مولانامحمد جواد حبیبی

آج کی دنیا کو اسلام کی ضرورت

بیشک اسلام ایک نظام زندگی ہے۔ جس پر عمل کرنے سے انسان سعادت و کمال پر پہونچ سکتا ہے ۔ اسلام انسانوں کے فطرت اور غریزہ کےمطابق ہے اور اسی حساب سےوہ انسانوں کو صحیح راستہ کی ہدایت کرتا ہے کہ جس کی ہدایت نے آج تک لوگوں کو ہر طرح کے خوف و خطر سے بچا کے امن و امان کی دنیا میں قدم رکھوایا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا آج کے لوگوں کو اسلام کی ضرورت ہے ؟ کیا اسلام آج کے لوگوں کو امن و امان عطاکرسکتا ہے ؟ کیا اسلام آج کی موڈرن دنیا کے لئے ہے؟کیا اسلام لوگوں کو ظلم و بربریت سے نجات دے سکتا ہے و۔۔؟اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کے لوگوں کواسلام کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی ماضی میں زندگی کرنے والوں کو تھی ۔ یہ اسلام ہی ہے کہ لوگوں کو ستمگاروں کےخونی پنجوں سے اور ظالموں کے چنگل سے نجات دے سکتا ہے۔ جیسا کہ ۱۴سوسال پہلےانسانیت کو ظالموں کے قید سے نکالا تھا۔ واضح ہے آج ستمگار بہت ہے ان میں بعض بادشاہ ہیں اور بعض صاحب حکومت ہیں اور کچھ سرمایہ دار گروہ ہے کہ یہ سارےلوگ مختلف وسائل کے ذریعہ زحمت کشوں کے خون چوس رہے ہیں۔ اسلحہ کے زور پر ان کو فقر اور محتاج کی حالت میں سرکوب کرتے ہیں ۔ اور کچھ خونخوار دیکٹاٹور گروپ مال و دولت کے زور پر جان لیوا اسلحے بناتے ہیں تو کچھ غلط افواہوں کے لئے مختلف قسم کے چینلرز بنارہے ہیں تاکہ وہ اپنے ان ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سیدھی سادھی عوام کے جذبات سے کھیلیں اوران کے عقائد و افکار پر اپنے غلط افکار کا رنگ چڑھا سکیں۔ یہ لوگ وہ ہیں جو طاقت کے زور پرخود کو عوام کا محافظ اور مجری تصور کرتے ہیں ۔ اور بے دفاع اور رنجیدہ طبقہ کو اپنا خادم اور نوکر بنانا چاہتے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں معلوم کہ اس ظلم و جبر سے بھری دنیا کو اسلام کے سواکوئی نجات نہیں دے سکتا ہے۔

یہاں پر بعض یہ سوال کرسکتے ہیں کہ اگر اسلام اس طرح نجات بخش ہے تو کیوں اپنی مظلوم ملتوں کو حکمرانوں کے چنگل سے نجات نہیں دیتا؟

جواب اس کا یہ ہے کہ ابھی اسلام ان ممالک میں حکم فرمانہیں ہے یا ابھی ان ملتوں میں اسلام کی حکومت نہیں ہے ۔ حتیٰ اس محیط میں رہنے والے مسلمان بھی واقعی اسلام سے نا آشنا ہیں اور اسلام سے انہوں نے فقط مسلمانی نام کو حاصل کیا ہے ۔ اور اس کے سوا کچھ نہیں ۔ لہذا قرآن کا یہ حکم اس گروہ کے لئے کاملاً صادق اور صحیح ہے کہ خدا وندعالم فرماتا ہے ۔َمَنْ لَمْ یحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ یعنی وہ لوگ جو خدا کے حکم کے خلاف حکم دیتے ہیں کافر ہیں ۔{ سورہ مائدہ ، آیۃ ۴۴}

نیز دوسری جگہ خدا وندعالم پیامبر اکرم(ص)سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا[ کہ ان سے کہہ دیجئے ہر گز یہ نہ کہے کہ ہم مومن ہیں بلکہ کہو کہ ہم بنا چار اسلام لائے ہیں اس لئے کہ ابھی ایمان تمہارے دلوں میں نہیں آیا ہے قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا یدْخُلِ الْإِیمَانُ فِی قُلُوبِكُمْ {سورہ حجرات۱۴}

