ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر جموں میں مودی سرکار نے اسرائیلی طرز تفکر کو عملی جامہ پہناتے ہوئے مسلمانوں کے ۸۰ مکانات کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جموں کی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے دریائے توی میں گوالف کورس سے ملحق علاقہ پر چلائی گئی انہدامی کارروائی کے دوران گوجر بکرول طبقے سے وابستہ لوگوں کے 80کے قریب ڈھانچے مسمار کر دئیے گئے جن میں 2درجن کے قریب پختہ رہائشی مکانات بھی شامل ہیں۔

کشمیر عظمیٰ کی رپورٹ کےت مطابق، جے ڈی اے نے 35ایکڑ سے زائد سرکاری زمین واگزار کروانے کا دعویٰ کیا ہے جس پر، بقول اتھارٹی ان لوگوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔
یہ کارروائی صبح 5بجے شروع کی گئی جو شام تک جاری رہی۔ اس دوران بھاری تعداد میں پولیس اور سی آر پی ایف کی نفری تعینات کی گئی تھی۔ اگر چہ مقامی لوگوں نے احتجاج کیا لیکن پولیس نے ان ڈھانچوں کو منہدم کر دیا ۔
وائس چیئر مین جے ڈی اے پی ایس راٹھور کے مطابق’جے ڈی اے اراضی پر تعمیر کردہ ڈھانچوں میں سے کئی ایک پولیس اہلکاروں کی ملکیت ہیں اور محکمہ ایسے ناجائز قابضین کی فہرست تیار کر رہا ہے جو کہ حکومت کو انضباطی کارروائی کے لئے بھیجی جائے گی۔
احتجاج کر رہے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے مخصوص علاقوں کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
مظاہرین کی قیادت کر رہے گوجر بکروال تحریک انصاف کے صدر نزاکت کھٹانہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ لوگوں کو گھروں سے اپنا سامان بھی نہیں نکالنے دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ جموں شہر اور گرد و نواح میں درجنوں کی تعداد میں ناجائز کالونیاں آباد ہیں بلکہ گورکھا نگر، ریشم گھر کالونی اور دیگر مقامات پر ایک سازش کے تحت غیر ریاستی اور غیر ملکی شہریوں کو بسایا گیا ہے لیکن نشانہ صرف مسلم اکثریتی بستیوں کو ہی بنایا جاتا ہے ۔
جے ڈی ای کی طرف سے چلائی گئی مہم پر شدید غم و غصہ کا اظہا رکرتے ہوئے گوجر بکروال اصلاحی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری چودھری اختر نے کہا کہ جموں کے مسلمانوں کے خلاف پچھلے چند برس سے سازشوں کے تحت انہدامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ با اثر سیاستدان سینکڑوں کنال جنگلات، جے ڈی اے اور سرکاری اراضی پر قابض ہیں لیکن بی جے پی پی ڈی پی حکومت کے دور میں صرف مسلم بستیوں کو اجاڑنے کی مہم شروع کی گئی تھی جو موجودہ گورنر کے عہد میں مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