مولانامحمد علی عارفی فرونہ
ھادی کون؟
اس دنیا میں جو چیز انسانوں کے لئے ضروری ہے وہ ہدایت ہے ۔ یعنی انسان کو صحیح راستہ کی شناخت ہو۔ چونکہ خدا نے اس نظام کائنات کو جب بنایا تو اس نظام پر عمل کرنے کے لئے قانون بھی بنایا ہےپھر قانون کو بتانے والا ، بیان کرنے والے کا بھی انتظام کیا ہے۔اب یہاںسوال یہ ہے کہ ہادی کون ہے اور اس کے صفات کیاہیں؟
ہم اس مختصر سے نوشتہ میں ان ہادیان دین کے کچھ صفات بیان کرتے ہیں جن کے قلب ایمان کے نور و حرارت سے روشن تھے جنہوں نے راہ توحید کے مخالفین کی سخت مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میدان عمل میں آکر ہمیں ہر محاذ پر ثابت قدمی کا درس دے گئے ۔


۱۔ ہادی یعنی ہدایت کرنے والا؛اس کو کسی سے کسی قسم کا غرض نہ ہو بلکہ غرض فقط ابلاغ دین اور اتمام حجت ہو ,ساتھ ساتھ اس کو بھی ماننا پڑے گا کہ استعمار نے ایسا کام کیا ہے کہ مولوی حضرات کے ہاتھ پیر باندھ دئے ہیں کہ مولوی کے بارے میں لوگوں کے پیچھے مختلف پروپگنڈا پھیلا کر لوگوں کو مولوی سے دور کیا ہے ۔ لوگوں کا کام یہ ہے کہ وہ ہمیشہ مولوی سے متمسک رہیں اور ان کی تبلیغ میں مدد کریں ۔ جیسےکہ [سورہ یسٰین آیۃ ۲۱] میں خدا وند فرماتا ہے ۔ اتَّبِعُوا مَنْ لَا یسْأَلُكُمْ أَجْرًا وَهُمْ مُهْتَدُونَ؛ایسے لوگوں کی پیروی کرو کہ جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگے اور وہ خود ہدایت یافتہ ہیں۔
۲۔ ہدایت حق دیتا ہو؛حقیقت بیان کرنے سے ڈرتا نہ ہو، خوف نہ کھاتا ہو۔ البتہ ہر حق بات کو کہہ دینا حق نہیں ہے ۔ بلکہ خود بات حق ہو ۔ اور پہنچانے کا طریقہ حق ہو ۔ ممکن ہے آپ کی بات حق ہو اور پہچانے کا طریقہ باطل ہو ۔"حدیث میں آیاہوا ہے کہ خدا کی اطاعت معصیت کے راہوں سے نہیں کی جاسکتی" لہذا بات حق ہو اور بیان بھی حق ہو ۔ عوام کی مخالفت بھی نہیں کرنا چاہئے ۔ اور آپ کو ایسی صورت اختیار کرنی چاہئے کہ جس سے عوام کی مخالفت حد اقل ہوسکے اور یہی اسلام واقعی کے شناسائی کا ذریعہ ہے کہ انسان خود بھی حق پر ہو اور اس کا راستہ بھی حق ہو ۔دعوت بھی حق کی ہو۔
۳۔ ہدایت امر الٰہی کی ہو؛ قرآن کی آیات ہےوَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً یهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَینَا إِلَیهِمْ [ انبیاء ۷۳]
ایسی ہدایت ہو جو خدا وند عالم اور فطرت انسانی کے مطابق ہو نہ یہ کہ جو اس کا کلچر, منطقہ کے لوگ, عقیدہ اور والدین کہتے ہیں بلکہ ایسی باتیں ابلاغ کرے جوآیات و رایات کےمطابق ہو۔اور انسان جب قوم کی خدمت کرتا ہے تو اس کے لب پر شکواہ ضرور آتاہے ۔ ہمارے سارے انبیاء شکوا، شکایت کرتے رہے ، خدا یا میرے ساتھ کوئی نہیں ہے, کس کا ساتھ دوں , اس طرح کار خیر کرنے والا آدمی گلہ, شکواہ و شکایت کرتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس کے ساتھ نہیں دیتے ہیں بلکہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔اور یہ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا ۔ لہذا اس کی فکر نہیں کرنی چاہئے۔
۴۔ ہدایت کرنے والے اپنے عزم و ارادے میں مستحکم ہوں: یعنی ہادی کے لئے ضروری ہے کہ وہ صبر کے دامن کو کبھی نہ چھوڑیں اور ہمیشہ صابر رہیں تاکہ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے اپنے اصل ہدف سے دور نہ ہوں یہ ایک سیدھی سی بات ہے کہ جب انسان معاشرے میں زندگی گزار تا ہے تو  بعض اس کے حامی اور بعض اس کے مخالف ہوتے ہیں تو ان کے مخالفت کی وجہ سے آپ کمزوری کا احساس نہ کریں بلکہ آپ قوم و ملت کی خدمت کرتے رہیں اور لوگوں کو علم و معرفت کی دعوت دیتے رہیں۔
