مولانااحمدعلی بلاغی تھوینہ

آج کی دنیا کو ولایت فقیہ کی ضرورت

مقدمہ

ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی حکومت کے قیام کے بعد اسلام کےدشمن اپنی پوری طاقت ،قدرت اور حکومت کو بروئے کار لانےکے بعد اس نتیجہ پر پھنچے کہ اسلامی حکومت سے مقابلہ کے لیے انقلاب کی بنیادی اور مرکزی چیز کا مطالعہ کیا جایے ،جو ولایت فقیہ ہے اور اس کو اپنے پروپیگنڈے کی تیزدھار کا نشانہ بنایا جائے ۔چنانچہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ گذشتہ سالوں سے لیکر عصر حاضر تک اسلامی حکومت اور ولایت فقیہ پر دنیا بھر سے مختلف اعتراض اور شبھات ہوتے رہتے ہیں اور اسطرح دشمن ولایت کے خلاف تمام تر جد وجھد میں مشغول ہیں اسی لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ مذکورہ مسائل کے بارے میں تفصیل سےبحث کی جائے تا کہ اس حکومت کی نظری اور فکری بنادیں عوام اور بالخصوص نسل جوان کے لئے واضح و روشن ہوجائیں ۔جیسا کہ میں نے مجلہ" لمستن "کی شمارہ ۳ میں ولایت فقیہ کی موضوع پر بحث کیا تھا اب اسی بحث کا ادامہ کچھ جوابات کی شکل میں دے رہا ہوں۔

فقہ کے لغوی معنی: فقہ عربی زبان کا لفظ ہے جسکے لفظی معنی سیکھنے اور سمجھنے کے ہیں (ابن فارس،معجم المقاییس اللغت ج۴/ص۴۴۲) چاہے یہ معنی دین سے مربوط ہو یا کسی اور چیزسے فرق نہیں کرتا ۔لیکن لسان العرب میں فقہ کا معنی:ایسا علم ہے جو دقت و استدلال کے ساتھ ہو۔(ابن منظور لسان العرب ج۵/س۳۰۵)

فقہ کے اصطلاحی معنی: علوم دین اور احکام الھی میں ایسا دقیق علم و آگاھی کا رکھنا کہ جس کو استنباط کےوقت ادلہ تفصیلی کے ساتھ پیش کرنے کی قدرت رکھتا ہو(ادلہ تفصیلی سے مراد قرآن،حدیث ،عقل اور اجماع) ہے۔

الف: فقہ :اسلامی علوم میں ایک ایساعلم ہے جسکا معنی احکام شرعی پر استنباط اور اجتھاد کی راہ سے علم رکھنا ہے۔(سید احمد زادہ،مطفی،رابطہ فقہ وحقوق)۔

ب:فقیہ :وہ شخص ہے جو اسلامی علوم کا متخصص ہو تا ہے اور احکام الھی کو قرآن و سنت کی روشنی سے ثابت کرتا ہے۔آیت اللہ جواد آملی کہتے ہیں کہ ولایت فقیہ کی بحث میں فقیہ سے مراد وہ شخص فقیہ ہے جو جامع الشرایط کا حامل ہو نہ کہ وہ شخص جس نے فقہ پڑھا ہو۔فقیہ جامع الشرایط کا حامل ہونا ضروری ہے (اجتھاد مطلق) (عدالت مطلق) (قدرت و مدیریت و استعداد رہبری)یعنی فقیہ ایسا ہو کہ وہ اسلام کے تمام احکام کو بہت دقیق و عمیق ،استدلال اور دلیل کے ساتھ جانتا ہو۔اور تمام حالات میں حدود اور قانون خداوند کی رعایت کرتا ہو اور کسی بھی صورت میں اس قانون کی مخالفت نہ کرتا ہو اور ساتھ ساتھ یہ استعداد اور توانائی بھی رکھتا ہو کہ وہ ملک کی مدیریت کرسکے ۔فقیہ کو چاہیے کہ وہ اجتھاد اور عدالت مطلق کے علاوہ پہلےبیرون ملک کے تمام سیاسی اور اجتماعی امور میں صحیح اور سالم فکر و دانش رکھتا ہو دوسرےصحیح مدیریت اور ہنر مدیریت رکھتا ہو اس لئے کہ مدیر اور مربی ہونا بغیر علم و فکراور بینش سیاسی ۔ایک قسم کا ہنر ہے کہ ہر کوئی اس ہنر کو نہیں رکھتا ہے شاید اسلام شناسی کے شروط کسی میں پائے جائیں لیکن وہ مدیریت اجتماعی کے صحیح لوازمات کو مانند امام خمینی نہ رکھتا ہو۔اس بناپر یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ ہر عادل فقیہ جامعہ کی رہبری کی صلاحیت رکھتا ہے۔بلکہ علمی توانا ئی کے شروط کے ساتھ ساتھ حکومت داری کی استعداد بھی پا یا جائے۔[آیۃ ا۔۔۔ جواد آملی ولایت فقیہ ولایت فقاہت و عدالت ص ۱۴۰،۱۳۹،۱۳۸]

