مولانامحسن علی چھانی گھنڈ
حکومت علی (علیه السلام )فتنہ کی آغوش میں
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا[مائدہ ۳۲]
جامعہ اور معاشرہ میں فساد اور فتنہ کی آگ کو بھٹکانے والے افراد کو قرآن نے اس شخص کے معادل قرار دیا ہے جس نے پوری انسانیت اور بشریت کو قتل کردیا ہو۔
کیونکہ کہ جب بھی فتنہ کی آگ روشن ہوتی ہے تو وہ چند افراد تک منحصر نہیں رہتی بلکہ آیندہ آنے والی نسلوں پر بھی سرایت کرجاتی ہے اور ان کو راہ حق و حقیقت سے منحرف کردیتی ہے جس تیز رفتار سے کینسرکی بیماری انسان کے اعضاء اور جوارح میں پھیلتی ہےبالکل اسی طرح فتنہ کے جان لیوا جراثیم جامعہ کی رگوں میں سرایت کرکے معاشرے کو بے جان و بے حس کردیتے ہیں


فتنه کی کیفیت:
فتنہ و فساد کبھی کبھار اس قدر سخت اور پیچیدہ ہوتاہے کہ حق و حقیقت کو اس سے جدا کرنا کافی مشکل امر ہوتا ہے۔ فتنہ کہتے ہی اس چیز کو کہ جس میں حق اور باطل کو اس قدر مخلوط کیا جاتا ہے کہ آدمی آسانی کے ساتھ تشخیص نہیں دے پاتا ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔
فتنہ میں بصیرت
بعض اوقات فتنہ کے شرایط اس قدر ٹھوس اور مضبوط ہوتے ہیں کہ چالاک اور سمجھدار انسان بھی اسے آسانی کے ساتھ تشخیص نہیں دے پاتا۔
فتنہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے انسان کے پاس فقط اسلام اور ایمان کا ہونا کافی نہیں ہے ، بلکہ بصیرت کا بھی کافی حد تک ہونا ضروری ہے۔حقیقی مومن وہی افراد ہیں جو فتنہ میں بھی ایمان کی نگہداری اور حفاظت کریں۔ وہی افراد ایمان کی حفاظت اور نگہداری کرسکتے ہیں جن کے پاس بصیرت ہو اور سیاسی اور اجتماعی  نشیب و فراز سے آشنا ہو۔ جس شخص کے پاس حق اور باطل کو تشخیص دینے کی توانائی{بصیرت} موجود نہ ہوتو وہ شخص کبھی بھی اپنی ماہیت کو دگرگون کرسکتا ہے کیونکہ وہ شخص اُس وسائل سے مجھز نہیں ہے جس سے راہ حق اور باطل کو تشخیص دیا جاسکتا ہے۔
جنگ جمل کے معرکہ میں ایک شخص شخصیتوں  کے مسابقہ سے متاثر ہوکر حضرت علی(ع)سے دریافت کرتا ہے کیسے ممکن ہے کہ جن افراد کا ماضی درخشاں ہو وہ باطل پر ہو ۔ اس شخص کے جواب میں آپ(ع) نے کچھ یوں فرمایا :اے شخص تم سخت اشتباہ سے دوچار ہو تم نے معاملے کو بالکل الٹ دیا ہے تم حق اور باطل کو شخصیتوں کی عظمت اور حقارت کے پیمانے میں تول رہے ہو پہلے تم حق کی معرفت حاصل کرو ، خودبخود  اہل حق کی شناخت حاصل ہوجائے گی ۔ پہلے تم باطل کو پہچان لو تب خود بخود اہل باطل تیری سمجھ میں آجائیگا اس وقت تم اس چیز کو اہمیت نہیں دوگے کہ کون حق کا حامی اور کون باطل کا طرفدار ہے اور تم ان افراد کے باطل پر ہونے سے متعلق شک و شبہہ میں نہیں پڑوگے۔ [مطالعہ نہج البلاغہ؛ص۳۹]
علی(ع) اور زبیر: 
تاریخ اسلام شاہد اور گواہ ہے کہ حضرت علی(ع)کو ایسے ظاہرنما مسلمانوں کے مقابلے میں صف آرائی کرنی پڑی جنہوں نے صدر اسلام میں بہت ساری مشقتیں برداشت کرکے اسلام کی ترویج کردی تھی لیکن رسول خدا (ص)کی وفات کے بعد وہ لوگ اپنے آپ کو فتنہ کے اس حولناک لہروں سے بچا نہیں پائے.
