مولانامحمد باقر ناصرالدین پوین
رجعت شیعه مذهب کی نظر میں
مقدمہ : مذہب اہل  بئیت (ع)کے مسلّمات اور ضروریات میں سے ایک مسئلہ "رجعت" ہے۔کہ اہل بیت (ع)سے اس سلسلہ میں بہت ہی روایات مروی ہیں اور اس مسئلہ پر بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔لیکن افسوس صد افسوس کہ یہ مسئلہ عوام کیلئے  بخوبی واضح نہیں ہوا ہے ۔صرف کچھ تعلیم یافتہ افراد ہی اس مسئلہ کو جانتے ہیں۔ دوسری جانب اہل سنت  قدیم الایام سے شیعہ مذہب اور شیعوں پر لعن و طعن کرنے کیلے اس مسئلہ کو بیان کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ ان کے بعض علما جیسے احمد امین مصری وغیرہ کا کہنا ہے کہ رجعت یہودی عقائید سے لیا گیا ہے اور  وہ اسکو ایک باطل تناسخ سے تشبیہ دیتے ہیں۔


اہل سنت نے رجعت کے صحیح معنی کو جس کے شیعہ حضرات معتقد ہیں درک نہیں کیا یہ لوگ اپنے جہل کا اعتراف کرنے کے بجائےاسکو تناسخ ،محال اور باطل سے شیعہ بھی جسکو کفر مانتے ہیں تشبیہ دیتے ہیں۔ مردوں کی روح دنیا میں واپس آنے اور دوسرے  بدن میں جانے کو تناسخ کہتے ہیں درحالیکہ رجعت سے،روح کا پلٹ کر اپنے بدن میں آنا مراد ہے،اور اسکی بہت سی مثالیں اور نمونے قرآن میں ذکر ہوۓ ہیں جو گذشتہ امتوں سے نقل ہوئی ہیں اور خداوند کی قدرت سے دور بھی نہیں ہے،اور رجعت کو یہودی عقائید سے حاصل کرنے کی فکر صحیح نہیں ہے۔اس لیے کہ اگر فرض کریں کہ رجعت یہودعقایئدمیں سے ہے جیسے کہ احمد امین جیسے  افراد دعواکرتے ہیں۔ یاد رهےکہ اسلام میں تو بہت سے احکام پائے جاتے ہیں جو دین یہود اور نصاری کے یہاں ہیں لیکن اسلام اور قرآن نے انکی تایئد کی ہے[احمد امین مصری ،فجر الاسلام ،ص33؛بحواله عقایدالامامیہ(علامہ محمد رضا مظفرص342)]۔ اس بنا پر ان احکام کا یہود اور نصاری کے عقائید سے اخذ  کیا جانا قرآن ،سنت اور اسلام کےلے عیب اور نقص نہیں ہے؟بلکہ (رجعت)کامنشا اصول اسلام اور قرآن کریم ہے۔ بہت سی آیات اور روایات دلالت کرتی ہیں جنکو ہم انشاء اللہ بعد میں ذکر کرینگے۔ہم نے ضرورت زمانہ کے مطابق اس مقالے کو فقط"رجعت" سے مخصوص کیا ہےتاکہ اس سلسلہ کی صحیح دلیلوں اور شواہد کی تحقیق  کریں اور انکا جائزہ لیں امید ہے کہ خدا اس مختصر سی کاوش کو قبول فرماۓ اور ہم کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماۓ ۔
اس مضمون کے مطالب تین حصوں میں بیان ہوئے ہیں:
پہلا:رجعت کے  معنی لغت اور اصطلاح میں ۔
دوسرا:رجعت کے اثبات پر مختلف دلیلیں۔
تیسرا:فلسفہ رجعت۔
پہلاحصّہ :
رجعت : لغت میں :رجوع اور پلٹنے کے معنی میں ہے جس کو کلمہ (رَجَعَ)سے لیا گیا ہے۔
اصطلاح میں: رجعت یعنی ایسے گروہوں کا دنیا میں پلٹ آنا جو حقیقی مؤمنین اورسرکش کفار میں سے ہوں وہ قیام امام زمانہ (عج)کے بعد قیامت سے پہلے دنیا میں واپس آئیں گے ۔سید مرتضی جو شیعہ مذہب کے بزرگ میں سے ہیں اس بارے میں یوںلکھتے ہیں۔"خداوند امام زمانہ (عج)کے ظہور کے بعد ایسے گروہ کو جو دنیا سے جاچکا ہے اس دنیا میں پلٹاۓگا۔تاکہ وہ آپ کے ناصر اور مددگار وں میں شامل ہو اورآپ کی حکومت کا مشاہدہ کرے۔اسی طرح ایک گروہ کو جو آئمہ کاپکا  دشمن ہے پلٹا ۓ گا تاکہ اس سے انتقام لیا جاۓ"(1)۔
