سید تقی عباس رضوی

هم کب تک خاموش رهیں؟

مقالہ قبل کا ادامہ

]اقیموالدین ولاتتفرقوا فیه کبر علی المشرکین ما تدعوهم الیه[ دین کو قائم رکھو،اور دین میں اختلاف و تفرقه نه کرو تم جس چیز(دین)کی دعودت دے رهے هو وه مشرک کو بهت ناگوارلگتی هے.(شوری/13)

حضرت ختمی مرتب(ص)سے روایت هے مسلمان،مسلمان کا بھائی هے،نه اس سے خیانت کرتاهے نه اسے جھٹلاتا هے،نه اسے ذلیل کرتاهے هر مسلمان کی عزت،آبرو،مال اور جان دوسرے مسلمان پرحرام هے.(سنن الترمذی ج2ص218ط/2دارالفکربیروت 1403به تحقیق عبدالرحمن عثمان)احمدبن حنبل اپی مسند میں رسول خدا(ص)سے نقل کرتے هیں:هرمسلمان کی جان ومال وعزت وآبرو دوسرے مسلمان کے لئے محترم هے.(مسنداحمد،ج2ص360)

]ولن ترضی عنک الیهود والاالنصاری حتی تتبع ملتهم[(سوره بقره120)

کفرونفاق کایه ٹوله(ان فرمودات)آیات و روایات کامذاق اُڑاتے هوئے وهی کام کررهاهے جس سے خداوررسول کو اذیت پهنچتی هے اور ان کے غیظ وغضب کا باعث بنتاهے.

صاحبان علم یه اچھی طرح جانتے هیں که موجوده اسلامی معاشره کسی دشت هولناک میں آهیں بھررهاهے.اگر آج مسلمان اپنے ظالم وجابر اور عیاش حکام کے خلاف صدائے احتجاج بلندکررهے هیں تو یه صرف اپنے حق کادفاع هے جووهاں پائمال کئے جارهے هیں لیکن اس آواز کو دبانے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے جارهے هیں کبھی ان کی سرکوبی کے لئے ان پر بغاوت کافتوی صادر کیاجارهاهے،کبھی قومی تعصب کو هوادی جاری هے اور کبھی باهرسے فوج منگوائی جارهی هے.

دینا میں اسلامی بیداری کی اس لهر کے بعد اسلام دشمن عناصر سب ایک پلیپٹ فارم پر جمع هوگئے اور اس طوفان تلاطم کو خاموش کرنے کی غرض سے اپنے اپنے آله کارنمائندوں کے پاس جانے لگے که جیسے بھی هو اس قیام کو نقش برآب کردیاجائے تاکه کائنات انسانیت میں عالم اسلام غالب هو نه پائے .جیساکه آپ نے یه ضرور دیکھا هوگا اور یه دیکھ رهیں هوں که مصر ،یمن،لیبیا،تیونس اور بحرین وغیره میں یه کیسے کیسے حربے استعال کئے جارهے هیں اور کررهے هیں.

سیاه فام اوبابا،سفیدبلی بلیری کنٹن اور شیمون پریس وغیره کی ملاقات کے بعد اسلامی مملکت کے حکام اوربادشاهوں نے اپنی رعایاپروه ظلم ڈھادئیے جوناقابل بیان هے اور یه سلسله آج بھی جاری هے.

سرزمین وحی کاشیطانی نمائنده آل سعودنے بحرین میں اپنی فوج بھیجی تو دوسری طرف آل خلیفه نے باهر سے لاکر غیرملکی خونخوار فوجیوں کو وهاں کی عوام پر مسلط کردیا !پھراس کے بعد سعودی عرب کی پارلیمنٹ کے اسپیکر شیخ عبدالله بن محمدابراهیم آل شیخ نے یه اعلان کردیاکه بحرین میں لشکر کشی همارا قومی فرض هے!!!

