مولاناحسنین مفسری مادیل کرکت چھو

غیبت کرنے والوں کا سر انجام

غیبت یعنی کسی کے پیٹ پیچھے بُرائی کرنااگر وہ بُرائی اس میں موجود ہے تو وہ غیبت ہے اور اگر نہیں ہے تو وہ بہتان ہے[فیرروز الغات]

ایک دوسرے کے پیٹ پیچھے برائی کرنے سے آپس میں جو بھائی چارگی ہے وہ ختم ہوجاتی ہے ۔غیبت کرنے سے دوسرے افراد کے اندرپایا جانے والا ضعف نمایاں اور اس کی موجودہ برائیاں ظاہر ہوتی ہیں ۔جس سے اس کی آبرو ریزی ہوتی ہے ۔ اور ہرانسان کےلئے ا س کی عزت و آبرو بہت عزیز ہوتی ہے اگر معاشرے میں کسی کی عزت ایک بار چلی جائے تو زندگی بھر کوشش کرنے کے بعد بھی واپس نہیں آتی ۔ عزت ایک ایسی گرانقدر شئے ہے جو بہت مشکل سے حاصل ہوتی ہے لیکن جب انسان اسے گنوانے پر کمر بستہ ہوتا ہے تو پل بھر میں گنواں دیتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے انسان کیچھپی ہوئے بُرائیوںکو آشکار کرتاہے

تو فقط اس کی سالہا سال کی محنت کو ہی برباد نہیں کرتا بلکہ اس کی شخصیت کو بھی قتل کردیتا ہے۔اس لئے اسلام نے غیبت کو حرام قرار دیاہے اور شاید اس کے حرام قرار دینے کا ایک فلسفہ یہ بھی ہو کہ عزت دار انسان کے لئے اس کی عزت اور آبرو بہت بڑا سرمایہ ہوتا ہے جسے حاصل کرنے کے لئے وہ اپنی ساری متاع حیات لٹا دیتا ہے ۔ لہذا دین اسلام نے اسے حرام قرار دیا ہےتاکہ ایک مومن دوسرے مومن کی آبرو ریزی نہ کرے اور اس طرح اسلامی معاشرہ ایک صالح معاشرہ بن جائے۔ اسلام غیبت کو گناہ کبیرہ قرار دیتے ہوئے غیبت کرنے والے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ: وَلَا یغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَیحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ یأْكُلَ لَحْمَ أَخِیهِ مَیتًا فَكَرِهْتُمُوهُ.( حجرات :۱۲]۔ایک دوسرے کی غیبت مت کرو کہ تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے یقیناً تم اسے بُرا سمجھو گے۔

مفسرین اس آیہ شریفہ کے ذیل میں چند نکات بیان کرتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔کافر کی غیبت نہیں ہوتی ہے کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہے اور تمام مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں جیسا کہ پیغمبر اسلام(ص) نے ارشاد فرمایا: المسلم اخو المسلم(مسلمان مسلمان کے بھائی ہیں)لہذا مسلمان,مسلمان کی غیبت نہیں کرتا۔

۲۔ مسلمان کی عزت و آبرو اس کے بدن کے گوشت کی طرح ہے اس کے پیٹ پیچھے باتیں کرنا اس کی آبروریزی اور اس کی عزت کو ختم کرنااس کے بدن کے گوشت کھانے کی طرح ہے۔ پس جس طرح ایک مسلمان کا گوشت اور مال دوسرے کے لئے حرام ہے اسی طرح اس کی عزت اور آبرو بھی حرام ہے ۔ پیغمبر اسلام(ص) فرماتے ہیں : کل المسلم علی المسلم حرام دمہ و مالہ و عرضہ۔[محجۃ البیضاء؛جلد۵؛ص۲۵۱]ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون اور اس کا مال اور اس کی عزت حرام ہے ۔

یعنی ہر مسلمان پر واجب ہے کہ جس طرح خود کی جان اور مال کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح وہ اپنے دینی بھائیوں کی عزت,آبرو اور اس کی شخصیت کی بھی حفاظت کریں۔ اور غیبت کے ذریعہ معاشرےیا سوسائٹی میں اس کی شخصیت کشی و آبرو ریزی سے پرہیز کریں ۔

۳۔غیبت کو مردارسے تشبیہ دینے کی علت:

الف: انسان جسطرح گوشت کھانے سے لذت حاصل کرتا ہے اسی طرح غیبت کرنےمیں بھی مزہ آتاہے اور غیبت کے ذریعہ لذت محسوس کرتا ہے۔

ب: مردہ کہ جو مرچکا ہے وہ آپنا دفاع نہیں کرسکتا ہے۔آپ مردہ انسان کے بدن کو جتنی اذیت پہونچائیں وہ کچھ نہیں کرسکتا ہے۔ اسی طرح جس شخص کی غیبت ہورہی ہے وہ بھی اپنے آپ کی دفاع نہیں کرسکتا کیونکہ وہ غائب ہے یعنی وہ اس محفل میں موجود نہیں ہے۔

