مولانایوسف انصاری برسو

انسانی معاشروں کی ترقی میں دین کا کردار

دین اسلام ایک کا مل نظام حیات هے(أَلیَوم ُكلْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم ) جس طرح اس میں ایک انفرادی زندگی کی ترقی کے تمام ضروری احکام اور قوانین بیان کئے گئے هیں اسی طرح ایک معاشرے کی سلامتی اور ترقی کے تمام ضروری قوانین کو نه صرف بیان کیا گیا هے بلکه ان کے اجرا اور نفاذ کے لئے مسلمانوں کے اوپر ذمه داری عائد کی هے که وه اپنی فردی زندگی میں بهتری اور کمال کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے کی ترقی اور کمال میں بھی کوشاں رهیں اسی لئے جھاں مجتهدین اور علماء اسلام نے رساله عملیه میں انسان کے فردی واجبات کو بیان کیا هے وهاں تصریح کی هے ان تمام علوم و صناعات اور ٹیکنالوجیکا جوایک اسلامی معاشرے کی ترقی اور بقاء کے لئے ضروری هے

حاصل کرناواجب هے۔لیکن دور حاضر میں دین کے خلاف خصوصاَ اسلام کے خلاف استعماری اور مغربی سازشوں اور کچھ نادان لوگوں کی طرف سے دین کی غلط تصویر پیش کرنے کی وجه سے جیسے دین سیاست سے جدا هے یادین اجتماعی مسائل میں مداخلت نهیں کرتا، یادین صرف مخصوص اعمال جیسے نماز،روزه، حج اور عزاداری کرنے کا نام هے بعض اوقات عوام کے ذهن میں یه سوال اٹھتا هے که دین انسانی معاشرے کی ترقی میں کیا کردار ادا کرسکتا هے اور اس کے پاس اس کے لیے کیا منصوبه هے اور اس کو کس طرح عملی جامه پهنا یاجاسکتا هے؟

اس مختصر تحریر کا مقصد ان سوالوں کا جواب دیناهے .ان سوالوں کے جواب سے پهلے ضروری هے که همیں یه معلوم هونا چاهے که انسانی معاشرے کی ترقی کسے کهتے هیں؟ اور ایک ترقی یافته معاشرے کی کیا نشانی هے؟

تاکه اس تعریف کو سامنے رکھتے هوئے هم دین کے دیئے هوئے احکام وقوانین اور معاشرتی ترقی میں اس کے کردار کےبارے میں صحیح فیصله کرسکیں اگرچه اس میں کسی مسلمان کو شک نهیں که اسلام تنها کامل نظام حیات هےاور کامل اطمینان قلبی کے ساتھ دینی احکام کو اپنے معاشروں میں نافذ کرنے کی کوشش کریں جو ایک دینی ذمه داری بھی هے.

معاشرے کی ترقی:

شهیدمطهریؒ انسانی معاشرے کی ترقی کے بارے میں یوں لکھتے هیں "ایک معاشرے کی ترقی اور کمال مختلف جهات میں تصور اور مشاهده رکی جاسکتی هے مثال کے طور پر معاشرے کا سائنس، صنعت اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرنا آج کی ترقی یافته دینا میں هرشخص اس ترقی کو مشاهده کررها هے ایک سے ایک نئی ٹیکنالوجی جوانسان کو حیران کردے منظر عام پر لائی جارہی هے.دوسری جهت جس میں انسانی معاشروں نے بهت زیاده پیشرفت اور ترقی کی هے وه علمی میدان هے.انسان نے مختلف عقلی سائنسی اورطبی علوم میں بهت زیاده ترقی کی هے اور یه ترقی مسلسل جاری هے.

تیسری جانب جس میں ایک انسانی معاشره کو ترقی کرنی چاهئے وه انسانی اقداراور اخلاق هیں دوسرے لفظوں میں انسانیت کی جهت سے ترقی کرنی چاهئے حقیقی ترقی یهی هے کیونکه دوسرے جوانب میں ترقی در حقیقت انسان کی ترقی نهیں بلکه ٹیکنالوجی اور علوم کی ترقی هے جو انسان کی مادی ترقی میں اس کی مدد کرتے ہیں نه که اس کے اخلاق اور معنوی ترقی میں بلکه افسوس کے ساتھ یه اعتراف کرنا چاهئے که آج کے معاشروں نے انسانی اقدار اور اخلاقی میدان میں ترقی نهیں بلکه تنزل کیا هے آج کے معاشرے انسانی اقدار سے خالی نظر آتے هیں. یهی وجه هے که صنعتی اور علمی میدان میں بے تحاشا ترقی کے باوجود جوچیز آج کے معاشروں میں سب سے زیاده بے قیمت هے وه خود انسان اور انسانی اقدار هیں.

