مولاناعلی زمانی شلکچے
مهجوریت قرآن
مقدمہ:
قرآن کریم کے اوصاف بیان کرنے سے ہماری زبان  و قلم عاجز ہے کیوں کہ یہ خدا کا کلام ہے ,حضرت محمد مصطفی(ص) کا معجزہ اور مسلمانوں کا معنوی سرمایہ ہے اور یہ وہ کتاب ہے جس کے ذریعہ انسان جہالت اور گمراہی سے نجات پاتا ہے اور یہ انسان کو سچائی کے راستے پر ہدایت کرتی ہے۔
امام خمینیؒ فرماتے ہیں:اگر قرآن نہ ہوتا تو  معرفت الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند رہتا۔یہاں سے معلوم یہ ہوا کہ قرآن مجید معرفت الٰہی کا بہترین وسیلہ ہے ۔ قرآن علوم بشری کا اصل منبع ہے یہ وہ کتاب ہے جوانسان کو زمین سے افلاک , روح انسان کو عالم قدس اور ملکوت میں پہنچاتی ہے ۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم  نے اس ہدیہ الٰہی کو مہجوربنا  رکھا ہے اور اس سے کما حقّہ کسب فیض نہیں کررہے ہیں۔


مہجوریت کا لغوی معنی:
مہجوریت , ہجر کے مادہ سے ہے , راغب اصفہانی لکھتے ہیں:یعنی ایک دوسرے سے دور ہونا از لحاظ بدنی , زبانی یا قلبی ہے{۱}۔مجمع البیان میں ذکر ہوا ہے بیہودہ کلام کو ہجر کہتے ہیں چونکہ اس کی شائنیت مہجور اور متروک ہونا ہے,اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مہجور یعنی متروک ، چھوڑا گیا اور تفاوت و فرق  اور جدائی کا نام ہے۔
آیات قرآن میں مہجوریت:
قرآن کی آیت شاہد ہے کہ رسول اکرم (ص) کے زمانے میں بھی قرآن مہجور تھا آج بھی امّت اسلامی کے درمیان میں قرآن اور اہلبیت(ع) مہجور ہیں, رسالت مآب(ص)کی زبان حال میں قرآن فرماتا ہے: وَقَالَ الرَّسُولُ یا رَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا [فرقان آیہ ۳۰]؛ اس دن رسول (ص) آواز دے گا کہ پروردگارا اس میری قوم نے اس قرآن کو نظر انداز کردیا ۔
صاحب مجمع البیان فرماتے ہیں: اس آیت میں رسول سے مراد حضرت محمد (ص) ہیں کہ حضرت نے اپنی قوم سے شکایت کرتے ہوئے فرمایا کہ : پروردگارا میری قوم نے اس قرآن کو مہجور بنا   رکھا ہے, [قَوْمِی اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا] اس کا معنی بھی یہی ہے,اور امت مسلمہ اس کے سنّے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش  نہیں کررہی ہے۔
آج کےمسلمانوں کا بھی یہی حال ہے دن ، رات، مہینے اور سال گذر جاتے ہیں لیکن کچھ افراد ایسے ہیں کہ قرآن کریم کی ایک آیت تک کی تلاوت نہیں کرتے ہیں ۔ بعض جگہوں پر قرآن مجالس و محافل عقد نکاح کے  دسترخوان کی زینت ہے تو بعض جگہوں پر سفرپہ نکلتے  وقت سر پر رکھ کر نکل جاتے ہیں۔اور کچھ افراد ایسے ہیں قران کو صرف استخارہ کے لئے کام لاتے ہیں ۔ اور کچھ افراد قسم کھانے اور کچھ ایسے ہیں شب قدر کی احیاء میں سر پر رکھتے ہیں ۔ اور بعض مورد ایسے ہیں  کہ قرآن کو صرف مردوں کے مزار پر ان کے ایصال ثواب کے لئے تلاوت کیا جاتا  ہے ۔