البتہ آج ہم جس اسلام کی طرف دعوت دے رہے ہیں بالکل اس کے مخالف ہے کہ بعض مسلمان نما گروہ مشرق زمین میں یا بعض حکمران جو خدا کے قوانین کے مخالفت کرتے ہوئے دعوت دیتے ہیں یا کبھی یورپ کے دستوراور اس کے منشاءکے مطابق ، کبھی حکم خدا کے موافق اور کبھی مخالف عمل کرتے ہیں ۔ ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ قرآن خود کہتا ہے فَأَمَّا الزَّبَدُ فَیذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا ینْفَعُ النَّاسَ فَیمْكُثُ فِی الْأَرْضِ كَذَلِكَ یضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ {سورہ رعد آیہ ۱۷}

کہ جھاگر خشک ہوکر فنا ہوجاتا ہے ، اور جو لوگوں کو فائدہ پہونچانے والا ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتا ہے ۔ اور خدا اس طرح مثالیں بیان کرتا ہے ۔

ایک عام بات ہے جب اسلام حکومت کرے گا تو اس طرح ہوگا کہ خدا کے حکمرانی کے سوا کسی ظالم و ستمگار کو اسلامی ملتوں میں حکمرانی کا حق نہیں ہوگا ۔ اس لئے کہ اسلام ہرگز کسی جفا کار کو اہمیت نہیں دیتا ہے۔ اور نہ ہی کسی کو اپنی مرضی سے حکومت چلانے کی اجازت دیتا ہے۔ بلکہ اس وقت ہر جگہ ہر وقت ہر کوئی خدا کے حکم کے مطابق اور رسول خدا (ص) کے بنائے ہوئے قوانین پر چلنے چلانے ہوگے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خدا کی حکومت,عدل و انصاف کی عدالت ہوگی۔ ہاں جس دن اسلام کی حکومت کی ذمہ داری کو اپنے ہاتھ میں لےلےگا تو کچھ جوان مومن اور مجاہد کو اسلام کے زیر سایہ تربیت کرے گا ۔کہ کوئی بھی حکمران خود بخود معزول ہوجائے گا اور لوگوں کو اس کی اطاعت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔

جیسے "خلیفہ اول ابوبکر نے اپنے زمانے میں کہا تھا کہ اے لوگو:جب تک میں خدا کےحکم پر عمل کررہا ہوں تو تم لوگ میری پیروی کرنا اور جب بھی تم یہ دیکھنا کہ میں منحرف ہورہا ہوں یا گناہ کررہا ہوں تو تم مجھ سے حق زمامداری چھین لینا اور میری پیروی نہ کرنا"

اسلام نے یہ اجازت دے رکھا ہے کہ لوگ خود اپنی حکومت کو چلانے کے لئے ایک شائستہ شخص کا انتخاب کریں۔ کہ وہ لوگوں کے ساتھ بہترین رفتار کرے ۔ جس دن اسلام حکومت کرے گا تو وہ لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق ریاست یا حکومت چلانے کا حق نہیں دے گا ۔ اور نہ زبر دستی کرنے کا حق دے گا ۔ اسی طرح جفاکاروں کے شر سے ملتوں کو نجات دے گا ، اور استعماری ملتوں کے آفتوں سے محفوظ رکھے گا ۔ چونکہ اسلام عزت و شرف کادین ہے ہمیشہ اپنے نور سے استعماری تاریکیوں کو زائل کرتا رہا ہے اور لوگوں کے سامنے اسلام دشمن عناصر کے مکدر چہرہ سے نقاب کشائی کی ہے ,اور یہی اسلام ہے کہ جس نے لوگوں کو ہر جگہ ہر زمانے میں ہر وسائل اور ابزار کے ساتھ استعمار کے خلاف قیام اور جنگ کرنے کی دعوت دی ہے ۔ پس آپ نے دیکھا کہ آج ہمیں اسلام کی کتنی ضرورت ہے اور اسلام کے زیر پرچم رہنے کی کتنی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے ملک کو قوم و قبیلہ کو استعمار سے پاک رکھیں اپنی فکروں کو عقائد , روح و اموال کو اور ناموس کو استعمار کے زہریلے ہاتھ سے چھین لیں۔ اس وقت خدا وند کے حکم میں ہم شامل ہوں گے کہ فرماتا ہے " آج ہم نے دین کو مکمل کیا اور اپنی نعمت کو تمہارے اوپر تمام کیا اور اسلام کو بہترین دین قرار دیا"۔الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت نعمتی و رضیت الاسلام دیناً۔

