مولاناعلی زمانیشلکچی

سخنان مقام معظم رهبری(مدظله العالی )امت مسلمه كے متعلق

1-امت اسلامی کا اتحاد اہم ہے

پهلا نکتہ جو رہبرنے فرمايا "ہمارے زمانے میں امت اسلامی کا اتحاد "ہے یہ اہم نکتہ ہے جس کیلئےہم نے نہ صرف انقلاب کے زمانے سے بلکہ انقلاب سے کئی برس قبل شیعہ سنی بھائيوں کے دلوں کو نزدیک کرنے اورسب کو اس اتحاد کی اہمیت سے آگاہ کرنے کی غرض سے کوششیں شروع کی ،تھیں میں نے بلوچستان میں " انقلاب سے برسوں قبل جب میں وہاں شہربدرکرکے بھیجا گياتھا " مرحوم مولوی شہداد کو (جو کہ بلوچستان کے معروف علماء میں سے تھے اور بلوچستان کے لوگ ان کو پہچانتے ہیں،فاضل شخص تھے اس زمانے میں وہ سراوان میں تھے اور میں ایرانشہرمیں تھا)پیغام بھیجا کہ آئيں موقع ہے بیٹھتے ہیں اور اہل سنت و اہل تشیع کے درمیان علمی، حقیقی ، قلبی اور واقعی اتحاد کے اصول بناتے ہیں انہوں نے بھی میری تجویزکاخیر مقدم کیا لیکن بعد میں انقلاب کے مسائل پیش آگئے،انقلاب کی کامیابی کے بعد ہم نے جو نمازجمعہ کے موضوع پر پہلی کانفرنس کی تھی اس میں مولوی شہداد سمیت اہل سنت کے بعض علماءبھی شریک تھے بحث و گفتگو ہوئي اور ان مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

تعصبات کی بناپر دوطرح کے عقیدوں کے حامیوں میں اختلاف ہونا ایسا امر ہے جوفطری ہے اور یہ شیعہ و سنی سے مخصوص نہیں ہے خود شیعہ فرقوں اور سنی فرقوں کے مابین ہمیشہ سے اختلافات موجود رہے ہیں تاریخ کا جائزہ لیں تودیکھیں گے کہ اہل تسنن کے اصولی اور فقہی فرقوں جیسے اشاعرہ ، معتزلہ جیسے حنابلہ احناف اور شافعیہ کے درمیان اختلاف رہا ہے اسی طرح شیعوں کے مختلف فرقوں کے مابین بھی اختلافات رہے ہیں ،یہ اختلافات جب عام لوگوں تک پہنچتےہیں تو خطرناک رخ اختیارکرلیتے ہیں لوگ دست بہ گریباں ہوجاتے ہیں ،علماء باہم بیٹھتے ہیں گفتگو کرتے ہیں بحث کرتے ہیں لیکن جب علمی صلاحیت سے عاری لوگوں کی بات آتی ہے تو وہ جذبات تشدد اور مادی ہتھیاروں کا سہارالیتے ہیں اور یہ خطرناک ہے ۔دنیا میں مومنین اور خیرخواہ لوگوں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اختلافات کاسد باب کریں ،علما‏ء اور سربرآوردہ شخصیتوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ عوام میں تصادم نہ ہونے پائے لیکن حالیہ صدی میں ایک اور عامل شامل ہوگیاجو استعمار ہے میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ ہمیشہ شیعہ سنی اختلافات سامراج کی وجہ سے تھے ایسا نہیں ہے مسلمانوں کے جذبات بھی دخیل تھے ،بعض جہالتیں بعض تعصبات بعض جذبات بعض کج فہمیاں دخیل رہی ہیں لیکن جب سامراج میدان میں اترا تو اس نے اختلافات کےحربے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا ۔

