مولانامحمد جواد حبیبی فرونہ
مودت اهل البیت (ع)
جب کبھی انسانی معاشرے کے بارے میں کسی مسئلہ پر اختلاف ہوتو اگرچہ وہ مسئلہ  سیا سی ہو یا دینی  ہمیں غور وفکر کرنا چاہئے کہ یہ مسئلہ کیا ہے در حالیکہ یہ لوگ ایک امت کی اولاد ہیں اور ایک دین کے پیر و کار ہیں انکی اجتماعی زندگی مشترک ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ کسی بھی امت گروہ یا قوم کی برتری وفضیلت ان کے علم و معرفت میں پنھان ہے۔جس کو اس جامعہ کے ادباء اور شعررااور ماہرین و مفکرین بیان کرتے ہیں چونکہ یہی لوگ ہیں جو اپنے معاشرہ کی تصویر کو بہترین انداز میں پیش کرتے ہیں اور ان کے عقاید کی صحیح تعبیر کرتے ہیں۔


ایک ایسا بھی دور تھا جس میں لوگ شیعہ عقاید کے بارے میں گفتگو کرتے تھے اور ان پر انواع و اقسام کے تہمت لگایا کرتے تھے۔اورایسی تہمت کہ جس پر خدا اور اسکا رسول بھی ناراض ہوں جبکہ شیعہ مسلک یا مذہب کی تاریخ بہت طولانی ہے۔جس میں حوادث و واقعات ،اختلافات اور علوم و آداب موجود ہیں اور یہ سب کے سب  مذہب شیعہ کی حقیقت کو بیان کرتی ہیں لہذا جو طالب حق ہے  اسکو چاہئے کہ ایک نظر اس مذہب کے علماء ادباء اور مفکرین کے آثار پر بھی ڈالے تاکہ حقیقت اس پر بھی واضح ہو۔جیسے کہ اہلبیت ؑ کا چاہنے والا ایک شاعر اہلبیت کی شان میں یوں کہتا ہے۔"آل بیت النبی انتم غیاثی ۔فی حیاتی و عدتی لمقادی ماتزودت للقیامة الا۔صفو ودی لکم و حس اعتقادی" شیعہ مذہب کے عقایدکی بنیاد دوچیزوں پر مشتمل ہے ایک بہترین عقیدہ {احسن عقیدة }اور دوسرا اہلبیت (ع)سے مودت و محبت،حسن عقیدہ سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ خدا اور خدا کے رسول پر اور اسکی کتاب قرآن مجید پر اور نبی کی سنت پر اس طرح ایمان رکھتے ہیں جس طرح خود خدا اور اسکے رسول نے دستور فرمایا ہے لہذا ان کے نزدیک مودت اہلبیت (ع)بھی حکم خدا او ررسول ہے جو انکی مودت و ولایت کا انکار کرےگا  گویا اس نے کتاب خدا کا انکار کیا ہے اور سنت رسول خدا کا بھی انکار کیا ہے کسی نے پوچھا کہ کیا کوئی دلیل ہے کہ لوگ اہلبیت (ع)سے محبت کریں ،بالفرض  قرآن اور حدیث نے گواہی نہ دی ہو،یعنی بغیر قرآن اور سنت کے ہمارے پاس کیا دلیل ہے کہ ہم اہل البیت (ع)سے مودت کریں؟کیا جو شخص خدا اور رسول خدا پر ایمان نہ لایا ہو اور وہ اھل البیت (ع)سے مودت کرنے پر راضی ہو جائے کیا یہ
ان سے مودت اور محبت  کرنا وجدانی اور فطری ہے؟
کیا اس پر معقول اور مقبول دلیل ہے؟
اس مختصر سوال کا جواب تاریخ میں جگہہ جگہہ ملتا ہے ۔