مولاناایوب صابری براکو

دین اور انسان

اس دنیا میں انسان کو زندگی گذارنے کے لئے ایک قانون کی ضرورت ہے جو اس کو صحیح اور بہترین طریقہ سے زندگی کے تمام مشکلات میں مدد کرےبیشک دین ایک فطری شئے ہے اور اسی فطرت پر خدا نے انسانوں کو خلق کیا ہے۔ دین انسان کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا آنکھوں کے لئے نور و بصیرت, یا جیسےجسم کے لئے روح ضروری ہوتی ہے ۔

دین، خالق اور مخلوق کے مابین بہترین وسیلہ ہے, آسمان اور زمین کے مابین ایک بہترین نظام ہے ۔ اس زمین پرجو چیز تمام مخلوقات سے اشرف اور بہتر ہے وہ اشرف المخلوقات انسان ہے , اور جو چیز انسانوں میں اشرف ہے وہ اس کا دل ہے ۔ لیکن جو چیز دل کے لئے اچھا اور اشرف ہے وہ ایمان باللہ ہے کہ انسان کا ایمان ہے کہ خالق کائنات موجود ہے اور وہ زندگی عطا کرنے والا اور رزق و روزی عطا کرنے والا ہے ۔

دین اور تکامل اخلاق:

ہر کوئی قرآن کے ہدایت پر اور سلامت نفس کے تمام راہوں پر چلنا چاہتا ہے ,ہر کوئی اپنے کو پسند کرتا ہے ۔ اس بنا پر کمال کے راہوں کو تلاش کرتا ہے ۔ ہر جوا ن یہ چاہتا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن کون ہے کیا اس کی فطرت اور وجدان آلودہ ہوسکتا ہے ؟ آلودگی اور گمراہی کے اسباب کیا ہیں؟ دین کا ہدف ان سوالوں کا جواب دینا اور صحیح نظریہ پیش کرنا ہے جیسا کہ امام علی C فرماتے ہیں۔ الدین یعصم [نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۸]۔ کہہ دین حافظ ہے ۔ یعنی انسانوں کو بُرائیوں سے اور گمراہیوں سے دور رکھتا ہے ۔دین کو زندگی کے لئے اور سیر و تقویٰ کو آخرت کے لئے ذخیرہ کرو۔[ھمان ۱۹۸]

دین کے تمام مسائل کو حل کرکے پیش کرنا آج کے نئی نسل کے لئے بہت ضروری ہے ۔ صحیح راستہ دکھانا,ان کو کمال کی جانب ہدایت کرنا,ہر جوان کو انحراف سے دور رکھنا , ان کے ایمان اور اخلاق کو مضبوط کرنا اور ان کو آزاد منش بنا کر راہ خدا میں لانا ہر مبلغ اسلام اور دین شناس کی ذمہ داری ہے ۔ جیسے کہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں : علیکم بلزوم الدین و التقویٰ و الیقین فھن احسن الحسنات و۔۔۔ ینال رفیع الدرجات۔[ غرر الحکم /ص ۸۴] تمہارے اوپر واجب ہے کہ تم دین اور تقویٰ اور یقین کی رعایت کرو چونکہ یہ بہترین نیکیاں ہیں , اس لئے کہ انسان ان کی رعایت کرکے معنوی درجات پر فائز ہوتا ہے ۔

دین اور اجتماعی نظام :

دین کے اجتماعی کارناموں کا کچھ مثبت نمونے ذکر کرتا ہوں , دین نے اجتماعی زندگی کو وجود بخشا,مشورت,معرفت دینی, جمہوریت ,عدل کی گسترش , ظلم کے مخالفت , اجتماعی آ زادی, دوستی, بھائی چارگی ,تعاون ,استقلال جامعہ ,عزت فرد اور جامعہ,لوگوں کے حقوق کی رعایت ,عقل گرائی و غیرہ ہے ۔ لیکن دین کے منفی اثرات کے نمونہ ,افراطی اور انسان گرائی , {اومانیسم} کہ غرب کا پورا نظام اسی فکر پر تکیہ کیا ہواہے ۔ لیکن اسلام کے اخلاقی نظام پر جو عمل کر ےگا وہ دنیا کے ہر مشکل اور سخت کاموں سے آسانی کے ساتھ گذر جائے گا ۔ چونکہ اسلام نفس پرستی کو نابود کرکے خدا پرستی کی جانب انسان کو لے جاتاہے ۔ اسلام کے کچھ پیغامات ظاہراً تو مشکل اور ناگوار نظر آتےہیں,۔ جیسے موت کی یاد دہانی, جہنم, برزخ و دوذخ و غیرہ , اگر قرآن بہت سی جگہوں پر جہنم کا ذکر کرتا ہے , اور اگر شب قدر کے راتوں میں سو مرتبہ "خلصنا من النار یارب" پڑھنے کی وصیت کرتا ہے ۔ اور دعاے مجیر میں ۸۰ مرتبہ "اجرنا من النار یا مجیر" آیا ہے ۔