ایک ترقی یافته معاشرے کی پهچان

ترقی یافته اور باکمال معاشره اسے کهتے هیں جس میں زندگی بسرکر نےوالے افراد سعادت اور کمال کی طرف گامزن هوں دوسرے لفظوں میں انسانی معاشروں کے وجود میں آنے کا اصل مقصد انسانی زندگی میں چار قسم کے روابط کو قائم کرنا هے۔

1- انسان کا اپنے پروردگار کے ساتھ رابطه

2- انسان کا عالم طبیعت حیوانات جمادات ،نباتات کے ساتھ رابطه

3- انسان کا خود اپنے ساتھ رابطه

4- انسان کا اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے ساتھ رابطه

وه معاشرے جن کے افراد میں یه چار خصوصیات پائی جائیں ان کو ترقی یافته معاشره کهتے هیں.

ترقی یافته معاشرے کی خصوصیات کو جاننے کے بعد جو پهلاا سوال هر انسان کے ذهن میں آتاهے وه یه هے که وه کن اسباب یاطریقون کے ذریعے انسان، اس سعادت کو حاصل کرسکتاهے؟

اور اسلام ان اسباب کے حصول میں کس طرح اپنے ماننے والوں کی رهنمائی کرتاهے اور اس ترقی کو یقینی بنانے کے لیےاسلام نےکیا قوا نین اور دستورات بتا ئیےهیں؟

یقینی طور پر هر انسانی معاشرے کی ترقی اور کمال میں بلکه پوری کا ئنات میں بهت سارےاسباب میں سبب و مسبب کاقانون جاری هےاور یه قانون الهی هے جس کو کوئی بھی تبدیل نهیں کرسکتا ۔*ُ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلا *(فتح،23) پروردگارنے اپنے بندوں کو ان اسباب سے آگاه کرنے اور ان کو اجراکرنے کے لیے رسولوں اور کتابوں کا سلسلہ جاری کیا تاکه وه انسانوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی کریں* هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آياتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ إِنْ كانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِين*(جمعه،2)

انسانی معاشروں کی ترقی کے اسباب

1- انسانی معاشروں کی ترقی میں انبیاء (ص)کا کردار۔

انسانی معاشروں کی ترقی کے اسباب میں سے ایک اهم ترین سبب وحی الهی هے انسانی تاریخ اس بات پر گواه هے که قوموں نے انبیائے الهی کی تعلیمات کے سائے میں ترقی کی منازل طے کی ہیں قرآن کی بهت سی آیات نے انبیاء (ص) جیسے حضرت سلیمان ، حضرت موسی اور حضرت محمد صلی الله علیه وآله وسلم کے واقعات کے ضمن میں همیں آگاه کیاہے اور همیں اس بات کی طرف متوجه کیا هے که سعادت حقیقی صرف الله و رسول کی اطاعت سے حاصل هوسکتی هے اور صرف مومنین اهل سعادت و خوشبخت هیں اور کافرین اور مشرکین گمراهی اور ضلالت میں هے اور ان کی عاقبت بھی خراب هے، قرآن نے الله و رسول کی اطاعت کرنے کی صورت میں مومنین کی سعادت و ترقی کی ضمانت بھی دی هے.*وَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً قَرْيَةً كانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيها رِزْقُها رَغَداً مِنْ كُلِّ مَكان*(نحل112)*وَ لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرى‏ آمَنُوا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَ الْأَرْض*(اعراف،97)

2- علم و ثقافت

ثقافت آگاهی ،اعتقادات اخلاق هنر ،آداب ورسوم اور هر قسم کی قابلیت -جس کو انسان ایک معاشرے کا عضو بننے کے لیے حاصل کرتاهے اور اس کے مطابق اپنی فردی اور معاشرتی زندگی کو بسر کرتاهے -کے مجموعه کوثقافت کهتے هیں۔

اس معیار کی ثقافت ایک معاشرے کی ترقی اور کمال میں بنیادی کردار ادا کرتی هے ۔

اسلامی نقطہ نظر سے جوچیز انسانی زندگی کو حیوانی زندگی سے جدا کرتی هے، وه ثقافت هے کیونکه ان چیزوں اور قابلیتوں کے ذریعے انسان کو فردی اور اجتماعی زندگی میں پیشرفت اور ترقی حاصل هوتی هے اور جومعاشرے اس ثقافت سے خالی هوتے هیں وه انحطاط اور زوال کا شکار هوجاتے هیں قرآن ایسے معاشرے کے بارے یوں فرماتاهے:

*لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِها وَ لَهُمْ أَعْيُنٌ لا يُبْصِرُونَ بِها وَ لَهُمْ آذانٌ لا يَسْمَعُونَ بِها أُولئِكَ كَالْأَنْعامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولئِكَ هُمُ الْغافِلُونَ*(اعراف،179) اعلی ثقافتیں هیں جوباکمال افراد اور معاشروں کو بناتی هیں اس لیے اسلام اپنے ماننے والوں کو نئے علوم و فنون حاصل کرنے پر ابھارتاهے اور انهیں غیر اسلامی ثقافتوں سے اجتناب کرنے کا حکم دیتاهے.

