھا بلکہ وہ اپنے مادی وسائل و ذرائع پر فخر کرتے تھے
سرویلیم مور (1905-1918)'' ایک الگ زاویہ کے تحت امام علیہ السلام کی زندگی میں پائی جانے والی دانشمندی و شرافت کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں :حضرت علیؑ ہمیشہ مسلم دنیا میں شرافت اور دانشمندی میں مثال رہیں گے”۔
اب ہم سوچیں کیا ہمارے زندگی کے فیصلہ ہماری دانشمندی کی علامت ہیں کیا ہم ایسے مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر ہمارے غیر مسلم بھائی کہہ سکیں کہ یہ ایسا علی علیہ السلام کا ماننے والا ہے جو دانشمندی و شرافت مندانہ زندگی میں علی علیہ السلام کی طرح بے مثال ہے
برطانوی ماہر جنگ جیرالڈ ڈی گورے 1897-1984):ایک مقام پر کہتے ہیں حضرت علیؑ کے اسلام سے خالصانہ تعلق خاطر اور  معاف کرنے کی فراخدلی نے ہی ان کے دشمنوں کو شکست دی”۔ اب ہم سوچیں کہ ہمارا اسلام سے تعلق کس قدر خالص ہے اور کیا ہم کسی خطا کا شکار ہونے والے اپنے ہی دوست کو معاف کرنے پر تیار ہیں ؟ یا ہر وقت بدلہ لینے کی فکر ہمیں ستائے رہتی ہے اور جب تک ہم بدلہ نہ لے لیں آتش انتقام فروکش نہیں ہوتی؟
امام علی علیہ السلام کے سلسلہ سے مختلف مکاتب فکر سے متعلق دانشوروں کے اظہار خیال کے یہ چند نمونے تھے جنہیں ہم نے آپ کے سامنے پیش کیا ،اس طرح اور اس سے بھی بہتر ایسے مسحور کن جملے آپکو امام علی علیہ السلام کے سلسلہ سے بہت ملیں گے جن کو پڑھ کر یا سن کر آپ وجد میں آ جائیں لیکن اس منزل پرآگے بڑھ کر ہمارا سوال خود سے ہے کہ چاہے وہ  دوستوں سے شفقت ہو یا  سادگی و شرافت یا پھر دوسروں کو معاف کر دینے کا جذبہ  ہمیں یہ خود سے پوچھنا ہوگا کہ یہ غیر مسلم دانشور امام علی ؑ کے جن صفات کی دہی کرتے ہوے انہیں سراہ رہے  ہیں ہم بھی انہیں سراہیں تو ہم میں اور ان میں فرق کیا ہوگا ؟ کیا فرق صرف مانننے اور تسلیم کرنے میں ہے یا فرق عمل میں ہونا چاہیے ؟ اگر فرق عمل میں ہے تو ہمارا عمل کہاں ہے اور علی ؑ کی زندگی کہاں ہے ؟ علی کی کتاب نہج البلاغہ آج ہمارے یہاں کیوں مظلوم ہے وہ  کتاب جس کے بارے میں یہی سلیمان کتانی لبنانی مفکر کہتے نظر آتے ہیں  ”‌کونسي ايسي چيز ہے جو نہج البلاغہ ميں بيان کي گئي ہے اور وہ ایک حقیقت کی عکاس نہ ہو؟ ايسا لگتا ہے جيسے آفتاب کا تمام نور سمٹ کر پیکر علي ابن ابي طالب عليہ السلام ميں سماگيا ہوکونسا ايسا کام ہے جو علي عليہ السلام نے اپني زندگي ميں انجام ديا ہو اور اس کا انجام انتہائی  اعلی نہ ہو  