کیا صاحب علم وذکایه نهیں جانتے هیں که ایک ایسی دینا میں جهاں قانونی طور پر کسی بھی ملک کادوسرے ملک پر حمله یا اور اس میں فوجی مداخلت غیرقانونی اور جارحیت شمارهوتی هے اور عالمی سطح پر اس اقدام کی مذمت کی جاتی هے؟!.سعودی عرب جیسے ملک کے حکومتی اهلکار جوخودکومسلمان کهتے نهیں تھکتے آزادوخودمختار ملک بحرین میں فوجی مداخلت اور اس ملک کے عوام کے قتل عام کو اپنا قومی فریضه سمجھتے هیں.یهی نهیں قرآن کریم میں جهاں صاف لفظوں میں انسانوں اور بالخصوص مسلمان کے هاتھوں مسلمان کے قتل کو ایک پوری قوم کا قتل قراردیاگیاهے اور اس کی سختی سے مخالفت ومذمت کی گئی هے سعودی عرب کی فوجیں انتهائی بےدردی کے ساتھ بحرین کے مسلمانوں کا قتل عام کررهی هیں!

هم اس ملعون(آل شیخ)سے یه پوچھناچاهتے هیں که اگر بحرین میں لشکر کشی تمهارا قومی فرض هے تو اس سے پهلے کهاں مرگئے تھے تم اور یه تمهارا فرض فلسطین اورلبنان میں مارگ جانے والے مسلمانوں کی حمایت میں اپنے گماشتوں کو نهیں بھیجا!؟؟

عالمی میڈیا((العالم))کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بحرین میں سعودی فوجوں لشکرکشی اور اس ملک کے پرامن مظاهرین کو کچلنے کے سعودی کے فوجیوں کے اقدام کا جواز پیش کرتے هوئے کهاهے که ریاض،بحرین میں امن وامان کی برقراری کو اپنافرض سمجھتاهے.واضح رهے که سعودی عرب نے بحرین میں اپنے جائز حقوق کامطالبه کرنے والے پرامن مظاهرین کو کچلنے کے سلسلے میں اس ملک کی ڈکٹیڑ حکومت کو مدد فراهم کرنے کے لئے اپنے فوجی بحرین بھیجے هیں.اس سے پهلے 1990 میں صدام نے جس کو خود امریکه اور مغربی ملکوں نے ایران کے خلاف اکساکرایران پر حمله کرایاتھا اور اس کو پروان چڑھایاتھا جب کویت جیسے آزاد وخود مختار ملک پر حمله کرکے اس پر قبضه کرلیاتھا تو امریکه اور اس کے علاقائی اتحادیوں نے پوری طرح سے اس جارحانه اقدام کو غیر قانونی اور ایک آزاد ملک پر حمله بتایا تھا اور حقیقت بھی یهی تھی.صدام کےذریعه کویت پر چڑھائی کردئیے جانے کے بعد اقوام متحده کی سلامتی کونسل کاهنگامی اجلاس بلایاگیا اور اس کے نتیجے میں امریکه کی زیر سرکدگی بین الاقوامی فوج نے کویت کو صدام کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے فوجی کا روائی کی اور یوں کویت کو جهاں صدام کے قبضے سے آزادی ملی وهیں امریکه اور اس کے مغربی کو صدام کے قبضے سے آزادکرانے کے لئے فوجی کا روائی کی اور یوں کو جهاں صدام کے قبضے سے آزادی ملی وهیں امریکه اور اس کے مغربی اتحادیوں نے اپنے اس کا م کی بڑی بھاری قیمت بھی کویت عراق اور حتی علاقے کی عرب حکومتوں سے وصول کی.اس کے بعد سے آج تک علاقے میں امریکه کی غیر قانونی موجودگی برقرار هے امریکه کا فوجی اڈه سعودی عرب میں بنا بحرین میں اس کا پانچواں بحری بیڑا تعینات کیاگیا اور قطر میں بھی اس کی فوجوں نے اپنا اڈه قائم کیا جس کی وجه سے یه پوراعلاقه آج کشید گی کا شکارهے.یه سب کچھ اس نعرے کے ساتھ کیاگیا تھا که کویت جیسے آزاد و خود مختار ملک کو صدام کے غاصبانه قبضے کو آزاد کرانا بین الاقوامی برادری کی ذمه داری هے.مگر اس کے عوض تیل کی آمدنی حاصل کرنے کا حق صرف امریکه اور اس کے چند ایک ساتھی ملکوں کو هی حاصل هوا.مگر دوسری طرف آج جب اقوام متحده کے سرگرم رکن بحرین میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت هوئی هے اور سعودی عرب کی فوجیں بحرین کے شهریوں کابے دردی کے ساتھ قتل عام کررهی هیں تووهائٹ هاؤس کے حکمراں بهت هی ڈھٹائی کے ساتھ یه کهتے هوئے نظرآرهے هیں که فوجی مداخلت نهیں.

