مقام معظم رهبری(مدظله العالی) کی شخصیت اوربیداری اسلامی میں آپکا کردار
27 اکتوبر 2011 بروزجمعرات مقام معظم رهبری(مدظله العالی) کی شخصیت  کے  مختلف پهلو پر مجمع روحانیون کرگل وله کی طرف سے ایک نشست   کا انعقاد هوا.
اس نشست میں آیت الله کعبی(  زید عزه)  نے خاص طور سےموضوع سے متعلق پر مغز  اور عمیق تقریر کی آب نےاجباری نظام حکومت کی تشریح اور تجزیه و تحلیل  کی اور مسلمان ممالک میں اسلامی بیداری کی تحریک کی آینده موقعیت پر روشنی ڈالی اور اس میں ایران اوررهبر انقلاب ایران کے کردارکو واضح کیا اور یقین کے ساتھ کها که بانی انقلاب حضرت امام  خمینیؒ اور رهبر انقلاب حضرت آیت الله خامنه ای (مد ظله العالی) کا پیغام آفاقی هو گیا هے اور اب هماری ذمه داری هے که دین محمدی ﷺکے پیغام کو دنیا میں عام کریں۔
موصوف نے اپنی تقریرمیں اسلامی بیداری کےلیے رهبر معظم کے پیغام اور راهنما اصولوں کو اس طح بیان کیا:


1:الله کےوعدوں پر حسن ظن رکھنا بیداری اسلامی کا راه حل هے۔
2:عزلت اور گوشه نشینی کےذریعه مجا ھدت وریاضت کا کوئی نتیجه نکلنےوالا نهیں  ہے اور اس راه میں سعی و کوشش کی ضرورت هے
3:همیشه آماده رهیں،سیاسی مسائل کاصحیح تجزیه وتحلیل بڑی هوشیاری، بصیرت اور مطالعه سے کریں۔
4:دینی اصولوں پر پایبند رهیں تاکه انحراف اور بے راه روی کا  شکار نه هوں۔
5:دشمنوں پر قطعی اعتماد نه کریں ،امریکا اور اسرائیل غاصب کبھی همارا بھلا نه چا هیں گے۔
6: امتیازات گو رسمیت دیں،هم شیعه سنی کے بجائے  اسلام اور اهل البیت (ع) کا نعره الگا ئیں ۔ فاصلے اور امتیازات کو اسلام کے دائره میں قبول کریں۔
7:لیبریال اور سرمایه داری نظام حکومت کے مقابل میں ، اسلام تحریکوں اورانقلابات  کےذریعه ملت سازی اور حکومت سازی کےموڈیل  کو پهچوائیں۔
8:خشک تقدس،تحجگرائی ،فرقه بندی اور حد سے زیاده تعصب سے دوری رهیں۔
اورمزید بیان کها گیا:
وال سٹریٹ تحریک،نظام سرمایداری کا خاتمه هے۔اور کها که حضرت آت الله خامنه ای (مد ظله العالی) میں  جهان اسلام کی رهبریت کی  صلاحیت موجود ہے۔
اسکے  بعد رهبر انقلاب  کی شخصیت کےنمایاں خصوصیات کو اجاگر کیا:
1:مشرقی ومغربی  اور استکبار جهانی طاقتوں سےکوئی سمجھو تہ نہیں کر تے۔
2:اپنی شخصی زندگی  میں عبادت وبنددگی کا خاص اهتمام رکھتے ہیں۔
3:ملتوں اور قوموں کی قدرت وطاقت کا اهتمام کر تے ہیں رهبر انقلاب اسلامی اقوام واحزاب کی توانائی اور قدرت کےقائل هیں  اورآپ نے اسلامی بیداری کی لهر میں  حصه لیتے هوے پورےوجودسے میدان میں اپنے آپ کو اتار دیا هے آج اسلامی بیداری ایران کا سب سے اهم مسئله هے بلکه اسے  مدارس  دینی اور حوزات علمیه مخصوصا تمام اسلامی ممالک کےافاضل اور طلاب کا سب سے پهلا اور اهم مسئله  هونا چاهئے  اور ان سب کو اس سلسله میں  بیٹھ کرسوچنا چاہیے۔
4:اسلامی بیداری کےحواله سے  تمام مسلمان قوموں کے برجسته قائدوں کے  درمیان دوستانه رابطه برقرار رهنا چاهیے۔
5:مسلمانوں کی اتحادپر تاکید کر تے ہیں۔
6:محرومین کی نجات اور عدالت اجتماعی پر  تاکید کر تے ہیں۔
7: بیت المقدس کی آزادی اور غاصب اسرائیل حکومت سےمقابله کیلئے آماده اور  خاص توجه دیتا هیں.
8:اسلامی برادری اورمؤمنین کے درمیان وحدت واتحاد کی طرف  خاص توجه دیتے ہیں۔
9:عوام کا اسلا می حکومت سے رابطه هونا چاهیے۔
مندرجه بالا مطالب  اس پر مغز اور دقیق تقریر کا خلاصه تھےجو منعقده نشست میں بیان هوئی .