ترکی نے اقوام متحدہ سے جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

آناتولی کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے تیونس کے دورے کے موقع پر اپنے تیونسی ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اور دیگر ممالک سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ سے رجوع کریں گے۔

چاوش اوغلو نے سعودی عرب سے بھی مطالبہ کیا کہ صحافی کے قتل کے حوالے سے کی گئی اپنی تحقیقات سے بین الاقوامی برادری کو بھی آگاہ کرے۔

واضح رہے کہ اکتوبر میں جمال خاشقجی کے قتل کے ایک ہفتے بعد انسانی حقوق کی 4 مایہ ناز تنظیموں، ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اور رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے ترکی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کی گمشدگی کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ سے رابطہ کرے۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشعل بیچلیٹ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی چنانچہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوامِ متحدہ اس کی تفتیش کرے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترش نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ درخواست موصول ہونے کی صورت میں خاشقجی کے قتل کی  تحقیقات کرائیں گے۔ ترک حکام کی تحقیقات اورسامنے آنے والی آڈیو گفتگو کے مطابق خاشقجی کو سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کے براہ راست حکم پر بہیمانہ طور پر قتل کیا گیا اور سعودی عرب کے ولیعہد بن سلمان ، سعودی صحافی خاشقجی کے قتل میں براہ راست ملوث ہیں۔