ج۔ولایت فقیہ کی تعریف : حکومت ،زعامت اور مسلمانوں کے اجتماعی اور سیاسی امور کو بروئےکارلانے کیلے مسلمانوں کے علماء دین اور عادل فقہا کی حکمرانی کی ضرورت ہے کہ وہ مسلمانوں کے مصالح و مفاسد کو مدنظر رکھتے ہوئےاسلامی مقرارات کو عملی جامہ پہنائے کہ جسکو ولایت فقیہ کہتے ہیں۔

د۔ولایت: عربی زباں کا لفظ ہے کہ جسکو کلمہ[ ولی] سے لیا گیا ہے [ ولی] کے معنی عربی زبان میں دو چیز یا چندچیزوں کے درمیان قرب اور اتصال کو کہا جاتا ہے ۔اس بنا پر جب دو چیزوں کے درمیان عمیق پیوند لگ جائے تب ولایت وجود میں آتی ہے اس بنا پر یہ کلمہ مختلف شکلوں میں دوستی،نصرت،مدد پیروی اور سرپرستی کے معنی میں استعمال ہوا ہے کہ ان تمام معنی کا وجہ اشتراک قرب معنوی ہےکلمہ ولایت جو ولایت فقیہ کے بحث میں استعمال کیا جاتا ہے اس سےمراد سرپرستی کہ ہے اس کے کچھ اقسام ہیں۔

ولایت تکوینی : اسکا مطلب موجودات اور امور تکوین میں تصرف کرنا ہے اوریہ ولایت فقط خداوند سے مخصوص ہے ۔اصل پیدایش،تغییرات اور موجودات کی بقاء خدا کے ہاتھ میں ہے اور سب ارادہ و قدرت الھی کے تحت باقی ہیں اور خدا نے اس طرح کی ولایت کو اپنے بعض بندوں کو عطا کیا ہے جیسے پیمبروں اور اولیاء الھی کے معجزات و کرامات۔ایسی ولایت ولایت تکوینی کے آثار میں سے ہے اور حقیقت میں اس طرح کی ولایت علت اور معلول کے درمیان محقق ہوتی ہے۔اس بناپر ہر علت اپنے معلول کیلے ولی ہے وہ مفہوم جو ولایت فقیہ میں مطرح ہے اس سے مراد ولایت تکوینی نہیں ہے۔

۲۔ولایت تشریعی اوراسکی ا قسام :

۱:ولایت برقانون گزاری: توحید ربوبی کے مطابق ہر وہ قانون جسکو خدا سے نسبت نہ دی جائے شریعت میں شرک مانا جاتا ہے ان الحکم الا للہ اور فقط اسکو قانون بنانے کا حق ہے جو خدا کی جانب سے ہو۔جیسے پیغمبر اور ا مامCقرآن میں آیا ہوا ہے کہ وما ینطق عن الھوی ۔۔۔۔امام صادق ؑ فرماتے ہیں اس بنا پر ہمارے آئمہ Gبھی نبوت کے حامل تھے اور رسول اسلام [صلی اللہ علیہ و آلہ والسلم] کی تعلیمات و تربیت اور روح القدس کی تائید کے مطابق یہ لوگ ضروری علم کو رکھتے تھے اور احکام الھی پر ولایت رکھتے تھے۔اور خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کے مطابق زمانہ کے اوضاع اور احوال کے مطابق احکام خدا وند کو بیان کرتے تھے۔ زمانہ غیبت امام زمانہ(عج)میں فقیہ جوجامع الشرائط ہے اور کتاب و سنت کا علم رکھتا ہواور زمانہ کے احوال واوضاع سے بھی آگاہ ہو ، زمان و مکان کی ضرورتوں کی تشخیص بھی دیتا ہو ، تقوی الھی کا مالک بھی ہواور معصومین ؑکی جانب سے اجازت ملی ہوئی ہوکہ قوانین شریعت میں اسلام کی تعلیمات اور جامعہ کے مصالح کے مطابق کم و بیش کرسکے۔اس طرح کی ولایت فقیہ جامع الشرایط کے لئے ولایت تشریعی اور حاکمیت خداوند سے کوئی منا فات نہیں رکھتا ہے بلکہ ربوبیت خدا وند کی شان میں سے ہے۔

