مولانا مرزاحسین امینی گوند منگلپور
غرب ,اسلامی انقلاب کا دشمن کیوں؟
جب سے انسان نے اس کرہ خاکی پر قدم رکھا ہےافکار کی ٹکراؤ شروع ہوئی کیوں کہ خدا وند عالم نے اپنی حکمت سے انسان کو آزاد اندیشہ اور مختار خلق کیا ہے البتہ ہدایت کا راستہ ہر انسان کے لئے نمایاں ہے لیکن اس پر چلنا زبردستی نہیں ہے خدا وند عالم کا ارشاد ہے کہ إِنَّا هَدَینَاهُ السَّبِیلَ[انسان /۳]راستہ دکھایا گیا ہے مگر کسی کو مجبور نہیں کیا گیا کہ صحیح راستہ کو اپنائے یا غلط راستہ کو۔ اسی آزاد اندیشہ کی وجہ سے انسان دو بڑے گروہ میں تبدیل ہوا جن کو قرآن نےحذب اللہ اور حذب الشیطان سے تعبیر کیاہے ۔ آپ دیکھیں تاریخ میں آدم (ع) سے لیکر خاتم (ص) تک اور خاتم (ص) سے لیکر قیامت تک ان افکار کی جنگ کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے.

انہی افکار کی وجہ سے ہمیشہ حق پرست یا حزب اللہ دشمنی اور حزب شیطان کی حملہ کا نقطہ بناہوا ہے۔ ہابیل اور قابیل دونوں بھائی تھے لیکن افکار کے لحاظ سے بالکل الگ تھے ایک حزب اللہ میں اور دوسرا حزب شیطان میں ۔
موسیٰ (ع) اور فرعون، عیسیٰ (ع) اور خود پرست یہودیوں کی مثال, ہمارے رسول اور ان کے رشتہ دار وں کی مثال ۔ ابولہب رسول خدا (ص) کے چچا ہوتے ہوئے اس حد تک گرے کہ قرآن میں مردبادکے نعرہ سے اس کو خطاب کیا " تبَّتْ یدَا أَبِی لَهَبٍ وَتَبَّ"
پیغمبر اکرم (ص) کے بعد افکار کی جنگ مسلمانوں کے مابین رونما ہوئی البتہ اس کے مختلف دلائل ہیں جس سے ہمیں بحث نہیں کرنی ہے  لیکن معاویہ کے دور میں یہ اختلاف اس حد تک ابھر آیا کہ محور حق حضرت علی (ع) کو جمعہ کے خطبوں میں لعن کیا کرتے تھے اور کربلا میں یہ دشمنی اپنے اوج پر پہونچی جس کے نتیجہ میں واقعہ کربلا پیش آیا تاریخ میں جس کی  مثال نہیں ہے۔
امام حسین (ع) کے مقدس خون کی بدولت سے دنیا کے آزاد انسانوں کے افکار بدل گئے ۔ اور اس عظیم واقعہ کی بدولت سے  دین مبین اسلام کی رگوں میں ایک نئی لہر دوڑ پڑھی اور دشمنان دین کو اس کا مقابلہ کرنا کافی سخت پڑا۔ عالم اسلام میں جن شخصیتوں نے کربلا کے افکار کو اپنا مشعل راہ قرار دے کر  دشمن سے مقابلہ کیا ہے وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔
دور حاضر میں امام خمینی ؒنے کربلا کے اس الٰہی پرچم کو بلند کیا, اور حسینی افکار کولیکر ایران میں انقلاب کی سنگ بنیاد رکھ دی امام خمینی ؒکے آغازانقلاب سے پہلے ہی دشمن یہ سمجھ گیا تھا کہ  ہمارے افکار کے مقابلہ میں ایک دنیا میں بروز ہورہی ہیں ۔ اس لئےا گر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتاہے کہ امامؒ کی تحریک کے شروع سے ہی غربی ممالک اور اسلامی دشمن عناصر ان سے مقابلہ کرنے لگے, اور  شاہ ایران نے امامؒ کے افکار اور ان کی محبوبیت کو لوگوں کے درمیان کم اور ختم کرنے کی تمام سعی و کوشش کی , اور نادان شاہ یہ سوج کر کہ شاید امامؒ کو ایران سے جلا وطن کردیا جائے تو آسانی کے ساتھ ان کی محبوبیت کولوگوں کے دلوں سے نکال دی جاسکتی ہے۔ امامؒ کو ۱۴ سال کی جلاوطنی جھیلنی پڑھی لیکن امام وطن سے دور اپنے افکار کو لوگوں میں ترویج کرتے رہے اور ان کے احباب ہمیشہ امامؒ کے پیغام کو لوگوں تک پہونچاتے رہے آخر وہ دن بھی آیا کہ ایران میں شہنشاہیت کا خاتمہ ہوا اور ایک حکومت اسلامی نے جنم لیا ۔ جب حکومت اور قدرت ہاتھ میں آئی تو اسلام کی تبلیغ میں تیزی آنی شروع ہوئی اور یہ فکر ایران سے دوسرے ممالک میں سرایت کرنے لگی ۔امام خمینی ؒکے اس قول کا مصداق سامنے آیا کہ امامؒ فرماتے تھے:انقلاب ما انفجار نور است"ہمارا انقلاب ایک نور کی مانند ہے جس کا نوردنیا کے ہر گوشہ میں پھیلے گا ۔
اس افکار کی کے پیش نظر استعمار اور اسلام دشمن عناصر اپنی بساط کو خطرہ میں دیکھ رہا ہے لیکن امامؒ کی یہ فکر دبائے نہیں دبتی بلکہ ابھرتی ہی چلی جارہی ہے اور آج ہرمسلمان کے دل کی دھڑکن بنی ہوئی ہے ۔ یہاں تک کہ اکثرمغربی ممالک جو اسلام اور اسلامی قوانین سے ناواقف تھے جب اس انقلاب کے متعلق با خبر ہوئے جس کی بنیاد احکام اسلامی پر مبنی ہے , تو دنیا میں اسلام کے متعلق تحقیقیں شروع ہوئیں اور حقیقی اسلام کو پہچاننے کی کوشش شروع ہوگئی یہاں تک کہ امریکہ کے سابق صدر بالکنٹن کو یہ اعتراف کرنا پڑھا کہ:گذشتہ بیس سالوں میں اسلامک اسٹیڈیز [اسلام شناسی]صرف امریکہ کی بڑی یونیورسٹیوں میں ہی پڑھایا جاتا تھا لیکن اس وقت ہر چھوٹی بڑی یونیورسٹیوں میں اسلامی اسٹیڈیز کی ایک کرسی ہے جو اس   انقلاب اسلامی کی تاثیر کا مظہر ہے [ ماھنامہ مغرب ۔۔۔۲۰۰۲]
جنگ جھانی کے بعد مغربی سیاست مدار خوش تھے کہ اب ہمارے افکار کا مقابلہ کوئی دین نہیں کرسکتاہے  کیوں کہ ان کی نظر میں عیسائیت جیسے بڑے دین کوہم عالم  سیاست سے خارج کرسکتے ہیں اور وہی مشہور کہاوت لوگوں کے درمیان پھیلائی گئی کہ ملا کی دوڑ مسجد تک ، یعنی دین اور سیاست دو الگ مقولہ ہے دیندار لوگ سیاسی امور میں دخالت نہیں کر سکتے وہ کلیسا ,مسجد یا مندر میں  پوجا کرتے رہیں اور اجتماعی امور میں انہیں دخالت کرنے کا حق نہیں ہے ۔ اس لئے غربیوں کو نماز ،روزہ یا دوسرے فردی عبادات سے کوئی ٹکڑاونہیں ہےآپ رات دن نماز پڑھتے رہیں کوئی مشکل نہیں لیکن اگر ان کے آئی ڈولوجک اور افکار کے مدمقابل ایک دینی فکر پیش کریں تو کبھی وہ لوگ تحمل نہیں کرسکتے اس لئے عالم  اسلام میں اگر کوئی نابغہ پیدا ہوجائے تو وہ اسے تین مرحلوں میں شکار کرنے کی کوشش کرتے ؛ پہلا یہ کہ اسے خریدیں اور اپنے افکار اس کے ذہن میں راسخ کریں اگر اس مرحلہ نے نتیجہ نہ دیاتو دوسرا مرحلہ شروع کردیتے ہیں وہ یہ کہ اس کے خلاف غلط پروپگنڈاکرتے ہیں تاکہ اس کی محبوبیت لوگوں میں ختم ہوجائے ۔