مولانااحمد علی بلاغی تھوینہ
تاریخچہ [نظریہ ]ولایت فقیہ
مقدمہ:ولایت فقیہ کا نظریہ اسلام میں بہت مہم نظریہ ہے۔ جب انسان اس نظریہ پرتحقیق اور بررسی کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ فقہ میں ولایت فقیہ کا نظریہ بہت اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ اس کے باوجود  اس سلسلہ میں مختلف بیانات اور و متناقص خیالات موجود ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ واحد فقیہ جو ہمارے معاصر کا ہے اس نظریہ کو ایک سیاسی نظام کی شکل میں پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی وہ امام خمینی ؒ تھے ۔ اب اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس نظریہ کے موجد امام خمینی ؒ ہیں!
اس مقالہ میں اس چیز کی طرف ایک اشارہ کروں اس لئے کہ یہ موضوع بہت وسیع     ہے لہذا مفصل روشنی ڈالنے سے ہم قاصر ہیں لہذا قارئین اگر چاہیں تو اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں کی طرف رجوع کرسکتے ہیں ۔


اصل ولایت فقیہ ناشناختہ رہنے کی علت:
انسان کے اصل ولایت فقیہ سے نا آگاہ رہنے کا شاید اہم علت یہ رہی  ہو   کہ مذہب تشیع کو ہمیشہ دنیا کی سیاست نے ایک حکومت اسلامی کی شکل میں پیش کرنے سے روکا ہے ۔ اور ہمیشہ اسلام کے دشمنوں نے شیعوں کے ہر قیام کو خاک میں ملانے کی کوشش کی ہے ۔ جس کے نتیجہ میں یہ علمی نظریہ اور یہ عقیدتی نظام جو حیات بخش ہے صرف فقہا کی کتابوں اور حوزہ کے دروس تک محدود  رہاہے۔ اور آہستہ آہستہ یہ اپنی منزل [جو علم کلام ہے] اس سے نکل کر علم فقہ کی دنیا میں جائےگزین ہوا ہے۔ اور اس ترقی یافتہ اصول اورقوانین حکومت تک انسان کی دست رسی نہ ہونے کی بناپر یہ نظریہ نابالغ بچوں کے اموال اور مفقود شدہ اموال کی طرح محدود رہاہے۔
اور حضرت امام خمینی ؒفرماتے ہیں کہ حکومت اسلامی میں ولی فقیہ جو جامع شرائط ہوتا ہے ۔ امام خمینی ؒ اس نظریہ ناب کے ناشناختہ رہنے کی علتوں میں سے ایک علت بعض علماء اسلام کی سہل انگاری ,سستی اور  بے توجہی کوبیان کرتے ہیں ۔ بعض منحرفین ,ان کو اسلام سے منحرف کرنا چاہتے تھے اور شیطانی فکر کو عام کرکے کہتے ہیں۔کہ اسلام میں کوئی شئے نہیں ہے اسلام میں صرف حیض اور نفاس کے کچھ احکام ہیں ۔ مولویوں کو صرف حیض و نفاس پڑھنی چاہئے اور حق بھی یہی ہے [۱] علمائے  اسلام کے نظریات اور جہان بینی یا عقاید کے معرفی کے تلاش میں نہیں ہیں اور اپنے وقت کو ضائع کرتے ہیں۔ اور اسلام کی بیکار کتابوں کو پڑھتے رہتے ہیں ۔ لہذا اس طرح کے اشکالات اور حملات ان پر کئے جاتےہیں اور مقصر بھی یہی حضرات ہیں ۔ اورفقط غیر ملکی افراد مقصر نہیں ہیں [ولایت فقیہ ؛ص۶۷]
مرحوم ملا احمد نراقی ؒ ولایت فقیہ کی بحث کو بررسی اور تحقیق کی علت کو یوں بیان کرتے ہیں۔ کہ اس طرح کے بحث و بررسی اس لئے ہے کہ ہمارے زمانے میں , میں نے کچھ مصنفین اور مولفین کو دیکھا ہے جو بہت سے کاموں کو زمان غیبت میں جامعہ اسلامی کے حاکم کے حوالے کئے ہیں ۔ اور اس کو ان کاموں پر صاحب ولایت مانتے ہیں لیکن اپنی باتوں پر کوئی دلیل و شاہد پیش نہیں کرتے ہیں ۔ لیکن بعض حضرات دلیل پیش کرتے ہیں لیکن ناقص دلائل لاتے ہیں ۔ در حالیکہ ولایت فقیہ کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ ہے ۔ مگر افسوس ہے کہ   اس بحث کو اپنے مخصوص و مشخص باب میں مطرح نہیں کئے ہیں ۔ بلکہ نامنظم انداز میں بیان کیے ہیں ۔جب انہوں نے  ان تمام مسائل اور مشکلات کو ایک جگہ مشاہدہ کیا۔تو اس بنا پر اپنی کتاب کے ایک حصہ کو میں نے فقہا کی مسئولیت  اور وظیفہ کو بیان کرتے ہوئے ان کاموں پر جس پر ان کی ولایت ہے اور ان لوگوں پر بھی یہ لوگ حق حاکمیت اور سر پرستی رکھتے ہیں ۔ اجمالی طور پر مختصر کچھ مطالب بیان کرتا ہوں ۔