بحرین میں عوام کا جس بڑے پیمانے پر قتل عام کیا جارهاهے وه نه تو امریکه کو نظرآرهاهے اور نه هی مغربی ملکوں کے حکام کے ساتھ ساتھ ان کے ذرائع ابلاغ کو دکھائی دے رهاهے.انسانی حقوق کے مدافع عالمی ادارے بھی بحرین کی جیلوں میں زیر حراست سیاسی قیدیوں کی اموات پر خاموش هیں اور خواتین کو جس طرح سے شهید کیاجارهاهے اس پر بھی کسی ادارے کی چیخ توکجا معمولی سا اعتراض بھی سنائی نهیں دے رهاهے.اس کی وجه صاف هے که بحرین امریکه کے لئے اسڑیحک کے اعتبار سے بهت هی اهمیت کا حامل هے اس کا پانجواں بحری بیڑاوهیں تعینات جس کے ذریعه وه پورے علاقے پراپنا کنڑول رکھنا چاهتاهے اور ساتھ هی تیل سے مالابحرین کووه اس ملک کے حقیقی مالکان کو کسی بھی صورت میں نهیں دینا چاهتا.بحرین کے عوام ملک کی شاهی حکومت سے ایک ایسا مطالبه کررهے هیں جودنیاکاهر باشعور انسان اپنے لئے چاهتاهیں ملک میں قانون وسیاسی امور میں اصلاح چاهتے هیں.

انهوں نےپوری دنیاکی نگاهوں کے سامنے اپنے معمول مطالبے کےلئے جوکسی بھی شخص کابنیادی حق هے اپنے هاتھوں پھول لے کرریلیاں نکالیں مگر امریکه اور اس کے علاقائی اتحادیوں نے ان کے اس پرامن مطالبے کو راکھ خون اور باردومیں تبدیل کردیا.کیابحرین کی عوام کو جمهوریت کے ماحول میں سانس لینے کا حق نهیں؟

کیا وه اس لئے جمهوری طریقے سے نهیں جی سکتے که وه شیعه مسلمان هیں؟!

حقیقت تو یه هے که امریکه اور سعودی عرب جیسی حکومتوں کے لئے شیعه وسنی کی کوئی اهمیت نهیں هے ورنه فلسطین مسلمانوں نے سن دوهزاچھ میں ودٹوں کے ذریعه حماس کی زیرقیادت منتخب حکومت تشکیل دی تھی مگر فلسطینی قوم کو اپنے اس اقدام کی سزا یه ملی که غزه گذشته چار برسوں سے محاصرے میں هے غزه کے عوام شیعه نهیں بلکه سنی هیں.البته اسرائیل اور امریکه کی سامراجی پالیسیوں کے مخالف ضرور هیں.بنابر این سعودی عرب جیسی حکومتوں کاکام اب صرف یه ره گیاهے که وه اسرائیل کی بقا اور امریکه کے تیل اور دیگر مفادات کی حفاظت کریں یهی ان کا دین وایمان هے.