اسلامی معاشرہ کی یہ حالت ہےکہ اس ودیعہ الٰہی سے بہت فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔ یہ مصادیق تھے جو ذکر ہوئے, لیکن افسوس کی بات یہ ہے ہم قرآن کی مفاہیم اورمعانی کی درک اور فہم کی کوشش میں نہیں ، بلکہ ایصال ثواب کے پیچھے ہے ۔ بعض افراد مفاہیم اور معانی میں کام کررہے ہیں لیکن میدان عمل میں بہت سست ہیں, پس سعادت دنیا اور آخرت اس میں ہے جو حقیقت قرآن سے کاملاًفائدہ اٹھائے۔
مہجوریت قرآن کی کچھ عوامل
۱۔ ہوای نفس کی پیروی:ہوای نفس کی پیروی کرنا ہدایت الٰہی سے مخالف ہے حق تعالیٰ کی پیروی  ہوای پرستی کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہوسکتی ہے ۔ کیونکہ ہوای نفس انسان کو سوی عمل کی طرف لے جاتا ہے , جیسے قرآن فرماتا ہے:وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَیضِلَّكَ عَنْ سَبِیلِ اللَّهِ[ص/آیہ ۲۶]  اور خواہشات کی اتباع مت کرو کہ وہ راہ خدا سے منحرف کردے گی، یا ہدایت کے راستہ سے گمراہ کردے گی۔ خدا وند عالم اس کتاب کو بشر کی ہدایت کے لئے نازل فرمایا ہے ۔ بدیہی ہے ہدایت الٰہی سے فائدہ لینے کی کوشش کرنا ہرانسان پر واجب ہےاور ہدایت کے شرائط کو فراہم کرنا لازم ہے , ہوای نفس کی پیروی کرنا ہدایت الٰہی کے شرط کے خلاف ہے یہ دو چیز آپس میں جمع نہیں ہوسکتی , اگر نفس کی پیروی کرے اور اس کو اپنا مقصد قرار دے تو قرآن پاک سے ارتباط برقرار نہیں ہوسکتا ہے ۔
۲۔ مادی اور دنیوی جاذبہ: مادی اور دنیوی چیزوں نے انسان کو ہمیشہ مشغول رکھا ہے اور انسان کو سعادت و خوشبختی سے محروم رکھا ہے ۔ دنیوی چیزیں یاد الہٰی کے میٹھاس کو ہمارے قلوب سے ختم کردیتی ہیں اور حقیقت کو نظروں سے چھپا دیتی ہیں, اسی لئے انسان معنوی اور راہ سعادت سے پلٹ جاتا ہے ,یہ ہمارے مادیات اور دنیا کی طرف رجوع کرنا قرآن کی مہجوریت کا سبب بنا ہے جس کو کلام خدا وند نے بھی واضح طور پر بیان کیا ہے ۔فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیاةُ الدُّنْیا  [فاطر؛آیہ ۵] دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے ، بہت سے مادی چیزیں  ہمیں فریب اور دھوکا دیتی ہےکہ جس کی بنا پر قرآن اور سخن حق کو فراموش کرتے ہیں جیسے قرآن مجید میں خدا وند فرماتا ہے :نَبَذَ فَرِیقٌ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ [بقرہ/آیہ ۱۰۱] تو اہل کتاب میں ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا ، گویا اسے جانتے ہی نہیں ۔
۳۔ شیطان: قرآن پاک نے صریحاً فرمایا ہے کہ شیطان انسان کا آشکارہ دشمن ہے لہذا ہمیشہ اس کے دھوکے و فریب سے آگاہ رہے , اسی لئے خدا نے ہر انسان کو آداب تلاوت قرآن دیتے ہوئے فرماتا ہے؛فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ  [نحل /آیہ ۹۸] لہذا جب آپ قرآن پڑھیں تو شیطان رجیم [مردود] کے مقابلہ کے لئے اللہ سے پناہ مانگ لیا کریں ۔
