مولاناسید عباس موسوی سلسکوٹ
عرب ممالک اور کرگل کے موجودہ حالات پر ایک اجمالی نظر
"عوام اگر شیعہ ہیں تو بحرین کے واقعات پر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی" مقام معظم رہبری"
تیونس سے شروع ہونے والی اسلامی بیداری کی لہروں  نے مصرتک پہنچتے پہنچتے طوفان کی شکل اختیار کر کے ایک طرف ان ملکوں کے آمروں اور بادشاہوں کی  نیندیں حرام کردی ہےاور دوسری طرف عبد ا۔۔۔ صالح کے سیاسی زندگی کے خاتمہ کے لئے لحظہ شماری کررہی ہیں۔اسلامی بیداری کا یہ سلسلہ صرف ان ممالک کو ہی نہیں بلکہ پورےخطّٕہ عرب کو اپنی گرفت میں لیتا جارہا ہے وہ چاہے لیبیا ہو یا بحرین،یمن ہو یا سعودی عرب،اردن ہو یاکویت کم و پیش تمام آمروں کے چہروں پر رسوائی کی تصویر صاف جھلک رہی ہے یہی وجہ ہے کہ جہان ایک طرف لیبیا میں قذافی اور اتحادی افواج کے زور آزمائی کے درمیان عام شہری اور بے گانہ افراد قتل کئے جارہے ہیں تو دوسری طرف بحرین میں آل خلیفہ کے کرائے کے قاتل مظاہرین اورنہتّے عوام پر ظلم وبربریت کی انتہا کررہے ہیں اورامریکی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے رات دن بے گناہ مسلمانوں کو خاک و خون میں نہلا کر کربلا کی یاد تاذہ کرتے ہوئے اپنے ہی عوام کے خون کی ندیاں بہارہے ہیں۔


آل سعود نے اقلیت کو کچلنے کے ساتھ ہی اکثریتی فرقے کے لئے خزانوں کے دہانے کھول دیئے ہیں تاکہ کسی طرح بھی سامراج کی حکومت کا سلسلہ جاری رہے ۔آج کل دنیا کے کونے کونے میں بیدای اسلامی کی ہوا پھیلتی جارہی ہے اور سوئی ہوئی قوم اور مردہ ضمیروں کو جگارہی ہے لیکن جب ہم اپنے معاشرے کے بارے میں دقیق نظر سے سوچتے ہیں تو ان تمام حرکتوں کے خلاف نظر آتا ہے آج کی دنیا خصوصا عرب ممالک کے اندر ان تمام مظالم کے باوجود اسلامی بیداری پورے شباب پر ہے اور عوام اپنے حقوق کی بازیابی کیلۓڈٹے ہوئے ہیں۔ظالم حکومت کے ذیر سایہ زندگی بسرکرنے کو برداشت نہیں کررہے ہیں اور ادھر سے دشمن یہ کوشش کررہے ہیں کہ لوگوں کے درمیان دینی تفرقہ ڈال کران کو اپنے مقدس اھداف سے دور کردیں۔دشمن کا یہ رویّہ اور طریقہ ہر دور اور ہر زمانہ میں رہا ہے جسکا آج کل واضح ترین نمونہ ہمارے معاشرے میں نظر آرہا ہے کہ جب بھی ہمارے معاشرے میں اسلامی ممالک اور مظلومین جہان کی حمایت کرنے کے لئے لوگ سڑکوں پر آکر تظاہرات کرتے ہیں تو اس وقت مظلومین کے دفاع کرنے کے بجاۓ اپنے اندر تفرقہ ایجاد کرکے ایک دوسرے کے خلاف نعرہ بازی کرنے پر اتر آتے ہیں جس کے نتیجہ میں لوگ دین، علماء اور معاشرےکے غیور جوانوں سے اظھار نفرت کرنے لگتےہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جوان غیور جوانوں کے غیرت دینی کو ٹھیس پہونچا تا ہے وہ چاہے خود امریکی ہو یا علماءکے لباس میں ہو یا سیاسی لیڈر کی شکل میں ،جس حال میں بھی ہو  امریکی مزدور ہے جو مختلف قسم کے افکار کو لیکر ہمارے معاشرے کے اندر مذہبی تفرقہ کے ذریعے اپنے پلیدی اھداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے جسے ہم بخوبی جانتے ہیں جب یوم ا۔۔۔ کا دن آتا ہے تو ہمارے معاشرے کے ایماندار لوگ فلسطین کے مظلوم عوام سے دفاع اور ہمایت کرنے کے لئے خلوص نیت کے ساتھ اپنے گھروں سے تمام کاروبار چھوڑ کر تظاہرات میں شرکت کرتے ہیں لیکن انہیں کیا معلوم کہ کرگل میں بھی امریکی خفیہ ایجنٹ موجود ہیں جوان مقدس مواقع پر لوگوں کو اپنے مقدس اھداف سے غافل کرکے ان کے درمیان اختلاف کی آگ بڑھکا کر ایک دوسرے کے خلاف بدزبانی اور بداخلاقی کرنے پر وادار کرتے ہیں حالانکہ اصل یوم قدس کا ھدف اختلاف نہیں بلکہ امام خمینی نے یوم قدس کو اسلئے زندہ کیا کہ تمام مسلمین جہان کو اسکے ذریعہ بیدار کیا جائے اور اپنے دینی اور انسانیت کے دشمن کو پہچانا جاۓ، یوم قدس یعنی اتحاد مسلمین یوم قدس یعنی امریکا اور اسرائیل کے پالیسیوں سے آگاہ ہوکر ان کے برے اھداف کا مقابلہ کرنا اورفلسطین اور دنیا کے مظلوموں کی حمایت کرنا یوم قدس  دنیا کے سامنے اپنے دینی اتحاد اوردینی غیرت کو سمجھانے کا نام ہے  ہمارے معاشرے میں بحمد ا۔۔۔ یوم قدس تو برقرار ہوتا ہے لیکن افسوس کہ اس یوم قدس کی کیا تفسیر کی جائے جو لوگوں کو بیدار کرنے اور جوانوں کے غیرت دینی کو ابھارنے کے بجاۓان کے دلوںکو مجروح کرکے معاشرے کے اندر اختلاف اور افتراق کا ایک نیا دروازہ کھول دیتا ہے لھذا آج ہمارے معاشرے کے لئے اشد ضروری ہے کہ بیداری اسلامی سے درس عبرت حاصل کرے اور اپنے دین کی بقا اور معاشرے کی امنیت کے لئے ہم سب ملکر اسلامی فکر سے کام کریں اور جو لوگ مختلف راستوں سے آکر ہمارے درمیان اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں وہ حقیقت میں ہمارے دینی اور مذھبی دشمن ہیں بس اپنے دشمن کو پہچاننا اور ان کا مقابلہ کرکے معاشرے کو سدھارنا ہر فرد مؤمن کا دینی فریضہ ہے اور کمین میں جو دشمن بیٹھا ہوا ہے اس کا ایک ھدف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ناامید کرنا چاہتا ہے معاشرے کے سدھارنے اور ترقی سے نا امید کرانا دشمن کا اپنے مقصد میں کامیاب ہونا ہے ،امید ہے کہ انشاءا۔۔۔ آج کی بیدری اسلامی سے سرشار ہو کر اور اس عظیم انقلاب سے  درس لیکرہم بھی صحیح معنوں میں بیدار ہو جاینگے۔آخر میں میں مقام معظم رہبری کے گہر بار کلام کو قارئین کی خدمت میں قلم بند کرنا چاہتا ہوں۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت ا۔۔۔ العظمی خامنہ ای {مد ظلہ عالی} نے فرمایا :بحرین کا عوامی انقلاب تیونس ،لیبیا اور یمن کے انقلابات جیسا ہے امریکہ،بحرین میں شیعہ سنی مسئلہ چھیڑ کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کررہا ہے اسلامی جمہوری ایران ۳۲ برس سے فلسطین  کی حمایت کرتا آیا ہے اور تیونس ،لیبیا اور یمن کے انقلابات کی حمایت کررہا ہے جبکہ ان ممالک کے عوام شیعہ نہیں ہیں لہذا بحرین کے مسئلہ میں صرف عوام کے شیعہ ہونے کی وجہ سے خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی۔آپ نے علاقے کی عوامی تحریک کو بہت اہم اور عرب و اسلامی خطے میں بنیادی تبدیلی اور امت اسلامیہ کی بیداری کو نوید{خوش خبری}قرار دیا  رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ان تحریکوں کی دواہم ترین خصوصیتیں ہیں ایک ہے عوام کا پوری طرح میدان میں آجانا اور دوسرے ان کی دینی اور معنوی شناخت ۔رہبر انقلاب اسلامی کے مطالبق علاقے میں ان تحریکوں کے وجود میں آنے کا اصلی وجہ ظالم حکام کے غلط رویّہ کے باعث خطّہ کے عوام کے وقار اور غیرت وحمیّت کا مجروح ہونا ہے ۔آپ نے فرمایا کہ مثال کے طور پر مصر میں حسن مبارک کا طرز عمل اور صہیونی حکومت کی نمایندگی میں خاص طور پر غزہ کے سلسلے میں انتہائی مجرمانہ اقدامات کی انجام دہی ،لیبیا میں قذافی کی کارکردگی اور مغرب کی کھوکھلی دھمکیوں اور معمولی وعدوں کے بدلے میں ملک کے ایٹمی وسائل کو امریکہ کےحوالہ کردینا یہ ایسے اقدامات تھے جس نے عوام کی غیرت اور حمیت کو ٹھیس پہنچایا۔رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ ایران کے خلاف بھی امریکہ کی کارکردگی میں مغرب کی جانب سے شدید دھمکیاں اور دباؤ تھے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے لیکن ان دھمکیوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کے ارادوں میں نہ صرف یہ کہ تزلزل پیدا نہیں ہوا بلکہ انہوں نے اپنے ایٹمی وسائل میں ہر سال اضافہ ہی کیا۔رہبر انقلاب اسلامی نے علاقے کے واقعات کے سلسلہ میں امریکیوں کے موقف اور کارکردگی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ ان واقعات پر پہلے تو امریکی حکام دم بخود اور خالی الذہن نظر آئے اسی لئے انہوں نےبیانات بھی دئے۔آپ نے فرمایا کہ ڈکٹیٹروں کی حمایت امریکیوں کی دیرینہ روش رہی ہے اور انھون نے حسنی مبارک کابھی آخری لمحے تک دفاع کیا لیکن جب انہین اندازہ ہوا کہ مبارک کی حکومت اب جارہی ہے اور باقی نہیں رہ سکتی تو اسے دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا، رہبر انقلاب اسلامی نے مصر کے آمر کے سقوط کو امریکہ کی مشرق وسطی پالسی کے لئے بہت بڑا دھچکا قرار دیا اور فرمایا کہ امریکا جب بن علی اور حسنی مبارک کو بچانے کے سلسلے میں مایوس ہوگیا تو اس نے خباثت آمیز اور سطحی حرکتیں شروع کردیں تاکہ تیونس اور مصر کے آمرانہ نظاموں کے ڈھانچے کو برقرار رکھ سکے لیکن عوام کا قیام مسلسل جاری رہنے کی وجہ سے یہ حربہ بھی ناکام ہوگیا۔آپ نے خطے کی عوامی تحریکوں کے سلسلے میں امریکہ کی مخالفت اور قوموں کی حمایت کے اس دعووں کو منافقانہ قرار دیا اور ملت ایران کی حمایت سے متعلق امریکی صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ موجودہ امریکی صدر جو کچھ بول رہے ہیں خود اسکا مطلب سمجتے بھی ہیں یا نا واقفیت اور بوکھلاہٹ کے شکارہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ تہران کے آذادی اسکوائر پر جمع ہونے والے عوام قاہرہ کے التحریر اسکوائر پر جمع ہونے والے مصری عوام کی مانند ہیں جبکہ تہران کے آذادی اسکوائر پر گیارہ فروری {ایران کے اسلامی انقلاب کی سالگرہ} کے دن ایرانی عوام ہر سال جمع ہوتے ہیں اور امریکہ مردہ باد ان کا سب سے اصلی نعرہ ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ قوموں کی حمایت کا امریکیوں کا نعرہ ہمیشہ جھوٹا نعرہ رہا ہے۔وہ نہ صرف یہ کہ علاقے کے عوام پر رحم نہیں کرتے بلکہ اپنی قوم کے لئے بھی ان کے اندر کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔چنانچہ امریکی صدر ملکی معیشت کی انتہائی بحرانی صورت حال میں بھی امریکی عوام سے حاصل کی جانے والی ہزاروں ارب ڈالر کی رقم اسلحہ سازی اور تیل کی کمپنیوں کی جیب میں ڈال رہے ہیں۔آپ نے فرمایا :بحرین کے معاملے میں مداخلت سعودی عرب کی بہت بڑی غلطی ہے اور یہ امریکیوں اور علاقے میں ان کے مہروں کی بے شرمی کی انتہا ہے کہ وہ بحرین میں سعودی عرب کے ٹینکوں کی موجودگی کو مداخلت ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جبکہ وہ بحرین کے عوام کو قتل عام پر علماء کرام اور خیر خواہ افراد کے احتجاج اور تشدد اور خاتمے کے مطالبے کو ایران کی مداخلت قرار دے رہے ہیں۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا خطے میں جونئی لہر پیدا ہوئی ہے وہ امت اسلامیہ کی لہر اور اسلامی ایران کے بلندمقاصد والی تحریک ہے جسے وعدہ الھی کے مطابق یقینی طور پر فتح حاصل ہوگی اورانشاء اللہ علاقے میں امریکہ کی ناکامیوں کا سلسلہ روز بہ روز شور جاری رہے گا۔
آپ نے فرمایا علاقے کے واقعات کے سلسلہ میں اسلامی جمہوری ایران کا موقف ان کے حقوق کا تحفط اور آمروں اور سامراجی حکومتوں کی مخالفت کرنا ہے۔
"والسلام علی من اتّبع الھدی"