تو ان سب کی ایک علت موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کے غرور کی آگ کو خاموش کرنا ہے , خود خواہی , غفلت سے نکال کر خدا پرستی کی جانب لانا ہے تاکہ اس کو صحیح ہدایت مل جائے اور زندگی کے ہدف کو حاصل کرسکے۔

دین اور فطری ضروریات:

اسلام کے تعلیمات چشمہ کی مانند ہے کہ انسان کے تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے ۔ ہر جوان کے مشکل مسائل کو حل کرتاہے ۔ وہ ضروریات جو انسانوں کے لئےبہت مہم ہیں وہ تین طرح کےہیں ۔

۱۔ مادی اور فیزیولوژی جیسے تفریح, آرامش روانی اور جنسی ضرورت ہے ۔

۲۔ روحی ضروریات اور خود کی شناخت اور پہچان ,تعیین ہدف, کمال نفس کے راہوں کو تلاش کرناہے ۔

۳۔ اجتماعی ضروریات, ہر جوان اپنی فطری تقاضےکے مطابق ان سوالوں کا جواب تلاش کرتا ہے ۔

ان کو دین سے آشناکرنا بہت ضروری ہے ۔ ان کے مادی ضروریات کے ساتھ معنوی کمالات کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے ان کو افراط اور تفریط سے بچانا ایک لازمی کام ہے ۔

قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو دل اور فطرت سے پیوستہ ہے ۔ اور اس کے مطابق قرآن ہدایت کرتا ہے ۔ جیسے ایمان کے بارے میں قرآ ن فرماتا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِیتْ عَلَیهِمْ آیاتُهُ زَادَتْهُمْ إِیمَانًا {سورہ انفال آیۃ۲]۔ جب ان پر خدا کی آیات کو پڑھا جاتا ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتاہے ۔

یہ آیات بھی انسان کے روحی اور فطری ضرورت کے مطابق گفتگو کرتی ہیں۔

وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْینَهُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ یقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِینَ [مایدہ آیۃ ۸۳] ہر وقت وہ آیات جو رسول پر نازل ہوتی ہے یہ لوگ سنتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو روانہ ہوتی ہیں چونکہ انہوں نے حقیقت کو پالیا ہے تو اس وقت یہ لوگ کہتے ہیں پروردگارا ہم نے ایمان لایا اور ہم کو شاہدین اور گواہ دینے والوں میں شامل فرما۔

إِذَا یتْلَى عَلَیهِمْ یخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا [اسراء ۱۰۷] جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدے میں گر جاتے ہیں ۔

Text Box: عن النبی1: الصائم فی عبادۃ اللہ و ان کان نائماً علی فراشہ مالم یغتب ؛ یعنی روزہ دوک کھن خدای عبادتیانگ این نئید تانگسے یود نا سنگ کھوری بستریکا۔ نامی سنگ غیبت مابیاسنا۔[ثواب الاعمال جلد۱ صفحہ ۷۵]ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دین انسان کے لئے ضروری ہے اور دین کے بغیر انسان ایک لمحہ کے لئے بھی زندگی نہیں کرسکتا ۔ بالخصوص دین اسلام جو تمام ادیان سے بالاتر اور مستحکم ہے , جس کی باتیں بغیر دلیل اور استدلال کے نہیں ہوتی ہیں ۔ یہ انسان کو ہمیشہ حق اور سعادت کی جانب دعوت دیتا ہے ۔ اس بنا پر یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام ایسا دین نہیں ہے جو وراثت ہیں آئے بلکہ اسلام کو سیکھنا اور سمجھنا پڑھتا ہے , جو اس کو سیکھےاور سمجھے گا وہی مسلمان ہوگا ۔ جو ا سکو بغیر سیکھے سمجھےخود کو مسلمان کہہ وہ نام کا مسلمان ہوگا عمل کا نہیں ۔ ایسے مسلمانوں کو نہ خدا چاہتا ہے اور نہ خدا کو اس کی ضرورت ہے ۔ بلکہ اسلام عالموں کو چاہتا ہے ۔ اور عالم بنانے کے لئے آیا ہے۔ اس بنا پر جو اپنے کو مسلمان کہہ اور جاہل ہو تو وہ حقیقی مسلمان نہیں ہے ۔ آئندہ اس نکتہ کی طرف مزید اشارہ کیا جائے گا ۔خدایا! ہم سب کو اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرما۔

منابع: قرآن مجید، نہج البلاغہ ، غرر الحکم ، دین شناسی، دین گریزی چرا و دین گرائی۔

والسلام