ہمارا یہ خود سے سوال ہونا چاہیے کہ جب غیر اسلامی دانشور و اسکالرز امام علی علیہ السلام کے بارے میں اتنے خوبصورت انداز میں اظہار خیال کر رہے ہیں تو ہمیں پھر کیسا ہونا چاہیے  ہمارا عمل کیسا ہونا چاہیے ؟
کیا آج کی اس دنیا میں ہمارے لئیے ضروری نہیں کہ انسانیت کی قدروں کو اجاگر کرنے کے لئیے خود بھی علی ؑ کے اصولوں  پر چلیں اور دنیا کے سامنے ان کی کتاب کے تعلیمات کو بھی عام کریں۔
  آج دنیا میں یہ نعرہ تو بہت دیا جاتا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور حقوق بشر کی عالمی قرارداد میں بھی یہ بات موجود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر عالمی حقوق بشر کے حوالہ سے پوری دنیا کے لوگ ایک دوسرے کے بھائی ہیں ، تو پھر یہ جنگ و جنایت کیسی ؟ کیوں دنیا میں چین و سکون کیوں نہیں ؟ کیا اس کی بنیاد یہ نہیں کہ انسانی حقوق کے دعویدار خود دنیا میں جنگ کی آگ بھڑکانے میں مصروف ہیں   جو حقوق بشر کا نعرہ دے رہے ہیں وہی اپنے مفادات کے لئیے دوسروں کے حقوق کو چھین رہے ہیں ۔  
ایسے میں کیا ضرورت نہیں ایک ایسے انسان کا دامن تھاما جائے  جو صرف حقوق بشر کا نعرہ لگانے والا نہ ہوکر حقیقی معنی میں حقوق بشر کا محافظ ہو اور ایسا  انسان علی ؑ کے علاوہ  کہیں مل جائے تو دنیا بتائے؟ سبکو اسی کی پناہ میں جانا چاہیے لیکن افسوس کہ ایسی شخصیت علی کے علاوہ کہیں اور نظر نہیں آتی ، حقوق بشر کا منشور لکھنے والے تو بہت ہیں لیکن حقیقی معنی میں انسان کے ہمہ جہت حقوق کی رعایت کرنے والی ذات بس علی ع کی ہے    علی ؑ ان لوگوں کی طرح نہیں جو ایک منشور لکھتے ہیں اور جب وہ منشور اپنے مفادات سے ٹکڑاتا ہے تو اسے ہی کنارے ڈال دیتے ہیں بلکہ علی ؑ اس شخصیت کا نام ہے جو پہلے عمل کرتا ہے پھر دوسروں کو بتاتا ہے  حضرت علی(ع) نے اس حقوق بشر کے منشور کو  اگر مالک اشتر کےمکتوب میں درج فرمایا تو اس پر عمل بھی  کیا جبکہ علی ؑکے  علاوہ  لوگوں نے انسانی حقوق کا قانون تو لکھا لیکن ھرگز خود اس پر عمل نہیں کیا ۔آج آپ عالمی منظر نامہ پر نظر ڈالیں اور انسانی حقوق کے منشور کو دیکھیں  تو آپکو نظر آئے گا کہ حقوق بشر کا نعرہ لگانے والے عالمی سامراجیت کے شانہ بشانہ جیسے کل اپنے مفادات کی جنگ میں مشغول تھے آج بھی ہیں  یہی وجہ ہے کہ  انسانی حقوق کی  بازیابی کی آڑ میں انسانی اقدار و حقوق انسانی کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں کبھی شام پر حملہ ہوتا ہے کبھی یمن پر کبھی افغانستان و عراق پر ۔