اس بنا پر اسلام کو پہچا ننا اور اسے لوگوں تک پہونچانا نہ فقط مسلمانوں کی ذمہ داری ہے بلکہ دنیا کے تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بڑی نعمت کو کہ جسے خالق کائنات نے عطاکیا ہے ہاتھ سے جانے نہ دیں۔

اور آج دنیا دو طاقتوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔ ایک طرف خطرناک کمونیسٹ طاقت اور دوسری جانب سے سرمایہ داری تبہکار طاقت ۔ یہ دونوں طاقت کافروں کے ہاتھ میں ہے اور دنیا میں حملہ کرنے کے لئے بے چین ہیں اور ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں, ظاہراً تو یہ دونوں ایک دوسرے سے لڑتے اور جنگ کرتے ہیں لیکن اگر ہم غور کریں تو یہ معلوم ہوجائے گا کہ یہ دونوں مظلوم اور بے گناہ افراد کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے اور ان کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں ۔ یہ دونوں جفا کار ہمارے مجروح سینے پہ آکر کشتی لڑتے ہیں ۔ ان کی نظر میں ہماری کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ ہم ان کی نگاہ میں ایک کالا, مال و ثروت کہ مانند ہیں کہ ایک مالک سے دوسرے مالک کی طرف منتقل ہوتے رہیں۔لیکن یہ کہ مسلمان ہوش میں آئیں اور اپنی کھوتی ہوئی عزت و آبرو ,شان و شوکت پھر سے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔جیسا کہ آج ہم عالم اسلام میں رونما ہونے والے ایک فکری انقلاب کا مشاہدہ کررہے ہیں ٹیونس، مصر، لیبیا، یمن، اردن ،بحرین اور سوریہ وغیرہ میں لوگوں کی بیداری اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ اپنی عظمت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح ہر مظلوم اگر ظالموں کے خلاف آواز بلند کرے تو یقینی طور پر یہ دنیا امن و آمان کا گہوارہ بن جائے اور ان دو بڑی طاقتوں کی جگہ تیسری طاقت آجائے جو ایک معتدل طاقت ہو ۔ اور یہ ایک سرمایہ داری طاقت کو نفوذ کرنے سے اور کمیونیسٹی طاقت کو غلبہ ہونے سے روکے گی۔ اس وقت نہ یہ شوروی روسیہ ہمارے اوپر حملہ کرے گا اور نہ امریکی سرمایہ داری ۔آنکھ اٹھا کے دیکھے گا بلکہ اس وقت تو یہ دونوں اسلام کی طرف بھاگیں گے اور مسلمانوں کی خوشنودی کے لئے ایک دوسرے سے قریب ہوکر کام کریں گے ۔ اس بناپر آپ دیکھے کہ آج دنیا کو اسلام کی کتنی ضرورت ہے ۔ اس وقت اسلام کے علاوہ کسی اور چیز کی پیروی نہیں ہوگی ۔ اور فقط اسلام اس دنیا کو خوف و ڈر سے روانی اور روحی ناراحتی اور بیماری سے نجات دے گا۔ اس دنیا کو اسلام کی کتنی ضرورت ہے کہ اس کو سلطانوں اوربادشاہوں کی شہوت سے بچائے ۔ اور یہ یورپ جو شہوت کی دنیا میں غرق ہے اپنے کو تمدن اور متمدن یافتہ تصور کرتا ہے ، در حالیکہ یہ شہوت کی آماجگاہ سے باہر آنے کی قدرت بھی نہیں رکھتا ہے۔اور اس طرح شہوت پرستی میں مست ہے کہ اس کا اپنا کنٹرول بھی ہاتھ سے نکل چکا ہے ۔ تو جب یہ یورپ خود کو شہوت پرستی سے نجات نہیں دے سکتا ہے تو دوسروں کو کیسے نجات دے سکتا ہے!؟

آج لوگ کہتے ہیں کہ سائنس اور تجربہ نے ترقی کی ہے ، لیکن افسوس عالم بشریت نے کیا ترقی کی ہے؟ اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ لیکن یہ غور کرنے کی بات ہے کہ آج تک ہم نے کبھی۔۔۔ دیکھا کہ وہ جامعہ یا وہ ملک جو اسیرِ شہوت پرستی ہوگیا ہو۔ اور محسوسات مادی کے علاوہ کچھ حُسن بھی نہ رکھتا ہو وہ ترقی اور پیشرفت کرے اور زندگی کو آرامش اور و آسائش سے لبریز کرے ۔ یعنی ایسا واقعہ تاریخ میں نہیں گذرا ہے ۔

