مولانا ذاکرحسین ناصری سانکو
خاتمیت قرآن اور اسلامی دانشوروں کی نگاہ میں
مقدمہ
دین اسلام کے جاودانی ہونے کی وجہ سے شریعت اسلام کا کسی دوسرے نبی کی بعثت سے منسوخ ہونے کا احتمال ختم ہوجاتا ہے ۔لیکن یہ احتمال باقی رہتا ہے کہ کوئی ایسا نبی مبعوث ہو جو خود دین اسلام کی ترویج کرے اور اس کا مبلّغ ہو جیسے کہ گذشتہ انبیاء(ع) میں سے بہت سے ایسے تھے
اس مقالہ میں ہم کئی زاویہ سے بحث کریں گے کہ آیات قرآنی خاتمیت پر دلالت کرتی ہیں اور وہ روایات جو خاتمیت پر دلالت کرتی ہیں اور فریقین سے وارد ہوئی ہیں اور آخر میں راز خاتمیت یعنی خاتمیت کیوں ؟ در حالیکہ ہم  ان پیغمبروں کی طرف محتاج ہیں اس بارے میں علماء اور متفکرین نے کچھ وجوہات بتائے ہیں ان وجوہات کو ذکر کرکے  اس مقالہ کو اختتام تک پہنچائیں گے۔

مولانامحمد جواد حبیبی

آج کی دنیا کو اسلام کی ضرورت

بیشک اسلام ایک نظام زندگی ہے۔ جس پر عمل کرنے سے انسان سعادت و کمال پر پہونچ سکتا ہے ۔ اسلام انسانوں کے فطرت اور غریزہ کےمطابق ہے اور اسی حساب سےوہ انسانوں کو صحیح راستہ کی ہدایت کرتا ہے کہ جس کی ہدایت نے آج تک لوگوں کو ہر طرح کے خوف و خطر سے بچا کے امن و امان کی دنیا میں قدم رکھوایا ہے۔

مولاناایوب صابری براکو

دین اور انسان

اس دنیا میں انسان کو زندگی گذارنے کے لئے ایک قانون کی ضرورت ہے جو اس کو صحیح اور بہترین طریقہ سے زندگی کے تمام مشکلات میں مدد کرےبیشک دین ایک فطری شئے ہے اور اسی فطرت پر خدا نے انسانوں کو خلق کیا ہے۔ دین انسان کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا آنکھوں کے لئے نور و بصیرت, یا جیسےجسم کے لئے روح ضروری ہوتی ہے ۔

مولاناحسنین مفسری مادیل کرکت چھو

غیبت کرنے والوں کا سر انجام

غیبت یعنی کسی کے پیٹ پیچھے بُرائی کرنااگر وہ بُرائی اس میں موجود ہے تو وہ غیبت ہے اور اگر نہیں ہے تو وہ بہتان ہے[فیرروز الغات]

ایک دوسرے کے پیٹ پیچھے برائی کرنے سے آپس میں جو بھائی چارگی ہے وہ ختم ہوجاتی ہے ۔غیبت کرنے سے دوسرے افراد کے اندرپایا جانے والا ضعف نمایاں اور اس کی موجودہ برائیاں ظاہر ہوتی ہیں ۔جس سے اس کی آبرو ریزی ہوتی ہے ۔ اور ہرانسان کےلئے ا س کی عزت و آبرو بہت عزیز ہوتی ہے اگر معاشرے میں کسی کی عزت ایک بار چلی جائے تو زندگی بھر کوشش کرنے کے بعد بھی واپس نہیں آتی ۔ عزت ایک ایسی گرانقدر شئے ہے جو بہت مشکل سے حاصل ہوتی ہے لیکن جب انسان اسے گنوانے پر کمر بستہ ہوتا ہے تو پل بھر میں گنواں دیتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے انسان کیچھپی ہوئے بُرائیوںکو آشکار کرتاہے

مولانامصطفی اخلاقی کاکسر

انسان قرآن کی نظر میں

قرآن کریم کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم نے جس چیز کو بیان کیا ہے اس شئے کے تمام پہلووں [مادی,معنوی اور فطری] پر روشنی ڈالی ہے ۔ نیز بنی نوع انسان کا بھی جو تذکرہ قرآن میں آیا ہے اسے بھی پروردگار نے ہر زاویہ [مادی,معنوی اور فطری] سے بیان کیا ہے۔ اگر چہ انسان بذات خود یہ نہیں جانتا ہے کہ اس کا خدا اور مخلوق سے کیا رابطہ ہے, وہ کہاں سے آیا ہے اور اسےکہاں جاناہے۔ قرآن کی انسان شناسی,دیگر مقدس کتب کی انسان شناسی سے مختلف اور ممتاز ہے۔ جس کے شواہد قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات ہیں۔

مولانامحمد مسلم فرونہ

انسان پر انسان کی خدا ئی:

 

دنیا میں فتنہ کی اصلی جڑ اور فساد کا اصلی سر چشمہ انسان پر انسان کی خدا ئی ہے۔ اسی سے تمام برائیوں کی ابتدا ہوئی ہے ۔ آج بھی یہ فتنہ و فساد پوری دنیا میں ایک وباء کی طرح سرایت کررہی ہے۔ جس سے اب کوئی بچ نہیں سکتا ہے۔ کہیں ایک قوم دوسری قوم کے لئے خدا ہے تو کہیں ایک طبقہ دوسرے طبقوں کا خدا ہے۔ کہیں ایک پارٹی نے الہٰیت اور ربوبیت کے مقام پر قبضہ کر رکھا ہے۔کہیں قومی ریاست خدا ئی کے مقام پر کھڑی ہے ۔ اور کہیں کوئی انا ربکم الاعلی کی آواز بلند کررہاہے ۔

اکسٹرمزم سے لبرلزم تک

تحریر: ایس ایم شاہ


اسلام زندگی کے ہر شعبے میں میانہ روی کی تلقین کرتا ہے، خواہ اس کا تعلق انسان کی انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے، اعتقادات کا معاملہ ہو یا اخلاق و فقہ کے مسائل۔ ان تمام امور میں اسلامی دستور میانہ روی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ کی کتاب نے چلنے کا انداز  اور بولنے کا سلیقہ تک سکھلا دیا:“اور اپنی چال میں اعتدال رکھو اور اپنی آواز نیچی رکھ، یقینا آوازوں میں سب سے بری گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔”(لقمان/19) کھانے پینے کے مورد میں بھی اعتدال سے کام لینے کاحکم دیا:“اور یہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل کرتے ہیں بلکہ ان کے درمیان اعتدال رکھتے ہیں۔”(فرقان/67) میدان جنگ میں جہاد کے دوران بھی زیادہ روی سے منع کیا ہے:“اور تم راہ خدا میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ تجاوز کرنے والوں کو یقیناً دوست نہیں رکھتا۔"(بقرہ/190) اعتقاد میں میانہ روی کی تلقین:“لہٰذا آپ اپنا رخ محکم دین کی طرف مرکوز رکھیں، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کے اللہ کی طرف سے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں ہے، اس دن لوگ پھوٹ کا شکار ہوں گے۔”(روم/43) جہاد کے حکم کے ساتھ کفار کی جانب سے صلح کی پیشکش ہوئی تو اسے بھی قبول کرنے کا حکم ہے:“اور (اے رسول) اگر وہ صلح و آشتی کی طرف مائل ہو جائیں تو آپ بھی مائل ہو جائیے اور اللہ پر بھروسہ کیجیے۔ یقیناً وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔”(انفال/61) علاوہ ازیں مؤمن تو کیا کافروں کی نسبت ان کے بتوں کے حوالے سے بھی زیادہ روی کرنے سے مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ“گالی مت دو، ان کو جن کو یہ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں، مبادا وہ عداوت اور نادانی میں اللہ کو برا کہنے لگیں۔”(انعام/108) مؤمن و مسلمان تو بہت دور کی بات ایک عام انسان کے قتل کو اللہ کی کتاب نے پوری انسانیت کے قتل کے مترادف اور ایک عام انسان کی جان بچانے کو تمام انسانوں کی جان بچانے کے برابر قرار دیا ہے:“جس نے کسی ایک کو قتل کیا جبکہ ایک خون کے بدلے میں یا زمین فساد پھیلانے کے جرم میں نہ ہو تو گویا اس نے تمام مسلمانوں کو قتل کیا اور جس نے کسی ایک کی جان بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی۔”(مائدہ/32)

اسلام کی اسی جامع حکمت عملی کے باعث کفار بھی جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوتے گئے اور نصف صدی کے اندر اسلام دنیا کی بڑی بڑی سرحدوں کو پار کر گیا۔ اسلام کے خلاف سازشیں کوئی نئی بات نہیں بلکہ حضورؐ کی حیات پاک میں ہی یہ سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں آپ کو کافی جنگیں بھی لڑنی پڑیں۔ آپ کے ارتحال کے بعد یہ معاملہ شدت اختیار کیا۔ ناکثین و قاسطین و مارقین کی صورت میں مختلف فتنے کھڑے ہوئے۔ 61 ہجری تک پہنچتے پہنچتے دشمنوں کی سازشیں اتنی زیادہ ہوگئیں کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین ؑ کو اتنی بڑی قربانی دینی پڑی کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بعد ازاں حق و باطل کا چہرہ روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا۔ لیکن دشمن "بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی" کا مصداق بن کر مختلف اوقات میں سازشیں کرتے رہے۔ اب جب اسلام میں اکسٹرمزم کا کوئی حکم ہے ہی نہیں تو آخر مسلمانوں میں یہ مذہبی انتہا پسندی کہاں سے وجود میں آگئی اور اتنے مسلمان کیوں قتل ہوئے اور اب بھی ہو رہے ہیں؟ آخر ان تمام مسلمانوں کے خون بہانے کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ وہ سوال ہے کہ جس کے جواب کا آج ہر مسلمان منتظر ہے۔ ساتویں صدی میں احمد بن تیمیہ حرانی حنبلی نے سابقہ علماء کے برخلاف بعض اقدامات اٹھائے۔ مثلاً اولیائے الٰہی کو خدا تک رسیدگی کے لئے وسیلہ قرار دینا، کسی بھی زندہ یا مردے سے مدد طلب کرنا اور اولیائے الٰہی اور پیغمبران الٰہی کی قبروں سے تبرک کرنے کو حرام قرار دیا۔ جن کے باعث انہیں علماء کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے نتیجے میں ان کے نظریات کا پرچار کرنا بہت مشکل ہوا اور ان کے نظریات لوگوں میں سرایت نہ کر پائے۔ یہاں تک کہ (1115ہجری) محمد بن عبد الوہاب عیینہ نام شہر میں پیدا ہوا۔ ان کے والد عبدالوہاب عیینہ میں قاضی تھے اور شرعی مسائل بیان کرنے کے علاوہ تدریس بھی کرتے تھے۔ محمد نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ اس وقت ہی ان کے والد ان کے اندر انحرافات اور گمراہی کے آثار کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ لہذا وہ ہمیشہ اس کی سرزنش کرتے رہتے اور اپنے گھر والوں کو ان(کے فکری انحرافات) سے بچے رہنے کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ بعدازاں اس نے مدینے جا کر وہاں تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ اس دوران میں اس کی زبان سے بعض ایسی باتیں ظاہر ہوتی تھیں، جو ایک خاص عقائد کی حکایت کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ اس کے اساتذہ کو بھی یہ خوف لاحق ہونے لگا کہ اگر یہ خود مبلغ دین بن جائے تو لوگوں کو گمراہ کئے بغیر نہیں رہے گا۔ اس کے بعد وہ  بصرہ گیا اور وہاں لوگوں کے اعتقادات اور رسومات کا مذاق اڑانے لگا۔ اس نے اتنی سخت گیری سے کام لیا کہ آخر کار بصرے والوں نے اسے اپنے شہر سے نکال باہر کردیا۔(https://www.mashreghnews.ir/amp/264578)