اس بناپر آپ دیکھتے ہیں کہ سامراج اور استکبارکے خلاف جدوجہد کرنے والی ممتازشخصیتوں نے امت اسلامی کے اتحاد پر بے حد تاکید کی ہے ،آپ دیکھیں سید جمال الدین اسد آبادی رضوان اللہ علیہ المعروف بہ افغانی اور ان کے شاگرد شیخ محمد عبدہ اور دیگرشخصیتوں اور علماءشیعہ سے مرحوم شرف الدین عاملی اور دیگر بزرگوں نے سامراج کے مقابلے میں کس قدر وسیع کوششیں کی ہیں کہ سامراج کے ہاتھ میں یہ آسان وسیلہ عالم اسلام کے خلاف ایک حربے میں تبدیل نہ ہوجائے،ہمارے بزرگ اور عظيم رہنما حضرت امام خمینی(رہ) ابتداء ہی سے امت اسلامی کے اتحاد پر تاکید کیا کرتےتھے سامراج نے اس نقطہ پر آنکھیں جمائے رکھیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ سوءاستفادہ کیا۔

 

2-اختلاف پھیلانے والے نہ شیعہ ہیں نہ سنی

آج عراق میں شیعہ اورسنی کو ایک دوسرے کے خلاف لڑانا چاہتے ہیں پاکستان میں بھی یہ کام کرنا چاہتے ہیں افغانستان میں اگر ممکن ہوتو یہ کام کرنا چاہتےہیں اگر ایران میں انہیں موقع ملے تو ایسا کریں گے جہاں بھی انہیں موقع ملے وہ یہ کام کریں گے ہمیں اطلاع ملی ہےکہ سامراج کے اہل کار لبنان بھی گئے ہیں تاکہ شیعہ اورسنی اختلافات پھیلائيں ۔

وہ لوگ جو اختلافات پھیلاتے ہیں وہ نہ شیعہ ہیں نہ سنی، نہ شیعوں سے انہیں کوئي لگاؤ ہے اور نہ سنیوں سے، نہ شیعوں کے مقدسات کو مانتے ہیں اور نہ سنیوں کے ،چند دنوں قبل امریکی صدر بش نے اپنی تقریرمیں عراق کے شہر سامرا میں حضرت امام علی نقی اور حضرت امام حسن عسکری علیھما السلام کے روضوں میں بم دھماکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلفیوں کو اس کا ذمہ دار قراردیا اور شیعوں کو اس طرف بھڑکایا اور اس میں کامیاب بھی رہے ،مقدس روضوں میں بم دھماکے امریکیوں کے سامنے ہوئے ہیں ،اسی شہر میں حضرات عسکرییں علیھماالسلام کے روضوں میں بم دھماکے ہوئے ہیں جوامریکیوں کے زیرکنٹرول ہیں اور امریکہ کی مسلح افواج اس شہرمیں گشت کررہی ہیں امریکیوں کی آنکھوں کے سامنے یہ ہوا ہے ،کیا یہ ممکن ہے کہ امریکیوں کی اطلاع کے بغیر امریکیوں کی اجازت کے بغیر اور امریکیوں کی منصوبہ بندی کے بغیر یہ واقعہ ہواہو خود امریکیوں نے یہ کام کیا ہے ۔

3-مسلمانوں کی آپسی دوری دشمن کو اختلاف ڈالنے کا موقع فراہم کرتی ہے

مسلمانوں کی ایک دوسرے سے دوری دشمنوں کو انکی صفوں میں اختلاف و تفرقہ ڈالنے کاموقع فراہم کرتی ہے امت اسلامیہ مختلف قوموں ، نسلوں اور مذاہب کے ماننے والوں سے تشکیل پائی ہے اور زمین کے حساس اور اہم علاقوں اور الگ الگ جغرافیائی خطّوں میں اس کا آباد ہونا اس کے تنوع اوراس کےعظیم پیکر کے لئے ایک مضبوط نقطہ ثابت ہوسکتا ہے اور اس وسیع و عریض دنیا میں امت اسلامیہ کی مشترکہ ثقافت ، میراث اور تاریخ کو مزید فعال و کارآمد بنایاجاسکتا ہے اور طرح طرح کی انسانی و فطری قابلیتوں اور صلاحیتوں کو مسلمانوں کے لئے بروئے کار لایا جاسکتا ہے ۔مغربی سامراج نے اسلامی ملکوں میں داخل ہوتے ہی اسی نکتہ کو مد نظر رکھا اور اس نے تفرقہ انگیز عوامل کو مسلسل اشتعال دلانے کی کوشش شروع کردی ۔