۵۔ ہادی کو غافل نہیں ہونا چاہئے؛ بلکہ ہمیشہ با خبر اور متوجہ رہنا چاہئے ، ایک ایک چیز کی طرف متوجہ ہو ، ماہر نفسیات ہو، ماہر جامعہ شناس ہو ، دین شناس ، حدیث شناس، برہان شناس ہو، استدلال کیاہے ،ذوق کیا ہے ،دلیل کیاہے یہ لوگ کس کو بُرا سمجھتے ہیں کس کو اچھا سمجھتے ہیں؟یہاں پر کیسے ابلاغ کیا جائے ؟ کیسے سمجھا جائے ؟یہ سب پتہ ہونا چاہئے ۔ یعنی معاشرہ کے محتویٰ علمی کا پتہ ہو۔ ان کے زبان میں ان کی تبلیغ کرتا ہو۔ ان کے حقیقت کے اور واقعیت کے بارے میں معلومات رکھتا ہو ۔ اور اپنے قوم کے تمام حالات سے واقف ہو ۔ دوسری چیز یہ ہے کہ وہ ان کو امید دلائے , خوشخبری دے,معاشرے کے افراد کی ہمت افزائی کرے۔جیسا کہ رسول خدا(ص)فرماتے ہیں:قولوا لا الہ الااللہ تصیرواملوکاً۔لا الہ الااللہ کہو اور بادشاہ بن جاؤ۔ قولوا لاالہ الا اللہ تفلحوا ۔لاالہ الا اللہ کہو تاکہ فلاح و کامیابی حاصل کرلو۔اسی طرح ہادی کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی قوم کو حوصلہ دے اوراشتیاق دلائے۔
۷۔ہادی چراغ کی مانندہو؛ چراغ کاکام ہوتا ہے راہ دکھانا؛ نہ کہ زبردستی پکڑکر لے جانا, تو مبلغ کے لئے یہ ہونا چاہئے کہ وہ فقط راہ دکھائے تاریکی راستوں کو روشن ومنور کرے ۔ زبردستی کرنا, زبردستی راہ پر لگانا یہ انسانیت کےخلاف ہے ۔ مثلاً میں نے آج سنیوں کے خلاف بات کی تو وہ فوراً میری مخالفت کرے گا مجھے مارنے آئے گا، جلوس نکالے گا ، نعراہ لگائے گا ۔ در حالیکہ بات کا جواب بات سے دینی چاہئے ، فکر کا جواب فکر ہے ۔ نہ فکر کا جواب عصاء اور ڈنڈا نہیں ہے ، فکر کا جواب بمب اور دہشت گردی نہیں ہے ، ایسا کرنا آپ کے آئین ، اسلام ، مذہب پر دھبا ہے ۔ یہ رسول خدا(ص) کی سیرت کے خلاف ہے قرآن مجید کے خلاف ہے ۔ ہدایتگر وہ ہے جو راہ دکھائے نہ کہ زبردستی کسی کو لاکے قرآن کی آیتیں سنائیں ۔ بلکہ ہادی کی ذمہ داری یہ ہےکہ وہ صرف راستہ دکھائے ۔
ہدایت گر کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو خرافات اور توہمات سے نکال کر ان کو ہدایت اور نور میں لے کر آئے ۔ غلط سلیقہ ،غلط رسم ورواج ، غلط عقیدہ ، غلط فکر سے ان کو دور کرے ۔ مزید یہ کہ فقر، بیماری، بیکاری اور گندگی اور کثافت سے ان کو متوجہ کرائے ۔ اور ان کو اس سے دور رہنے کا طریقہ بتائے ۔ اگر ان کے بچے اسکول نہیں جاتے تو ان کواسکول بھیجے ۔ ان کو ہنر اور فن کی تعلیم دے ۔ خدا وند قرآن میں کہتا ہے یا أَیهَا النَّبِی إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِیرًا*وَدَاعِیا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِیرًا [احزاب۴۵و۴۶]
اے نبی ہم نے تم کو بھیجا ہے کہ تم شاہد رہو ، خوشخبری دینے والا رہو،ونذیراً اور ان کو خطرات سے آگاہ بھی کرتے رہواور دعوت فقط خدا کی طرف ہو ۔ جو خدا نے طریقہ بتایا ہے اسی طریقہ پر دعوت خدا ہو اگر دعوت ، دعوت خدا ہو ،لیکن طریقہ شیطان کا ہو ۔جیسے کہ آج کے بعض لوگ کام کرتے ہیں دعوت ان کا حق ہوتا ہے لیکن ان کا طریقہ ،طریقہ شیطان ہوتا ہے۔ تو ایسے لوگ مصداق ہادی نہیں ہیں بلکہ ان کو اپنا طریقہ بدلنا چاہئے ۔ پھر معاشرے اور قوم کے لئے کام کرنا چاہئے تاکہ یہ سراج منیر کے مصداق میں آئے جو لوگوں کو نور اور روشنی دیتے ہیں ۔ الر كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَیكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ؛ [ابراہیم آیۃ ۱]۔ہم نے کتاب کو نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لائے اور یہی تمام انبیاء الٰہی کا کام تھا اور یہ آج کے مسلمانوں کا بھی ہے ۔ امید ہے کہ ہم سب کو صحیح ہدایت نصیب ہو اور اس کی تبلیغ کا موقع فراہم ہو۔