ج: اگر کسی زندہ آدمی کے جسم کے ایک حصہ سے تھوڑا ساگوشت کاٹ لیا جائے تو شاید مرور ایام اس کٹے ہوئے گوشت کی جگہ بھر جائے لیکن اگر کسی مردہ انسان کے بدن سے کوئی اس کا گوشت کاٹ لے, تو وہ زخم کبھی نہیں بھر سکتا ,اور یہ نقص ہمیشہ کے لئے رہ جائے گا ۔ اور خدا وند عالم نے جو غیبت کو اپنے مرے ہوئے بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جس طرح مردہ انسان کے کٹے ہوئے گوشت کی جگہ قابل جبران نہیں ہے بالکل اسی طرح ایک مومن اور برادر دینی کی آبرور ریزی کے بعد وہ خلا پر نہیں ہوسکتی ! لہذا یہ مثل مشہور ہے کہ گئی عزت واپس نہیں آتی۔ غیبت ایک ایسا درد ہے کہ جس کا کوئی مداویٰ نہیں ہے۔ لہذا آیات و رویات میں غیبت کرنے والوں کی بہت سخت سزا بیان کی گئی ہے۔ جیسا کہ حضرت امام صادق )ع)پیغمبر اسلام (ص) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ(ص) نے فرمایا:غیبت , مسلمان کے دین کو اس طرح ہلاک کردیتی ہے جس طرح کینسر کسی کے پیٹ میں ہواور اسے وہ ہلاک کردے ۔نیز فرمایاکہ: مسجد کے اندر نماز کے انتظار میں بیٹھنا عبادت ہے۔ جب تک ایک نیا امر واقع نہ ہو ۔ لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ فرمایا:کسی کی غیبت و برائی نہ ہو۔[اصول کافی؛ج۲باب غیبت]

غیبت کرنے والوں کے لئے اس دنیا میں ایک سزا یہ ہے کہ اس کی تمام عبادتیں بے سود و بے فائدہ ہیں اس لئے کہ یہ عبادتیں خدا کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتی ہیں , مگر یہ کہ جس شخص کی غیبت ہوئی ہو وہ اسے معاف کردے۔ اور ایک جگہ نیز پیغمبر اسلام(ص) ارشاد فرماتے ہیں خبر دار! غیبت سے پرہیز کرو کیونکہ غیبت زنا سے بدتر ہے، کیونکہ زنا کار اگر توبہ کرے تو خدا اسے معاف کردیتا ہے۔ لیکن غیبت کرنے والے کو خدا معاف نہیں کرتا جب تک کہ وہ شخص جس کی غیبت ہوئی ہو معاف نہ کردے۔

خدا وند عالم نے گناہ گاروں کے لئے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا چھوڑرکھا ہے تاکہ گناہگار گناہ کرنے کے بعداگر فوراً پشیمان ہوکر اپنے رب کی بارگاہ میں طلب مغفرت کرے تو وہ معاف کردے گا، کیونکہ وہ ارحم الراحمین ہیں ۔ اسی لئے غیبت زنا سے بدتر ہے ،کیونکہ زنا کار زنا کرنے کے بعد اگر پشیمان ہوکر بارگاہ خدا وندی میں طلب مغفرت کرے تو وہ اسے معاف کردیتا ہے۔ لیکن غیبت کرنے والا جب پشیمان ہوکر خدا وند عالم سے طلب بخشش و مغفرت کرتا ہے تو خدا وندعالم فرماتا ہے کہ "پہلے تم اس شخص سے معافی مانگو جس کی تم نے غیبت کی ہے " غیبت میں" حق اللہ" بھی ہے اور "حق الناس " بھی ہے لیکن زنا میں صرف "حق اللہ" ہے اور خدا وند بہت بڑا مہربان ہے۔ لیکن یاد رہے ایک دیندار اور شریف النفس انسان نہ کبھی غیبت کرتا ہے اور نہ ہی زنا جیسی بیماری سے قریب ہوتا ہے کیونکہ روایت میں ہے کہ زنا کرنے والے کا گھر بھی زنا سے محفوظ نہیں رہتا جو جیسا کرےگا بالکل اسی طرح اس کی ناموس کے ساتھ ہوگا۔ غیبت کے سلسلے میں امام جعفر صادق(ع) ارشاد فرماتے ہیں :غیبت تمام مسلمانوں پرحرام ہے اور یہ نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑی کو ۔ یعنی اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آگ سوکھی لکڑی کو راکھ کردیتی ہے اسی طرح غیبت، غیبت کرنے والے کے نیک اعمال کو برباد اور ختم کردیتی ہے۔

