(باقر علی اخلاقی پشکم)

عاشورا خلقت کا راز

محرم کا دسواں دن ـ جو عاشورا کہلاتا ہے ـ اسلامی تہذیب میں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق عزاداری، سوگواری اور ماتم  کا عظیم ترین دن ہے۔

دس محرم سنہ 61 ہجری (بمطابق اکتوبر 680 عیسوی) میں اہل بیت رسول اللہ ﷺ پر عظیم ترین مصیبت وارد ہوئی اور فرزند رسول امام حسین بن علیCنےاپنے خاندان، انصار و اعوان کے ایک سو سے زائد افراد کے ہمراہ نہایت دردناک اور دلدوز انداز

سے جام شہادت نوش کیا۔ امام حسین C جو کوفہ کے عوام کی دعوت پر اس شہر کے مقصد سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے تا کہ کوفیوں کی مدد سے ظلم و جور کی بیخ کنی کریں کوفہ پہنچنے سے قبل ہی اس شہر کے باشندوں کی عہدشکنی کے نتیجے میں کربلا کے مقام پر یزیدی لشکر کے نرغےمیں آگئے۔

 

امام حسین ؑ اور آپ ؑ کے خاندان و اصحاب و انصار نے ظلم و فساد و فسق و فجور کی حکمرانی کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا اور غاصب و ظالم یزیدی ملوکیت کی بیعت سے انکار کیا تو یزیدیوں نے خاندان  و انصار رسول ﷺ پر پانی بند کردیا اور امام حسین C اورانکے آل و اصحاب تشنہ لب ہوتے ہوئے مظلومانہ طریقے سے شہید ہوئے مگر ان کی شجاعت و دلیری اور جوانمردی و جانفشانی تاریخ کے ماتھے پر نقش ہوگئی۔

ظلمت و شقاوت کی فوجیں سیدانیوں اور بچوں اور بڑوں کو ـ جو کربلا میں شہید نہیں ہوئے تھے ـ اسیر بنا کر کوفہ و شام کی جانب لے گئيں تا کہ اہل کوفہ و شام کو اپنی فتحمندی جتائیں مگر یہی عمل یزیدی حکمرانوں کی شکست و بدنامی کی اساس ثابت ہوا۔

عاشورا ؛ انبیاء اور صالحین کی سوگواری کا دن عاشورا کی مصیبت اتنی عظیم اور کربلا کی داستان اتنی المناک و سوزناک ہے کہ نہ صرف اس واقعے کے بعد بلکہ اس سے قبل بھی انبیاء C و صالحین اور بزرگوں نے اس واقعے کی یاد میں گریہ و بکاء اور سوگواری و عزاداری کا اہتمام کیاہے۔

امام باقرCفرماتے ہیں کہ ایک روز ام المؤمنین ام سلمہ (س) پیغمبر اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں؛ دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے امام حسین C کو اپنے سینے پر بٹھا دیا ہے اور آپ ﷺ رو رہے ہیں۔

آنحضرت ﷺ نے ام سلمہ کو دیکھ کر فرمایا: اے ام سلمہ! یہ جبرائیل ہیں جو مجھے خبر دے رہے ہیں کہ [میرا] یہ فرزند قتل کیا جائیگا۔

امام صادقCنے فرمایا: "و اما يوم عاشورا فيوم اصيب فيه الحسينC صريعاً بين اصحابه واصحابه حوله صرعى عراة‏ " عاشورا اس دن کا نام ہے جب حسین C اپنے انصار و اعوان کے درمیان قتل ہوئے اور زمین پر گر گئے اور آپ C کے انصار بھی شہید ہوئے جبکہ دشمنوں کے ستم کی وجہ سے ان کے جسم پر لباس نہ تھا"۔