زبیر جو کل تک علی (ع)کا طرفدار اور حامی تھا لیکن حالات کے بدلتے ہی زبیر کی زندگی میں بھی ایک عجیب کہرام مچا ۔ اصلاً کوئی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ کیسے زبیر کی زندگی میں اتنی جلدی یہ نیا انقلاب رونماہو۔ لیکن علی(ع)نے اس انقلاب کی علت کو کچھ یوں بیان فرمایا ہے : زبیر کل تک ہم میں سے تھا لیکن اس کا نالایق بیٹا عبد اللہ باعث بنا کہ زبیر راہ حق سے منحرف ہوجائے۔
معاویہ اور حکومت طلبی:
معاویہ نے کبھی بھی اس عظیم سلطنت اور مقدس خلافت کا خواب نہیں دیکھا تھا جس کے تخت پر آج وہ متمکن ہے کل تک وہ اقتصادی اعتبار سے فقیر، قومی لحاظ سے ذلیل اور ایک آزاد کردہ غلام کی حیثیت رکھتا تھا ۔ فتح مکہ کے موقع پر اپنے باپ کے ساتھ اسلام میں داخل ہوگیا۔ لیکن قتل عثمان کے بعد معاویہ نے اپنے آپ کو اس کشمکش میں پایا کہ یا تو علی (ع)سے جنگ کا اعلان کردیا جائے یا آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی جائے ۔ کیونکہ معاویہ آپ کی شخصیت اور ان کی حیثیت سے بخوبی واقف تھا وہ یہ جانتا تھا کہ علی (ع)اپنی فطری عدالت کے استعمال میں کسی شخص کا لحاظ نہیں کرتے ہیں اور ان کے دور حکومت تک کسی مقصد کو حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ معاویہ اسی کشمکش اور اضطراب کے عالم میں اس وقت کا انتظار کررہاتھا کہ کوئی بڑی شخصیت علی(ع)کی علی الاعلان مخالفت  کرے تاکہ معاویہ اس کو استعمال کرکے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرسکے کیونکہ معاویہ اکیلا علی(ع) کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا چنانچہ حضرت عایشہ کا اقدام ہی تھا کہ معاویہ کے اندر قتل عثمان کے قصاص کی جرائت پیدا ہوئی ۔ معاویہ نے کمزور اورسادہ لوح عوام الناس کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کردی کہ علی(ع)عثمان کے قاتل ہیں جس کا اثر یہ ہوا کہ ساٹھ ہزار شیوخ قمیص عثمان کے گرد جمع ہوکر گریہ وزاری کرنے لگے اور اس قمیص کو منبر  دمشق پر آویزان کردیا گیا۔[مذاہب اربعہ: ص۴۷]
قتل عثمان میں معاویہ کا ماہرانہ کردار:
معاویہ اور معاویہ صفت افراد کے نزدیک انسانی عواطف اور ضوابط بے معنی تھے جس روز سے معاویہ نے یہ سمجھ لیا کہ میرے لئے حیات عثمان سے زیادہ ان کی موت سود مند ہے اور ان کی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون سے بہتر اس کا زمین میں بہہ جانا فائدہ بخش ہے اسی دن سے عثمان کے قتل کے لئے حالات کو سازگار کرنے میں مصروف ہوگیا۔
حضرت علی(ع)معاویہ کی اس جال سازی کی طرف کچھ یوں اشارہ فرماتے ہیں۔
اے معاویہ!تو جو عثمان اور قاتلان عثمان کا تذکرہ بار بار چھیڑتا ہے اس کے کیا معنی   ٰ ہے؟ تو نے عثمان کی اس وقت کمک کی جب تیرا مفاد مضمر تھا اور جب اس کا فائدہ تھا تو تونے اس کو تنہا چھوڑ دیا [مطالعہ نہج البلاغہ]
علی اور خوارج
حضرت علی(ع) کو بعض ایسے تنگ نظر ,سادہ لوح اور ظاہر پرست مسلمانوں کے مقابلہ میں صف آرائی کرنی پڑی جو دائم الذکر اور جن کے لباس سے زہد اور سادہ زیستی کے آثار اور جبین پر سجدوں کے نشان نظر آتے تھے۔
ان ظاہر نما مسلمانوں کو سرکوب اور زمین گیر کرنا بہت ہی دشوار اور پیچیدہ مرحلہ تھا کیونکہ ان کے ظواہر نے لوگوں کے افکار پر کافی اثر کر رکھا تھا ۔ یہ لوگ اس زمانہ میں زہد اور سادہ زیستی میں ضرب المثل تھے۔
افراط اور تفریط کا سر انجام :
جنگ صفین کے آخری مرحلے میں لشکر شام نے عمر وبن عاص کی تجویز پر قرآن کو نیزوں پر بلند کردیا اور کہنے لگے :اے اہل عراق جنگ سے دستبردار ہوجاو اور آو قرآن کے مطابق تنازعات کا فیصلہ کرو۔ چند ظاہر بین نگاہیں قرآن کے تقدّس سے دھوکہ کھا گئیں ۔ امام علی(ع) کے اصرار کے باوجود جنگ کرنے سے انکار کردیا اور آپ کو تحکیم پر مجبور کردیا ۔ حضرت نے مجبور ہو کر تحکیم کو قبول کردیا ۔