۲: زعامت و رھبری :اسلامی نقطہ نظر سے انسان جو خدا کو مانتا ہے۔اسکو چاہئے کسی فرد یا گروہ سے حکم حاصل نہ کرے اور کسی کو اپنا ولی اور سرپرست نہ بنائے اور بغیر چون و چرا اسکا مطیع نہ ہو قرآن اس بارے میں فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے علما ءاور راہبوں کو اپنایا اور مسیح مریم کے بیٹے کو خدا کے بدلے خدا بنایا ہے درحالیکہ ان کو غیر خدا کی عبادت کرنے کا حق نہ تھا کہ خدا کے سواء کوئی خدا نہیں ہے۔خدا پاک و پاکیزہ ہے اس چیز سے جسکے یہ لوگ شریک قرار دیتے ہیں مگر یہ کہ خدا وند نےاسکو اس طرح کا حق عطا کیا ہے۔قرآن میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) ؤمنین کے سرپرست ہیں اور اسی طرح فرمایا ہے کہ :تمہارا ولی اور سرپرست فقط خدا اور رسول ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں اور حالت رکوع میں ذکات دیتے ہیں۔ان آیات کے مطابق خدا وند نے ولایت اور مدیریت و تنظیم جامعہ کیلے پیغمبر اسلام آئمہ اطھار (ع)کو انتخاب کیا ہے اور تنھا یہ حضرات ہیں جو جامعہ اسلامی کے سیاسی اور دینی زعامت داری اور حاکمیت کا حق رکھتے ہیں اور یہ قدرت کو ہاتھ میں لیں۔اور یہ ولایت آئمہ اطھار (ع)کی جانب سے واجدالشرایط فقہا کو عطا کی گئی ہے جو مختلف دلایل سے ثابت ہوتی ہے ۔اور یہ فقھا معصومین (ع)کے نائب اورجانشین ہیں کہ یہ لوگ قانون گزاری کے ساتھ ساتھ ولایت اور رہبری جامعہ اسلامی میں اگر ان میں وہ جانشین کے شرایط پاتے جاتے ہوں جامعہ اسلامی کے سرپرست اور تنظیم اجتماعی کے رہبر ہیں۔پس ان مطالب پر توجہ رکھتے ہوئے۔تعریف اس طرح ہونی چاہیئے کہ اسلامی معاشرہ میں جامع الشرائط فقیہ کی ولایت و حاکمیت کو "ولایت فقیہ"کہا جاتا ہے۔

اس مطلب کو واضح کرنے میں دو نکتہ کی جانب توجہ رکھنا ضروری ہے۔

الف:جامعہ اسلامی میں سیاسی ولایت اور سرپرستی کی کیا ضروررت ہے؟

ب۔جامعہ اسلامی میں اس سیاسی ولایت کو جامع الشرایط فقیہ کیلے کیوں قرار دیا گیا ہے؟