آل سعود نے امریکه اور اسرائیل کے ساتھ ساباز کرکے حرمین الشریفین کی عزت وعظمت اورمکه مکرمه اور مدینه منوره کے وقار کو مجروح کیاهے نبی کریم(ص)کو وسیله نه بنانے والے اپنااقتدار بچانے کے لئے امریکه اور اسرائیل کو وسیله بنارهے هیں آل سعودنے اسلام اور مسلمانوں کاساتھ دینے کے بجائے همیشه سامراجی طاقتوں کا ساتھ دیا ان کی خیانت کی وجه سے فلسطین کا مسئله آج تک حل نهیں هوسکا اور مظلوم فلسطینی آج بھی اسرائیل اور امریکه کےظلم وستم کا شکارهیں.

“ابنا”نیوزایجنسی کی رپورٹ کےمطابق:آل سعودنے امریکه اور اسرئیل کے ساتھ سازباز کرکے حرمین الشریفین کی عزت وعظمت اور مکه مکرمه اور مدینه منوره کے اسلامی وقار کو مجروح کیاهے نبی کریم(ص)کو وسیله نه بنانے والے اپنااقتدار بچانے کے لئے امریکه اور اسرائیل کو وسیله بنارهے هیں عرب ممالک میں اٹھنے والی عوامی لهر امریکه اور اسرائیل نوازان عرب رهنماؤں کے خلاف هے جنهوں نے سرزمین حجاز میں اسلام کی بالادستی کے بجائے امریکه اور اسرائیل کی بالادستی قائم کرنے کے لئے اپنا تمام سرمایه صرف کیا آج آل سعودتیونس ،مصر،لبیا اور یمن میں اپنے ساتھیوں کے یکے بعد دیگرے زوال کو دیکھ کر الله تعالی کے بجائے اپنے امریکی اقاں سے مدد مانگ رهے هیں سعودی حکومت کی امریکه سے مدد مانگنے سے وهابی منحرف گروه کے نظریه کی قلعی بھی کھل گئی هے کیونکه وهابیوں کے علماکو آل سعودخاندان کی حمایت اور سرپرستی حاصل هے چنانچه اگروقت کے ساتھ مشاهده کیا جائے توسعودی بادشاهت کا دوام امریکی حمایت پراستوار هے اور مکه ومدینه کے پیش نمازوں کاتقرر آل سعود کی مرضی ومنشاکے مطابق هوتاهے جس میں امریکی مرضی ومنشابھی شامل هوتی هے اور یهی وجه هے که مکه کے امام نے آج تک امریکه اور اسرائیل کےخلاف کبھی کوئی بیان نهیں دیا.آل سعود نے اسلام اور مسلمانوں کاساتھ دینے کے بجائے همیشه سامراجی طاقتوں کا ساتھ دیا اور انهوں نے سعودی عرب میں خدا د وسائل کو امریکه اور اسرائیل کے حوالے کررکھاهے سعودی عرب اور بعض دیگر عرب ممالک کی آشکار خیانت کی وجه سے فلسطین کا مسئله آج تک حل نهیں هوسکا اور مظلوم فلسطینی آج بھی اسرائیل اور امریکه کے ظلم و ستم کا شکارهیں ،آل سعودکی حمایت کرنے والے درحقیقت وهی لوگ هیں جوامریکه اور اسرائیل کے حامی اور طرفدار هیں.

ایسے دشت هولناک میں انسان دوست صاحبان ایمان کاکیافرض بنتاهے؟!کیا آپ جانتے هیں که آپ کی یه خاموشی ظالم وجابر حکام کے ظلم و تشدد کی تائید بھی هے اور ان کی همت افزائی بھی هے!