محمد بن عبدالوہاب کی کارستانیوں پر ہم اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے علمائے دیوبند ہند کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مذمتی بیان جس میں مختلف علماء کے نظریات کو حوالے سمیت نقل نقل کیا گیا ہے، اس میں سے کچھ اقتباسات کو نقل کرنے پر اکتفا کرتے  ہیں: حضرات علمائے دیوبند نے اپنی کتب میں بار بار وہابی، سلفی اور سعودی نجدی عقائد کی زبردست تردید کی ہے،مثلاً: مولانا خلیل احمد اینٹھوی دیوبندی(۱۸۵۲ء۔۱۹۲۷ء) لکھتے ہیں:’’ ان کا (محمد بن عبدالوہاب نجدی اور اس کے تابعین) عقیدہ یہ ہے کہ بس وہ ہی مسلمان ہیں اور جو ان کے عقیدہ کے خلاف ہو، وہ مشرک ہے اور اس بناء پر انہوں نے اہل سنت کا قتل مباح سمجھ رکھا تھا۔‘‘(المسند علی المفند، مطبوعہ کراچی صفحہ،۲۲) مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری (۱۸۷۵ء۔۱۹۳۴ء) سابق شیخ الحدیث دیوبند لکھتے ہیں کہ’’اما محمد بن عبدالوہاب النجدی فانہ کان رجلا بلیدا قلیل العلم فکان یتسارع الی الحکم بالکفر۔‘‘(فیض الباری مطبوعہ قاہرہ ۱۹۳۸ء) ترجمہ:’’یعنی محمد بن عبدالوہاب نجدی ایک کم علم اور کم فہم انسان تھا۔ اس لئے کفر کا حکم لگانے میں اسے باک نہ تھا۔‘‘ مولانا حسین احمد مدنی (۱۸۷۹ء۔ ۱۹۵۷ء) شیخ الحدیث دیوبند رقم طراز ہیں:
(الف):’’محمد بن عبدالوہاب کا عقیدہ تھا کہ جملہ اہل عالم و تمام مسلمانان دیار مشرک و کافر ہیں اور ان سے قتل و قتال کرنا اور ان کے اموال کو ان سے چھین لینا حلال اور جائز بلکہ واجب ہے۔(الشہاب الثاقب علی المسترق الکاذب مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ، دیوبند،ص۲۳)
(ب)’’زیارت رسول مقبول ﷺ و حضوری آستانہ شریفہ و ملاحظہ روضہ مطہرہ کو یہ طائفہ بدعت، حرام وغیرہ لکھتا ہے۔(ایضاً صفحہ ۴۵)
(ج):’’شان نبوت و حضرت رسالت علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں وہابیہ نہایت گستاخی کے کلمات استعمال کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مماثل ذات سرور کائنات خیال کرتے ہیں... توسل دعا میں آپ کی ذات پاک سے بعد وفات ناجائز کہتے ہیں۔ ان کے بڑوں کا مقولہ ہے کہ معاذاللہ معاذاللہ۔ نقل کفر کفر نباشد۔ کہ ہمارے ہاتھ کی لاٹھی ذات سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہم کو زیادہ نفع دینے والی ہے، ہم اس سے کتےّ کو بھی دفع کرسکتے ہیں اور ذات فخر عالم ﷺ سے تو یہ بھی نہیں کرسکتے۔‘‘(ایضاً صفحہ ۴۷)
(د):’’وہابیہ کثرت صلوٰۃ و سلام و درود برخیرالانام علیہ السلام اور قرات دلائل الخیرات و قصیدہ بردہ و قصیدہ ہمزیہ وغیرہ۔۔۔ کو سخت قبیح و مکروہ جانتے ہیں۔‘‘(ایضاً صفحہ۶۶)’’الحاصل وہ (محمد بن عبدالوہاب نجدی) ایک ظالم و باغی خو نخوار فاسق شخص تھا‘‘۔(ایضاً صفحہ۴۲)

مولانا حسین احمد مدنی کتاب ’’الشہاب الثاقب علی المسترق الکاذب‘‘ کے مندرجہ ذیل اقتباسات وہابیہ نجدیہ کے متعلق سواد اعظم اہل سنت کے نقطہ نگاہ کو بالکل واضح، غیر مبہم اور صاف لفظوں میں پیش کرتے ہیں:’’وہابیہ کسی خاص امام کی تقلید کو شرک فی الرسالۃ جانتے ہیں اور ائمہ اربعہ اور ان کے مقلدین کی شان میں الفاظ واہیہ، خبیثہ استعمال کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے مسائل میں وہ گروہ اہل سنت والجماعت کے مخالف ہوگئے۔ چنانچہ غیر مقلدین ہند اسی طائفہ شنیعہ کے پیرو ہیں۔ وہابیہ نجد عرب اگرچہ بوقت اظہار دعویٰ حنبلی ہونے کا اقرار کرتے ہیں لیکن عمل درآمد کا ہرگز جملہ مسائل سے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر نہیں ہے، بلکہ وہ بھی اپنے فہم کے مطابق جس حدیث کو مخالف فقہ حنابلہ خیال کرتے ہیں، اس کی وجہ سے فقہ کو چھوڑ دیتے ہیں، ان کا بھی مثل غیر مقلدین کے اکابر امت کی شان میں الفاظ گستاخانہ بے ادبانہ استعمال کرنا معمول بہ ہے۔‘‘(الشہاب الثاقب علی المسترق الکاذب صفحہ۶۲،۶۳) ’’ان وہابیہ نجدیہ کا اعتقاد یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے واسطے حیات فی القبور ثابت نہیں بلکہ وہ بھی مثل دیگر مسلمین کے متصف بالحیوۃ البرزخیہ اسی مرتبہ سے ہیں۔ پس جو حال دیگر مومنین کا ہے، وہ ہی ان کا ہوگا۔ یہ جملہ عقائد ان کے ان لوگوں پر بخوبی ظاہر و باہر ہیں، جنہوں نے دیار نجد عرب کا سفر کیا ہو یا حرمین شریفین میں رہ کر ان لوگوں سے ملاقات کی ہو یا کسی طرح سے ان کے عقائد پر مطلع ہوا ہو۔ یہ لوگ جب مسجد شریف نبوی میں آتے ہیں تو نماز پڑھ کر نکل جاتے ہیں اور روضہ اقدس پر حاضر ہو کر صلوٰۃ و سلام و دعا وغیرہ پڑھنا مکروہ و بدعت شمار کرتے ہیں۔ انہی افعال خبیثہ و اقوال واہیہ کی وجہ سے اہل عرب کو ان سے نفرت بے شمار ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ ۶۵، ۶۶)

شہاب ثاقب میں مولانا حسین احمد مدنی نے عقائد نجدیہ وہابیہ کی نہ صرف شدت و غلظت کے ساتھ تردید کی بلکہ ان کے عقائد مردودہ کے جواب میں ذات رسالت مآب ﷺ، اولیائے کرام کی بابت اپنے عقائد، سواد اعظم اہل سنت والجماعت کے مطابق پیش کرتے ہیں:
1۔ حضور ﷺ کی حیات دنیا تک محدود نہیں بلکہ ہر حال میں زندہ و پائندہ ہیں۔(الشہاب الثاقب علی المسترق الکاذب صفحہ ۴۵)
2۔ دربار رسالت ؐ میں حاضری کی نیت سے سفر کرنا جائز ہے اور ہمارے اکابر نے اس کے لئے سفر کیا ہے۔(ایضاً صفحہ ۴۶)
3۔ ہم توسل بالنبی ﷺ کے قائل ہیں۔(ایضاً صفحہ۵۷)
4۔ ہم اشغال باطنیہ کے قائل و عامل ہیں۔(ایضاً صفحہ۶۰)
5۔ ذکر رسالت مآب ﷺ بلکہ اولیاء اللہ کے ذکر کو بھی ہم مستوجب برکت سمجھتے ہیں۔(ایضاً صفحہ۶۷)
6۔ ہم ہر قسم کے درود کو جائز سمجھتے ہیں۔(ایضاً صفحہ۶۶)
7۔ مسجد نبوی ؐ یا کسی اور مقام پر یارسول اللہ کہنا بھی ہمارے نزدیک جائز ہے۔(ایضاً صفحہ۶۵)
دیوبندی علماء کے علاوہ اہل حدیث اور بریلوی علماء نے بھی گمراہ گن وہابی اور نجدی نظریات کی مذمت کی۔ برصغیر کے بڑے اہلحدیث عالم نواب محمد صدیق حسن خان (۱۲۴۸ھ۔ ۱۳۰۷ھ) اور مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری (م۔ ۱۹۴۸ء) نے طائفہ نجدیہ وہابیہ سے نہ صرف بیزاری و لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ محمد بن عبدالوہاب نجدی کی شخصیت اور تعلیمات کو درخور اعتناء بھی نہیں سمجھا اور اسے مسترد کر دیا۔ چنانچہ انہوں نے سرکار انگلشیہ سے پورے شدومد کے ساتھ التجاء کی تھی کہ بجائے فرقہ وہابیہ کے ان کو اہل حدیث لکھا جائے۔ پس بموجب چٹھی گورنمنٹ انڈیا بنام پنجاب گورنمنٹ نمبر ۱۷۵۸ مورخہ ۳ دسمبر ۱۸۸۹ء سرکاری دفتروں میں انہیں وہابی فرقہ کی بجائے ’’اہل حدیث‘‘ لکھنے کا حکم جاری کیا گیا اور وہابی لکھنے کی قانوناً ممانعت کر دی گئی۔ چند مزید حوالے درج ذیل ہیں:
’’جو کتاب مَیں (صدیق حسن خان) نے ۱۲۹۲ہجری میں لکھی ہے اور اس کا نام ہدایۃ السائل ہے۔ اس میں وہابیہ کے حال میں لکھا ہے کہ ان کی کیفیت کچھ نہ پوچھو، سراسر نادانی اور حماقت میں گرفتار ہیں۔‘‘(محمد صدیق حسن خان، ترجمان وہابیہ مطبوعہ لاہور ۱۳۱۲ھ صفحہ ۲۱) نواب صاحب موصوف ’’ترجمان وہابیہ‘‘ میں وہابی مذہب کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’مسلمانان ہند میں کوئی مسلمان وہابی مذہب کا نہیں ہے، اس لئے کہ جو کارروائی ان لوگوں نے ملک عرب میں عموماً اور مکّہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں خصوصاً کی اور جو تکلیف ان کے ہاتھوں سے ساکنان حجاز و حرمین شریفین کو پہنچی، وہ معاملہ کسی مسلمان ہند وغیرہ کے ساتھ اہل مکہ و مدینہ کے نہیں کیا اور اس طرح کی جرأت کسی شخص سے نہیں ہوسکتی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ فتنہ وہابیوں کا ۱۸۱۸ء میں بالکل خاموش ہوگیا۔ اس کے بعد کسی شخص امیر وغریب نے اس ملک میں بھی پھر سر نہ اٹھایا۔‘‘(ایضاً صفحہ۴۰)