فقہا کے نظریات: بعض معتقد ہیں [ولایت فقیہ] حکومت جامعہ اسلامی کے معنی میں ایک جدید مسئلہ ہے جو سابقہ علمی و نظری چیزوں  میں نہیں ہے اور اس کی پیدائش کو دو صدی پہلے مانتے ہیں اس کے بر خلاف بہت سارے فقیہ ایسے ہیں ۔ جو معتقد ہیں کہ شیعہ مذہب کے نظریہ کے مطابق حکومت ولایت فقیہ کے ریشہ و بنیاد فقط عصر غیبت میں نہیں بلکہ عصر حضور میں بھی ہے۔ائمہ معصومین )ع) سے بہت سارے ایسے دستورات موجود ہیں کہ جس میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ جب ایسے زمان و مکان میں زندگی کررہے ہوں کہ معصوم سے ملاقات نہیں ہوسکتی تو اس صورت میں ان لوگوں کی طرف مراجعہ کریں جو خاص شرائط کے حامل ہیں ۔ اور ان کی پیروی کریں ۔ حضرت امام صادق )ع)  فرماتے ہیں : من کان منکم قد روی حدیثنا و نظر فی حلالنا و حرامنا و عرف احکامنا ۔۔ضوابہ حکماً۔۔ [اصول کافی ؛ج۱؛ص۶۷، کلینی محمد بن یعقوب]
اس حدیث میں حلال اور حرام اور احکام کے آگاہ شخص سے مراد وہی فقیہ ہے جو ابھی ہمارے مورد نظر ہے۔ اس سے مشابہ روایتوں کے مطابق جب معصوم سے ملاقات ممکن نہ ہو تو فقیہ مسلمانوں کا حاکم ہے اور یہ حاکمیت اس کو معصوم سے ملی ہے ۔ اسی روایت میں آیاہے [فانی قد جعلتہ حاکماً]
میں نے اس کو تمہارے لئے حاکم  بنایا ہے اس کے آگے پھر فرماتے  ہیں: فاذا حکم بحکمنا فلم یقبل منہ فانما استخف بحکم اللہ و علینا ردّ و الرادّ علینا کا الرادّ علی اللہ و ھو علی حد الشرک باللہ؛وہ حاکم جس کو معصوم نے معین کیا ہو اس کی اطاعت واجب ہے اور اگر کوئی اس کے حکم کو نہ مانے تو معصوم(ع)کے حکم کو نہ مانناہے۔ اس نکتہ پر توجہ کرتے ہوئے کہ فقہاکے مطابق نظریہ ولایت فقیہ خاص زمانہ غیبت سے مخصوص نہیں ہے بلکہ  امام کے زمانہ میں بھی اگر امام سے ملاقات ناممکن ہو تو یہ نظریہ وہاں بھی اجرا ہوتا ہے ۔ چونکہ یہ نظریہ لوگوں کے فلاح و بہبودی کے لئے ہے جب امام سے ملاقات ناممکن ہو ۔ اس بنا پر اس نظریہ کی بنیاد خود زمانِ حضور معصومین (ع)سے ہے۔
اس حدیث کے پیش نظر وہ لوگ جو حلال اور حرام کا علم رکھتے ہیں , لوگوں کے لئے معرفی کئے جائے  تاکہ وہ ان کی پیروی کریں۔
۱۔مرحوم شیخ مفید جو ۴اور ۵ ہجری کے بزرگ علماء میں سے تھے ۔ وہ اپنی کتاب "المقنعہ" میں امر بہ معروف و نہی از منکر کے باب میں ان دو چیزوں کے مراتب کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں ۔ مکلف کو امر بالمعروف اور نہی از منکر کرتے وقت یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کو مارے یا زخمی کرے مگر سلطان یاحکم جو حکومت کرتاہے عوام پر اس کو اجازت دے۔ نیز فرماتے ہیں کہ حدود الٰہی کے اجرا کا حق صرف سلطان اور حاکم کو ہے جس کو خدا وندعالم نے منصوب کیا ہے  اور وہ امام(ع) اوروہ لوگ ہیں جن کو معصوم نے حاکم بنایا ہو ۔ اور اماموں نے اپنے بعد اس کو فقہائے شیعہ کے حوالے کیا ہے تاکہ وہ ان کی پیروی کرے۔ [المقنہ؛ص۸۱۱-۸۱۰]
۲۔ حمزۃ بن عند العزیز ملقّب بہ سلاّددیلمی اپنی کتاب "المراسم" میں لکھتے ہیں کہ آئمہ معصومین (ع) نے حدود کے احکام کو فقہاء کے حوالے کیاہے اور شیعوں کو حکم دیاہے کہ ان کی پیروی اور ان کی حمایت کرتے  رہیں۔[المراسم ؛ص۲۶۴-۲۶۳]