ہاں آج کی دنیا میں علم {سائنس} کی ترقی نے مشرق اور مغرب کے کونہ کونہ میں بعض لوگوں کو جذب کرلیا ہے ۔ اور یہ بے فکر لوگ تعجب کرتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ ہوائی جہاز کا بنانا، ایٹمی بمب بنانا، ہیڈروجن کا ایجاد کرنا ، ریڈیو و ٹیلی ویژن کا بنانا اور الکٹریسٹی کا کیٹرول بنانا، انٹرنیٹ ، فیکس ، ٹیلی فون کا بنانا فقط وسیلہ ہے ترقی کا۔ مگر افسوس صد افسوس کہ صحیح ترقی اور پیشرفت کی اصل میزان و معیار یہ نہیں ہے ۔ بلکہ وہ صحیح میزان جو کبھی غلط نہیں ہوسکتا وہ یہ ہے کہ انسان ہر جگہ اور ہر وقت اپنی شہوت پر کامیاب ہوجاءے اور اچھی طرح اپنی فطری خواہشات کو پورا کرے ۔ اس لئے کہ انسان جتنا شہوت پر کنٹرول کرے گا اتنا تمدن سے نزدیک ہوگا ۔ یہ میزان اعتباری اور جعلی نہیں ہے۔ کہ جس کو بغیر کسی ادیان و مذاہب اور علم اخلاق کے بنایا گیا ہو بلکہ یہ ایک تطبیقی قانون اورفطری میزان ہے ۔ کہ خدا نے ا نسانوں کے بدن میں رکھا ہے ۔ اس لئے اچھا ہے کہ ہم چند ورق تاریخ کا مطالعہ کریں اور تھوڑی دیر بڑے بڑے ممالک اور ملتوں کے بارے میں فکر کریں کہ کتنے ایسے ممالک تھے کہ ان کے پاس قدرت تھی زندگی تھی ہنر و فن تھا بشریت کے لئے بہترین کام کرسکتے تھے۔ لیکن کوشش نہیں کی، بلکہ اس کے بجائے اپنے کو شہوت پرستی میں غرق کردیا تو آخرکاران کا انجام کیا ہوا؟ بُرا انجام ان کے نصیب ہو عذاب میں گمراہی میں غرق ہوگئے۔ قدیم یونان کے وہ با عظمت محل کو کس چیز نے ویران کیا ؟ قدیم روم اور ایران کے امپراطوری کوحکومتوں کو کس چیز نے نابود کیا ؟ اسلامی دنیا کی قدرت کو ، حکومت عباسی کی آخری دور میں ان کو کس چیز نے نابود کیا ؟ فرانس کی شہوت پرست قوم نے جنگ اول اور جنگ دوم میں کیا شجاعت دیکھا؟ کیا جب پہلی ضربت ان پر پڑی تو تسلیم نہیں ہوئے ۔ اس لئے کہ فرانس کی قوم و ملت نے اپنی تمام طاقتو ں کو تن پروری اور شہوت پرستی اور عیاشی میں صرف کر رکھا تھا ۔ اس حد تک یہ لوگ بے خبر ہوگئے تھے کہ جب جنگ ہوئی تو ان کے پاس کوئی ایٹمی اور طاقت نہیں تھی ، کہ اپنی مادی اور معنوی سرمایوں کا دفاع کرسکیں۔اور اپنی قوم و قبیلہ اور زمین کا دفاع کرسکیں۔

آج ہم نے ترقی کی میزان اور معیار کو اپنے سے دور کردیا ہے تو ہر گز دنیا شہوت کی دریا میں غرق ہوکر ترقی نہیں کرسرکتی ہے ، اب آپ نے یہ ضرور محسوس کیا ہوگا کہ آج کی متمدن دنیا کو بھی اسلام کی کتنی ضرورت ہے اس طرح جیسے آج سے ۱۴ سو سال پہلے ضرورت تھی ۔ جب تک اپنے کو شہوت پرستی سے نجات نہ دے اور اپنی زندگی کو بشریت کی حمایت کے لئے وقف نہ کرے دنیا کے کونہ کونہ میں خیر و برکت کو پہونچائے بغیر، افتخار کے لباس کو پہنے بغیر کوئی یہ نہ کہے کہ اس طرح کے مطالب پرانے ہو گئےہیں۔