 وہ مظلوموں کے خون سے رنگیں سرزمین یمن ہو ، دہشت گردوں کی وحشیانہ کاروائیوں سے کھنڈرات میں تبدیل سرزمین شام ، یا پھر  بے گناہوں کے لہو سے رنگین عراق و افغانستان ،یہ بے گناہوں کا خون ارزاں رہے گا تب تک جب تک کہ ہم دنیا کے اندر انصاف کا مزاج نہ پیدا کر دیں اور لوگوں کے دلوں میں وہ درد نہ منتقل کر دیں جسے درد علی ؑ کہا جاتا ہے ۔ وہ انصاف کی خو ہو یا علی ؑکا درد دنوں ہی چیزوں کو علی ؑ کی کتاب نھج البلاغہ بیان کر رہی ہے ۔ ورنہ دنیا میں انسان بھیڑیا بن کے اپنے ہی ہم نوعوں کو  چیرتا پھاڑتا رہے گا  جیسا کہ توماس ھابس کے مشہور نعرہ میں آیا:''انسان ہی ،انسان کے لئے بھیڑیا ہے'' یہی نعرہ عملی ہوتا رہے
بالکل واضح  ہے کہ ''انسانوں کے درمیان مساوات ''مقررہ حقوق اور تکلیف کے مقابلے میں، پاک اور متمدن انسانوں کی دلی خواہش رہی ہے،لیکن افسوس کی بات ہے جیسا کہ قدیم اور جدید زمانے سے انسانوں کی تاریخ شاہد ہے،کہ یہ مفہوم بھی''انسانی حقوق'' کے نعرہ کی طرح یا تو تحریرو تقریرو اور اشتہارات کا وسیلہ بن کر رہ گیا ہےجسے دوسروں کے لئے بیان کیا جاتا ہے اور بس ،یا ناتواں اور سادہ لوح افراد کوفریب دینے کا وسیلہ ہے جو کہ اس نعرہ کی ظاہری خوبصورتی کو دیکھ ساتھ آ جائیں  ۔ جبکہ اگر حقوق بشر کی تمام شقوں کو معاشرہ میں لانا ہو اور محض ایک نعرہ سے نکال کر اسے زندگی کے ہر شعبہ میں جاری و ساری کرنا ہو تو اس کے لئیے  ضروری ہے کہ ایک ایسے انسان کے پاس جائیں جو صرف حاکم نہیں ہے بلکہ حکومت تک پہنچنے سے پہلے وہ مزدوررہا ہے ، اس نے نہروں اور چشموں کو جاری کرنے میں انسانی مزدوروں کو بعد میں لگایا ہے سب سے پہلا پھاوڑا خود چلایا ہے سب سے پہلا بیلچہ خود چلایا ہے ، پہلا کدال خود چلایا ہے ، دنیا ایسا انسان کہاں سے لائے گی جس نے پیاسوں کے لئیے چشمے  خود جاری کیئے ہوں ، نہ کہیں سے بل پاس ہو جانے کا انتظار کیا  نہ کہیں سے بجٹ کے آ جانے کا انتظار کیا ، نہ ہی عوامی اعتراض کا سامنا کرنے پر اسے کسی کے سامنے مجبور ہونا  پڑا بلکہ اس نے دیکھا کہ انسانیت کو پانی کی ضرورت ہے تو نکل پڑا کہیں قناتیں بنائیں  کہیں چشموں کو پھوڑا کہیں نہروںاور ندیوں کے رخ کو کھیت کھلیان کی طرف موڑا ا ایسا انسان جس نے ضرورت مندوں کے لئیے  حمالوں کو نہیں ڈھونڈا کہ کوئی مل جائے تو دو پیسے دیکر اس پر بوجھ لاد دیا جائَے بلکہ جب دیکھا کہ کسی کو ضرورت ہے اور اس سے اپنا بوجھ نہیں اٹھ رہا تو آستینوں کو چڑھا کر آگے آ گیا کہ میں ہوں ، ایسا انسان جس نے لوگوں کی خاطر