اس آیت کریمہ سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ شیطان ہمیشہ کوشش میں رہتا ہے کہ انسان کو سعادت کے راستوں سے انحراف کی طرف لے جائے , جب بھی انسان کوئی نیک کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان فوراً وہاں پر حاضر ہوتا ہے اس نیک کام سے منحرف کردیتا ہے لہذا جب انسان مومن قرآن پاک کی تلاوت کرنے کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی بارگا میں پناہ لے اور اس ذکر کو فکر اور تدبر میں تبدیل کرے اور فکر کو حالت معنوی میں تبدیل کرے ۔ اور اپنے آپ کو اس ذات پاک کی طرف متوجہ کرے , تاکہ شیطان اور اس کے فریب اور وسوسہ سےنجات پائے , کیونکہ شیطان ہمیشہ انسان کو فریب اور دھوکے دینے کے لئے حاضر رہتا ہے ۔ لہذا انسان کو چاہئے کہ ہمیشہ یاد الٰہی میں رہے یاد اور ذکر الٰہی شیطان کی کمر کو توٹ دیتی ہے۔
۴۔ قرآن کریم کی عظمت اور مقام کی عدم پہچان:
امت مسلمہ قرآن پاک سے کیوں دور ہے ,کیوں اس ودیعہ الٰہی سے غافل ہیں ؟ یہ سوال ہماری ذہن میں آتا ہے , کیوں کر امت مسلمہ میں زیادہ اختلاف ہے یہ ایک نشانی ہے کہ قرآن پر عمل نہیں ہو رہا ہے اور قرآن سے غافل ہیں۔ اس کتاب کی عظمت اور مقام سے غافل ہوکر صرف ایک آسمانی کتاب کے نام سے یاد کرتے ہیں , اس حد تک قرآن کومہجورکررکھا ہے ۔ لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اس کتاب کی حقیقت کو پہچانے اور اس کلام نور پر عمل کرنے کی کوشش کرے تاکہ ہمارامعاشرہ ایک قرآنی معاشرہ بنے اور قرآن مہجورنہ رہے۔
۵۔ قرآن کا سلیس ترجمہ اور تفسیر کا نہ ہونا:
قرآن کریم کے بہت سے ترجمہ ایسے ہیں کہ عام انسان نہیں سمجھتا ہے اور صحیح طریقہ سے ارتباط برقرار نہیں کرسکتا ہے صرف کچھ کلمات اور اصطلاحیں سیکھ سکتا ہے کیونکہ بہت سارے ترجمہ و تفاسیر عام لوگوں کے لئے بہت دشوار ہیں لہذا یہی وجہ ہوا ہے کہ قرآن ہمارے درمیان مہجور ہے  اور لوگوں کا  اس کتاب کی طرف توجہ نہ دینے کا سبب بھی یہی ہے ,جیسے ہم اس کو درک نہیں کررہے ہیں۔ لہذا ہماری یہ کوشش ہونی چاہئے کہ پہلے ہم اس مقدس کتاب کی عظمت و بلندی کو سمجھیں , اسکے فرمودات پر عمل کریں پھر اپنے گھر محلہ ,شہراور ملک کے افراد کو اس کے حقانیت سے آشنا کریں ۔
ہمارے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے علاقے اور شہر کے تمام اسکولوں میں کم از کم قرآن مجید سے آشنائی کا ایک درس رکھیں تاکہ ہمارے سماج کے بچے اور جوان قرآن جیسی با عضمت کتاب سے آشنا ہو کر اس کے فرامین پر عمل  کریں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں ۔
خلاصہ: یہی وہ پانچ اسباب ہیں جس کی وجہ سے قرآن ہمارے درمیان مہجور واقع ہے ! البتہ اس کے علاوہ اور بھی دیگر عوامل ہو سکتے ہیں جس کا تذکرہ انشاءاللہ آئندہ شمارہ میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا تاکہ ہمارا سماج و معاشرہ نور قرآن سے روشن و منور ہو سکے اور ہمارے قلوب اس کے معنی و مفاہیم سے سر شار ہوجائیں۔