ارشاد خداوندی هے] وعدالله المنافقین والمنافقات والکفار نارجهنم خالدین فیها هی حسبهم ولعنهم الله ولهم عذاب مقیم[ اور الله نے منافق مردوں اور عورتوں سے اور تمام کافروں سے آتش جهنم کاوعده کیا هے جس میں یه همیشه رهنے والے هیں.وهی ان کےواسطے کافی هےاور ان کےلئے همیشه رهنے والاعذاب هے.(سوره توبه/68)

]ولاتکونوا من المشرکین من الذین فرقوادینهم وکانواشیعا....[ اور خبردار مشرکین میں سے نه هوجانا،ان لوگوں میں سے جنهوں نے دین میں تفرقه پیداکیاهے اور گروهوں میں بٹ گئے هیں.(سوره روم/32/33)

]قل امرربی بالقسط واقیمواوجوهکم عندکل مسجد وادعوه مخلصینلهالدین کمابداکم تعودون [ میرے حبیب!اپنی امت سےکهه دیجئے که انصاف کو پیش نظررکھیں اوردوسروں کو بھی انصاف کا حکم دیں] قل امرربی بالقسط [ کهه دیجئے که میرے پروردگارنے انصاف کا حکم دیاهےو(سورۀ اعراف/29)

]والذین جاهدوافینالنهدینهم سبلناوان الله لمع المحسنین[اور جن لوگوں نے همارے لئے سعی کوششیں کی هم انهیں اپنے راستوں کی هدایت کریں گے اور یقینا الله حسن عمل والوں کے ساتھ هے.(سورۀعنکبوت آیت نمبر69)

آئیے !هم اپنی مقدس کتاب قرآن مجید اور اپنے نبی حضرت محمد مصطفی(ص)کے ارشادات پر عمل کرتے هوئے کفرونفاق کے خرمن باطل کوجلاکر خاک کردیں اور ان کے ظلم وبربریت کے خلاف دنیا کےهر خطه میں صدائے احتجاج بلند کریں که یهی اسلامی منشاء بھی هے که همیشه ظلم وجبر کےخلاف احتجاج کرتے رهو نه ظلم سهو اورنه ظلم کرو.جیساکه سورۀمبارکه بقره میں ارشاد باری تعالی هے که:]لاتظلمون ولاتظلمون[نه تم ظلم کروگے نه تم پر ظلم کیا جائے گا.(بقره/279)

خاتم الانبیاء حضرت ختمی مرتبت(ص) اس سلسلے میں فرماتے هیں:“سباب المسلم فسق وقتاله کفر”مسلمانوں پر سب کرنا فسق هے اور انهیں ناحق قتل کرنا کفر هے“لایقفن احدکم موقفا یقتل فیه رجل ظلما فان اللعنة تنزل علی من حفره ولم یدفع عنه”هرگزتم میں سے کو ئی ایک بھی وهاں توقف (خاموش نه رهے)نه کرے جهاں کوئی شخص نا حق قتل کیاجارهاهوبے شک(یقیناَ)ان لوگوں پر خدا کی لعنت اور اس کے غضب کا نزول هے جووهاں حاضرهوں اور اس کادفاع نه کریں.(طبرانی وبیهقی ،به سوی تفاهم صفحه257 )

اٹھو بیدار هوجاؤ که اب وقت قتال آیا تمهارے آشیانوں پر وهی پھر بدخصال آیا

هوئی پائمال جس کےظلم وشرسے حرمت کعبه مٹانے پروهی اسلام کا حسن وجمال آیا

هے زدپه حشیوں کےماں،بهن کی عصمت وعزت تمهارے درپه ظالم لئے رعب وجلال آیا

ترانور نظراے بے خبر خنجرکی زدپه هے تجھے تو عصمت خواهر کا بھی کچھ نه خیال آیا

لهوسے تیرے معصوموں کی ظالم هولیاں کھیلے توهے خاموش ،ترےلب په نه کوئی سوال آیا

بتاتوهی یه غفلت اور یه خاموشی بھلاکب تک اخوت چیختی هے اٹھ ،که وقت اتصال آیا

مسلسل خون دل آنکھوں سے جاری هےذکا جب بھی یمن،بحرین،مصر ولیبیاکا کچھ خیال آیا

ذکاماهلی

آخر میں هماری بارگاه واهب العطیات میں یه دعاهے که میرے مالک عالم اسلام کو دشمنوں کے شرسے نجات دے اور مسلمانوں کو آپس میں متحد اور منافقین پر عذاب الیم نازل فرما۔