اس بارے میں گفتگو کرنا بے فائدہ ہے ۔ دوسری عبارتوں میں اس طرح کا تلاش بے سود ہے ، خستگی اور تھکاوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ تو ہم ان کے جواب میں کہیں گے کہ اس سے پہلے بھی انسانیت تجربہ کے ذریعہ یہاں تک پہونچ چکی تھی کہ عقیدہ اور ایمان کی بنا پر ترقی کرسکتے ہیں ۔ اوریہ مسلم ہے کہ جو کام ایک بار انجام ہوا ہووہ دوبارہ بھی انجام پائے ۔ یہ ممکن ہے آج کا انسان بھی وہی انسان ہے کوئی بھی تغییرات کی طبیعت اور فطرت میں نہیں ہوا ہے اور یہ نکتہ قابل انکار نہیں ہے کہ اسلام سے پہلے والی دنیا بھی بندگی کی کثیف ترین گندے سمندر میں غرق ہو کر شہوت کے بندے بنے ہوئے تھے ۔ کوئی بھی فرق نہیں تھا آج کی دنیا سے۔

آج کی دنیا میں فقط شہوت رانی کے وسائل و آلات کا ایجاد نہیں ہے بلکہ کل قدیم روم و یونان میں بھی یہ تباہی اور فساد کے وسائل موجود تھے ۔ آج کے پیریس اور لندن اور امریکہ کے شہروں سے کم نہیں تھی قدیم ایران جس طرح اخلاقی ہرج و مر ج میں مبتلا تھا کہ جس کا آج کمونیزم دنیا میں ہم مشاہد کررہے ہیں ۔

لیکن جیسے یہی اسلام آیا ، ان تمام برائیوں پر پابندیاں عائد کردیں اس بُری اور گندی زندگی کو ایک آبرو مندانہ زندگی میں بدل ڈالا۔ اس زندگی کو ترقی اور رشد و نشاط میں تبدیل کرکے خیر و صلا ح کے لئے زمین پر آمادہ کیا ۔ اور غرب اور شرق کے انسانوں کو اخلاق کی طرف دعوت دیا ۔ اور ہرگز اس زمانے کے شر اور فساد سے عاجز ہوکر پیچھے نہیں ہٹے ۔ بلکہ اس زمانے کے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف روانہ ہوا ۔ جس کی بنا پر کافی دنوں تک اسلامی دنیا اس جہان کے لئے منشا نور اور منبع سعادت اور رہبر کاروان رہا ہے ۔ وہ لوگ کبھی بھی خودکو مادی قدرت حاصل کرنے کے لئے یا علمی و فکری ترقی کے لئے شہوت رانی کو اپنی ضرورت نہیں سمجھتے تھے اور اخلاقی ہرج و مرج میں مبتلا نہیں ہوتے تھے ۔ بلکہ اسلام کے پیروکار ہر جگہ اور ہر وقت انسانیت کے لئے ایک واضح اور روشن نمونہ بنتے گئے ، یہاں تک کہ عالم اسلام کے حکمرانوں نے جب بے توجھی سے کام لینا شروع کیا تب سے قوم اور ملت کے اخلاق اور آہستہ آہستہ انحطاط اور پستی کی جانب جانے لگا ۔ آخر کار مسلمان بھی شہوت کا غلام بنا اور سنت خدا کے مخالفت کرنے لگا ۔ اب اس پریشانی سے اسلام کے سوا ے کوءی نہیں بچا سکتا ۔ لہذا اے مسلم بھائیوں اپنے کو روشن فکر بناؤ ۔ اس لئے کہ جب تک ہم روشن فکر تھے تب تک دنیا کا حاکم بنا رہے لیکن جس دن سے ہم نے روشن فکری چھوڑ دی تب سے ہم غلام بنائے ہوئے ہیں ۔ اور روشن فکری بغیر اسلام کے تعلیمات کے نہیں ہوسکتا اس لئے ضروری ہے کہ اسلام کوسمجھیں ۔ تاکہ اس گھٹن کی زندگی سے نکل کر امن و امنیت کی دنیا میں قدم بڑھاسکیں۔ نتیجہ یہ کہ آج کی دنیا کو صرف اسلام ہی نجات دے سکتا ہے اور آج کی دنیا کو صرف اسلام ہی کی ضرورت ہے۔

والسلام

منابع:

قرآن، تاریخ اسلام، استعمار شناسی، آیا ما مسلمان ھستیم، حاکم افکار