جواب :جامعہ بشریت میں اس لحاظ سے کہ یہ افراد اور منافع ،عقاید ، اخلاق اورمختلف سلیقوں پر مشتمل ہے اس بنا پر حکومت کی شدید ضرورت ہے۔جامعہ بشریت چاہے جتنا بھی چھوٹا ہو مانند ایک خاندان یا قبیلہ یا ایک گاوں کے ہے،وہاں بھی نظام اور ریاست کی ضرورت ہے۔منفعت کی ہوس نے لوگوں میں اور معاشرہ میں بدنظمی اور بد امنی کیوں رواج دیا ہے کہ اس منفعت کو حاصل کرنے کیلےلوگ مختلف راستہ بنا لیتے ہیں یہ بد نظمی اور نا امنی اس بات کی دلیل ہے کہ معاشرہ بغیر حکومت کے چل نہیں سکتا ہے اور بغیر سیاسی اقتدار اور قدرت کے پروگرام بنا نہیں سکتے اور امر و نھی و غیرہ نہیں کرسکتے۔اور اسکو باقی بھی نہیں رکھ سکتے امام علی(ع)اور ان کے چاہنے والے، خوارج کے مد مقابل شعار لا حکم الا للہ کا نعرہ بھی دے رہے تھے اور حکومت غیر اسلامی کی نفی کے ساتھ ساتھ حکومت مستقیم کے مدعی بھی تھے کہ امام فرماتے ہیں:انہ لا بد للناس من امیر براو فاجر بجمل فی امر ئتہ ائمومن[نھج البلاغہ خ۴۰]لوگوں کو حاکم کی اشد ضرورت ہے چاہے وہ نیکو کار ہو یا بدکردار یا حکومت کو ایک مردمؤمن چلائے۔ولایت سیاسی کا راز انسانوں کے نقص و ضعف میں مخفی ہیں بلکے نقص اور ضعف انسانی معاشرہ میں ہے اسی بنا پر اگر کسی معاشرہ میں حکومت کی باگ ڈور ایک لائق اور حق شناس کے ہاتھ نہ آئے تب بھی حکومت اور ایسی ولایت کی ضرورت ہے چونکہ کچھ ایسے کام بھی ہیں جو معاشرہ سے مربوط ہیں ۔اسی لئے عمومی سطح پر پروگرامنگ اور آیندہ سازی کیلئے لائحہ عمل کی ضرورت ہے ۔فرد اگر فرد ہونے کے لحاظ سے ان کاموں میں اپنی کوئی رائے قائم نہیں کرسکتا ۔سیاسی نظریات میں اختلاف جیسے طریقہ توزیع قدرت ،صاحبان قدرت کی شرائط ،کیسے سیاسی قدرت کو آشکار کرے ،لوگوں کا عکس العمل صاحبان قدرت کے مدمقابل،وغیرہ ہے۔درحالیکہ جامعہ بشری کوسیاسی ولایت و زعامت کی ضرورت ہے اس میں سب کی اتفاق نظر ضروری ہے لیکن شیعوں کے سیاسی افکار میں عصر غیبت کے بعد اسی ولایت کو جامع الشرائط فقیہ کو عطا کیا گیاہے۔اس بنا پر حکومت کی ذمہ داری شریعت کو مسلمانوں کی زندگی کے تمام مراحل میں عملی کرے ۔حکومت دینی کی ذمہ داری فقط امنیت اور رفاہ دینا نہیں ہے بلکہ معاشرہ کے روابط اوراصول اور احکام اسلام کے مطابق ہونا چاہئے۔کیوںکہ ضروری ہے کہ جامعہ اسلامی کے مدیر کو۔مدیریت کرتے وقت صلاحیت کافی کا مالک ہونا چاہئے۔اور لوگوں میں سب سے زیادہ احکام الهی میں فقاهت اور سیاسی واجتماعی کاموں میں علم رکھتا ہو۔ امام علی ؑفرماتے ہیں: ایھا الناس ان احق الناس بھذا الامراقواھم علیہ و اعلمھم بامر اللہ فیہ(نہج البلاغہ خ 173)]اے لوگو! بہترین اور شایستہ ترین شخص خلافت کیلے وہ ہے جو سب سے زیادہ توانا اورفرمان خدا میں دانا تر ہوں۔

نتیجہ: ان مطالب میں بیان ہوا کہ اسلامی معاشرہ کو زعامت کی ضرورت ہے ۔بالکل ویسے ہی جیسے دوسرے معاشروں کو ضرورت ہوتی ہے تا کہ اپنے نقص اور کمی کو دور کرسکے اور جامعہ میں نظم ،امنیت ،رفاہ آسایش فراھم کرسکے۔اور اسلامی حکومت میں یہ ولایت اور رہبری ایک جامع الشرائط فقیہ کو دی جاتی ہے چونکہ معاشرہ اسلامی کی مدیریت میں اسلام شناس کے ساتھ ساتھ فقہ شناس کا بھی بہت بڑا دخل ہے اور جس شخص میں یہ صفات پائی جائیں اسکو ولایت اورحکومت اسلامی کا حق دیا جاتا ہے۔

والحمد اللہ رب العالمین۔