دوسرا حصّہ:رجعت کےاثبات پر دلیل:عقیدہ رجعت کے ثبوت اور اثبات پر بہت سی دلیلیں موجود ہیں کہ جن میں سے اہم اور ضروری دلیلیں قرآن اور روایات میں بیان ہوئی ہیں چونکہ ہمارے در مقابل گروہ اہل سنت حضرات ہیں اسلئے قرآن سے  اخذ کی گئی دلیلیں انکے لئے بھی معتبر ہیں۔
وہ دلایل یہ ہیں:
(الف) اجماع: مسألہ رجعت پر شیعہ علماء کا اتفاق اور اجماع ہے جیسے کہ علامہ مجلسی  ؒفرماتے ہیں : "شیعہ اور اہلسنت کا رجعت پر عقیدہ  ہر صدی وعصر میں رہا ہے۔رجعت کا مسؔلہ روز روشن کی مانند ان کے درمیان واضح ہے"(2)۔
(ب)روایات:روایات کی کتابوں اور آیات قرآن کی تفسیر میں بہت سی روایات آئمہ معصومین ؑ سے "رجعت" کے بارے میں نقل ہوئی ہیں،اور ہزاروں روایات علامہ مجلسیؒ نے اس بارے میں بحار الانوارکی تیسری  جلد(3)میں نقل کی ہیں۔بہت سے بزرگان دین جیسے شیخ حرّعاملیؒ،(4) علامہ مجلسی ؒاور سید عبداللہ شبّر (5)و غیرہ نے رجعت سے متعلق روایتوں کو بےشمار بتائے ہوۓ ان روایات کےتواتر کی تصریح کی ہے۔ علامہ مجلسیؒ اس بارےمیں لکھتے ہیں "جو شخص ائمہ کی حقانیت پر ایمان رکھتا ہے وہ کیسے ان مطالب میں شک و تردید کر سکتا ہے جنکے متعلق بہت ساری موثّق روایات ثقۃ الاسلام کلینیؒ اور شیخ صدوقؒ وغیرہ کی کتابوں اور ہزاروں کتابوں میں وارد ہوئی ہیں "(6)۔
(ج) عقل (قاعدہ حکم الامثال):
انسان کا دوبارہ قیامت کے دن زندہ ہونا ممکن ہے اور یہی رجعت کے امکان وقوع کیلئے کافی ہے کیونکہ رجعت اور قیامت الگ الگ حقیقتیں ہے جو ایک دوسرے کے مانند وشبیہ ہیں بس فرق یہ ہے کہ رجعت کمیت اور کیفیت میں  قیامت کےمقابلے میں محدود ہے  جب کہ قیامت کے دن سارے لوگوں کو زندہ کیا جاۓ گا تاکہ وہ اپنی ابدی زندگی کو شروع کریں۔اس بنا پر قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کے امکان کا اعتراف ، اس دنیا میں رجعت کے امکان کی دلیل ہے اس لیے کہ قاعده(حکم الامثال فیما یجوز وفیما لایجوز و احد)کا تقاضا یہی ہے اور وہ لوگ جو مسلمان ہیں اور معاد کو اصول دین میں شمار کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں ان کو چاہئے کہ رجعت کے امکان کو قبول کریں رجعت ایک قابل تحقق عمل ہے۔
(د)قرآن:
دلیل عقلی جو امکان رجعت پر دلالت کرتی  ہے،کے علاوہ بہت سی آیات بھی رجعت کے وقوع اور اس کےگذشتہ امتوں میں موجود ہونے کی گواہی دیتی ہیں۔گذشتہ امتوں میں رجعت سے مراد اصطلاحی معنی نہیں ہیں۔لیکن ان آیات سے ہم مجموعی طور پر اسی دنیا میں پلٹانے کو تصور کر سکتے ہیں ،ہم یہاں کچھ مثالیں  بیان کرتے ہیں۔1۔خداوندعالم فرماتا ہے۔"الَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْامِنْ دِیٰارِہِمْ وَہُمْ اُلُوْف حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَھُمُ الٰلہْ مَوْتُوْ ثُمَّ اَحْیَا ھُمْ”(7)کیا تم  نےان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل پڑے اور خدانے انہیں موت کا حکم دے دیا اور پھر زندہ کردیا۔۔
مفسرین کے کہنےکے مطابق خداوند عالم نے اس آیت میں رجعت کے بارے میں گفتگوکی ہے۔کہ انسانوں کی وہ عظیم تعدادجو  سرکشوں کے ڈرسے اس دنیا سے رخصت هو۔صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے زمانےکے ظالم اور خیانت کار بادشاہوں اور حکمرانوں کا ساتھ نہیں دیا تھا۔اور کچھ لوگ جومہلک مرض کی بنا پر دنیا کوچھوڑ چکے تھے کیونکہ۔ انہوں نے اپنے ٹھکانوں کو دریاؤں کے کنارےبنایا تھا۔خداوند عالم نے ان پر موت کو طاری کیا اور دوبارہ اسی خدا نےان کو زندہ کیا اور اس کے بعد یہ لوگ اپنی فطری موت مرے (8)۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کو دوبارہ زندہ کرنا اسی دنیا میں ہے،نہ آخرت میں۔
(2)خداوندعالم فرماتا ہے"او کالّذی مر علی قریۃ وھی خاویة علی عرؤشھاقال انی یحیی ھٰذااللہ بعد موتھا فاماتہ اللہ مائة عام ثم بعثہ۔۔۔۔"یا اس بندے کی مثال جس کا گزر ایک قریہ سے ہوا جس کے سارے عرش و فرش گر چکے تھے تو اس بندہ نے کہا کہ خدا ان سب کو موت کے بعد کس طرح زندہ کرے گاتو خدا نے اس بندےکو سوسال کے موت دیدی اور پھر زندہ کیا۔۔۔۔(9)یہ آیت حضرت عزیر ؑ کے زمانے کو بیان کررہی ہے جوکہ بنی اسراْئیل کے پیامبروں میں سے تھے ۔ وہ کسی آبادی سے گذر رہے تھے جسکے گھرگرچکے تھے اور وہاں کے لوگوں کی ہڈیاں پوسیدہ ہوکر ہوا میں اڑچکی تھیں۔اس وقت انہوں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ خدا  ان کو مرنے کے بعد کیسے زندہ کریگا؟لیکن خدانے ان کو 100 سال کے لئے موت دے دی پھر اس کے بعد ان کو زندہ کیا اور پوچھا کہ تم کتنی دیر پڑے رہے؟ انھوں نے کہا کہ ایک دن یا کچھ کم۔فرمایا نہیں سو سال سے تم یہاں پڑے ہو۔۔۔اس آیت میں صریحاً بیان ہوا ہے کہ حضرت عزیر ؑ سوسال کی مدت کے بعد اسی دنیا میں دوبارہ زندہ ہوۓ ہیں ۔
(3)خداوند عالم حضرت عیسی ؑ کے بارے میں فرماتا ہے۔"۔۔۔واحیی الموتی باذن اللہ۔۔۔"(10) "میں مردےکو خدا کے اذن سے زندہ کرتا ہوں"ایک سنی دانشمند سیوطی نقل کرتا ہے : عیسی ؑ نےاپنے دوست عارز کو زندہ کیا اسی طرح ایک بوڑھی عورت کے بیٹے کو زندہ کیااور اسی طرح ایک بچی کو زندہ کیا یہ تینوں لوگ دوبارہ زندہ ہونے کے بعد فطری زندگی گزاررہے تھے ان سے بچے بھی ہوۓ جو ان کے بعد ان کی یادگاربن کرزندہ رہے ۔(11)
(4)خداوندعالم فرماتا ہے : "وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ کُلِّ اُمةٍ فَوْ جًا مِمَّنْ یُکَذِّبُ بِآیَاتِنَا فَھُمْ یُوْزَعُوْنَ"(12) اس دن ہم ہر امت میں سے وہ فوج اکٹھا کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے اور پھر الگ الگ تقسیم کر دیئےجایئں گے  ۔امام صادق  ؑسے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیاتو  آپ نے فرمایا :عوام(اہل سنت)اس آیت کے معنی کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ راوی نےعرض کیاکہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ آیہ قیامت کے بارے میں ہے۔ امام ؐنے فرمایا: کیا قیامت کے دن ہر امت سے صرف ایک گروہ محشور ہوگا دوسرے محشور نہیں ہونگے؟نہیں ،بلکہ یہ آیت رجعت کے بارے میں ہے۔قیامت کے بارے میں  تو یہ آیت ہے۔"وَحَشَرْ نٰا ھُمْ فَلَمْ نُغَادِرُ مِنْھُمْ اَحَداً" (سورہ کہف آیت نمبر 47)ان کے علاوہ بہت ساری آیتیں ہیں جو رجعت کو بیان کرتی ہیں لیکن ہم اختصارکے مدنظراسی پر بحث کو ختم کرتے ہیں۔
(ج)فلسفہ رجعت: اس عقیدے کے بارے  میں اہم سوال یہ کیا جاتا ہے کہ قیامت سے پہلے رجعت کا مقصدکیا ہے؟ روایات اسلامی کےمد نظر ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا کہ یہ موضوع (رجعت) عام نہیں ہے بلکہ خاص ہے جوان مؤمنین اور صالح افراد سے مخصوص ہے ۔جو ایمان کے عالی مراتب پر فائز ہیں۔اور اسی طرح وہ کفار سرکش اور ،ستمگر، لوگ جوظلم و کفر کے نہایت پست مراحل میں ہوتے ہیں۔یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں گروہوں کو دنیا میں واپس لانا اس مقصد سے ہے کہ اسی دنیا میں مؤمنین کو اجر اور کافروں کو سزامل سکے ۔ اس کے علاوہ مسئلہ رجعت پر اعتقاد رکھنا  اس بات کاسبب ہوتا ہے کہ انسان صحیح اور سالم انسانوں کا مصداق  قرار پانے کی کو شش کر ے تاکہ امام مہدی ؑ کے زمانے اور ان کی حکومت تک یہ فضیلہت اس کے نصیب میں ہو۔
حوالہ جات:
1۔مجلسی،محمد باقر،بحارالانوار؛ ج53،ص138 بحوالہ ازرسائلالمرتضی)ناشر:مؤسہ الوفاء(بیروت)طبع ھشتم،سال 1403 ھ۔ق۔
2۔مجلسی،محمدباقر،بحارالانوار،ج53،ص122ناشر:مؤسسہ الوفاء،(بیروت) طبع ھشتم،سال 1403 ھ۔ق۔
3۔مجلسی ، محمد باقر ،بحار الانوار  ،ج 53 ،ص39 –(121 )،161 روایت نقل کردہ است)ناشر: مؤسہ الوفاء(بیروت) طبع ھشتم،سال  1403 ھ۔ق۔
4۔حرّعاملی ،محمدبن حسن ،الایقاظ من الھجعۃ،ص54 ،باب دوم ، دلیل سوم
5۔شبّر ، عبداللہ ، حق الیقین فی معرفۃ اصول الدین (ج2،ص54)ناشر دارالاضواء (بیروت) طبع اول ،سال 1404 ھ۔ق۔
6۔ مجلسی ، محمد باقر، بحارالانوار (ج53،ص122-122)ناشر:مؤسہ الوفاء،(بیروت)چاپ ھشتم،سال 1403 ھ۔ق۔
7۔ سورہ بقرہ ،آیۃ 243
8۔زمخشری،محمودبن عمر،الکشاف(ج1،ص377) ناشر:دارالفکر(بیروت) سال 1426 ھ۔ق۔
8۔سیوطی،الدّرالمنثور،(ج1،ص551)ناشر : دارالکتب العالمیۃ (بیروت) طبع اول ،سال 1421 ھ۔ق۔
9۔سورۃ بقرہ،آیہ 259
10۔سورہ آل عمران ،آیہ 49
11۔سیوطی ، محلی،جلال الدین السیوطی ،جلال الدین المحلی،تفسیر الجلالین(ص56) ناشر:مؤسہ الرسالۃ (بیروت) طبع سوم ،سال 1424۔
12۔سورہ نمل ،آیہ 83۔
13۔مجلسی،محمد باقر،بحارالانوار ،(ج53،ص52،باب الرجعۃ؛ج27)ناشر: مؤسہ الوفاء (بیروت) طبع ھشتم ،سال 1403 ھ۔ق۔
14۔مظفر ، محمد رضا، عقائد الامامیہ،ناشر: مؤسہ الامام علی ؑ (قم) طبع  اول ،سال 1417 ھ۔ق۔