مقام معظم رهبری(مدظله العالی) کی شخصیت اوربیداری اسلامی میں آپکا کردار
27 اکتوبر 2011 بروزجمعرات مقام معظم رهبری(مدظله العالی) کی شخصیت  کے  مختلف پهلو پر مجمع روحانیون کرگل وله کی طرف سے ایک نشست   کا انعقاد هوا.
اس نشست میں آیت الله کعبی(  زید عزه)  نے خاص طور سےموضوع سے متعلق پر مغز  اور عمیق تقریر کی آب نےاجباری نظام حکومت کی تشریح اور تجزیه و تحلیل  کی اور مسلمان ممالک میں اسلامی بیداری کی تحریک کی آینده موقعیت پر روشنی ڈالی اور اس میں ایران اوررهبر انقلاب ایران کے کردارکو واضح کیا اور یقین کے ساتھ کها که بانی انقلاب حضرت امام  خمینیؒ اور رهبر انقلاب حضرت آیت الله خامنه ای (مد ظله العالی) کا پیغام آفاقی هو گیا هے اور اب هماری ذمه داری هے که دین محمدی ﷺکے پیغام کو دنیا میں عام کریں۔
موصوف نے اپنی تقریرمیں اسلامی بیداری کےلیے رهبر معظم کے پیغام اور راهنما اصولوں کو اس طح بیان کیا:

مولانامحمد اسحاق جنتی
عاشورا دنیا کے مفکرین کی نظر میں
کربلا کے عظیم واقعہ یعنی امام حسین (ع)کے قیام نے دنیا  بھر کے مفکرین پر جواثر ڈالا ہے وہ بہت زیادہ ہے جہاں ملک کے غیر مسلمان مفکر بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔قیام کی عظمت اور امام(ع)اور ان کے اصحاب کی عظیم فدا کاری اور ان کے اعلی صفات سبب بنے کہ دنیا بھر کے عظیم مفکر اس حماسہ عاشورا پر اظہار نظر کریں۔اگر ہم ان تمام مفکرین کی آراء کو نقل کریں تو پورے ایک کتاب خانہ کی ضرورت ہوگی کیونکہ بہت سے دانش مندوں نے [مسلم و غیر مسلم] جدا گانہ کتابیں لکھی ہیں ہم یہاں فقط چند آرا٫ مفکرین کو پیش کرینگے۔عاشورا ایک ایسا متبرک چشمہ ہے کہ جس نے تاریخ کے ہر فرد اور معاشرے کی فکری و عقیدتی تشنگی کو دور کیا ہےاور ہمیشہ کرتا رہے گا۔ عاشورا ایک ایسا مکتب ہے جو افراد کو بہتر بناتا ہے اور

مولاناعمران خان سانکو:
عاشورا میں خواتین کاکردار
مرد اور عورت دونوں معاشرہ اور جامعہ کو تشکیل دینے میں برابر کے شریک ہیں اسی طرح اس معاشرے کی حفاظت کرنے میں بھی ایک دوسرے کے محتاج ہیں فرق صرف طور و طریقے میں ہے۔معاشرہ سازی میں خواتین کا کردار دو طرح سے نمایاں ہوتا ہے
(1): پہلا کردار غیر مستقیم اور ناپیدا ہے جو اپنے بچوں کی صحیح تربیت اور شوہر کی اطاعت اور مددکرکے اداکرتی ہے۔
(2): دوسرا کردار مستقیم اور حضوری ہے جو خود سیاسی اور معاشرتی امور میں حصہ لے کر اپنی سعی و کوشش سے ادا کرتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر خواتین کا کردار مردوں کے کردار سے بڑھ کر نہیں ہے تو کم بھی نہیں وہ عظیم شخصیات جنہوں نے معاشرے میں انقلاب پیدا کیا یا علمی درجات کو طے کیا ہیں