امام رضاCنے فرمایا: "من ‏كان عاشورا يوم مصيبته و بكائه جعل الله عز و جل يوم القيامة يوم فرحه و سروره‏ " روز عاشورا جس کسی شخص کی مصیبت اور گریہ و بکاء کا دن ہوگا خداوند متعال قیامت کو اس کی خوشی اور فرحت کا دن قرار دے گا"۔

عاشورا؛ پیروان اہل بیتC کا یوم عزا و  ماتم پيروان اہل بیت رسالت ﷺ بھی چودہ صدیوں سے اس روز کی یاد زندہ رکھتے آئے ہیں؛ اس روز سوگواری کرتے ہیں اور مجالس عزا برپا کرتے ہیں؛ عاشورا کے شہداء کے لئے گریہ و بکاء کرتے ہیں اور ( قریب سے بھی اور دور سے بھی )امام حسین C کی زیارت کرتے ہیں۔

اموی اور عباسی حکمرانوں کے تسلط کے زمانے میں ظالمین اور دشمنان اہل بیت ؑ امام حسینCکی عزاداری کے وسیع و عریض مراسم کی اجازت نہیں دیتے تھے لیکن جب بھی اور جہاں بھی شیعیان اہل بیت C طاقت و اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور جب بھی انہیں موقع ملا ہے عاشورا کے ایام میں وسیع و عریض مراسمات عزاداری کا اہتمام کرتے آئے ہیں۔

پیروان اہل بیت رسول ﷺ نے تاریخ عاشورا کے آغاز سے لے کر اب تک اس روز کے آداب کا لحاظ رکھا ہے اور آج بھی ان آداب کو پوری طرح ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے جیسے: عزاداروں اور مصیبت زدہ انسانوں کی سی حالت اختیار کرنا، عزاداری و ماتمداری، لذتوں کو ترک کرنا، کام کاج پر جانے سے اجتناب کرنا، گھر کے لئے کچھ بھی ذخیرہ نہ کرنا، سوگواری، گریہ کرنا، رلانا اور رونے کی صورت بنانا، ظہر تک کچھ بھی تناول نہ کرنا اور کچھ بھی نہ پینا (فاقہ کشی)، زیارت عاشورا بجا لانا وغیرہ...

عاشورا؛ حریت، استقامت اور مزاحمت کی علامت عاشورا ـ نہ صرف عزا و ماتم کا عظیم دن ہے ـ بلکہ صدیوں سے اب تک حق و باطل کی دائمی جنگ، دین و عقیدے کی راہ میں فداکاری اور جانبازی کے دن کی حیثیت سے مسلم اور غیر مسلم حریت پسندوں کے لئے الہام بخش اور نقش راہ ہے۔

جس طرح کہ امام حسین بن علی ؑ اپنے مختصر مگر با ایمان و شجاع انصار واصحاب اور پر شکوہ عظمت کے ساتھ بے شمار اور سنگدل یزیدی افواج کے سامنے ڈٹ گئے اور کربلا کی سرزمین کو عشق و حماسہ و حریت کے دائمی میدان میں بدل دیا، دنیا کے حریت پسند انسان بھی غاصبوں اور اہل ستم کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اپنی تعداد اور ظاہری طاقت اور وسائل کو بنیاد نہیں بناتے اور جہاد و استقامت کے وقت دشمن کی تعداد اور طاقت کو بھی خاطر میں لائے بغیر شوق و جذبۂ جہاد میں محو ہوکر لڑتے ہیں سر کٹاتے ہیں مگر کبھی جھکاتے نہیں۔

گوکہ عاشورا بھی دیگر ایام کی مانند ایک دن ہی تھا مگر اس دن کا دامن ابدیت تک پھیل گیا اور یہ دن دلوں اور ضمیروں کی اتہاہ گہرائیوں پر اس قدر اثرا انداز ہوا کہ سنہ 61 ہجری میں اس دن سے لے کر اب تک ظلم و جور اور ظالمین و ستمگروں کے خلاف امام حسینCکے نام سے سینکڑوں تحریکیں وجود میں آئی ہیں اور آتی رہیں گی۔