سامراجی سیاستدانوں کو بخوبی یہ معلوم تھا کہ اگر عالم اسلام متحد ہوگیا تو اس پرسیاسی اور اقتصادی تسلّط جمانے کا راستہ مسدود ہوجائے گالہذاانہوں نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی ہمہ گیر اور طویل المیعاد کوشش شروع کردی اوراس خبیثانہ سیاست کی آڑ میں انہوں نے لوگوں کی غفلت اور سیاسی و ثقافتی حکمرانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا اور اسلامی ملکوں پر اپنا تسلّط جمانا شروع کردیا۔

گذشتہ صدی میں اسلامی ممالک میں حریت پسندانہ تحریکوں کی سرکوبی اور ان ملکوں پر تسلّط جمانے میں سامراجی طاقتوں کی پیشقدمی اور ان میں استبدادی حکومتوں کا قیام یا انکی تقویت اور ان کے قدرتی ذخائر کی لوٹ گھسوٹ و انسانی وسائل کی نابودی و تباہی اور اسکے نتیجے میں مسلمان قوموں کو علم و ٹیکنالوجی کے قافلے سے پیچھے کردینا یہ سب کے سب سامراجی منصوبے مسلمانوں کےاختلاف و عدم اتحاد کی وجہ سے ممکن ہوئے ہیں جو کبھی کبھی دشمنی ، جنگ و جدال اور برادر کشی پر بھی ختم ہوئے ہیں ۔ اسلامی بیداری کے آغاز سے مغربی سامراج کو سنگین خطرے کا سامنا ہوا ۔ جس کا نقطۂ عروج ایران میں اسلامی جمہوری نظام کا قیام ہے۔

مشرق و مغرب کے سیاسی مکاتب کی شکست اور سامراجی طاقتوں کی اُن اقدار کے غلط ثابت ہونے اور ان کی دھجیاں بکھر جانے سے جنہیں وہ انسانیت کی فلاح و کامیابی کا واحد ذریعہ سمجھتی تھیں مسلمان قوموں کے درمیان اسلامی خود آگہی کی بنیاد مضبوط ہوئی اور اس چراغ الٰہی کو خاموش کرنے اور اس نور کو چھپانے میں استکباری طاقتوں کی پے در پے ناکامیوں نے مسلمان قوموں کے دلوں میں امید کے پودے کو مضبوط و بارآور بنادیا ہے ۔

آج کے فلسطین کو دیکھئے جہاں آج " صیہونی قبضے سے آزادی " کے جامع اصول پر کاربند حکومت بر سر اقتدار آئي ہے اور پھر ماضي میں فلسطینی قوم کی غربت ، تنہائي اور ناتوانی سے اس کا موازنہ کیجئے ، لبنان پر نگاہ ڈالئے جہاں کے دلیر و فداکار مسلمانوں نے اسرائیل کی مسلّح فوج کو شکست دی جسے امریکہ و مغرب اور منافقوں کی پوری مدد حاصل تھی اور پھر اس کا اُس لبنان سے موازنہ کیجئے کہ صیہونی جب چاہتے تھے اور جہاں تک چاہتے تھے کسی مزاحمت کے بغیر آگے تک چلے جاتے تھے ۔

عراق پر نگاہ ڈالئے کہ جس کی غیرت مند قوم نے مغرور امریکہ کی ناک رگڑ دی اور اس کی فوج اور ان سیاستدانوں کو جو کبر و نخوت کے عالم میں عراق پر اپنی مالکیت کا دم بھرتے تھے سیاسی ، فوجی اور اقتصادی دلدل میں پھنسا دیا اور پھر اس کا اس عراق سے موازنہ کیجئے جس کے خونخوار حاکم نے امریکہ کی پشت پناہی سے لوگوں کا جینا حرام کررکھا تھا، افغانستان پر نگاہ ڈالئے کہ امریکہ اور مغرب کے تمام وعدے جہاں فریب اورجھوٹ ثابت ہوئےاور جہاں مغربی اتحادیوں کی غیر معمولی اور بے تحاشا لشکرکشی نے اس ملک کو تباہی و ویرانی کے دہائے پر پہنچانےاورلوگوں کوغربت زدہ بنانے ،ان کا قتل عام کرنے اور منشیات کے مافیا گروہوں کو روز بروز مضبوط بنانے کے سواء اور کچھ نہیں کیاہے، اور سرانجام اسلامی ملکوں میں جوان معاشرے اور پروان چڑھتی ہوئی نسل پر نگاہ ڈالئے جس میں اسلامی اقدار کا رجحان بڑھ رہا ہے اور امریکہ و مغرب سے نفرت میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے ۔