لیکن ابھی میں ایک جواب کے ذریعہ اپنے برادرعزیز کو درخواست کرتا ہوں کہ تاریخ کے کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔عدل اور عدالت کی منطق و فکر رکھنے والے مسلمان یا غیرمسلم کیلئے واضح ہے کہ جو بھی حق اور عدل کا پیروکار ہو گا وہ اہلبیت (ع)کا پیرو کار ہے اور جو حق کا دشمن ہو گا وہ اہلبیت کا بھی دشمن ہوگا اس لئے اہلبیت (ع)ہی حق ہیں اور حق ہی اہلبیت ہے اس بات کو اثبات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس سے بڑھ کر کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ حسین بن علی(ع)نے خود اپنی وجود کو ایک ردوبرق کی شکل میں باطل کے مد مقابل برسایا اور کیاکوئی گواہی دے سکتا ہے کہ ان سے سچا اور راستگو جس نے اپنے خاندان اور جان ومال کو نصرت حق کیلئے بخشا ہو؟آج ۱۴سوسال کے بعد بھی جو نعرہ اور شعار امام حسین(ع)کے نام پر دیا جاتا ہے کیا یہ دلالت نہیں کرتا ہے کہ امام حسین(ع)ہی حق ہیں؟اور اگر امام حسین(ع)حق پر نہیں ہوتےتو کیونکر یزید باطل و فاسق وفاجر سے عداوت اورنفرت کا اظہار کیا؟جتنا کوشش امام حسین(ع)نے حق کو پہنچانے میں صرف کی اتنی کوشش یزید نے باطل کو پہونچانے میں کی، دوسری عبارت میں یہ کہ جس طرح امام حسین(ع)نے شھادت ،ایثار،قربانی کے ذریعہ حق کے مقام و منزلت کو پہچانوایا اسی طرح یزید ملعون نے نفرت اور عداوت کے ذریعہ باطل کی حقارت کو بیان کیا جتنا یزید غصہ وغضب ناک ہوا امام حسین(ع)پر اور ان کو اوران کے اصحاب واولاد کو شہید کیا تو اس نے حق سے عداوت کے سوا کچھ بھی نہیں کیا۔یہ وہ ھدف تھا کہ جسکو امام حسین(ع)لوگوں میں علی الاعلان بیان کرنا چاہتے تھے۔تاکہ زمانہ کے لوگوں کو معلوم ہو جیسا کہ ایک مقام پر امام حسین(ع)یزید سے سوال کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔"ویحکم! اخبرونی اتطلبونی بقتل منکم قتلتہ اوبمال لکم استھلکتہ او بقصاص من جاحتہ"{الارشاد شیخ مفید۲/۹۸} جس چیز کو یزید اور یزیدی امام سے طلب کررہے تھے واضح ہے یہ لوگ اس چیز کو طلب کررہے تھے جس کو نمرود نے ابراہیم خلیل سے طلب کیاتھا جس کو فرعون نے موسی کلیم اللہ سے طلب کیا تھا جس کو ابوسفیان نے محمد مصطفی (ص) سے طلب کیا تھا جس کو معاویہ نے علی مرتضی(ع)سے طلب کیا تھااسی طرح اس چیز کو یہ لوگ امام حسین(ع)سے طلب کررہے تھے۔اس دنیا میں سب سےقیمتی شی دین ہے اور اس کی منزلت کوئی شی نہیں جس کو دین کہا جائے۔ایمان ،عدالت،انسانیت کہا جائے۔لہذا امام حسین(ع)نے ہر چیز کو منع کیا سوائے دین کے چونکہ ان کے نزدیک دین سے بڑھ کر کوئی چیز افضل اور اعظم نہیں ہے دین ہے جو جان سے بڑا ہے جو انبیاء اور اوصیا سے بڑا ہے کتنے ایسے نبی تھے جنہوں نے اپنی جان کوفدا کیا دین کیلئے اور کتنے ایسے امام تھے جو اسی دین کی حمایت کرتے ہوئے شھید ہوئے ۔چونکہ بے شک عظمت دین سے کوئی بھی چیز مساوی اور برابر نہیں ہے اس لئے کہ دین کی عظمت وبرتری خدا وند کی عظمت و برتری ہے کیوں کہ کوئی چیز اسکے مثل و مانند نہیں ہے اب اس خالق نے اپنی مخلوق کو ایک قانون دین اسلام کے نام پر عطا کیا تاکہ اسکے یہ بندے اس قانون پر عمل کرکے سعادت پر فایزہوں۔