مولاناسید عباس موسوی سلسکوٹ
عرب ممالک اور کرگل کے موجودہ حالات پر ایک اجمالی نظر
"عوام اگر شیعہ ہیں تو بحرین کے واقعات پر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی" مقام معظم رہبری"
تیونس سے شروع ہونے والی اسلامی بیداری کی لہروں  نے مصرتک پہنچتے پہنچتے طوفان کی شکل اختیار کر کے ایک طرف ان ملکوں کے آمروں اور بادشاہوں کی  نیندیں حرام کردی ہےاور دوسری طرف عبد ا۔۔۔ صالح کے سیاسی زندگی کے خاتمہ کے لئے لحظہ شماری کررہی ہیں۔اسلامی بیداری کا یہ سلسلہ صرف ان ممالک کو ہی نہیں بلکہ پورےخطّٕہ عرب کو اپنی گرفت میں لیتا جارہا ہے وہ چاہے لیبیا ہو یا بحرین،یمن ہو یا سعودی عرب،اردن ہو یاکویت کم و پیش تمام آمروں کے چہروں پر رسوائی کی تصویر صاف جھلک رہی ہے یہی وجہ ہے کہ جہان ایک طرف لیبیا میں قذافی اور اتحادی افواج کے زور آزمائی کے درمیان عام شہری اور بے گانہ افراد قتل کئے جارہے ہیں تو دوسری طرف بحرین میں آل خلیفہ کے کرائے کے قاتل مظاہرین اورنہتّے عوام پر ظلم وبربریت کی انتہا کررہے ہیں اورامریکی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے رات دن بے گناہ مسلمانوں کو خاک و خون میں نہلا کر کربلا کی یاد تاذہ کرتے ہوئے اپنے ہی عوام کے خون کی ندیاں بہارہے ہیں۔

مولانامحمد جواد حبیبی فرونہ
مودت اهل البیت (ع)
جب کبھی انسانی معاشرے کے بارے میں کسی مسئلہ پر اختلاف ہوتو اگرچہ وہ مسئلہ  سیا سی ہو یا دینی  ہمیں غور وفکر کرنا چاہئے کہ یہ مسئلہ کیا ہے در حالیکہ یہ لوگ ایک امت کی اولاد ہیں اور ایک دین کے پیر و کار ہیں انکی اجتماعی زندگی مشترک ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ کسی بھی امت گروہ یا قوم کی برتری وفضیلت ان کے علم و معرفت میں پنھان ہے۔جس کو اس جامعہ کے ادباء اور شعررااور ماہرین و مفکرین بیان کرتے ہیں چونکہ یہی لوگ ہیں جو اپنے معاشرہ کی تصویر کو بہترین انداز میں پیش کرتے ہیں اور ان کے عقاید کی صحیح تعبیر کرتے ہیں۔

مولانامحمد باقر ناصرالدین پوین
رجعت شیعه مذهب کی نظر میں
مقدمہ : مذہب اہل  بئیت (ع)کے مسلّمات اور ضروریات میں سے ایک مسئلہ "رجعت" ہے۔کہ اہل بیت (ع)سے اس سلسلہ میں بہت ہی روایات مروی ہیں اور اس مسئلہ پر بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔لیکن افسوس صد افسوس کہ یہ مسئلہ عوام کیلئے  بخوبی واضح نہیں ہوا ہے ۔صرف کچھ تعلیم یافتہ افراد ہی اس مسئلہ کو جانتے ہیں۔ دوسری جانب اہل سنت  قدیم الایام سے شیعہ مذہب اور شیعوں پر لعن و طعن کرنے کیلے اس مسئلہ کو بیان کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ ان کے بعض علما جیسے احمد امین مصری وغیرہ کا کہنا ہے کہ رجعت یہودی عقائید سے لیا گیا ہے اور  وہ اسکو ایک باطل تناسخ سے تشبیہ دیتے ہیں۔

مولاناذاکر حسین ناصری سانکو
بداکی حقیقت قران اور  سنت میں
بدا یا وهی (محو واثبات ) که همارے اعتقادات میں سے هے  اور هر مسلمانان پر واجب هے که اس پر عقیده رکهے۔
بدا اس جهت سے حایز اهمیت ھے که اگر بدا اور دیگر وه مسایل جو اس قسم کے اعتقادات هیں صحیح طور پر تفسیر نه هوں تو بهت سے مفاسد پیش آتے هیں، جیسے که بعض لوگ ان مسایل کو صحیح نه سمجهنے کی بنابر پر معتقدین بدا کو متهم کیا هے که یه  لوگ الله تعالی کو جاهل مانتے هیں اسی بنابر بدا کی حقیقت اور اسکا صحیح مفهوم روشن هونا همارے لیے بے حد ضروری هے اس مقاله مین بنده کی کوشش یه هے که بدا کا لغوی اور اصطلاحی معنی کی تفصیل کے ساتھ اس کی حقیقت کتاب اور سنت کی روشنی میں بیان هو.