حمالی کی ایسا انسان جس نے بیواوں اور یتیموں کے لئیے خود کھانا بنایا ایسا انسان جس نے اپنی جوتیاں خود سیں ایسا انسان جو کبھی کھیت میں کام کرتا نظر آیا کبھی یہودی کے باغ میں آبیاری کرتا نظر آیا کبھی جنگوں میں تلوار چلاتا نظر آیا یقینا  اتنا حق ہم سب پر رکھتا ہے کہ اس نے جب قلم اٹھا کر کچھ لکھا ہے تو ہم سب دیکھیں کہ اس نے انسانیت کو اپنی تحریر میں کیا دیا ہے  لیکن یہ سب تب ہوگا جب ہم اس کی کتاب کو پڑھیں گے اور دیکھیں گے ہم سے مخاطب ہو کر اس نے کیا کہا ہے
آج جب ہم تیرہ رجب کی خوشیاں منانے میں مصروف ہیں ، جب ہر طرف چراغانی ہے ، جب ہر طرف مبارکبادی کے سلسلے ہیں  پھول ہیں ، گلدستے ہیں ، عطر آگیں ماحول ہے ، ایسے میں کیا ضروری نہیں کہ ہم اپنی فریاد کرتی چیختی چلاتی روح کی طرف ایک نیم نگاہ کریں اور دیکھیں کہ وہ کیوں فریادی ہے ، کیا بہترین ردیف و بہترین قافیوں کی بندش میں امام علی علیہ السلام کی شان میں قصائد سپرد قرطاس کرنے والوں پر لازم نہیں کہ دیکھیں امام علی علیہ السلام ان سے کیا کہہ رہے ہیں ، نھج البلاغہ ان سے کیا کہہ رہی ہے ؟
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا حال بقول رہبر انقلاب اسلامی ایک ایسے بیمار کا ہو جس کی جیب میں یا الماری میں ایک ماہر طبیب کا نسخہ پڑا ہوا ہے لیکن وہ اس نسخے کو کھول کر نہیں دیکھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا جبکہ اپنے مرض کی تکلیف سے تڑپتا بھی ہے ۔
تیرہ رجب میں جتنی خوشیاں منائی جائیں کم ہیں ، جتنی چراغانی ہو ، جتنی محافل سجیں کم ہیں کہ جس شخصیت کے لئے یہ سب ہو رہا ہے وہ یکتائے روز گار ہے، لیکن کاش ہماری تھوڑی توجہ اس بات پر بھی ہو جائے کہ جس شخصیت کی ولاد ت کا جشن ہم منا رہے ہیں اسکی کتاب بالکل اسی کی طرح تنہا و اکیلی ہے ، ہمارے درمیان ویسے ہی جیسے علی  علیہ السلام تنہا تھے نیزوں پر قرآن اٹھانے والوں کے درمیان ، آج نھج البلاغہ تنہا  و اکیلی ہے علی ع علی کے نعروں کے درمیان حیدر حیدر کے نعروں کے درمیان ، کیا ہی مزہ دوبالا ہو جائے اور ان نعروں میں ایک نئی روح دوڑ جائِے اگر ہم ان نعروں کے ساتھ نھج البلاغہ کے تعلیمات پر بھی کچھ توجہ کر لیں ، ۱۳ رجب کی اس عظیم تاریخ میں جب ہر سو خوشیوں کے میلے ہیں اگر ہم نھج البلاغہ کو اس کی غربت سے نکالنے کے لئے ایک قدم بھی اٹھا سکےتو شاید علی علیہ السلام بھی ہمیں مسکرا کر گلیں لگا کہ مرحبا  میرے چاہنے والے تونے میری ولادت کی خوشی ویسے منائی جیسی میں چاہتا تھا