سعودی ریالوں اور امریکی ڈالروں کی چمک
وہابی نجدی ریاست کی بنیاد برطانیہ نے لارنس آف عریبیہ اور سعودی خاندان کی مدد سے رکھی تھی، جنہوں نے مسلمانوں کی آخری خلافت عثمانیہ سے غداری کی اور حجاز میں لاکھوں اہلسنت حنفی، مالکی اور شافعی کا خون بہایا۔ اسی ریاست کی پشت پناہی آج امریکہ اور اسرئیل کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں پیٹرو ڈالرز کی چمک نے بعض بدبختوں کی آنکھوں کو چکا چوند کر دیا ہے۔ انقلاب روزگار ملاحظہ فرمائیے کہ آج بعض نادان و لالچی دیوبندی اور اہل حدیث خود محمد بن عبدالوہاب کو اپنا ہیرو قرار دے رہے ہیں۔ کتاب التوحید وغیرہ کی اشاعت میں سرگرم ہیں۔ اس کا ترجمہ پشتو اور اردو زبان میں کروا کر پاکستان، بھارت اور افغانستان میں تقسیم کر رہے ہیں اور اس کے نام سے کئی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ اس باب میں بعض نادان یا ریال خور اہل حدیث، دیوبندی اور مودودی جماعت کے لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حکومت سعودیہ نجدیہ کی خوشنودی مزاج کے لئے مستعد ہیں۔ تاویلات گھڑی جا رہی ہیں کہ حسین احمد مدنی اور صدیق حسن خان کو غلط فہمی ہوئی تھی یا پھر ان اکابرین پر تہمت بازی کی جا رہی ہے اور یہ سب بکواس لکھنے والے سعودی وہابی حکومت کے تنخواہ دار یا وظیفہ خوار ہیں۔ گردش دوراں سے اب بعض ریال خور مولویوں کو ’’فیصل ایوارڈ ‘‘ ملتے ہیں اور حکومت سعودیہ نجدیہ کے زیر اہتمام مساجد کی عالمی تنظیم کے معتبر رکن بنے ہوئے ہیں۔ نجدیت پرستی میں یہاں تک غلو کیا ہے کہ اہل سنت کی دینی سرگرمیوں کے خلاف جاسوسی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور عام سنی مسلمان کو وہابی تعلیمات کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کی اقتدار نجدیت کے سامنے جبہ سائی اور مدح سرائی سے کوئی غرض نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا انہیں اس امر کا احساس نہیں کہ ذات رسالت ماب ؐ ، اہلبیت عظام، صحابہ کرامؓ اور اولیاء اللہ ؒ کے خلاف وہابیوں نے جو گل افشانیاں کی ہیں، جنت البقیع میں حضرات صحابہ کرام اور اہلبیت کے مزارات کو بلڈوز کی گیا، اس پر بھی ذرا توجہ فرمائیں۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے فیصلہ ہفت مسئلہ اور اپنے مجموعہ عقائد موسومہ المہند کی سفارشات کو بھی نافذالعمل کریں، نیز جہاں جماعت اسلامی کے بعض ریال خور بھی اپنے بانی مودودی صاحب کی نگارشات بسلسلہ نجدیت وہابیت سے رجوع کرکے آج سعودی وہابی کی نمائندگی اور گماشتگی کے فرائض ادا کر رہے ہیں، کیونکہ اہل سنت کے پاس قوت و شوکت کا وہ سامان نہیں، جو حکومت نجدیہ سعودیہ کے پاس موجود ہے۔ یاد رہے کہ مولانا مودودی نے حج کے ناقص انتظامات اور دیگر رسومات کی ادائیگی میں کوتاہی پر بھی سعودی وہابی حکومت پرشدید تنقید کی تھی۔ مذکورہ مطالب کو من و عن بغیر کسی تبدیلی کے نقل کیا گیا ہے۔ مفصل پڑھنے کے لئے اس لنک پر مراجعہ کیجیے(https://lubpak.com/archives/348725)تمام اسلامی مکاتب فکر کی جانب سے مکتب وہابیت سے اظہار بیزاری اور ان کے قبیح افعال سے اظہار برائت کے بعد بھی اگر کوئی آل سعود کی کارستانیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کرے تو یقیناً وہ کسی مسلمان فرقے کا نہیں بلکہ استعمار کا ایجنٹ ہی ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اہل بیت علیھم السلام کی عزاداری

 یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آئمہ اطہار(ع) نے حالات زندگی کالحاظ رکھتے ہوئے اپنے تبلیغی انداز کوہمیشہ زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا ہے اوران کااصول تبلیغ یہی تھا کہ بات کوحالات کے مطابق ہوناچاہئے ورنہ بے اثر ہوجائے گی بلکہ بسااوقات مضراورنقصان دہ بھی ثابت ہوگی لہذا انھیں حالات کے تحت تھاکہ کبھی ایک امام(ع) نے خطبہ کی زبان اختیار کی اورکبھی دعاکی لیکن واقعۂ کربلا کے بعد تبلیغ کی ایک اورزبان ایجاد ہوگی جس کانام عزاداری تھا ۔
عزاداری درحقیقت آئمہ معصومین(ع) کے تبلیغی مشن کے ایک انتہائی محتاط عنصر کانام تھاجہاں بظاہر اپنے حالات اورگھروالوں پرگذرنے والے مصائب پرگریہ کیا جاتا تھا جس سے عام طور پرشخص کوہمدردی ہوجاتی ہے اورکوئی شخص اس کی مخالفت نہیں کرتا وہاں اس گریہ وغم کے سائے میں دین کے عظیم پیغام کونشرکیاجاتا تھا چنانچہ پیغمبرگرامی اسلام(ص) سے لے کرامام زمانہ علیہ السلام تک جس قدر حالات نے اجازت دی ہے ہرامام (ع) نے تبلیغ دین کے اس عنصر پرزور دیا ہے اورفرش عزا بچھا کرایک طرف تولوگوں کوان عوامل کوتلاش کرنے کاجذبہ دیا کہ جس کے باعث یہ حالات اورمصائب پیش آئے تھے اوراس طرح اس دین تک پہنچنے کاموقع فراہم کیاجس کی تبلیغ کے لئے یہ مصائب برداشت کیے گئے تھے اوردوسری طرف ذکرمصائب کے ذیل میں ان تبلیغات کابھی انتظام کیاگیا جوآئمہ طاہرین کی زندگی اوران کے منصب کانصب العین تھاتبلیغ کی اس زبان اورعزاداری کے عنوان کے تحت آئمہ ھدیٰ علیھم السلام نے تفسیر ، حدیث، تاریخ، احکام اورعقائد سب کاتذکرہ فرمایا ہے،حالانکہ عزاداری کالفظی مفہوم توصرف غم منانا اورصبروسکون کاسامان فراہم کرنا ہے جس سے ان مسائل کاکوئی تعلق نہیں ہے۔ذیل میں ہم رسول گرامی اسلام(ص) اوردیگر آئمہ ھدیٰ علیھم السلام کی زندگی کاایک جائزہ اس حوالے سے پیش کرتے ہیں کہ ان مقدس ہستیوں نے عزاداری کاکیسا انداز اپنایا اوراپنے زمانے کے حالات کے مطابق کیاروش اپنائی ہے؟
خاتم الانبیاء (ص) کی عزاداری:
 اگرچہ کربلا والوں کی عزاداری کی تاریخ حضرت آدم(ع) سے شروع ہوتی ہے اورتاریخ انسانیت ہی ایک لحاظ سے تاریخ عزاداری ہے اورانبیاء کووحی کے ذریعے ۶۱ ؁ھ کے اس ہونے والے واقعہ کے بارے میں بتایا گیااورانبیاء (ع) نے اپنے اپنے انداز سے عزاداری کی ہے لیکن چونکہ ہمارا موضوع آئمہ واھل بیت(ع) کی عزاداری ہے لہذا ہم انبیاء کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے آغاز کرتے ہیں۔
پیغمبر گرامی اسلام(ص) کہ جن کاقول ، فعل اورتقریر تمام مسلمانوں کے لئے حجت ہے اورجن کی ہربات کی سچائی کی گواہی قرآن نے دی ہے نے اپنے نواسہ کی شہادت سے قبل جب جبرائیل امین(ع) نے کربلا کے واقعات کے بارے میں بتایا توکتنے متاثر اورغمگین ہوئے ؟اس حوالے سے چند احادیث کربیان کرتے ہیں:
پیغمبرگرامی اسلام(ص) ام سلمیٰ کے حجرے میں تشریف فرماتھے ام سلمیٰ سے فرمایا کہ کسی کومیرے پاس نہ آنے دیں ام سلمیٰ روایت کرتی ہیں کہ پیغمبرگرامی اسلام(ص) میرے حجرے میں آرام فرمارہے تھے کہ اسی دوران امام حسین علیہ السلام جب آپ (ع) کابچپنا تھاواردہوئے ام سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں حضرت حسین(ع) کونہ روک سکی امام حسین(ع) اپنے نانا کے حجرے میں وارد ہوئے اورمیں بھی آہستہ آہستہ پیچھے کمرے میں چلی گئی دیکھا کہ امام حسین(ع) اپنے نانا کے سینے پرسوار ہیں اورخدا کے رسول(ص) گریہ کررہے ہیں اورآپ کے ہاتھ میں کوئی چیز ہے رسول اسلام(ص) میری طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا:’’اے ام سلمیٰ!مجھے ابھی ابھی جبرائیل (ع) نے خبردی ہے کہ میرابیٹا حسین(ع) قتل کیاجائے گا پھرپیغمبر(ص) کے ہاتھ میں جوتربت تھی مجھے دے دی اورفرمایا اسے اپنے پاس محفوظ کرلو اسے دیکھتے رہنا جب یہ تربت خون میں بدل جائے توسمجھ لینا کہ حسین(ع) کوقتل کردیا گیا ہے۔
ام سلمیٰ نے کہایارسول اللہ(ص) خداسے دعا کریں کہ خداحسین(ع) کواس مصیبت سے محفوظ رکھے رسول اللہ(ص) نے فرمایا میں نے التجاکی ہے مگرمیرے اوپروحی نازل ہوئی ہے کہ حسین(ع) کے لئے خدا کے ہاں ایسا مقام ہے کہ کوئی دوسرا اس تک نہیں پہنچ سکتا اوروہ اپنے شیعوں کی شفاعت کریں گے اور مہدی آل محمد(ع) ان کے فرزندوں میں سے ہوگا پس خوش نصیب ہیں وہ لوگ کہ جوحسین(ع) سے محبت کرنے والے اوران کے شیعہ ہوں گے خدا کی قسم ان کے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ہوں گے۔(امالی شیخ صدوق،مجلسی ۲۹،حدیث ۳)
پیغمبرگرامی اسلام(ص) نے امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے وقت سے ہی عزاداری وگریے کاسلسلہ قائم کردیا تھا۔اسماء روایت کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ(ص) کوحسین(ع) کی ولادت کی خبرملی توآپ(ص) جلدی سے حضرت سیدہ(ع) کے گھر میں گئے جبکہ آپ(ص) کے چہرہ انور سے غم وحزن کے آثار نمایاں تھے اورحزن آلود آواز میں فرمایا :اے اسماء میرے بیٹے کولے آؤ بچے کولایا گیا اورپیغمبرگرامی اسلام(ص) کے دست مبارک میں دیا گیا پیغمبر(ص) نے بچے کوآغوش میں لیا بوسہ بھی لیتے تھے اورگریہ بھی فرماتے تھے اسماء کہتی ہیں کہ میں پیغمبر (ص) کی اس کیفیت کودیکھ کربہت متاثر ہوئی اورکہا :اے خدا کے رسول(ص)!میرے ماں باپ آپ (ص) پرقربان ہوں کس لئے گریہ فرمارہے ہیں؟
رسول خد(ص) نے فرمایا:اپنے اس بیٹے کے لئے گریہ کررہا ہوں اسماء بہت حیران ہوئیں اورکہا یہ فرزند توابھی متولد ہوا ہے اس کے لئے کیوں گریہ کررہے ہیں ؟رسول اللہ(ص) نے فرمایا:تقتلہ الفءۃ الباغیۃ من بعدی لا أنالھم واللہ شفاعتی اس فرزند کوایک باغی گروہ قتل کرے گا خدا کی قسم ہرگز میری شفاعت ان کونہیں ملے گی۔
اسماء کہتی ہیں کہ پھررسول خد(ص) اپنی جگہ سے اٹھے اورغم واندوہ کی حالت میں فرمایا:اسماء اس واقعہ کے بارے میں فاطمہ(ع) کونہ بتانا کیونکہ وہ ابھی ابھی اس فرزند کی ماں بنی ہیں۔(حیاۃ الامام الحسین ،ج۱، ص۲۷ )
معجم طبرانی میں اسی سے مشابہہ ایک اورروایت نقل کی گئی ہے اوراس کے علاوہ بہت ساری احادیث‘ پیغمبر گرامی اسلام(ص) سے منقول ہوئی ہیں جس میں واقعہ کربلا پرآ پ کاگریہ کرنا اورسوگوار ہنا ثابت ہے اوررسول خدا جہاں حسین(ع) کی مظلومیت پرآنسوبہاتے تھے وہاں حسین(ع) کی حقانیت کوبھی واضح فرماتے ہیں بعض اوقات جب خدا کے رسول زیب منبر ہوتے تھے اوراپنے صحابہ کوخطبہ ارشادفرماتے اوراس دوران حسین(ع) وار د بزم ہوتے تورسول خد(ص) اپنا منبر چھوڑ دیتے بچے کوآغوش میں لیتے اورپھر لوگوں سے کہتے کہ ھذا حسین فاعرفوہ وانصروہ یہ میرا حسین (ع) ہے اس کوپہچان لواوراس کی مدد کرنا۔
رسول خد(ص) نے فرمایا:(أنّ لقتل الحسین(ع) حرارۃٌ فی قلوب المومنین لاتبردأبداً)’’بے شک حسین(ع) کی شہادت سے مومنین کے دلوں میں ایسی حرارت پیدا ہوگی کہ جوکبھی بھی ٹھنڈی نہیں ہوگی۔‘‘
یہ فرمان رسول(ص) جہاں ایک خبر ہے وہاں یہ أ مروانشاء بھی ہے یعنی رسول خد(ص) یہ چاہتے ہیں کہ مومنین اس عظیم قربانی کوکہ جس نے اپنی قربانی دے کرہمیشہ کے لئے اسلام کوزندہ کردیا یادرکھیں اورلفظ حرارت سے تعبیر فرمانا بھی بے مقصد نہیں ہے بلکہ حکمت ہے کہ حسین(ع) کوایسے یاد رکھو کہ دلوں میں تحرک وبیداری پیدا ہوجائے نہ ایسی یاد کہ جوانسان کواپنی ذمہ داریوں سے غافل کردے اوربے کاربنادے لہذا حقیقی عزادار کی نشانی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کوادا کرنے میں متحرک اورپرجوش دکھائی دیتا ہے۔
حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام:
جیساکہ رسول خد(ص) نے حسین(ع) کی شہادت سے قبل آپ (ع) کی شہادت اورمصیبت عظمیٰ کے حوالے سے بیان فرمایا تھا ایسے ہی حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے بھی بہت ساری روایات بیان فرمائی ہیں بطورنمونہ ہم صرف دوروایتوں کوبیان کرتے ہیں:
ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ ہم امیرالمؤمنین (ع) کے ساتھ صفین کی طرف جارہے تھے جب فرات کے کنارے نینوا کے مقام پرپہنچے توحضرت نے بلند آواز سے فرمایا:ابن عباس!کیااس سرزمین کوپہچانتے ہو؟میں نے کہا:نہیں،حضر ت نے فرمایا:اگرتواس سرزمین کوپہچانتا ہوتا تومیری طرح روتے ہوئے گذرتا ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ پھرحضرت کافی دیر تک گریہ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے محاسن مبارک آنسوؤں سے ترہوگئے پھرفرمایا :اے وائے!میں نے آل سفیان سے کیا کیا ہے؟شیطان کاگروہ اورشیطان کے دوست اے ا باعبداللہ صبرکرو ۔۔۔۔۔۔پھرفرمایا اے ابن عباس واقعی ایسا ہی ہے جیسا دیکھ رہاہوں کہ میرے بدن کاٹکڑا حسین(ع) اس سرزمین پراستغاثہ کررہا ہے اورکوئی اس کے استغاثے کاجواب نہیں دے رہا یہ زمین کربلا ہے کہ جہاں حسین(ع) اورمیرے اورفاطمہ(ع) کے سترہ فرزند دفن ہوں گے کربلا کی زمین أھل آسمان کے نزدیک معروف ومشہور ہے اوروہ کربلا کوایسے یاد کرتے ہیں جیسے حرمین شریفین اوربیت المقدس کویادکیاجاتا ہے۔(امالی شیخ صدوق،ج ۵، مجلس ۵۷)
-2ہرثمہ بن ابی مسلم نے بھی اس سے مشابہہ ایک روایت نقل کی ہے:وہ کہتا ہے کہ میں جنگ صفین میں علی علیہ السلام کے ساتھ تھا واپسی پرکربلا پہنچے توحضرت نے نماز صبح پڑھی پھرکربلا کی کچھ خاک کواٹھایا ،سونگھا اورفرمایا:اے کربلا کی خاک توخوش قسمت ہے کہ تجھ سے ایک گروہ اٹھے گا جوبغیر حساب کے بہشت میں داخل ہوگا۔ہرثمہ کہتا ہے کہ جب میں اپنی مومنہ بیوی کے پاس گیا اوراس واقعہ کے بارے میں بتایا تواس نے کہا :أمیرالمؤمنین(ع) بغیرحکمت کے کوئی بات نہیں فرماتے۔
جب عبیداللہ ابن زیاد نے اپنے لشکر کوکربلا بھیجا تویہی ہرثمہ‘ ابن زیاد کے لشکر میں تھا جیسے ہی یہ کربلا کی زمین پرپہنچا تواس نے اس زمین کوپہچان لیا اورامیرالمؤمنین (ع) کی بات اس کویاد آگئی گھوڑے پرسوار ہوا اورامام حسین(ع) کی طرف چلاآیا اورواقعہ کے بارے میں بتایا امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :ابھی تومیری مدد کے لئے آیا ہے یامیرا دشمن ہے؟اس نے کہا:کوئی بھی نہیں بلکہ کوفہ میں میری ایک بیٹی ہے مجھے ڈرہے کہ ابن زیاد اس کوقتل نہ کردے امام (ع) نے فرمایا:پس جاؤ اورمیری شہادت کونہ دیکھ اورمیرے استغاثہ کونہ سننا پھرفرمایا:اس خدا کی قسم کہ جس کے ہاتھ میں حسین(ع) کی جان ہے جوشخص میری فریاد کوسنے اورمیری مدد نہ کرے توخدا اس کوالٹے منہ جہنم میں ڈالے گا۔(امالی صدوق، ج۶، مجلس ۲۸)
ان دونوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کربلا کی سرزمین سے جس نبی یاولی کاگذرہوا ہے تواس نے واقعہ کربلا کاذکرکیا ہے اورایک خاص عکس العمل ظاہر کیا ہے اورکربلا کی خاک کاایک خاص انداز سے تکریم واحترام کیا ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا (ع) کے متعلق کتب میں موجود ہے کہ جب رسول خد(ص) نے حضرت سیدہ کوامام حسین (ع) کی شہادت کی خبر سنائی توشدت سے گریہ کیااورپوچھا :بابا جان!یہ واقعہ کب ہوگا؟ آپ(ص) نے فرمایا:بیٹی! جب نہ میں ہوں گا نہ توہوگی نہ علی(ع) اورنہ حسن(ع) ہوں گے جناب سیدہ کاگریہ بڑھ گیا اورعرض کی باباجان!کیامیرے بیٹے کوکوئی رونے والا نہیں ہوگا؟آپ(ص) نے فرمایا:بیٹی!خداوندایک ایسی قوم پیدا کرے گا جن کی خواتین میری ذریت کی خواتین پرروئیں گئیں جن کے مرد میرے اہل بیت(ع) کے مردوں پرروئیں گے اورہرسال اس غم کوتازہ کریں گے قیامت کے دن توان عورتوں کی اور میں مردوں کی شفاعت کروں گا۔
ان سارے واقعات میں اگر غورکیاجائے تومعلوم ہوتا ہے کہ شہداء کربلا کی عزاداری آئمہ علیھم السلام نے خود بھی کی ہے اوردوسروں کوبھی عزاداری کرنے کی تشویق کی ہے اس لئے کہ یہ گریہ وعزاداری شعارزندگی ہے‘ گریہ شرافت آدم ہے ‘ تہذیب انسانیت ہے یہ عزاداری ایک طرف تومظلوم کی مظلومیت پرگریہ ہے تودوسری طرف ظالم کے خلاف نفرت کااظہار بھی ہے اس لئے آئمہ علیھم السلام کی تاکید ہے کہ اس ماتم وعزاداری کوزندہ رکھیں کیونکہ اگرعزاداری زندہ ہے تواسلام زندہ ہے پیغمبرگرامی اسلام(ص) سے لے کرامام زمانہ علیہ السلام تک ہرامام نے اورخاندان اہل بیت(ع) کے ہرفرد نے عزاداری کی ہے اورصف ماتم بچھائی ہے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کوجب زہردیاگیا توبیان کیاگیا ہے کہ امام حسین(ع) نے گریہ کیا اوربھائی کی مصیبت پرآنسو بہائے امام حسن علیہ السلام نے فرمایا: ( لایوم کیومک یااباعبدالله) ’’اے بھائی حسین(ع) ! جتنی تیری مصیبت بڑی ہوگی اس سے بڑھ کرکوئی مصیبت کادن نہیں ہے۔‘‘
