مولانا ذاکرحسین ناصری سانکو
خاتمیت قرآن اور اسلامی دانشوروں کی نگاہ میں
مقدمہ
دین اسلام کے جاودانی ہونے کی وجہ سے شریعت اسلام کا کسی دوسرے نبی کی بعثت سے منسوخ ہونے کا احتمال ختم ہوجاتا ہے ۔لیکن یہ احتمال باقی رہتا ہے کہ کوئی ایسا نبی مبعوث ہو جو خود دین اسلام کی ترویج کرے اور اس کا مبلّغ ہو جیسے کہ گذشتہ انبیاء(ع) میں سے بہت سے ایسے تھے
اس مقالہ میں ہم کئی زاویہ سے بحث کریں گے کہ آیات قرآنی خاتمیت پر دلالت کرتی ہیں اور وہ روایات جو خاتمیت پر دلالت کرتی ہیں اور فریقین سے وارد ہوئی ہیں اور آخر میں راز خاتمیت یعنی خاتمیت کیوں ؟ در حالیکہ ہم  ان پیغمبروں کی طرف محتاج ہیں اس بارے میں علماء اور متفکرین نے کچھ وجوہات بتائے ہیں ان وجوہات کو ذکر کرکے  اس مقالہ کو اختتام تک پہنچائیں گے۔


خاتمیت پر قرآنی دلائل۔
خاتمیت ضروریات اسلام میں سے ہے اور اس پر اعتقاد رکھنا ہمارے لئے لازم و ضروری ہے یعنی حضرت رسول اکرم)ص(خاتم ہیں اور ان کے بعد نہ کوئی نبی مبعوث ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ کوئی نبی مبعوث ہونے والا ہے۔ یہ مسئلہ اتنا واضح ہے کہ اسے غیر مسلم افراد بھی جانتے ہیں کہ یہ اسلامی اعتقادات میں سے ہے۔ اسی بناء پر اس پر دوسری ضروریات اسلام کی طرح عقلی استدلال کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ خاتمیت ہمارے دین کا ایک جزء لاینفک ہے اور اسےہم قرآن اور متوتر احادیث کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔اگرچہ علماء نے متعدد آیات اور روایات سے استفادہ کرکے خاتمیت کو ثابت کیا ہے لیکن ان تمام دلیلوں کو  اس مقالے میں ذکر نہیں کیا جاسکتالہذا ہم وہ آیات صریحہ و روایات متواترہ کو ذکر کرتے ہیں جو مشہور ہیں قرآن کریم فرماتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِیینَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَیءٍ عَلِیمًا [سورہ احزاب ۴۰]محمد تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں , یہ آیہ کریمہ  واضح انداز میں آپ کے خاتم ہونے کو بیان کرتی ہے ۔لیکن اسلام کے دشمنوں نے اس آیت پر اعتراض کئے ہیں۔  
پہلا اعتراض: یہ ہے کہ اگرہم مان لیتے ہیں کہ کلمہ خاتم کا وہی معنی  ہے جو معروف ہے اور یہ آیت سلسلہ نبوت کے ختم ہونے کے بارے میں خبر دے رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسولوں کی بعثت کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہو, کیونکہ آیت میں خدا وند عالم نے خاتم النبین کہا ہے نہ خاتم الرسُل اور نبی اور رسول میں فرق ہے؟
علمائے کرام اس اعتراض کا جواب یوں دیتے ہیں کہ جو بھی نمائندہ  خدا مقام رسالت سے سر فراز ہوتا ہے  وہ مقام نبوت کا بھی مالک ہے ۔لہذا انبیاء کا سلسلہ ختم ہوتے ہی رسولوں کا بھی سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔
خاتمیت پر روائی دلائل۔
ایسے توآنحضرت(ص) کی خاتمیت پر سینکڑوں احادیث موجود ہیں جو اس بات کی وضاحت اور تاکید کرتی ہیں ۔ لیکن ہم یہاں ان حدیثوں کو بیان کریں گے جو متواتر ہیں اور اسے شیعہ اور سنی دونوں فرقوں نے اپنی اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے ۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت جنگ تبوک کے لئے مدینہ سے خارج ہونا چاہا تو امیر المومنین علی(ع) کو مسلمانوں کی دیکھ بھال اور ان کے امور کی انجام دہی کے خاطر اپنا نائب بنا کرمدینہ چھوڑ گئے۔حضرت علی(ع)  اس فیض الٰہی سے محروم ہونےکی بنا پر غمگین تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھےیہ دیکھ کر حضرت رسول اکرم (ص) نے فرمایا:"اما ترضیٰ ان تکون منّی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الّا انّہ لا نبیّ بعدی" [ صحیح بخاری ج۳  ص ۵۸ / صحیح مسلم ج۲ ص ۳۲۳ / بحار الانوارج ۳۷ ص ۲۵۴]
کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہوکہ تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی اور اسی جملہ کو فوراً فرمایا۔ "الا انّہ لا نبیّ بعدی"پس فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
یہ جملہ آن حضرت کی خاتمیت کے سلسلے میں ہر قسم کے شبہ کو رفع کردیتا ہے ۔ یہ جملہ [ لا نبی بعدی] دوسری بہت سی  روایات میں بھی ذکر ہوا ہے ۔
خاتمیت کا راز:گذشتہ مباحث اور دلائل کے پیش کرنے کے بعد ہم قارئین کو یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ ختم نبوت کا راز کیا ہے !؟
پہلا یہ کہ آنحضرت (ص) اپنے اصحاب و اوصیاء کی مدد سے پیغامات الٰہی کو تمام انسانوں تک پہونچا سکتے ہیں۔
دوسرا یہ  کہ آ پ (ص) پر نازل شدہ کتاب [قرآن مجید]کو ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رکھنے کی ضمانت دی گئی۔
تیسرے یہ کہ شریعت اسلام تا قیامت پیش آنے والی ضرورتوں کو پورا کرسکتی ہے ۔
شبہ: ممکن ہے کہ ان مطالب کے پیش نظر کوئی یہ شبہ پیش کرے کہ  گذشتہ دور میں جیسا کہ اجتماعی اور اقتصادی روابط کے پیچیدہ ہونے کی وجہ سے جدید احکامات یا ان میں تغییرات کی ضرورت پڑی یا پھر کسی دوسرے نبی کی بعثت کی ضرورت ہوئی۔بالکل اسی طرح آنحضرت(ص)  کے بعد یہ تغییرات نمایاں ہوں اور اجتماعی روابط پیچیدہ ہوجائیں لہذا ہمیں کہاں سے معلوم کہ آئندہ حالات بدلنے کی وجہ سے کسی دوسرے نبی کی ضرورت نہ پڑے؟
جواب:اس شبہ کو اسلامی دانشوروں نے جیسے: علامہ اقبال , شہید مرتضیٰ مطہری وغیرہ نے اپنی اپنی کتابوں میں تفصیلی طور پر بیان بھی کیا اور اس کا ٹھوس جواب بھی دیا ہے ۔ ہم  ان کے بیانات کے  مفہوم کو یہاں ذکر کرتے ہیں .
دین اسلام کے جاودان ہونے کا راز دو چیزوں پر مشتمل ہے۔
۱۔ شریعت اسلام نے انسان کی طبیعی اور فطری ضرورتوں کو الٰہی ہدایتوں کے ذریعے پورا کرنے کا کامل ترین منصوبہ  عمل پیش کیا ہے, اور یہ منصوبہ اس قدر کاملتر ہے کہ اس سے بہتر اور کاملتر تصور نہیں کرسکتے ۔
۲۔ اسلام نے احکام عملی کی قلمرو میں وسیع اور مستحکم اصول و کلیات کا ایک سلسلہ بیان کیا ہے جو انسان کی ہر نوع اور روز مرّہ ضرورتوں کو بیان کرسکتے ہیں  اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ فقہائےاسلام خاص کر شیعہ گذشتہ صدیوں سے معاشرہ اسلامی احکام عملی کے میدان میں ہر قسم کی ضرورتوں کا خاطر خواہ جواب دیتے چلے آئے ہیں۔اور ان ضرورتوں کو پورا کرنے میں درجہ ذیل امور موثر ہیں۔
۱۔ حجیت عقل ۔
پوری انسانی زندگی میں فیصلہ کے موقع پر عقل کی حجیت اور اس کا اعتبار , فرائض اور احکام اسلامی کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے جیسا کہ علامہ اقبال بھی , بلوغ عقل اور فکر کو راز خاتمیت جانتے ہیں ۔[درآمدی بر مسائل جدیدکلامی؛ہادی صادقی]
۲۔ اہم اور مہم کا لحاظ رکھنا ۔
ہم جانتے ہیں کہ احکام تابع مفاسد اور مصالح ہیں اور ان احکام میں سے بعض عقل کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے اور بعض کو شرع بیان کرتی ہے , تزاحم کی صورت میں فقیہ اہم کو مہم پر ترجیح دےکرمشکل کو حل کرتا ہے۔  
۳۔ اجتہاد کا دروازہ کھلا ہونا۔
امت اسلامیہ کے اجتہاد کا دروازہ کھلا ہونا  بذات خود خاتمیت دین کی دلیل ہے۔
۴۔ احکام ثانویہ۔
شریعت اسلام میں حکم اوّلی کے علاوہ احکام ثانویہ بھی موجود ہیں کہ جس سے بہت سےمسائل اور ضروریات حل کئے جاسکتے ہیں۔[ عقاید امامیہ / آیۃ اللہ جعفر سبحانی]
ماحصل:مذکورہ بیان کردہ دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ شکوک و شبہات اور اعتراضات جو اسلام دشمن عناصر کی جانب مسئلہ خاتمیت پر وارد ہوئے اور کئے جارہے ہیں یہ سب کے سب بے بنیاد ہیں جس کا محکم و مستدل جواب ہمارے پاس موجود ہے۔