ذیلی زمرے

 

مسلمان کو ہر ملک کو اپنا وطن اور ہر زمين کو اپنا گھر سمجھنا چاہئے

سید جمال الدین افغانی

اقبال کہتے ہيں کہ ميں نے نماز کے بعد ادب و محبت سے ان کے ہاتھ چومے اور رومي نے ان سے ميرا تعارف کراتے ہوئے کہا يہ سيلاني کسي منزل پر ٹھہرتا ہي نہيں اور دل ميں تمناۆں کي ايک دنيا لئے پھرا کرتا ہے، يہ مرد آزاد اپنے سوا کسي کا قائل نہيں، قلندري و بے باکي اس کا پيشہ اور اس کي زندگي ہے اسي لئے اسے ’’زندہ رود‘‘ کہتا ہوں-

افغاني ان سے خاکدانِ عالم کے احوال پوچھتے ہيں اور خاک نژاد ليکن نوريں نہاد--- مسلمانوں--- کے بارے ميں بيتابي سے سوال کرتے ہيں، ميں نے کہا کہ سيدي! امت جو تسخير کائنات کے لئے اٹھي تھي اب دين و وطن کي کشمکش ميں مبتلا ہے اب ايمان کي طاقت اور روح کي قوت اس ميں باقي نہيں اور دين کي عالمگيري پر بھي اسے چنداں اعتبار نہيں،اس لئے قوميت و وطنيت کے سہارے لے رہي ہے ترک و ايراني مئے فرنگ سے مخمور اور اس کے مکر و فريب سے شکستہ و رنجور ہيں،اور مغربي قيادت نے مشرق کو زار و نزار بنا ديا ہے،اور دوسري طرف اشتراکيت دين و ملت کي عزت سے کھيل رہي ہے ؛

روح در تن مردہ از ضعف يقيں

نا اميد از قوتِ دين مبيں !

ترک و ايران و عرب مستِ فرنگ

ہر کسے را ور گلو شستِ فرنگ

مشرق از سلطانيِ مغرب خراب

اشتراک از دين و ملت بردہ تاب

(ترجمہ:

يقين کي کمزوري کي وجہ سے اس کے جسم ميں روح مردہ ہو چکي ہے اور وہ روشن دين کي قوت سے نا اميد ہے-

ترک، ايران اور عرب سب فرنگ (کي شراب ميں ) مست ہيں اور ہر کسي کے گلے ميں فرنگ کا کانٹا اٹکا ہوا ہے-

سلطانيِ مغرب نے شرق کو تباہ کر ديا ہے اور اشتراکيت نے دين و ملت کي چمک ختم کر دي ہے- )

افغاني نے يہ سب صبر و سکون ليکن حزن و الم کے ساتھ سنا اور وہ پھر يوں گويا ہوئے ’’عيار فرنگ نے اہل دين کو قوم د وطن کي پٹي پڑھائي وہ اپنے لئے تو ہميشہ نئے مرکز اور نوآباديات کي فکر ميں رہتا ہے ليکن تم ميں پھوٹ ڈالے رہنا چاہتا ہے، اس لئے تمہيں ان حدود سے نکل کر آفاقي اور عالمي رول ادا کرنا چاہئے، مسلمان کو ہر ملک کو اپنا وطن اور ہر زمين کو اپنا گھر سمجھنا چاہئے، اگر تم ميں شعور ہے تو تمہيں جہانِ سنگ و خشت سے بلند ہو کر سوچنا ہو گا کہ- دين انسان کو ماديات سے اٹھا کر اسے عرفان نفس سکھاتا ہے جو انسان ’’اللہ‘‘ کو پا ليتا ہے وہ پوري دنيا ميں بھي نہيں سما سکتا اور کائنات بھي اسے تنگ محسوس ہوتي ہے، گھاس پھوس مٹي ہي ميں فنا ہو جاتے ہيں ليکن عظمت انسانيت کا يہ انجام نہيں، آدم خاکي ہے، ليکن اس کي روح افلاکي ہے، انسان کا ظاہر زمين کي طرف مائل ہے، ليکن اس کا اندرون کسي اور ہي عالم کا قائل ہے، روح مادي پابنديوں سے گھبراتي ہے، اور حدود و قيود سے ناآشنا ہي رہتي ہے، جب اسے وطنيت کي مٹي ميں بند کرنے کي کوشش کي جاتي ہے تو اس کا دم گھٹنے اور اس کي سانس رکنے لگتي ہے--- شاہين و شہباز پنجروں ميں کيا آشيانوں ميں بھي کبھي رہنا گوارا نہيں کرتے-

تحرير: مولانا سيد ابوالحسن علي ندوي

پيشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان