مولاناعمران خان سانکو:
عاشورا میں خواتین کاکردار
مرد اور عورت دونوں معاشرہ اور جامعہ کو تشکیل دینے میں برابر کے شریک ہیں اسی طرح اس معاشرے کی حفاظت کرنے میں بھی ایک دوسرے کے محتاج ہیں فرق صرف طور و طریقے میں ہے۔معاشرہ سازی میں خواتین کا کردار دو طرح سے نمایاں ہوتا ہے
(1): پہلا کردار غیر مستقیم اور ناپیدا ہے جو اپنے بچوں کی صحیح تربیت اور شوہر کی اطاعت اور مددکرکے اداکرتی ہے۔
(2): دوسرا کردار مستقیم اور حضوری ہے جو خود سیاسی اور معاشرتی امور میں حصہ لے کر اپنی سعی و کوشش سے ادا کرتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر خواتین کا کردار مردوں کے کردار سے بڑھ کر نہیں ہے تو کم بھی نہیں وہ عظیم شخصیات جنہوں نے معاشرے میں انقلاب پیدا کیا یا علمی درجات کو طے کیا ہیں

۔ان کی سوانح حیات کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی کامیابی کا راز دوشخصیتوں کی فدا کاری کا نتیجہ ہے ایک وہ ایمان اور فداکار یاں ،جن کی تربیت کی وجہ سے اس کی اولاد کا میابی کے عظیم مقام تک پہنچ گئی ہیں ۔جیسا کہ امام خمینی  ؒ نے فرمایا: ماں کی گود سے انسان کی معراج شروع ہوتی ہے ۔چنانچہ سید رضی ؒاور سید مرتضی علم الہدی ؒ علمی مدارج کو طے کرتے ہوئے جب اجتہاد کے درجے پر فائز ہوئے تو ان کی مادر گرامی کو یہ خوش خبری دی گئی تو کہا :مجھے اس پر تعجب نہیں کیونکہ میں نے جس طرح ان کی پرورش کی ہے اس سے بھی بڑے مقام پر ہونا چاہئے تھا ۔یا وہ باوفا اور جان نثار بیوی ،جس کی نصرت و فداکاری کی وجہ سے اس کا شوہر کامیابی کے بلند و بالا درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
تاریخ اسلام میں بہت سے ایسی  فداکارخواتین گزر ی ہیں جنہوں نے سیاسی اور اجتماعی امور میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔اور اولادکی صحیح تربیت دینے کے علاوہ خود بھی مردوں کے شانہ بہ شانہ رہ کر دین اور معاشرے کی اصلاح کی ہیں۔اسی طرح کربلا میں عاشور کے دن کچھ خواتین نے عظیم کارنامے انجام دی ہیں جن میں سے بعض خواتین کے کارنامے اور شجاعت بیان کررہے ہیں۔
((دیلم،زہیر کی بیوی))
یہ عظیم عورت باعث بنی کے اس کا شوہر امام حسین(ع)کے باوفا اصحاب میں شامل ہو کر شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہوئے ۔چنانچہ قبیل فزارہ و بجیلہ نےنقل کی ہیں کہ : ہم زہیربن قین کے ساتھ مکہ سے اپنے وطن واپس آرہے تھے۔اور امام حسین(ع)کے پیچھے پیچھے حرکت کررہے تھے۔جہاں بھی آن حضرتؑ خیمہ نصب کرتے تھے ،ہم اس سے تھوڑا دور خیمہ نصب کرتے تھے۔یہاں تک کہ ایک منزل آئی،جہاں ھم کھانا کھا نے میں مصروف ہوگئے ۔اچانک امام ؑکی طرف سے قاصد آیا،سلام کیا اور کہا:اے زہیربن قین:اباعبداللہ الحسین (ع)نے تمہیں بلایا ہے۔جب یہ پیغام سنایا تو ان پر سخت خوف اور دہشت طاری ہوگئی اور ڈر کے مارے اس قدر بے حرکت ہوگیا۔کہ اگر پرندہ اس پر بیٹھ جاتا تو اسکو پتہ بھی نہ چلتا۔
زہیر کی بیوی دیلم بنت عمرو دیکھ رہی تھی ؛ کہا : سبحان اللہ!فرزند رسول (ص) تمہیں بلائے اور تم خاموش رہے  اور جواب نہ دے؟ کیا تو فرزند رسول (ص) کو جواب نہیں دوگے ؟ آپ جائیں اور امام    (ع) کی باتوں پر غور کریں کہ کیا فرمانا چاہتے ہیں؟جب اس کی بیوی کا یہ جذبہ دیکھا تو وہ آنحضرت(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا۔کچھ دیر کے بعد ہشاش وبشاش چہرہ کے ساتھ خوشی خوشی واپس لوٹا اور حکم دیا کہ اس کا خیمہ بھی امام حسین ؑ کے خیمے کے نزدیک نصب کیا جائے اور اپنی وفادار بیوی سے کہا میں تجھے طلاق دیتا ہوں تو اپنے والدین کے پاس چلی جا میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے تجھے کوئی تکلیف پہنچے ۔میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ امام حسین ؑ کے ساتھ ساتھ رہوں تا کہ اپنے کو ان پر قربان کروں اور اپنی جان کو بلاؤں کے حوالہ کروں پھر بیوی سے مربوط جو بھی مال و دولت ساتھ لیکر آئے تھے ان کو دیدیا اور ان کو اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ روانہ کیا۔
وہ مؤمنہ بیوی اپنی جگہ سے اٹھی اور روتی ہوئ زہیر کو الوداع کیا اور کہا :خدا آپ کا حامی و ناصر ہو اور ہر خیر اور نیکی آپ کو نصیب کرے ،لیکن میری ایک خواہش ہے کہ قیامت کے دن حسین ّ کے سامنے میری شفاعت کرنا تذکرۃ الخواص میں سبط حوزی نے لکھا ہے کہ زہیر بن قین کی شہادت کے بعد ان کی بیوی نے زہیر کےغلام سے کہا جاؤ اپنے آقا کو کفن پہناؤں ،جب وہ غلام کفن لیکر وہاں پہنچا تو امام حسین(ع)کےلاش کوعریاں دیکھ کر کہا میں اپنے آقا کو کفن پہنإٕؤ ں اور فرزند رسول(ص) کو عریان چھوڑ دوں؟ نہیں خدا کی قسم میں امام حسین ّ کو کفن پہناؤں گا۔{بحار ج ۴۴ ص ۳۷۱، لہوف ،ص ۷۱}
وہب بن عبد اللہ کی ماں :
وہب بن عبداللہ اپنی ماں اور بیوی کے ساتھ امام حسین ّ کے لشکرمیں شامل تھے ۔ان کی ماں ان کو  شھادت کی ترغیب دلاتی تھی کے میرےبیٹے اٹھواور فرزند رسول کی مدد کرو۔وہب کہتے ہیں اس معاملے میں میں کوتاہی نہیں کروں گا آپ بے فکر رہیں جب میدان جنگ میں جاکر رجز پڑھا اور دشمنوں پر حملہ کرنے کے بعد ماں اور بیوی کے پاس واپس آئےتو کہا: اماں جان کیا آپ راضی ہوگئیں؟ وہ شیر دل خاتون کہنے لگی میں اس وقت  تم سے راضی ہونگی جب تم امام حسین ّ کی راہ میں شہید ہوجاؤ ۔ان کی بیوی نے ان کا دامن پکڑ کے کہا:مجھے اپنے غم میں داغدار چھوڑ کر نہ جائیں۔
صاحب ناسخ التواریخ نے لکھا ہے کہ شب زفاف کو ۱۷ دن ہی گزرے تھے کہ کربلا میں پہنچے ۔شوہر کی جدائی اس خاتون کیلئے بہت سخت تھی کہا اے وہب مجھے یقین ہو گیا کہ اب تو فرزند رسول(ص) کی راہ میں شہید ہونگے اور بہشت میں حورالعین کے ساتھ بغل گیر ہوگے اور مجھے فراموش کردوگے ۔میں ضروری سمجھتی ہوں کہ فرزند رسول (ص) کے پاس جاکر تم سے عہد لے لوں کہ قیامت کے دن مجھے فراموش نہیں کروگے۔دونوں امام حسین(ع)کی خدمت میں پہنچے۔وہب کی بیوی نے عرض کیا: یابن رسول اللہ میری دو حاجت ہے:
۱۔جب میرایه شوہر شہید ہوں گے تو میں اکیلی رہ جاؤنگی لہذا آپ مجھے اہلبیت اطہار (ع)کے ساتھ رہنے کی اجازت فرمائیں۔
۲۔وہب آپ کو گواہ رکھنا چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ مجھے فراموش نہیں کریں گے۔
یہ سن کر امام حسین(ع)نے آنسو بہاتے ہوءے فرمایا: تیری حاجت پوری ہونگی اور اسے اطمینان دلایا۔{فرسان الھیجاء،جع،ص۱۳۷}
ماں نے کہا : اے بیٹا ان کی باتوں پر تو کان نہ دو اور پلٹ جاؤ،فرزند رسول پر اپنی جان کا نذرانہ دو تاکہ قیامت کے دن خدا کے سامنے تمہاری شفاعت کریں وہب میدان میں گئے اور پے در پے حرم رسول خدا (ص)کی دفاع میں جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ ۱۹ گھوڑا سوار اور ۱۲ ناریوں کو فی النارکیا ۔آپ کی ماں نے خیمہ کا ستون ہاتھ میں لیکر میدان کی طرف نکلی اور اپنے بیٹے سے مخاطب ہوکر کہا: اے میرے بیٹے میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں ۔حرم رسول خدا کے دفاع میں جہاد کرو۔بیٹے نے چاہا کہ اپنی ماں کو واپس کرے ماں نے بیٹے کادامن پکڑ کے کہا :جب تک تو شہید نہ ہوگا میں واپس نہیں جاؤں گی اور جب وہب شہید ہوئے تو اس کی تلوار اٹھا کر میدان کی طرف روانہ ہوئی ۔اس وقت امام حسین ؑ نے فرمایا: "یا اُم وہب اجلسی فقد وضع اللہ الجھاد عن النساء انک ابنک مع جدی محمد(ص) فی الجنہ۔اے وہب کی ماں:بیٹھ جاؤکیوں کہ خدا  نے عورتوں پر سے جہاد کی تکلیف کواٹھا لیا ہےبیشک تو اور تیرے بیٹے دونوں بہشت میں میرے جد امجد (ص)کے ساتھ ہونگے۔{امالی الصدوق،ص /۱۶۱} خدا تمہیں اہلبیت رسول کی طرف سے جزائے خیر دے خیمے میں واپس جاؤ اور بیبیوں کے ساتھ رہو خدا تجھ پر رحمت کرے ۔امام کے حکم پر وہ کنیز خدا خیمہ میں واپس آگئی اور دعا کی خدا یا مجھے نا امید نہ کرنا امام حسین(ع)نے فرمایا خداوند تمہیں نا امید نہیں کریگا۔وہب جب جہاد کرتے کرتے شہید ہوگئے تو ان کی بیوی نےسرہانے آکر ان کے چہرے سے خون کو صاف کیا۔شمر ملعون نے اپنا غلام بھیجا جس نے اس خاتون کے سر پر وار کیا اور وہ بھی شہید ہوگئی اور وہ پہلی خاتون تھی جو امام حسین ّ کے لشکر میں سے شہید ہوگئی۔امام صادق(ع)سے روایت نقل ہوئی ہے کہ وہب بن عبداللہ نصرانی تھے جو امام حسینؑ کے دست مبارک پر مسلمان ہوئے۔وہب بن عبداللہ کی شجاعت کو دیکھ کر عمر سعد ملعون نے کہا:تو کتنا شجاع ہے؟دستور دیا کہ اس کا سر الگ کرکے لشکر گاہ حسینی کی طرف پھینک دیا جاءے اس کی شیر دل ماں نے اپنے بیٹے کے سر کو دوبارہ لشکر عمر سعد ملعون کی طرف پھینکا جس سے ایک اور دشمن واصل جہنم ہوگیا۔اور کہتی ہیں کہ ہم صدقہ کرنے کے بعداس کو واپس نہیں لیتے۔
ہمسر حبیب ابن مظاہر:
جب امام حسین(ع)کربلا میں وارد ہوءے تو ایک خط محمد حنفیہ کو اور ایک خط اہل کوفہ کو لکھا اور خصوصی طور پر اپنے بچپن کے دوست حبیب ابن مظاہر کو یوں لکھا:
"بسم اللہ الرحمان الرحیم
حسین ابن علی(ع)کی طرف سے مرد فقیہ حبیب بن مظاہر کے نام ،ہم کربلا میں وارد ہو چکے ہیں اور تو میری رسول خدا سے قرابت کو بھی خوب جانتے ہیں اگر ہماری مدد کرنا چاہتے ہو تو ہمارے پاس آئیں"۔حبیب عبیداللہ کی خوف سے قبیلے میں چھپے ہوئے تھے ۔جب خط آیا تو قبیلے والے بھی اس سے آگاہ ہوئے،سب ارد گرد جمع ہوگئے اور پوچھنے لگے کہ کیا حسین(ع)کی مدد کیلئے جائیں گے؟
انہوں نے کہا میں عمررسیدہ انسان ہوں میں جنگ کیا کروں گا؟جب قبیلہ والوں کو آپ پر یقین ہوگیا کہ نہیں جائیں گے آپ کے ارد گرد سے متفرق ہوگئے تو آپ کی باوفا بیوی نے کہا: اے حبیب فرزند رسول(ع)تجھے اپنی مدد کیلئے بلائے اور تو ان کی مدد کرنے سے انکار کرکے کل قیامت کے دن رسول خدا کو کیا جواب دو گے؟حبیب چونکہ اپنی بیوی سے بھی تقیہ کررہے تھےکہا:اگر میں کربلا جاؤں گا تو عبیداللہ ابن زیاد ملعون اور ان کے ساتھی میرے گھر کو خراب اور مال جائیداد کو غارت اور تجھے اسیر بنائیں گے۔وہ شیردل خاتون کہنےلگی:حبیب تو فرزند رسول خدا کی مدد کیلئے جا میرے،گھر اورجائیداد کی فکر نہ کر ۔خدا کا خوف کر ۔حبیب نے کہا اے خاتون کیا نہیں دیکھ رہی کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں تلوار اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا اس مؤمنہ کے غم و غصہ کی انتہانہ رہی اور روتی ہوئی اپنی چادر اتاری اور حبیب کے سر پر اوڑنے لگی  اور کہنے لگی اگر تم نہیں جاتے تو عورتوں کی طرح گھر میں رہو اور دلسوز انداز میں فریادکی یا ابا عبداللہ کاش میں مرد ہوتی اور تیرے رکاب میں جہاد کرتی ۔جب حبیب نے اپنی بیوی کا خلوص دیکھا اور یقین ہوگیا کہ یہ دل سے کہہ رہی ہے تو فرمایا :اے کنیز خدا !تو خاموش ہوجا میں تیری آنکھوں کیلئے ٹھنڈک بنوں گا اور تیرا ارمان نکالوں گا اور میں حسین ابن علی(ع)کی نصرت میں اپنی اس سفید داڑھی کو اپنے خون سے رنگین کروں گا۔یہ وہ بہادر عورتیں تھیں کہ جنہوں نے اپنے اہل وعیال کی پرواہ نہیں کی بلکہ امام کی نصرت کیلئے اپنے مردوں کو غیرت دلارہی تھیں اور اپنے جوانوں کو راہ اسلام میں قربان کررہی تھیں اور خود اہل بیت اطہار ؑ کی خواتین جناب زینب ام کلثوم رقیہ و غیرہ بھی بعد از عاشورا اسلام کی حفاظت کرنے کے لئے  اسیر ہوئےاور لوگوں کو یہ بتایا کہ دیکھو اسلام کوئی معمولی مذہب نہیں ہے کہ اگر اسلام پر کوئی مصیبت آجائے تو اپنی جان کی فکر نہیں  کرنی چاہیئے بلکہ دین کی حفاظت کرنا چاہیئے سلام ہو ان پاک مخدرات عصمت و طہارت پر۔ \