لیکن کسی نے بھی اس دین کی حقیقت کو درک نہیں کیا جس طرح نبی اور ان کے اھل البیت (ع)نے درک کیا اس بنا پر انہوں نے اس راہ میں ایسی قربانی اور جان نثاری کی کہ کسی دوسرے نے ایسی قربانی پیش نہیں کی خدا کی عبادت ایسی کی جیسی اسکی شان و منزلت تھی اتنی نماز نبی اکرم  (ص) نے پڑھی اور اس راہ میں جدوجھد کی کہ خدا کو روکنا پڑا :طہ ما انزلنا علیک القرآن لتشقی "{طہ ۱-۲} اور امام کی عادت تھی کہ جب وہ سجدہ کرتے تھے تو عشق الاہی میں محوہو جاتے تھے ابوالدرداد کہتا ہے کہ میں نے امام علی(ع)کو دیکھا کہ وہ ایک مخفی جگہ چلے گئے اور میں نے ان کو خدا سے مناجات کرتے ہوئے سنا کہ فرمارہے تھے "الھی ان طال فی عصیانک عمری وعظم فی الصحف ذبنی فیما مئومل غیر غفرانک ولا انا تراج غیر رضوانک {شرح نھج البلاغہ لابن ابی الحدید ۲۲۵/۱۸}پھر اسکے بعد چند رکعات نماز پڑھی۔روایت میں ہے کہ ایک دن امام زین العابدین(ع)نماز میں تھے کہ ان کا بچہ کوّیں میں گر گیا تو انہوں نے نماز کو نہیں توڑا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تب وہ کوّیں کے پاس آئے اور اپنے ہاتھوں کو پھیلا یا تو وہ بچہ ان کے ہاتھوں پر آگیا۔اس کے بعد فرمایا۔"انی کنت بین یدی جبار لوملت بوجھی عنہ تمال عنی بوجھہ۔{الھدیۃ الکبری }(۲۱۵)(مناقب آل ابی طالب ۲۷۸/۳)۔
جب اھل البیت (ع)نماز کیلے اتنا بڑا اھتمام کرتے ہیں حتی جنگ میں بھی نماز ترک نہیں کرتے ہیں اور مشکل کے وقت میں بھی نماز سے غافل نہیں رہتے ہیں تو کیسے یہ شیعہ مسلمان اپنے کو ان سے منسوب کرتے ہیں جو لوگ نماز کو ترک کرتے ہیں اور نماز کی کوئی اہمیت نہ دیتے ہیں اور فراغت کے اوقات میں بھی نماز پر توجہ نہیں دیتے ۔صحیح معنوں میں شیعہ وہ ہے جو ان کی پیروی کرے۔ان کی طرح نماز کو اھمیت دے نماز کو ہر چیز پر مقدم کرے۔لہذا پھر میں اس بات کی تکرار کرتا ہوں کہ شیعوں کا عقیدہ خدا پر رسول خدا پر،قیامت پر، نماز کی ادائیگی ،زکات اور ولایت اہلبیت پر مشتمل ہے اور اہلبیت (ع)کی وہ واحد عبادت ہے جس کو امام علی(ع)نے جنگ صفین میں دشمنوں کے درمیان پڑھی ۔کہ ان کے سارے اصحاب پریشان ہوگئے ۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے امام سے سوال کیا کہ کیایہ نماز پڑھنے کا وقت تھا؟ تو انہوں نے فرمایا (نقاتل لاجلھا ونترکھا)ہم جنگ کررہے ہیں اسی نماز کیلے اور جنگ کو چھوڑ ینگے اسی کیلئے امام حسین(ع)نے بھی جنگ کے دوران نماز پڑھی کہ دشمن تیر برساتے رہے ۔ان کے اصحاب ان کے سامنے تیر کھاتے رہے ۔یہاں تک کہ نماز ختم ہو گئی ۔ان میں سے ایک صحابی سعید بن عبدللہ الحنفی تھے کے جو دشمنوں کے تیر اور نیزہ کا نشانہ بنے ہو ئےتھے آخر کار وہ امام کے سامنے زمین پر گر ے اور وہ یہ جملےکہ رہے تھے ۔"اللھم العنھم لعن عادو ثمود اللھم بلغ نبیک عنی السلام و ابلغہ ما لقیت من الم الجراح فانی اردت ثوابک فی نصرۃ نبیک "{تاریخ طبری}(۴۲۲/۵)(الارشاد للشیخ مفید ۹۰/۲) خدا لعنت بھیجے ان پر جیسی لعنت بھیجی تھی قوم عاد و ثمود پر اور ہماری جانب سے سلام بھیج ہمارے نبی پر ۔
یہ اہلبیت (ع)سے محبت کا ایک خاکہ تھا جس کو جملوں میں پیش کیا .