مولانامحمد اسحاق جنتی
عاشورا دنیا کے مفکرین کی نظر میں
کربلا کے عظیم واقعہ یعنی امام حسین (ع)کے قیام نے دنیا  بھر کے مفکرین پر جواثر ڈالا ہے وہ بہت زیادہ ہے جہاں ملک کے غیر مسلمان مفکر بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔قیام کی عظمت اور امام(ع)اور ان کے اصحاب کی عظیم فدا کاری اور ان کے اعلی صفات سبب بنے کہ دنیا بھر کے عظیم مفکر اس حماسہ عاشورا پر اظہار نظر کریں۔اگر ہم ان تمام مفکرین کی آراء کو نقل کریں تو پورے ایک کتاب خانہ کی ضرورت ہوگی کیونکہ بہت سے دانش مندوں نے [مسلم و غیر مسلم] جدا گانہ کتابیں لکھی ہیں ہم یہاں فقط چند آرا٫ مفکرین کو پیش کرینگے۔عاشورا ایک ایسا متبرک چشمہ ہے کہ جس نے تاریخ کے ہر فرد اور معاشرے کی فکری و عقیدتی تشنگی کو دور کیا ہےاور ہمیشہ کرتا رہے گا۔ عاشورا ایک ایسا مکتب ہے جو افراد کو بہتر بناتا ہے اور

بہتر بنانے کے لئے بہترین راہ و روش سکھاتا ہے ۔یہ ہیرے جواہرات کی بہترین کان ہے ۔جس میں طرح طرح کے لولو ومرجان اور انمول گوہر ہیں۔عاشورا کے تابناک و درخشان پہلو سے پردوں کو ہٹایا گیا ہے لیکن بشر اس سے زیادہ نیا زمند ہے اور لازم ہے کہ حقیقی سعادت تک پہنچنے کیلئے مزید اس پر تحقیق کرے ۔تا ریخ کے اہم واقعات میں سے سب سے اہم  واقعه بے شک قیام امام حسین(ع)ہے۔چاہے سرسری نگاہ ڈالی جائے یا عمیق اور گہرائی سے کربلا کا مطالعہ کیا جائے قیام امام حسین(ع)اور ان کی تحریک اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلو ہر لحاظ سے اپنی ایک خاص اہمیت کے حامل ہیں۔پیروان مکتب اہل بیت Gکیلئے ہمیشہ قیام عاشورا پر تحلیل و بررسی اپنی خاص اہمیت کی حامل رہی ہے۔بہت سے جامعہ شناسان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مکتب اھل البیت (ع)کے بقا و دوام کا راز عاشور کے روشن و خفیہ حقائق ہیں۔ کربلا کے خونی واقعہ برپا ہوکر صدیاں سال گزر گئی لیکن آج بھی کربلا کا نام اور اسکی یاد دلوں اور تاریخ کے جاودانہ ورق پر جگمگاتا ہوانظر آتا ہے۔انسانیت کی آزادی کے علمبردار قرآن ناطق یعنی حضرت امام حسین(ع)ظلم و بے عدالتی کے خلاف نبرد آزما ہو گئے کیونکہ انسان آزاد خلق ہوا ہے اور آزاد انسان ہر گز بے عدالتی پر خاموش نہیں رہ سکتا اور کبھی بھی ذلت برداشت نہیں کرسکتا ۔[۱]محرم الحرام تاریخ اسلام بلکہ تاریخ جھان میں رونما ہونے والے عظیم واقعہ کی طرف یاد دلاتا ہے وہ معرکہ جو کہ حیران کن کے ساتھ ساتھ رنج آور بھی ہے جتنا قابل فخر ہے اتنا ہی غمناک ،دردناک اور دلخراش بھی ہے۔
مہاتما گاندھی:میں نے اسلام کے بزرگ شہید امام حسین(ع)کی زندگی کو دقت کی نگاہ سے مطالعہ کیا ہے اور بہت توجہ کے ساتھ کربلا کے اوراق کو پلٹا یا اور میرے لیے یہ بات واضح و روشن ہوگئی ہے کہ اگر ہندوستان چاہتا ہے کہ آزادی حاصل کرے تو اسے چاہیے کہ امام حسین(ع)کی پیروی کرے۔[۲]
جران کالمور:کربلا کے واقعہ کو صفویہ حکومت کے زمانہ میں دوبارہ رونق ملی پورے صفویہ دور میں عاشورا کو مذھبی شان و شوکت سے طویل مدت تک منایا گیا اور سادہ زبان میں اس کو پیش کیا گیا۔توماس ہوبرٹ اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے:لوگ عزاداری محرم الحرام کے ایام میں شہر کی سڑکوں اورگلی کوچوں میں حاضر ہیں نہ انہیں اپنے سر کے بالوں کی پرواہ ہے اور نہ داڑھی کی ،دل کی گہرائیوں سے صدای غم انگیز "یا حسین یاحسین  ؑ"بلند کررہے ہیں اور ہرسال اسی طرح عزاداری مناتے ہیں۔
ڈاکٹرمیرین جرمنی:ہم یورپی لوگ ممکن ہے ان واقعات کو (عزاداری)جنون سے تعبیر کریں اور دیکھتے ہیں کسی بھی ملت و مذہب و گروہ کے خاص آداب و رسوم کوجو کہ ہمارے کلچر کے مخالف ہیں جنون و وحشی گری کا نام دیں ۔جبکہ ہم غافل ہیں کہ اگر ہم اچھی طرح سےان اعمال کا مشاہدہ کریں اور دقت کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام اعمال و حرکات معقول اور سیاسی ہیں جیسا کہ ہم یہ سب شیعہ فرقہ میں مشاہدہ کرتے ہیں۔
محمد علی جناح  فرماتے ہیں: شجاعت کے میدان میں امام حسین(ع)سے بہتر بے باک و فداکار دنیا میں وجود نہیں رکھتا۔میرا عقیدہ ہے کہ تمام مسلمان اس شہید کو جس نے اپنے آپ کو عراق کی سرزمین میں قربان کردیا مشعل راہ قرار دیں اور ان کی پیروی واتباع کریں۔[۳]
چارس ڈپکنز:اگر امام حسین ّّ کامقصد دنیا کی خاطر جنگ کرنا تھا تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ امام حسین ؑ ماں بہنوں اور بچوں کو کیوں اپنے ساتھ لے گئےلہذا عقل کہتی ہے کہ امام کی فداکاری اور قربانی صرف اور صرف اسلام کےلئےتھی۔[۴]
ماس کارلایل: بہترین درس جو کربلا کے واقعہ سے سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ امام حسین(ع)اور ان کے تمام ساتھی خدا پر ایمان کامل رکھتے تھے۔حق و باطل کی جنگ میں افراد کی کمی بیشی کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور امام حسین(ع)کا کمتر افراد کے ساتھ کامیاب ہونا میرے لیے باعث تعجب ہے۔
ایڈوارڈلدائون: کیا کوئی ایسا قلب ہے جو امام حسین(ع)کا تذکرہ سنے اور اسکا دل محزون و ملول نہ ہو یہاں تک کہ غیر مسلم بھی اس جنگ اسلامی کی پاکیزہ روح ہونے پر انکار نہیں کرسکتے۔[۶]
فرڈر جیمس: امام حسین(ع)اور تمام بہادر شہداء کا یہ درس ہے کہ دنیا میں کچھ اصول ابدی اوراٹل ہیں جیسے عدالت ،لوگوں پر رحم کرنا اور ان سے محبت کرنا کہ جو  کبھی تبدیل پذیر نہیں ہیں۔اور یہ اس بات کو محکم کرتا ہے کہ جب بھی کوئی ان صفات کے ساتھ مقاومت ومبارزہ کرے وہ ہمیشہ ان اصول کی بناپر باقی رہے گا۔
واشنگٹن ایر وینگ: امام حسین(ع)کےلیے ممکن تھا کہ وہ یزید(ملعون)کے سامنے تسلیم ہوجاتے اور حکومت پا لیتے۔ لیکن امامت اور اسلامی حمیت نے انہیں اجازت نہیں دی کہ وہ یزید کو بعنوان خلیفہ رسول قبول کریں۔انہوں نے اپنے آپ کو ہر تکلیف و ایذاء کےلئے آمادہ کر لیا تاکہ اسلام کو بنی امیہ کے چنگل سے آزاد کراسکیں۔سورج کی شدید تپش، خشک زمین اورجلتاہوا ریگستان امام حسین(ع)کے عزم و ارادہ کو فنا نہیں کرسکا۔اے بہادر! اے مظہر شجاعت !اے میرے شہسوار !اے حسین آپ پر کروڑوں سلام!
حوالہ جات:
1۔وہ درس جو امام حسین(ع)نے انسانوں کو سکھایا ہاشمی نژاد ص447
2۔رہبر استقلال ہند۔
3۔قائداعظم پاکستان۔4۔انگلش رائٹر۔5۔انگلش فلسفی و تاریخ دان۔6۔انگلش مستشرق