روایات اور احادیث کے مطابق غیبت کرنے والوں کا سر انجام یہ ہے کہ اگر وہ روزہ رکھے اور دن بھر عبادت خداوندی میں گزارے اور صرف کچھ دیر کے لئے کسی مومن کی غیبت کردے تو اس کے اس دن کی عبادت خداوند عالم کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتی ۔جیسا کہ انس کہتےہیں کہ ایک دن پیغمبر اسلام (ص) نے لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: اس وقت تک کوئی افطار نہ کرے جب تک کہ میں اسے اجازت نہ دوں ، لوگوں نے روزہ رکھا اور شام ہوئی تو لوگ ایک ایک کرکے پیغمبر اسلام(ص) کے پاس آتے تھے اور افطار کے لئے ان سے اجازت لیتے تھے اور کہتے تھے اے اللہ کے رسول(ص) میں صبح سے روزے سے ہوں اور اب آپ(ص) مجھے اجازت دیجئےتاکہ میں روزہ افطارکرسکوں ۔ پیغمبر اسلام (ص) ان کو اجازت دیتے رہے اور لوگ افطار کرتے رہے اسی اثناء میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا:اے اللہ کر رسول(ص) میرے گھر میں دو جوان بیٹیاں بھی روزے سے ہیں اور ان کو آپ کے پاس آنے میں شرم آرہی ہے , آپ ان کو اجازت دیں تاکہ وہ افطار کرسکیں ، پیغمبر اسلام(ص) نے اپنے چہرے کو اس کی طرف سے موڑ لیا ,اس شخص نے حضور(ص) سے دوبارہ اجازت چاہی اللہ کے رسول (ص) نے دوبارہ منہ موڑلیا ! جب اس نے تیسری مرتبہ اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا:وہ دونوں روزے سے نہیں ہیں ، وہ کیسے روزے سے ہیں حالانکہ آج انہوں نے لوگوں کے گوشت کھائیں ہیں ؟ جائو اور ان سے کہو کہ اگر روزے سے ہیں تو قئے کریں , وہ واپس گیا اور اپنی لڑکیوں کو پیغمبر اسلام(ص) کا حکم سنایا کہ تم دونوں فوراً قئے کرو اور جب انہوں نے قئے کیا تو ان کے شکم سے کچھ گوشت کے ٹکڑے باہر آئے یہ دیکھتے ہی باپ پریشان ہوا اور فوراً پیغمبر اسلام (ص) کی خدمت میں آیا اور اس ماجرے کو پیغمبر (ص) کی خدمت بیان کیا ۔ پیغمبر (ص) نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس کی قدرت میں، میں محمد کی جان ہے اگر وہ گوشت کے ٹکڑے ان کے پیٹ میں رہ جاتا تو جہنم کی آگ انہیں کھالیتی۔[راہ روشن ؛ج۵؛ص۳۴۲]

تو اب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ غیبت کے نقصانات اور اس کا سر انجام کیا ہے ۔ اور ہمیں اس سلسلہ میں کیا کرنا چاہئے ۔ کیونکہ یہ مہلک بیماری ہماری تمام خوبیوں اور نیکیوں کو برائیوں میں بدل دیتی ہے اس لئے ہمیں اس سے بچنا چاہئے تاکہ ہماری عاقبت بخیر ہوسکے ۔ ہمیں تعجب اس بات پر ہے کہ غیبت کے سلسلہ میں آیات و روایات کو متنبہ کررہی ہیں کہ غیبت نہ کرو اور نہ کسی کی غیبت سُنو حتی ٰ اس جگہ بیٹھنے سے پرہیز کرو جہاں غیبت کی محفل جمی ہو اور لوگ ایک دوسرے کی غیبت کررہے ہوں! لیکن اس کے باوجود آج ہمارے معاشرے میں اس کے نقصانات سے واقف ہوتے ہوئے بھی لوگ دن بہ دن اس بیماری میں مبطلا ہورہے ہیں ۔ آج ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے کم افراد پائے جاتے ہیں کہ جو غیبت جیسی، روح کو ہلاک کرنے والی بیماری میں مبطلا نہ ہوں۔آج ہمارے معاشرے کی اخلاقی خلا کو اس بیماری سے بھر دیا ہے ۔ جس کی بدولت جہاں دو لوگ یا چند افراد جمع ہو ں وہاں کسی نہ کسی کی برائی شروع کردیتے ہیں ۔ لہذا غیبت جیسی بیماری ہمارے معاشرے میں پھیلنے کی وجہ سے آج ہمارے معاشرے کے لوگ ضلالت اور گمراہی کے راہ پر گامزن ہورہے ہیں ۔ ہم خداوندعالم کی بارگاہ میں دعا گوہیں کہ پروردگارا تجھے محمد و آل محمد علیہم السلام کا صدقہ ہمیں غیبت جیسی بیماری سے دور رکھ کر ہمارے معاشرے کو ضلالت و گمراہی کی جگہ رشد و کمالات علمی، اقتصادی، ٹکنولوجی و اخلاقی کی راہ پر گامزن فرما۔

والسلام