3- وحدت

لوگوں کے درمیان وحدت ،معاشرے کی سربلندی اور آپس میں اختلاف ،معاشرے کے زوال کا سبب بنتے هیں،اسی لیے تعلیمات دینی میں وحدت و اتحادکو معاشرے کی عزت و سربلندی اور ایک دوسرے کے ساتھ نزاع اور اختلاف کو ذلت و رسوائی کا سبب قرار دیاگیاهے.

دین، انسانی معاشروں سے مصنوعی اور بناوٹی وحدت کوجورنگ ،زبان،قوم اور زمین کی بنیاد پر هوتی هے کو ختم کرکے ان میں حقیقی وحدت قائم کرتاهے، جس کی اساس خداپر ایمان و تقوی اور عمل صالح هیں* يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْناكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنْثى‏ وَ جَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُم*(حجرات،13) توحید و عدل کے بعد سب سے اهم اجتماعی نعمت،وحدت هے قرآن مومنین کو اس طرح اس نعمت کی طرف متوجه کرتاهے .* وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْداءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْواناً*(آل عمران،102) معاشرے میں اتحاد کی راه میں ایک اهم رکاوٹ اعتقادی ،سیاسی اور اجتماعی مسائل میں مختلف آراء اور مختلف نظریات هیں جنکی وجه سے اختلافات پیداهوتے هیں اور لوگوں کی استعدادضایع هوتی هے اسلیے خداوندمتعال نے انبیاء کے همراه آسمانی کتابیں بھیجی تاکه لوگوں کو صحیح اور راه مستقم کی طرف هدایت کرے اور انهیں اس اختلاف اور اس کےنتیجے میں هونے والی هلاکت سے نجات دے.* وَ ما أَنْزَلْنا عَلَيْكَ الْكِتابَ إِلاَّ لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَ هُدىً وَ رَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُون*(نحل 64)

عدالت

معاشروں کی ترقی کے اسباب میں سے ایک سبب عدالت کا قیام هے اور ظلم سے پرهیز هے اسلام مسلمانوں کودستور دیتا هے که زندگی کے تمام شعبوں میں چاهیے وه فردی زندگی هو یا گھریلویا اجتماعی زندگی،عدالت کو اجراء کرے اور اس کی حفاظت کرے.اس لیے دین کسی قسم کےظلم ،وخیانت اور ایذاء رسانی کو پسند نهیں کرتا اور دین کا واضح اعلان هے که*إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَماناتِ إِلى‏ أَهْلِها وَ إِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْل*(نساء58)

قانون کی رعایت

انسان کا اجتماعی زندگی میں ترقی کرنامسلّم الثبوت امرهے لیکن جوچیز توجه کی طالب هے وه انسان کا طرزحیات هے اور یهیں سے قانوں کی ضرورت محسوس هوتی هے اور تمام انسان چاهے کافر هوں یا موحد ،اجتماعی زندگی بسر کرتے هیں لیکن انکو اپنی ضروریات پوری کرنے اور ترقی کے لیے قانون کی ضرورت هےاور الله تعالی نے اپنے انبیاء کے زریعے ایسے قوانین بھیجے جسکے نتیجے میں انسانی معاشره ترقی کی طرف بڑھتا هے اس کے مقابله میں انسان کے بنائے هوئے قوانین کتنے هی جدید کیوں نه هوں قوانین الهی جیسےنهیں هو سکتے کیوں انسان کا علم اوراسکی معلومات خدا کے علم کے مقابلے میں ناقص اور محدود هیں، لهذا اس کابنایا هوا قانون بھی ناقص اور محدود هے.اسلام نه صرف قانوں کی حرمت کو محفوظ رکھنے کا حکم دیتاهے.بلکه تمام مسلمانوں کو قانوں کی نظر سے برابر سمجھتا هےاور قانون توڑنے والوں کے خلاف اعلان جنگ کرتاهے.