ان تمام واقعات پر نگاہ ڈالنے سے مغربی استکباری طاقتوں اور ان میں سر فہرست امریکہ کی بد بختی اور شکست خوردہ پالیسیوں کی حقیقی تصویر کو مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور یہ تمام واقعات اس بات کی بشارت دے رہے ہیں کہ امت اسلامیہ متحد ہورہی ہے ۔

4-اسلامی اتحاد غدیر کی روشنی میں

رہبر معظم نے مسلمانوں کے درمیان باہمی اتحاد و یکجہتی پر مکمل توجہ رکھنے کو غدیر کا ایک اور عظیم درس قراردیتے ہوئے فرمایا : حضرت علی ؑ کو پیغمبر اسلام نے منصوب کیا تھالیکن جب انھوں نے یہ دیکھا کہ اپنے حق کا مطالبہ کرنے سے ممکن ہے اسلام کو نقصان پہنچے اور اختلاف پیدا ہوجائے تو آپ نے اس کا نہ صرف دعوی کیا بلکہ وہ لوگ جو اس منصب کے حقدار نہ تھےاورجو زبردستی اور طاقت کے زور پر اسلامی معاشرے پر حکومت کررہے تھے آپ نے ان کے ساتھ مسلسل تعاون کیا کیونکہ اسلام کو اتحاد کی ضرورت تھی اوراسی وجہ سے حضرت علی ؑ نے اس عظيم فداکاری کو انجام دیا ۔

رہبر معظم نے اسی سلسلے میں فرمایا: ایرانی عوام کے پاس آج عالم اسلام میں امامت اور ولایت جیسی قوی ، مضبوط اور مستحکم منطق ہے لیکن وہ اپنے حق کےاثبات کو دوسروں کی نفی میں تلاش و جستجو نہیں کرتی ۔ اور امیرالمؤمنین علی Cکی پیروی کرتے ہوئے وحدت و یکجہتی کےعلمبردار ہے اور تمام اسلامی مذاہب کو اتحاد اور یکجہتی کی طرف دعوت دیتی ہے۔ رہبر معظم نے امت اسلامی کو دشمنوں کے مکروفریب کے مقابلے میں ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: دشمن عالم اسلام میں اختلاف کا بیج بونے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے ۔اور غدیر کا عظیم درس ، اختلاف اور تفرقہ پیدا کرنے والوں کے خلاف جد وجہد پر مبنی ہے ۔ اور اس عمل کو انجام دینے کے لئے ضروری ہےکہ مسلمان ایک دوسرے کے مقدسات کی اہانت کرنے اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے اجتناب کریں اور جیسا کہ حج کے پیغام میں بیان کیاہے کہ مسلمان مفکرین امت اسلامی کےدرمیان اتحاد اور اسلامی انسجام کو مضبوط و مستحکم بنا کر عالم اسلام " شیعہ اور سنی " کے درمیان اختلاف ڈالنے کے سامراجی طاقتوں کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنادیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلام دشمن عناصراور سامراجی طاقتوں کے مکر وفریب کے بارے میں ایرانی عوام کی آگاہی کو انقلاب اسلامی کی کامیابی کا رمز قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی عوام کا خدا وند متعال کی ذات پر ایمان و توکل ،ذمہ داری کا احساس، دشمن کے ناپاک منصوبوں کے بارے میں مکمل ہوشیاری و آگاہی اورگذشتہ 32 سالوں میں سامراجی طاقتوں کی تمام گھناونی سازشوں کے مقابلے میں ایرانی عوام کی کوششوں کوکامیاب قراردیتے ہوئے فرمایا: ان کامیابیوں کو جاری رکھنے کے لئے ہمیں کبھی دشمن کو فراموش نہیں کرنا چاہیے ۔ اور میدان میں اپنے حضور سے غافل بھی نہیں رہنا چاہیے ۔

5-تفرقہ انگیزی تاریخی گناہ ہے:

آج ہر وہ اقدام جو عالم اسلام میں تفرقہ انگیزی کا باعث ہو تاریخی گناہ ہے وہ لوگ جو دشمنانہ طریقے سے مسلمانوں کےایک عظیم گروہ کو بے بنیاد بہانوں سے کافر قرار دے رہے ہیں ، وہ لوگ جو باطل گمان و خیالات کی بنیاد پر مسلمانوں کے کچھ فرقوں کے مقدسات اور مذہبی مقامات کی اہانت کررہے ہیں ، وہ لوگ جولبنان کے ان جانباز جوانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے ہیں جو امت اسلامیہ کی سربلندی اور عالم اسلام کے لئے باعث فخرہیں وہ لوگ جوامریکہ اور صیہونیوں کی خوشامد کے لئے ہلال شیعی یا شیعہ بیلٹ کے نام سے موہوم خطرے کی باتیں کررہے ہیں ، وہ لوگ جو عراق میں عوامی اورمسلمان حکومت کو ناکام بنانے کے لئے اس ملک میں بد امنی اور برادر کشی کو ہوا دے رہے ہیں وہ لوگ جو حماس کی حکومت پر ہرطرف سے دباؤ ڈال رہے ہیں جو ملّت فلسطین کی محبوب اور منتخب حکومت ہے وہ لوگ خواہ جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں ایسے مجرم شمار ہوتے ہیں کہ تاریخ اسلام اورآئندہ کی نسلیں ان سے نفرت کریں گی اور انہیں غدار دشمنوں کا پٹھو سمجھیں گی ۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ عالم اسلام کی حقارت و پسماندگی کا دور ختم ہوچکاہے اوراب نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے یہ خیال باطل ہے کہ مسلمان ملکوں کو ہمیشہ مغرب کے سیاسی و ثقافتی اقتدار کے پنجہ میں اسیر رہنا ہے اور انفرادی و اجتماعی فکر وگفتار و عمل میں مغرب کی ہی تقلید و پیروی کرنا چاہیے اب خود مغرب والوں کے غرور و تکبرو ظلم و ستم اور انتہا پسندی کی وجہ سے یہ تصور مسلمان قوموں کے ذہنوں سے پاک ہوچکا ہے۔

6- اسلامي انقلاب ہدايت کا سرچشمہ

ایران کا اسلامي انقلاب عالم اسلام کے ليے ہدايت کا سرچشمہ ہے۔

حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي (مدظله العالی )نے نماز جمعہ کے خطبوں ميں جمہوري اسلامي ايران کے مقابلے ميں عالمي استکبار کي شکست فاش اور اس کے علل اور اسباب کو بيان کرتے ہوئے صدام اور اس کے حاميوں کي طرف سے ايران کے خلاف آٹھ سالہ جنگ کي طرف اشارہ کيا اور فرمايا کہ صدام اور اس کے حامیوں کےاس ناپاک منصوبے کا اصلی مقصد انقلاب اسلامي کو نابود کرنا تھا اس ليے کہ مغربي تجزيہ کار اور رہنما يہ جان چکے تھے کہ اسلامي انقلاب عالم اسلام کے ليے ہدايت کا سرچشمہ ثابت ہوگا لہذا انھوں نے کوشش کي کہ اس انقلاب کي ترقي کي راہ ميں رکاوٹيں ايجاد کي جائيں حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ اي (مدظله العالی )نے امريکي اور مغربي حکام کی جانب سے ايران کا اقتصادي محاصرہ کرنے کے خام خيال کي طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ايرانی عوام جنگ کے زمانے ميں سخت اقتصادی محاصرے اور پابنديوں کے دور سے گذر کر ايسے مقام پر پہنچ چکي ہے کہ آج عسکري اعتبار سے خطے ميں کسي کو اپنا مدمقابل نہيں سمجھتي اور علمی ترقی اور پیشرفت کے راستے پر گامزن ہے اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ایرانی عوام نے قابل فخر پيش رفت حاصل کي ہے اور يہ ثابت کرديا ہے کہ استقامت اور پائداري اور روحاني طاقت کے مقابلے ميں کسي بھي قسم کے محاصرے کا نتيجہ الٹا ہوتا ہے۔