البتہ یہاں مناسب ہے کہ اس مطلب کوبھی واضح کردیں کہ گریہ وعزاداری وسیلہ وذریعہ نہیں بلکہ بذاتہ مطلوب ہے اوربعض حضرات جواپنے آپ کوروشن فکر گردانتے ہیں یہ تصور کرتے ہیں کہ عاشورا اورکربلا کی یادمنانا صرف روایتی عزاداری (سینہ زنی‘ گریہ‘ سیاہ لباس۔۔۔۔۔۔وغیرہ)میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس مقصد کواورطریقوں اوردوسرے ذرائع جیسے کانفرنس، سیمنار، محفل ومذاکرے وغیرہ سے بھی حاصل کیاجاسکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ واقعہ عاشورا اورپیغام عاشورا کوسمجھنے کے لئے اسی انداز سے روایتی عزاداری سینہ زنی‘ گریہ وغیرہ کی ضرورت ہے اگرچہ حضرت سیدالشہداء کی شخصیت کے بارے میں کانفرنس، سیمنار اورمقالات علمی وتحقیقی بہت مفید ولازم ہیں مگر روایتی عزاداری کاانداز بھی ضروری اورلازم ہے اس مطلب کوواضح کرنے کے لئے ایک مقدماتی بحث ضروری ہے۔
سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ انسان کے اندرکون سے عوامل ہیں جومؤثر ہوں؟علماء اورماہرین نفسیات اس نتیجہ پرپہنچے ہیں کہ انسان کے اندردواہم عوامل موجود ہیں ایک شناخت ومعرفت والا عامل ہے یعنی حس شناخت ہے جوباعث بنتی ہے کہ انسان کسی چیز کوسمجھے اورجانے اورسمجھنے کے بعدپھر اس کوقبول کرے اوردوسراعامل جوہرانسان کے اندر پایاجاتا ہے جوکہ شناخت والے عامل سے بھی زیادہ مؤثر ہے وہ انسانی احساسات اورعواطف ہیں آپ اپنی زندگی میں بھی اس کامشاہدہ کرسکتے ہیں کہ سب سے زیادہ مؤثر عامل یہی احساسات وعواطف والا ہی ہے جوانسان کوکسی ذمہ داری کوانجام دینے پرآمادہ کرتا ہے خواہ وہ انفرادی ذمہ داری ہویااجتماعی وسیاسی ہولہذا ہم جس کام کوانجام دیناچاہیں تواس کے لئے صرف اس کام کی شناخت ومعرفت کافی نہیں ہوتی اورصرف اس کاجان لیناہمیں حرکت میں نہیں لاسکتا بلکہ احساسات وعواطف ہی ہیں جوانسان کواس کام کے انجام دینے کاانگیزہ ایجاد کرتے ہیں اورتحرک دلاتے ہیں اورجب تک یہ عامل نہ ہوکام نہیں ہوسکتا صرف یہ جان لینا کہ فلاں کھانا مفید ہے انسان کے لئے کافی نہیں ہے اوراس کوفائدہ نہیں پہنچاسکتا جب تک اس کوبھوک نہ لگے اوراس کھانے کونہ کھائے ایسے ہی بعض امور کی یہی کیفیت ہوتی ہے کہ صرف ان کاعلم کافی نہیں ہوتا جب تک کوئی عمل کا انگیزہ پیدا نہ ہوکہ جوانسان کے اندرتحرک پیدا کرے اب اس مقدماتی بحث کے بعد واضح ہوجاتا ہے کہ تحریک کربلا سے آگاہی اورصرف جان لینا کافی نہیں ہے بلکہ امام (ع) کے اس مقدس مشن سے ہم آہنگ ہونے کے لئے ایک انگیزے کی ضرورت ہے جوہمیں اس مقدس تحریک کاحصہ بننے پرآمادہ کرے کیونکہ تحریک کربلا ایک مسلسل اورپیہم جدوجہد کانام ہے جوہردور کے انسان کوآزادی سے جینے کاسلیقہ سکھاتی ہے اور انسانیت کویہ درس دیتی ہے کہ ایک مقدس ہدف کے لئے اپناسب کچھ قربان کردینا چاہیے لہذا عزاداری کارائج انداز سینہ زنی وگریہ وغیرہ کربلا کے واقعہ کی منظر کشی میں زیادہ مؤثر ہے اورکربلا کے پیغام کواس انداز سے بہتر طور پرمنتقل کیاجاسکتا ہے کیونکہ سننے اوردیکھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔
حضرت موسیٰ (ع) اورسامری کی داستان اس مطلب پربہترین شاہد ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوکوہ طورپربلایا گیاتولوگوں کوبتایا گیا کہ ایک مہینے کے لئے حضرت موسیٰ (ع) کوکوہ طور پررہیں گے مگر خدا نے دس دن اوربڑھا دیے:(وواعدنا موسیٰ ثلٰثین لیلة وأتممنها بعشرٍ)جب تیس دن ختم ہوئے توبنی اسرائیل کی قوم حضرت ہارون (ع) کے پاس آئے اورکہا تیرابھائی کیوں نہیں آیا؟ حضرت ہارون(ع) نے کہا منتظر رہیں آجائے گا غرض دس دن گزرے ادھر سے سامری نے فرصت سے استفادہ کیااوربچھڑا بنادیا اورکہا :(هذا ألهکم والٰه موسیٰ)قوم نے پرستش شروع کردی خدا نے حضرت موسیٰ (ع) پروحی نازل کی کہ آپ کی قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی ہے حضرت موسیٰ (ع) نے سنا اورکوئی عکس العمل نہ دکھایا دس دن اورگذرے توچالیس دن کے بعدآسمانی الواح کولوگوں کے پاس لائے تاکہ ان کوشریعت کے احکام اورخدا کی اطاعت کی دعوت دیں حضرت موسیٰ (ع) نے جب دیکھا قوم بچھڑے کی پرستش کررہی ہے جیسے ہی حضرت موسیٰ (ع) نے یہ منظر دیکھا غضبناک ہوئے آسمانی الواح کوکلیم اللہ نے پھینکا:(وألْقی الألواح وأخذ برأسِ أخیه یجرّہ‘ الیه) اپنے بھائی کوسرسے اپنی طرف کھینچا اورکہا تم نے قوم کوگمراہ ہونے سے کیوں نہیں روکا؟اس داستان میں غورکریں اوردیکھیں کہ حضرت موسیٰ (ع) کوکوہ طور پروحی کے ذریعے خدا نے یہ سب بات بتادی تھی لیکن اس خبرکوسننے کے بعد حضرت موسیٰ (ع) نے کوئی عکس العمل نہیں دکھایا اورکوئی غضب کے آثار نہیں تھے لیکن جب خود اپنی آنکھوں سے اس منظر کودیکھا ہے غضبناک ہوئے تحمل نہ کرسکے پس معلوم ہوا سننے اوردیکھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے خدا نے انسان کوایسے خلق کیا ہے کہ جب وہ کسی چیز کودیکھے اورکس منظر کانظارہ کرے توفوری اثر لیتا ہے کہ جواثر سننے سے نہیں لیتا۔
ہم واقعہ کربلا کے بارے آگاہی رکھتے ہیں اورجانتے ہیں کہ امام حسین(ع) اورآپ کے باوفا انصارواصحاب کی کیسے مظلومانہ شہادت ہوئی ہے مگرہمارا جاننا ہمارے آنسوؤں کوجاری نہیں کرسکتا بلکہ جب مجلس عزا میں شریک ہوتے ہیں مرثیہ خوان مرثیہ پڑھتا ہے خوبصورت اورمؤثر انداز سے خطیب کربلا کی داستان بیان کرتا ہے توپھر بے اختیار ہمارے آنسو جاری ہوجاتے ہیں لہذا واضح ہوجاتا ہے کہ صرف واقعہ کربلا پرعالمانہ اورمحققانہ بحث کرنے ،سیمینار وکانفرنس کے انعقاد سے عزاداری والی افادیت کوحاصل نہیں کیاجاسکتا بلکہ لوگوں کے احساسات کوتحریک دینے کے لئے ضروری ہے کہ سیاہ لباس پہنا جائے عزاخانوں کوسیاہ پرچموں سے سجایا جائے اورباقاعدہ مجالس عزا اورعزاداری کے پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ احساسات کوتحرک دیاجاسکے لہذا عزاداری سیاسی وعبادی عمل ہے اورعزاداری سے ان سیاسی مقاصد کوحاصل کیاجائے تب عزاداری کی حقیقی شکل ہوگی۔اہل بیت علیھم السلام نے واقعۂ کربلا کے بعد کس انداز سے عزاداری کی ہے اورکن مقاصد کواس ذریعے سے حاصل کیا ہے آیئے اس حوالے سے تاریخ کاجائزہ لیتے ہیں:
عقیلۂ بنی ہاشم‘حضرت زینب سلام اللہ علیہا:
واقع ۂ کربلا سے سب سے زیادہ جوہستی متاثر ہوئی تھیں وہ ثانی زہرا حضرت زینب سلام اللہ علیہا تھیں واقعہ کربلا کے بعد حضرت زینب عالیہ (ع) اپنے بھائی اورعزیزوں کے سوگ میں مسلسل گریہ کرتیں اورنوحہ کناں تھیں اورکبھی بھی آپ کے آنسو خشک نہیں ہوئے تھے اورجب اپنے بھائی کی یادگار امام سجاد(ع) کی طرف متوجہ ہوتیں توآپ کاغم وحزن بڑھ جاتا تھا اوروہ دلخراش مصائب آپ کے دل کومذید غم واندوہ میں ڈبو دیتے تھے نقل ہوا ہے کہ حضرت سیدہ اپنے بھائی کی شہادت کے بعد صرف دوسال زندہ رہیں اوراس غم ومصیبت کی وجہ سے آپ کی وفات ہوئی ہے کربلا کے بعد یہ قافلہ سالار بی بی اتنے مصائب دیکھنے کے باوجود جہاں خود عزاداراورگریہ کناں تھیں وہاں دوسروں کوتسلی وتشفی بھی دیتی رہی ہیں جب کربلا کالٹا ہوا قافلہ مقتل شہداء سے گذرا توحضرت سجاد علیہ السلام نے جب اپنے مظلوم بابا اورعزیزوں کے بے گوروکفن لاشوں کودیکھا تورنگ متغیر ہوگیا اورقریب تھا کہ روح پروز کرجاتی جب ثانی زہرا (ع) نے یہ کیفیت دیکھی توامام سجاد(ع) کومتوجہ کیااورفرمایا:(مالی أراک ماذا تجودبنفسک یابقیة جدی وأبی وأخوتی)سجاد(ع) ! میں کیا دیکھ رہی ہوں یہ تواپنے ساتھ کیا کررہا ہے؟
کربلا سے کوفہ پھرکوفہ سے شام جہاں موقع ملا اس بی بی نے اپنے مظلوم بھائی کی مجلس پڑھی ہے اورخطبے دیے ہیں ابن زیاد اوریزیدملعون کے بھرے درباروں میں مجلس بپا ہوئی اوربی بی نے بھائی کے پیغام کوعام کیا ہے حضرت زینب (ع) اپنے بھائی کی شہادت کے بعدمولیٰ کی نائب خاص تھیں اورحلال وحرام بیان فرماتی تھیں چونکہ امام سجاد علیہ السلام بیماری کی وجہ سے سوال کرنے والوں کاجواب نہیں دے سکتے تھے اس لئے امام جعفرصادق علیہ السلام نے حضرت زینب (ع) کے دامن چاک کرنے والے عمل کوجوثانی زہر(ع) نے اپنے باپ اور بھائی کی مصیبت پرکیا ہے اس کے جواز کی سند کے طور پربیان فرمایا ہے۔(جواھرالکلام ، ج ۴، ص۳۰۷)
ارباب مقاتل نے عزاداری اہل بیت(ع) کاایک اورواقعہ بھی ذکر کیا ہے کہ جب کربلا کایہ قافلہ کوفہ پہنچا توحضرت زینب سلام اللہ علیہا کی نظر پڑی کہ نوک نیزہ ہے اوربھائی کاسرِأطہر ہے توہاتھ توپابندرسن تھے یہ منظر دیکھنے کے بعد بے ساختہ ام المصائب بی بی نے اپنی پیشانی اونٹ کے کوہان پرماری پیشانی زخمی ہوئی خون جاری ہوا اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ فرط غم وحزن میں بے ساختہ اس طرح کاعکس العمل ممکن ہوسکتا ہے۔
کامل میں شیخ بہائی نے نقل کیا ہے کہ حضرت ام کلثوم(ع) نے کسی کویزید کے پاس بھیجا تاکہ اجازت دے حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کے لئے سوگواری وعزاداری کریں یزید نے اجازت دی اورحکم دیا کہ اہل بیت(ع) کودارالآمارہ میں لے جایا جائے تاکہ وہاں عزاداری کریں اہل بیت(ع) نے وہاں سات دن تک عزادار ی کی اور شام کی بہت ساری عورتیں ساتھ شامل ہوجاتی تھی اورعزاداری کرتی تھیں مروان نے یزید کواس عزاداری کی خبردی اورکہا کہ شام کے لوگوں کی سوچ بدل چکی ہے اوراہل بیت(ع) کاشام میں رہنا بادشاہ کی حکومت کے لئے خطرناک ہے لہذا ان کے سفر کے مقدمات کوآمادہ کیاجائے اوران کومدینہ بھیج دیاجائے جس کے بعد یزید نے حکم دیا کہ ان کومدینہ بھیجا جائے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں بھی اہل بیت(ع) کوموقع ملا ہے صف ماتم بچھائی ہے اورعزاداری کی ہے اورحضرت سیدالشہداء اورآپ کے باوفا اصحاب کی مظلومیت کی داستان سنائی ہے اورحکومت وقت کے ظلم سے نقاب الٹی ہے اس واقعہ اوردیگر واقعات سے ہم اس نتیجے پرپہنچتے ہیں کہ موسمی عزاداری نہیں ہونی چاہیے بلکہ آئمہ ھدیٰ علیھم السلام نے جب موقع ملا عزاداری کی ہے لہذا موسمی عزادار حقیقی عزادار نہیں ہے اورنہ اہل بیت(ع) کی مطلوب عزاداری ایسی عزادار ی ہے لہذا عزاداری صرف عشرہ محرم سے خاص نہیں ہے بلکہ اہل بیت(ع) کی عزاداری ہروقت اورہرزمانے میں رہی ہے اوراہل بیت(ع) کاپیغام بھی یہی ہے کہ یہ عزاداری ہروقت رہنی چاہئے کیونکہ دین ابدی ہے موسمی نہیں ہے اورعزاداری دین کے پیغام کابہترین ذریعہ ہے لہذا عزاداری بھی موسمی نہیں ہونی چاہئے شام میں اہل بیت علیھم السلام کاسات روز تک عزاداری کرنے سے شام کے لوگوں کی سوچ بدل گئی اوریزید کواپنی حکومت کاخطرہ دکھائی دینے لگا تومعلوم ہوا ایسی عزاداری آئمہ (ع) نے کی ہے کہ جس سے حکومتیں ہل گئیں اورظالم گھبراگئے اورڈرگئے نہ وہ عزاداری کہ جوظالموں کوتحفظ فراہم کرے اورحکام وقت عزاداری کی آڑ میں اپنے دنیاوی مفادات کوحاصل کریں ایسی عزاداری نہ آئمہ نے کی ہے اورنہ ان کامطلوب ہے۔
اہل حرم کایہ لٹا ہوا قافلہ جب شام سے مدینہ لے جایا گیا توبشیر بن جذلم کہتا ہے کہ جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے توامام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:اونٹوں سے سامان اتاردیا جائے اورقافلے کوروک دیا جائے خیمے لگادیے گئے اوراہل حرم خیام میں قیام پذیر ہوگئے بشیر روایت کرتا ہے کہ امام (ع) نے مجھے بلایا اورفرمایا بشیر خدا تیرے باپ جذلم پررحمت کرے اچھا شاعرتھا کیاتوبھی شعر کہہ سکتا ہے؟میں نے عرض کیا ہاں فرزندرسول(ص) امام علیہ السلام نے فرمایا:ابھی مدینہ شہرمیں جاؤ اورحضرت ابی عبداللہ کی شہادت اورہمارے مدینہ میں ورود کی خبر مدینہ والوں کودے دو بشیر کہتا ہے کہ میں گھوڑے پرسوار ہوااورجلدی سے مدینہ شہر میں گیا مسجد نبوی(ص) کی طرف گیا تووہاں بلند آواز سے یہ اشعار پڑھے:

