مولاناذاکر حسین ناصری سانکو
بداکی حقیقت قران اور  سنت میں
بدا یا وهی (محو واثبات ) که همارے اعتقادات میں سے هے  اور هر مسلمانان پر واجب هے که اس پر عقیده رکهے۔
بدا اس جهت سے حایز اهمیت ھے که اگر بدا اور دیگر وه مسایل جو اس قسم کے اعتقادات هیں صحیح طور پر تفسیر نه هوں تو بهت سے مفاسد پیش آتے هیں، جیسے که بعض لوگ ان مسایل کو صحیح نه سمجهنے کی بنابر پر معتقدین بدا کو متهم کیا هے که یه  لوگ الله تعالی کو جاهل مانتے هیں اسی بنابر بدا کی حقیقت اور اسکا صحیح مفهوم روشن هونا همارے لیے بے حد ضروری هے اس مقاله مین بنده کی کوشش یه هے که بدا کا لغوی اور اصطلاحی معنی کی تفصیل کے ساتھ اس کی حقیقت کتاب اور سنت کی روشنی میں بیان هو.


بدا کا لغوی معنی :
بدا کیےلیے لغت عرب میں دو معنی هیں :
1: بدا الامر بداء. یعنی یه موضوع واضح وآشکار هوا . لذا آشکار اور واضح هو نے کے هے .
2: بدا له فی الامر کذا / یعنی اس موضوع میں اسکے لیے ایک نیا نظریه ظاهر هوا .
اسلامی عقاید کی علماء کی اصطلاح میں:
علماء عقاید اس بارے میں فرماتے هیں:
بدا خداوند عالم کے بارے میں کسی ایسی چیز کا آشکار کرنا هے جو بندوں پر مخفی هو لیکن اسکا ظهور ان کےلیے ایک نیی بات هو اس بناپر،جن لوگون کا خیال هے که بدا سے مراد خدا کے بارے میں یه هے که حق تعالی کے لیے بھی مخلوقات کی طرح ایک نیا خیال اور ایک نیی رای (اس کے علاوه جو بدا سے بهلے تھی )پیدا هویی،تو وه حد درجه غلط فهمی کا شکار هیں،سچ مچ خداوند عالم اس سے کهیں زیاده بلند و برترهے بدا کے مختلف تفاسیر هویے ھیں:
پهلی تفسیر: لغت میں بدا کا معنی (ظهور بعدالخفاء)هے جیسے که راغب نے بھی اس تفسیر کی طرف اشاره کیا هے.اور آیات الهی میں بھی اس معنی میں آیا هے :
قال تعالی : وَ بَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ* وَ بَدا لَهُمْ سَيِّئاتُ ما كَسَبُوا .بدااس معنی میں خدا کے اوپر هرگزاطلاق نهیں هوتا اس لیے که اس صورت میں علم خدا کا جهل میں تبدیل هونا لازم آتا هے اور حدوث علم الهی لازم آتا هے اور یه بات بالکل واضح هے که کویی مسلمان بدا کو اس معنی میں حق تعالی کی اوپر اطلاق نهیں دیتا،شیعه امامیه سے که جو الله تعالی کو هر نوع نقص وعیب سے پاک ومنزه مانتے هیں کیسے ممکن هے که حقتعالی کو ایسے صفات سے متصف کرے.
شیعه امامیه کتاب وسنت کے متابعت کے ساتھ اس بات پر متفق هے که حقتعالی تمام اشیاء پر احاطه علمی رکهتا هے اور اسکو تمام چیزون پر ،کلیات اور جزییات پر علم هے جیسا که قران کریم میں بھی اس سلسلے میں فراوان آیات موجود هیں. 
قال سبحانه: إِنَّ اللَّهَ لا يَخْفى‏ عَلَيْهِ شَيْ‏ءٌ فِي الْأَرْضِ وَ لا فِي السَّماءِ  وقال سبحا نه: وَ ما يَخْفى‏ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْ‏ءٍ فِي الْأَرْضِ وَ لا فِي السَّماءِ . (یعنی بیشک خداوند متعال کیلے مخفی نهیں هے وه چیز جو زمیں اور اسمان میں هے ) اور فرماتا هے: اور نهیں مخفی وه چیز جو زمیں وآسماں میں هے .
امیرالمومنین(G) فرماتے هیں: کل سر عندک علانیه وکل غیب عندک شاهده.
(با الها  هرعیب  آپ کے پاس آشکار اور هر غیب آپ کیلے عیاں هے).
و قال الإمام الصادق (عليه السّلام): «من زعم أنّ اللّه عز و جل يبدو في شي‏ء لم يعلمه أمس، فابرءوا منه»
امام صادق(علیه السلام) فرماتے هیں:
(جو شخص عقیده رکهتا هو که حق تعالی کو بدا حاصل هوتی هے ان اشیاء پر که جس پر خدا عالم نهیں هے اس شخص سے دور رهو.)
اور ان کی علاوه سینکڈون روایات ایمه اهلبیت (G) سے روایت هویی هیں که ان تمام روایات کا ذکر کرنا اس مقاله کی حد سے باهر هے لهذا تفصیل کیلے کتب مربوطه (الالهیات وغیره ) میں مراجعه کریں.
بدا کی حقیقت :
پس اس بنابر بدا کی حقیقت یه هے که انسان کی سرنوشت میں تبدیلی آسکتی هے اسکے اعمال صالحه اور طالحه میں تبدیلی کے ساتھ اور قران مجید اورروایات اهل بیت(G)نے بھی اس نقطه کی تایید کی هے اور اس بارے میں بهت سے آیات پایی جاتی ھیں:  جیسے که حق تعالی ارشاد فرماتاهے:
قال تعالی : (ان الله لا یغیر ما بقوم حتی یغیر ما بانفسهم)
(بیشک خداوند کسی بھی قوم میں تبدیلی نهیں لاتی ھے جب تک وه قوم خود تبدیل نه هو.) 
عقیده بدا کافایده
اگر کسی شخص کا یه عقیده هو که بعض وه انسان جو نیک بختوں کی زمره میں واقع هوتے هیں کبھی ان کی حالت بدلتی نهیں هے اور کبھی بد بختوں کی صف میں واقع نهیں هوں گے اور بعض انسان جو که بدبختوں کی صف میں هیں ان کی بھی حالت کبھی نهیں بدلے گی اور نیک بختوں کی صف میں شامل نهیں هونگے اور قلم تقدیر انسان کی سرنوشت بدلنے سے خشک هوچکا هے اور رک گیا هے اگر ایسا تصور صحیح هو تو کبهی گناهکار اپنے گناه سے توبه نهیں کریگا بلکه اپنے کام کا سلسله جاری رکهے گا کیونکه وه سوچ چکا هے که شقاوت اور بدبختی اس کے لیے    یقینی اور قطعی سرنوشت هے اور اس میں تبدیلی نا ممکن هے "اور دوسری طرف
سے؛شیطان نیکو کار بندوں کو وسوسه کریگا که تم نیک بخت هو ؛اشقیاء کی زمره میں داخل نهیں هونگے.