مولاناعلی زمانیشلکچی

سخنان مقام معظم رهبری(مدظله العالی )امت مسلمه كے متعلق

1-امت اسلامی کا اتحاد اہم ہے

پهلا نکتہ جو رہبرنے فرمايا "ہمارے زمانے میں امت اسلامی کا اتحاد "ہے یہ اہم نکتہ ہے جس کیلئےہم نے نہ صرف انقلاب کے زمانے سے بلکہ انقلاب سے کئی برس قبل شیعہ سنی بھائيوں کے دلوں کو نزدیک کرنے اورسب کو اس اتحاد کی اہمیت سے آگاہ کرنے کی غرض سے کوششیں شروع کی ،تھیں میں نے بلوچستان میں " انقلاب سے برسوں قبل جب میں وہاں شہربدرکرکے بھیجا گياتھا " مرحوم مولوی شہداد کو (جو کہ بلوچستان کے معروف علماء میں سے تھے اور بلوچستان کے لوگ ان کو پہچانتے ہیں،فاضل شخص تھے اس زمانے میں وہ سراوان میں تھے اور میں ایرانشہرمیں تھا)پیغام بھیجا کہ آئيں موقع ہے بیٹھتے ہیں اور اہل سنت و اہل تشیع کے درمیان علمی، حقیقی ، قلبی اور واقعی اتحاد کے اصول بناتے ہیں انہوں نے بھی میری تجویزکاخیر مقدم کیا لیکن بعد میں انقلاب کے مسائل پیش آگئے،انقلاب کی کامیابی کے بعد ہم نے جو نمازجمعہ کے موضوع پر پہلی کانفرنس کی تھی اس میں مولوی شہداد سمیت اہل سنت کے بعض علماءبھی شریک تھے بحث و گفتگو ہوئي اور ان مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

سید تقی عباس رضوی

هم کب تک خاموش رهیں؟

مقالہ قبل کا ادامہ

]اقیموالدین ولاتتفرقوا فیه کبر علی المشرکین ما تدعوهم الیه[ دین کو قائم رکھو،اور دین میں اختلاف و تفرقه نه کرو تم جس چیز(دین)کی دعودت دے رهے هو وه مشرک کو بهت ناگوارلگتی هے.(شوری/13)

حضرت ختمی مرتب(ص)سے روایت هے مسلمان،مسلمان کا بھائی هے،نه اس سے خیانت کرتاهے نه اسے جھٹلاتا هے،نه اسے ذلیل کرتاهے هر مسلمان کی عزت،آبرو،مال اور جان دوسرے مسلمان پرحرام هے.(سنن الترمذی ج2ص218ط/2دارالفکربیروت 1403به تحقیق عبدالرحمن عثمان)احمدبن حنبل اپی مسند میں رسول خدا(ص)سے نقل کرتے هیں:هرمسلمان کی جان ومال وعزت وآبرو دوسرے مسلمان کے لئے محترم هے.(مسنداحمد،ج2ص360)

مولانایوسف انصاری برسو

انسانی معاشروں کی ترقی میں دین کا کردار

دین اسلام ایک کا مل نظام حیات هے(أَلیَوم ُكلْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم ) جس طرح اس میں ایک انفرادی زندگی کی ترقی کے تمام ضروری احکام اور قوانین بیان کئے گئے هیں اسی طرح ایک معاشرے کی سلامتی اور ترقی کے تمام ضروری قوانین کو نه صرف بیان کیا گیا هے بلکه ان کے اجرا اور نفاذ کے لئے مسلمانوں کے اوپر ذمه داری عائد کی هے که وه اپنی فردی زندگی میں بهتری اور کمال کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے کی ترقی اور کمال میں بھی کوشاں رهیں اسی لئے جھاں مجتهدین اور علماء اسلام نے رساله عملیه میں انسان کے فردی واجبات کو بیان کیا هے وهاں تصریح کی هے ان تمام علوم و صناعات اور ٹیکنالوجیکا جوایک اسلامی معاشرے کی ترقی اور بقاء کے لئے ضروری هے