یا أهل یثرب لامقام لکم به
قتل الحسین وأدمعی مدرارُ
الجسم منه بکربلا مضرّج
والرأس منه علیٰ القناۃ یدارُ

پھرلوگوں کی طرف متوجہ ہوا اورکہا :’’علی ابن الحسین علیہ السلام اپنی پھوپھیوں اوربہنوں کے ساتھ مدینہ سے باہرموجود ہیں مورخین نے لکھا ہے کہ جب یہ خبر مدینہ والوں نے سنی مدینہ میں کوئی عورت بھی گھرمیں نہ رہی بلکہ سب لوگ گریہ کرتے ہوئے مدینہ سے باہر آئے بشیرکہتا ہے کہ اس دن جوگریہ کامنظر تھا وہ میں نے کہیں نہیں دیکھا۔
اب آیئے اس میں غوروفکر کرتے ہیں کہ کیاضرورت پیش آئی کہ امام سجاد علیہ السلام نے اس مصیبت بھرے قافلے کومدینہ سے باہر روک لیا سوائے یہ کہ مولیٰ چاہتے تھے کہ مدینہ والوں کااجتماع کریں اوروہاں پرحضرت سیدالشھداء علیہ السلام کی مجلس بپا کریں اورحضرت نے وہاں ایک دردناک خطبہ دیا اور عزاداری کی اورپھر حضرت نے بشیر کوجب مدینہ بھیجا توپوچھا کیاتوشعر کہہ سکتا ہے؟یعنی امام علیہ السلام چاہتے تھے کہ اہل حرم کے مدینہ میں ورود والی خبر مؤثر اورحماسی انداز سے دی جائے،لوگوں کے احساسات اورعواطف سے مثبت نتائج لیے جائیں اور اپنی مظلومیت کی داستان اوربنی امیہ کی سیاہ کاریاں بتائی جائیں ۔
ہجرت کے آٹھویں سال جب پیغمبر(ص) کے فرزندابراہیم کاانتقال ہواتو قبرستان بقیع میں دفن کردیا گیاپیغمبر گرامی اسلام(ص) نے اپنے اس فرزند کے فراق میں گریہ کیا آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے حضرت سے کسی نے کہا یارسول اللہ(ص)! آپ دوسروں کوتوگریہ سے منع کرتے ہیں اورخود روتے ہیں؟رسول خد(ص) نے فرمایا:(لیس هذا بکاء غضب انما هذا رحمة ومن لایرحم لایرحم)’’یہ غصے اورشکوے والا گریہ نہیں ہے بلکہ رأفت ورحمت والا گریہ ہے اورجورحم نہ کرے اس پررحم نہیں کیا جائے گا۔(بحار ، ج۲۲، ص۱۵۱۔ عیون الاخبارالرضا، ج۲، ص۱۱)
اوررسول خدا کایہی فرزند جب آغوش رسول میں تھا اوروقت آخر تھا تورسول خدا نے اس بچے کوخطاب کرکے فرمایا :(أنّا بک لمحزون تبکی العین ویدمع القلب ولانقول مایسخط الرب)(صحیح بخاری، ج۱، ص۱۴۸)
جب رسول خدا (ص) اپنے فرزند کے فراق میں گریہ کرتے رہے توواقعہ کربلا کے دردناک اورالمناک مصائب پردل کیوں نہ روئے؟ اورانسان کاعاطفہ واحساسات اس ظلم پرکیوں نہ جوش میں آئیں ؟لہذا یہ گریہ اوررونا انبیاء کی سنت ہے انسانیت کی نشانی ہے شرافت آدمیت ہے اس لئے حضرت آدم علیہ السلام اپنے بیٹے ہابیل کی مصیبت میں اتنا متاثرہوئے کہ چالیس رات تک گریہ کیا۔
صاحب حیاۃ الامام الحسین(ع) نے لکھا ہے کہ اہل بیت(ع) کے مدینہ میں وارد ہونے کے بعد بنی ہاشم شہداء کربلا کے سوگ میں غمگین ہوئے اورتین سال تک عزاداری اورماتم کرتے رہے اوررسول خداکے عمررسیدہ اصحاب مسوربن محذمہ ‘ ابوہریرہ اوردوسرے اصحاب چھپ کرآتے تھے تاکہ بنی ہاشم کی عزاداری میں شریک ہوں اوربنی ہاشم کے ساتھ ہم صدا ہوکر حضرت سیدالشہداء کے سوگ میں گریہ کرتے تھے۔(حیاۃ الامام الحسین، ج۳، ص۴۲۸)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے وقت آخر اپنے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کوجہاں غسل وکفن کے حوالے سے وصیت فرمائی وہاں خصوصیت کے ساتھ یہ وصیت فرمائی ہے کہ میرے مال میں سے آٹھ سو درہم میری عزاداری کے لئے مخصوص کردیئے جائیں اوردس سال تک حج کے موقع پر منیٰ کے میدان میں میراغم منایا جائے اس وصیت پرغوروفکر کیاجائے تومعلوم ہوتا ہے کہ عزاداری اہل بیت(ع) پرخرچ کرنا آئمہ(ع) کی آرزو تھی اورپھر حضرت نے منیٰ کے مقام کاکیوں انتخاب کیا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ کیونکہ اس تاریخ کوعام طورپرحجاج اس علاقہ میں رہتے ہیں اورپوری دنیا کے گوشے گوشے سے سارا عالم اسلام اکٹھا ہوتا ہے اس لئے اس نکتہ کاانتخاب فرمایا تاکہ اس طرح سے لوگوں کوحکام وقت کے مظالم اورآل محمد(ص) کے فضائل وکمالات اوران کی تعلیمات سے آگاہی ہوتی رہے اس وصیت سے عزاداری کے اہتمام اوراس پرانفاق کے حوالے سے خصوصی تاکید معلوم ہوتی ہے۔
نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ عزاداری کااہتمام اوراس کورواج دینا آئمہ علیھم السلام کی مرضی کے عین مطابق ہے اورانھوں نے خود یہ عمل کرکے دکھایا ہے البتہ وہ عزاداری جوآئمہ اہل بیت علیھم السلام کی حقانیت اورحکام کے ظلم کوبیان کرے اورجس عزاداری کے سائے میں دین کاپیغام ہونہ کہ وہ عزاداری جس سے آئمہ اطہار(ع) کی توہین ہوجومقدسات کی توہین کاباعث بنے جس کودیکھ کرلوگ آئمہ (ع) سے دور ہوں۔
امام جعفرصادق (ع) اورعزاداری:
 چھٹے امام حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام اورامام ہشتم امام علی رضاعلیہ السلام کادورقدرے فرصت اورمہلت کادورتھا لہذا ان حضرات نے اس تبلیغی عنصر کوکافی فروغ دیا فرش عزا بچھایا لوگوں کوجمع کیاشاعر یاخطیب سے ذکرمصائب کامطالبہ کیااورسامعین کوبلند آواز سے گریہ کرنے پرزور دیا تاکہ ذکرمصائب عام ہواورلوگ اس کی بنیادیں تلاش کرنے کی طرف متوجہ ہوں ان دونوں اماموں نے اپنے دور میں عزاداری کے فروغ میں اہم کردارادا کیا ہے۔
عبداللہ بن سنان روایت کرتا ہے کہ عاشور کے دن میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں گیا دیکھا حضرت (ع) کارنگ اتراہوا ہے بہت غم واندوہ کی کیفیت میں تھے آنکھوں سے آنسو موتیوں کی طرح جاری تھے میں نے گریہ کاسبب پوچھا فرمایا کیاتمہیں نہیں معلوم کہ اس دن ہمارے جدحسین(ع) کوشہید کیا گیا۔(سفینۃ البحار، ج۳، ص ۳۰۳)
ایک سوال ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ (ص) کایوم وفات اورباقی آئمہ اطہار(ع) کے ایام شہادت کواتنا عظیم مصیبت اورغم وحزن والا دن کیوں نہیں قرار دیا گیا اوران حضرات کے ایام غم پراتنا غم کیوں نہیں منایاجاتاہے؟
یہی سوال ایک صحابی نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے پوچھا:عبداللہ بن فضیل کہتا ہے کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ کیاوجہ ہے کہ عاشور کادن اتنی مصیبت وغم کادن قرار پایا لیکن پیغمبراسلام(ص) کایوم وفات ،مولائے کائنات (ع) ،حضرت سیدہ زہر(ع) اورحضرت امام حسن (ع) کے ایا م شہادت اتنی مصیبت کے دن کیوں نہیں ہو سکتے؟امام علیہ السلام نے فرمایا:(أن یوم الحسین اعظم مصیبة من جمیع الأیام ۔۔۔۔۔۔فکان ذهابُه‘کذهاب جمیعهم)(وسائل الشیعة، ج۱، ص۳۹۴)
فرمایا:’’عاشورکادن اس لئے بڑی مصیبت کادن ہے کیونکہ جب رسول اللہ کی وفات ہوئی توامیرالمؤمنین موجود تھے، باقی پنجتن آل عب(ع) موجود تھے مگرجب ہمارے جد حسین(ع) کی شہادت ہوئی توگویا سب کی شہادت واقع ہوئی ہے اور پنجتن کی آخری نشانی حسین(ع) تھے۔‘‘
بعض اوقت امام جعفرصادق علیہ السلام نے اپنے صحابیوں کومجالس عزاداری قائم کرنے کاحکم بھی دیتے تھے اپنے ایک صحابی فضیل کوفرمایا:کیا مجالس برپا کرتے ہواوربحث وگفتگو کرتے ہو؟جب فضیل نے مثبت جواب دیا توامام علیہ السلام نے فرمایا:ان مجالس کومیں پسند کرتا ہوں فأحیوا أمرنا رحم الله من أحیٰ أمرنا دعا بھی فرمائی ہے کہ خدا رحم کرے اس شخص پرجوہمارے امرامامت وولایت کوزندہ رکھے۔ (قرب الاسناد، ص۱۸)
لہذا آئمہ علیھم السلام نے مختلف اوقات میں اپنے صحابہ کوعزاداری کی اہمیت اوراس کوبپا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اوربعض اوقت کسی قصیدہ خوان اورمرثیہ خواں کومرثیہ پڑھنے کاحکم دیتے اورگریہ فرماتے امام جعفرصادق علیہ السلام ،ابوھارون مکفوف مشہور مرثیہ خواں کوحکم دیتے کہ مرثیہ پڑھو جب وہ مرثیہ پڑھتا تودیکھا گیا امام علیہ السلام بہت گریہ فرمارہے تھے اورامام (ع) کے رونے کے ساتھ پردے کے پیچھے موجود خواتین بھی گریہ کرتیں اوراس طرح سے یہ صف ماتم بچھائی جاتی رہی۔
امام رضا علیہ السلام اورمعروف شاعر دعبل خزاعی:
دعبل بن علی خزاعی جوکہ درجہ اول کاشاعر تھا اورجس کامقام فصاحت وبلاغت اورشعروادب بیان سے بالاتر ہے کہتا ہے کہ جب میں نے قصیدہ’’مدارس آیات‘‘نظم کیاتوچاہا کہ امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں خراسان جاؤں اور یہ قصیدہ ان کے حضور پیش کروں مرو میں امام (ع) قیام پذیرتھے اورآپ(ع) کی ولی عہدی کادورتھا شیخ صدوق نے روایت کی ہے کہ دعبل مقام مرو میں امام (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیافرزندرسول(ص) میں نے آپ کے لئے ایک قصیدہ لکھا ہے اورقسم کھائی ہے کہ آپ سے پہلے کسی کے سامنے نہیں پڑھوں گا امام (ع) نے فرمایا: لے آؤ،فرش عزا بچھوادیا پس پردہ خواتین کوطلب کیا اورپھر اس عظیم مداح اہل بیت(ع) نے قصیدہ پڑھا جب یہ شعر پڑھا:
أریٰ فیءهم مقتسماً فی غیرهم وأیدیهم من فیءهم صفران
’’میں دیکھتاہوں ان کامال(فئی)غیروں میں تقسیم ہورہا ہے اوران کے ہاتھ اپنے مال(فئی)سے خالی ہیں۔‘‘دعبل کہتا ہے حضرت گریہ کرنے لگے اورفرمایا اے خزاعی!توسچ کہتا ہے پھردعبل نے ایک اورشعر پڑھا کہ’’ جب ان پرظلم ہوتا ہے تووہ ظلم کرنے والوں کی طرف اپنی ہتھیلیاں بڑھاتے ہیں جوکہ بدلہ لینے سے بند ہیں ۔‘‘دعبل کہتا ہے کہ امام (ع) نے اپنی ہتھیلی کوبند کیااورفرمایا خدا کی قسم بند ہیں غرض امام علیہ السلام نے دعبل کے ہرشعر پرداد دی اورحوصلہ افزائی کی ہے جب دعبل نے آخری شعر پڑھا جوکہ آپ کے والدگرامی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے بارے میں تھا توامام (ع) نے فرمایا :دعبل !میں تیرے اس قصیدے کے ساتھ دوبیت اورملحق کردوں تاکہ تیرا قصیدہ مکمل ہوجائے پھرامام (ع) نے یہ شعر پڑھے:
وقبر بطوسٍ یالها من مصیبة الحش علیٰ الأحشاء باالزفرات
الیٰ الحشر حتیٰ یبعث الله قائماً یفرّج عنا الهم والکربات
’’اورایک قبرطوس میں ہے اورکتنی بڑی مصیبت ہے اس کی کہ جس نے اپنی گرم سانسوں سے انتڑیوں کوچھیل دیا حشر کے دن تک کے لئے یہاں تک کہ خدا قائم علیہ السلام کومبعوث کرے گا جوہمارے غم اورمصیبتوں کودور کرے گا۔‘‘
دعبل نے پوچھا :مولیٰ (ع) ! یہ کس کی قبر ہے؟ آپ(ع) نے فرمایا:یہ میری قبر ہوگی تومعلوم ہوتا ہے کہ آئمہ ھدیٰ علیھم السلام ایسے مداحوں اورشعراء کاکلام سنتے تھے اوران کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے حقیقت میں مقصد اس ذکرکوزندہ رکھنا تھا۔
دعبل کے اس قصیدے کے بعد امام علیہ السلام نے دعبل کوایک سواشرفی کاانعام عطا فرمایا جس پرحضرت کااسم گرامی کندہ تھا کہ خدمت اہل بیت(ع) کامطلب مفت کام کرنا نہیں ہے بلکہ خدمت کرنا امت کاکام ہے اورانعام دینا اہل بیت(ع) کی اپنی ذمہ داری ہے ۔
حضرت امام رضا علیہ السلام نے روایت کی ہے کہ جب بھی ماہ محرم آتا تھا تومیرے والد کوخوشی میں ہنستے ہوئے نہیں دیکھا جاتا بلکہ غم واندوہ میں چلے جاتے تھے یہاں تک کہ عاشور کادن آتا تھا تواس دن آپ(ع) کاگریہ بڑھ جاتا تھا اورفرماتے تھے :(هویوم الذی قتل فیه الحسین(ع) )(امالی شیخ صدوق، ص ۱۲۸)
اس کے علاوہ خود امام علیہ السلام بھی آغاز محرم کے ساتھ ہی سوگواری کاسلسلہ شروع کردیتے تھے اورمحرم کے آغاز میں اپنے صحابی ابن شبیب کوفرمایا:(یا بن الشبیب أن کنت باکیاً فابک علیٰ جدی الحسین(ع) ) اے ابن شبیب! اگرکسی بات پررونا آئے تومیرے جدحسین(ع) پرگریہ کرنا اس لئے کہ انھیں بھوکا،پیاسا شہید کیاگیا ہے۔
البتہ اس کاہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ عزاداری صرف عشرۂ محرم سے خاص ہے نہیں بلکہ جیسے ہم گذشتہ واقعات وروایات سے نتیجہ لے چکے ہیں کہ عزاداری موسمی نہیں ہے اورنہ موسمی عزادار ہونا آئمہ ھدیٰ علیھم السلام کامطلوب ہے۔
اوراس مطلب پر بہترین دلیل امام زمانہ علیہ السلام کے یہ جملے ہیں کہ آپ (ع) نے فرمایا :’’لاَندینّکَ صبا حاً ومساءً ولَابکینّکَ بَدَلَ ألدموع دَماً ‘‘ اے حسین (ع) ! میں صبح وشام آپ کی مصیبت پر روتا ہوں اور آپ پر آنسو کے بدلے خون گریہ کرتا ہوں ۔(بحار الانوار ج ۹۸،ص۳۲)
آئمہ علیھم السلام کی طرف سے حضرت سیدالشھداء (ع) اورآپ کے باوفا اصحاب کی عزاداری پربہت زیادہ تاکید ہوئی ہے اوردین کی بقاء اوراس کوانحرافات سے بچانے میں کوئی عمل عزاداری سے بڑھ کرنہیں ہے عزاداری اسلامی فرہنگ کوفروغ دینے کابہترین ذریعہ ہے جیسا کہ حکیم امت امام خمینی ؒ نے فرمایا:’’امام حسین(ع) نے اسلام کونجات دی اورخود قربان ہوگئے اورجس عظیم ہستی نے اسلام کے لئے قربانی دی ہے ہمیں ا س کے لئے ہرروز گریہ کرنا چاہئے اوراس مکتب کی حفاظت کے لئے ہمیں ہرروز مجلس بپا کرنی چاہئے محرم وصفر ہے جس نے اسلام کوزندہ کیا ہے اورحضرت سیدالشھداء علیہ السلام کی قربانی ہے جس نے ہمارے لئے اسلام کوزندہ کیا ہے۔
آخر میں اہل بیت علیھم السلام کی عزاداری کے چند نمونے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جس سے عزاداری اہل بیت(ع) کی روش اورانداز مذید واضح ہوجائے گا۔
حضرت امّ البنین:
 حضرت عباس علمدار(ع) کی مادرگرامی کوجب اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی توحضرت دن میں قبرستان بقیع میں چلی جاتی تھیں اوراپنے ان جگرگوشوں کی عزاداری اورنوحہ خوانی کرتیں مدینہ کی عورتیں ان کے گردجمع ہوجاتیں اوران کے ساتھ ہم نالہ ہوجاتی تھیں تواس طرح سے عزاداری کاایک سلسلہ قبرستان بقیع میں جاری رہتا تھا نقل کیاگیا ہے کہ حضرت کی عزاداری اتنی دردناک تھیں کہ اہل بیت(ع) کاسب سے بڑا دشمن مروان بن حکم جب دن کوقبرستان سے گذرتا تھا اورحضرت کے نالہ وفریاد کوسنتا تھاتوبہت متاثر ہوتا۔(حیاۃ الحسین،۳،ص۴۳۰)