تیسرا مرحلہ قتل اور ٹرور کا ہے لہذا آپ دیکھیں گے کہ بہت ساری اسلامی شخصیتوں کوکیوں ٹرورکیاگیا اس لئے کہ ایسے افراد ان کے جال میں نہ پھنسےاور اُن کی سازشوں کو نقش بر آب کردیا ۔ اس لئے آخری مرحلہ میں ایسے افراد کو شہیدکرنے اور انہیں ختم کرنے کی سازش اپنائی جاتی ہے۔
اب پتلا چلا کہ کیو ں مغربی ممالک انقلاب اسلامی  سے دشمنی کرتے ہیں۔ اس لئے کہ انقلاب اسلامی نے دنیا میں ایک نئی فکر ایجاد کی اور اسلام ناب محمدی (ص) کےافکار کو پھر سے دنیا میں زندہ کیا۔ اسی انقلاب کی بدولت آج دنیا کے ستم دیدہ اقوام خصوصاً  امت مسلمہ میں یہ جرئت آگئی ہے کہ وہ غارت گر اور غاصب حکومتوں کا مقابلہ کرے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مغربی ممالک خصوصاً امریکہ اور اسرائیل یا کچھ مفاد پرست اسلامی حکمران جب بھی کسی اسلامی ملک میں مسلمان غاصب حکومتوں کے مقابلہ میں کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے قیام کو ایران کے اسلامی انقلاب کی طرف نسبت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب ایران نے کیا ہے لیکن ایران کی غلطی صرف یہی ہے کہ اس بیدار ملت نے امام خمینی ؒکے بلند اور انسان ساز افکار پر  لبیک کہہ کر ایران میں شہنشاہی حکومت کو ختم کیا اور اسلامی حکومت کو از تہہ دل قبول کیا اور اسلامی ناب کی فکر کو اپنے ملک میں ایجاد کیا اب اس انقلاب کے افکار کو دوسری ملتیں اپنے لئےسر لوحہ قرار دے کر ظالم حکمرانوں سے مقابلہ کررہی ہیں۔ امام خمینی ؒکے افکار کے پرچم دار اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ خامنہ ای نے غربی ممالک میں اسلامی بیداری کے بعد مسلسل اپنی تقاریر میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بارہا یہ فرمایا یہ کہ : ملتوں نے اپنے لئےآزادی کو ابھی احساس کیا ہے ہم نے ۳۰ سال پہلے اس راستہ کو اپنایاتھا اور ہمارے اس انقلاب سے اب امت اسلامی درس لے رہی ہیں اور انقلاب اسلامی ایران کو اپنا سر لوحہ قرار دیکر ظالم حکمرانوں کے خلاف قیام کررہی ہے ۔
آخر میں یہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ امام خمینیؒ کے یہ افکار جتنی بھی ملتوں میں رسوخ کر جائے اتنے ہی غربی حکمران اور ان کے نمک خوار  انقلاب اسلامی سے دشمنی کریں گے اور جو لوگ دنیا میں اسلامی انقلاب اورامامؒ کے افکار کی مخالفت کریں گےخواستہ یا ناخواستہ امریکی افکار کے پیروکار ہیں اور یہ کام غاصب صیہونیزم کی تقویت کا باعث ہے۔