۳۔ شہید اول اپنی کتاب "الدروس" میں لکھتے ہیں : حدود الٰہی کا اجرا امام اور نائب امام کی ذمہ داری ہے ۔ اور عصر غیبت میں یہ ذمہ داری جامع شرائط فقیہ کی ہے۔ لوگوں پر لازم ہے کہ ان کی مدد اور ان کی پیروی کرتے رہیں۔[الدروس؛ص۱۶۵شہید اول]
۴۔ ابن فھد حلّی لکھتے ہیں کہ شیعہ فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ جامع الشرائط فقیہ جس کو آج مجتہد کہا جاتا ہے آئمہ [ع] کی جانب سے ہر اس کام میں دخالت کرسکتے ہیں جو نائب امام کو حق ہے ۔ پس عدالت خواہی اس کے پاس اور اس کے حکم کی اطاعت واجب ہے۔[المھذب البارع؛ج۲؛ص۳۲۸]
۵۔ شیخ محمد علی کرکی مشہور بہ محقق ثانی  ؒ لکھتے ہیں کہ شیعہ فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ جامع الشرائط فقیہ کو آج [مجتہد] کہا جاتاہے آئمہ (ع) کی جانب سے ہر اس کام  میں دخالت کرسکتے ہیں جو نائب امام (ع) کو حق ہے پس عدالت خواہی اس کے پاس اور اس کے حکم کی اطاعت واجب ہے [ رسائل ؛ج۲؛ص ۱۴۲]
۶۔ ملا احمد نراقی ؒفرماتے ہیں :فقیہ دوچیزوں پر ولایت رکھتا ہے ان تمام کاموں میں جس میں پیغمبر (ص) اور آئمہ (ع) صاحب اختیار ہیں اور سر پرستی اور ولایت کا حق رکھتے ہیں مگر کچھ امور میں جس کو دلیل شرعی اور روایات کے ذریعہ استثناء کیا ہو تو اس صورت میں فقیہ ولایت نہیں رکھتے ہیں۔
* فقیہ خدا وند عالم کے بندوں کے تمام دینی اور دنیاوی کاموں میں شامل اور مرتبت ہے۔
۷۔ شیخ محمد حسن نجفی معروف بہ صاحب جواہر فرماتے ہیں کہ مسئلہ ولایت فقیہ میں تمام فقہاء کا مشہور نظریہ یہی  ہے ۔ اور  میں نے صریح مخالف اس بارے میں نہیں پایا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ بعض متاخرین کیوں اس مسئلہ پر توقف کرتے ہیں !!! نیز وہ لکھتے ہیں کہ میری نظر میں خدا وند عالم فقیہ کی اطاعت کو بعنوان [اولی الامر] ہمارے اوپر واجب کیاہے ۔ اور یہ دلیل حکومت ولایت فقیہ پر بھی اطلاق ہوتا ہے ۔[جواہر الکلام ؛ج۱۹و۲۱؛ص۳۹۵و۴۲۲]
دیگر فقہاء کے آراء و نظریات  کو ولایت فقیہ کے سلسلہ میں لکھی گئی کتابوں میں مفصلاً بیان کیا گیا ہے جس  کے مطالعہ سے یہ بات ہمارے لئے روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ انہوں نے اس راستے کو انتخاب کیا ہے ۔ اور اس مِشن کو زندہ رکھا ہے اور جو کچھ لکھا ہے اس پر معتقد ہیں ۔ اور آخر کار یہ امام خمینی ؒکے توسط سے اوج پر پہونچاہے ۔ امام خمینی فرماتے ہیں:ولایت فقیہ کا موضوع کوئی نئی وتازہ چیز نہیں ہے کہ ہم نے خود سے گڑھ دیا  ہوبلکہ یہ مسئلہ پہلے سے مورد بحث رہاہےجیسےمرحوم میرزا تقی شیرازی نے جب حکم جہاد دیا تھا تو سارے علماء نے ان کی پیروی کی تھی ۔[ولایت فقیہ؛ ص۱۱۴]
نتیجہ: علماء اور بزرگوں کے آراء پر توجہ کرتے ہوئے مسئلہ ولایت فقیہ مطلقہ ہے۔ اور یہ مسئلہ کوئی جدید مسئلہ نہیں ہے کہ ہمارے زمانہ میں وجود میں آیا ہو ۔ بلکہ جب بزرگوں کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام و منزلت آئمہ(ع) کے زمانہ میں یا ان کے بعد جامع الشرائط فقیہ کو رہا ہے اور وہ آئمہ(ع) کےنائب اور جانشین ہیں ۔ اور اس مسئلہ میں کوئی شک اور شبہہ نہیں ہے ۔خدا ہم سب کو اس طرح کے بہترین نظام کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطاکرے اور اس پر عمل کرنے کی سعادت عنایت کرے۔