حضرت کے اپنے جگرگوشوں کے سوگ میں چنداشعار:
یامن رأی العباس کرَّ علیٰ جماهیر النقد
ووراءَ ه من ابناء حیدر کلّ لیث ذولَبَد
أنبئتُ أَنَّ ابنی أُصیب برأسه مقطوع ید
وَیلی علیٰ شبلی آمال برأسه ضرب العمد
لوکان سیفک فی یدیک لَمَا دمیٰ منک أحد
لاتدعونّی ویک ام البنین تذکِّرینی بلیوث العرین
کانت بنونٌ لی أدْعیٰ بهم والیوم اصبحتُ ولامن بنین
أربعة مثل نُسورِ الربیٰ قدواصلوا الموت بقطعِ الوتین

ترجمہ:’’اے وہ جس نے عباس(ع) کودیکھا ہے کہ مخالف گروہ پرحملہ ور ہوتے تھے اوران کے پیچھے قوی شیرکی مانند حیدر(ع) کے بیٹے ہوتے تھے مجھے خبردی گئی ہے کہ میرے بیٹے کاسرمجروح اورہاتھ کٹ گئے وای کہ میرے بیٹے کے سرپرعمود کاوار کیاگیا اگرتیرے ہاتھ میں تیری تلوار ہوتی توکوئی بھی تیرے نزدیک نہ آتا اب مجھے ام البنین نہ کہو کیونکہ مجھے میرے بیٹے کے شیربیٹوں کی یاددلاتے ہو میرے بیٹے تھے کہ مجھے ان کے ذریعے پکارا جاتا تھا اورآج میراکوئی بیٹا نہیں ہے چاربیٹے تیزپرواز عقاب کی مانند گلے کٹوا کے موت کوجاملے ہیں۔(نغثۃ المصدر،ص۶۶۳)
حضرت ام رباب سلام اللہ علیھا:
حضرت ام رباب(ع) کہ جن کے والد امرؤ القیس عرب کے بڑے قبیلے سے جن کاشمار ہوتا تھا اورحضرت سیدالشہداء (ع) کے ہاں حضرت رباب(ع) کابڑا مقام تھااورہمیشہ مولیٰ کی نظر ان کے شامل حال تھی روایت کی گئی ہے کہ امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد حضرت رباب(ع) جب تک زندہ رہیں ہمیشہ گریہ کرتی رہیں ابن اثیر کہتا ہے کہ حضرت رباب(ع) جب قافلے کے ساتھ مدینے واپس آئیں توقریش کے بزرگوں نے حضرت رباب(ع) سے شادی کی خواہش کی توآپ نے جواب دیا کہ فرزند رسول(ص) کے بعد میں کسی اورکے فرزند کی ہمسری میں نہیں آؤں گی ایک سال تک حضرت رباب(ع) گریہ وعزاداری کرتی رہیں اورایک سال تک سائے میں نہیں بیٹھیں اوراسی غم کی وجہ سے آپ کی وفات ہوجاتی ہے۔ (کامل ابن اثیر،ج۴، ص۸۸)
حضرت رباب(ع) نے مولیٰ امام حسین(ع) کے لئے یہ مرثیہ کہاہے جوآپ کے غم واندوہ کی کیفیت کوبیان کرتا ہے:

أنّ الّذی کان نوراً یُستضاءُ به     بکربلا قتیل غیرمدفون
سبط النبی جزاک الله مصالحة    عنّا وجنبّت خسران الموازین
قدْ کنتَ لی جبلاً صفراً ألوذُبه و    کنت تصحبنا باالرحم والدین
من للیتامیٰ ومن للسائلین ومن     یعنی ویاوی ألیه کلّ مسکین
والله لاابتغی صهراً بصهرکم     حتیٰ اغیّب بین الرمل والطین
حضرت امام سجاد علیہ السلام:
 مدینہ سے مکہ، مکہ سے کربلا، کربلا سے کوفہ وشام تک کے تمام حالات ومصائب کے عینی شاہد امام سجاد علیہ السلام تھے اس لئے بابا کی شہادت کے بعد چالیس سال برابر بابا کے غم میں روئے جبکہ دن میں روزہ رکھتے تھے اوررات کوخدا کی عبادت میں بسر کرتے تھے اورجب آپ کاخادم افطار کاسامان آپ(ع) کے پاس لاتا توآپ(ع) شدت سے گریہ کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ میں کیسے پانی پیؤں جبکہ میرے بابا کوپیاسا شہید کیاگیا ہے۔
راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت (ع) کی خدمت میں عرض کیا مولیٰ (ع) !کیاابھی وقت نہیں آیا کہ آپ کم گریہ فرمائیں؟ توامام علیہ السلام نے فرمایا: وای ہوتم پرحضرت یعقوب(ع) کے بارہ بیٹے تھے ایک بیٹا گم ہوا تھااس کے فراق میں اتنا روئے کہ سر کے بال سفید ہوگئے ،کمرجھک گئی اورآنکھوں کی بینائی جاتی رہی درحالیکہ میں نے اپنے اٹھارہ یوسفوں کوزمین پرٹکڑے ٹکڑے ہوتا دیکھا ہے جبکہ ان کے بدن پرسرموجود نہیں تھے۔

یک پسرگم کرد یعقوب از فراقش گور شد    چون نگریم من کہ یک عالم پدر گم گردہ ام

گذشتہ واقعات وروایات کی روشنی میں ہم حتمی طور پریہ نتیجہ لے سکتے ہیں اہل بیت علیھم السلام کاانداز عزاداری اورتاکید یہی تھی کہ عزاداری اورجلوس ومجالس کے اس سلسلے کوباقی رکھنا چاہئے اورروڈوں پرجلوس عزا حقیقت میں کربلا کے ابدی پیغام کوزندہ کرنا ہے اوریہ شعائراسلامی اہل بیت(ع) کی حقانیت اوران کے مقدس ہدف کوبیان کرتے ہیں اورعزاداری ایک سیاسی عبادی عمل ہے لہذا اگرعزاداری سے اسلام کے سیاسی مقاصد کوحاصل نہ کیا جائے توپھریہ حقیقی عزاداری کی شکل نہیں ہوگی۔


source : alhassanain

 

مام موسی کاظم علیہ السلام کی حیات طیبہ کا مختصر جائزہ

آپ کا اسمِ گرامی موسیٰ اور لقب کاظم ہے ۔ آپکی والدۂ گرامی اپنے زمانے کی با عظمت خاتون جناب حمیدہ خاتون تھیں آپکے والدِ گرامی امام جعفر صادق تھے آپ کی ولادت ۱۲۸ھ میں مدینہ کے نزدیک ابواء نامی قریہ میں ہوئی آپ نے مختلف حکاّم دنیاکے دور میں زندگی بسر کی آپ کا دور حالات کے اعتبار سے نہایت مصائب اور شدید مشکلات اور خفقان کا دور تھاہرآنے والے بادشاہ کیامام پرسخت نظر تھی لیکن یہ آپ کا کمالِ امامت تھا کہ آپ انبوہ مصائب کے دورمیں قدم قدم پر لوگوں کو درس علم وہدایت عطافرماتے رہے ، اتنے نامناسب حالات میں آپ نے اس دانشگاہ کی جوآپ کے پدر بزرگوارکی قائم کردہ تھی پاسداری اور حفاظت فرمائی آپ کا مقصد امت کی ہدایت اورنشرعلوم آل محمد تھا جس کی آپ نے قدم قدم پر ترویج کی اور حکومت وقت توبہرحال امامت کی محتاج ہے ۔
چنانچہ تاریخ میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ مہدی جو اپنے زمانے کا حاکم تھا مدینہ آیا اور امام مو سیٰ کاظم سے مسٔلۂ تحریم شراب پر بحث کرنے لگا وہ اپنے ذہنِ ناقص میں خیال کرتا تھا کہ معاذاللہ اس طرح امام کی رسوائی کی جائے لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وارث باب مدینتہ العلم ہیں چنانچہ امام سے سوال کرتا ہے کہ آپ حرمتِ شراب کی قران سے دلیل دیجیے ٔ امام نے فرمایا ’’خداوند سورۂ اعراف میں فرماتا ہے اے حبیب !کہہ دو کہ میرے خدا نے کارِ بد چہ ظاہر چہ مخفی و اثم و ستم بنا حق حرام قرار دیا ہے اور یہا ں اثم سے مراد شراب ہے ‘‘ امام یہ کہہ کر خاموش نہیں ہوتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں خدا وند نیز سورۂ بقر میں فرماتا ہے اے میرے حبیب !لوگ تم سے شراب اور قمار کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دو کہ یہ دونوں بہت عظیم گناہ ہے اسی وجہ سے شراب قرآن میں صریحاً حرام قرار دی گئی ہے مہدی، امام کے اس عالما نہ جواب سے بہت متأثر ہوا اور بے اختیارکہنے لگا ایسا عالمانہ جواب سوائے خانوادۂ عصمت و طہارت کے کوئی نہیں دے سکتا یہی سبب تھا کہ لوگوں کے قلوب پر امام کی حکومت تھی اگر چہ لوگوں کے جسموں پر حکمران حاکم تھے ۔ہارون کے حالات میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ قبرِ رسول اللہ پر کھڑ ے ہو کر کہتا ہے اے خدا کے رسول آپ پر سلام اے پسرِ عمّو آپ پر سلام ۔وہ یہ چاہتا تھا کہ میرے اس عمل سے لوگ یہ پہچان لیں کہ خلیفہ سرور کائنات کا چچازاد بھائی ہے ۔اسی ہنگام امام کاظم قبر پیغمبر کے نزدیک آئے اورفرمایا’’اے اﷲکے رسول! آپ پرسلام‘‘اے پدر بزرگوار! آپ پرسلام‘‘ ہارون امام کے اس عمل سے بہت غضبناک ہوا۔فوراً امام کی طرف رخ کر کے کہتا ہے ’’آپ فرزند رسول ہونے کادعوہ کیسے کرسکتے ہیں ؟جب کہ آپ علی مرتضیٰ کے فرزندہیں ۔امام نے فرمایاتونے قرآن کریم میں سورۂ انعام کی آیت نہیں پڑ ھی جس میں خدا فرماتا ہے ’’قبیلۂ ابراہیم سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ، اورالیاس یہ سب کے سب ہمارے نیک اورصالح بندے تھے ہم نے ان کی ہدایت کی اس آیت میں اللہ نے حضرت عیسیٰ کو گزشتہ انبیاء کا فرزند قرار دیا ہے ۔حالانکہ عیسیٰ بغیرباپ کے پیدا ہوئے تھے ۔حضرت مریم کی طرف سے پیامبران سابق کی طرف نسبت دی ہے اس آیۂ کریمہ کی روسے بیٹی کابیٹا فرزندشمار ہوتا ہے ۔ اس دلیل کے تحت میں اپنی ماں فاطمہ کے واسطہ سے فرزند نبی ہوں ۔اس کے بعدامام فرماتے ہیں کہ اے ہارون!یہ بتاکہ اگر اسی وقت پیغمبردنیا میں آجائیں اور اپنے لئے تیری بیٹی کا سوال فرمائیں تو تو اپنی بیٹی پیغمبرکی زوجیت میں دے گایا نہیں ؟ہارون برجستہ جواب دیتا ہے نہ صرف یہ کہ میں اپنی بیٹی کوپیامبر کی زوجیت میں دونگا بلکہ اس کارنامے پرتمام عرب و عجم پر افتخار کرونگا امام فرماتے ہیں کہ تو اس رشتے پر تو سارے عرب و عجم پر فخر کریگا لیکن پیامبر ہماری بیٹی کے بارے میں یہ سوال نہیں کر سکتے اسلئے کہ ہماری بیٹیاں پیامبر کی بیٹیاں ہیں اور باپ پر بیٹی حرام ہے امام کے اس استدلال سے حاکم وقت نہایت پشیمان ہوا ۔امام موسیٰ کاظم نے علم امامت کی بنیاد پر بڑ ے بڑ ے مغروراورمتکبربادشا ہوں سے اپنا علمی سکّہ منوالیا امام قد م قدم پرلوگوں کی ہدایت کے اسباب فراہم کرتے رہے ۔چنانچہ جب ہارون نے علی بن یقطین کو اپناوزیربنانا چاہا اورعلی بن یقطین نے امام موسیٰ کاظم سے مشورہ کیا تو آپ نے اجازت دیدی امام کا ہدف یہ تھا کہ اس طریقہ سے جان و مال و حقوق شیعیان محفوظ رہیں ۔امام نے علی بن یقطین سے فرمایا تو ہمارے شیعوں کی جان و مال کو ہارون کے شر سے بچانا ہم تیری تین چیزوں کی ضمانت لیتے ہیں کہ اگرتونے اس عہد کو پورا کیا توہم ضامن ہیں ۔تم تلوارسے ہرگز قتل نہیں کئے جاؤگے ۔ہرگزمفلس نہ ہو گے ۔ تمہیں کبھی قید نہیں کیا جائے گا۔علی بن یقطین نے ہمیشہ امام کے شیعوں کو حکومت کے شرسے بچایا اورامام کاوعدہ بھی پورا ہوا۔نہ ہارون، پسر یقطین کوقتل کرسکا۔نہ وہ تنگدست ہوا۔نہ قید ہوا۔لوگوں نے بہت چاہاکہ فرزند یقطین کو قتل کرادیاجائے لیکن ضمانتِ امامت، علی بن یقطین کے سرپرسایہ فگن تھی ۔ چنانچہ تاریخ میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ ہارون نے علی بن یقطین کو لباس فاخرہ دیا علی بن یقطین نے اس لباس کو امام موسیٰ کاظم کی خدمت میں پیش کر دیامولا یہ آپ کی شایانِ شان ہے ۔امام نے اس لباس کو واپس کر دیا اے علی ابن یقطین اس لباس کو محفوظ رکھو یہ برے وقت میں تمہارے کام آئے گا ادھر دشمنوں نے بادشاہ سے شکایت کی کہ علی ابن یقطین امام کاظم کی امامت کا معتقد ہے یہ ان کو خمس کی رقم روانہ کرتا ہے یہاں تک کہ جو لباس فاخرہ تو نے علی ابن یقطین کو عنایت کیا تھا وہ بھی اس نے امام کاظم کو دے دیا ہے ۔بادشاہ سخت غضب ناک ہوا اور علی ابن یقطین کے قتل پر آمادہ ہو گیا فورا ًعلی ابن یقطین کو طلب کیا اور کہا وہ لباس کہاں ہے جو میں نے تمہیں عنایت کیا تھا ؟علی ابن یقطین نے غلام کو بھیج کر لباس، ہارون کے سامنے پیش کر دیا ہارون بہت زیادہ خجالت زدہ ہو ا یہ ہے تدبیر امامت اور علم امامت۔ خدا ہم سب کو علوم ومعارفِ آل محمد سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے


source : alhassanain