معاویہ کی طرف سے عمروبن عاص حکم مقررہوا , ادھر امام علی (ع)نے ابن عباس کا نام تجویز کیا لیکن تند مزاج اور تنگ نظر فوج نے آپ کی تجویز کو قبول نہیں کیا اور آپ کو مجبور کردیا کہ ابو موسیٰ اشعری کو حکم بنائیں ۔
عمر وعاص نے ابو موسیٰ اشعری کی سادگی سے استفادہ کرکے علی(ع) کو خلافت سے معزول اور معاویہ کو خلافت پر نصب کردیا۔
فیصلہ کرنے والوں کا یہ تعجب انگیز اور اندھا فیصلہ سن کر امام علی(ع) کی فوج میں ایک عجیب کہرام مچا, ان میں سے بعض افراد آپ کے پاس آگئے اور کہنے لگے اے علی(ع) ہم نے حکم مقرر کرکے گناہ کیا ہے اور ہم سب کافر ہوگئے ہیں ہم اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں تم بھی اپنے گناہ کا اقرار کرو اور توبہ کرو۔[احیاء دین میں آئمہ کا کردار ؛ج۲؛ص۴۸۷]
امام نے توبہ کرنے سے صاف انکار کردیا تویہ لوگ اس بات سے نا امید ہوئے کہ علی(ع) توبہ کرنے والا نہیں ہے اب ان لوگوں نے حکومت کو تضعیف کرنے کی غلطی کردی جو آخر میں جنگ کی شکل اختیار کرکے نہروان کے میدان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن ہوگی ۔
خوارج کی تنگ نظری:
یہ لوگ اس قدر لجوج , جاہل اور تنگ نظر تھے کہ عبداللہ بن حبّاب کو دستگیر کرکے صرف اس جرم پر کہ اس نے علی(ع) کے کفر کا اقرار نہیں کیا گوسفند کی طعح نہرکے کنارے شہید کردیا اور ان کی حاملہ بیوی کے پیت کو چاک کرکے اس کی شکم سے بچے کو نکال کر ذبح کر دیا [امام علی و خوارج؛ص۱۶۵]
فتنہ میں دنیا طلبی کا کردار:
فتنہ کے مہم ترین عوامل میں سے ایک عامل دنیا طلبی ہے قرآن نے اس حقیقت کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۔ [انفال ۲۸]
مسلمانوں کے درمیان  فتنہ اس وقت رونما ہوا جب پیامبر اسلام (ص)نے اس دنیا سے وفات پائی اور حکومت الٰہی اپنے صحیح راستہ سے منحرف ہوکر بعض نالایق اور نادان افراد کے ہاتھوں جاپڑی ، جو کل تک ایک ایک درہم و دینار کے محتاج تھے لیکن آج خزانے میں سالوں سال تک حکومت کرنے کے لئے مال جمع ہے کل تک راتوں کو تنہا مار ے مارے پھرتے تھے لیکن آج ہزاروں افراد کا لشکر ساتھ چلتا ہے حتیٰ بعض افراد نےبیت المال کو مال غنیمت کے طور پر ہمسایوں اور دوستوں میں تقسیم کردیا یہاں تک کہ بعض افراد کے پاس اتنا مال جمع ہوا کہ وہ سونے کو کلہاڑیوں سے توڑتے تھے ۔خطبہ شقشقیہ میں حضرت علی(ع)نے ان افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
بعض افراد نے اللہ کے مال کو اس طرح نگلنا شروع کردیا جس طرح اونٹ فصل ربیع میں گھاس کو چراتا ہے یہاں  تک کہ وہ وقت آگیا جب اس کی بٹی ہوئی رسی کے بل کھل گئےاور اس کی بد اعمالیوں نے اس کا کام تمام کردیا اور شکم پری نے اس کو منھ کے بل کرادیا۔ افسوس حکومت اس وقت علی کو ملی جب  پانی سر سے عبور کر چکا تھا۔ لوگ زاہد اور سادہ زیستی کو فراموش کرچکے تھے۔ اس قدر مال و دولت کا نشہ ان لوگوں پر چھایا ہوا تھا کہ بعض افراد نے آپ کے ہاتھ میں بیعت کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ یہ لوگ اس بات سے واقف تھے کہ اب بیت المال تک ہماری رسائی ممکن نہیں ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت کے دور خلافت میں ان افراد نے آشوب اور فتنہ کے اس مسموم اور خطرناک وسائل سے استفادہ کرکے پھر سے بیت المال پر سلطنت کرنے کی مہم شروع کردی آخر کار ان افراد نے عوام الناس کی کج فہمی اور کم ظرفی سے استفادہ کرکے بیت المال پر قبضہ جمالیا ۔
اے کاش! اگر رسول خدا(ص) کے بعد حکومت الٰہی اپنے صحیح راستہ سے منحرف نہ ہوتی تو دنیا علی(ع) کی عدالت اور علم کے اس لبریز اور سرشار سمندر سے اپنی تشنہ روحوں کو سیراب کرلیتی۔
موفق باشید