مضبوط قیادت

اس میں شک نهیں که ایک معاشرے کی ترقی کے لیے ،صرف اچھا نظام هی کافی نهیں بلکه امت کی سرپرستی کے لیے ایک مضبوط قیادت انتهائی ضروری هےجو معاشرے کوترقی کی طرف لے کر چلے اور الهی احکام وقوانین کو معاشرے میں صحیح طور سے نافذ کرے قرآن مجید کا ارشاد هے که الله تعالی مومنین کا سرپرست و راهنما هے جوان کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا هے*اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّور*(بقره،257)

خدا کےبعدمومنین کی سرپرستی رسول خدا (ص) اور ان کے بعد ائمه G اور زمانه غیبت میں علماء صالح کےذمه هے.*إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُون* (مائده 55) پیغمبر اکرم (ص) نے ابوز غفاری سے فرمایا بیشک دنیا میں حقیقی رهبر متقی اور پرهیزگار لوگ هیں، معاشرے میں وحدت کی برقراری، عدالت کا اجراعلم و ثقافت کا فروغ یه تمام چیزیں صالح رهبر کے بغیر ممکن نهیں هیں۔

صبر و استقامت

جس طرح ایک معاشرے کو ترقی راه میں موجود اقتصادی ، اجتماعی،و سیاسی مشکلات کی چاره جوئی اور ان کا مناسب حل ضروری هے وهاں اس راه میں آنے والے مصائب اور سختیوں کے مقابلے میں صبر و استقامت کا هونا بھی ضروری هے.

انسانی زندگی میں کامیابی اور ترقی صبر هی کی وجه سے حاصل هوتی هے اور نا کامی اور انحطاط بےصبری اور عجلت کا نتیجه هوتاهے.

*وَ لَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكانَ خَيْراً لَهُم*(حجرات،5)(وان تصدقوا خیرلکم) جس معاشرے کے لوگ صابر اور متقی هوں الله تعالی ان کی ملائکه کےذریعے مدد کرتا هے.

*بَلى‏ إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا وَ يَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هذا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُسَوِّمِين*(آل عمران،125)

محبت اور دلوں کاملاپ:

انسان فطری طورپر کمال کوپسند کرتاهے اور اجتماعی زندگی گذارنا اس کی طبعیت اور جبلّت میں هے اور یه دونوں چیزیں ایک معاشرے کے افراد کے لیے اس وقت میسر هوتی هیں جب انکے دل آپس میں جڑے هوئے هوں اور ایک دوسرے سے محبت کرتے هوں کیونکه انسان کو کمال اس وقت حاصل هوتاهے جب وه اپنے اندر موجود چھپی صلاحیتوں کو معاشرے میں رهتے هوئےبروئے کار لائے اور اگر معاشرے کےافراد کے درمیاں باهمی الفت نه هو تو پھر انسان کو ان پوشیده صلاحیتوں کو بروئے کار لانےکا موقع نهیں ملتا اور نه هی اس کی زندگی میں کمال و ترقی آتی هےاور دلوں کو جوڑنا آسان کام نهیں یه کام صرف دین هی کرسکتاهے اسی لیے الله تعالی نے مومنین کو اس بڑی نعمت کی طرف توجه دلائی که اگر الله تعالی جوایمان کے ذریعے تمهارے دلوں کو نه جوڑتا تو تمهارے دل کبھی بھی آپس میں نه جڑتے چاهیے اس کے لیے ساری دنیا کی دولت هی کیون نه خرچ کردی جاتی .* وَ أَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ ما فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً ما أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَ لكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيم*(انفال،63)

امربالمعروف و نهی عن المنکر

اچھائی کا حکم اور برائی سے روکنا معاشرے کی ترقی اور اس کو انحراف اور انحطاط سے روکنے کا ایک موثر طریقه نیکی کا حکم کرنا اور برائیوں سے روکنا هے جن معاشروں میں اس اجتماعی و دینی فریضه کو ترک کردیاجائے وه معاشرے هلاکت اور گمراهی کا شکار هوجاتے هیں.لهذا تعلیمات اسلامی میں اس

عمومی فریضه پر بهت زیاده تاکید کی گئی هےاور اسلام نے اس کو کامیابی اور سعادت کی کنجی قرار دیا هے *كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَر*(آل عمران،110) اگر آج مسلمان اسلام کے بتائے هوئے ان اصولوں کی پابندی کرے اور ان کو اپنے معاشروں میں نافذ کرے تو یقینی طور پر اسلامی معاشرے ترقی کی راه پر گامزن هوسکتے ہیں.

* هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى‏ وَ دِينِ الْحَِّق لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُون*(توبه،33) وسلام .